مطالعے کا مضمون نمبر 16
گیت نمبر 87: اِجلاسوں سے تازگی پائیں
ہمارے لیے اچھا ہے کہ ہم ایک دوسرے کے قریب ہوتے جائیں
”دیکھو! یہ کتنی اچھی اور خوشی کی بات ہے کہ بھائی ملجُل کر رہیں!“—زبور 133:1۔
غور کریں کہ . . .
ہم کن طریقوں سے ایک دوسرے کے اَور قریب ہو سکتے ہیں اور ہمیں اُس وقت یہوواہ سے برکتیں کیسے ملتی ہیں جب ہم اپنے ہمایمانوں کے ساتھ دوستی کرتے ہیں۔
1-2. یہوواہ کی نظر میں کون سی بات بہت اہمیت رکھتی ہے اور وہ ہم سے کیا چاہتا ہے؟
یہوواہ کی نظر میں کچھ باتیں بہت اہمیت رکھتی ہیں۔ اِن میں سے ایک بات یہ ہے کہ ہم دوسروں کے ساتھ کس طرح سے پیش آتے ہیں۔ یسوع مسیح نے ہمیں سکھایا ہے کہ ہم اپنے پڑوسی سے اُسی طرح محبت کریں جس طرح ہم اپنے آپ سے کرتے ہیں۔ (متی 22:37-39) ہمارے پڑوسی میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو ہمارے عقیدوں کو نہیں مانتے۔ جب ہم ایسے لوگوں کے لیے بھی محبت دِکھاتے ہیں تو ہم اپنے آسمانی باپ کی مثال پر عمل کر رہے ہوتے ہیں جو ”اچھے اور بُرے لوگوں پر سورج چمکاتا ہے اور نیکوں اور بدوں دونوں پر بارش برساتا ہے۔“—متی 5:45۔
2 بےشک یہوواہ سب اِنسانوں سے پیار کرتا ہے لیکن وہ خاص طور پر اُن لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اُس کے حکموں کو مانتے ہیں۔ (یوح 14:21) وہ چاہتا ہے کہ ہم بھی اُس کی طرح بنیں۔ اِسی لیے وہ ہماری حوصلہافزائی کرتا ہے کہ ہم اپنے ہمایمانوں سے ’دل کی گہرائی سے محبت رکھیں۔‘ (1-پطر 4:8؛ روم 12:10) یہ ایسی محبت ہے جو ہم اپنے گھر والوں، رشتےداروں یا اُن دوستوں کے لیے محسوس کرتے ہیں جن کے ہم قریب ہوتے ہیں۔
3. ہمیں محبت کے حوالے سے کون سی بات یاد رکھنی چاہیے؟
3 جس طرح ہم اپنے باغ میں لگے پودوں کا خیال رکھتے ہیں تاکہ وہ بڑھ سکیں اُسی طرح ہمیں اِس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ ہمارے دل میں اپنے بہن بھائیوں کے لیے محبت بڑھتی رہے۔ پولُس رسول نے اِس حوالے سے یہ نصیحت کی: ”ایک دوسرے سے بہن بھائیوں کی طرح پیار کرتے رہیں۔“ (عبر 13:1) یہوواہ چاہتا ہے کہ ہم اپنے بہن بھائیوں کے لیے اپنی محبت کو اَور گہرا کریں۔ اِس مضمون میں ہم دیکھیں گے کہ ہمیں اپنے ہمایمانوں کے اَور زیادہ قریب کیوں ہونا چاہیے اور ہم ایسا کیسے کرتے رہ سکتے ہیں۔
ہمیں ایک دوسرے کے اَور زیادہ قریب کیوں ہونا چاہیے؟
4. ہم اپنے بہن بھائیوں کے بیچ اُس اِتحاد کو کیسے قائم رکھ سکتے ہیں جس کا ذکر زبور 133:1 میں ہوا ہے؟ (تصویروں کو بھی دیکھیں۔)
4 زبور 133:1 کو پڑھیں۔ ہم اِس زبور کو لکھنے والے شخص کی بات سے اِتفاق کرتے ہیں۔ واقعی یہوواہ سے محبت کرنے والے لوگوں کا سچا دوست بننا بہت ”اچھی اور خوشی“ کی بات ہوتی ہے! لیکن جس طرح ایک شخص ایک گھنے اور رنگین پھولوں سے بھرے درخت کی خوبصورتی کو نظرانداز کرنے لگ سکتا ہے جسے وہ ہر روز دیکھتا ہے اُسی طرح ہو سکتا ہے کہ ہم اپنے ہمایمانوں کے بیچ پائے جانے والے اِتحاد کی خوبصورتی کو نظر انداز کرنے لگیں کیونکہ ہم اکثر اُن سے ملتے ہیں؛ کبھی کبھار تو ہفتے میں کئی بار۔ تو پھر ہم کیا کر سکتے ہیں تاکہ ہم اپنے دل میں اپنے ہمایمانوں کے لیے قدر بڑھاتے رہیں؟ اگر ہموقت نکال کر اِس بات پر سوچ بچار کریں گے کہ ہمارا ہر بھائی اور بہن کلیسیا کے لیے اور ہمارے لیے کتنا خاص ہے تو ہم اُس کے لیے اپنی محبت کو بڑھا سکیں گے۔
اُس اِتحاد کو کبھی نظرانداز نہ کریں جو آپ کے ہمایمانوں کے بیچ پایا جاتا ہے۔ (پیراگراف نمبر 4 کو دیکھیں۔)
5. جب لوگ ہماری آپسی محبت کو دیکھتے ہیں تو اُنہیں کس بات کا احساس ہو سکتا ہے؟
5 جو لوگ ہماری عبادتگاہ میں پہلی بار آتے ہیں، اُن میں سے کچھ لوگ یہ دیکھ کر بہت متاثر ہوتے ہیں کہ ہم ایک دوسرے سے کتنی محبت کرتے ہیں۔ کبھی کبھار تو اُنہیں صرف یہی بات دیکھ کر احساس ہو جاتا ہے کہ اُنہوں نے یسوع کے سچے پیروکاروں کو ڈھونڈ لیا ہے۔ یسوع مسیح نے کہا تھا: ”اگر آپ کے درمیان محبت ہوگی تو سب لوگ پہچان جائیں گے کہ آپ میرے شاگرد ہیں۔“ (یوح 13:35) ذرا ایک یونیورسٹی میں پڑھنے والی لڑکی کی مثال پر غور کریں جس کا نام بھاوناa ہے۔ وہ یہوواہ کے گواہوں سے بائبل کورس کر رہی تھی۔ جب اُسے بائبل کورس کرانے والی مبشر نے اُسے ہمارے علاقائی اِجتماع کا دعوتنامہ دیا تو بھاونا نے خوشی سے اِسے قبول کر لیا۔ پہلے دن اِجتماع پر جانے کے بعد بھاونا نے اُس مبشر سے کہا: ”میرے امی ابو نے مجھے کبھی گلے نہیں لگایا۔ لیکن اِس اِجتماع پر مجھے ایک ہی دن میں 52 بار گلے لگایا گیا! یہوواہ اپنے خاندان کے ذریعے مجھے اپنی محبت کا احساس دِلا رہا ہے۔ مَیں بھی اُس کے اِس خاندان کا حصہ بننا چاہتی ہوں۔“ بھاونا یہوواہ کی خدمت میں آگے بڑھتی گئی اور 2024ء میں اُس نے بپتسمہ لے لیا۔ واقعی جب لوگ ہمارے اچھے کاموں کو دیکھتے ہیں جن میں ایک دوسرے کے لیے محبت دِکھانا بھی شامل ہے تو اکثر اُن کے دل میں بھی یہوواہ کی عبادت کرنے کی خواہش پیدا ہوتی ہے۔—متی 5:16۔
6. ہمیں اپنے بہن بھائیوں کے قریب رہنے سے تحفظ کیسے مل سکتا ہے؟
6 ہمیں اپنے بہن بھائیوں کے قریب رہنے سے تحفظ مل سکتا ہے۔ پولُس نے اپنے ہمایمانوں سے کہا: ”ہر دن ایک دوسرے کی حوصلہافزائی کرتے رہیں تاکہ آپ میں سے کسی کا دل گُناہ کی دھوکاباز کشش سے سخت نہ ہو جائے۔“ (عبر 3:13) جب ہم اِتنے بےحوصلہ ہو جاتے ہیں کہ ہمارے قدم سیدھی راہ سے بھٹکنے لگتے ہیں تو یہوواہ ہمارے کسی بھائی یا بہن کے دل میں یہ بات ڈال سکتا ہے کہ وہ اِس حوالے سے ہماری مدد کرے۔ (زبور 73:2، 17، 23) بےشک اِس طرح کی مدد اور حوصلہافزائی سے ہمیں بہت فائدہ ہوتا ہے!
7. محبت اور اِتحاد کا آپس میں کیا تعلق ہے؟ (کُلسّیوں 3:13، 14)
7 ہم ایسے لوگوں میں شامل ہیں جو ایک دوسرے کے لیے محبت دِکھانے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔ اِس وجہ سے ہمیں بہت سی برکتیں ملی ہیں۔ (1-یوح 4:11) مثال کے طور پر اگر ہمیں ایک دوسرے سے شکایت ہوتی ہے تو محبت کی وجہ سے ہم ایک دوسرے کی غلطیوں کو برداشت کرتے ہیں۔ اِس طرح ہم اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ متحد رہ پاتے ہیں۔ (کُلسّیوں 3:13، 14 کو پڑھیں؛ اِفِس 4:2-6) اِس کے علاوہ ہماری عبادتگاہوں کا ماحول بھی خوشگوار رہتا ہے جو زمین پر موجود کسی اَور گروہ کے لوگوں کے بیچ دیکھنے کو نہیں ملتا۔
ایک دوسرے کی عزت کریں
8. یہوواہ ہماری مدد کیسے کرتا ہے تاکہ ہم اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ متحد رہ سکیں؟
8 پوری دُنیا میں ہمارے ہمایمانوں کے بیچ پایا جانے والا اِتحاد کسی معجزے سے کم نہیں ہے۔ یہ صرف یہوواہ کی ہی بدولت ہوا کیونکہ اُسی کی وجہ سے ہم عیبدار ہونے کے باوجود ایک مُٹھی ہیں۔ (1-کُر 12:24، 25) بائبل میں لکھا ہے: ”خدا نے آپ کو سکھایا ہے کہ ایک دوسرے سے پیار کریں۔“ (1-تھس 4:9) دوسرے لفظوں میں کہیں تو یہوواہ اپنے کلام کے ذریعے ہمیں بتاتا ہے کہ ہمیں ایک دوسرے کے اَور زیادہ قریب ہونے کے لیے کیا کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم یہوواہ کے کلام میں پائی جانے والی تعلیمات کا گہرائی سے مطالعہ کرنے اور اِن پر عمل کرنے سے یہوواہ سے سیکھ سکتے ہیں۔ (عبر 4:12؛ یعقو 1:25) اور ہم ایسا ہی کرنے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔
9. ہم رومیوں 12:9-13 میں لکھی اِس بات سے کیا سیکھتے ہیں کہ ”ایک دوسرے کی عزت کرنے میں پہل کریں“؟
9 خدا کے کلام کے ذریعے ہم ایک دوسرے کے اَور قریب ہونا کیسے سیکھ سکتے ہیں؟ دیکھیں کہ اِس حوالے سے پولُس رسول نے رومیوں 12:9-13 میں کیا کہا۔ (اِن آیتوں کو پڑھیں۔) غور کریں کہ اُنہوں نے کہا کہ ”ایک دوسرے کی عزت کرنے میں پہل کریں۔“ اِس کا کیا مطلب ہے؟ اِس کا مطلب ہے کہ ہمیں مختلف طریقوں سے اپنے بہن بھائیوں کے لیے محبت دِکھانے کو تیار رہنا چاہیے جیسے کہ اُنہیں معاف کرنے اور اُن کے لیے مہماننوازی اور فراخدلی دِکھانے کو۔ (اِفِس 4:32) ہمیں اِس بات کے اِنتظار میں نہیں رہنا چاہیے کہ ہمارے بہن بھائیوں کو ہمارے قریب ہونے کی ضرورت ہے۔ ہم خود ایسا کرنے میں پہل کر سکتے ہیں۔ اِس طرح ہم دیکھ پائیں گے کہ یسوع مسیح کی یہ بات واقعی سچ ہے: ”لینے کی نسبت دینے میں زیادہ خوشی ہے۔“—اعما 20:35۔
10. ہم کیسے ظاہر کر سکتے ہیں کہ ہم ”ایک دوسرے کی عزت کرنے میں پہل“ کرنے کے حوالے سے سُستی نہیں کر رہے؟ (تصویر کو بھی دیکھیں۔)
10 یہ بڑی دلچسپی کی بات ہے کہ جب پولُس نے کہا کہ ہم ایک دوسرے کی عزت کرنے میں پہل کریں تو اِس کے فوراً بعد اُنہوں نے ہمیں یہ نصیحت کی کہ ہم ”محنتی ہوں اور سُستی نہ کریں۔“ جو شخص محنتی ہوتا ہے، وہ پورے جی جان اور لگن سے ایک کام کرتا ہے۔ اَمثال 3:27، 28 میں ہماری یہ حوصلہافزائی کی گئی ہے: ”اگر آپ کے بس میں ہو تو اُن لوگوں کے ساتھ اچھائی کرنے سے پیچھے نہ ہٹو جن سے اچھائی کرنی چاہیے۔“ جب ہم دیکھتے ہیں کہ کسی شخص کو مدد کی ضرورت ہے تو ہمیں فوراً آگے بڑھ کر اُس کی مدد کرنی چاہیے۔ ہمیں اِس بات کا اِنتظار نہیں کرنا چاہیے کہ دوسرے آ کر ہم سے مدد مانگیں یا پھر ہمیں یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ کوئی اَور اُن کی مدد کر دے گا۔—1-یوح 3:17، 18۔
ہمیں اپنے ضرورتمند بہن بھائیوں کی مدد کرنے میں پہل کرنی چاہیے۔ (پیراگراف نمبر 10 کو دیکھیں۔)
11. کیا چیز اپنے بہن بھائیوں کے اَور قریب ہونے میں ہماری مدد کر سکتی ہے؟
11 ہم اَور کس طرح سے دوسروں کی عزت کر سکتے ہیں؟ جب کوئی ہمارا دل دُکھاتا ہے تو ہم اُسے جلد از جلد معاف کر سکتے ہیں۔ اِفِسیوں 4:26 میں لکھا ہے: ”جب آپ کو غصہ آئے تو گُناہ نہ کریں بلکہ سورج کے ڈوبنے تک اپنا غصہ دُور کر لیں۔“ ایسا کرنا ضروری کیوں ہے؟ 27 آیت میں بتایا گیا ہے کہ ایسا کرنے سے ہم ’اِبلیس کو موقع نہیں دیں گے۔‘ یہوواہ نے اپنے کلام میں بار بار ہماری حوصلہافزائی کی ہے کہ ہم ایک دوسرے کو معاف کریں۔ کُلسّیوں 3:13 میں بتایا گیا ہے کہ ہم ”دل سے ایک دوسرے کو معاف“ کرتے رہیں۔ اپنے بہن بھائیوں کے اَور زیادہ قریب جانے کا ایک بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم اُن کی غلطیوں کو معاف کر دیں۔ ایسا کرنے سے ہم ”اُس اِتحاد کو برقرار رکھنے کی پوری کوشش کریں[گے]جو ہمیں پاک روح کے ذریعے حاصل ہے۔“ (اِفِس 4:3) اگر سادہ لفظوں میں کہیں تو معاف کرنے سے یہوواہ کے بندوں کے بیچ صلح اور اِتحاد کا بندھن اَور مضبوط ہو سکتا ہے۔
12. دوسروں کو معاف کرنے کے حوالے سے یہوواہ ہماری مدد کیسے کرتا ہے؟
12 سچ ہے کہ ہمیں اُن لوگوں کو معاف کرنا مشکل لگ سکتا ہے جنہوں نے ہمارا دل دُکھایا ہے۔ لیکن یہوواہ کی پاک روح کی مدد سے ہم ایسا کر سکتے ہیں۔ پاک کلام میں ہمیں ’ایک دوسرے سے پیار‘ کرنے اور ’محنتی ہونے‘ کی نصیحت کرنے کے بعد یہ کہا گیا ہے کہ ہم ”پاک روح سے دہکتے رہیں۔“ (روم 12:11) اِس کا مطلب ہے کہ یہوواہ کی پاک روح ہم میں ہر وہ کام کرنے کا جوش بھر سکتی ہے جو یہوواہ کو پسند ہے۔ یہ ہماری مدد کر سکتی ہے کہ ہم ایک دوسرے سے پیار کریں اور دل سے ایک دوسرے کو معاف کریں۔ اِسی لیے ہمیں شدت سے یہوواہ سے اُس کی پاک روح مانگنی چاہیے۔—لُو 11:13۔
”آپ میں کوئی اِختلاف نہ پایا جائے“
13. کن باتوں کی وجہ سے ہم میں اِختلاف پیدا ہو سکتا ہے؟
13 ہماری کلیسیائیں ’ہر طرح کے لوگوں‘ سے مل کر بنی ہیں۔ ہم سب مختلف پسمنظر سے تعلق رکھتے ہیں۔ (1-تیم 2:3، 4) اِسی لیے ہم میں سے ہر ایک فرق فرق معاملوں میں فرق اِنتخاب کرتا ہے جیسے کہ پہناوے، بننے سنورنے، علاج اور تفریح جیسے معاملوں میں۔ (روم 14:4؛ 1-کُر 1:10) چونکہ ’خدا نے ہمیں سکھایا ہے کہ ہم ایک دوسرے سے پیار کریں‘ اِس لیے ہمیں محتاط رہنا چاہیے کہ ہم اپنی پسند اور رائے کو دوسروں پر نہ تھوپیں اور یہ نہ سمجھیں کہ ہماری پسند اور رائے دوسروں سے بہتر ہے۔—فِل 2:3۔
14. ہمیں ہمیشہ کیا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور کیوں؟
14 ہم دوسروں کے لیے حوصلے اور تازگی کا باعث بننے سے بھی کلیسیا میں اِختلافات پیدا ہونے سے روک سکتے ہیں۔ (1-تھس 5:11) حال ہی میں کئی ایسے لوگ کلیسیا میں لوٹ آئے ہیں جنہوں نے یہوواہ کی خدمت کرنا چھوڑ دی تھی یا جنہیں کلیسیا سے نکال دیا گیا تھا۔ ہم بڑی محبت اور پورے دل سے اُن کا خیرمقدم کرتے ہیں! (2-کُر 2:8) ذرا ایک ایسی بہن کی مثال پر غور کریں جو تقریباً دس سال یہوواہ سے دُور رہنے کے بعد ہماری عبادتگاہ میں آئی۔ اُس نے کہا: ”سبھی نے مسکرا کر اور مجھ سے ہاتھ ملا کر میرا اِستقبال کِیا۔“ (اعما 3:19) جب بہن بھائیوں نے اِن چھوٹے موٹے طریقوں سے اُس بہن کے لیے محبت دِکھائی تو اِس کا اُس بہن پر کیا اثر ہوا؟ اُس نے کہا: ”مجھے ایسے لگا جیسے یہوواہ پھر سے خوشیوں کی طرف لوٹنے میں میری رہنمائی کر رہا ہو۔“ جب ہم دوسروں کے لیے حوصلے کا باعث بنتے ہیں تو ایک طرح سے یسوع مسیح ہمارے ذریعے اُن لوگوں کو تازہدم کر رہے ہوتے ہیں جو ”بوجھ تلے دبے“ ہیں۔—متی 11:28، 29۔
15. ہم اَور کس طرح سے اپنے آپسی اِتحاد کو بڑھا سکتے ہیں؟ (تصویر کو بھی دیکھیں۔)
15 ہم اپنی باتوں سے بھی اپنے بہن بھائیوں کے بیچ اِتحاد کو بڑھا سکتے ہیں۔ ایوب 12:11 میں لکھا ہے: ”جیسے زبان کھانے کو چکھتی ہے ویسے ہی کان باتوں کو پرکھتا ہے۔“ جس طرح ایک اچھا باورچی دوسروں کو کھانا پیش کرنے سے پہلے یہ دیکھتا ہے کہ اُنہیں اِس کا ذائقہ کیسا لگے گا اُسی طرح ہمیں بھی کوئی بات کہنے سے پہلے یہ سوچ لینا چاہیے کہ دوسروں کو یہ بات کیسی لگے گی۔ (زبور 141:3) تو کوئی بھی بات کہنے سے پہلے ہمارا مقصد ہمیشہ یہ ہونا چاہیے کہ ہماری باتوں سے دوسروں کو حوصلہ اور تازگی ملے اور ”سننے والوں کو فائدہ پہنچے۔“—اِفِس 4:29۔
کوئی بھی بات بولنے سے پہلے سوچیں کہ آپ اِسے کیسے کہیں گے۔ (پیراگراف نمبر 15 کو دیکھیں۔)
16. خاص طور پر کن کو اِس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ وہ دوسروں سے ایسے بات کریں جس سے اُن کا حوصلہ بڑھے؟
16 شوہروں اور والدین کو خاص طور پر اِس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ وہ اِس طرح سے بات کریں جس سے دوسروں کا حوصلہ بڑھے۔ (کُل 3:19، 21؛ طِط 2:4) کلیسیا کے بزرگوں کو بھی یہوواہ کے گلّے کی نگہبانی کرتے وقت تازگی اور حوصلے کا باعث ہونا چاہیے۔ (یسع 32:1، 2؛ گل 6:1) ہمیں بائبل میں لکھی یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے: ”صحیح وقت پر کہی گئی بات کیا خوب ہوتی ہے!“—اَمثا 15:23۔
”کاموں اور سچائی سے محبت ظاہر“ کریں
17. ہم دل سے اپنے بہن بھائیوں سے محبت کرنے کے لیے کیا کر سکتے ہیں؟
17 یوحنا رسول نے ہماری حوصلہافزائی کی ہے کہ ”ہمیں زبانی کلامی نہیں بلکہ کاموں اور سچائی سے محبت ظاہر کرنی چاہیے۔“ (1-یوح 3:18) ہم صرف اُوپر اُوپر سے ہی نہیں بلکہ دل سے اپنے بہن بھائیوں سے محبت کرنا چاہتے ہیں۔ ہم یہ کیسے کر سکتے ہیں؟ جتنا زیادہ ہم اپنے ہمایمانوں کے ساتھ وقت گزاریں گے اُتنا ہی زیادہ ہم اُن کے قریب ہو جائیں گے اور ہمارے دل میں اُن کے لیے محبت بڑھ جائے گی۔ تو اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ وقت گزارنے کے موقعے پیدا کریں جیسے کہ عبادتوں اور مُنادی کے دوران۔ اِس کے علاوہ اُن سے دوسرے موقعوں پر بھی ملنے کے لیے وقت نکالیں۔ ایسا کرنے سے یہ ثابت ہوگا کہ ہم نے خدا سے سیکھا ہے کہ ہم”ایک دوسرے سے پیار کریں۔“ (1-تھس 4:9) اِس کے علاوہ ہم اِس بات کے بھی کئی ثبوت دیکھ پائیں گے کہ ”یہ کتنی اچھی اور خوشی کی بات ہے کہ بھائی ملجُل کر رہیں!“—زبور 133:1۔
گیت نمبر 90: ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھائیں
a کچھ نام فرضی ہیں۔