یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • ت‌ن‌د رومیوں 1:‏1-‏16:‏27
  • رومیوں

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • رومیوں
  • کتابِ‌مُقدس—‏ترجمہ نئی دُنیا
کتابِ‌مُقدس—‏ترجمہ نئی دُنیا
رومیوں

رومیوں کے نام خط

1 مسیح یسوع کے غلام پولُس کی طرف سے خط جسے رسول کے طور پر بلا‌یا گیا اور خدا کی وہ خوش‌خبری سنانے کے لیے مخصوص کِیا گیا 2 جس کا وعدہ خدا نے پہلے سے پاک صحیفوں میں نبیوں کے ذریعے کِیا تھا۔ 3 یہ خوش‌خبری خدا کے بیٹے کے بارے میں ہے جو داؤد کی نسل سے اِنسان کے طور پر پیدا ہوا 4 لیکن جب اُسے مُردوں میں سے زندہ کِیا گیا تو پاک روح کے ذریعے اِس بات کی تصدیق ہوئی کہ وہ خدا کا بیٹا ہے اور یہ بیٹا ہمارے مالک یسوع مسیح ہیں۔ 5 اُن کے ذریعے ہمیں عظیم رحمت اور رسول کا عہدہ ملا تاکہ ہم اُن کے نام کی بڑائی کے لیے تمام قوموں کے لوگوں کو ایمان اور فرمانبرداری کی طرف بلا‌ئیں۔ 6 آپ کو بھی اِنہی قوموں میں سے بلا‌یا گیا ہے تاکہ آپ یسوع مسیح کے بن جائیں۔ 7 یہ خط روم میں اُن سب کے نام ہے جو خدا کو عزیز ہیں اور جنہیں مُقدس ہونے کے لیے بلا‌یا گیا ہے۔‏

ہمارا باپ خدا اور ہمارے مالک یسوع مسیح آپ کو عظیم رحمت اور سلامتی عطا کریں۔‏

8 پہلے تو مَیں یسوع مسیح کے ذریعے اپنے خدا کا شکریہ ادا کرتا ہوں کیونکہ مَیں نے سنا ہے کہ آپ کے ایمان کا چرچا پوری دُنیا میں ہو رہا ہے۔ 9 وہ خدا جس کی مَیں دل‌وجان*‏ سے خدمت کرتا ہوں اور جس کے بیٹے کے متعلق مَیں خوش‌خبری سناتا ہوں، وہی میرا گواہ ہے کہ مَیں اپنی ہر دُعا میں آپ کا ذکر کرتا ہوں 10 اور مِنت کرتا ہوں کہ اگر اُس کی مرضی ہو تو آخرکار مجھے آپ کے پاس آنے کا موقع ملے۔ 11 کیونکہ مَیں آپ سے ملنے کے لیے بے‌تاب ہوں تاکہ آپ کو خدا کی طرف سے کوئی ایسی نعمت دوں جس سے آپ مضبوط ہو جائیں 12 بلکہ یوں کہیں کہ آپ کے ایمان سے میری حوصلہ‌افزائی ہو اور میرے ایمان سے آپ کی حوصلہ‌افزائی ہو۔‏

13 بھائیو، مَیں آپ کو یقین دِلاتا ہوں کہ مَیں نے کئی بار آپ کے پاس آنے کا اِرادہ کِیا کیونکہ مَیں وہاں بھی کوئی پھل حاصل کرنا چاہتا ہوں جیسے مَیں باقی قوموں میں حاصل کر چُکا ہوں مگر اب تک مجھے روکا گیا۔ 14 مَیں یونانیوں اور غیریونانیوں، سمجھ‌داروں اور ناسمجھوں، سب کا قرض‌دار ہوں۔ 15 اِس لیے مجھے روم آ کر آپ کو خوش‌خبری سنانے کی بڑی آرزو ہے۔ 16 مجھے خوش‌خبری سنانے میں کوئی شرمندگی نہیں ہوتی۔ دراصل اِس خوش‌خبری کے ذریعے خدا اپنی طاقت ظاہر کرتا ہے تاکہ اُن لوگوں کو نجات دِلائے جو ایمان رکھتے ہیں، پہلے یہودیوں کو اور پھر یونانیوں کو۔ 17 کیونکہ جو لوگ ایمان رکھتے ہیں، وہ دیکھتے ہیں کہ خدا اِس خوش‌خبری کے ذریعے اپنی نیکی ظاہر کرتا ہے اور یوں اُن کا ایمان مضبوط ہوتا ہے، جیسا کہ لکھا ہے:‏ ”‏نیک شخص اپنے ایمان کی بِنا پر زندہ رہے گا۔“‏

18 وہ سب لوگ جو خدا کے نافرمان ہیں، بُرے کام کرتے ہیں اور بُرائی سے سچائی کو دباتے ہیں، اُن پر خدا آسمان سے اپنا غصہ ظاہر کر رہا ہے 19 کیونکہ اُس نے اُن کو کافی ثبوت دیے تاکہ وہ اُس کے بارے میں جان سکیں۔ 20 جب سے دُنیا بنائی گئی ہے تب سے اَن‌دیکھے خدا کی صفات اُس کی بنائی ہوئی چیزوں سے صاف صاف دِکھائی دیتی ہیں یعنی اُس کی خدائی اور ابدی طاقت۔ اِس لیے وہ خدا کا اِنکار کرنے کا کوئی بہانہ پیش نہیں کر سکتے۔ 21 کیونکہ وہ خدا کو جانتے تو ہیں لیکن اُس کی بڑائی نہیں کرتے اور نہ ہی اُس کا شکریہ ادا کرتے ہیں بلکہ اُن کی سوچ بے‌کار ہو گئی ہے اور اُن کے ناسمجھ دل تاریک ہو گئے ہیں۔ 22 وہ سمجھ‌دار ہونے کا دعویٰ تو کرتے ہیں لیکن اصل میں بے‌وقوف ہیں 23 کیونکہ وہ غیرفانی خدا کو عظمت دینے کی بجائے فانی اِنسانوں، پرندوں، چوپایوں اور رینگنے والے جانوروں کے بُتوں کو عظمت دیتے ہیں۔‏

24 چونکہ وہ اپنے دل کی خواہشوں کو پورا کرنے پر تُلے تھے اِس لیے خدا نے اُن کو ناپاکی کے حوالے کر دیا تاکہ وہ اپنے جسموں کو ذلیل کریں۔ 25 اُنہوں نے خدا کی سچائی کی بجائے جھوٹ پر یقین کرنے کو ترجیح دی اور مخلوق کی عبادت اور خدمت کی نہ کہ خالق کی۔ اُس کی تعظیم ہمیشہ ہو۔ آمین۔ 26 لہٰذا اُس نے اُن کو بے‌لگام جنسی خواہشوں کے حوالے کر دیا کیونکہ اُن کی عورتیں فطری جنسی تعلقات چھوڑ کر غیرفطری کام کرنے لگیں۔ 27 اِسی طرح مردوں کے دل میں دوسرے مردوں کے لیے ہوس بھڑک اُٹھی اور اُنہوں نے عورتوں سے جنسی تعلقات رکھنے چھوڑ دیے۔ مردوں نے مردوں کے ساتھ بے‌ہودہ کام کیے اور اُنہیں اپنے غلط کاموں کے نتائج بھگتنے پڑ رہے ہیں۔‏

28 چونکہ اُنہوں نے خدا کو تسلیم کرنا مناسب نہیں سمجھا اِس لیے اُس نے اُن کو گھٹیا سوچ کے حوالے کر دیا تاکہ نامناسب کام کریں۔ 29 وہ بُرائی، گُناہ، لالچ اور شرارت سے بھرے ہیں۔ وہ حاسد، قاتل، جھگڑالو، دھوکے‌باز اور بدنیت ہیں۔ وہ افواہیں پھیلاتے ہیں، 30 پیٹھ پیچھے بُرائیاں کرتے ہیں، خدا سے نفرت کرتے ہیں، بُرے منصوبے گھڑتے ہیں اور والدین کی نافرمانی کرتے ہیں۔ وہ بدتمیز، مغرور، شیخی‌باز، 31 ناسمجھ، وعدہ خلاف، بے‌رحم اور خاندانی محبت سے خالی ہیں۔ 32 وہ خدا کے اِس راست حکم کو اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ جو لوگ ایسے کام کرتے ہیں، وہ سزا کے لائق ہیں لیکن پھر بھی وہ اِن کاموں سے باز نہیں آتے اور اُن لوگوں کو بھی سراہتے ہیں جو ایسے کام کرتے ہیں۔‏

2 چاہے آپ کوئی بھی ہوں، اگر آپ دوسروں کو قصوروار ٹھہراتے ہیں تو اپنی صفائی کیسے پیش کریں گے؟ کیونکہ جب آپ کسی کو قصوروار ٹھہراتے ہیں تو اصل میں آپ خود کو قصوروار ٹھہراتے ہیں کیونکہ آپ خود بھی اُس جیسے کام کرتے ہیں۔ 2 اور ہم جانتے ہیں کہ خدا ایسے کام کرنے والوں کو سزاوار ٹھہراتا ہے اور اُس کے فیصلے سچائی کے مطابق ہیں۔‏

3 کیا آپ کو لگتا ہے کہ اگر آپ خود  وہ کام کرتے ہیں جن کے لیے آپ دوسروں کو قصوروار ٹھہراتے ہیں تو آپ خدا کی سزا سے بچ جائیں گے؟ 4 یا کیا آپ خدا کی عظیم مہربانی، ضبط اور صبر کو حقیر جانتے ہیں کیونکہ آپ کو پتہ نہیں کہ خدا اِتنا مہربان ہے کہ وہ آپ کو توبہ کرنے پر مائل کر رہا ہے؟ 5 آپ خدا کو غصہ دِلا رہے ہیں کیونکہ آپ ڈھیٹھ ہیں اور آپ کا دل توبہ کرنے کو تیار نہیں ہے۔ یہ غصہ خدا کے غضب کے دن ظاہر ہوگا جب وہ راستی سے عدالت کرے گا۔ 6 وہ ہر ایک کو اپنے اپنے کاموں کے مطابق بدلہ دے گا۔ 7 اُن کے لیے ہمیشہ کی زندگی ہوگی جو ثابت‌قدمی سے اچھے کام کر کے عظمت اور عزت اور غیرفانی جسم حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ 8 لیکن اُن کے لیے غصہ اور غضب ہوگا جو جھگڑالو ہیں اور سچائی کے مطابق نہیں بلکہ بُرائی کے مطابق چلتے ہیں۔ 9 ہر اُس شخص*‏ کے لیے مصیبت اور پریشانی ہوگی جو بُرے کام کرتا ہے، پہلے یہودی کے لیے اور پھر یونانی کے لیے۔ 10 لیکن ہر اُس شخص کے لیے عظمت، عزت اور سلامتی ہوگی جو اچھے کام کرتا ہے، پہلے یہودی کے لیے اور پھر یونانی کے لیے۔ 11 کیونکہ خدا تعصب نہیں کرتا۔‏

12 جو شریعت کے تحت نہیں ہیں اور گُناہ کرتے ہیں، وہ ہلاک ہو جائیں گے حالانکہ وہ شریعت کے تحت نہیں ہیں۔ لیکن جو شریعت کے تحت ہیں اور گُناہ کرتے ہیں، اُن کی عدالت شریعت کے مطابق ہوگی۔ 13 کیونکہ خدا کی نظر میں شریعت کو سننے والے نیک نہیں ہیں بلکہ اِس پر عمل کرنے والے نیک قرار دیے جائیں گے۔ 14 کیونکہ جب غیریہودی جن کے پاس شریعت نہیں ہے، فطری طور پر شریعت پر عمل کرتے ہیں تو وہ ظاہر کرتے ہیں کہ اُن میں ایک طرح کی شریعت ہے حالانکہ اصل میں اُن کے پاس شریعت نہیں ہے۔ 15 یہی لوگ ظاہر کرتے ہیں کہ شریعت اُن کے دلوں پر نقش ہے اور اُن کا ضمیر اُن کے ساتھ گواہی دیتا ہے اور اُن کے اپنے خیال اُن کو قصوروار یا بے‌قصور ٹھہراتے ہیں۔ 16 یہ اُس وقت ہوگا جب خدا، مسیح یسوع کے ذریعے اِنسانوں کی پوشیدہ باتوں کی عدالت کرے گا اور یہ اُس خوش‌خبری کے مطابق ہوگا جو مَیں سناتا ہوں۔‏

17 اگر آپ یہودی کہلاتے ہیں اور شریعت پر بھروسا کرتے ہیں اور خدا پر فخر کرتے ہیں 18 اور اُس کی مرضی جانتے ہیں اور اعلیٰ چیزوں کو پسند کرتے ہیں کیونکہ آپ نے شریعت کی تعلیم پائی ہے 19 اور اگر آپ کو یقین ہے کہ آپ اندھوں کے رہنما ہیں، تاریکی میں رہنے والوں کی روشنی ہیں، 20 ناسمجھوں کی اِصلاح کرنے والے ہیں، چھوٹے بچوں کے اُستاد ہیں اور شریعت میں پائی جانے والی بنیادی تعلیمات اور سچائیوں کی سمجھ رکھتے ہیں 21 تو آپ جو دوسروں کو سکھاتے ہیں، کیا خود کو نہیں سکھاتے؟ آپ جو نصیحت کرتے ہیں کہ ”‏چوری نہ کرو،“‏ کیا آپ خود چوری کرتے ہیں؟ 22 آپ جو کہتے ہیں کہ ”‏زِنا نہ کرو،“‏ کیا آپ خود زِنا کرتے ہیں؟ آپ جو بُتوں سے گھن کھاتے ہیں، کیا آپ مندروں کو لُوٹتے ہیں؟ 23 آپ جو شریعت پر فخر کرتے ہیں، کیا آپ شریعت کی خلاف‌ورزی کر کے خدا کو بدنام کرتے ہیں؟ 24 کیونکہ ”‏آپ کی وجہ سے قوموں میں خدا کے نام کی توہین ہو رہی ہے،“‏ جیسے صحیفوں میں لکھا ہے۔‏

25 ختنہ اُسی صورت میں فائدہ‌مند ہے جب شریعت پر عمل کِیا جائے۔ اگر آپ کا ختنہ ہوا ہے اور آپ شریعت کی خلاف‌ورزی کرتے ہیں تو دراصل آپ ایک ایسے شخص کی طرح ہیں جس کا ختنہ نہیں ہوا۔ 26 لیکن اگر ایک ایسا شخص شریعت کے راست حکموں پر عمل کرتا ہے جس کا ختنہ نہیں ہوا تو کیا خدا اُسے ایک ایسے شخص کی طرح خیال نہیں کرے گا جس کا ختنہ ہوا ہے؟ 27 دیکھا جائے تو وہ شخص جس کا جسمانی طور پر ختنہ نہیں ہوا، شریعت پر عمل کرنے سے آپ کو قصوروار ٹھہراتا ہے کیونکہ آپ شریعت کی خلاف‌ورزی کرتے ہیں حالانکہ آپ کے پاس شریعت اور ختنہ دونوں ہیں۔ 28 کیونکہ اصلی یہودی وہ نہیں جو باہر سے یہودی دِکھائی دیتا ہے اور اصلی ختنہ جسمانی ختنہ نہیں 29 بلکہ اصلی یہودی وہ ہے جو اندر سے یہودی ہے اور اُس کا ختنہ دل کا ختنہ ہے جو پاک روح سے ہوا ہے نہ کہ شریعت کے مطابق۔ ایسے شخص کی تعریف اِنسان نہیں بلکہ خدا کرتا ہے۔‏

3 تو پھر یہودی ہونے یا ختنہ کرانے کا کیا فائدہ؟ 2 بڑا فائدہ ہے۔ پہلے تو یہ کہ خدا کے پیغام یہودیوں کے سپرد کیے گئے تھے۔ 3 لیکن اگر کچھ یہودیوں میں ایمان کی کمی تھی تو کیا ہوا؟ کیا اِس وجہ سے خدا کی سچائی جھوٹ بن جائے گی؟ 4 ہرگز نہیں!‏ بلکہ خدا ہمیشہ سچا ثابت ہو، چاہے باقی سب جھوٹے ثابت ہوں جیسا کہ لکھا ہے:‏ ”‏تُو اپنی ساری باتوں سے نیک ثابت ہو اور جب تجھ پر اِلزام لگایا جائے تو تُو بَری ہو۔“‏ 5 اب اگر ہماری بُرائی سے خدا کی نیکی نمایاں ہوتی ہے تو کیا اِس کا مطلب ہے کہ خدا اپنا غضب نازل کر کے نااِنصافی کرتا ہے؟ (‏یہی تو بعض لوگوں کا خیال ہے۔)‏ 6 ہرگز نہیں!‏ ورنہ خدا دُنیا کی عدالت کیسے کرے گا؟‏

7 اور اگر میرے جھوٹ سے خدا کی سچائی اَور نمایاں ہوتی ہے اور یوں اُس کی تعظیم ہوتی ہے تو پھر مجھے گُناہ‌گار کیوں ٹھہرایا جاتا ہے؟ 8 پھر تو ہم وہ بات کہہ سکتے ہیں جس کا کچھ لوگ ہم پر اِلزام لگاتے ہیں کہ ”‏آئیں، بُرے کام کریں تاکہ اچھے نتیجے نکلیں۔“‏ ایسے لوگوں کی عدالت اِنصاف کے تقاضوں کے مطابق ہوگی۔‏

9 تو پھر کیا ہم یہودی دوسروں سے بہتر ہیں؟ ہرگز نہیں!‏ ہم اِس خط میں واضح کر چکے ہیں کہ یہودی اور یونانی سب گُناہ‌گار ہیں 10 جیسا کہ لکھا ہے کہ ”‏کوئی شخص نیک نہیں، ہاں، ایک بھی نہیں؛ 11 کوئی شخص سمجھ نہیں رکھتا؛ کوئی شخص خدا کی تلاش نہیں کرتا۔ 12 سب گمراہ ہو گئے ہیں اور کسی کام کے نہیں رہے؛ کوئی شخص مہربان نہیں، ہاں، ایک بھی نہیں۔“‏ 13 ‏”‏اُن کا حلق کُھلی قبر ہے؛ اُن کی زبان دھوکے‌باز ہے۔“‏ ”‏اُن کے ہونٹوں کے پیچھے سانپ کا زہر ہے۔“‏ 14 ‏”‏اُن کے مُنہ بددُعاؤں اور کڑوی باتوں سے بھرے ہیں۔“‏ 15 ‏”‏اُن کے پاؤں تیزی سے خون بہانے کے لیے بھاگتے ہیں۔“‏ 16 ‏”‏اُن کی راہوں میں تباہی اور مصیبت ہے 17 اور اُن کو صلح کی راہ پر چلنا نہیں آتا۔“‏ 18 ‏”‏اُن کی آنکھوں میں خدا کا خوف نہیں ہے۔“‏

19 ہم جانتے ہیں کہ جو کچھ شریعت میں لکھا ہے، وہ اُن کے لیے ہے جو شریعت کے تحت ہیں تاکہ کوئی بے‌قصور ہونے کا دعویٰ نہ کر سکے بلکہ ساری دُنیا خدا کی نظر میں سزا کے لائق ٹھہرے۔ 20 اِس لیے کوئی شخص شریعت پر عمل کرنے کی وجہ سے خدا کی نظر میں نیک نہیں ٹھہر سکتا کیونکہ شریعت کے ذریعے تو ظاہر ہوتا ہے کہ گُناہ کیا ہے۔‏

21 لیکن اب ظاہر ہو گیا ہے کہ اِنسان شریعت پر عمل کیے بغیر خدا کی نظر میں نیک ٹھہر سکتا ہے جیسا کہ شریعت اور نبیوں کے صحیفوں میں لکھا ہے۔ 22 ہاں، جو شخص ایمان رکھتا ہے، وہ خدا کی نظر میں اِس لیے نیک ٹھہر سکتا ہے کہ وہ یسوع مسیح پر ایمان لایا ہے۔ کیونکہ سب لوگ برابر ہیں 23 اور سب نے گُناہ کِیا ہے اور خدا کی عظمت کو ظاہر کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ 24 یہ تو ایک نعمت ہے کہ اُن کو خدا کی عظیم رحمت کے ذریعے نیک قرار دیا جا رہا ہے اور اُس فدیے کے ذریعے رِہائی دِلائی جا رہی ہے جو مسیح یسوع نے ادا کِیا تھا۔ 25 خدا نے یسوع کو قربانی کے طور پر پیش کِیا تاکہ اُن کے خون پر ایمان لانے والے لوگوں کے گُناہوں کا کفارہ ادا ہو جائے۔ اُس نے ایسا اِس لیے کِیا تاکہ اُس کی نیکی ظاہر ہو جائے کیونکہ اُس نے تحمل کر کے اُن گُناہوں کو معاف کِیا جو ماضی میں ہوئے۔ 26 اُس نے ایسا اِس لیے بھی کِیا تاکہ اِس زمانے میں بھی اُس کی نیکی ظاہر ہو جائے اور وہ اُس وقت بھی نیک ٹھہرے جب وہ یسوع پر ایمان لانے والے شخص کو نیک قرار دے۔‏

27 تو پھر فخر کرنے کی کیا وجہ ہے؟ کوئی وجہ نہیں۔ یہ کس شریعت کی بِنا پر کہا جا سکتا ہے؟ کیا اُس شریعت کی بِنا پر جو کاموں کو اہمیت دیتی ہے؟ نہیں، بلکہ اُس شریعت کی بِنا پر جو ایمان کو اہمیت دیتی ہے۔ 28 کیونکہ ہم اِس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ایک شخص کو شریعت پر عمل کرنے کی وجہ سے نہیں بلکہ ایمان کی وجہ سے نیک قرار دیا جاتا ہے۔ 29 کیا وہ صرف یہودیوں کا خدا ہے یا غیریہودیوں کا بھی؟ بے‌شک وہ غیریہودیوں کا بھی خدا ہے۔ 30 چونکہ خدا ایک ہے اِس لیے وہ ہر شخص کو اپنے اپنے ایمان کی بِنا پر نیک قرار دے گا، چاہے اُس کا ختنہ ہوا ہو یا نہیں۔ 31 تو پھر کیا ہم اپنے ایمان کے ذریعے شریعت کو مٹا دیتے ہیں؟ ہرگز نہیں!‏ بلکہ ہم تو اِسے برقرار رکھتے ہیں۔‏

4 تو پھر ابراہام کے بارے میں کیا کہا جا سکتا ہے جو جسمانی لحاظ سے ہمارے باپ ہیں؟ 2 اگر ابراہام کو اُن کے کاموں کی وجہ سے نیک قرار دیا جاتا تو وہ فخر کر سکتے۔ لیکن خدا کی نظر میں ایسا نہیں تھا۔ 3 کیونکہ صحیفے میں کہا گیا ہے کہ ”‏ابراہام نے یہوواہ*‏ پر ایمان رکھا اِس لیے اُنہیں نیک قرار دیا گیا۔“‏ 4 اب جو آدمی کام کرتا ہے، اُسے مہربانی کی بِنا پر تو مزدوری نہیں ملتی بلکہ اِس لیے کہ یہ اُس کا حق ہے۔ 5 لیکن جو آدمی کام نہیں کرتا بلکہ اُس خدا پر ایمان رکھتا ہے جو گُناہ‌گاروں کو نیک قرار دیتا ہے، اُس کو اپنے ایمان کی بِنا پر نیک قرار دیا جاتا ہے۔ 6 اِس کے علاوہ داؤد نے اُس شخص کی خوشی کا ذکر کِیا جسے کاموں کے بغیر نیک قرار دیا جاتا ہے۔ اُنہوں نے کہا:‏ 7 ‏”‏وہ شخص خوش ہے جس کے بُرے کام معاف کر دیے گئے ہیں اور جس کے گُناہ بخش*‏ دیے گئے ہیں؛ 8 وہ شخص خوش ہے جس کا گُناہ یہوواہ*‏ بالکل حساب میں نہیں لائے گا۔“‏

9 کیا یہ خوشی صرف اُن کو ملتی ہے جن کا ختنہ ہوا ہے یا اُن کو بھی جو غیرمختون ہیں؟ ہم کہتے ہیں کہ ”‏ابراہام کو اپنے ایمان کی بِنا پر نیک قرار دیا گیا۔“‏ 10 لیکن اُن کو کب نیک قرار دیا گیا؟ جب اُن کا ختنہ ہو چُکا تھا یا جب وہ ابھی غیرمختون تھے؟ اُس وقت جب وہ غیرمختون تھے۔ 11 اُنہیں ایک نشانی ملی یعنی ختنہ۔ یہ اِس بات کی ضمانت*‏ تھی کہ جب وہ غیرمختون تھے تو اُن کو اپنے ایمان کی بِنا پر نیک قرار دیا گیا تاکہ وہ اُن سب لوگوں کے باپ ٹھہر سکیں جو غیرمختون ہیں اور ایمان رکھتے ہیں اور جنہیں ایمان کی بِنا پر نیک قرار دیا جاتا ہے 12 اور تاکہ وہ ایسی اولاد کے بھی باپ ٹھہر سکیں جس کا ختنہ ہوا ہے، چاہے وہ ختنے کے رواج پر قائم رہتی ہو یا پھر ابراہام کی طرح ایمان کی راہ پر چلتی ہو یعنی ایسے ایمان پر جو ہمارے باپ ابراہام اُس وقت رکھتے تھے جب وہ غیرمختون تھے۔‏

13 کیونکہ خدا نے ابراہام اور اُن کی اولاد سے شریعت کی بِنا پر یہ وعدہ نہیں کِیا کہ وہ ایک دُنیا کے وارث ہوں گے بلکہ اُس ایمان کی بِنا پر جس کی وجہ سے اُن کو نیک قرار دیا گیا تھا۔ 14 کیونکہ اگر شریعت پر عمل کرنے والے لوگ وارث ہیں تو ایمان اور وعدے دونوں کا کوئی فائدہ نہیں۔ 15 سچ تو یہ ہے کہ شریعت کی وجہ سے لوگوں پر غضب نازل ہوتا ہے لیکن جہاں شریعت نہیں وہاں گُناہ بھی نہیں۔‏

16 وہ وعدہ ایمان کی بِنا پر کِیا گیا تھا تاکہ خدا کی عظیم رحمت ظاہر ہو اور ابراہام کی تمام اولاد اِس وعدے کی وارث ہو، صرف وہ نہیں جو شریعت پر عمل کرتی ہے بلکہ وہ بھی جو ابراہام جیسا ایمان رکھتی ہے۔ اور ابراہام ہم سب کے باپ ہیں۔ 17 ‏(‏جیسا کہ لکھا ہے:‏ ”‏مَیں نے تمہیں بہت سی قوموں کا باپ ٹھہرایا ہے۔“‏)‏ وہ اُس خدا پر ایمان رکھتے تھے جو مُردوں کو زندہ کرتا ہے اور جو غیرموجود چیزوں کا ایسے ذکر کرتا ہے جیسے وہ موجود ہوں۔‏*‏ 18 حالانکہ ابراہام کے لیے کوئی اُمید نہیں تھی لیکن اپنی اُمید کی بِنا پر اُن کو پکا یقین تھا کہ وہ بہت سی قوموں کے باپ ہوں گے کیونکہ اُن سے کہا گیا تھا کہ ”‏تمہاری اولاد بے‌شمار ہوگی۔“‏ 19 اُن کا ایمان کمزور نہیں تھا لیکن اُنہوں نے اِس بات پر ضرور غور کِیا کہ وہ ایک لحاظ سے مُردہ ہیں (‏کیونکہ وہ تقریباً 100 سال کے تھے)‏ اور سارہ کا رحم بھی مُردہ*‏ ہے۔ 20 لیکن خدا کے وعدے کی وجہ سے اُن کا ایمان کمزور نہیں پڑا بلکہ اُنہیں اپنے ایمان سے طاقت ملی اور اُنہوں نے خدا کی بڑائی کی۔ 21 اُن کو پکا یقین تھا کہ خدا نے جو وعدہ کِیا ہے، وہ اِسے پورا بھی کرے گا 22 اِس لیے ”‏اُن کو نیک قرار دیا گیا۔“‏

23 یہ الفاظ کہ ”‏اُن کو نیک قرار دیا گیا“‏ صرف ابراہام کے لیے نہیں لکھے گئے 24 بلکہ ہمارے لیے بھی جنہیں نیک قرار دیا جائے گا کیونکہ ہم اُس پر ایمان رکھتے ہیں جس نے ہمارے مالک یسوع کو مُردوں میں سے زندہ کِیا۔ 25 یسوع کو ہمارے گُناہوں کے لیے موت کے حوالے کِیا گیا اور زندہ کِیا گیا تاکہ ہمیں نیک قرار دیا جا سکے۔‏

5 اب جبکہ ہمیں اپنے ایمان کی بِنا پر نیک قرار دیا گیا ہے، آئیں، اپنے مالک یسوع مسیح کے ذریعے خدا کے ساتھ صلح برقرار رکھیں۔ 2 اُنہی پر ایمان رکھنے سے ہمارے لیے خدا کے نزدیک جانا اور اُس کی عظیم رحمت حاصل کرنا ممکن ہوا۔ اور آئیں، خوش ہوں*‏ کیونکہ ہمیں اُمید ہے کہ خدا ہمیں شان‌دار رُتبہ عطا کرے گا۔ 3 بلکہ آئیں، اُس وقت بھی خوش ہوں*‏ جب ہم پر مصیبتیں آتی ہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ مصیبت سے ثابت‌قدمی پیدا ہوتی ہے، 4 ثابت‌قدمی سے خدا کی خوشنودی حاصل ہوتی ہے، خدا کی خوشنودی سے اُمید ملتی ہے 5 اور ہو نہیں سکتا کہ یہ اُمید پوری نہ ہو۔ اِس لیے بھی خوش ہوں کیونکہ جو پاک روح ہمیں دی گئی ہے، اُس کے ذریعے ہمارے دل خدا کی محبت سے معمور ہو گئے ہیں۔‏

6 بے‌شک جب ہم کمزور ہی تھے تو مسیح مقررہ وقت پر گُناہ‌گاروں کے لیے مرا۔ 7 شاید ہی کسی نیک آدمی کے لیے کوئی مرے۔ ہاں، کسی اچھے آدمی کے لیے شاید کوئی مرنے کو تیار ہو بھی جائے۔ 8 لیکن خدا نے تو اپنی محبت کا ثبوت یوں دیا کہ جب ہم گُناہ‌گار ہی تھے تو مسیح ہمارے لیے مرا۔ 9 لہٰذا چونکہ ہمیں اُس کے خون کی وجہ سے نیک قرار دیا گیا ہے اِس لیے ہم اُس کے ذریعے خدا کے غضب سے بچ جائیں گے۔ 10 کیونکہ جب ہم دُشمن تھے تو خدا کے بیٹے کی موت سے خدا کے ساتھ ہماری صلح ہو گئی۔ اب جب ہماری صلح ہو چکی ہے تو ہم خدا کے بیٹے کی زندگی کے ذریعے ضرور نجات پائیں گے۔ 11 اور ہم اپنے مالک یسوع مسیح کے ذریعے جن کی وجہ سے خدا سے ہماری صلح ہوئی ہے، خدا میں خوش ہیں۔‏

12 ایک آدمی کے ذریعے گُناہ دُنیا میں آیا اور گُناہ کے ذریعے موت آئی اور موت سب لوگوں میں پھیل گئی کیونکہ سب نے گُناہ کِیا۔ 13 گُناہ شریعت سے پہلے دُنیا میں تھا۔ جہاں شریعت نہیں ہوتی وہاں کسی کے خلاف گُناہ بھی عائد نہیں ہوتا۔ 14 اِس کے باوجود بھی موت نے آدم سے لے کر موسیٰ تک اِنسانوں پر حکمرانی کی، اُن پر بھی جنہوں نے ویسا گُناہ نہیں کِیا جیسا آدم نے کِیا تھا جو ایک لحاظ سے اُس کی طرح تھا جسے آنا تھا۔‏

15 لیکن خدا کی نعمت، گُناہ سے فرق ہے۔ کیونکہ ایک آدمی کے گُناہ کی وجہ سے بہت سے لوگ مرے لیکن ایک آدمی یعنی یسوع مسیح کی رحمت کے ذریعے بہت سے لوگوں کو خدا کی عظیم رحمت اور نعمت کثرت سے ملی۔ 16 اِس کے علاوہ نعمت کا نتیجہ اُس آدمی کے گُناہ کے نتیجے سے فرق ہے۔ ایک گُناہ کے بعد فیصلہ یہ تھا کہ اِنسانوں کو قصوروار قرار دیا جائے لیکن بہت سے گُناہوں کے بعد نعمت یہ تھی کہ اِنسانوں کو نیک قرار دیا جائے۔ 17 جس طرح ایک آدمی کے گُناہ کی وجہ سے موت نے اُس آدمی کے ذریعے حکمرانی کی اُسی طرح ایک آدمی یعنی یسوع مسیح کے ذریعے وہ لوگ حکمرانی کریں گے اور زندگی پائیں گے جن کو کثرت سے عظیم رحمت ملی اور یہ نعمت بھی کہ اُنہیں نیک قرار دیا جائے۔‏

18 لہٰذا ایک گُناہ کی وجہ سے ہر طرح کے لوگوں کو قصوروار قرار دیا گیا لیکن ایک صحیح کام کی وجہ سے ہر طرح کے لوگوں کو نیک قرار دیا گیا تاکہ اُنہیں زندگی دی جائے۔ 19 کیونکہ جس طرح ایک آدمی کی نافرمانی سے بہت سے لوگوں کو گُناہ‌گار ٹھہرایا گیا اُسی طرح ایک آدمی کی فرمانبرداری سے بہت سے لوگوں کو نیک ٹھہرایا جائے گا۔ 20 اب شریعت اِس لیے آئی تاکہ گُناہوں کی کثرت ظاہر ہو جائے۔ لیکن جہاں گُناہ بہت زیادہ ہیں وہاں رحمت اَور بھی زیادہ ہے۔ 21 کس مقصد کے لیے؟ تاکہ جس طرح گُناہ نے موت کے ساتھ حکمرانی کی اُسی طرح رحمت بھی حکمرانی کرے تاکہ ہمارے مالک یسوع مسیح کے ذریعے ہمیں نیک قرار دیا جائے اور ہمیشہ کی زندگی دی جائے۔‏

6 تو پھر کیا ہمیں گُناہ کرتے رہنا چاہیے تاکہ ہمیں اَور بھی زیادہ رحمت ملے؟ 2 ہرگز نہیں!‏ اب جبکہ ہم گُناہ کے حوالے سے مر گئے ہیں تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم گُناہ کرتے رہیں؟ 3 کیا آپ کو پتہ نہیں کہ ہم سب اپنے بپتسمے سے مسیح یسوع کے شریک ہونے کے ساتھ ساتھ اُن کی موت میں بھی شریک ہوئے ہیں؟ 4 اور جب ہم اپنے بپتسمے سے اُن کی موت میں شریک ہوئے ہیں تو ہم اُن کے ساتھ دفنائے بھی گئے ہیں تاکہ جس طرح مسیح کو باپ کی عظیم قدرت کے ذریعے مُردوں میں سے زندہ کِیا گیا اُس طرح ہم بھی ایک نئی زندگی جئیں۔ 5 کیونکہ اگر ہم اُن کی طرح مر گئے تو اُن کی طرح زندہ بھی کیے جائیں گے اور اِس لحاظ سے ہم اُن کے شریک ہیں۔ 6 ہم جانتے ہیں کہ ہماری پُرانی شخصیت مسیح کے ساتھ سُولی پر ٹھونک دی گئی تاکہ ہمارا گُناہ‌گار جسم ہم پر حاوی نہ رہے اور ہم گُناہ کے غلام نہ رہیں۔ 7 کیونکہ جو شخص مر گیا، اُس کا گُناہ معاف ہو گیا۔‏*‏

8 اور اگر ہم مسیح کے ساتھ مر گئے تو ہمیں یقین ہے کہ ہم اُس کے ساتھ جئیں گے بھی۔ 9 کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ اب جبکہ مسیح مُردوں میں سے زندہ ہو گیا ہے، وہ پھر سے نہیں مرے گا یعنی اب موت اُس کی مالک نہیں رہی۔ 10 کیونکہ جب وہ مرا تو ایک ہی بار ہمیشہ کے لیے گُناہ کے حوالے سے*‏ مرا لیکن اب جب وہ زندہ ہے تو خدا کے حوالے سے جی رہا ہے۔ 11 اِسی طرح یوں سمجھیں کہ آپ بھی گُناہ کے حوالے سے مر گئے ہیں لیکن مسیح یسوع کے ذریعے خدا کے حوالے سے جی رہے ہیں۔‏

12 لہٰذا اپنے جسم کی خواہشوں کا کہنا نہ مانیں اور یوں گُناہ کو اپنے فانی جسم پر حکمرانی نہ کرنے دیں۔ 13 اور اپنے اعضا کو گُناہ کے حضور بُرائی کے ہتھیار کے طور پر پیش نہ کریں بلکہ اپنے اعضا کو خدا کے حضور نیکی کے ہتھیار کے طور پر پیش کریں اور اپنے آپ کو خدا کے حضور ایسے لوگوں کے طور پر پیش کریں جو مُردوں میں سے زندہ ہوئے ہیں۔ 14 کیونکہ گُناہ کو آپ کا مالک نہیں ہونا چاہیے کیونکہ آپ شریعت کے تحت نہیں ہیں بلکہ عظیم رحمت کے تحت ہیں۔‏

15 تو پھر کیا ہم گُناہ کریں کیونکہ ہم شریعت کے تحت نہیں بلکہ عظیم رحمت کے تحت ہیں؟ ہرگز نہیں!‏ 16 کیا آپ کو پتہ نہیں کہ اگر آپ خود کو کسی کے حضور فرمانبردار غلام کے طور پر پیش کرتے ہیں تو آپ اُس کے غلام ہیں کیونکہ آپ اُس کا کہنا مانتے ہیں، یا تو گُناہ کے غلام جس کا انجام موت ہے یا پھر فرمانبرداری کے جس کا انجام نیکی ہے؟ 17 لیکن خدا کا شکر ہے کہ آپ دل سے اُس تعلیم کے فرمانبردار ہو گئے جو آپ کے سپرد کی گئی تھی حالانکہ ایک زمانے میں آپ گُناہ کے غلام تھے۔ 18 اور چونکہ آپ کو گُناہ سے آزاد کِیا گیا اِس لیے آپ نیکی کے غلام بن گئے ہیں۔ 19 مَیں ایسی اِصطلا‌حیں اِستعمال کر رہا ہوں جنہیں آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے کیونکہ آپ فطری طور پر گُناہ کی طرف مائل ہیں۔ جیسے آپ نے اپنے اعضا کو ناپاکی اور بُرائی کے حضور غلام کے طور پر پیش کِیا جس کا انجام بُرائی تھا ویسے ہی اب اپنے اعضا کو نیکی کے حضور غلام کے طور پر پیش کریں جس کا انجام پاکیزگی ہے۔ 20 کیونکہ جب آپ گُناہ کے غلام تھے تو آپ نیکی کے غلام نہیں تھے۔‏

21 اُس وقت آپ کیسا پھل لاتے تھے؟ ایسا پھل جس کی وجہ سے اب آپ شرمندہ ہیں کیونکہ ایسے پھل کا انجام موت ہے۔ 22 لیکن اب جبکہ آپ کو گُناہ سے آزاد کِیا گیا ہے اور آپ خدا کے غلام بن گئے ہیں، آپ ایسا پھل لا رہے ہیں جو پاک ہے اور جس کا انجام ہمیشہ کی زندگی ہے۔ 23 کیونکہ گُناہ کی مزدوری موت ہے لیکن خدا کی نعمت ہمیشہ کی زندگی ہے جو ہمیں اپنے مالک مسیح یسوع کے ذریعے ملتی ہے۔‏

7 بھائیو!‏ (‏مَیں اُن سے مخاطب ہوں جو شریعت سے واقف ہیں۔)‏ کیا آپ کو پتہ نہیں کہ جب تک ایک شخص زندہ رہتا ہے، شریعت اُس کی مالک ہے؟ 2 مثال کے طور پر جب تک ایک عورت کا شوہر زندہ ہوتا ہے تب تک وہ عورت شریعت کی بِنا پر اُس سے جُڑی ہوتی ہے۔ لیکن جب اُس کا شوہر مر جاتا ہے تو وہ اپنے شوہر کی شریعت سے آزاد ہو جاتی ہے۔ 3 اِس لیے اگر ایک عورت اپنے شوہر کے جیتے جی کسی اَور آدمی کی ہو جائے تو وہ زِناکار کہلائے گی لیکن اگر اُس کا شوہر مر جائے تو وہ اُس کی شریعت سے آزاد ہو جائے گی۔ ایسی صورت میں اگر وہ کسی اَور کی ہو جائے تو وہ زِناکار نہیں ہوگی۔‏

4 میرے بھائیو، آپ بھی شریعت سے جُڑے ہوئے تھے لیکن مسیح کے جسم کے ذریعے آپ مر گئے تاکہ کسی اَور کے ہو سکیں یعنی اُس کے جس کو مُردوں میں سے زندہ کِیا گیا تاکہ ہم خدا کے لیے پھل لا سکیں۔ 5 کیونکہ جب ہم اپنے جسم کی خواہشوں کے مطابق چلتے تھے تو ہماری گُناہ‌گار خواہشیں جو شریعت کی وجہ سے بیدار ہو گئی تھیں، ہمارے اعضا پر اثر کر رہی تھیں تاکہ ایسا پھل لائیں جس کا انجام موت ہے۔ 6 لیکن اب ہمیں شریعت سے آزاد کر دیا گیا ہے کیونکہ ہم اُس کے لحاظ سے مر گئے ہیں جس نے ہمیں باندھ کر رکھا تھا تاکہ ہم خدا کے غلام بن سکیں لیکن پُرانے معنوں میں نہیں یعنی شریعت کے لحاظ سے نہیں بلکہ نئے معنوں میں یعنی پاک روح کے لحاظ سے۔‏

7 تو پھر کیا شریعت میں کوئی عیب*‏ ہے؟ ہرگز نہیں۔ اگر شریعت نہ ہوتی تو مجھے پتہ بھی نہ ہوتا کہ گُناہ کیا ہے۔ مثال کے طور پر اگر شریعت میں یہ حکم نہ ہوتا کہ ”‏لالچ نہ کرو“‏ تو مجھے پتہ بھی نہ ہوتا کہ لالچ کیا ہے۔ 8 لیکن اِس حکم کے ذریعے گُناہ کو موقع ملا اور اِس نے مجھ میں ہر طرح کا لالچ پیدا کِیا کیونکہ شریعت کے بغیر گُناہ مُردہ تھا۔ 9 دراصل مَیں بھی ایک زمانے میں شریعت کے بغیر زندہ تھا لیکن جب یہ حکم آیا تو گُناہ زندہ ہو گیا اور مَیں مر گیا۔ 10 یوں مَیں نے دیکھا کہ جس حکم کا انجام زندگی ہونا چاہیے تھا، اُس کا انجام موت ہوا۔ 11 کیونکہ اِس حکم کے ذریعے گُناہ کو موقع ملا اور اِس نے مجھے پھسلایا اور مار ڈالا۔ 12 دراصل شریعت بذاتِ‌خود پاک ہے اور حکم پاک اور نیک اور اچھا ہے۔‏

13 تو پھر کیا ایک اچھی چیز نے مجھے مار ڈالا؟ ہرگز نہیں۔ مجھے تو گُناہ نے مار ڈالا اور وہ بھی ایک اچھی چیز کے ذریعے تاکہ واضح ہو جائے کہ گُناہ موت لاتا ہے۔ لہٰذا شریعت سے ظاہر ہوا کہ گُناہ کتنا بُرا ہے۔ 14 ہم جانتے ہیں کہ شریعت روحانی ہے لیکن مَیں جسمانی ہوں اور مجھے گُناہ کا غلام بننے کے لیے بیچ دیا گیا ہے۔ 15 کیونکہ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ مَیں کیا کر رہا ہوں۔ کیونکہ مَیں وہ کام نہیں کرتا جو مَیں چاہتا ہوں بلکہ وہ کام کرتا ہوں جس سے مجھے نفرت ہے۔ 16 لیکن اگر مَیں وہ کام کرتا ہوں جو مَیں نہیں کرنا چاہتا تو پتہ چل جاتا ہے کہ مَیں شریعت کو اچھا خیال کرتا ہوں۔ 17 لہٰذا بُرے کام کرنے والا مَیں نہیں ہوں بلکہ وہ گُناہ ہے جو مجھ میں بسا ہے۔ 18 مَیں جانتا ہوں کہ مجھ میں یعنی میرے جسم میں کوئی اچھی چیز نہیں ہے کیونکہ مَیں اچھے کام کرنے کی خواہش تو رکھتا ہوں لیکن کر نہیں پاتا۔ 19 کیونکہ جو اچھے کام مَیں کرنا چاہتا ہوں، وہ نہیں کرتا لیکن جو بُرے کام مَیں نہیں کرنا چاہتا، وہ کر بیٹھتا ہوں۔ 20 اب اگر مَیں وہ کام کرتا ہوں جو نہیں کرنا چاہتا تو کام کرنے والا مَیں نہیں بلکہ وہ گُناہ ہے جو مجھ میں بسا ہے۔‏

21 لہٰذا مَیں نے اپنے سلسلے میں یہ حقیقت دیکھی ہے کہ مَیں اچھے کام تو کرنا چاہتا ہوں لیکن مجھ میں بُرائی کا رُجحان موجود ہے۔ 22 مَیں دل سے تو خدا کی شریعت کو بہت پسند کرتا ہوں 23 لیکن میرے اعضا میں ایک اَور شریعت ہے جو میرے ذہن کی شریعت سے جنگ کرتی ہے اور مجھے اُس گُناہ کی شریعت کا غلام بنا دیتی ہے جو میرے اعضا میں ہے۔ 24 دیکھو، مَیں کتنا بے‌بس ہوں!‏ مجھے اِس جسم سے کون بچائے گا جو اِس طرح مر رہا ہے؟ 25 مَیں خدا کا شکر کرتا ہوں جس نے ہمارے مالک یسوع مسیح کے ذریعے مجھے بچایا ہے!‏ لہٰذا مَیں ذہن کے لحاظ سے خدا کی شریعت کا غلام ہوں لیکن جسم کے لحاظ سے گُناہ کی شریعت کا غلام ہوں۔‏

8 اِس لیے جو لوگ مسیح یسوع کے ساتھ متحد ہیں، اُن کو قصوروار نہیں ٹھہرایا جاتا۔ 2 کیونکہ پاک روح جو مسیح یسوع کے ذریعے زندگی دیتی ہے، اُس کی شریعت نے آپ کو گُناہ اور موت کی شریعت سے آزاد کر دیا ہے۔ 3 چونکہ شریعت جسم کی وجہ سے کمزور تھی اِس لیے جو کام وہ نہیں کر سکی، وہ خدا نے اپنے بیٹے کو بھیج کر کِیا جو گُناہ‌گار اِنسانوں*‏ کی طرح تھا۔ وہ گُناہ کو مٹانے کے لیے آیا اور یوں اُس نے جسم میں گُناہ کو قصوروار ٹھہرایا 4 تاکہ ہم جسم کی خواہشوں کے مطابق نہیں بلکہ پاک روح کے مطابق چلیں اور یوں ہمارے ذریعے شریعت کی شرائط پوری ہوں۔ 5 کیونکہ جو لوگ جسم کی خواہشوں کے مطابق چلتے ہیں، اُن کا دھیان جسمانی چیزوں پر رہتا ہے لیکن جو لوگ پاک روح کے مطابق چلتے ہیں، اُن کا دھیان روحانی چیزوں پر رہتا ہے۔ 6 جسمانی چیزوں پر دھیان دینے کا انجام موت ہے لیکن پاک روح پر دھیان دینے کا انجام زندگی اور صلح ہے۔ 7 جسمانی چیزوں پر دھیان دینے کا مطلب خدا سے دُشمنی ہے کیونکہ جسم خدا کی شریعت کے تابع نہیں ہے اور نہ ہی ہو سکتا ہے۔ 8 لہٰذا جو لوگ جسم کی خواہشوں کے مطابق چلتے ہیں، وہ خدا کو خوش نہیں کر سکتے۔‏

9 لیکن اگر خدا کی روح واقعی آپ میں بسی ہے تو آپ جسم کی خواہشوں کے مطابق نہیں بلکہ خدا کی روح کے مطابق چلیں گے۔ لیکن اگر کوئی مسیح کی روح نہیں رکھتا تو وہ مسیح کا نہیں ہو سکتا۔ 10 اگر مسیح آپ کے ساتھ متحد ہے تو حالانکہ آپ کا جسم گُناہ کی وجہ سے مُردہ ہے، پاک روح آپ کو زندگی دیتی ہے کیونکہ آپ کو نیک قرار دیا گیا ہے۔ 11 اور اگر اُس کی روح جس نے یسوع کو مُردوں میں سے زندہ کِیا، آپ میں بسی ہے تو وہ جس نے مسیح یسوع کو زندہ کِیا، اپنی روح کے ذریعے جو آپ میں بسی ہے، آپ کے فانی جسموں کو بھی زندہ کرے گا۔‏

12 لہٰذا بھائیو، ہمارا فرض ہے کہ جسم اور اِس کی خواہشوں کے مطابق زندگی نہ گزاریں۔ 13 کیونکہ اگر آپ جسمانی خواہشوں کے مطابق زندگی گزاریں گے تو آپ ضرور مریں گے۔ لیکن اگر آپ پاک روح کے ذریعے جسم کے کاموں کو مار ڈالیں گے تو آپ زندہ رہیں گے۔ 14 کیونکہ جو لوگ پاک روح کی رہنمائی میں چلتے ہیں، وہ خدا کے بیٹے ہیں۔ 15 کیونکہ جو روح آپ کو عطا کی گئی تھی، وہ آپ کو دوبارہ غلامی اور خوف میں نہیں ڈالتی بلکہ اِس کے ذریعے خدا آپ کو گود لیتا*‏ ہے اور اِسی کے ذریعے ہم اُسے ”‏ابا“‏ کہتے ہیں۔ 16 یہ روح ہمارے دل*‏ کے ساتھ مل کر گواہی دیتی ہے کہ ہم خدا کی اولاد ہیں۔ 17 اور اگر ہم اولاد ہیں تو ہم وارث بھی ہیں یعنی خدا کے وارث اور مسیح کے ساتھ وارث، بشرطیکہ ہم مسیح کی طرح تکلیف سہیں تاکہ اُس جیسی عظمت بھی پائیں۔‏

18 میرے خیال میں تو جو تکلیفیں ہم ابھی سہہ رہے ہیں، وہ اُس عظمت کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں جو ہمارے ذریعے ظاہر ہوگی۔ 19 کیونکہ مخلوقات بڑی بے‌تابی سے اُس وقت کا اِنتظار کر رہی ہیں، جب خدا کے بیٹے ظاہر ہوں گے۔ 20 کیونکہ مخلوقات کو فضول زندگی کے تابع کِیا گیا مگر اپنی مرضی سے نہیں بلکہ اُس کی مرضی سے جس نے اُن کو تابع کِیا اور ساتھ میں اُمید بھی دی 21 تاکہ وہ تباہی کی غلامی سے آزاد ہو جائیں اور خدا کی اولاد کی شان‌دار آزادی کا مزہ لیں۔ 22 کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ساری مخلوقات اب تک تکلیف میں ہیں اور کراہ رہی ہیں۔ 23 اور صرف وہ نہیں بلکہ ہم بھی جنہیں پہلے پھل یعنی پاک روح ملی ہے، اندر ہی اندر کراہ رہے ہیں اور بے‌تابی سے اُس وقت کا اِنتظار کر رہے ہیں جب ہمیں گود لیا*‏ جائے گا یعنی جب ہمیں فدیے کے ذریعے اپنے جسموں سے رِہائی ملے گی۔ 24 اِسی اُمید کی بِنا پر ہمیں نجات ملی۔ کیا اُس چیز کی اُمید رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے جو مل جاتی ہے؟ نہیں، کیونکہ جب ایک چیز مل جاتی ہے تو اُمید ختم ہو جاتی ہے۔ 25 لیکن اگر ہم اُس چیز کی اُمید رکھتے ہیں جو ہمیں نہیں ملی تو ہم بے‌تابی اور ثابت‌قدمی سے اُس کا اِنتظار کرتے ہیں۔‏

26 اِس کے علاوہ پاک روح ہماری کمزوریوں کی وجہ سے ہماری مدد کرتی ہے۔ کیونکہ کبھی کبھار جب ہمیں دُعا کرنی ہوتی ہے تو ہم نہیں جانتے کہ کیا کہیں لیکن جب ہم بے‌آواز کراہتے ہیں تو پاک روح ہمارے لیے اِلتجا کرتی ہے۔ 27 اور جو دلوں کو پرکھتا ہے، وہ جانتا ہے کہ پاک روح کیا کہہ رہی ہے کیونکہ یہ خدا کی مرضی کے مطابق مُقدسوں کے لیے اِلتجا کرتی ہے۔‏

28 ہم جانتے ہیں کہ خدا اپنے سب کام منظم طریقے سے کرتا ہے تاکہ اُن لوگوں کا بھلا ہو جو اُس سے محبت کرتے ہیں یعنی جو اُس کی مرضی کے مطابق بلا‌ئے گئے ہیں۔ 29 کیونکہ جن لوگوں پر خدا نے پہلے توجہ دی، اُن کے بارے میں اُس نے پہلے سے طے کِیا کہ وہ اُس کے بیٹے کی طرح ہوں گے تاکہ اُس کا بیٹا بہت سے بھائیوں میں پہلوٹھا ہو۔ 30 اور جن کے بارے میں اُس نے یہ طے کِیا، اُن کو بلا‌یا بھی اور جن کو اُس نے بلا‌یا، اُن کو نیک بھی قرار دیا اور جن کو اُس نے نیک قرار دیا، اُن کو عزت بھی دی۔‏

31 تو پھر ہم کیا کہہ سکتے ہیں؟ اگر خدا ہمارے ساتھ ہے تو کون ہمارے خلاف ہو سکتا ہے؟ 32 ذرا سوچیں کہ جب اُس نے اپنے بیٹے کو ہمارے لیے اذیت سہنے دی اور موت کے حوالے کر دیا تو کیا وہ اُس کے ساتھ ہمیں باقی ساری چیزیں نہیں دے گا؟ 33 خدا کے چُنے ہوئے لوگوں پر کون اِلزام عائد کر سکتا ہے؟ کیونکہ خدا اُن کو نیک قرار دیتا ہے۔ 34 کون اُن کو قصوروار ٹھہرا سکتا ہے؟ کیونکہ مسیح یسوع مر گئے بلکہ زندہ بھی کیے گئے اور اب وہ خدا کی دائیں طرف بیٹھے ہیں اور ہمارے لیے اِلتجا کرتے ہیں۔‏

35 ہمیں مسیح کی محبت سے کون سی چیز جُدا کر سکتی ہے؟ مصیبت یا پریشانی یا اذیت یا بھوک یا ننگاپن یا خطرے یا تلوار؟ 36 کیونکہ لکھا ہے کہ ”‏تیری خاطر ہمیں دن بھر موت کے گھاٹ اُتارا جاتا ہے؛ ہمیں ایسی بھیڑیں سمجھا جاتا ہے جو ذبح کرنے کے لیے ہیں۔“‏ 37 لیکن جب ہم اِن چیزوں کا سامنا کرتے ہیں تو ہمیں اُس کے ذریعے مکمل جیت حاصل ہوتی ہے جو ہم سے محبت کرتا ہے۔ 38 کیونکہ مجھے پورا یقین ہے کہ نہ موت، نہ زندگی، نہ فرشتے، نہ حکومتیں، نہ موجودہ چیزیں، نہ آنے والی چیزیں، نہ طاقتیں، 39 نہ اُونچائی، نہ گہرائی اور نہ ہی کوئی اَور مخلوق ہمیں خدا کی اُس محبت سے جُدا کر سکتی ہے جو ہمارے مالک مسیح یسوع کے ذریعے ظاہر ہوتی ہے۔‏

9 مسیح کا پیروکار ہونے کے ناتے مَیں سچ بول رہا ہوں۔ مَیں جھوٹ نہیں بول رہا۔ میرا ضمیر پاک روح کے ذریعے گواہی دے رہا ہے کہ 2 مَیں سخت پریشان ہوں اور میرا دل بہت دُکھی ہے۔ 3 کاش کہ مَیں اپنے بھائیوں کی جگہ مسیح سے جُدا اور لعنتی ہوتا یعنی اُن کی جگہ جو جسمانی طور پر میرے رشتے‌دار ہیں 4 اور اِسرائیلی ہیں۔ اُن ہی کو خدا نے گود لیا،‏*‏ اُن ہی سے عہد باندھے اور وعدے کیے، اُن ہی کو عزت اور شریعت اور مُقدس خدمت دی۔ 5 وہی اُن باپ‌دادا کی اولاد ہیں جن سے مسیح پیدا ہوا۔ اُس خدا کی بڑائی ہو جو بلندوبالا ہے۔ آمین۔‏

6 لیکن اِس کا مطلب یہ نہیں کہ خدا کی بات پوری نہیں ہوئی کیونکہ جو اِسرائیل کی نسل ہیں، وہ سب کے سب اِسرائیلی نہیں ہیں۔ 7 وہ سب ابراہام کی اولاد بھی نہیں ہیں حالانکہ وہ ابراہام کی نسل ہیں۔ کیونکہ لکھا ہے کہ ”‏جو لوگ آپ کی نسل کہلائیں گے، وہ اِضحاق سے پیدا ہوں گے۔“‏ 8 اِس کا مطلب ہے کہ جو اولاد جسمانی لحاظ سے پیدا ہوئی، اصل میں وہ خدا کی اولاد نہیں ہے لیکن جو اولاد وعدے کی بِنا پر پیدا ہوئی، اُسے ابراہام کی نسل قرار دیا گیا۔ 9 کیونکہ وعدہ یہ تھا کہ ”‏مَیں اگلے سال اِسی وقت دوبارہ آؤں گا اور سارہ کا بیٹا ہوگا۔“‏ 10 اور اُس واقعے کو بھی یاد کریں جب رِبقہ حاملہ ہوئیں اور اُن کے پیٹ میں ہمارے باپ اِضحاق کے جُڑواں بیٹے تھے۔ 11 اُس وقت خدا نے ظاہر کِیا کہ جب وہ کسی کو چُنتا ہے تو اُس کے کاموں کے مطابق نہیں چُنتا بلکہ اپنی مرضی کے مطابق۔ کیونکہ جب رِبقہ کے بیٹے ابھی پیدا نہیں ہوئے تھے اور اُنہوں نے کوئی اچھا یا بُرا کام نہیں کِیا تھا 12 تو رِبقہ سے کہا گیا کہ ”‏بڑا، چھوٹے کا غلام ہوگا۔“‏ 13 جیسا کہ لکھا ہے:‏ ”‏مجھے یعقوب سے محبت تھی لیکن عیسو سے نفرت۔“‏

14 تو پھر کیا خدا بے‌اِنصاف ہے؟ ہرگز نہیں!‏ 15 اُس نے موسیٰ سے کہا:‏ ”‏مَیں جس پر رحم کرنا چاہتا ہوں، اُس پر رحم کرتا ہوں اور جس کے ساتھ ہمدردی سے پیش آنا چاہتا ہوں، اُس کے ساتھ ہمدردی سے پیش آتا ہوں۔“‏ 16 لہٰذا جب خدا کسی کو چُنتا ہے تو وہ اُس کی خواہش اور محنت کی بِنا پر ایسا نہیں کرتا بلکہ اپنی مرضی کی بِنا پر کیونکہ وہ رحیم ہے۔ 17 کیونکہ صحیفے میں فرعون سے کہا گیا کہ ”‏مَیں نے تمہیں اِس وجہ سے زندہ رہنے دیا کہ تمہیں ایک مثال بنا کر اپنی طاقت ظاہر کروں اور پوری دُنیا میں اپنے نام کا چرچا کراؤں۔“‏ 18 لہٰذا جس پر خدا رحم کرنا چاہتا ہے، اُس پر رحم کرتا ہے لیکن وہ دوسرے لوگوں کے دل سخت ہونے دیتا ہے۔‏

19 اب شاید آپ کہیں:‏ ”‏خدا کی مرضی کے خلاف تو کوئی نہیں جا سکتا تو پھر وہ لوگوں میں نقص کیوں نکالتا ہے؟“‏ 20 لیکن آپ کون ہوتے ہیں خدا پر نکتہ‌چینی کرنے والے؟ کیا کوئی چیز اپنے بنانے والے سے کہہ سکتی ہے کہ ”‏تُم نے مجھے ایسا کیوں بنایا ہے؟“‏ 21 کیا کمہار، مٹی پر اِختیار نہیں رکھتا؟ کیا وہ ایک ہی پیڑے سے دو طرح کے برتن نہیں بنا سکتا؟ ایک اعلیٰ اِستعمال کے لیے اور دوسرا ادنیٰ اِستعمال کے لیے؟ 22 تو پھر اگر خدا نے ایسا کِیا تو کیا ہوا؟ کیا وہ اپنا غضب اور طاقت ظاہر کرنے کے لیے غضب کے برتنوں سے صبر سے پیش نہیں آ سکتا جو تباہی کے لائق ہیں؟ 23 اور کیا وہ رحم کے برتنوں پر اپنی لامحدود عظمت ظاہر کرنے کا حق نہیں رکھتا جن کو اُس نے پہلے ہی سے عظمت کے لیے تیار کِیا ہے؟ 24 یہ برتن ہم ہیں جن کو صرف یہودیوں میں سے نہیں بلکہ غیریہودیوں میں سے بھی بلا‌یا گیا ہے۔ 25 جیسا کہ اُس نے ہوسیع کی کتاب میں کہا:‏ ”‏جو میری قوم نہیں تھی، اُس کو مَیں ”‏اپنی قوم“‏ کہوں گا اور جو عورت مجھے عزیز نہیں تھی، اُس کو مَیں ”‏عزیز“‏ کہوں گا۔ 26 اور جہاں پر اُن سے کہا گیا کہ ”‏تُم میری قوم نہیں ہو“‏ وہیں پر وہ ”‏زندہ خدا کے بیٹے“‏ کہلائیں گے۔“‏

27 اِس کے علاوہ یسعیاہ نے اِسرائیل کے بارے میں کہا:‏ ”‏چاہے بنی‌اِسرائیل کی تعداد سمندر کی ریت کی طرح بے‌شمار ہو، اُن میں سے کچھ ہی باقی رہیں گے اور نجات پائیں گے۔ 28 کیونکہ یہوواہ*‏ زمین کے لوگوں سے حساب لے گا اور بڑی تیزی سے یہ کام پورا کرے گا۔“‏ 29 یسعیاہ نے یہ پیش‌گوئی بھی کی کہ ”‏اگر فوجوں کا خدا یہوواہ*‏ ہمارے لیے ایک نسل نہ چھوڑتا تو ہم سدوم اور عمورہ کی طرح بن جاتے۔“‏

30 تو پھر ہم کیا نتیجہ اخذ کریں؟ حالانکہ غیریہودی نیک بننے کی کوشش نہیں کر رہے تھے پھر بھی وہ ایمان کی وجہ سے خدا کی نظر میں نیک بن گئے۔ 31 لیکن بنی‌اِسرائیل جو شریعت کے مطابق نیک بننے کی کوشش کر رہے تھے، شریعت پر پورا نہیں اُتر سکے۔ 32 ایسا کیوں تھا؟ کیونکہ اُنہوں نے ایمان کے ذریعے نہیں بلکہ کاموں کے ذریعے نیک بننے کی کوشش کی۔ اُنہیں اُس پتھر سے ٹھوکر لگی جو ٹھوکر کا باعث ہے 33 جیسا کہ لکھا ہے:‏ ”‏دیکھو!‏ مَیں صیون میں ایک ایسا پتھر رکھ رہا ہوں جس سے ٹھوکر لگے اور ایسی چٹان جو رُکاوٹ بنے۔ لیکن جو بھی اِس پر ایمان رکھے گا، وہ مایوس نہیں ہوگا۔“‏

10 بھائیو، میری دلی خواہش اور دُعا ہے کہ اِسرائیلی نجات پائیں۔ 2 مَیں اُن کے بارے میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ جوش سے خدا کی خدمت کرتے ہیں لیکن صحیح علم کے مطابق نہیں 3 کیونکہ وہ نہیں جانتے کہ خدا لوگوں کو کس بِنا پر نیک خیال کرتا ہے۔ اِس لیے وہ نیکی کے سلسلے میں خدا کے معیاروں پر پورا نہیں اُترتے بلکہ اپنے طریقے سے خود کو نیک ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ 4 دراصل شریعت مسیح کے ذریعے پوری ہو گئی تاکہ جو شخص ایمان ظاہر کرے، وہ نیک ثابت ہو۔‏

5 کیونکہ موسیٰ نے اُس نیکی کے بارے میں جو شریعت کے ذریعے ملتی ہے، یہ لکھا:‏ ”‏جو شخص اِن باتوں پر عمل کرے گا، وہ زندہ رہے گا۔“‏ 6 لیکن جو نیکی ایمان کے ذریعے ملتی ہے، اُس کے بارے میں لکھا ہے:‏ ”‏اپنے دل میں نہ کہیں کہ ”‏آسمان پر کون جائے گا؟“‏ یعنی مسیح کو زمین پر لانے کے لیے 7 یا ”‏اتھاہ گڑھے میں کون جائے گا؟“‏ یعنی مسیح کو مُردوں میں سے زندہ کرنے کے لیے۔“‏ 8 دراصل لکھا ہے کہ ”‏وہ پیغام آپ ہی کے پاس ہے یعنی آپ کی زبان پر اور آپ کے دل میں۔“‏ یہی پیغام ہم سنا رہے ہیں اور اِسی کو ایمان کی بِنا پر قبول کِیا جاتا ہے۔ 9 اگر آپ زبان سے اِقرار کریں گے کہ یسوع مالک ہیں اور دل میں ایمان رکھیں گے کہ خدا نے اُن کو مُردوں میں سے زندہ کِیا ہے تو آپ نجات پائیں گے۔ 10 کیونکہ دل میں ایمان رکھنے سے نیکی حاصل ہوتی ہے لیکن زبان سے اِس کا اِقرار کرنے سے نجات ملتی ہے۔‏

11 کیونکہ صحیفے میں لکھا ہے کہ ”‏جو بھی اُس پر ایمان رکھے گا، وہ مایوس نہیں ہوگا۔“‏ 12 کیونکہ یہودی اور یونانی میں کوئی فرق نہیں۔ اُن سب کا مالک ایک ہی ہے۔ وہ اُن لوگوں کو کثرت سے برکت دیتا ہے جو اُس کا نام لیتے ہیں۔ 13 کیونکہ ”‏جو شخص یہوواہ*‏ کا نام لیتا ہے، وہ نجات پائے گا۔“‏ 14 لیکن لوگ اُس کا نام کیسے لیں گے اگر وہ اُس پر ایمان نہیں لائیں گے؟ اور وہ اُس پر ایمان کیسے لائیں گے اگر وہ اُس کے بارے میں نہیں سنیں گے؟ اور وہ اُس کے بارے میں کیسے سنیں گے اگر کوئی مُنادی نہیں کرے گا؟ 15 اور وہ مُنادی کیسے کریں گے اگر اُن کو بھیجا نہیں جائے گا؟ جیسا کہ لکھا ہے کہ ”‏اُن لوگوں کے پاؤں کتنے خوب‌صورت ہیں جو اچھی چیزوں کی خوش‌خبری سناتے ہیں!‏“‏

16 لیکن اُن میں سے سب خوش‌خبری پر ایمان نہیں لائے کیونکہ یسعیاہ نے لکھا:‏ ”‏اَے یہوواہ،‏*‏ ہماری باتوں کو سُن کر کون ایمان لایا ہے؟“‏ 17 لہٰذا ایک شخص تب ہی ایمان لائے گا جب وہ پیغام کو سنے گا اور تب ہی پیغام کو سنے گا جب کوئی مسیح کے بارے میں بتائے گا۔ 18 تو پھر کیا بنی‌اِسرائیل نے پیغام نہیں سنا؟ بالکل سنا۔ کیونکہ لکھا ہے کہ ”‏اُن کی آواز ساری زمین پر سنائی دی اور اُن کا پیغام پوری دُنیا میں سنایا گیا۔“‏ 19 تو پھر کیا وہ پیغام کو نہیں جانتے تھے؟ بالکل جانتے تھے۔ پہلے تو موسیٰ نے کہا:‏ ”‏مَیں تمہیں اُس کے ذریعے غیرت دِلاؤں گا جو ایک قوم نہیں ہے؛ مَیں تمہیں ایک ناسمجھ قوم کے ذریعے سخت غصہ دِلاؤں گا۔“‏ 20 پھر یسعیاہ نے اَور بھی دلیری سے کہا:‏ ”‏جن لوگوں نے مجھے نہیں ڈھونڈا، اُنہوں نے مجھے پا لیا؛ جن لوگوں نے میرے بارے میں نہیں پوچھا، اُن پر مَیں ظاہر ہو گیا۔“‏ 21 لیکن جہاں تک بنی‌اِسرائیل کا تعلق ہے، یسعیاہ نے کہا:‏ ”‏مَیں نے ایک نافرمان اور سرکش قوم کے لیے سارا دن بازو پھیلائے رکھے۔“‏

11 تو پھر کیا خدا نے اپنی قوم کو ترک کر دیا؟ ہرگز نہیں۔ مَیں بھی تو ایک اِسرائیلی ہوں اور ابراہام کی نسل اور بنیمین کے قبیلے سے ہوں۔ 2 خدا نے اُن لوگوں کو ترک نہیں کِیا جن پر اُس نے سب سے پہلے توجہ دی۔ کیا آپ کو یاد نہیں کہ صحیفے کے مطابق ایلیاہ نے خدا سے اِلتجا کرتے وقت اِسرائیل کے بارے میں کیا کہا؟ 3 اُنہوں نے کہا:‏ ”‏اَے یہوواہ،‏*‏ اُنہوں نے تیرے نبیوں کو مار ڈالا اور تیری قربان‌گاہوں کو ڈھا دیا۔ صرف مَیں ہی باقی بچا ہوں اور اب وہ میری جان لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔“‏ 4 لیکن خدا نے اُن سے کیا کہا؟ ”‏ابھی میرے 7000 آدمی باقی ہیں جنہوں نے بعل کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکے۔“‏ 5 اِسی طرح اِس زمانے میں بھی کچھ اِسرائیلی باقی ہیں جن کو خدا نے اپنی عظیم رحمت کی بِنا پر چُنا ہے۔ 6 اب اگر اُن کو عظیم رحمت کی بِنا پر چُنا گیا ہے تو اُن کو کاموں کی بِنا پر نہیں چُنا گیا ورنہ عظیم رحمت، رحمت نہ ہوتی۔‏

7 لہٰذا جس چیز کی بنی‌اِسرائیل خواہش رکھتے تھے، وہ اُن کو نہیں ملی بلکہ صرف چُنے ہوئے لوگوں کو ملی۔ باقیوں کے دل سُن ہو گئے، 8 بالکل ویسے ہی جیسے لکھا ہے:‏ ”‏خدا نے اُنہیں آج تک گہری نیند سلائے رکھا اور اُنہیں ایسی آنکھیں دیں جو دیکھتیں نہیں اور ایسے کان دیے جو سنتے نہیں۔“‏ 9 اور داؤد نے کہا:‏ ”‏اُن کی میز اُن کے لیے پھندا اور جال اور سزا اور ٹھوکر کا باعث بن جائے۔ 10 اُن کی آنکھیں تاریک ہو جائیں تاکہ وہ دیکھ نہ سکیں اور اُن کی کمر ہمیشہ جھکی رہے۔“‏

11 تو پھر کیا اِسرائیلیوں کو ٹھوکر لگی اور وہ ایسے گِرے کہ دوبارہ اُٹھ نہ سکے؟ ہرگز نہیں۔ لیکن اِسرائیلیوں کے غلط قدم کی وجہ سے غیراِسرائیلیوں کو نجات ملتی ہے تاکہ اِسرائیلیوں کو غیرت دِلائی جائے۔ 12 اب اگر اُن کے غلط قدم کی وجہ سے دُنیا کو برکتیں ملیں اور اُن کے گھٹ جانے کی وجہ سے غیراِسرائیلیوں کو برکتیں ملیں تو پھر اُن کی پوری تعداد کی وجہ سے لوگوں کو کتنی زیادہ برکتیں ملیں گی۔‏

13 مَیں آپ سے بات کر رہا ہوں جو غیریہودی ہیں کیونکہ مَیں غیریہودیوں کا رسول ہوں اور اِس خدمت کی بڑائی کرتا ہوں 14 تاکہ کسی نہ کسی طرح سے اپنی قوم کو غیرت دِلاؤں اور اِن میں سے کچھ کو بچا لوں۔ 15 کیونکہ اگر اُن کے ترک ہونے کا نتیجہ یہ تھا کہ دُنیا کو خدا سے صلح کرنے کا موقع ملے تو پھر کیا اُن کے قبول ہونے کا نتیجہ مُردوں میں سے زندہ ہونا نہیں ہوگا؟ 16 اِس کے علاوہ اگر آٹے کا وہ حصہ جو پہلے پھل کے طور پر لیا گیا، پاک ہے تو پھر باقی سارا آٹا بھی پاک ہے؛ اگر جڑ پاک ہے تو شاخیں بھی پاک ہیں۔‏

17 زیتون کے درخت کی کچھ شاخیں کاٹ دی گئیں اور آپ کو اِس کی باقی شاخوں کے بیچ میں پیوند کِیا گیا حالانکہ آپ جنگلی زیتون تھے اور اِس طرح آپ اُن کے ساتھ زیتون کی جڑ کی توانائی سے فائدہ حاصل کرنے لگے۔ 18 لیکن اپنے آپ کو اُن شاخوں سے بڑا نہ سمجھیں۔ اگر آپ خود کو اُن سے بڑا سمجھتے ہیں تو یاد رکھیں کہ آپ جڑ کو نہیں سنبھال رہے بلکہ جڑ آپ کو سنبھال رہی ہے۔ 19 شاید آپ کہیں کہ ”‏شاخوں کو کاٹ دیا گیا تاکہ مجھے پیوند کِیا جا سکے۔“‏ 20 بالکل درست، اُنہیں اِس لیے کاٹ دیا گیا کہ اُن میں ایمان نہیں رہا لیکن آپ اپنے ایمان کی وجہ سے قائم ہیں۔ لہٰذا غرور نہ کریں بلکہ خوف کھائیں۔ 21 کیونکہ اگر خدا نے پہلی شاخوں کا لحاظ نہیں کِیا تو وہ آپ کا بھی لحاظ نہیں کرے گا۔ 22 یاد رکھیں کہ خدا مہربان بھی ہے اور سزا بھی دیتا ہے۔ اُس نے اُن کو سزا دی جو گِر گئے لیکن وہ آپ پر مہربانی کرتا رہے گا بشرطیکہ آپ اِس مہربانی کے لائق رہیں ورنہ آپ بھی کاٹ ڈالے جائیں گے۔ 23 لیکن اگر وہ پھر سے ایمان پیدا کریں گے تو اُن کو زیتون کے درخت پر پیوند کِیا جائے گا کیونکہ خدا اُنہیں دوبارہ لگا سکتا ہے۔ 24 خدا نے آپ کو جنگلی زیتون سے کاٹ کر اُس زیتون میں پیوند کِیا جو باغ میں ہوتا ہے حالانکہ عام طور پر ایسا نہیں کِیا جاتا۔ اگر خدا ایسا کر سکتا ہے تو وہ اُسی درخت پر اُن شاخوں کو واپس لگا سکتا ہے جو اُس نے کاٹ دی تھیں۔‏

25 بھائیو، مَیں نہیں چاہتا کہ آپ اِس مُقدس راز سے بے‌خبر رہیں تاکہ آپ اپنی نظر میں دانش‌مند نہ بن جائیں۔ راز یہ ہے کہ بنی‌اِسرائیل کے دل اُس وقت تک سُن ہو گئے ہیں جب تک غیریہودیوں کی پوری تعداد جمع نہ کی جائے۔ 26 یوں سارا اِسرائیل نجات پائے گا جیسا کہ لکھا ہے کہ ”‏نجات‌دہندہ، صیون سے آئے گا اور یعقوب کی اولاد کو بُرے کاموں سے پھیر دے گا۔ 27 اور یہ میرا وہ عہد ہے جو مَیں اُس وقت اُن کے ساتھ باندھوں گا جب مَیں اُن کے گُناہ مٹاؤں گا۔“‏ 28 یہ سچ ہے کہ چونکہ بنی‌اِسرائیل نے خوش‌خبری کو قبول نہیں کِیا اِس لیے وہ خدا کے دُشمن ہیں اور اِس سے آپ کو فائدہ ہوا۔ لیکن چونکہ خدا نے اُن کے باپ‌دادا سے وعدہ کِیا تھا اِس لیے اُس نے اُن میں سے کچھ کو اپنا دوست چُنا۔ 29 کیونکہ خدا اِس بات پر نہیں پچھتائے گا کہ اُس نے اُن کو نعمتیں عطا کیں اور اُن کو بلا‌یا۔ 30 ایک زمانے میں آپ خدا کے نافرمان تھے لیکن اب یہودیوں کی نافرمانی کی وجہ  سے آپ پر رحم کِیا گیا ہے۔ 31 اور اگر خدا نے اُن کی نافرمانی کی وجہ سے آپ پر رحم کِیا تو وہ یہودیوں پر بھی رحم کر سکتا ہے۔ 32 کیونکہ خدا نے سب لوگوں کو نافرمانی کا قیدی بننے دیا تاکہ وہ سب پر رحم کر سکے۔‏

33 واہ!‏ خدا کی برکتوں، دانش‌مندی اور علم کی اِنتہا نہیں!‏ اُس کے فیصلے سمجھ سے باہر ہیں اور اُس کی راہوں کی کھوج لگانا ممکن نہیں!‏ 34 کیونکہ ”‏کون یہوواہ*‏ کی سوچ کو جان سکتا ہے یا اُس کو مشورہ دے سکتا ہے؟“‏ 35 یا ”‏کس نے خدا کو کچھ دیا ہے کہ وہ اُسے معاوضہ دے؟“‏ 36 کیونکہ سب چیزیں اُس کی طرف سے، اُس کے ذریعے اور اُس کے لیے ہیں۔ اُس کی بڑائی ہمیشہ ہو۔ آمین۔‏

12 لہٰذا بھائیو، مَیں خدا کے رحم کی بِنا پر آپ سے اِلتجا کرتا ہوں کہ اپنے جسم ایک ایسی قربانی کے طور پر پیش کریں جو زندہ، پاک اور خدا کو پسندیدہ ہے یعنی اپنی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو اِستعمال میں لا کر مُقدس خدمت انجام دیں۔ 2 اور اِس زمانے کے طورطریقوں کی نقل کرنا چھوڑ دیں بلکہ اپنی سوچ کا رُخ موڑ کر خود کو مکمل طور پر بدل لیں تاکہ آپ جان جائیں کہ خدا کی اچھی اور پسندیدہ اور کامل مرضی کیا ہے۔‏

3 مَیں اُس عظیم رحمت کی بِنا پر جو مجھے عطا کی گئی، آپ سب سے کہتا ہوں کہ خود کو اپنی حیثیت سے زیادہ اہم نہ سمجھیں بلکہ سمجھ‌دار بنیں کیونکہ خدا ہی ہم میں سے ہر ایک کو ایمان دیتا ہے۔ 4 کیونکہ جیسے جسم ایک ہوتا ہے لیکن اعضا بہت سے ہوتے ہیں اور سارے اعضا فرق فرق کام کرتے ہیں 5 ویسے ہی ہم بہت سارے ہیں لیکن یسوع مسیح کے ساتھ متحد ہو کر ایک جسم ہیں اور ایسے اعضا ہیں جو ایک دوسرے سے جُڑے ہوئے ہیں 6 اور ہمیں خدا کی عظیم رحمت کی بِنا پر فرق فرق نعمتیں عطا کی گئی ہیں۔ اِس لیے اگر ہمیں پیش‌گوئی کرنے کی نعمت ملی ہے تو آئیں، اپنے اپنے ایمان کے مطابق پیش‌گوئی کریں؛ 7 اگر ہمیں کوئی خدمت سونپی گئی ہے تو آئیں، اِس خدمت میں لگے رہیں؛ جو تعلیم دیتا ہے، وہ تعلیم دیتا رہے؛ 8 جو دوسروں کی حوصلہ‌افزائی*‏ کرتا ہے، وہ حوصلہ‌افزائی کرتا رہے؛ جو تقسیم کرتا*‏ ہے، وہ دل کھول کر تقسیم کرے؛‏*‏ جو پیشوائی کرتا ہے، وہ لگن سے پیشوائی کرے؛ جو رحم کرتا ہے، وہ خوشی سے رحم کرے۔‏

9 آپ کی محبت ریاکاری سے پاک ہو۔ بُرائی سے گھن کھائیں اور اچھائی سے لپٹے رہیں۔ 10 ایک دوسرے سے بہن بھائیوں کی طرح پیار کریں۔ ایک دوسرے کی عزت کرنے میں پہل کریں۔ 11 محنتی ہوں اور سُستی نہ کریں۔ پاک روح سے دہکتے رہیں۔ دل‌وجان سے یہوواہ*‏ کی غلامی کریں۔ 12 اپنی اُمید کی وجہ سے خوش ہوں۔ مصیبتوں میں ثابت‌قدم رہیں۔ دُعا کرنے میں لگے رہیں۔ 13 جو کچھ آپ کے پاس ہے، اِسے مُقدسوں کی ضروریات کے مطابق اُن کے ساتھ بانٹیں۔ مہمان‌نوازی کرتے رہیں۔ 14 اُن کے لیے دُعا کریں جو آپ کو اذیت پہنچاتے ہیں، ہاں، دُعا کریں، بددُعا نہ کریں۔ 15 اُن کے ساتھ خوش ہوں جو خوش ہیں اور اُن کے ساتھ روئیں جو رو رہے ہیں۔ 16 دوسروں کو اپنے جیسا خیال کریں اور خود میں غرور پیدا نہ کریں بلکہ خاکساری کی راہ اِختیار کریں۔ خود کو بڑا دانش‌مند نہ سمجھیں۔‏

17 بُرائی کے بدلے بُرائی نہ کریں۔ وہ کام کریں جو سب لوگوں کی نظر میں اچھا ہو۔ 18 جہاں تک ممکن ہو، اپنی طرف سے سب کے ساتھ امن سے رہیں۔ 19 عزیزو، بدلہ نہ لیں بلکہ خدا کا غضب ظاہر ہونے دیں کیونکہ ”‏یہوواہ*‏ نے کہا ہے کہ ”‏بدلہ لینا میرا کام ہے۔ مَیں بدلہ دوں گا۔“‏ “‏ 20 لیکن ”‏اگر آپ کے دُشمن کو بھوک لگی ہے تو اُسے کھانا کھلائیں اور اگر اُسے پیاس لگی ہے تو اُسے پانی پلائیں کیونکہ ایسا کرنے سے آپ اُس کے سر پر دہکتے ہوئے کوئلوں کا ڈھیر لگائیں گے۔“‏*‏ 21 بُرائی کو اپنے اُوپر غالب نہ آنے دیں بلکہ اچھائی سے بُرائی پر غالب آئیں۔‏

13 ہر شخص*‏ حاکموں کا تابع‌دار ہو کیونکہ اِختیار خدا کی طرف سے دیا جاتا ہے۔ حاکموں کے پاس جو اِختیار ہے، وہ اُنہیں خدا سے ملا ہے۔ 2 لہٰذا جو شخص حاکموں کی مخالفت کرتا ہے، وہ خدا کے اِنتظام کی مخالفت کرتا ہے۔ اور جو ایسا کرتا ہے، اُسے سزا ملے گی۔ 3 اچھے کام کرنے والے لوگ حاکموں سے نہیں ڈرتے بلکہ بُرے کام کرنے والے لوگ ڈرتے ہیں۔ کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کو حاکموں سے ڈرنا نہ پڑے؟ تو اچھے کام کریں۔ پھر آپ کو اُن سے داد ملے گی۔ 4 کیونکہ حاکم خدا کے خادم ہیں اور آپ کے فائدے کے لیے کام کرتے ہیں۔ لیکن اگر آپ بُرے کام کرتے ہیں تو ڈریں کیونکہ اُن کے پاس تلوار بِلاوجہ نہیں ہے۔ وہ خدا کے خادموں کے طور پر اُن لوگوں کو سزا دیتے ہیں جو بُرے کام کرتے ہیں۔‏

5 اِس لیے یہ بہت ضروری ہے کہ آپ اُن کے تابع‌دار ہوں اور صرف سزا کے ڈر سے نہیں بلکہ اپنے ضمیر کی وجہ سے بھی۔ 6 آپ اِسی لیے تو ٹیکس بھی ادا کرتے ہیں کیونکہ وہ خدا کے خادم ہیں جو ہر وقت عوام کی خدمت کرتے ہیں۔ 7 سب لوگوں کا حق ادا کریں۔ جو ٹیکس مانگتا ہے، اُسے ٹیکس دیں؛ جو خراج مانگتا ہے، اُسے خراج دیں؛ جو احترام*‏ مانگتا ہے، اُسے احترام دیں؛ جو عزت مانگتا ہے، اُسے عزت دیں۔‏

8 آپ پر کوئی قرض نہ ہو سوائے اِس کے کہ آپ ایک دوسرے سے محبت کریں۔ کیونکہ جو دوسروں سے محبت کرتا ہے، وہ شریعت کو پورا کرتا ہے۔ 9 کیونکہ شریعت کے یہ حکم کہ ”‏زِنا نہ کرو، قتل نہ کرو، چوری نہ کرو، لالچ نہ کرو“‏ اور اِن کے علاوہ بھی جتنے حکم ہیں، اُن سب کا خلاصہ یہ ہے کہ ”‏اپنے پڑوسی سے اُسی طرح محبت کرو جس طرح تُم اپنے آپ سے کرتے ہو۔“‏ 10 جو محبت کرتا ہے، وہ اپنے پڑوسی کے ساتھ بُرائی نہیں کرتا اِس لیے محبت شریعت کو پورا کرتی ہے۔‏

11 یہ سب کچھ اِس لیے کریں کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ آپ کس زمانے میں رہ رہے ہیں یعنی وہ وقت آ گیا ہے کہ آپ نیند سے جاگیں۔ کیونکہ جب ہم ایمان لائے تھے تو ہماری نجات اِتنی نزدیک نہیں تھی جتنی کہ اب ہے۔ 12 رات کافی گزر چکی ہے اور دن ہونے والا ہے۔ اِس لیے آئیں، تاریکی کے کاموں کو اُتار پھینکیں اور روشنی کے ہتھیاروں کو پہن لیں۔ 13 آئیں، ہمیشہ شرافت سے زندگی گزاریں جیسے دن کے وقت گزارتے ہیں یعنی غیرمہذب دعوتیں، نشہ‌بازی، لڑائی جھگڑا اور حسد نہ کریں اور ناجائز جنسی تعلقات نہ رکھیں اور ہٹ‌دھرم چال‌چلن*‏ سے باز رہیں۔ 14 اور آئیں، ہمارے مالک یسوع مسیح کی مثال پر عمل کریں اور جسم کی خواہشوں کو پورا کرنے کے لیے منصوبے نہ باندھیں۔‏

14 اُس شخص کو قبول کریں جس کا ایمان کمزور ہے اور اگر اُس کی رائے آپ سے فرق ہے*‏ تو اُس پر نکتہ‌چینی نہ کریں۔ 2 ایک شخص کا ایمان مضبوط ہے اِس لیے وہ سب کچھ کھاتا ہے لیکن دوسرے کا ایمان کمزور ہے اِس لیے وہ صرف سبزیاں کھاتا ہے۔ 3 جو سب کچھ کھاتا ہے، وہ اُس کو حقیر نہ جانے جو سب کچھ نہیں کھاتا۔ اور جو سب کچھ نہیں کھاتا، وہ اُس پر نکتہ‌چینی نہ کرے جو سب کچھ کھاتا ہے کیونکہ خدا نے اُسے بھی قبول کِیا ہے۔ 4 آپ کون ہیں کسی اَور کے نوکر پر نکتہ‌چینی کرنے والے؟ اُس کا مالک یعنی خدا ہی فیصلہ کر سکتا ہے کہ وہ صحیح کر رہا ہے یا غلط۔ ہاں، چونکہ یہوواہ*‏ اُس کی مدد کرتا ہے اِس لیے وہ شخص اُس کے سامنے کھڑا ہو سکتا ہے۔‏

5 ایک شخص ایک دن کو دوسرے دنوں سے زیادہ اہم خیال کرتا ہے جبکہ دوسرا کہتا ہے کہ سب دن ایک جیسے ہیں۔ ہر شخص کو پورا یقین ہونا چاہیے کہ وہ صحیح کام کر رہا ہے۔ 6 جو شخص ایک دن کو خاص مانتا ہے، وہ اِسے یہوواہ*‏ کے لیے خاص مانتا ہے۔ اور جو شخص کچھ کھاتا ہے، وہ یہوواہ*‏ کے لیے کھاتا ہے کیونکہ وہ خدا کا شکر کر کے کھاتا ہے اور جو شخص نہیں کھاتا، وہ یہوواہ*‏ کے لیے نہیں کھاتا اور پھر بھی خدا کا شکر کرتا ہے۔ 7 ہم میں سے کوئی بھی صرف اپنے لیے نہیں جیتا اور کوئی بھی صرف اپنے لیے نہیں مرتا 8 کیونکہ اگر ہم جیتے ہیں تو ہم یہوواہ*‏ کے لیے جیتے ہیں اور اگر ہم مرتے ہیں تو ہم یہوواہ*‏ کے لیے مرتے ہیں۔ لہٰذا چاہے ہم جئیں یا مریں، ہم یہوواہ*‏ کے ہیں۔ 9 کیونکہ مسیح اِس لیے مرا اور دوبارہ زندہ ہوا کہ وہ مُردوں اور زندوں کا مالک ہو۔‏

10 تو پھر آپ اپنے بھائی پر نکتہ‌چینی کیوں کرتے ہیں؟ آپ اپنے بھائی کو حقیر کیوں جانتے ہیں؟ ہم سب خدا کے تختِ‌عدالت کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ 11 کیونکہ لکھا ہے کہ ”‏یہوواہ*‏ کہتا ہے:‏ ”‏بے‌شک ہر شخص میرے سامنے گھٹنے ٹیکے گا اور ہر شخص اپنی زبان سے میرا اِقرار کرے گا۔“‏ “‏ 12 لہٰذا ہم سب کو خدا کے سامنے حساب دینا پڑے گا۔‏

13 اِس لیے آئیں، آئندہ ایک دوسرے پر نکتہ‌چینی نہ کریں بلکہ ٹھان لیں کہ ہم کسی کے لیے ٹھوکر کا باعث یا رُکاوٹ نہیں بنیں گے۔ 14 مالک یسوع کے پیروکار ہونے کے ناتے مَیں جانتا ہوں اور مجھے پکا یقین ہے کہ کوئی چیز بذاتِ‌خود ناپاک نہیں ہوتی بلکہ جب ایک شخص کسی چیز کو ناپاک سمجھتا ہے تو پھر وہ اُس کے لیے ناپاک ہوتی ہے۔ 15 اگر اُس چیز کی وجہ سے جو آپ کھاتے ہیں، آپ کے بھائی کو ٹھیس پہنچتی ہے تو آپ نے محبت کی راہ کو چھوڑ دیا ہے۔ اپنے کھانے کے ذریعے اُس شخص کو تباہ نہ کریں جس کے لیے مسیح نے جان دی۔ 16 کوئی ایسا کام نہ کریں جس کی وجہ سے آپ کے اچھے کاموں کو بُرا کہا جائے۔ 17 کیونکہ خدا کی بادشاہت کا مطلب کھانا پینا نہیں بلکہ نیکی، امن اور پاک روح سے ملنے والی خوشی ہے۔ 18 کیونکہ جو شخص اِس طرح سے مسیح کی غلامی کرتا ہے، اُسے خدا اور اِنسانوں کی خوشنودی حاصل ہے۔‏

19 اِس لیے آئیں، ایسے کام کریں جن سے امن کو فروغ ملے اور دوسروں کی حوصلہ‌افزائی ہو۔ 20 کھانے کی خاطر خدا کے کام کو برباد کرنا چھوڑ دیں۔ یہ سچ ہے کہ سب چیزیں پاک ہیں لیکن اگر ایک شخص کوئی ایسی چیز کھاتا ہے جس سے دوسرے گمراہ ہو سکتے ہیں تو یہ غلط*‏ ہے۔ 21 اچھا ہوگا کہ آپ گوشت نہ کھائیں یا مے نہ پئیں یا ایسا کوئی اَور کام نہ کریں جس کی وجہ سے آپ کا بھائی گمراہ ہو۔ 22 اِن چیزوں کے بارے میں آپ کا اِعتقاد صرف آپ کے اور خدا کے درمیان رہے۔ وہ شخص خوش ہے جو اپنے فیصلے کی وجہ سے خود کو قصوروار نہیں ٹھہراتا۔ 23 اگر وہ شک کرتا ہے اور پھر بھی کھاتا ہے تو وہ خود کو قصوروار ٹھہراتا ہے کیونکہ وہ اِعتقاد نہیں رکھتا۔ بے‌شک جو کام اِعتقاد کی بِنا پر نہیں کِیا جاتا، وہ گُناہ ہے۔‏

15 لیکن اگر ہمارا ایمان مضبوط ہے تو ہمیں چاہیے کہ صرف اپنی خوشی کا نہ سوچیں بلکہ اُن کی مدد کریں جن کا ایمان مضبوط نہیں ہے تاکہ وہ اپنی کمزوریوں کے باوجود ثابت‌قدم رہ سکیں۔ 2 آئیں، ہم میں سے ہر ایک اپنے پڑوسی کی خوشی کا سوچے، اُس سے بھلائی کرے اور اُس کا حوصلہ بڑھائے۔ 3 کیونکہ مسیح نے بھی صرف اپنی خوشی کا نہیں سوچا بلکہ جیسا کہ لکھا ہے:‏ ”‏لوگوں نے تجھے رسوا کِیا اور یہ ساری رسوائی مجھ پر آ گئی۔“‏ 4 کیونکہ جتنی بھی باتیں پہلے لکھی گئیں، وہ ہماری ہدایت کے لیے لکھی گئیں تاکہ ہم صحیفوں سے تسلی پا کر اور ثابت‌قدم رہ کر اُمید حاصل کر سکیں۔ 5 اور خدا جو ثابت‌قدم رہنے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے اور تسلی دیتا ہے، آپ سب کو مسیح یسوع جیسی سوچ عطا کرے 6 تاکہ آپ متحد ہو کر ایک آواز سے ہمارے مالک یسوع مسیح کے خدا اور باپ کی بڑائی کر سکیں۔‏

7 لہٰذا ایک دوسرے کو قبول*‏ کریں، بالکل ویسے ہی جیسے مسیح نے آپ کو قبول کِیا تاکہ خدا کی بڑائی ہو۔ 8 کیونکہ مسیح اُن کا خادم بنا جن کا ختنہ ہوا ہے تاکہ خدا کو سچا ثابت کرے اور اُن وعدوں کی تصدیق کرے جو خدا نے اُن کے باپ‌دادا سے کیے تھے 9 اور تاکہ غیریہودی بھی خدا کے رحم کی وجہ سے اُس کی بڑائی کریں۔ جیسا کہ لکھا ہے کہ ”‏مَیں قوموں کے سامنے تیرا اِقرار کروں گا اور تیرے نام کی تعریف میں گیت گاؤں گا۔“‏ 10 یہ بھی لکھا ہے کہ ”‏اَے قومو، اُس کی قوم کے ساتھ خوشی مناؤ۔“‏ 11 اور یہ بھی لکھا ہے کہ ”‏اَے قومو، یہوواہ*‏ کی بڑائی کرو؛ سب لوگ اُس کی بڑائی کریں۔“‏ 12 اور یسعیاہ نے بھی لکھا کہ ”‏یسی کی ایک جڑ ہوگی جو قوموں پر حکمرانی کرنے کے لیے اُٹھے گی اور قومیں اُس پر اُمید لگائیں گی۔“‏ 13 ہاں، خدا جو ہمیں اُمید بخشتا ہے، آپ کو خوشی اور اِطمینان عطا کرے تاکہ پاک روح کی طاقت سے آپ کی اُمید اَور مضبوط ہو جائے کیونکہ آپ اُس پر بھروسا کرتے ہیں۔‏

14 میرے بھائیو، مجھے پورا یقین ہے کہ آپ میں اچھائی کوٹ کوٹ کر بھری ہے، آپ بہت علم رکھتے ہیں اور ایک دوسرے کو نصیحت کرنے*‏ کے قابل ہیں۔ 15 لیکن پھر بھی مَیں آپ کو یاد دِلانے کے لیے کچھ باتوں کے بارے میں زیادہ کُھل کر لکھ رہا ہوں کیونکہ مجھے خدا سے عظیم رحمت ملی ہے 16 تاکہ مَیں مسیح یسوع کے خادم کے طور پر ایک مُقدس کام کروں یعنی غیریہودیوں کو خدا کی خوش‌خبری سناؤں تاکہ اُن کو بھی ایسی پسندیدہ قربانی بننے کا موقع ملے جسے پاک روح کے ذریعے مُقدس کِیا گیا ہے۔‏

17 مسیح یسوع کے پیروکار کے طور پر مجھے خدا کی خدمت سے خوشی ملتی ہے۔ 18 مَیں کسی اَور بات کا ذکر کرنے کی جُرأت نہیں کروں گا سوائے اُن کاموں کے جو مسیح نے قوموں کو فرمانبردار کرنے کے لیے میرے ذریعے کیے ہیں یعنی میری باتوں اور کاموں کے ذریعے، 19 معجزوں اور نشانیوں کے ذریعے اور خدا کی روح کی طاقت کے ذریعے۔ اِس کے نتیجے میں مَیں نے یروشلیم سے لے کر اِلرِکم تک مسیح کے بارے میں اچھی طرح سے خوش‌خبری کی مُنادی کی ہے۔ 20 دراصل مَیں نے ٹھان لیا تھا کہ جہاں لوگ مسیح کا نام سُن چکے ہیں وہاں خوش‌خبری نہیں سناؤں گا تاکہ اُس بنیاد پر عمارت نہ بناؤں جو کسی اَور نے ڈالی ہے۔ 21 جیسا کہ لکھا ہے کہ ”‏جنہیں اُس کے بارے میں خبر نہیں ملی، وہ دیکھیں گے اور جنہوں نے نہیں سنا، وہ سمجھیں گے۔“‏

22 اِسی وجہ سے تو مَیں لاکھ کوششوں کے باوجود آپ کے پاس نہیں آ سکا۔ 23 لیکن اب اِن علاقوں میں کوئی ایسی جگہ نہیں رہی جہاں مَیں نے مُنادی نہ کی ہو اور مَیں بہت*‏ سالوں سے آپ سے ملنا چاہتا ہوں۔ 24 اِس لیے جب مَیں ہسپانیہ جاؤں گا تو راستے میں رُک کر آپ سے کچھ دیر ملاقات کروں گا۔ پھر جب مَیں دوبارہ سفر پر روانہ ہوں گا تو اُمید ہے کہ آپ تھوڑا راستہ میرے ساتھ چلیں گے۔ 25 لیکن فی‌الحال تو مَیں مُقدسوں کی خدمت کرنے کے لیے یروشلیم جا رہا ہوں 26 کیونکہ مقدونیہ اور اخیہ کے بھائیوں نے خوشی سے اپنی چیزوں میں سے عطیہ دیا ہے تاکہ یروشلیم کے اُن مُقدسوں کی مدد کریں جو غریب ہیں۔ 27 بے‌شک اُن بھائیوں نے خوشی سے ایسا کِیا لیکن اصل میں تو وہ اِن کے قرض‌دار ہیں۔ اگر اُنہوں نے اِن مُقدسوں کی روحانی چیزوں سے فائدہ حاصل کِیا تو اب اُن کا فرض ہے کہ اپنے مال سے اُن کی مدد کریں۔ 28 اور جب مَیں یہ کام کر لوں گا اور عطیات*‏ کو اُن تک بحفاظت پہنچا دوں گا تو مَیں آپ کے پاس سے ہوتا ہوا ہسپانیہ جاؤں گا۔ 29 اور مَیں جانتا ہوں کہ جب مَیں آپ کے پاس آؤں گا تو آپ کو مسیح کی طرف سے بہت سی برکتیں دوں گا۔‏

30 بھائیو، ہمارے مالک یسوع مسیح اور پاک روح سے ملنے والی محبت کے ذریعے مَیں آپ سے اِلتجا کرتا ہوں کہ میری طرح آپ بھی دل سے دُعا کریں کہ 31 مَیں یہودیہ میں اُن لوگوں سے بچا رہوں جو ہمارے ہم‌ایمان نہیں ہیں اور میری وہ خدمت یروشلیم کے مُقدسوں کو پسند آئے جو مَیں نے اُن کے لیے کی ہے۔ 32 پھر اگر خدا نے چاہا تو مَیں آپ کے پاس خوشی خوشی آ سکوں گا اور ہم ایک دوسرے کو تازہ‌دم کر سکیں گے۔ 33 دُعا ہے کہ خدا جو سلامتی کا سرچشمہ ہے، آپ سب کے ساتھ ہو۔ آمین۔‏

16 مَیں آپ کو بہن فیبے سے متعارف کرانا چاہتا ہوں جو کنخریہ کی کلیسیا میں خدمت کرتی ہیں۔ 2 وہ بھی ہمارے مالک کی پیروکار ہیں اِس لیے اُن کا ایسا خیرمقدم کریں جیسا مُقدس لوگوں کے لیے مناسب ہے اور اگر اُنہیں مدد چاہیے تو اُن کی مدد کریں کیونکہ اُنہوں نے نہ صرف مجھے بلکہ اَور بھی بہت سے مسیحیوں کو سہارا دیا ہے۔‏

3 پرِسکہ اور اکوِلہ کو میرا سلام دیں جو مسیح یسوع کے سلسلے میں میرے ہم‌خدمت ہیں۔ 4 اُنہوں نے میری*‏ خاطر اپنی جان تک خطرے میں ڈال دی جس کی وجہ سے صرف مَیں نہیں بلکہ دوسری قوموں سے تعلق رکھنے والے تمام مسیحی بھی اُن کے شکرگزار ہیں۔ 5 اُس کلیسیا کو بھی میرا سلام دیں جو اُن کے گھر میں ہے۔ میرے پیارے اِپنیتُس کو سلام کہیں جو صوبہ آسیہ میں مسیح کے لیے پہلے پھلوں میں سے ایک ہیں۔ 6 مریم کو سلام کہیں جنہوں نے آپ کے لیے سخت محنت کی ہے۔ 7 میرے رشتے‌داروں اندرُنیکس اور یُونیاس کو سلام کہیں جو میری طرح قید رہے ہیں۔ وہ رسولوں میں بڑے نیک نام ہیں اور میری نسبت زیادہ عرصے سے مسیح کے شاگرد ہیں۔‏

8 امپلیاطُس کو میرا سلام دیں جو مجھے ہمارے مالک کے حوالے سے بہت عزیز ہیں۔ 9 مسیح کے سلسلے میں میرے ہم‌خدمت اُربانُس کو سلام کہیں اور میرے پیارے اِستخس کو بھی۔ 10 اپلیس کو سلام کہیں جنہیں مسیح کی خوشنودی حاصل ہے۔ ارِستُبولُس کے گھر والوں کو سلام کہیں۔ 11 میرے رشتے‌دار ہیرودیون کو سلام کہیں اور نرکِسُس کے اُن گھر والوں کو بھی جو ہمارے مالک کے پیروکار ہیں۔ 12 تروفینہ اور تروفوسہ کو سلام کہیں جو ہمارے مالک کے لیے سخت محنت کر رہی ہیں۔ ہماری پیاری پرسس کو سلام کہیں کیونکہ اُنہوں نے بھی ہمارے مالک کے لیے سخت محنت کی ہے۔ 13 ہمارے مالک کے چُنے ہوئے خادم رُوفس کو سلام کہیں اور اُن کی ماں کو بھی جنہیں مَیں اپنی ماں کی طرح سمجھتا ہوں۔ 14 اسنکرِتُس، فلگون، ہرمیس، پترُباس اور ہرماس کو سلام کہیں اور اُن بھائیوں کو بھی جو اُن کے ساتھ ہیں۔ 15 فِلولوگُس اور یُولیہ کو، نیریُوس اور اُن کی بہن کو اور اُلمپاس کو سلام کہیں اور اُن سب مُقدس لوگوں کو بھی جو اُن کے ساتھ ہیں۔ 16 گلے مل کر*‏ ایک دوسرے کا خیرمقدم کریں۔ مسیح کی تمام کلیسیائیں آپ کو سلام کہتی ہیں۔‏

17 بھائیو، مَیں آپ سے کہتا ہوں کہ اُن لوگوں پر نظر رکھیں جو اِختلافات پیدا کرتے ہیں اور دوسروں کو گمراہ کرتے ہیں اور یوں اُس تعلیم کے خلاف کام کرتے ہیں جو آپ کو ملی ہے۔ ایسے لوگوں سے دُور رہیں 18 کیونکہ وہ ہمارے مالک مسیح کے غلام نہیں بلکہ اپنی خواہشوں*‏ کے غلام ہیں۔ وہ چکنی‌چپڑی باتوں اور خوشامد سے سیدھے سادے لوگوں کے دلوں کو بہکاتے ہیں۔ 19 مَیں آپ سے بہت خوش ہوں کیونکہ آپ کی فرمانبرداری سب لوگوں میں مشہور ہو گئی ہے۔ مگر مَیں چاہتا ہوں کہ آپ اچھائی کے حوالے سے دانش‌مند اور بُرائی کے حوالے سے نادان رہیں۔ 20 خدا جو امن کا سرچشمہ ہے، جلد ہی شیطان کو آپ کے پیروں تلے کچلوا دے گا۔ ہمارے مالک یسوع کی عظیم رحمت آپ کے ساتھ رہے۔‏

21 میرے ہم‌خدمت تیمُتھیُس اور میرے رشتے‌دار لُوکیُس، یاسون اور سوسپطرس بھی آپ کو سلام کہتے ہیں۔‏

22 ترتیُس بھی جن سے مَیں نے یہ خط لکھوایا ہے، آپ کو مسیحی سلام کہتے ہیں۔‏

23 گِیُس جن کے ہاں مَیں ٹھہرا ہوا ہوں اور جن کے گھر میں کلیسیا جمع ہوتی ہے، آپ کو سلام کہتے ہیں۔ اِراستُس جو شہر کے خزانچی*‏ ہیں اور اُن کے بھائی کوارتُس آپ کو سلام کہتے ہیں۔ 24 ‏—‏*‏

25 خدا آپ کو اُس پیغام کے ذریعے جو یسوع مسیح کے متعلق ہے اور اُس خوش‌خبری کے ذریعے جو مَیں سنا رہا ہوں، مضبوط بنا سکتا ہے۔ یہ خوش‌خبری اُس مُقدس راز کے مطابق ہے جس سے پردہ ہٹا دیا گیا ہے۔ یہ راز بہت عرصے سے چھپا ہوا تھا 26 لیکن اب ظاہر ہو گیا ہے۔ اور یہ راز ابدی خدا کے حکم کے مطابق نبیوں کے صحیفوں کے ذریعے تمام قوموں کو بتایا گیا ہے تاکہ وہ خدا پر ایمان ظاہر کریں اور فرمانبردار ہوں۔ 27 ہمیشہ یسوع مسیح کے ذریعے اُس خدا کی بڑائی ہو جو حقیقی دانش‌مندی کا واحد سرچشمہ ہے۔ آمین۔‏

یونانی میں:‏ ”‏روح“‏

یونانی میں:‏ ”‏شخص کی جان“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یونانی میں:‏ ”‏ڈھانک“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یونانی میں:‏ ”‏مُہر“‏

یا شاید ”‏جو اُن چیزوں کو وجود دیتا ہے جن کا وجود نہیں ہے۔“‏

یا ”‏بانجھ“‏

یا شاید ”‏اور ہم خوش ہیں“‏

یا شاید ”‏بلکہ ہم اُس وقت بھی خوش ہوتے ہیں“‏

یا ”‏وہ بَری ہو گیا۔“‏

یعنی گُناہ مٹانے کے لیے

یونانی میں:‏ ”‏گُناہ“‏

یا ”‏جسم“‏

یا ”‏بیٹا بناتا“‏

یونانی میں:‏ ”‏روح“‏

یا ”‏بیٹا بنایا“‏

یا ”‏بیٹا بنایا“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یا ”‏نصیحت“‏

یا ”‏دیتا“‏

یا ”‏دے“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یعنی آپ اُس کے دل کو نرم کریں گے اور اُس کی سخت‌مزاجی کو پگھلا دیں گے۔‏

یونانی میں:‏ ”‏جان“‏

یونانی میں:‏ ”‏خوف“‏

یا ”‏بے‌شرم چال‌چلن۔“‏ یونانی لفظ:‏ ”‏اسیلگیا۔“‏ ”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یا شاید ”‏اگر وہ اُلجھن میں ہے“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یا ”‏نقصان‌دہ“‏

یا ”‏کا خیرمقدم“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یا ”‏تعلیم دینے“‏

یا شاید ”‏کچھ“‏

یونانی میں:‏ ”‏پھل“‏

یونانی میں:‏ ”‏میری جان“‏

یونانی میں:‏ ”‏پاک بوسے سے“‏

یا ”‏اپنے پیٹ“‏

یا ”‏ناظم“‏

متی 17:‏21 کے فٹ‌نوٹ کو دیکھیں۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں