17-23 اگست 2026ء
گیت نمبر 90 ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھائیں
ہم اپنے ہمایمانوں کے ساتھ دوستی قائم کیسے رکھ سکتے ہیں؟
”شفقت، ہمدردی، مہربانی، خاکساری، نرمی اور تحمل کا لباس پہنیں۔“—کُل 3:12۔
غور کریں کہ . . .
ہم اُس وقت کیا کر سکتے ہیں جب کچھ ایسا ہوتا ہے جس کی وجہ سے ہمارے لیے اپنی کلیسیا کے بہن بھائیوں کے ساتھ دوستی قائم رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔
1. ہمیں سچے دوست کہاں سے مل سکتے ہیں؟
اِس آخری زمانے میں زندگی گزارنا بہت ہی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ لیکن زندگی گزارنا خاص طور پر اُس وقت اَور بھی مشکل ہو جاتا ہے جب ہمارا کوئی سچا دوست نہیں ہوتا۔ یہوواہ یہ بات اچھی طرح سے جانتا ہے۔ اِسی لیے اُس نے ہمیں اپنے خاندان میں ایسے سچے دوست دیے ہیں جو کسی برکت سے کم نہیں۔ (زبور 119:63) ہم بہت خوش ہیں کہ ہم ایک ایسے خاندان کا حصہ ہیں جو یہوواہ کی عبادت کرتا ہے اور جس میں ہم سب ایک دوسرے سے پیار کرتے ہیں۔
2. ہم کس طرح کے دوست بننا چاہتے ہیں؟
2 ہم اپنے مسیحی بہن بھائیوں کے ساتھ صرف تھوڑی بہت دوستی نہیں کرنا چاہتے بلکہ ہم اُن کے پکے دوست بننا چاہتے ہیں۔ ہم ایک ایسے خاندان کا حصہ ہیں جو یہوواہ اور یسوع مسیح سے بہت پیار کرتا ہے اور یہی بات ہم سب کو ایک دوسرے سے متحد کرتی ہے۔ (یوح 13:35) لیکن ہماری اپنے ہمایمانوں کے ساتھ دوستی خود بخود نہیں ہو سکتی۔ ایسا کرنے کے لیے ہمیں محنت کرنے کی ضرورت ہے۔ چونکہ ہم عیبدار ہیں اِس لیے کبھی کبھار ہمارے بیچ ایسے مسئلے کھڑے ہو سکتے ہیں جن کی وجہ سے ہمارے لیے ایک دوسرے کے ساتھ دوستی قائم رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔
3. ہمارے لیے اپنے ہمایمانوں کے ساتھ دوستی قائم رکھنا مشکل کیوں ہو سکتا ہے؟
3 بےشک ہم اپنے کچھ ہمایمانوں کے زیادہ قریب ہوتے ہیں اور کچھ کے اِتنے قریب نہیں ہوتے۔ شاید ہم اپنے کچھ ہمایمانوں کے اِس لیے زیادہ قریب ہوں کیونکہ ہماری پسند ناپسند ایک جیسی ہے اور ہماری شخصیت ایک دوسرے سے ملتی جلتی ہے۔ لیکن ہو سکتا ہے کہ ہمیں کلیسیا میں کچھ بہن بھائیوں کے ساتھ دوستی قائم رکھنا مشکل لگے۔ شاید ہماری ایک دوسرے سے اَنبن ہو جائے جس کی وجہ سے ہمیں ایک دوسرے کے لیے محبت دِکھانا مشکل لگے۔ یا شاید ہماری شخصیت ایک دوسرے سے اِتنی فرق ہو کہ ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارنا مشکل لگے۔ اِس کے علاوہ ہمارے لیے اپنے ہمایمانوں کے ساتھ دوستی قائم رکھنا اُس وقت بھی بہت مشکل ہو سکتا ہے جب وہ کسی بیماری یا پریشانی سے لڑ رہے ہوتے ہیں۔ اِس مضمون میں ہم دیکھیں گے کہ ہم یسوع مسیح کی مثال پر عمل کرتے ہوئے اُس وقت بھی اپنے ہمایمانوں کے ساتھ دوستی کیسے قائم رکھ سکتے ہیں جب ہمیں مسئلوں کا سامنا ہوتا ہے۔ لیکن آئیے سب سے پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ ہم یہوواہ جیسی خوبیاں ظاہر کرنے سے اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ دوستی کیسے برقرار رکھ سکتے ہیں۔
یہوواہ جیسی خوبیاں ظاہر کرنے سے اپنی دوستی برقرار رکھیں
4. ہم ایک دوسرے کے ساتھ اپنی دوستی کیسے مضبوط کر سکتے ہیں؟
4 ہمیں اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ دوستی مضبوط کرنے کے لیے اُن میں اچھی خوبیاں دیکھنی چاہئیں۔ ایسا کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ ہم اُن کے ساتھ وقت گزاریں۔ پولُس رسول کی دلی خواہش تھی کہ وہ اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ رہیں۔ اِس لیے اُنہوں نے تھسلُنیکے میں رہنے والے مسیحیوں کو لکھا: ”ہم نے آپ سے ملنے کی بڑی کوشش کی کیونکہ آپ ہمیں بہت یاد آتے تھے۔“ (1-تھس 2:17) بہت سے بہن بھائیوں کو بھی یہ لگتا ہے کہ اپنے ہمایمانوں کے ساتھ وقت گزارنے سے وہ ایک دوسرے کے ساتھ اپنی دوستی مضبوط کر سکتے ہیں۔ ہمیں ایسا کرنے کے کئی موقعے اُس وقت ملتے ہیں جب ہم اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ مُنادی کرتے ہیں اور ایک دوسرے سے عبادتگاہ اور اِجتماعوں پر ملتے ہیں۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ جب ہمارے اور ہمارے کسی ہمایمان کے بیچ کوئی مسئلہ کھڑا ہو جاتا ہے تو صرف اُس کے ساتھ مُنادی یا عبادتوں پر ہونے سے ہی وہ مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔
5. ہم اُس وقت بھی کسی ایسے بھائی یا بہن کے ساتھ دوستی کیسے قائم رکھ سکتے ہیں جب ایسا کرنا مشکل ہوتا ہے؟ مثال دیں۔ (کُلسّیوں 3:12)
5 ہم یہوواہ جیسی خوبیاں ظاہر کرنے سے اپنے ہمایمانوں کے ساتھ اپنی دوستی کو ٹوٹنے سے بچا سکتے ہیں۔ (کُلسّیوں 3:12 کو پڑھیں۔) جب ہم ہمدردی، مہربانی، خاکساری اور تحمل جیسی خوبیاں ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ہمارے لیے اپنے آپسی مسئلوں سے نمٹنا اور ایک دوسرے کے ساتھ دوستی قائم رکھنا آسان ہو جاتا ہے۔ یہ خوبیاں بالکل گاڑی میں ڈالے جانے والے تیل کی طرح ہیں۔ جس طرح گاڑی میں تیل ڈالنے سے گاڑی کا انجن اچھی طرح سے چلتا ہے اُسی طرح یہوواہ جیسی خوبیاں ظاہر کرنے سے ہماری اپنے ہمایمانوں کے ساتھ دوستی اچھی چلتی ہے۔ مگر آئیے اب تین ایسے مسئلوں پر بات کرتے ہیں جن کی وجہ سے ہمارے لیے اپنے ہمایمانوں کے ساتھ دوستی قائم رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔ ایسا کرتے وقت ہم اِس بات پر غور کریں گے کہ ہم یسوع مسیح کی طرح خاکساری، صبر، مہربانی اور ہمدردی دِکھانے سے ایک دوسرے کے ساتھ سچی دوستی کیسے قائم رکھ سکتے ہیں۔
جب آپ اور آپ کے دوست کے بیچ اِختلاف ہو جاتا ہے
6. جب آپ کا اپنے کسی ہمایمان کے ساتھ اِختلاف ہو جاتا ہے تو آپ کے لیے اُس کا دوست بنے رہنا مشکل کیوں ہو سکتا ہے؟
6 یہ ایک مسئلہ کیوں ہے؟ جب دو لوگ ایک بات پر متفق نہیں ہوتے تو اُن دونوں کو ہی یہ لگ رہا ہوتا ہے کہ وہ جو سوچ رہے ہیں، بس وہی صحیح ہے۔ مثال کے طور پر فرض کریں کہ دو بھائی اِس بات پر متفق نہیں ہیں کہ اُن کے گروپ میں مُنادی کس طرح سے منظم کی جانی چاہیے۔ اُن دونوں کو ہی یہ لگ رہا ہے کہ جو طریقہ وہ سوچ رہے ہیں، وہی بہترین ہے۔ ایسی صورتحال میں ایک چھوٹی سی بات پر ہونے والا اِختلاف بہت بڑا مسئلہ بن سکتا ہے اور اُن دونوں بھائیوں کے لیے آگے چل کر اپنی دوستی کو قائم رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔ شاید اُن کی نظر میں اپنی بات کو صحیح ثابت کرنا ایک دوسرے سے دوستی قائم رکھنے سے زیادہ اہم بن جائے۔ اگر وہ دونوں کُھل کر مسئلے پر بات نہیں کریں گے اور ایک دوسرے سے متفق نہیں ہوں گے تو اُن کے دل میں ایک دوسرے کے لیے ناراضگی بڑھنے لگے گی۔ پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ ایک دوسرے سے اِتنے دُور ہو جائیں گے کہ اُن کی دوستی ہی ختم ہو جائے گی۔ اور اِس سب کی وجہ کیا بنی ہوگی؟ بس ایک چھوٹا سا مسئلہ!
7. یسوع مسیح نے اپنے شاگردوں کو یہ کیسے سکھایا کہ اِختلافات دُور کرنے کے لیے خاکساری سے کام لینا بہت ضروری ہے؟
7 یسوع مسیح کی طرح خاکساری ظاہر کریں۔ یسوع مسیح نے اپنے شاگردوں کو سکھایا کہ اِختلافات دُور کرنے کے لیے خاکساری سے کام لینا بہت ضروری ہے۔ شاگرد کئی بار اِس بات پر بحث کرتے تھے کہ اُن میں سے بڑا کون ہے۔ تو اُن کی سوچ کو ٹھیک کرنے کے لیے یسوع مسیح نے اپنے شاگردوں کو بتایا کہ اُنہیں دوسروں کو خود سے بڑا سمجھنا چاہیے۔ (متی 20:25-28) بےشک یسوع مسیح اُنہیں خاکسار بننے کی تعلیم دے رہے تھے۔ یسوع مسیح نے تو اپنی موت سے پہلے کی رات اپنے شاگردوں کے پاؤں دھو کر اُن کے لیے خاکساری کی ”مثال قائم کی۔“ یہ ایک ایسا کام تھا جو عام طور پر ایک غلام کِیا کرتا تھا۔ (یوح 13:3-5، 12-16) تو خاکساری سے کام لینے سے یسوع نے اپنے شاگردوں کو سکھایا کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ اپنی دوستی کیسے قائم رکھ سکتے ہیں۔ اگر وہ دوسروں کو خود سے بڑا سمجھیں گے تو جب کبھی اُن کے بیچ کسی بات کو لے کر اِختلاف ہوگا تو وہ لچکداری سے کام لے پائیں گے۔ وہ تو اُس وقت بھی ایک دوسرے کے پکے دوست بنے رہیں گے جب اُن کی رائے ایک دوسرے سے فرق ہوگی۔
8. خاکساری کی خوبی اُس وقت بھی اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ دوستی قائم رکھنے میں ہماری مدد کیسے کرے گی جب ہم میں اِختلاف ہو جاتا ہے؟ (کُلسّیوں 3:13) (تصویروں کو بھی دیکھیں۔)
8 آپ اپنے ہمایمانوں کے ساتھ دوستی کیسے قائم رکھ سکتے ہیں؟ اگر ہم خاکسار ہوں گے تو ہمارے لیے چھوٹے موٹے اِختلافات کو نظرانداز کرنا اور دل سے دوسروں کو معاف کرنا آسان ہوگا۔ (کُلسّیوں 3:13 کو پڑھیں۔) اِس کے علاوہ ہم اُس وقت غصے میں نہیں آئیں گے جب ہم دوسروں کی کسی بات سے متفق نہیں ہوں گے۔ اِس طرح ہم اُن کے ساتھ اپنی دوستی قائم رکھ پائیں گے۔ (زبور 4:4) اور اگر کبھی ہم ایک دوسرے سے دل دُکھانے والی باتیں کہہ جاتے ہیں تو ہم یاد رکھ سکتے ہیں کہ ہم سبھی کبھی نہ کبھی ایسی باتیں کر جاتے ہیں جس پر بعد میں ہمیں پچھتاوا ہوتا ہے۔ (واعظ 7:21، 22) تو خود سے پوچھیں: ”کیا میری نظر میں خود کو صحیح ثابت کرنا زیادہ ضروری ہے یا یہ کہ میری اپنے ہمایمان کے ساتھ دوستی برقرار رہے؟“ آپ اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ دوستی قائم رکھنے کے لیے اُن کی رائے کے مطابق ڈھلنے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔ اِس کے علاوہ ہر وقت اپنے آپسی اِختلافات کے بارے میں نہ سوچیں اور نہ ہی دوبارہ اِن کا ذکر کریں۔ اِس طرح آپ ذہنی سکون حاصل کر پائیں گے اور آگے بڑھ پائیں گے۔
خاکساری کی خوبی چھوٹے موٹے اِختلافات کو نظرانداز کرنے اور دل سے ایک دوسرے کو معاف کرنے میں آپ کی مدد کر سکتی ہے۔ (پیراگراف نمبر 8 کو دیکھیں۔)a
9. خاکساری کی خوبی اُس وقت آپ کے کام کیسے آ سکتی ہے جب اِختلافات دُور نہیں ہوتے؟ (اَمثال 17:9)
9 خاکساری کی خوبی اُس وقت بھی ہمارے کام آ سکتی ہے جب ہمارے لیے اِختلافات کو دُور کرنا آسان نہیں ہوتا۔ اِس بات پر بحث نہ کریں کہ آپ کی رائے صحیح ہے۔ (اَمثال 17:9 کو پڑھیں؛ 1-کُر 6:7) آپ کو یہ سوچ کر اپنے دوست سے بات کرنی چاہیے کہ آپ اُس کے ساتھ اپنی دوستی قائم رکھنا چاہتے ہیں۔ بہت سے بہن بھائیوں نے ایسا ہی کِیا ہے۔ اُنہوں نے مسئلے کو حل کرنے کے لیے بڑے پیار سے اپنے ہمایمان سے بات کی۔ (زبور 34:14) آپ اپنے ہمایمان سے بات کرتے وقت اُس سے کہہ سکتے ہیں: ”ہم کئی سالوں سے دوست ہیں۔ کیا ہم مل کر مسئلے پر بات کر سکتے ہیں؟“ اِس بات کے لیے بھی تیار رہیں کہ جہاں آپ سے غلطی ہوئی ہے، آپ اُسے تسلیم کریں اور معافی مانگیں۔ اور اگر آپ کا ہمایمان آپ سے معافی مانگتا ہے تو خاکساری سے اِسے قبول کریں۔ (لُو 17:3، 4) یاد رکھیں کہ آپ کا مقصد یہ ثابت کرنا نہیں ہے کہ کون صحیح ہے اور کون غلط بلکہ اِختلاف کو دُور کرنا اور دوستی برقرار رکھنا ہے۔—اَمثا 18:24۔
جب آپ کی اور آپ کے دوست کی شخصیت ایک دوسرے سے فرق ہوتی ہے
10. ہمارے لیے اَور کس وجہ سے ایک دوسرے کے ساتھ دوستی قائم رکھنا مشکل ہو سکتا ہے؟
10 یہ ایک مسئلہ کیوں ہے؟ شاید ہمیں اُن لوگوں کے ساتھ دوستی کرنا یا اِسے قائم رکھنا مشکل لگے جن کی سوچ یا شخصیت ہم سے فرق ہے۔ شاید کچھ بہن بھائیوں میں ایسی عادتیں ہیں جن سے ہمیں اُلجھن ہوتی ہے۔ یا شاید کچھ بہن بھائی اِس طرح کی باتیں کرتے ہیں جو ہمیں عجیب لگتی ہیں۔ شاید اِس کی وجہ یہ ہو کہ ماضی میں اُن کے ساتھ بُرا سلوک کِیا گیا تھا یا پھر وہ ایک ایسے ماحول میں پلے بڑھے ہیں جہاں یا تو لوگ کُھل کر اپنی رائے دیتے ہیں یا پھر اِس کے بالکل اُلٹ ہوتے ہیں یعنی وہ اپنے احساسات کے بارے میں زیادہ بات نہیں کرتے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ شاید ہم اپنے کسی ہمایمان سے فرق ہوں۔ شاید ہم میں سے ایک کو لوگوں کے ساتھ وقت گزارنا اچھا لگتا ہے جبکہ دوسرے کو اِتنا اچھا نہیں لگتا کیونکہ وہ شرمیلا ہے۔
11. یسوع مسیح اُن لوگوں کے ساتھ بھی دوستی کیسے قائم رکھ پائے جن کی شخصیت اُن سے فرق تھی؟
11 یسوع مسیح کی طرح صبر ظاہر کریں۔ یسوع مسیح نے اُن لوگوں کے ساتھ بھی اپنی دوستی قائم رکھی جن کی شخصیت اُن سے بالکل فرق تھی۔ مثال کے طور پر یعقوب اور یوحنا خود کو دوسروں سے بہت اہم سمجھتے تھے اِس لیے اُنہوں نے یسوع سے درخواست کی کہ وہ اُنہیں اپنی بادشاہت میں اُونچا رُتبہ دیں۔ (مر 10:35-37) لیکن یسوع بڑی خاکساری سے آسمان پر اپنا اُونچا رُتبہ اور اعزاز چھوڑ کر زمین پر آئے تھے۔ (فِل 2:5-8) تو یسوع مسیح اور یعقوب اور یوحنا کی سوچ ایک دوسرے سے بالکل فرق تھی۔ لیکن یسوع پھر بھی اُن کے اور دوسروں کے ساتھ صبر سے پیش آئے۔
12. کس چیز نے صبر سے اپنے دوستوں کے ساتھ پیش آنے میں یسوع کی مدد کی؟
12 یسوع مسیح نے کبھی بھی اپنے دوستوں سے یہ توقع نہیں کی کہ وہ ہمیشہ ہر بات کے بارے میں صحیح ہی سوچیں۔ وہ جانتے تھے کہ یعقوب اور یوحنا کی طرح اَور بھی بہت سے شاگردوں کی نظر میں اِختیار اور رُتبہ حاصل کرنا بہت اہم ہے۔ (مر 9:34) یسوع خود بھی ایک ایسی ثقافت اور ماحول میں پلے بڑھے تھے جہاں مذہبی رہنما اِن باتوں پر بہت زور دیتے تھے۔ اِس لیے یسوع مسیح سمجھ سکتے تھے کہ اُن کے شاگردوں کی سوچ ایسی کیوں ہے۔ مگر وہ پھر بھی اُن کے ساتھ صبر سے پیش آئے اور اُنہیں وقت دیا تاکہ وہ آہستہ آہستہ اپنے اندر سے غرور اور مقابلہبازی کی سوچ نکال سکیں جس نے کئی سالوں سے اُن کے دل میں گھر کِیا ہوا تھا۔—مر 10:42-45۔
13. صبر کی خوبی اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ دوستی قائم رکھنے میں ہماری مدد کیسے کرے گی؟ (اِفِسیوں 4:2)
13 آپ اپنے ہمایمانوں کے ساتھ دوستی کیسے قائم رکھ سکتے ہیں؟ اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ اَور زیادہ صبر سے پیش آئیں۔ اگر آپ کو اُن کی کسی بات یا عادت کی وجہ سے اُلجھن ہوتی ہے تو اِسے برداشت کرنے کی کوشش کریں۔ (اَمثا 14:29) ہم سبھی میں بہت سی ایسی عادتیں ہیں جو بُری نہیں ہیں؛ یہ بس ہماری شخصیت کا حصہ ہیں۔ بےشک ہم اُس وقت اپنے ہمایمانوں کے بہت شکرگزار ہوتے ہیں جب وہ ہماری ایسی عادتوں کو برداشت کرتے ہیں جو اُنہیں پسند نہیں ہیں۔ (اِفِسیوں 4:2 کو پڑھیں۔) تو ہمیں بھی اُن کی کچھ عادتوں کو برداشت کرنا چاہیے۔ مثال کے طور پر اگر ہم کسی شرمیلے شخص کو دیکھتے ہیں تو ہمیں سوچنا چاہیے کہ اُسے دوسروں کے ساتھ وقت گزارنے اور اُن سے باتچیت کرنے کے لیے کتنی کوشش کرنی پڑتی ہوگی۔ اور اگر ہم کسی ایسے شخص کو دیکھتے ہیں جو بہت باتیں کرتا ہے اور ہر وقت دوسروں کے ساتھ رہنا چاہتا ہے تو ہمیں اپنا صبر نہیں کھونا چاہیے۔ سچ ہے کہ ہم کچھ لوگوں کے زیادہ قریب ہوتے ہیں اور کچھ کے اِتنے زیادہ نہیں۔ لیکن ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ایسے مسیحی بھی مل کر کام کر سکتے ہیں جن کی شخصیت ایک دوسرے سے فرق ہوتی ہے۔
14. اگر ہم صبر سے کام لیں گے تو ہم کس بات پر اپنا دھیان رکھ پائیں گے؟
14 صبر کی خوبی کی وجہ سے ہم اپنے بہن بھائیوں کی خوبیوں پر دھیان رکھ پائیں گے۔ ایسا کرنے سے ہم یہ نہیں سوچیں گے کہ ایک دوسرے سے فرق ہونے کی وجہ سے ہم آپس میں دوستی نہیں کر سکتے۔ مثال کے طور پر یعقوب اور یوحنا دوسروں سے زیادہ اہم اور مشہور ہونا چاہتے تھے جس کی وجہ سے اُنہوں نے بادشاہت میں اُونچا رُتبہ حاصل کرنے کی درخواست کی۔ لیکن اُن کی اِس درخواست سے یہ بات ثابت ہوئی کہ وہ بادشاہت کے آنے پر پکا ایمان رکھتے تھے۔ یسوع مسیح نے بھی اِسی بات پر دھیان دیا اور اُن کے ایمان کے لیے اُن کی تعریف کی۔ تو جب ہم اپنے دوستوں کی اچھائی پر غور کرتے ہیں تو ہم بھی یسوع مسیح اور اُن کے باپ یہوواہ کی مثال پر عمل کر رہے ہوتے ہیں۔
15. جب ہمیں اپنے اُن بہن بھائیوں کے ساتھ دوستی قائم رکھنا مشکل لگتا ہے جن کی شخصیت ہم سے فرق ہے تو ہم کس سے مدد لے سکتے ہیں؟
15 جن بہن بھائیوں کی شخصیت ہم سے فرق ہے، اُن کے ساتھ دوستی قائم رکھنے کے لیے یہ بہت ضروری ہے کہ ہم یہوواہ سے دُعا میں مدد مانگیں۔ پہلے سے اُن صورتحال کے بارے میں سوچیں جن میں آپ اپنے کسی ہمایمان کی بات کی وجہ سے بیزار ہو سکتے ہیں اور پھر اِس بارے میں دُعا کریں کہ جب ایسا ہوتا ہے تو یہوواہ پُرسکون رہنے میں آپ کی مدد کرے۔ یاد رکھیں کہ ہمارا خالق یہوواہ جانتا ہے کہ ایک دوسرے سے فرق ہونے کی وجہ سے ہمیں کن مسئلوں کا سامنا ہو سکتا ہے۔ اِس لیے جب آپ اُس سے دُعا کرتے ہیں تو اِس بات کا یقین رکھیں کہ وہ آپ کو بہت اچھی طرح سے جانتا ہے اور اُسے پتہ ہے کہ آپ کو کس طرح کی مدد کی ضرورت ہے۔ اور جب آپ کو لگتا ہے کہ آپ کے لیے صبر سے کام لینا مشکل ہو رہا ہے تو یہوواہ سے اُس کی پاک روح مانگیں تاکہ آپ خود پر قابو رکھ سکیں۔—لُو 11:13؛ گل 5:22، 23۔
جب ہمارے بہن بھائی تکلیف میں ہوتے ہیں
16. جب ہمارے بہن بھائی کسی طرح کی تکلیف سے گزر رہے ہوتے ہیں تو ہمیں کس مسئلے کا سامنا ہو سکتا ہے؟
16 یہ ایک مسئلہ کیوں ہے؟ جب ہمارے بہن بھائی کسی بیماری سے لڑ رہے ہوتے ہیں یا کسی اَور وجہ سے پریشان ہوتے ہیں تو شاید ہمیں اُن کے ساتھ پیار سے پیش آنا مشکل لگے۔ مثال کے طور پر شاید وہ اکیلے رہنا چاہیں یا ہم سے بات کرنا چھوڑ دیں یا پھر ہماری کسی بات کی وجہ سے فوراً ناراض ہو جائیں یا پھر کوئی ایسا کام کر جائیں جس کی ہم نے توقع بھی نہیں کی تھی۔ سچ ہے کہ اُن کی باتوں یا کاموں کی وجہ سے ہمیں تکلیف پہنچ سکتی ہے۔ (ایو 6:2، 3) لیکن ہو سکتا ہے کہ ہمارے بہن بھائی کسی ایسے مسئلے کا سامنا کر رہے ہوں جس کے بارے میں ہمیں نہیں پتہ۔ اِس لیے شاید اُن کے لیے اُس طرح سے بات کرنا مشکل ہو جس طرح سے اُنہیں ہم سے کرنی چاہیے۔
17. یسوع مسیح جس طرح سے برتمائی نام کے آدمی کے ساتھ پیش آئے، اُس سے ہم کیا سیکھتے ہیں؟
17 یسوع مسیح کی طرح مہربانی اور ہمدردی ظاہر کریں۔ یسوع مسیح نے اُن لوگوں کے لیے بڑی ہمدردی دِکھائی جو تکلیف میں تھے، یہاں تک کہ اُن لوگوں کے لیے بھی جن سے وہ پہلے کبھی ملے بھی نہیں تھے۔ مثال کے طور پر غور کریں کہ وہ برتمائی نام کے آدمی کے ساتھ کیسے پیش آئے تھے جو اندھا تھا۔ جب برتمائی نے سنا کہ یسوع راستے سے گزر رہے ہیں تو اُس نے یسوع کی توجہ حاصل کرنے کے لیے زور زور سے اُنہیں بُلانا شروع کر دیا۔ اِس پر کچھ لوگوں نے برتمائی کو چپ رہنے کے لیے کہا۔ لیکن وہ یسوع سے شفا پانے کے لیے اِتنا بےتاب تھا کہ وہ اَور بھی زور سے اُنہیں پکارنے لگا۔ کیا کچھ لوگوں کو برتمائی کی حرکت عجیب لگی ہوگی یا اُنہیں اُس پر غصہ آیا ہوگا؟ شاید ہاں۔ لیکن ”یسوع کو[اُس]پر بڑا ترس آیا۔“ یسوع کو برتمائی کی حالت کو دیکھ کر اِتنا دُکھ ہوا کہ وہ اُس کی مدد کرنا چاہتے تھے۔ (متی 20:34؛ مر 10:46-52) یسوع نے بڑے پیار سے اُس سے بات کی اور اُس کے ایمان کے لیے اُس کی تعریف کی۔ اِس کے بعد یسوع نے برتمائی کے لیے معجزہ کِیا اور برتمائی پھر سے دیکھنا لگا۔
18. آپ کو اپنے اُن دوستوں کے ساتھ کیسے پیش آنا چاہیے جو کسی تکلیف سے گزر رہے ہیں؟ (1-تھسلُنیکیوں 5:14)
18 آپ اپنے ہمایمانوں کے ساتھ دوستی کیسے قائم رکھ سکتے ہیں؟ اُن کے ساتھ مہربانی اور ہمدردی سے پیش آئیں۔ اِن خوبیوں کی مدد سے آپ اپنے اُن بہن بھائیوں کو تسلی دے پائیں گے جو کسی بیماری سے لڑ رہے ہیں یا پریشانی کا سامنا کر رہے ہیں۔ (1-تھسلُنیکیوں 5:14 کو پڑھیں۔) یاد رکھیں کہ ایک اچھا دوست مدد کرنے کے لیے تیار رہتا ہے، خاص طور پر ”مصیبت کی گھڑی میں۔“ (اَمثا 17:17) ایسا دوست نہ صرف اپنے دوستوں کو تکلیف میں دیکھ کر اُن کے لیے ہمدردی دِکھاتا ہے بلکہ وہ اُنہیں اپنی باتوں سے تسلی دیتا ہے اور اُن کی مدد کرنے کی بھی کوشش کرتا ہے۔
19. ہم ایک دوسرے کے ساتھ مہربانی اور ہمدردی سے کیسے پیش آ سکتے ہیں؟ (تصویروں کو بھی دیکھیں۔)
19 آپ کن طریقوں سے اپنے ہمایمانوں کے ساتھ مہربانی اور ہمدردی سے پیش آ سکتے ہیں؟ سچ ہے کہ آپ اُن کی تکلیف کو دُور نہیں کر سکتے لیکن آپ اُن کے درد اور اُن کی صورتحال کو سمجھنے کی کوشش ضرور کر سکتے ہیں۔ (متی 7:12؛ 1-پطر 3:8) تو جب آپ کا کوئی ہمایمان آپ کو اپنے احساسات بتاتا ہے تو اِنہیں دھیان سے سنیں۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کو کچھ کہنا چاہیے تو ایسے لفظ چُنیں جن سے اُسے تسلی مل سکے۔ (اَمثا 12:25) اِس بات کا بھی خیال رکھیں کہ آپ یہ نہ سوچیں کہ آپ کو اُس کی صورتحال کے بارے میں سب کچھ پتہ ہے۔ (اَمثا 18:13) اُس کے ساتھ صبر سے پیش آنے کی کوشش کریں اور اُس سے یہ توقع نہ کریں کہ وہ کوئی غلطی نہ کرے۔—اِفِس 4:32۔
سچے دوست ہمدردی اور مہربانی سے پیش آنے سے ایک دوسرے کو تسلی دیتے ہیں۔ (پیراگراف نمبر 19 کو دیکھیں۔)
20. آپ کس طرح کے دوست بننا چاہتے ہیں؟
20 ہمیں یہوواہ کی تنظیم میں ایسے سچے دوست ملے ہیں جن کی ہم دل سے قدر کرتے ہیں۔ لیکن ہم سب عیبدار ہیں اور ہم میں سے زیادہتر کے ساتھ شاید زندگی میں بہت بُرا ہوا ہے۔ اِسی لیے ہم سب کبھی نہ کبھی ایسی باتیں کر جاتے ہیں جن سے دوسروں کو تکلیف پہنچتی ہے۔ لیکن جب ہمارے بہن بھائی ہمارے ساتھ خاکساری، مہربانی، صبر اور ہمدردی سے پیش آتے ہیں تو ہم اُن کے بہت شکرگزار ہوتے ہیں اور ہمیشہ تک اُن کے دوست بنے رہنا چاہتے ہیں۔ آئیے ہم بھی یہی خوبیاں ظاہر کرنے اور دوسروں کے لیے اِسی طرح کے دوست ثابت ہونے کی پوری کوشش کریں!
گیت نمبر 124 وفادار ہوں
a تصویر کی وضاحت: ایک بوڑھا بھائی اور ایک جوان بھائی اِس بارے میں فرق رائے رکھتے ہیں کہ کلیسیا کے علاقے میں مُنادی کے کام کو کس طرح سے منظم کِیا جانا چاہیے۔ بعد میں وہ دونوں خوشی سے مل کر مُنادی کر رہے ہیں۔