بائبل ہمارے زمانے کی بابت اہم سوالات کا جواب دیتی ہے
کیا بائبل آجکل بھی موزوں ہے؟ اس سوال کا مثبت جواب حاصل کرنے کے لئے اس قدیم کتاب کو اپنے قارئین کے لئے فی زمانہ دلچسپی کے حامل اور معقول موضوعات کے سلسلے میں راہنمائی پیش کرنی ہوگی۔ کیا بائبل آج کی دُنیا میں حقیقی اہمیت کے حامل موضوعات پر مفید مشورت فراہم کرتی ہے؟
آیئے موجودہ دَور کے دو اہم مسائل پر غور کریں۔ اس میں ہم اس بات کا جائزہ لینگے کہ بائبل ان معاملات کے بارے میں کیا بیان کرتی ہے۔
خدا دُکھتکلیف کی اجازت کیوں دیتا ہے؟
آجکل دُنیاوی حالات کے پیشِنظر، عام طور پر یہ سوال پوچھا جاتا ہے: خدا معصوم لوگوں کو کیوں دُکھتکلیف اُٹھانے دیتا ہے؟ یہ سوال معقول ہے کیونکہ بیشتر لوگ متشدّد جُرم، بدعنوانی، نسلکشی، شخصی مصیبت اور اسی طرح کے دیگر عناصر سے متاثر ہو رہے ہیں۔
مثال کے طور پر، جون ۱۹۹۸ میں شمالی جرمنی میں ایک ایکسپرس ٹرین پل سے ٹکرا گئی جس سے سو سے زیادہ مسافر ہلاک ہو گئے۔ تجربہکار ڈاکٹر اور فائرمین بھی زخمیوں اور لاشوں کو دیکھ کر اس زبردست جانی نقصان سے پریشان ہو گئے۔ ایونجلیکل چرچ کے ایک بشپ نے فریاد کی: ”اَے میرے خدا، یہ سب کیوں ہوا؟“ خود بشپ کے پاس بھی اس کا کوئی جواب نہیں تھا۔
تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ جب معصوم لوگ بِلاوجہ دُکھ اُٹھاتے ہیں تو وہ کبھیکبھار تلخمزاج بن جاتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں بائبل مددگار ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ یہ وضاحت کرتی ہے کہ معصوم لوگ شرارت اور دُکھتکلیف کا نشانہ کیوں بنتے ہیں۔
جب یہوواہ خدا نے زمین اور اس کی تمام چیزوں کو خلق کِیا تو اُس کا ہرگز یہ مقصد نہیں تھا کہ انسان شرارت اور دُکھتکلیف کی وجہ سے پریشان رہیں۔ ہم یہ بات وثوق سے کیسے کہہ سکتے ہیں؟ اسلئےکہ اپنی تخلیق مکمل کرنے کے بعد، ”خدا نے سب پر جو اُس نے بنایا تھا نظر کی اور دیکھا کہ بہت اچھا ہے۔“ (پیدایش ۱:۳۱) خود سے پوچھیں، ’اگر مجھے کسی چیز میں کوئی خرابی نظر آئے تو کیا مَیں اُسے ”بہت اچھا“ کہونگا؟‘ ہرگز نہیں! اسی طرح، جب خدا نے ہر چیز کو ”بہت اچھا“ کہا تو اسکا مطلب ہے کہ اُس وقت زمین پر شرارت کا نامونشان تک نہیں تھا۔ پس زمین پر شرارت کب اور کیسے شروع ہوئی؟
ہمارے پہلے والدین، آدم اور حوّا کی تخلیق کے کچھ ہی عرصہ بعد، ایک طاقتور روحانی مخلوق عورت کے پاس گیا اور اُس نے یہوواہ کی صداقت اور اُسکے حکمرانی کے حق کو للکارا۔ (پیدایش ۳:۱-۵) اس مخلوق، شیطان ابلیس نے بعدازاں، انسانوں پر بھی یہ الزام لگایا کہ وہ مصیبت کے تحت خدا کے وفادار نہیں رہینگے۔ (ایوب ۲:۱-۵) یہوواہ نے اس صورتحال کیلئے کیسا ردِعمل دکھایا؟ اُس نے وقت دے دیا تاکہ یہ ثابت ہو جائے کہ انسان خدا سے دُور رہ کر کامیابی کیساتھ اپنے قدموں کی راہنمائی نہیں کر سکتا۔ (یرمیاہ ۱۰:۲۳) جب انسان خدا کے قوانین اور اُصولوں کے برعکس کام کرتے ہیں تو یہ گناہ پر منتج ہوتا ہے جوکہ نقصاندہ حالتوں کا باعث بنتا ہے۔ (واعظ ۸:۹؛ ۱-یوحنا ۳:۴) تاہم، ان ناموافق حالات کے باوجود، یہوواہ جانتا تھا کہ کچھ انسان اُس کے حضور اپنی راستی برقرار رکھیں گے۔
عدن میں ہونے والی اُس افسوسناک بغاوت سے لیکر کوئی ۶،۰۰۰ سال بیت چکے ہیں۔ کیا یہ بہت طویل عرصہ ہے؟ یہوواہ شیطان اور اُسکے حمایتیوں کو صدیوں پہلے ختم کر سکتا تھا۔ تاہم، کیا یہوواہ کے حکومت کرنے کے جائز حق اور انسانوں کی راستی سے متعلق تمام قابلِفہم شبہات ختم ہو جانے تک انتظار کرنا مفید ثابت نہیں ہوا ہے؟ کیا آجکل کے عدالتی نظام میں بھی ایسا نہیں ہوتا کہ کسی کورٹ کو کیس کے صحیح اور غلط ہونے کا فیصلہ کرنے میں کئی سال لگ جاتے ہیں؟
یہوواہ اور انسانوں کو درپیش مسائل—کُل کائنات کی حاکمیت اور انسانوں کی راستی—کی اہمیت کے پیشِنظر خدا کا وقت گزر جانے کی اجازت دینا کتنی دانشمندانہ بات تھی! اب ہم پوری طرح سمجھتے ہیں کہ جب انسان خدا کے قوانین کو نظرانداز کرکے اپنے طریقے سے معاملات کو سلجھانے کی کوشش کرتے ہیں تو کیا واقع ہوتا ہے۔ نتیجہ عالمی پیمانے پر پائی جانے والی بُرائی ہے۔ لہٰذا، اسی وجہ سے آجکل بیشتر معصوم لوگ دُکھ اُٹھاتے ہیں۔
تاہم، خوشی کی بات یہ ہے کہ خدا کا کلام آشکارا کرتا ہے کہ شرارت ہمیشہ تک قائم نہیں رہیگی۔ درحقیقت، جلد ہی یہوواہ بدی اور اسکے ذمہداروں کو ختم کر دیگا۔ امثال ۲:۲۲ بیان کرتی ہے: ”شریر زمین پر سے کاٹ ڈالے جائینگے اور دغاباز اُس سے اُکھاڑ پھینکے جائینگے۔“ اسکے برعکس، خدا کے وفادار لوگ اُس وقت کے منتظر رہ سکتے ہیں جو اَب بالکل قریب ہے، جب ”نہ موت رہیگی اور نہ ماتم رہیگا۔ نہ آہونالہ نہ درد۔ پہلی چیزیں جاتی رہیں۔“—مکاشفہ ۲۱:۴۔
پس، بائبل واضح طور پر بیان کرتی ہے کہ معصوم لوگ کیوں دُکھتکلیف اُٹھاتے ہیں۔ یہ ہمیں اِس بات کی بھی یقیندہانی کراتی ہے کہ جلد ہی بدکاری اور دُکھتکلیف کا خاتمہ ہو جائیگا۔ تاہم، جب ہم زندگی کی موجودہ مشکلات کا تجربہ کرتے ہیں تو ہمارے لئے ایک اَور اہم سوال کا جواب حاصل کرنا نہایت ضروری ہے۔
زندگی کا مقصد کیا ہے؟
انسانی تاریخ کے کسی بھی دوسرے دَور کی نسبت شاید اب لوگ یہ معلوم کرنے کی زیادہ کوشش کر رہے ہیں کہ زندگی کا مقصد کیا ہے۔ بہتیرے لوگ خود سے پوچھتے ہیں، ’مَیں کیوں زندہ ہوں؟ مَیں اپنی زندگی کے مقصد کو کیسے حاصل کر سکتا ہوں؟‘ مختلف حالات اُنہیں اسطرح کے سوالات پوچھنے پر مجبور کرتے ہیں۔
کسی شخص کی زندگی کسی ذاتی المیے کی وجہ سے پاشپاش ہو سکتی ہے۔ مثال کے طور پر، ۱۹۹۸ کے اوائل میں، بیویریا، جرمنی میں رہنے والی ایک ۱۲ سالہ لڑکی کو اغوا کرنے کے بعد قتل کر دیا گیا۔ ایک سال بعد، اُسکی والدہ نے تسلیم کِیا کہ وہ ہر روز زندگی کے مقصد کی تلاش میں رہتی تھی—جس میں وہ کامیاب نہ ہو سکی۔ بعض نوجوان لوگ زندگی کے مقصد کی بابت سوچنے کی تحریک پاتے ہیں۔ وہ تحفظ، تکمیل اور احساسِاپنائیت کی تلاش میں رہتے ہیں تاہم، وہ وسیع پیمانے پر پھیلی ہوئی ریاکاری اور بدعنوانی سے مایوس ہو جاتے ہیں۔ دیگر لوگ کاروبار کو اپنی زندگیوں کا محور بنا لیتے ہیں مگر وہ اِس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ طاقت، شہرت اور دھندولت زندگی کے مقصد کی بابت جاننے کی اُنکی اندرونی خواہش کو مطمئن نہیں کر سکتے۔
خواہ کوئی بھی چیز ایک شخص کو زندگی کے مقصد کی بابت تفتیش کرنے کی تحریک دے، یہ سوال ایک سنجیدہ اور اطمینانبخش جواب کا تقاضا کرتا ہے۔ ایک بار پھر، بائبل انتہائی مفید ثابت ہو سکتی ہے۔ یہ یہوواہ کی ایک بامقصد خدا، ایک ایسی ہستی کے طور پر پہچان کراتی ہے جس کا ہر کام بامقصد ہوتا ہے۔ ہم پوچھتے ہیں، کیا آپ بغیر کسی وجہ کے ایک گھر تعمیر کرینگے؟ شاید ایسا نہ ہو، کیونکہ گھر تعمیر کرنا بہت زیادہ سرمایہکاری کا تقاضا کرتا ہے اور اس میں کئی مہینے یا سال لگ سکتے ہیں۔ آپ ایک گھر اسلئے بناتے ہیں کہ آپ یا کوئی دوسرا شخص اُس میں رہ سکے۔ یہوواہ کے سلسلے میں بھی اسی منطق کا اطلاق کِیا جا سکتا ہے۔ اُس نے زمین اور اس پر موجود تمام جاندار چیزوں کو بغیر کسی وجہ یا مقصد کے خلق نہیں کِیا تھا۔ (مقابلہ کریں عبرانیوں ۳:۴۔) زمین کیلئے اُس کا مقصد کیا ہے؟
یسعیاہ کی پیشینگوئی یہوواہ کی ”[خدائےبرحق، اینڈبلیو]“ کے طور پر شناخت کراتی ہے جس نے ”زمین بنائی اور تیار کی۔“ یقیناً، اُسی نے ”[زمین کو] قائم کِیا۔ اس نے اُسے عبث پیدا نہیں کِیا بلکہ اُسکو آبادی کے لئے آراستہ کِیا۔“ (یسعیاہ ۴۵:۱۸) جیہاں، زمین کی تخلیق سے لیکر یہوواہ کا یہ مقصد رہا ہے کہ یہ آبادی سے آراستہ رہے۔ زبور ۱۱۵:۱۶ بیان کرتی ہے: ”آسمان تو [یہوواہ] کا آسمان ہے لیکن زمین اُس نے بنیآدم کو دی ہے۔“ پس، بائبل ظاہر کرتی ہے کہ یہوواہ نے زمین کو فرمانبردار انسانوں سے آباد کرنے کیلئے خلق کِیا تھا جو کہ اس کی دیکھبھال کرینگے۔—پیدایش ۱:۲۷، ۲۸۔
کیا آدم اور حوّا کی بغاوت یہوواہ کیلئے اپنے مقصد کو تبدیل کرنے کا باعث بنی؟ ہرگز نہیں۔ ہم کیسے یہ یقین رکھ سکتے ہیں؟ ذرا اِس نکتے پر غور کریں: بائبل عدن میں بغاوت کے ہزاروں سال بعد تحریر کی گئی تھی۔ اگر خدا نے اپنے ابتدائی مقصد کو ترک کر دیا تھا تو پھر بائبل میں اسکا ذکر کیوں نہیں کِیا گیا؟ واضح طور پر، ہم اسی نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ زمین اور انسان کیلئے خدا کا مقصد تبدیل نہیں ہوا ہے۔
مزیدبرآں، یہوواہ کا مقصد کبھی ادھورا نہیں رہتا۔ خدا یسعیاہ کی معرفت یہ یقیندہانی کراتا ہے: ”جس طرح آسمان سے بارش ہوتی اور برف پڑتی ہے اور پھر وہ وہاں واپس نہیں جاتی بلکہ زمین کو سیراب کرتی ہے اور اُسکی شادابی اور روئیدگی کا باعث ہوتی ہے تاکہ بونے والے کو بیج اور کھانے والے کو روٹی دے۔ اُسی طرح میرا کلام جو میرے مُنہ سے نکلتا ہے ہوگا۔ وہ بےانجام میرے پاس واپس نہ آئیگا بلکہ جوکچھ میری خواہش ہوگی وہ اُسے پورا کریگا اور اُس کام میں جس کیلئے مَیں نے اُسے بھیجا مؤثر ہوگا۔“—یسعیاہ ۵۵:۱۰، ۱۱۔
خدا ہم سے کس بات کی توقع کرتا ہے
پس، ہم واضح طور پر زمین کو ہمیشہ کیلئے فرمانبردار انسانوں سے آباد کرنے کے خدائی مقصد کی تکمیل پر اعتماد رکھ سکتے ہیں۔ اگر ہم اُن متشرف لوگوں میں شامل ہونا چاہتے ہیں جو مستقل طور پر اس زمین پر رہینگے تو ہمیں دانشور بادشاہ سلیمان کی اِس ہدایت پر عمل کرنا ہوگا: ”خدا سے ڈر اور اُسکے حکموں کو مان کہ انسان کا فرضِکُلی یہی ہے۔“—واعظ ۱۲:۱۳؛ یوحنا ۱۷:۳۔
نوعِانسان کیلئے یہوواہ کے مقصد کی مطابقت میں رہنے کا مطلب سچے خدا کو جاننا اور پاک صحائف میں وضعکردہ اُسکے تقاضوں پر پورا اُترنا ہے۔ اگر ہم اب ایسا کرتے ہیں تو ہم فردوسی زمین پر ہمیشہ کی زندگی کی اُمید رکھ سکتے ہیں، جس میں ہم خدا اور اُسکی حیرتانگیز تخلیق کی بابت ہمیشہ نئینئی باتیں سیکھتے رہینگے۔ (لوقا ۲۳:۴۳) کیا ہی شاندار امکان!
زندگی کے مقصد کی تلاش کرنے والے بہتیرے لوگ بائبل کی طرف رجوع کرکے آجکل بھی بےپناہ خوشی حاصل کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، الفریڈ نامی ایک نوجوان کو زندگی بےمقصد نظر آتی تھی۔ اُسے جنگ میں مذہب کی شمولیت سے نفرت تھی اور وہ سیاسی ریاکاری اور بدعنوانیوں سے بھی پریشان تھا۔ زندگی کے مقصد کی بابت بصیرت حاصل کرنے کی اُمید پر اُس نے شمالی امریکہ کے انڈینز سے ملاقات کی مگر اُسے انتہائی مایوسی کے عالم میں یورپ واپس آنا پڑا۔ اُس نے مایوس ہو کر منشیات اور اخلاقسوز موسیقی کی طرف رجوع کِیا۔ تاہم، بعدازاں بائبل کے محتاط اور باقاعدہ جائزے نے الفریڈ کو زندگی کے حقیقی مقصد کو جاننے اور اطمینان حاصل کرنے میں مدد دی۔
ہماری راہ کیلئے قابلِاعتماد روشنی
پس، ہم بائبل کی بابت کیا نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں؟ کیا یہ آجکل بھی موزوں ہے؟ یقیناً یہ ہے، کیونکہ یہ موجودہ مسائل کی بابت راہنمائی فراہم کرتی ہے۔ بائبل بیان کرتی ہے کہ بدکاری خدا کی طرف سے نہیں ہے اس کے علاوہ یہ زندگی کے اطمینانبخش مقصد کو تلاش کرنے میں بھی ہماری مدد کرتی ہے۔ مزیدبرآں، بائبل اُن معاملات کی بابت بھی بہت کچھ بیان کرتی ہے جو آجکل انتہائی دلچسپی کے حامل ہیں۔ خدا کے کلام میں شادی، بچوں کی پرورش، انسانی تعلقات اور مُردوں کی بابت اُمید جیسے موضوعات پر بھی بحث کی گئی ہے۔
اگر آپ نے ابھی تک ایسا نہیں کِیا ہے تو براہِمہربانی بائبل کے مشمولات کا بغور جائزہ لیں۔ ایک بار جب آپ زندگی سے متعلق اسکی راہنمائیوں کی حقیقی قدروقیمت کو جان لیتے ہیں تو شاید آپ بھی زبورنویس کی طرح محسوس کریں جس نے راہنمائی کیلئے یہوواہ خدا پر آس لگائی اور یہ گیت گایا: ”تیرا کلام میرے قدموں کے لئے چراغ اور میری راہ کے لئے روشنی ہے۔“—زبور ۱۱۹:۱۰۵۔
[صفحہ 6 پر تصویر]
کیا آپ جانتے ہیں کہ خدا کیوں معصوم لوگوں کو دکھتکلیف اُٹھانے دیتا ہے؟
[صفحہ 7 پر تصویر]
آپ ایک بامقصد زندگی سے لطف اٹھا سکتے ہیں