یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م25 دسمبر ص.‏ 14-‏19
  • یہوواہ کی طرح فروتن بنیں

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • یہوواہ کی طرح فروتن بنیں
  • مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2025ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • یہوواہ ہمیشہ ہماری بات سننے کو تیار رہتا ہے
  • یہوواہ صورتحال کے مطابق ڈھلنے کو تیار رہتا ہے
  • یہوواہ صبر سے کام لیتا ہے
  • یہوواہ خاکسار لوگوں کو توجہ دیتا ہے
  • یہوواہ اور یسوع کی طرح سوچیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2025ء
  • خاکساری سے تسلیم کریں کہ آپ سب باتوں کو نہیں جانتے
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2025ء
  • اُس خوشی کو محسوس کریں جو دوسروں کو دینے سے ملتی ہے
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2024ء
  • خود میں خاکساری کی خوبی پیدا کریں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2005ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2025ء
م25 دسمبر ص.‏ 14-‏19

مطالعے کا مضمون نمبر 50

گیت نمبر 48 ہر روز خدا کی رہنمائی پر چلیں

یہوواہ کی طرح فروتن بنیں

‏”‏پیارے بچوں کی طرح خدا کی مثال پر عمل کریں۔“‏‏—‏اِفِس 5:‏1‏۔‏

غور کریں کہ ‏.‏ ‏.‏ ‏.‏

ہم کن چار طریقوں سے یہوواہ کی طرح فروتنی دِکھا سکتے ہیں۔‏

1.‏ آپ کو یہوواہ کی فروتنی کے حوالے سے کون سی بات زبردست لگتی ہے؟‏

جب آپ دُنیا کے حکمرانوں کے بارے میں سوچتے ہیں جن کے پاس بہت طاقت اور اِختیار ہے تو کیا آپ اُن کے بارے میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ خاکسار ہیں؟ شاید نہیں۔ لیکن لامحدود طاقت کا مالک یہوواہ بہت ہی فروتن ہے۔ (‏زبور 113:‏5-‏8‏)‏ پوری کائنات میں یہوواہ سے زیادہ فروتن اَور کوئی نہیں۔ وہ غرور سے بالکل پاک ہے۔ اِس مضمون میں ہم یہوواہ کی شان‌دار ہستی کے چار پہلوؤں پر غور کریں گے اور دیکھیں گے کہ اِن میں سے ہر پہلو سے یہوواہ کی فروتنی کیسے نظر آتی ہے۔ اِس کے علاوہ ہم یہ بھی دیکھیں گے کہ یسوع مسیح نے اپنے باپ کی طرح فروتنی کیسے دِکھائی۔ اِن سب باتوں پر غور کرنے سے ہم یہوواہ کے اَور قریب ہو پائیں گے اور اُس کی طرح اَور زیادہ فروتن بن پائیں گے۔‏

یہوواہ ہمیشہ ہماری بات سننے کو تیار رہتا ہے

2.‏ زبور 62:‏8 سے ہمیں یہوواہ کے بارے میں کیا پتہ چلتا ہے؟ (‏تصویر کو بھی دیکھیں۔)‏

2 عام طور پر لوگوں کو کسی مغرور شخص سے بات کرنا بہت مشکل لگتا ہے۔ ایک مغرور شخص کا دل غرور سے اِتنا پھولا ہوتا ہے کہ وہ دوسروں کو اپنے سامنے کچھ نہیں سمجھتا اور اِس وجہ سے لوگ اُس سے بات کرنے سے کتراتے ہیں۔ لیکن ذرا یہوواہ کے بارے میں سوچیں جس میں رتی بھر بھی غرور نہیں۔ ہمارا آسمانی باپ اِتنا فروتن ہے کہ وہ خود ہمیں اپنے پاس آنے کو کہتا ہے اور چاہتا ہے کہ ہم اُس کے سامنے اپنے دل کا بوجھ ہلکا کریں۔ ‏(‏زبور 62:‏8 کو پڑھیں۔)‏ جس طرح ایک شفیق باپ اپنے بچوں کی پریشانیاں سننے کو تیار رہتا ہے اُسی طرح یہوواہ اپنے بندوں کی دُعائیں سننے کو تیار رہتا ہے۔ اِس بات کا ثبوت ہمیں اُن دُعاؤں کو پڑھنے سے ملتا ہے جو یہوواہ نے اپنے کلام میں لکھوائی ہیں۔ (‏یشو 10:‏12-‏14؛‏ 1-‏سمو 1:‏10-‏18‏)‏ لیکن اگر کبھی کبھار ہمیں لگتا ہے کہ ہم دُعا میں یہوواہ کے حضور جانے کے لائق نہیں ہیں تو پھر ہمیں کیا کرنا چاہیے؟‏

ایک بچہ اپنے باپ کو بتا رہا ہے کہ اُس سے کھیلتے ہوئے گلدان ٹوٹ گیا ہے۔ باپ بڑے پیار اور صبر سے اپنے بیٹے کی بات سُن رہا ہے۔‏

یہوواہ کی مثال پر عمل کرتے ہوئے ایک باپ بڑی خاکساری سے اپنے بیٹے کی بات سُن رہا ہے جس نے کھیلتے ہوئے گلدان توڑ دیا ہے۔ (‏پیراگراف نمبر 2 کو دیکھیں۔)‏


3.‏ ہم یہ بات اِتنے یقین سے کیوں کہہ سکتے ہیں کہ یہوواہ چاہتا ہے کہ ہم باقاعدگی سے اُس سے دُعا کریں؟‏

3 اگر ہمیں لگتا ہے کہ ہم یہوواہ کی محبت کے لائق نہیں ہیں تو بھی ہمیں اُس سے دُعا کرنے سے نہیں ہچکچانا چاہیے۔ کیوں؟ ذرا یسوع کی اُس مثال پر غور کریں جس میں ایک بیٹا سیدھی راہ سے بھٹک گیا تھا۔ یسوع نے یہوواہ کو اِس مثال میں بتائے گئے شفیق باپ کی طرح کہا۔ اُس کے بیٹے نے اِتنی غلطیاں کی تھیں کہ بیٹے کو لگ رہا تھا کہ اب اُس کا باپ اُسے کبھی نہیں اپنائے گا۔ لیکن جب وہ بیٹا اپنے گھر واپس لوٹا تو اُس کے باپ نے کیا کِیا؟ یسوع نے کہا کہ جیسے ہی باپ کی نظر اپنے بیٹے پر پڑی، ”‏وہ بھاگا بھاگا گیا اور[‏اُسے]‏گلے لگا لیا اور بڑے پیار سے چُومنے لگا۔“‏ (‏لُو 15:‏17-‏20‏)‏ یہوواہ بالکل اِس باپ کی طرح ہے۔ جیسے ہی وہ اپنے کسی ایسے بندے کی فریاد سنتا ہے جس کا دل پریشانی یا پچھتاوے کے بوجھ سے کچل گیا ہے تو وہ بڑے دھیان سے اُس کی بات سنتا ہے۔ (‏نوحہ 3:‏19، 20‏)‏ اُس کا دل اُس کے لیے ہمدردی سے بھر جاتا ہے اور وہ ایک طرح سے بھاگ کر اُسے اپنی محبت اور رحم کا احساس دِلاتا ہے۔ (‏یسع 57:‏15‏)‏ یہوواہ آج بھاگ کر ہماری مدد کرنے کو کیسے آتا ہے؟ وہ ایسا اکثر بزرگوں، ہمارے ہم‌ایمان رشتے‌داروں اور کلیسیا کے بہن بھائیوں کے ذریعے کرتا ہے۔ (‏یعقو 5:‏14، 15‏)‏ یہوواہ ہماری مدد اِس لیے کرتا ہے کیونکہ وہ چاہتا ہے کہ ہم اُس کے قریب رہیں۔‏

4.‏ لوگوں کے لیے یسوع مسیح سے بات کرنا اِتنا آسان کیوں تھا؟‏

4 یسوع نے اپنے باپ کی مثال پر عمل کِیا۔‏ یسوع اپنے آسمانی باپ کی طرح فروتن ہیں۔ اِس لیے جب وہ زمین پر تھے تو لوگ بڑی آسانی سے اُن کے پاس جا کر اُن سے بات کر لیتے تھے۔ لوگ تو بِلاجھجک اُن سے سوال بھی کرتے تھے۔ (‏مر 4:‏10، 11‏)‏ اور جب یسوع مسیح کسی معاملے کے بارے میں لوگوں کی رائے جاننا چاہتے تھے تو لوگ کُھل کر اُنہیں اپنے دل کی بات بتاتے تھے۔ (‏متی 16:‏13-‏16‏)‏ اِس کے علاوہ جب لوگوں سے غلطیاں ہو جاتی تھیں تو وہ اِس بات سے نہیں ڈرتے تھے کہ یسوع اُن پر بھڑک اُٹھیں گے۔ اِس کی بجائے وہ جانتے تھے کہ یسوع بہت ہی رحم‌دل اور صبر سے کام لینے والے اِنسان ہیں۔ (‏متی 17:‏24-‏27‏)‏ چونکہ یسوع نے اپنے باپ کی مثال پر پوری طرح سے عمل کِیا اِس لیے اُن کے پیروکار یہوواہ کو اچھی طرح سے جان پائے۔ (‏یوح 14:‏9‏)‏ وہ یہ جان گئے کہ یہوواہ اُن کے زمانے کے مذہبی رہنماؤں کی طرح سنگ‌دل، مغرور اور بے‌حس نہیں ہے بلکہ وہ بہت ہی فروتن ہے اور اُن کے قریب آنا چاہتا ہے۔‏

5.‏ اگر ہم خاکسار ہوں گے تو دوسروں کے لیے ہم سے بات کرنا آسان کیوں ہوگا؟‏

5 ہم یہوواہ کی مثال پر کیسے عمل کر سکتے ہیں؟‏ جتنا زیادہ ہم خاکسار بنیں گے اُتنا ہی زیادہ لوگ کُھل کر ہم سے بات کریں گے۔ اگر ہم خاکسار نہیں ہوں گے تو ہم دوسروں سے حسد کرنے لگیں گے، خود کو اُن سے بہتر سمجھیں گے اور اگر کوئی ہمارا دل دُکھائے گا تو ہم اُسے معاف کرنے کو تیار نہیں ہوں گے۔ اور جب لوگ ہم میں یہ باتیں دیکھیں گے تو وہ ہم سے بات کرنے سے کترائیں گے۔ (‏کُل 3:‏12-‏14‏)‏ خاص طور پر کلیسیا کے بزرگوں کو اِس بات کا خاص خیال رکھنا چاہیے کہ کلیسیا کے بہن بھائی اُن کے پاس آنے اور بات کرنے سے نہ گھبرائیں۔ بے‌شک ایسا کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ بہن بھائیوں کو نظر بھی آئیں۔ اِس کا مطلب ہے کہ جہاں تک اُن سے ہو سکتا ہے، وہ اِجلاس کو آن‌لائن سننے کی بجائے عبادت‌گاہ میں جا کر سنیں۔ اور جب بھی ممکن ہو، وہ بہن بھائیوں کے ساتھ مل کر گھر گھر مُنادی کریں۔ جتنا زیادہ بہن بھائی ایک بزرگ کو اچھی طرح سے جانیں گے اُتنا ہی زیادہ اُن کے لیے اُس بزرگ کے ساتھ کُھل کر بات کرنا آسان ہوگا، خاص طور پر اُس وقت جب اُنہیں اِس کی ضرورت ہوگی۔‏

یہوواہ صورتحال کے مطابق ڈھلنے کو تیار رہتا ہے

6-‏7.‏ جب یہوواہ کے بندوں نے اُس سے دُعا کی تو یہوواہ نے یہ کیسے ظاہر کِیا کہ وہ اُن کی درخواستوں کے مطابق خود کو ڈھالنے کو تیار تھا؟ مثالیں دیں۔‏

6 مغرور لوگوں کو اکثر لگتا ہے کہ جو کچھ وہ سوچ رہے ہیں، بس وہی ٹھیک ہے اور وہ کسی بھی صورت میں اپنا فیصلہ نہیں بدلیں گے۔ لیکن یہوواہ ایسا نہیں ہے حالانکہ اُسے ہمیشہ پتہ ہوتا ہے کہ کیا ٹھیک رہے گا۔ چونکہ یہوواہ فروتن ہے اِس لیے وہ دوسروں کی رائے سننے کو تیار رہتا ہے اور کبھی کبھار تو اِس کے مطابق اپنا فیصلہ بھی بدل لیتا ہے۔ اِس حوالے سے ذرا اُس واقعے پر غور کریں جب موسیٰ کی بہن مریم اور اُن کے بھائی ہارون موسیٰ کے خلاف باتیں کرنے لگے تھے۔ موسیٰ یہوواہ کے نمائندے تھے۔ تو موسیٰ کے خلاف باتیں کرنے سے دراصل مریم یہوواہ کے لیے احترام نہیں دِکھا رہی تھیں۔ اِس وجہ سے یہوواہ کو مریم پر بہت غصہ آیا اور اُس نے اُنہیں کوڑھ کی بیماری لگا دی۔ لیکن جب ہارون نے موسیٰ سے مدد کے لیے اِلتجا کی اور موسیٰ نے یہوواہ سے مِنت کی کہ وہ اُن کی بہن کو ٹھیک کر دے تو یہوواہ نے کیا کِیا؟ اگر کوئی مغرور شخص ہوتا تو وہ اپنا فیصلہ کبھی نہ بدلتا۔ لیکن چونکہ یہوواہ فروتن ہے اِس لیے اُس نے موسیٰ کی بات سنی اور اپنا فیصلہ بدل کر مریم کو شفا دی۔—‏گن 12:‏1-‏15۔‏

7 ذرا حِزقیاہ بادشاہ کے بارے میں بھی سوچیں۔ جس طرح سے یہوواہ اُن کے ساتھ پیش آیا، اُس سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ یہوواہ کتنا فروتن ہے۔ یہوواہ نے اپنے نبی کے ذریعے حِزقیاہ کو بتایا کہ وہ فوت ہو جائیں گے۔ یہ سُن کر حِزقیاہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے اور اُنہوں نے اپنی بیماری سے شفا پانے کے لیے یہوواہ سے اِلتجا کی۔ حِزقیاہ کی اِلتجا سُن کر یہوواہ کو اُن پر رحم آیا اور اُس نے اُن کی زندگی 15 سال اَور بڑھا دی۔ (‏2-‏سلا 20:‏1،‏ 5، 6‏)‏ فروتنی کی وجہ سے ہی یہوواہ نے حِزقیاہ کے لیے ہمدردی دِکھائی اور اُن کی بات مانی۔‏

8.‏ کن باتوں سے پتہ چلتا ہے کہ یسوع صورتحال کے مطابق ڈھلنے کو تیار رہتے ہیں؟ (‏مرقس 3:‏1-‏6‏)‏

8 یسوع نے اپنے باپ کی مثال پر عمل کِیا۔‏ یسوع کو جب بھی لگا کہ لوگوں کو مدد کی ضرورت ہے تو وہ اُن کے ساتھ اچھائی کرنے سے پیچھے نہیں ہٹے۔ مثال کے طور پر یسوع مذہبی رہنماؤں کے اِعتراض کے باوجود لوگوں کو سبت کے دن شفا دیتے تھے کیونکہ وہ مذہبی رہنماؤں کی طرح ظالم اور سخت نہیں تھے۔ وہ بہت رحم‌دل تھے اور لوگوں کی صورتحال کے مطابق ڈھلنے کو تیار رہتے تھے۔ ‏(‏مرقس 3:‏1-‏6 کو پڑھیں۔)‏ یسوع آج بھی ایسے ہی ہیں اور وہ مسیحی کلیسیا کی پیشوائی کرتے وقت بھی اُس کے ساتھ اِسی طرح سے پیش آتے ہیں۔ مثال کے طور پر جب کلیسیا میں کوئی مسیحی سنگین گُناہ کرتا ہے تو وہ اُس کے ساتھ صبر سے پیش آتے ہیں اور اُسے بدلنے کا موقع دیتے ہیں۔—‏مُکا 2:‏2-‏5‏۔‏

9.‏ ہم اپنی سوچ اور کاموں سے لچک‌داری کیسے ظاہر کر سکتے ہیں؟ (‏تصویروں کو بھی دیکھیں۔)‏

9 ہم یہوواہ کی مثال پر کیسے عمل کر سکتے ہیں؟‏ یہوواہ کی طرح ہمیں بھی اپنی سوچ اور کاموں سے ’‏لچک‌داری‘‏ ظاہر کرنی چاہیے۔ (‏یعقو 3:‏17‏، فٹ‌نوٹ)‏ مثال کے طور پر جو ماں باپ یہوواہ کی مثال پر عمل کرتے ہیں، وہ کبھی بھی اپنے بچوں سے یہ توقع نہیں کرتے کہ وہ بڑوں والے کام کریں۔ اِس کی ایک بہت اچھی مثال یعقوب ہیں جنہوں نے اپنے چھوٹے بچوں کا لحاظ رکھا۔ (‏پید 33:‏12-‏14‏)‏ جو ماں باپ خاکسار ہوتے ہیں، وہ اپنے ایک بچے کا موازنہ اپنے دوسرے بچے سے نہیں کرتے۔ کلیسیا کے بزرگوں کو بھی صورتحال کے حساب سے ڈھلنے کو تیار ہونا چاہیے۔ مثال کے طور پر اگر ایک معاملے میں بائبل کا کوئی اصول نہیں ٹوٹ رہا ہوتا تو ایک بزرگ کو اپنی بات منوانے کی بجائے اُس فیصلے کی حمایت کرنی چاہیے جس سے بزرگوں کی جماعت کے زیادہ‌تر بزرگ متفق ہیں۔ (‏1-‏تیم 3:‏2، 3‏)‏ اِس کے علاوہ ہم سبھی کو دوسروں کی سوچ اور نظریے کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے، بھلے ہی ہم معاملے کو بالکل فرق نظر سے دیکھتے ہوں۔ (‏روم 14:‏1‏)‏ بے‌شک کلیسیا میں ہم سبھی کی یہ کوشش ہونی چاہیے کہ ’‏ہماری سمجھ‌داری[‏”‏لچک‌داری،“‏ فٹ‌نوٹ]‏سب لوگوں کو دِکھائی دے۔‘‏—‏فِل 4:‏5‏۔‏

تصویروں کا مجموعہ:‏ ایک باپ بڑی خوشی سے اپنے بچوں کے ساتھ گھر گھر مُنادی کر رہا ہے۔ 1.‏ وہ بڑے پیار سے اپنے بیٹے کو دیکھ رہا ہے جو ایک آدمی کو قاعدہ ”‏خوشیوں بھری زندگی“‏ دے رہا ہے۔ 2.‏ بعد میں وہ اپنی بیٹی کو بھی بڑے پیار سے دیکھ رہا ہے جو ایک عورت کو jw.org والا رابطے کا کارڈ دے رہی ہے۔‏

مُنادی کرتے ہوئے ایک باپ اپنے بچوں سے صرف اُسی کام کی توقع کر رہا ہے جو اُس کے بچے کر سکتے ہیں۔ (‏پیراگراف نمبر 9 کو دیکھیں۔)‏


یہوواہ صبر سے کام لیتا ہے

10.‏ یہوواہ نے کن طریقوں سے صبر ظاہر کِیا؟‏

10 شاید آپ نے دیکھا ہوگا کہ مغرور لوگوں کو اِنتظار کرنا بالکل پسند نہیں ہوتا۔ غرور اُنہیں بے‌صبرا بنا دیتا ہے۔ لیکن یہوواہ اِس کے بالکل اُلٹ ہے!‏ یہوواہ سے زیادہ صبر کرنے والا اَور کوئی نہیں!‏ مثال کے طور پر نوح کے زمانے میں یہوواہ نے کہا کہ وہ بُرے لوگوں کو ہلاک کرنے سے پہلے 120 سال اِنتظار کرے گا۔ (‏پید 6:‏3‏)‏ اِس دوران نوح کو اپنے بچوں کی پرورش کرنے اور اپنے گھرانے کے ساتھ مل کر کشتی بنانے کا وقت مل گیا۔ اور ذرا اُس واقعے پر بھی غور کریں جب اَبراہام نے یہوواہ کے فرشتے سے سدوم اور عمورہ کی تباہی کے بارے میں سوال کیے تھے۔ اگر کوئی مغرور شخص ہوتا تو وہ یہ سوال سُن کر کہتا:‏ ”‏تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھ سے سوال پوچھنے کی؟“‏ لیکن یہوواہ کے فرشتے نے یہوواہ کی مثال پر عمل کرتے ہوئے بڑے صبر سے اَبراہام کی بات سنی۔—‏پید 18:‏20-‏33‏۔‏

11.‏ دوسرا پطرس 3:‏9 کے مطابق یہوواہ ہمارے زمانے میں صبر سے کام کیوں لے رہا ہے؟‏

11 یہوواہ ہمارے زمانے میں بھی بڑے صبر سے کام لے رہا ہے۔ اُس نے اِس بُری دُنیا کو ختم کرنے کے لیے جو وقت مقرر کِیا ہے، وہ اُس کے آنے کا اِنتظار کر رہا ہے۔ وہ اِس لیے ”‏صبر سے کام لے رہا ہے کیونکہ وہ نہیں چاہتا کہ کوئی بھی شخص ہلاک ہو بلکہ وہ چاہتا ہے کہ سب لوگ توبہ کریں۔“‏ ‏(‏2-‏پطرس 3:‏9 کو پڑھیں۔)‏ کیا یہوواہ کے صبر کرنے کا کوئی فائدہ ہو رہا ہے؟ بالکل!‏ لاکھوں لوگ اُس کے قریب آ چُکے ہیں اور ہمیں اُمید ہے کہ ابھی اَور بھی بہت سے لوگ اُس کے قریب آئیں گے۔ لیکن ایسا بھی نہیں ہے کہ یہوواہ ہمیشہ صبر کرتا رہے گا۔ بے‌شک یہوواہ کو لوگوں سے بہت محبت ہے لیکن اِس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ ہمیشہ تک بُرائی کو برداشت کرتا رہے گا۔ وہ وقت آنے پر بُرائی کا خاتمہ کر دے گا۔—‏حبق 2:‏3۔‏

12.‏ یسوع مسیح یہوواہ کی مثال پر عمل کرتے ہوئے صبر سے کام کیسے لے رہے ہیں؟‏

12 یسوع نے اپنے باپ کی مثال پر عمل کِیا۔‏ یسوع مسیح ہزاروں سال سے یہوواہ کی مثال پر عمل کرتے ہوئے صبر سے کام لیتے آ رہے ہیں۔ مثال کے طور پر اُنہوں نے دیکھا تھا کہ شیطان نے کس طرح سے یہوواہ اور اُس کے وفادار بندوں پر جھوٹے اِلزام لگائے تھے۔ (‏پید 3:‏4، 5؛‏ ایو 1:‏11؛‏ مُکا 12:‏10‏)‏ اِس کے علاوہ یسوع نے دیکھا ہے کہ بہت سے اِنسانوں کو کتنی تکلیفوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ذرا سوچیں کہ یسوع مسیح کا کتنا دل چاہتا ہوگا کہ وہ ”‏اِبلیس کے کاموں کو ختم“‏ کر دیں۔ (‏1-‏یوح 3:‏8‏)‏ لیکن کون سی چیز اُن کی مدد کرتی ہے تاکہ وہ اُس وقت تک صبر کر سکیں جب تک یہوواہ یہ نہیں کہہ دیتا کہ اب اِبلیس کے کاموں کو مکمل طور پر ختم کرنے کا وقت آ گیا ہے؟ خاکساری کی خوبی۔ چونکہ یسوع مسیح خاکسار ہیں اِس لیے وہ یہ جانتے ہیں کہ صرف یہوواہ کے پاس ہی یہ طے کرنے کا اِختیار ہے کہ خاتمہ کب آئے گا۔—‏اعما 1:‏7‏۔‏

13.‏ یسوع اپنے رسولوں کے ساتھ صبر سے کیسے پیش آئے اور اُنہوں نے ایسا کیوں کِیا؟‏

13 جب یسوع زمین پر تھے تو وہ اپنے رسولوں کے ساتھ بھی بہت صبر سے پیش آئے۔ مثال کے طور پر جب رسول بار بار اِس بات پر بحث کرنے لگتے تھے کہ اُن میں سب سے بڑا کون ہے تو یسوع نے یہ سوچ کر ہمت نہیں ہاری کہ اُن کے رسول کبھی نہیں بدلیں گے۔ اِس کی بجائے وہ اُن کے لیے صبر دِکھاتے رہے۔ (‏لُو 9:‏46؛‏ 22:‏24-‏27‏)‏ اُنہیں اِس بات پر پورا بھروسا تھا کہ وقت آنے پر اُن کے رسول یہ سیکھ جائیں گے کہ اُنہیں خاکساری سے کام کیسے لینا ہے۔ کیا آپ نے بھی بار بار کوئی غلطی کی ہے؟ اگر ایسا ہے تو کیا آپ اِس بات کے لیے شکرگزار نہیں کہ آپ کا بادشاہ اِتنا خاکسار اور صابر ہے؟‏

14.‏ کیا چیز اَور زیادہ صبر سے کام لینے میں ہماری مدد کر سکتی ہے؟‏

14 ہم یہوواہ کی مثال پر کیسے عمل کر سکتے ہیں؟‏ جب ہم اپنے اندر ”‏مسیح کی سوچ“‏ پیدا کرتے ہیں تو ہم پہلے سے بھی زیادہ یہوواہ کی طرح سوچنے اور کام کرنے لگتے ہیں۔ (‏1-‏کُر 2:‏16‏)‏ لیکن ہم مسیح کی سوچ کو اچھی طرح سے اپنانے کے لیے کیا کر سکتے ہیں؟ ایسا کرنے کے بہت سے اہم طریقے ہیں جن میں سے ایک باقاعدگی سے بائبل میں اِنجیلوں کو پڑھنا ہے۔ اِس کے بعد ہمیں پڑھی ہوئی باتوں پر سوچ بچار کرنے کے لیے وقت نکالنا چاہیے اور گہرائی سے اِس بات پر غور کرنا چاہیے کہ یسوع نے کیا کچھ کِیا اور کیوں کِیا۔ بے‌شک ہمیں یہوواہ سے یہ بھی دُعا کرنی چاہیے کہ وہ یسوع کی طرح خاکسار بننے اور صبر سے کام لینے میں ہماری مدد کرے۔ جتنا زیادہ ہم یسوع کی سوچ اپنائیں گے اُتنا ہی زیادہ ہم یہوواہ کی طرح بن پائیں گے اور اپنے اور دوسروں کے ساتھ صبر سے پیش آئیں گے۔—‏متی 18:‏26-‏30،‏ 35‏۔‏

یہوواہ خاکسار لوگوں کو توجہ دیتا ہے

15.‏ کچھ مثالیں دیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ یہوواہ خاکسار لوگوں سے محبت کرتا ہے۔ (‏زبور 138:‏6‏)‏

15 زبور 138:‏6 کو پڑھیں۔‏ ذرا سوچیں کہ خاکسار لوگوں کے لیے یہ کتنی عزت کی بات ہے کہ کائنات کا حاکم اُنہیں خاص توجہ دیتا ہے۔ آئیے بائبل سے یہوواہ کے کچھ ایسے بندوں کی مثال پر غور کرتے ہیں جنہیں دُنیا کچھ نہیں سمجھتی تھی لیکن یہوواہ نے اُنہیں بہت عزت بخشی۔ شاید اِن میں سے کچھ فوراً ہمارے ذہن میں نہ آئیں لیکن یہوواہ نے اِن کا ذکر اپنے کلام میں کِیا۔ مثال کے طور پر یہوواہ نے موسیٰ کو اپنی پاک روح دی تاکہ وہ دبورہ نام کی آیا کا ذکر اُس کے کلام میں کریں۔ دبورہ تقریباً 125 سال سے اِضحاق اور یعقوب کے گھرانوں کی وفاداری سے خدمت کر رہی تھیں۔ حالانکہ ہمیں اِس وفادار عورت کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں ملتیں لیکن یہوواہ نے اِس بات کا خاص خیال رکھا کہ اُس کے کلام میں دبورہ کے بارے میں وہ باتیں ضرور ہوں جن سے ظاہر ہو کہ وہ اور یعقوب کا گھرانہ دبورہ سے کتنی محبت کرتا تھا۔ (‏پید 24:‏59؛‏ 35:‏8‏، فٹ‌نوٹ)‏ پھر اِس کے کئی صدیوں بعد یہوواہ نے داؤد نام کے ایک جوان چرواہے کو بنی‌اِسرائیل کے بادشاہ کے طور پر چُنا۔ (‏2-‏سمو 22:‏1،‏ 36‏)‏ پھر جب یسوع پیدا ہوئے تو اِس کے کچھ وقت بعد یہوواہ نے اپنے فرشتوں کو سب سے پہلے خاکسار چرواہوں کے پاس یہ بتانے کے لیے بھیجا کہ بیت‌لحم میں وہ بچہ پیدا ہوا ہے جو بڑا ہو کر مسیح بنے گا۔ (‏لُو 2:‏8-‏11‏)‏ اور پھر جب مریم اور یوسف یسوع کی پیدائش کے بعد اُنہیں ہیکل لے کر گئے تو یہوواہ نے اپنے دو بوڑھے بندوں یعنی شمعون اور حناہ کو یہ اعزاز بخشا کہ وہ اُس کے بیٹے کو دیکھیں۔ (‏لُو 2:‏25-‏30،‏ 36-‏38‏)‏ واقعی یہوواہ بہت فروتن ہے۔ حالانکہ وہ ”‏اِتنا بلند ہے پھر بھی وہ خاکسار لوگوں پر توجہ فرماتا ہے“‏!‏

16.‏ یسوع مسیح اپنے باپ کی مثال پر عمل کرتے ہوئے لوگوں کے ساتھ کس طرح سے پیش آئے؟‏

16 یسوع نے اپنے باپ کی مثال پر عمل کِیا۔‏ اپنے آسمانی باپ کی طرح یسوع بھی خاکسار لوگوں سے محبت کرتے اور اُنہیں عزت دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر اُنہوں نے ”‏کم پڑھے لکھے اور معمولی“‏ لوگوں کو خدا کی بادشاہت کے بارے میں سچائیاں سکھائیں۔ (‏اعما 4:‏13؛‏ متی 11:‏25‏)‏ اِس کے علاوہ اُنہوں نے نہ صرف بیمار لوگوں کو شفا دینے سے اُن کی صحت بحال کی بلکہ وہ اُن کے ساتھ اِس طرح سے پیش آئے جس سے اُن لوگوں کی کھوئی ہوئی عزت بھی لوٹ آئی۔ (‏لُو 5:‏13‏)‏ پھر اپنی موت سے پہلے کی رات یسوع نے ایک خادم کی طرح اپنے رسولوں کے پاؤں دھوئے۔ (‏یوح 13:‏5‏)‏ اور بعد میں آسمان پر جانے سے پہلے اُنہوں نے اپنے سبھی خاکسار پیروکاروں کو عزت دیتے ہوئے اُنہیں دُنیا کا سب سے اہم کام کرنے کے لیے دیا جو آج ہم بھی کر رہے ہیں۔ یہ کام ہمیشہ کی زندگی پانے میں لوگوں کی مدد کرنا ہے۔—‏متی 28:‏19، 20‏۔‏

17.‏ ہم دوسروں کی عزت کیسے کر سکتے ہیں؟ (‏تصویر کو بھی دیکھیں۔)‏

17 ہم یہوواہ کی مثال پر کیسے عمل کر سکتے ہیں؟‏ ہم بھی مُنادی میں ملنے والے ہر شخص کی عزت کرتے ہیں پھر چاہے وہ کسی بھی ثقافت سے ہو، کسی بھی رنگ یا نسل سے ہو، پڑھا لکھا ہو یا اَن‌پڑھ ہو۔ اِس کے علاوہ ہم اپنے مسیحی بہن بھائیوں کو خود سے بہتر سمجھنے سے اُن کی عزت کرتے ہیں پھر چاہے ہمارے پاس اُن سے زیادہ صلاحیتیں اور کلیسیا میں ذمے‌داریاں ہوں۔ (‏فِل 2:‏3‏)‏ جب ہم اِس طرح سے اور کئی اَور طریقوں سے خاکساری دِکھاتے ہوئے دوسروں کی ”‏عزت کرنے میں پہل“‏ کرتے ہیں تو یہوواہ کو بہت خوشی ہوتی ہے۔—‏روم 12:‏10‏۔‏

دو بہنیں جیل میں قید ایک عورت کو بائبل کورس کرا رہی ہیں۔‏

جب ہم ہر طرح کے لوگوں کو خوش‌خبری سناتے ہیں تو ہم یہوواہ کی طرح فروتنی دِکھا رہے ہوتے ہیں۔ (‏پیراگراف نمبر 17 کو دیکھیں۔)‏a


18.‏ آپ یہوواہ کی طرح فروتن کیوں بننا چاہتے ہیں؟‏

18 اگر ہم اپنے شفیق آسمانی باپ کی طرح فروتن بننے کی پوری کوشش کریں گے تو ہم ایک ایسے شخص بن پائیں گے جو ہمیشہ دوسروں کی بات سننے، صورتحال کے مطابق ڈھلنے اور صبر سے کام لینے کو تیار رہتا ہے۔ اِس کے علاوہ ہم یہوواہ کی طرح دوسروں کو عزت بھی دے پائیں گے۔ دُعا ہے کہ ہم اپنے فروتن خدا کے اَور زیادہ قریب جانے کی کوشش کریں اور ہماری یہ کوششیں ہمیں اُس کی نظر میں اَور زیادہ بیش‌قیمت بنا دیں!‏—‏یسع 43:‏4‏۔‏

خاکساری کی خوبی اِن باتوں کے حوالے سے آپ کی مدد کیسے کر سکتی ہے:‏

  • ہمیشہ دوسروں کی بات سننے کے لیے تیار رہنے میں؟‏

  • خود کو صورتحال کے مطابق ڈھالنے میں؟‏

  • صبر سے کام لینے میں؟‏

گیت نمبر 159 یہوواہ کی تعظیم کریں

a تصویر کی وضاحت‏:‏ یہوواہ ہر طرح کے لوگوں سے محبت کرتا ہے اور کچھ بہنیں اُسی کی مثال پر عمل کرتے ہوئے جیل میں عورتوں کو گواہی دے رہی ہیں۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں