24-30 اگست 2026ء
گیت نمبر 65 آگے بڑھتے رہیں!
مُنادی کے گروپ کے بندوبست سے فائدہ حاصل کریں
”مَیں سیدھی راہ پر چلنے والے لوگوں کے مجمعے اور جماعت میں پورے دل سے یہوواہ کی ستائش کروں گا۔“—زبور 111:1۔
غور کریں کہ . . .
ہم اپنی کلیسیا میں جس گروپ کا حصہ ہیں، اُس سے ہمیں کیسے فائدہ ہوتا ہے۔
1-2. کلیسیا میں فرق فرق گروپوں کا جو بندوبست کِیا گیا ہے، اُس کے بارے میں کچھ بہن بھائی کیسا محسوس کرتے ہیں؟
کیا آپ کو وہ دن یاد ہے جب آپ مبشر بنے تھے؟ یقیناً اُس دن آپ بہت خوش تھے کیونکہ آپ ایک ایسے بڑے خاندان کا حصہ بن گئے تھے جو یہوواہ کے نام کی بڑائی کرتا ہے۔ (زبور 148:1، 2، 12، 13) لیکن اُسی دن آپ ایک چھوٹے سے گروپ کا بھی حصہ بنے تھے جو آپ کی کلیسیا کے کچھ بہن بھائیوں سے مل کر بنا تھا۔ یسوع مسیح نے اپنے سب شاگردوں کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ ”ساری دُنیا میں“ بادشاہت کی مُنادی کریں۔ تو اپنے گروپ کا حصہ ہونے کی وجہ سے ہم اِس حکم پر اچھی طرح سے عمل کر پاتے ہیں۔—متی 24:14۔
2 کلیسیا میں فرق فرق گروپوں کا جو بندوبست کِیا گیا ہے، آپ اُس کے بارے میں کیسا محسوس کرتے ہیں؟ وینڈیa نام کی بہن نے کہا: ”اِس بندوبست کی وجہ سے مجھے کئی طریقوں سے فائدہ ہوا ہے۔ مثال کے طور پر مَیں نے مُنادی اور تعلیم دینے کی مہارت میں بہتری لانے کے لیے دوسروں سے بہت کچھ سیکھا ہے، میرے اندر ایسے کام کرنے کا حوصلہ بڑھا ہے جن سے مَیں یہوواہ کے اَور قریب ہو پائی ہوں اور بہت سے اچھے دوست بھی بنا پائی ہوں۔“ اِس کے علاوہ رِچ نام کے بھائی نے کہا: ”یہ میرے لیے اعزاز کی بات ہے کہ مَیں گروپ کے نگہبان کے طور پر خدمت کر رہا ہوں۔ سچ ہے کہ کچھ مبشر ایک شخص کی بپتسمہ لینے کے لائق بننے میں مدد کرتے ہیں۔ لیکن گروپ کے نگہبان کے پاس یہ موقع ہوتا ہے کہ وہ اپنے گروپ کے بہن بھائیوں کی مدد کرے تاکہ وہ یہوواہ کے اَور قریب ہو سکیں اور بپتسمے کے بعد بھی اُس کی خدمت میں آگے بڑھتے رہیں۔“ اور ڈائنا نام کی بہن نے کہا: ”کلیسیا کے ایک چھوٹے گروپ کا حصہ ہونا بڑا ہی زبردست بندوبست ہے! مَیں اپنے گروپ کے بہن بھائیوں کو اپنے گھر والوں کی طرح سمجھتی ہوں۔“
3. اِس مضمون میں ہم کس بارے میں بات کریں گے؟
3 اِس مضمون میں ہم دیکھیں گے کہ گروپ کا نگہبان اور اُس کا مددگار کون سی ذمےداریاں نبھاتے ہیں اور وہ اپنے گروپ کے بہن بھائیوں کی مدد کیسے کرتے ہیں۔ پھر ہم دیکھیں گے کہ ہم ذاتی طور پر اپنے گروپ کے بہن بھائیوں کی مدد کیسے کر سکتے ہیں۔ اور آخر میں ہم دیکھیں گے کہ ہم اپنی کلیسیا میں جس گروپ کا حصہ ہیں، اُس سے ہمیں کیسے فائدہ ہوتا ہے۔
گروپ کا نگہبان اور اُس کا مددگار
4. (الف)گروپ کے نگہبان کی اہم ذمےداری کیا ہے؟ (ب)گروپ کا نگہبان اپنے گروپ کے بہن بھائیوں کا خیال رکھنے کے لیے کن مشوروں پر عمل کر سکتا ہے؟ (بکس ”گروپ کے نگہبان کے لیے مشورے“ کو دیکھیں۔)
4 گروپ کا نگہبان ایک بزرگb ہوتا ہے جسے بزرگوں کی جماعت مقرر کرتی ہے۔ اُس نگہبان کی یہ ذمےداری ہوتی ہے کہ وہ اپنے گروپ کے بہن بھائیوں کی مدد کرے تاکہ وہ یہوواہ کے اَور قریب ہو سکیں اور اپنی تعلیم دینے کی مہارتوں میں بہتری لا سکیں۔ لیکن وہ یہ کیسے کرتا ہے؟ سب سے پہلی بات: وہ اپنے گروپ کے ہر مبشر کے لیے فکرمندی دِکھاتا ہے۔ (اَمثا 27:23) وہ ایک چوکس اور محبت کرنے والا چرواہا ہوتا ہے۔ وہ اپنے گروپ کے ہر بہن بھائی کو اچھی طرح سے جانتا ہے اور باقاعدگی سے اُن کی خیر خیریت پوچھتا رہتا ہے۔ اِس طرح وہ اُن کی یہوواہ کے قریب رہنے میں مدد کر سکتا ہے، اُن کی پریشانی کے وقت میں اُن کے لیے محبت دِکھا سکتا ہے اور فرق فرق طریقوں سے اُن کی مدد کر سکتا ہے۔ (اَمثا 12:25؛ یسع 32:2؛ یعقو 2:15-17) دوسری بات: وہ اپنے گروپ کے ہر مبشر کی مدد کرتا ہے تاکہ وہ بڑھ چڑھ کر مُنادی کر سکے۔ وہ خود بھی جوش سے مُنادی کرنے میں پیشوائی کرتا ہے، خاص طور پر ہفتے اور اِتوار والے دنوں میں۔ اِس کے علاوہ وہ باقاعدگی سے ہر مبشر کے ساتھ مُنادی کرتا ہے تاکہ وہ اُس کا حوصلہ بڑھا سکے اور اُسے ٹریننگ دے سکے۔ گروپ کا نگہبان ہر ہفتے اپنے گروپ کے ساتھ مل کر مُنادی کرنے کی پوری کوشش کرتا ہے۔ ویسے تو یہ بہت ہی کم ہوتا ہے کہ وہ کسی ہفتے مُنادی میں حصہ نہ لے سکے۔ لیکن اگر وہ کسی وجہ سے مُنادی میں نہیں جا پاتا تو وہ اِس بات کا پورا خیال رکھتا ہے کہ اُس کا مددگار یا کوئی اَور لائق مبشر گروپ میں پیشوائی ضرور کرے۔ تیسری بات: وہ بپتسمہیافتہ بھائیوں کی مدد کرتا ہے تاکہ وہ کلیسیا میں ذمےداریاں اُٹھانے کے لائق بن سکیں۔ (1-تیم 3:1) وہ اِن بھائیوں کے اچھے کاموں اور خوبیوں کے لیے اُن کی تعریف کرتا ہے، وہ مختلف کاموں کو اچھی طرح سے کرنے کے لیے اُنہیں بائبل سے مشورے دیتا ہے اور وہ اُنہیں ٹریننگ دیتا ہے تاکہ وہ کلیسیا میں خادم یا بزرگ کے طور پر خدمت کرنے کے لائق بن سکیں۔ گروپ کے نگہبان کا کردار اِتنا اہم ہوتا ہے کہ بزرگوں کی جماعت کسی ایسے بزرگ کو اِس کام کے لیے مقرر کرتی ہے جو اِسے اچھی طرح سے نبھا سکے۔
5. گروپ کے کچھ نگہبانوں کو کن مسئلوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟
5 ایک گروپ کے نگہبان کے لیے کئی باتوں کی وجہ سے اپنے گروپ کے بہن بھائیوں کا خیال رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔ ذرا جرمنی میں رہنے والے بھائی یورک کی بات پر غور کریں جو ایک گروپ کے نگہبان ہیں۔ وہ بھی بہت سے بزرگوں کی طرح اپنی کلیسیا میں ایک سے زیادہ ذمےداریاں نبھا رہے ہیں۔ اُنہوں نے کہا: ”گروپ کے نگہبان کے طور پر اپنی ذمےداری کو نبھانا اور ساتھ ہی ساتھ کلیسیا میں کئی اَور ذمےداریاں نبھانا آسان نہیں ہوتا۔ میرے لیے ہر ہفتے اپنے گروپ کے بہن بھائیوں کے ساتھ مل کر کام کرنا اور اُن کا حوصلہ بڑھانا مشکل ہو جاتا ہے۔“ اور ذرا یوگنڈا میں رہنے والے ایک 70 سال کے بھائی کی بات پر بھی غور کریں جن کا نام ایبل ہے اور جو کلیسیا میں ایک بزرگ ہیں۔ اُنہوں نے کہا: ”ہماری کلیسیا میں صرف کچھ ہی بزرگ اور خادم ہیں۔ اِس لیے ہماری کلیسیا کے ہر گروپ میں بہن بھائیوں کی تعداد کافی زیادہ ہے۔ تو اکثر مَیں چاہ کر بھی اپنے گروپ میں ہر مبشر کا حوصلہ نہیں بڑھا پاتا۔“ اور سُرینام میں رہنے والے اوبید نام کے بزرگ نے کہا: ”مجھے دوسروں کو ٹریننگ دینا بہت اچھا لگتا ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ٹریننگ دینے میں بہت وقت اور طاقت لگتی ہے اور کبھی کبھار ٹریننگ سے حاصل ہونے والے نتیجے بھی فوراً نظر نہیں آتے۔ اِس لیے مَیں اکثر دوسروں کو ٹریننگ نہیں دے پاتا کیونکہ مَیں دوسرے کاموں کو کرنے میں بہت مصروف ہوتا ہوں۔“ کیا چیز اِس طرح کے مسئلوں کا سامنا کرنے میں بزرگوں کی مدد کر سکتی ہے؟
6. اگر ایک گروپ میں بہن بھائیوں کی تعداد کم رکھی جائے گی تو اِس سے نگہبان کو اپنے گروپ کے ہر مبشر کا خیال رکھنے کے حوالے سے کیسے فائدہ ہوگا؟
6 اگر ممکن ہو تو گروپوں میں بہن بھائیوں کی تعداد کم رکھی جانی چاہیے تاکہ نگہبان اپنے گروپ کے بہن بھائیوں کو اچھی طرح سے جان سکیں اور اُن کی یہوواہ کے اَور زیادہ قریب ہونے میں مدد کر سکیں۔ لیکن اگر ایک کلیسیا میں اِتنے زیادہ بزرگ نہیں ہیں تو پھر کیا کِیا جا سکتا ہے؟ اگر بزرگوں کی جماعت ہر گروپ میں بہت زیادہ بہن بھائی شامل کر دے گی تو گروپ کے نگہبانوں کے لیے ہر بہن بھائی کا خیال رکھنا بہت مشکل ہو جائے گا۔ تو بزرگوں کی جماعت زیادہ سے زیادہ بہن بھائیوں کو ایک گروپ میں ڈالنے کی بجائے کچھ وقت کے لیے کسی خادم کو ایک گروپ کا خیال رکھنے کے لیے مقرر کر سکتی ہے۔ اگر ایک گروپ میں کم بہن بھائیوں کو شامل کِیا جائے گا تو گروپ کے نگہبان کے لیے اپنی سب سے اہم ذمےداری کو نبھانا زیادہ آسان ہو جائے گا یعنی بہن بھائیوں کا خیال رکھنا۔
7. جن کلیسیاؤں میں اِتنے زیادہ بزرگ نہیں ہیں، وہاں گروپ کے نگہبان اِس بات کا خیال کیسے رکھ سکتے ہیں کہ وہ اپنے گروپ میں ہر بہن بھائی کی اچھے سے دیکھبھال کر سکیں؟ (1-پطرس 5:2) (تصویر کو بھی دیکھیں۔)
7 اگر آپ ایک گروپ کے نگہبان ہیں اور ایسی کلیسیا کا حصہ ہیں جس میں کم بزرگ ہیں تو اپنے مددگار کو ٹریننگ دینے کی پوری کوشش کریں تاکہ وہ خدا کے گلّے کی دیکھبھال کرنے میں آپ کی مدد کر سکے۔ (1-پطرس 5:2 کو پڑھیں۔) اپنے مددگار کو گروپ کی دیکھبھال کرنے کے حوالے سے کچھ کام دیں۔ مثال کے طور پر آپ کبھی کبھار اُسے مُنادی کا اِجلاس لینے اور اِس میں پیشوائی کرنے کے لیے کہہ سکتے ہیں۔ یہ بھی بہت ضروری ہے کہ آپ اپنے مددگار سے یہ بات کریں کہ آپ دونوں کس طرح سے اپنے گروپ کے بہن بھائیوں کی مدد کر سکتے ہیں تاکہ وہ یہوواہ کے اَور قریب ہو سکیں اور اپنی تعلیم دینے کی مہارت میں بہتری لا سکیں۔ اپنے گروپ کے ہر بہن بھائی کے ساتھ مُنادی کرنے کا منصوبہ بنائیں۔ اِس کے علاوہ جب آپ بہن بھائیوں کا حوصلہ بڑھانے کے لیے اُن سے ملنے جاتے ہیں تو باقاعدگی سے اپنے مددگار کو بھی اپنے ساتھ لے جائیں۔ کسی بہن یا بھائی سے ملنے سے پہلے آپس میں بات کریں کہ آپ دونوں کس طرح سے اُس کا حوصلہ بڑھائیں گے۔ پھر بعد میں اپنے مددگار کو بتائیں کہ آپ کو اُس کی کون سی بات اچھی لگی تھی اور اُسے کہاں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ پھر آگے چل کر آپ کا مددگار بھی گروپ کے نگہبان کے طور پر خدمت کرنے کے لائق بن جائے گا۔ (2-تیم 2:2) آپ اپنے گروپ کے کچھ پُختہ مسیحیوں کو بھی دوسرے مبشروں کو مُنادی کرنے کی ٹریننگ دینے کے لیے کہہ سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر پہلکار اور کچھ ایسے مسیحی جو کئی سالوں سے مُنادی کرنے کا تجربہ رکھتے ہیں، نئے مبشروں کے ساتھ مُنادی کر سکتے ہیں۔ وہ اُنہیں سکھا سکتے ہیں کہ وہ باتچیت کیسے شروع کر سکتے ہیں اور واپسی ملاقاتیں یا بائبل کورس کیسے کرا سکتے ہیں۔ آئیے اب تین ایسے طریقوں پر بات کرتے ہیں جن سے ہم ذاتی طور پر اپنے گروپ کے بہن بھائیوں کی مدد کر سکتے ہیں۔
گروپ کا نگہبان اپنے گروپ میں شامل ایک خادم کو ٹریننگ دے سکتا ہے۔ مثال کے طور پر وہ اُسے مُنادی کا اِجلاس لینے کے لیے کہہ سکتا ہے۔ (پیراگراف نمبر 7 کو دیکھیں۔)
آپ اپنے گروپ کی مدد کیسے کر سکتے ہیں؟
8. ہم اپنے گروپ کے بہن بھائیوں کی مدد کیسے کر سکتے ہیں؟ (رومیوں 1:12)
8 اپنے گروپ کے بہن بھائیوں کے ساتھ مل کر مُنادی کریں۔ جب آپ دوسروں کے ساتھ مل کر مُنادی کریں گے تو ’آپ کے ایمان سے اُن کی اور اُن کے ایمان سے آپ کی حوصلہافزائی ہوگی۔‘ (رومیوں 1:12 کو پڑھیں۔) دوسروں کے ساتھ مل کر مُنادی کرنے کا ایک اَور فائدہ یہ ہے کہ آپ لوگوں سے بات کرتے وقت زیادہ نہیں گھبرائیں گے اور کچھ علاقوں میں مُنادی کرتے وقت خود کو محفوظ محسوس کریں گے۔ اگر نوکری کی وجہ سے آپ کے لیے اپنے گروپ کے ساتھ مل کر مُنادی کرنا مشکل ہو رہا ہے تو کیوں نہ اپنے باس سے درخواست کریں کہ وہ کام کے معمول میں تھوڑی بہت ردوبدل کر دے؟ کیا پتہ، وہ آپ کی بات مان لے! (نحم 2:4-6) اگر آپ خراب صحت یا بڑھاپے کی وجہ سے اپنے گروپ کے ساتھ مل کر مُنادی کے لیے جمع نہیں ہو پاتے تو کیوں نہ اپنے گروپ کے نگہبان سے بات کریں؟ وہ یہ بندوبست کر سکتا ہے کہ آپ زوم کے ذریعے مُنادی کا اِجلاس سُن سکیں یا خط یا فون کے ذریعے گواہی دے سکیں۔ اور اگر آپ جوان اور صحتمند ہیں لیکن اِس کے باوجود آپ کو باقاعدگی سے مُنادی میں جانا مشکل لگ رہا ہے تو آپ کیا کر سکتے ہیں؟ آپ ہر ہفتے اپنے گروپ کے کسی مبشر کے ساتھ مل کر مُنادی کرنے کا پروگرام بنا سکتے ہیں۔ اِس کے علاوہ آپ اِس بات پر بھی غور کر سکتے ہیں کہ آپ کی زندگی میں سب سے اہم کیا ہے اور آپ اپنے وقت کو سمجھداری سے کیسے اِستعمال کر سکتے ہیں۔ (روم 12:11؛ کُل 4:5) اگر آپ باقاعدگی سے اپنے گروپ کے ساتھ مل کر مُنادی کرنے کی پوری کوشش کریں گے تو اِس سے گروپ کے ہر بہن بھائی کو فائدہ ہوگا۔ تو مدد کے لیے یہوواہ سے دُعا کریں۔ وہ ”آپ میں ایسے کام کرنے کی خواہش اور طاقت پیدا“ کر سکتا ہے جو اُسے پسند ہیں۔—فِل 2:13۔
9. ہم اپنے گروپ کے بہن بھائیوں کو اپنی محبت کا احساس کیسے دِلا سکتے ہیں؟ (رومیوں 12:13)
9 اپنے گروپ کے بہن بھائیوں کو یہ احساس دِلائیں کہ آپ سب ایک گھرانے کی طرح ہیں۔ ہم مہماننوازی دِکھانے سے اپنے گروپ کے بہن بھائیوں کو اپنی محبت کا احساس دِلا سکتے ہیں۔ (رومیوں 12:13 کو پڑھیں۔) مثال کے طور پر ہم اپنے گھر کو مُنادی کے اِجلاس کے لیے پیش کر سکتے ہیں۔ اِس کے علاوہ کچھ کلیسیاؤں میں ہر گروپ اپنی اپنی باری پر اُس بھائی کے لیے مہماننوازی دِکھاتا ہے جو کسی اَور کلیسیا سے عوامی تقریر کرنے آتا ہے۔ اور اگر وہ بھائی کسی وجہ سے ایک گروپ کے ساتھ مل کر کھانا نہیں بھی کھا پاتا تو تب بھی اُس گروپ کے کچھ بہن بھائی اِجلاس کے بعد ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کھانا کھاتے اور وقت گزارتے ہیں۔ اِس سلسلے میں سارہ نام کی خصوصی پہلکار نے کہا: ”جب بھی مَیں دوسروں کی دعوت کرتی ہوں تو مَیں کافی گھبرائی ہوتی ہوں۔ اِس لیے مَیں کوشش کرتی ہوں کہ مَیں کچھ سادہ سا کھانا بناؤں تاکہ مَیں اپنا پورا دھیان دوسروں کو اچھی طرح سے جاننے پر رکھوں نہ کہ اِس بات پر کہ پتہ نہیں، مہمانوں کو کھانا پسند آئے گا یا نہیں۔“ جب ہم اپنے گروپ کے بہن بھائیوں کو یہ احساس دِلاتے ہیں کہ ہم اُن سے محبت کرتے ہیں اور وہ ہمارے گھرانے کی طرح ہیں تو ہم یہوواہ کے اور ایک دوسرے کے اَور قریب ہو جاتے ہیں۔—نحم 8:10؛ اعما 20:35۔
10. اگر ہمیں لگتا ہے کہ ہمیں مُنادی کرنے اور تعلیم دینے کی مہارت میں بہتری لانے کی ضرورت ہے تو ہم کیا کر سکتے ہیں؟ (اَمثال 1:5؛ 27:17) (تصویر کو بھی دیکھیں۔)
10 مُنادی کرنے اور تعلیم دینے کی مہارت میں بہتری لاتے رہیں۔ جتنا زیادہ ہم مُنادی کرنے اور تعلیم دینے کی مہارتوں میں بہتری لائیں گے اُتنا ہی زیادہ ہمارا دل چاہے گا کہ ہم اپنے گروپ کے ساتھ مل کر مُنادی کریں۔ تو اِس بارے میں سوچیں کہ آپ اَور اچھی طرح سے مُنادی کرنے اور تعلیم دینے کے لیے کیا کر سکتے ہیں۔ کیوں نہ اپنے گروپ میں کسی بہن یا بھائی سے مدد مانگیں جیسے کہ کسی پہلکار یا کسی تجربہکار مبشر سے؟ (اَمثال 1:5؛ 27:17 کو پڑھیں۔) اپنے گروپ کے نگہبان کو بتائیں کہ آپ نے اَور اچھی طرح سے مُنادی کرنے کے لیے کون سے منصوبے بنائے ہوئے ہیں۔ وہ اِس حوالے سے آپ کی مدد کرنے کی پوری کوشش کرے گا۔ آپ اپنے گروپ میں کسی ایسے مبشر سے بھی مدد لے سکتے ہیں جو کئی سالوں سے مُنادی کر رہا ہے۔ حیدر نام کی بہن نے ایسا ہی کِیا۔ حالانکہ وہ کافی شرمیلی ہیں اور اُنہیں دوسروں سے بات کرنا اور مدد مانگنا مشکل لگتا ہے لیکن اُنہوں نے کہا: ”مَیں نے واپسی ملاقاتیں کرنے کے لیے ایک پہلکار سے مدد مانگی۔ وہ بہت مہربان اور دوسروں سے پیار کرنے والی بہن تھیں۔ وہ باقاعدگی سے میرے ساتھ مل کر مُنادی کرتی تھیں۔ اُن کی مدد سے تو مَیں ایک عورت کو بائبل کورس بھی شروع کرا پائی۔ مَیں بہت خوش ہوں کہ مَیں نے اُن سے مدد مانگی کیونکہ اب مجھے پھر سے مُنادی کرنے میں مزہ آتا ہے۔“ واقعی ہم سب مختلف طریقوں سے اپنے گروپ کے بہن بھائیوں کی مدد کر سکتے ہیں۔
ایک چھوٹے گروپ کا حصہ ہونے سے ہمیں ایک دوسرے کو اچھی طرح سے جاننے اور مل کر مُنادی کرنے کا موقع ملتا ہے۔ (پیراگراف نمبر 10 کو دیکھیں۔)
ہمیں اپنے گروپ کا حصہ ہونے سے کیسے فائدہ ہوتا ہے؟
11-12. اپنے گروپ کا حصہ ہونے کی وجہ سے ہم یہوواہ کے قریب کیسے رہ سکتے ہیں؟ ایک تجربہ بتائیں۔
11 ہم یہوواہ کے قریب رہ پاتے ہیں۔ ہم سبھی کو اپنے گروپ کا حصہ ہونے کی وجہ سے کئی طریقوں سے فائدہ ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر اِس بندوبست کے ذریعے یہوواہ اُن لوگوں کی اچھے سے دیکھبھال کر پاتا ہے جنہیں خاص توجہ اور محبت کی ضرورت ہوتی ہے جیسے کہ بیوہ، یتیم اور بوڑھے بہن بھائی۔ (1-تھس 2:8؛ یعقو 1:27) اِس کے علاوہ اپنے گروپ کے بہن بھائیوں کے ساتھ مل کر مُنادی کرنے سے ہم اَور اچھی طرح سے دوسروں سے بات کرنا اور اُنہیں تعلیم دینا سیکھتے ہیں۔ کلیسیا میں اچھی مثال قائم کرنے والے بپتسمہیافتہ بھائیوں کو اپنے گروپ کے ساتھ مل کر مُنادی کرنے سے یہ فائدہ ہوتا ہے کہ اِس دوران اُنہیں ٹریننگ دی جاتی ہے جس کی مدد سے وہ کلیسیا میں اَور ذمےداریاں اُٹھانے کے لائق بن سکتے ہیں۔—1-تیم 3:10۔
12 ذرا پھر سے بہن وینڈی کی بات پر غور کریں جنہوں نے بتایا کہ اُنہیں اپنے گروپ کا حصہ ہونے سے کیسے فائدہ ہوا۔ اُنہوں نے کہا: ”میرے ابو یہوواہ کے گواہوں کے خلاف تھے۔ اِس لیے میری امی کے لیے اکثر ہفتے اور اِتوار کو اپنے گروپ کے ساتھ مل کر مُنادی کرنا مشکل ہوتا تھا۔ لیکن مَیں مُنادی کرنے جاتی تھی کیونکہ ابو نے مجھے اِس کی اِجازت دی ہوئی تھی۔ ایک پہلکار نے میری بڑی مدد کی۔ حالانکہ وہ مجھ سے عمر میں بڑی تھیں لیکن وہ میری بہت اچھی دوست بن گئیں۔ اُنہوں نے مجھے سکھایا کہ مَیں اَور اچھی طرح سے مُنادی کیسے کر سکتی ہوں اور کلیسیا کے اَور زیادہ کام کیسے آ سکتی ہوں۔ جب مَیں نوجوان تھی تو کلیسیا کے شفیق چرواہوں نے میرا بہت حوصلہ بڑھایا اور یہوواہ کے قریب رہنے میں میری مدد کی۔ مَیں آج بھی اُس وقت کو یاد کرتی ہوں جب میرے گروپ کا نگہبان بڑے پیار سے مجھے بائبل سے مشورے دیتا تھا۔ یہ مشورے آج بھی میرے بہت کام آ رہے ہیں۔“
13. گروپ کے بندوبست کے ذریعے ہمیں ایسے دوست کیسے مل سکتے ہیں جو ہم سے محبت کرتے ہیں؟ (تصویر کو بھی دیکھیں۔)
13 ہمیں ایسے دوست ملتے ہیں جو ہم سے پیار کرتے اور ہماری مدد کرتے ہیں۔ جب ہم اپنے گروپ کے بہن بھائیوں کے ساتھ ”کندھے سے کندھا ملا کر“ مُنادی کرتے ہیں تو ہم اُن کے قریب ہو جاتے ہیں۔ (فِل 1:27) چونکہ ایک گروپ میں بہن بھائیوں کی تعداد کم رکھی جاتی ہے اِس لیے اُن بہن بھائیوں کے لیے بھی دوسروں سے دوستی کرنا آسان ہوتا ہے جو زیادہ بات نہیں کرتے یا شرمیلے ہوتے ہیں۔ (2-کُر 6:13) ہمارے گروپ کے بہن بھائی اُس وقت ہمارا سہارا بنتے ہیں جب ہم بیمار ہوتے ہیں، کسی بات کی وجہ سے پریشان ہوتے ہیں یا اپنے عزیز کی موت کی وجہ سے دُکھی ہوتے ہیں۔ (1-تھس 5:14) بےشک جیسے جیسے بڑی مصیبت قریب آ رہی ہے، ہمیں پکے دوستوں کی پہلے سے بھی زیادہ ضرورت ہوگی۔ (متی 24:21) سچ ہے کہ ہمارے بہن بھائی ہماری مشکلوں کو دُور نہیں کر سکتے لیکن اُن کی محبت اور اُن کے ساتھ کی وجہ سے ہمارے لیے اپنی مشکلوں سے لڑنا آسان ہو سکتا ہے۔—اَمثا 17:17۔
دو بہنیں جو ایک ہی گروپ میں ہیں، مل کر مُنادی کرنے کے لیے جا رہی ہیں۔ (پیراگراف نمبر 13 کو دیکھیں۔)
14. اپنے گروپ کا حصہ ہونے سے ہماری اُس وقت کیسے مدد ہوتی ہے جب ہمیں کسی قدرتی آفت یا ایمرجنسی کا سامنا ہوتا ہے؟
14 ایمرجنسی کے وقت ہماری اچھے سے مدد ہو پاتی ہے۔ ہم میں سے کسی کو بھی اچانک سے علاج کے حوالے سے مدد کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ یا پھر ہمیں اچانک سے کسی قدرتی آفت، وبا یا حکومت کی طرف سے اذیت کا سامنا ہو سکتا ہے۔ جب ایسی صورتحال کھڑی ہوتی ہے تو گروپ کے نگہبان ہماری مدد کرنے کے لیے تیار ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر جب کوئی قدرتی آفت آتی ہے تو گروپ کے نگہبان اپنے گروپ کے ہر گھرانے سے رابطہ کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ اُنہیں علاج، کھانے پینے کی چیزوں، کپڑوں اور رہائش کی ضرورت تو نہیں۔ اِس کے بعد وہ ہر گھرانے کی ضرورت کے مطابق اُس کی مدد کرتے ہیں۔ گروپ کا نگہبان کلیسیا کی خدمتی کمیٹی سے بھی یہ بات کرتا ہے کہ اُس کے گروپ میں کن کو ایمرجنسی کے وقت زیادہ مدد کی ضرورت ہے۔ اِس کے بعد وہ مل کر گروپ کے بہن بھائیوں کی مدد کرنے کے لیے منصوبہ بناتے ہیں۔ واقعی اپنے گروپ کا حصہ ہونے سے ہمیں آفت اور ایمرجنسی کے وقت بہت مدد ملتی ہے!
15. چاہے یہوواہ کی عبادت کرنے والے آسمان پر ہوں یا زمین پر، وہ سبھی کیا کرنا چاہتے ہیں؟
15 یہوواہ کی تنظیم بہت بڑی ہے! اُس کی تنظیم کے آسمانی حصے میں لاکھوں لاکھ فرشتے ہیں اور اُس کی تنظیم کے زمینی حصے میں 90 لاکھ سے زیادہ بندے شامل ہیں جن کی تعداد دنبہدن بڑھتی جا رہی ہے۔ (زک 8:23؛ مُکا 5:11) چاہے یہوواہ کی عبادت کرنے والے آسمان پر ہوں یا زمین پر، وہ سبھی متحد ہو کر لوگوں تک بادشاہت کی خوشخبری پہنچا رہے ہیں۔ (مُکا 14:6، 7) دُعا ہے کہ ہم سب اپنے گروپ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ یہ ایک ایسا بندوبست ہے جس کے ذریعے ہمیں دل سے یہوواہ کی بڑائی کرنے کا موقع ملتا ہے۔—زبور 111:1۔
گیت نمبر 61 یہوواہ کے بندو، نہ ڈرو!
a کچھ نام بدل دیے گئے ہیں۔
b ضرورت پڑنے پر ایک لائق خادم اُس وقت تک گروپ کی نگرانی کر سکتا ہے جب تک کسی بزرگ کا بندوبست نہیں ہو جاتا۔ چونکہ وہ ایک بزرگ نہیں ہے اِس لیے اُسے گروپ کا خادم کہا جاتا ہے۔ وہ گروپ کی دیکھبھال کرنے کے لیے بس بزرگوں کی مدد کر رہا ہے اِس لیے بزرگ اُسے ہدایتیں دیں گے کہ اُسے یہ کام کیسے کرنا ہے۔