10-16 اگست 2026ء
گیت نمبر 122 سچائی کی راہ پر قائم رہیں
ہم ایمان کے اِمتحان سے گزرتے وقت یہوواہ کے وفادار کیسے رہ سکتے ہیں؟
”مالک، ہم کس کے پاس جائیں؟ ہمیشہ کی زندگی کی باتیں تو آپ ہی کرتے ہیں۔“—یوح 6:68۔
غور کریں کہ . . .
ہم ایمان کے ہر اِمتحان میں یہوواہ کے وفادار کیسے رہ سکتے ہیں۔
1-2. جب یسوع کفرنحوم میں تعلیم دے رہے تھے تو کیا ہوا؟
ایک دن جب یسوع مسیح کفرنحوم میں لوگوں کو تعلیم دے رہے تھے تو اُنہوں نے لوگوں سے کہا: ”جب تک آپ اِنسان کے بیٹے کا گوشت نہیں کھائیں گے اور اُس کا خون نہیں پئیں گے، آپ ہمیشہ کی زندگی نہیں پائیں گے۔ جو میرا گوشت کھاتا ہے اور میرا خون پیتا ہے، اُسے ہمیشہ کی زندگی ملے گی اور مَیں اُسے آخری دن پر زندہ کروں گا۔“(یوح 6:53، 54) یسوع کے بہت سے شاگردوں کو اُن کی یہ بات پسند نہیں آئی۔ اُنہوں نے کہا: ”یہ تو بکواس ہے۔ اِس آدمی کی باتیں ہم سے برداشت نہیں ہوتیں۔“—یوح 6:60۔
2 اِس کے بعد سے یسوع کے بہت سے شاگردوں نے اُن کی پیروی کرنا چھوڑ دی۔ کیا اُنہوں نے ایسا اِس لیے کِیا کیونکہ وہ یسوع پر بالکل ایمان نہیں رکھتے تھے؟ نہیں۔ اِن میں سے کچھ یسوع پر ایمان رکھتے تھے۔ دراصل اِس واقعے سے پہلے کچھ شاگرد تو یسوع کے معجزے کو دیکھ کر اِتنے متاثر ہوئے تھے کہ اُنہوں نے کہا: ”بِلاشُبہ یہ وہی نبی ہے جسے دُنیا میں آنا تھا۔“ (یوح 6:14) اِس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ شاگرد یسوع پر کسی حد تک ایمان رکھتے تھے۔ لیکن جب اُن کے ایمان کا اِمتحان ہوا تو وہ یسوع کے وفادار نہیں رہے۔
3. یسوع نے جو بات کہی تھی، اُس پر اُن کے رسولوں نے کیا کِیا اور کیوں؟ (تصویر کو بھی دیکھیں۔)
3 لیکن یسوع کے رسول اُن کے وفادار رہے۔ جب یسوع نے اُن سے پوچھا کہ کیا وہ بھی اُنہیں چھوڑ کر چلے جانا چاہتے ہیں تو پطرس نے جواب دیا: ”مالک، ہم کس کے پاس جائیں؟ ہمیشہ کی زندگی کی باتیں تو آپ ہی کرتے ہیں۔ ہم ایمان لائے ہیں اور جان گئے ہیں کہ آپ خدا کے مُقدس خادم ہیں۔“ (یوح 6:68، 69) غور کریں کہ پطرس اور باقی رسول بھی یسوع کی یہ بات پوری طرح سے نہیں سمجھ پائے تھے کہ اُنہیں یسوع کا گوشت کھانا اور خون پینا پڑے گا۔ لیکن اُنہوں نے پھر بھی یسوع کا وفادار رہنے کا فیصلہ کِیا۔ کیوں؟ کیونکہ اُن کے ایمان کی بنیاد وہ سچائی تھی جسے کوئی جھٹلا نہیں سکتا تھا۔ وہ سچائی یہ تھی کہ یسوع ہی ”خدا کے مسیح“ تھے۔—لُو 9:20، 35۔
حالانکہ یسوع کے بہت سے شاگردوں نے اُن کی پیروی کرنا چھوڑ دی لیکن یسوع کے رسولوں نے اُن کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ (پیراگراف نمبر 3 کو دیکھیں۔)
4. کن صورتحال میں ہمارے ایمان کا اِمتحان ہو سکتا ہے؟
4 ہمیں بھی کئی ایسی صورتحال کا سامنا ہو سکتا ہے جن میں ہمارے ایمان کا اِمتحان ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر جب ہماری تنظیم کی کتابوں میں بائبل کی کسی آیت کی نئی وضاحت کی جاتی ہے یا پھر ہمارے مُنادی کرنے کے طریقے میں تبدیلی کی جاتی ہے تو ہمارے ایمان کا اِمتحان ہو سکتا ہے۔ یا پھر جب ہم پر دُکھ کا کوئی پہاڑ ٹوٹ پڑتا ہے اور ہمیں سمجھ نہیں آتا کہ یہوواہ نے ہمارے ساتھ ایسا کیوں ہونے دیا تو بھی ہمارے ایمان کی آزمائش ہو سکتی ہے۔ ہمارے ایمان کا تو اُس وقت بھی اِمتحان ہو سکتا ہے جب ہمارا کوئی دوست ہمیں تکلیف پہنچاتا ہے یا ہمارے ساتھ نااِنصافی کرتا ہے۔
5. ایک مثال دے کر بتائیں کہ ہمیں اپنے ایمان کو مضبوط کیوں کرتے رہنا چاہیے۔ (کُلسّیوں 1:23)
5 مشکل وقت میں یہوواہ کا وفادار رہنے کے لیے یہ بہت ضروری ہے کہ ہم اُس پر اپنے ایمان کو مضبوط کریں۔ اِس بات کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے ایک عمارت کی مثال پر غور کریں۔ اگر ایک عمارت کو کسی ایسے علاقے میں بنایا جاتا ہے جہاں زلزلے آنے کا بہت زیادہ اِمکان ہوتا ہے تو اُس عمارت کی بنیادیں مضبوط رکھی جاتی ہیں۔ یوں وہ عمارت زلزلوں اور شدید طوفانوں میں بھی اپنی جگہ پر قائم رہتی ہے۔ اِسی طرح اگر ہم اُن مشکلوں میں بھی یہوواہ کے وفادار رہنا چاہتے ہیں جن کا پچھلے پیراگراف میں ذکر ہوا ہے تو یہ بہت ضروری ہے کہ ہم اپنے ایمان کی بنیاد کو مضبوط کرتے رہیں۔ اگر ہم ایسا کریں گے تو ہم مشکلوں کے ہر طوفان کا ڈٹ کر مقابلہ کر پائیں گے اور اپنے ایمان پر قائم رہ پائیں گے۔—1-کُر 15:58؛ کُلسّیوں 1:23 کو پڑھیں۔
6. کس چیز نے رسولوں کی یسوع کا وفادار رہنے میں مدد کی؟
6 کس چیز نے رسولوں کی مدد کی تاکہ وہ اُس وقت بھی یسوع کے وفادار رہیں جب بہت سے شاگردوں نے یسوع کی پیروی کرنا چھوڑ دی تھی؟ یسوع کے رسول اِن باتوں پر پکا ایمان رکھتے تھے: ہمیں صرف یہوواہ کی عبادت کرنی چاہیے کیونکہ اُسی نے سب چیزوں کو بنایا ہے؛ یسوع خدا کے بیٹے ہیں اور وہی ”ہمیشہ کی زندگی کی باتیں“ کرتے ہیں اور یہوواہ یسوع کے ہر کام میں اُن کے ساتھ ہے۔ سچ ہے کہ ایسی بہت سی باتیں ہیں جو ہمارے ایمان کے لیے آزمائش بن سکتی ہیں۔ لیکن اِن باتوں پر غور کرنے کی بجائے آئیے تین ایسی سچائیوں پر غور کرتے ہیں جن کی مدد سے ہم ایمان کے ہر اِمتحان میں یہوواہ کے وفادار رہ سکتے ہیں۔ (1)یہوواہ نے سب چیزوں کو بنایا ہے، (2)یہوواہ نے اپنی پاک روح کی رہنمائی میں بائبل لکھوائی ہے اور (3)آج یہوواہ اپنے بندوں کی رہنمائی کر رہا ہے۔ اگر ہم اِن سچائیوں پر مضبوط ایمان رکھیں گے تو ہم ہر طرح کی صورتحال میں یہوواہ کے وفادار رہ سکیں گے۔
یہوواہ نے سب چیزوں کو بنایا ہے
7. (الف)مُکاشفہ 4:11 میں ہمیں کون سی بات یاد دِلائی گئی ہے؟ (ب)جب ہم ایمان کے کسی اِمتحان سے گزر رہے ہوتے ہیں تو کیا ہو سکتا ہے؟
7 مُکاشفہ 4:11 کو پڑھیں۔ اِس آیت سے ہم یہ یاد رکھ پاتے ہیں کہ یہوواہ نے سب چیزوں کو بنایا ہے۔ صرف یہ سچائی ہی اِس بات کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ یہوواہ ہماری عبادت کا حقدار ہے۔ جب ہم یہوواہ کی بےپناہ طاقت پر غور کرتے ہیں تو ہمیں اِس بات کا پکا یقین ہو جاتا ہے کہ یہوواہ مشکل سے مشکل صورتحال میں بھی ہماری مدد کر سکتا ہے۔ لیکن شیطان نے دُنیا میں ایسے جھوٹ پھیلائے ہیں جن کی وجہ سے اِنسان خدا کے وجود پر شک کرتے ہیں۔ کچھ سائنسدان تو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ زندگی خود بخود وجود میں آئی ہے۔ تو یہ بہت ضروری ہے کہ ہم اِس بات پر اپنے یقین کو بڑھائیں کہ ہم یہ کیوں مانتے ہیں کہ یہوواہ ہمارا خالق ہے اور ہم سے بہت محبت کرتا ہے۔ اگر ہمیں اِن باتوں پر پکا یقین ہوگا تو مشکل کا سامنا کرتے وقت ہم اِس بات پر بالکل شک نہیں کریں گے کہ یہوواہ موجود ہے اور ہماری مدد کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔—عبر 11:6۔
8-9. اگر آپ اِس بات پر شک کرنے لگے ہیں کہ یہوواہ نے سب چیزوں کو بنایا ہے تو آپ کو کیا کرنا چاہیے؟ (تصویر کو بھی دیکھیں۔)
8 اگر آپ اِس بات پر شک کرنے لگے ہیں کہ یہوواہ نے سب چیزوں کو بنایا ہے تو فوراً قدم اُٹھائیں۔ ہماری تنظیم کی کتابوں اور رسالوں کا گہرائی سے مطالعہ کریں اور دیکھیں کہ ہم کن ٹھوس ثبوتوں کی بنیاد پر اِس بات پر یقین رکھ سکتے ہیں کہ یہوواہ نے ہی سب چیزوں کو بنایا ہے۔ اِس حوالے سے اپنے ایمان کو مضبوط کرنے کے لیے آپ ہماری ویبسائٹ jw.org پر سلسلہوار مضامین ”کیا یہ خالق کی کاریگری ہے؟“ میں حصہ ”زندگی کی اِبتدا کے متعلق نظریات“ کو دیکھ سکتے ہیں۔ ذرا امریکہ میں رہنے والی بہن جیسیکا کی بات پر غور کریں جنہوں نے کہا: ”جب مَیں نے ہماری تنظیم کی کتابوں کا گہرائی سے مطالعہ کِیا تو مَیں ایسے ثبوت دیکھ پائی جن سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اِنسانوں کو ایک بہت ہی ذہین ہستی نے بنایا ہے۔ مَیں یہ بات پہلے سے ہی جانتی تھی لیکن اَور زیادہ تحقیق کرنے کے بعد مَیں اِس بات پر اَور بھی زیادہ یقین کرنے لگی۔“ بہت سے لوگوں کو کتاب ”اب اور ہمیشہ تک خوشیوں بھری زندگی!“ کے سبق نمبر 6 اور 7 پر غور کرنے سے بھی بہت فائدہ ہوا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ آپ نے پہلے بھی اِس موضوع پر ہماری تنظیم کے مضامین پڑھے ہوں۔ لیکن کیوں نہ اِنہیں دوبارہ پڑھیں؟
9 اگلی دفعہ ذاتی مطالعہ کرتے وقت آپ کچھ ایسے حقائق پر غور کر سکتے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ یہوواہ واقعی موجود ہے۔ تحقیق کرنے سے نہ صرف یہوواہ کے وجود پر آپ کا ایمان مضبوط ہوگا بلکہ آپ اُسے اَور اچھی طرح سے بھی جان پائیں گے۔ (روم 1:20) اِس کے علاوہ جو کچھ آپ نے تحقیق کرنے سے سیکھا ہوگا، اُسے آپ اُن لوگوں کی مدد کرنے کے لیے بھی اِستعمال کر پائیں گے جو خدا کے وجود پر شک کرتے ہیں۔ بےشک یہوواہ نے ہمیں ایسے بےشمار ثبوت دیے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ ہمارا خالق ہے۔
Nebula: IAC/RGO/David Malin Images; fish and car: Mercedes-Benz USA; plane: Kristen Bartlett/University of Florida
اگر آپ نے پہلے بھی ہماری تنظیم کی ایسی کتابیں یا مضامین پڑھے ہیں جن سے خالق کا وجود ثابت ہوتا ہے تو کیوں نہ اِنہیں دوبارہ پڑھیں؟ (پیراگراف نمبر 8 کو دیکھیں۔)
یہوواہ نے بائبل کو لکھوایا ہے
10. بائبل ہماری نظر میں اِتنی اہم کیوں ہے؟ (2-تیمُتھیُس 3:16، 17)
10 دوسرا تیمُتھیُس 3:16، 17 کو پڑھیں۔ بائبل تمام اِنسانوں کے لیے یہوواہ کی طرف سے ایک پیغام ہے۔ اِس میں ہمیں زندگی کے اہم سوالوں کے جواب دیے گئے ہیں اور یہ بتایا گیا ہے کہ خدا کی مرضی کیا ہے اور وہ ہم سے کیا چاہتا ہے۔ ہم اِس بات پر پکا ایمان رکھتے ہیں کہ یہوواہ نے بائبل کو لکھوایا ہے۔ اِس لیے یہ ہماری زندگی میں سب سے اہم کتاب ہے۔ ہم اِس بات کا پورا خیال رکھتے ہیں کہ ہم اِسے اچھی طرح سے سمجھیں اور اِس میں بتائی گئی باتوں پر عمل کرنے کی پوری کوشش کریں۔
11. آپ اِس بات پر پکا یقین کیوں رکھتے ہیں کہ بائبل خدا کا کلام ہے؟
11 ہمیں اِس بات کا پکا یقین کیوں ہے کہ بائبل یہوواہ کی طرف سے ہے؟ اِس کی بہت سی وجوہات ہیں۔ مثال کے طور پر اِس میں ماضی میں ہونے والے واقعات کے بارے میں جو کچھ بتایا گیا ہے، وہ بالکل سچ ہے۔ (لُو 3:1، 2) اِس کے علاوہ بائبل میں قدرت میں پائی جانے والی چیزوں کے حوالے سے بھی جو معلومات دی گئی ہیں، وہ بالکل درست ہیں۔ (ایو 26:7) بائبل کی ایک اَور خاص بات یہ ہے کہ یہ دُنیا کی کسی بھی دوسری کتاب سے زیادہ دستیاب ہے حالانکہ شیطان نے اِس کا نامونشان مٹانے کی بہت کوشش کی۔ بائبل کو تقریباً 1600 سالوں کے دوران تقریباً 40 آدمیوں نے لکھا۔ لیکن اِس میں پایا جانے والا پیغام ایک جیسا ہے۔ اِس میں روزمرہ زندگی کے حوالے سے ایسے مشورے دیے گئے ہیں جو ہر زمانے میں لوگوں کے کام آ سکتے ہیں اور اِن پر عمل کرنے سے لاکھوں لوگوں کو فائدہ ہوا ہے۔ (اَمثا 13:20؛ 15:21؛ متی 7:12) اِس کے علاوہ بائبل میں لکھی بہت سی پیشگوئیاں پوری ہو چُکی ہیں جو اِس بات کا ایک اَور ثبوت ہے کہ اِس پر مکمل بھروسا کِیا جا سکتا ہے۔ (یشو 23:14) اِس بات میں کوئی شک نہیں کہ بائبل واقعی خدا کی طرف سے ہے۔
12. اگر ہم اِس بات پر شک کرنے لگے ہیں کہ بائبل خدا کی طرف سے ہے تو ہمیں کیا کرنا چاہیے؟
12 ہمیں اُس وقت کیا کرنا چاہیے جب ہمیں لگتا ہے کہ بائبل یہوواہ کی طرف سے نہیں ہے؟ ہمیں دُعا میں یہوواہ کو بتانا چاہیے کہ ہم کیسا محسوس کر رہے ہیں اور ہمیں اُس سے مدد مانگنی چاہیے۔ اِس کے بعد ہمیں اپنی دُعا کے مطابق عمل کرتے ہوئے تحقیق کرنی چاہیے۔ غور کریں کہ اِس حوالے سے جورڈن نام کے ایک جوان بھائی نے کیا کہا جو یہوواہ کے گواہوں کے گھرانے میں پلے بڑھے تھے۔ اُنہوں نے کہا: ”مَیں آنکھیں بند کر کے ہر اُس بات کا یقین نہیں کر لیتا جو میرے امی ابو یا دوسرے مجھے بتاتے ہیں۔ مَیں خود دیکھنا چاہتا ہوں کہ جو کچھ مَیں مانتا ہوں، وہ واقعی سچ ہے یا نہیں۔ سچ کہوں تو کبھی کبھار کچھ باتوں کو لے کر میرے دل میں شک پیدا ہو جاتا ہے۔ لیکن جب بھی ایسا ہوتا ہے تو مَیں اپنے شک کو دُور کرنے اور اپنے سوالوں کے جواب حاصل کرنے کے لیے ہماری تنظیم کی کتابوں سے تحقیق کرتا ہوں۔“ اگر ہم بھی اِس بات پر اپنے یقین کو مضبوط کرتے رہیں گے کہ یہوواہ نے اپنی پاک روح کی رہنمائی میں بائبل لکھوائی ہے تو ہم اپنے ایمان کی بنیاد کو مضبوط کر رہے ہوں گے۔—1-کُر 3:12، 13۔
یہوواہ اپنے بندوں کی رہنمائی کر رہا ہے
13. اگر ہمارے ذہن میں اِس بات کو لے کر سوال اُٹھنے لگے ہیں کہ آج خدا کے بندے کون ہیں تو ہمیں کیا کرنا چاہیے؟
13 اگر کبھی ہمارے دل میں اِس بات کو لے کر شک پیدا ہونے لگتا ہے کہ آج یہوواہ کے گواہ ہی خدا کے بندے ہیں تو ہمیں اِس شک کو اپنے دل سے دُور کرنا چاہیے۔ ایسا کرنے کے لیے ہمیں خود سے یہ سوال پوچھنے چاہئیں: ”کون لوگ بائبل کے معیاروں کے مطابق زندگی گزارنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں؟ کن لوگوں کے عقیدوں کی بنیاد بائبل کی تعلیمات پر ٹکی ہیں؟“ (2-تیم 4:3، 4) ”آج کون لوگ یہوواہ کی مرضی پر عمل کر رہے ہیں؟“—متی 7:20، 21۔
14. یہوواہ کے گواہ متی 24:14 میں لکھی پیشگوئی کو کیسے پورا کر رہے ہیں؟
14 خدا چاہتا ہے کہ خاتمہ آنے سے پہلے زمین پر ہر کوئی بادشاہت کی خوشخبری کے بارے میں سنے۔ تو خدا کی اِس مرضی کو ذہن میں رکھتے ہوئے خود سے پوچھیں: ”اِس آخری زمانے میں کون لوگ یسوع مسیح کے حکم پر عمل کرتے ہوئے خوشخبری کی مُنادی کر رہے ہیں؟“ (متی 24:14) جواب بالکل واضح ہے۔ آج یہوواہ اپنے گواہوں کو خوشخبری سنانے کے کام کے لیے اِستعمال کر رہا ہے۔ صرف ہم ہی خدا کی بادشاہت کی خوشخبری 240 سے زیادہ ملکوں میں پھیلا رہے ہیں۔ ہم یہ کام خدا کی بادشاہت کی حکمرانی کے تحت 100 سال سے بھی زیادہ عرصے سے کر رہے ہیں۔ بےشک مُنادی اور تعلیم دینے کا کام شروع سے ہی خدا کے بندوں کی نظر میں سب سے اہم رہا ہے۔—متی 28:19، 20۔
15. آج یہوواہ کے گواہ یہوواہ کے نام کو پاک کیسے ثابت کر رہے ہیں؟ (متی 6:9؛ یسعیاہ 43:10)
15 متی 6:9 اور یسعیاہ 43:10 کو پڑھیں۔ ہم یہوواہ کے نام سے کہلائے جاتے ہیں جو کہ اُس کا ذاتی نام ہے۔ ہمیں اِس بات پر فخر ہے کہ ہم یہوواہ کے گواہ ہیں۔ آج دُنیا میں زیادہتر لوگ یہ نہیں جانتے کہ خدا کا نام یہوواہ ہے۔ لیکن ہم نے یہوواہ کے نام کی بڑائی کرنے کے لیے اِسے بائبل میں ہر اُس جگہ رکھنے کی پوری کوشش کی ہے جہاں یہ اصلی تحریروں میں اِستعمال ہوا تھا۔ اصلی تحریروں میں نام یہوواہ 7000 سے بھی زیادہ بار اِستعمال ہوا ہے اور ”کتابِمُقدس—ترجمہ نئی دُنیا“ میں بھی ایسا ہی کِیا گیا ہے۔
16. ہم یہ کیوں کہہ سکتے ہیں کہ یہوواہ کے گواہ یوحنا 13:34، 35 میں لکھے حکم پر عمل کر رہے ہیں؟ (تصویر کو بھی دیکھیں۔)
16 یوحنا 13:34، 35 کو پڑھیں۔ آج دُنیا میں بہت سے لوگ ایک دوسرے سے نفرت کرتے ہیں اور بٹے ہوئے ہیں۔ لیکن ہمارے ہمایمانوں کے بیچ پائی جانے والی محبت اور اِتحاد کسی معجزے سے کم نہیں۔ حالانکہ ہم سب فرق ملکوں سے تعلق رکھتے ہیں اور فرق ماحول میں پلے بڑھے ہیں لیکن ہم پھر بھی ایک دوسرے کے ساتھ پیار اور صلح صفائی سے رہنے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔ کیا آپ کبھی کسی اَور علاقے میں ہمارے ہمایمانوں کی کلیسیا میں گئے ہیں؟ اگر اگلی بار آپ کو وہاں جانے کا موقع ملے تو اپنے ہمایمانوں کے بیچ پائی جانے والی محبت اور اِتحاد کو ضرور دیکھئے گا۔ اِس سے آپ پر اَور واضح ہو جائے گا کہ آج یہوواہ واقعی اپنے گواہوں کے ذریعے اپنے مقصد کو پورا کر رہا ہے۔ اگر ہم یہ بات یاد رکھیں گے کہ یہوواہ اپنے بندوں کے ساتھ ہے تو ہم ایمان کے ہر اِمتحان میں اُس کے وفادار رہ سکیں گے۔
ہمارے ہمایمانوں کے بیچ پائی جانے والی محبت اور اِتحاد کسی معجزے سے کم نہیں۔ (پیراگراف نمبر 16 کو دیکھیں۔)a
یہوواہ کو کبھی نہ چھوڑیں!
17-18. اِس آخری زمانے میں ہمیں کن مشکلوں کا سامنا ہو سکتا ہے لیکن ہم کون سی بات پورے یقین سے کہہ سکتے ہیں؟
17 اِس آخری زمانے میں رہتے ہوئے ہم سبھی کو طرح طرح کی مشکلوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ (2-تیم 3:1، 13) اِس کے علاوہ ہمیں کچھ ایسی صورتحال کا بھی سامنا کرنا پڑے گا جن کی وجہ سے ہمیں پریشانی ہو سکتی ہے۔ مثال کے طور پر شاید ہمیں تنظیم کی طرف سے ملنے والی کوئی ہدایت پوری طرح سے سمجھ نہ آئے یا شاید ہمیں اپنے کسی ہمایمان کی طرف سے چوٹ لگے۔ یا پھر ہمیں اپنی مشکلوں سے نکلنے کا فوراً حل نظر نہ آئے یا یہ سمجھ نہ آئے کہ ہم پر کوئی مشکل کیوں آئی ہے۔
18 سچ ہے کہ مشکلوں سے گزرتے وقت ہم پریشان اور دُکھی ہو جاتے ہیں لیکن ہم پھر بھی ہمیشہ تک یہوواہ کے وفادار رہ سکتے ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ وہ ہمارا خالق ہے، بائبل اُس کا کلام ہے اور یہوواہ کے گواہ اُس کے بندے ہیں۔ اگر ہم اِن سچائیوں پر مضبوط ایمان رکھیں گے تو ہم بھی یہوواہ سے وہی بات کہہ سکیں گے جو پطرس نے یسوع سے کہی تھی: ”[یہوواہ!]ہم کس کے پاس جائیں؟ ہمیشہ کی زندگی کی باتیں تو آپ ہی کرتے ہیں۔“
گیت نمبر 123 تابعدار ہوں
a تصویر کی وضاحت: ایک ماں اور بیٹی بس میں بیٹھی سفر کر رہی ہیں۔ وہ بس کی کھڑکی سے باہر اپنے کچھ ہمایمانوں کو ٹرالی کے ذریعے مُنادی کرتے ہوئے دیکھ کر خوش ہو رہی ہیں۔