یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م94 1/‏6 ص.‏ 27-‏32
  • یہوواہ پر اسکے اپنے مقصد کو پورا کرنے کیلئے توکل کریں

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • یہوواہ پر اسکے اپنے مقصد کو پورا کرنے کیلئے توکل کریں
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1994ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • کیا خرابی ہو گئی؟‏
  • خدا کا مقصد بدلا نہیں
  • انہوں نے یہوواہ پر توکل کیا
  • مسیحی گواہ خدا پر توکل کرتے ہیں
  • یہوواہ ایمانداروں کیساتھ اپنے وعدوں کو پورا کرتا ہے
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1998ء
  • ابرہام نبی کی زندگی پر ایک نظر
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—2012ء
  • ایمان کا اِمتحان
    پاک کلام سے آپ کے لیے خاص سبق
  • ابرہام—‏یہوواہ کے قریبی دوست
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—2016ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1994ء
م94 1/‏6 ص.‏ 27-‏32

یہوواہ پر اسکے اپنے مقصد کو پورا کرنے کیلئے توکل کریں

‏”‏صادق زمین کے وارث ہونگے اور اس میں ہمیشہ بسے رہینگے۔“‏—‏زبور ۳۷:‏۲۹‏۔‏

۱.‏ انسانوں کیلئے اور اس زمین کیلئے یہوواہ کا مقصد کیا ہے؟‏

جب یہوواہ نے ہمارے پہلے والدین، آدم اور حوا، کو خلق کیا تو اس نے انہیں کامل بنایا۔ اور اس نے انہیں اسطرح بنایا کہ وہ اس زمین پر ابد تک زندہ رہ سکیں—‏بشرطیکہ وہ اسکے قوانین کی تابعداری کرتے۔ (‏پیدایش ۱:‏۲۶، ۲۷،‏ ۲:‏۱۷‏)‏ مزیدبرآں، خدا نے انہیں فردوسی ماحول میں رکھا۔ (‏پیدایش ۲:‏۸، ۹‏)‏ یہوواہ نے ان سے کہا:‏ ”‏پھلو اور بڑھو اور زمین کو معمورومحکوم کرو۔“‏ (‏پیدایش ۱:‏۲۸‏)‏ یوں، انکی اولاد انجام‌کار پوری زمین پر پھیل جاتی اور یہ کرہ‌ارض کامل، مسرور نوع‌انسانی سے معمور ایک فردوس بن جاتا۔ انسانی خاندان کو کیا ہی شاندار آغاز حاصل ہوا تھا!‏ ”‏خدا نے سب پر جو اس نے بنایا تھا نظر کی اور دیکھا کہ بہت اچھا ہے۔“‏—‏پیدایش ۱:‏۳۱‏۔‏

۲.‏ انسانی معاملات کی حالت کونسے سوالات اٹھاتی ہے؟‏

۲ تاہم، ہزاروں سالوں سے انسانی معاملات کی جو حالت رہی ہے وہ کسی بھی طرح خدا کے ابتدائی مقصد کے ساتھ مشابہت نہیں رکھتی۔ نوع‌انسانی کاملیت سے کوسوں دور ہٹ گئی ہے اور خوش ہونے سے بہت بعید ہے۔ دنیا کی حالتیں نہایت المناک رہی ہیں، اور جیسا کہ پیشینگوئی کی گئی تھی، یہ ہمارے زمانے میں ڈرامائی حد تک بگڑ گئی ہیں۔ (‏۲-‏تیمتھیس ۳:‏۱-‏۵،‏ ۱۳‏)‏ لہذا ہم کسطرح اعتماد رکھ سکتے ہیں کہ انسانوں کیلئے خدا کا مقصد مستقبل‌قریب میں پورا ہو جائیگا؟ کیا مسلسل المناک حالتوں کیساتھ مزید طویل مدتیں گزر جائینگی؟‏

کیا خرابی ہو گئی؟‏

۳.‏ یہوواہ نے نسل‌انسانی کی بغاوت کو فوراً ختم کیوں نہ کیا؟‏

۳ وہ جو خدا کے الہامی کلام کا صحیح علم رکھتے ہیں جانتے ہیں کہ کس وجہ سے یہوواہ نے زمین پر ان بری حالتوں کی اجازت دے رکھی ہے۔ انہیں یہ بھی معلوم ہے کہ وہ انکی بابت کیا کریگا۔ بائبل کے بیان سے، انہوں نے سیکھ لیا ہے کہ ہمارے پہلے والدین نے آزادانہ انتخاب کی شاندار بخشش کا غلط استعمال کیا جو خدا نے انسانوں کو عطا کی تھی۔ (‏مقابلہ کریں ۱-‏پطرس ۲:‏۱۶‏۔)‏ انہوں نے بے‌جا طور پر خدا سے آزادی کی روش کا انتخاب کر لیا۔ (‏پیدایش، ۲ اور ۳ ابواب)‏ انکی بغاوت نے نہایت ہی اہمیت کے حامل سوالات کھڑے کر دئے، جیسے کہ:‏ کیا کائنات کے حاکم‌اعلی کو انسانوں پر حکمرانی کرنے کا حق حاصل ہے؟ کیا انکے لئے اسکی حکومت سب سے اچھی ہے؟ کیا خدا کی نگرانی کے بغیر انسانی حکومت کامیاب ہو سکتی ہے؟ ان سوالات کے جوابات حاصل کرنے کا یقینی طریقہ یہی تھا کہ انسانی حکومت کی صدیوں کو گزرنے دیا جائے۔ نتائج فیصلہ‌کن طور پر یہ واضح کر دینگے کہ آیا انسان اپنے صانع سے جدا ہو کر کامیاب ہو سکتے ہیں۔‏

۴، ۵.‏ (‏ا)‏ انسان کے خدا کی حکمرانی کو رد کر دینے کا کیا نتیجہ رہا ہے؟ (‏ب)‏ وقت گزرنے کیساتھ ساتھ فیصلہ‌کن طور پر کیا بات ظاہر ہو گئی ہے؟‏

۴ جب آدم اور حوا نے خدا کو چھوڑ دیا تو اس نے پھر انہیں کاملیت میں قائم نہ رکھا۔ اسکے سہارے کے بغیر وہ خستہ‌حال ہو گئے۔ نتیجہ ناکاملیت، بڑھاپا، اور بالآخر موت تھا۔ قوانین‌وراثت کے ذریعے، ہمارے پہلے والدین نے وہی منفی خصوصیات اپنی تمام اولاد کے اندر منتقل کر دیں، جن میں ہم بھی شامل ہیں۔ (‏رومیوں ۵:‏۱۲‏)‏ اور انسانی حکمرانی کے ہزاروں سالوں کا کیا نتیجہ رہا ہے؟ یہ پرآشوب رہا ہے، بالکل جیسے واعظ ۸:‏۹ نے بڑی صداقت سے بیان کیا:‏ ”‏ایک شخص دوسرے پر حکومت کرکے اپنے اوپر بلا لاتا ہے۔“‏

۵ وقت کے گزرنے سے یہ بات فیصلہ‌کن طور پر واضح ہو گئی ہے کہ اپنے خالق سے جدا ہو کر اپنے معاملات کو کامیابی کیساتھ منظم کر لینا انسانوں کی بساط میں نہیں ہے۔ بائبل کے ملہم مصنف یرمیاہ نے بیان کیا:‏ ”‏اے خداوند!‏ میں جانتا ہوں کہ انسان کی راہ اسکے اختیار میں نہیں۔ انسان اپنی روش میں اپنے قدموں کی راہنمائی نہیں کر سکتا۔“‏—‏یرمیاہ ۱۰:‏۲۳،‏ استثنا ۳۲:‏۴، ۵،‏ واعظ ۷:‏۲۹‏۔‏

خدا کا مقصد بدلا نہیں

۶، ۷.‏ (‏ا)‏ کیا تاریخ کے ہزاروں سالوں نے یہوواہ کے مقصد کو تبدیل کر دیا ہے؟ (‏ب)‏ یہوواہ کے مقصد میں کیا کچھ شامل ہے؟‏

۶ کیا انسانی تاریخ—‏بدکاری اور دکھ سے اسقدر بھری ہوئی—‏کے ہزارہا برس بیت جانے سے خدا کا مقصد بدل گیا ہے؟ اسکا کلام کہتا ہے:‏ ”‏خداوند جس نے آسمان پیدا کئے وہی خدا ہے۔ اسی نے زمین بنائی اور تیار کی۔ اسی نے اسے قائم کیا۔ اس نے اسے عبث پیدا نہیں کیا بلکہ اسکو آبادی کے لئے آراستہ کیا۔“‏ (‏یسعیاہ ۴۵:‏۱۸‏)‏ لہذا خدا نے زمین کو انسانوں سے آباد ہونے کیلئے بنایا تھا، اور ابھی تک یہی اسکا مقصد ہے۔‏

۷ یہوواہ نے زمین کو محض آباد ہونے کیلئے ہی پیدا نہیں کیا تھا بلکہ اسکا مقصد یہ بھی تھا کہ یہ ایک فردوس بن جائے جس سے کامل، خوش‌باش لوگ لطف‌اندوز ہوں۔ اسی لئے بائبل نے پیش‌ازوقت بتا دیا تھا کہ ”‏نئی زمین،“‏ ایک نیا انسانی معاشرہ، ہوگا جس میں ”‏راستبازی بسی رہیگی۔“‏ (‏۲-‏پطرس ۳:‏۱۳‏)‏ اور مکاشفہ ۲۱:‏۴ میں خدا کا کلام ہمیں بتاتا ہے کہ اسکی نئی دنیا میں، ”‏وہ [‏نسل‌انسانی کی]‏ آنکھوں کے سب آنسو پونچھ دیگا۔ اسکے بعد نہ موت رہیگی اور نہ ماتم رہیگا۔ نہ آہ‌ونالہ نہ درد۔“‏ انہی وجوہات کی بنا پر یسوع زمین پر آنے والی اس نئی دنیا کو ”‏فردوس“‏ کہہ سکتا تھا۔—‏لوقا ۲۳:‏۴۳‏۔‏

۸.‏ ہم کیوں اعتماد رکھ سکتے ہیں کہ یہوواہ اپنے مقصد کو پورا کریگا؟‏

۸ چونکہ یہوواہ کائنات کا قادرکل اور عاقل‌کل خالق ہے اسلئے کوئی بھی اسکے مقصد کو ناکام نہیں بنا سکتا۔ ”‏رب‌الافواج قسم کھا کر فرماتا ہے کہ یقیناً جیسا میں نے چاہا ویسا ہی ہو جائیگا اور جیسا میں نے ارادہ کیا ہے ویسا ہی وقوع میں آئیگا۔“‏ (‏یسعیاہ ۱۴:‏۲۴‏)‏ لہذا، جب خدا کہتا ہے کہ وہ اس زمین کو کامل لوگوں سے آباد فردوس بنائے گا تو ایسا ہی واقع ہو کر رہے گا۔ یسوع نے کہا تھا:‏ ”‏مبارک ہیں وہ جو حلیم ہیں کیونکہ وہ زمین کے وارث ہونگے۔“‏ (‏متی ۵:‏۵‏، مقابلہ کریں زبور ۳۷:‏۲۹‏۔)‏ ہم اس وعدہ کی تکمیل پر بھروسہ کر سکتے ہیں۔ درحقیقت، اسکے لئے ہم اپنی زندگیوں کو بھی خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔‏

انہوں نے یہوواہ پر توکل کیا

۹.‏ ابرہام نے کیا کیا جس نے یہوواہ پر اسکے توکل کو ظاہر کر دیا؟‏

۹ پوری تاریخ کے دوران بہت سے خداترس لوگوں نے زمین کیلئے خدا کے مقصد کی خاطر اپنی زندگیوں کو اسلئے خطرے میں ڈال دیا کیونکہ انکو اس بات کا پختہ یقین تھا کہ وہ اسے پورا کریگا۔ اگرچہ انکا علم محدود رہا ہوگا، انہوں نے خدا پر توکل کیا اور اسکی مرضی بجا لانے پر اپنی زندگیوں کی بنیاد رکھی۔ مثال کیطور پر، ابرہام، جو یسوع کے زمین پر ظاہر ہونے سے کوئی ۲،۰۰۰ سال پہلے رہتا تھا یعنی بائبل کی تحریر شروع ہونے سے بھی بہت عرصہ پہلے۔ اس نے یہوواہ پر اسکے اپنے وعدوں کو پورا کرنے کیلئے توکل کیا۔ غالباً، ابرہام نے اپنے ایماندار جد سم سے خالق کی بابت سیکھا تھا جس نے نوح سے تعلیم پائی تھی۔ لہذا جب خدا نے ابرہام سے کسدیوں کے خوشحال اور سے نکل کر کنعان کی نامعلوم اور خطرناک سرزمین کو جانے کیلئے کہا تو یہ آبائی بزرگ جانتا تھا کہ وہ یہوواہ پر اعتماد کر سکتا ہے، اور اسلئے وہ روانہ ہو گیا۔ (‏عبرانیوں ۱۱:‏۸‏)‏ وقت آنے پر، یہوواہ نے اسے بتایا:‏ ”‏میں تجھے ایک بڑی قوم بناؤنگا۔“‏—‏پیدایش ۱۲:‏۲‏۔‏

۱۰، ۱۱.‏ ابرہام اپنے اکلوتے بیٹے، اضحاق کو قربان کرنے کیلئے کیوں تیار تھا؟‏

۱۰ ابرہام کے ہاں اضحاق کے پیدا ہونے کے بعد کیا واقع ہوا؟ یہوواہ نے ابرہام پر ظاہر کیا کہ یہ اضحاق کے ذریعے سے ہی تھا کہ اسکی نسل ایک بڑی قوم بن جائیگی۔ (‏پیدایش ۲۱:‏۱۲‏)‏ یوں، اس بات میں ذرا تضاد دکھائی دیا ہوگا جب یہوواہ نے ابرہام سے، اسکے ایمان کی آزمایش کے طور پر، اسے اپنے بیٹے اضحاق کو قربان کرنے کیلئے کہا۔ (‏پیدایش ۲۲:‏۲‏)‏ تاہم، یہوواہ پر پورے توکل کیساتھ، ابرہام نے اضحاق کو ذبح کرنے کی خاطر واقعی اپنی چھری اٹھاتے ہوئے تعمیل کرنے کیلئے جو کچھ ضروری تھا وہ کیا۔ آخری لمحے پر، خدا نے ابرہام کو روکنے کیلئے ایک فرشتے کو بھیجا۔—‏پیدایش ۲۲:‏۹-‏۱۴‏۔‏

۱۱ ابرہام اتنا فرمانبردار کیوں تھا؟ عبرانیوں ۱۱:‏۱۷-‏۱۹ واضح کرتی ہیں:‏ ”‏ایمان ہی سے ابرہام نے آزمایش کے وقت اضحاق کو نذر گذرانا اور جس نے وعدوں کو سچ مان لیا تھا وہ اس اکلوتے کو نذر کرنے لگا۔ جسکی بابت یہ کہا گیا تھا کہ اضحاق ہی سے تیری نسل کہلائیگی۔ کیونکہ وہ سمجھا کہ خدا مردوں میں سے جلانے پر بھی قادر ہے چنانچہ ان ہی میں سے تمثیل کے طور پر وہ اسے پھر ملا۔“‏ رومیوں ۴:‏۲۰، ۲۱ کچھ اسی طرح بیان کرتی ہے:‏ ”‏نہ بے‌ایمان ہو کر [‏ابرہام نے]‏ خدا کے وعدہ میں شک کیا .‏.‏.‏ اسکو کامل اعتقاد ہوا کہ جو کچھ اس [‏خدا]‏ نے وعدہ کیا ہے وہ اسے پورا کرنے پر بھی قادر ہے۔“‏

۱۲.‏ ابرہام نے اپنے ایمان کیلئے کسطرح اجر پایا؟‏

۱۲ ابرہام کو اسکے ایمان کیلئے صرف اضحاق کے بچائے جانے اور اسکے ذریعے ایک بڑی قوم کے وجود میں آنے ہی سے نہیں بلکہ ایک اور طریقے سے بھی اجر ملا تھا۔ خدا نے ابرہام کو بتایا:‏ ”‏تیری نسل کے وسیلہ سے زمین کی سب قومیں برکت پائینگی کیونکہ تو نے میری بات مانی۔“‏ (‏پیدایش ۲۲:‏۱۸‏)‏ کیسے؟ خدا کی آسمانی بادشاہت کا بادشاہ ابرہام کے سلسلۂ‌نسب سے آئیگا۔ وہ بادشاہت شیطان کے تحت اس بدکار دنیا کو صفحۂ‌ہستی سے مٹا دیگی۔ (‏دانی‌ایل ۲:‏۴۴،‏ رومیوں ۱۶:‏۲۰،‏ مکاشفہ ۱۹:‏۱۱-‏۲۱‏)‏ اسکے بعد، بادشاہتی حکمرانی کے تحت ایک پاک صاف زمین پر، عالمی سطح پر فردوس بن جائے گا، اور ”‏سب قوموں“‏ میں سے لوگ جو خدا کی مرضی کو پورا کرتے ہیں کامل صحت اور ابدی زندگی سے لطف‌اندوز ہونگے۔ (‏۱-‏یوحنا ۲:‏۱۵-‏۱۷‏)‏ اور اگرچہ ابرہام بادشاہت کا صرف محدود سا علم رکھتا تھا تو بھی اس نے خدا پر توکل کیا اور اسکے قائم ہونے کا منتظر رہا۔—‏عبرانیوں ۱۱:‏۱۰‏۔‏

۱۳، ۱۴.‏ ایوب نے خدا پر کیوں توکل کیا؟‏

۱۳ کئی سو سالوں کے بعد، ایوب آیا، جو ۱۷ ویں اور ۱۶ ویں صدی ق۔س۔ع۔ کے دوران اس علاقے میں رہا کرتا تھا جو اب عرب کہلاتا ہے۔ وہ بھی بائبل کی تحریر شروع ہونے سے پہلے ہو گزرا ہے۔ ایوب ”‏کامل اور راستباز تھا اور خدا سے ڈرتا اور بدی سے دور رہتا تھا۔“‏ (‏ایوب ۱:‏۱‏)‏ جب شیطان ایوب پر ایک نفرت‌انگیز، دردناک بیماری لے آیا تو اس وفادار آدمی نے اپنی کڑی آزمایش کے درمیان بھی ”‏اپنے مُنہ سے کوئی گنہگارانہ بات نہ نکالی۔“‏ (‏ایوب ۲:‏۱۰‏، دی نیو انگلش بائبل)‏ ایوب نے خدا پر توکل کیا۔ اور اگرچہ وہ تمام تفصیلات کو نہیں جانتا تھا کہ کس وجہ سے وہ اتنا دکھ اٹھا رہا ہے پھر بھی اس نے اپنی زندگی خدا اور اسکے وعدوں کیلئے خطروں کے حوالے کر دی۔‏

۱۴ ایوب جانتا تھا کہ اگر وہ مر بھی جائے تو بھی خدا قیامت کے ذریعے کسی دن اسکو زندہ کر سکتا ہے۔ اس نے اس امید کا اشارہ دیا جب اس نے یہوواہ خدا سے کہا:‏ ”‏کاشکہ تو مجھے پاتال [‏قبر]‏ میں چھپا دے .‏.‏.‏ اور کوئی معین وقت میرے لئے ٹھہرائے اور مجھے یاد کرے!‏ اگر آدمی مر جائے تو کیا وہ پھر جئیگا؟ .‏.‏.‏ تو مجھے پکارتا اور میں تجھے جواب دیتا۔“‏ (‏ایوب ۱۴:‏۱۳-‏۱۵‏)‏ ذہنی کوفت میں بھی، ایوب نے یہ کہتے ہوئے یہوواہ کی حاکمیت پر ایمان کا مظاہرہ کیا:‏ ”‏میں مرتے دم تک اپنی راستی کو ترک نہ کرونگا۔“‏—‏ایوب ۲۷:‏۵‏۔‏

۱۵.‏ داؤد نے یہوواہ کے مقصد پر اپنے اعتماد کا اظہار کیسے کیا؟‏

۱۵ ایوب کے تقریباً چھ صدیوں بعد اور یسوع کے زمین پر آنے سے کوئی ایک ہزار سال پہلے، داؤد نے نئی دنیا پر اپنے اعتقاد کو ظاہر کیا۔ اس نے زبوروں میں کہا:‏ ”‏جنکو خداوند کی آس ہے ملک کے وارث ہونگے کیونکہ تھوڑی دیر میں شریر نابود ہو جائیگا۔ .‏.‏.‏ لیکن حلیم ملک کے وارث ہونگے اور سلامتی کی فراوانی سے شادمان رہینگے۔ صادق زمین کے وارث ہونگے اور اس میں ہمیشہ بسے رہینگے۔“‏ اپنی غیرمتزلزل امید کے باعث، داؤد نے تلقین کی:‏ ”‏خداوند پر توکل کر .‏.‏.‏ خداوند میں مسرور رہ اور وہ تیرے دل کی مرادیں پوری کریگا۔“‏—‏زبور ۳۷:‏۳، ۴،‏ ۹-‏۱۱،‏ ۲۹‏۔‏

۱۶.‏ ”‏گواہوں کا ایک بڑا بادل“‏ کیا امید رکھتا تھا؟‏

۱۶ صدیوں کے دوران، وفادار مردوں اور عورتوں نے زمین پر حیات‌ابدی کی یہی امید رکھی ہے۔ دراصل، وہ ”‏گواہوں کے ایک بڑے بادل“‏ کو تشکیل دیتے ہیں جنہوں نے یہوواہ کے وعدوں کی خاطر حقیقت میں اپنی زندگیوں کو خطروں میں ڈال دیا۔ یہوواہ کے ان قدیم گواہوں میں سے بہتیروں کو انکے ایمان کی وجہ سے اذیت پہنچائی گئی اور قتل کر دیا گیا، ”‏تاکہ انکو بہتر قیامت نصیب ہو۔“‏ کسطرح؟ نئی دنیا میں، خدا بہتر قیامت اور ابدی زندگی کے امکان کیساتھ انکو اجر دیگا۔—‏یوحنا ۵:‏۲۸، ۲۹،‏ عبرانیوں ۱۱:‏۳۵،‏ ۱۲:‏۱‏۔‏

مسیحی گواہ خدا پر توکل کرتے ہیں

۱۷.‏ پہلی صدی کے مسیحی کتنے مضبوط طریقے سے یہوواہ پر توکل کرتے تھے؟‏

۱۷ پہلی صدی س۔ع۔ میں، یہوواہ نے نئی قائم‌شدہ مسیحی کلیسیا پر بادشاہت اور زمین پر اسکی حکومت کی بابت مزید تفصیلات کو عیاں کیا۔ مثال کیطور پر، اسکی روح نے یوحنا رسول کو یہ لکھنے کیلئے الہام دیا کہ آسمان کی بادشاہت میں یسوع مسیح کیساتھ شریک ہونے والوں کی تعداد ۱۴۴،۰۰۰ ہوگی۔ یہ خدا کے وفادار خادم ہونگے جو ”‏دنیا میں سے خرید“‏ لئے گئے تھے۔ (‏مکاشفہ ۷:‏۴،‏ ۱۴:‏۱-‏۴‏)‏ وہ آسمان میں مسیح کیساتھ ”‏بطور بادشاہوں کے“‏ زمین پر حکومت کرینگے۔ (‏مکاشفہ ۲۰:‏۴-‏۶‏، این‌ڈبلیو)‏ پہلی صدی کے مسیحی یہوواہ پر آسمانی بادشاہت اور اسکی زمینی مملکت کے سلسلے میں اسکے اپنے مقصد کو پورا کرنے کیلئے اتنا مضبوط توکل رکھتے تھے کہ وہ اپنے ایمان کی خاطر مرنے کو بھی تیار تھے۔ ان میں سے بہتیروں نے بالکل ایسا ہی کیا۔‏

۱۸.‏ آجکل یہوواہ کے گواہ قدیم وقتوں کے اپنے ہمزاد انسانوں کی نقل کسطرح کرتے ہیں؟‏

۱۸ آجکل، تقریباً پانچ ملین یہوواہ کے گواہ خدا پر بالکل ویسا ہی توکل رکھتے ہیں جیسا انکے ہمزاد رکھتے تھے جو ان سے صدیوں پہلے ہو گزرے۔ جدید زمانے کے ان گواہوں نے بھی خدا کے وعدوں کی خاطر اپنی جانیں خطروں میں ڈال رکھی ہیں۔ انہوں نے اپنی زندگیاں اسکے لئے مخصوص کی ہیں اور اپنے ایمان کو مضبوط کرنے کیلئے پوری بائبل رکھتے ہیں۔ (‏۲-‏تیمتھیس ۳:‏۱۴-‏۱۷‏)‏ جدید زمانے کے یہ یہوواہ کے گواہ یسوع کے ان پہلی صدی کے پیروکاروں کی نقل کرتے ہیں جنہوں نے یہ اعلان کیا کہ انہیں ”‏آدمیوں کے حکم کی نسبت خدا کا حکم ماننا زیادہ فرض ہے۔“‏ (‏اعمال ۵:‏۲۹‏)‏ اس صدی میں ان مسیحی گواہوں میں سے بہتیروں کو ظالمانہ طریقے سے اذیت پہنچائی گئی ہے۔ بعض کو تو انکے ایمان کی وجہ سے قتل بھی کر دیا گیا ہے۔ دیگر بیماری، حادثے، یا بڑھاپے سے مر گئے۔ تاہم، ماضی کے وفادار گواہوں کی مانند انہوں نے بھی خدا پر توکل کیا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ وہ انہیں قیامت کے ذریعے اپنی نئی دنیا میں زندگی عطا کریگا۔—‏یوحنا ۵:‏۲۸، ۲۹،‏ اعمال ۲۴:‏۱۵،‏ مکاشفہ ۲۰:‏۱۲، ۱۳‏۔‏

۱۹، ۲۰.‏ ہمارے زمانے کیلئے بائبل پیشینگوئی کی بابت ہم کیا تسلیم کرتے ہیں؟‏

۱۹ یہوواہ کے گواہ اس بات کی قدر کرتے ہیں کہ انکا تمام قوموں میں سے نکال کر ایک عالمگیر برادری میں لایا جانا بہت عرصہ پہلے بائبل پیشینگوئی میں قبل‌ازوقت بتا دیا گیا تھا۔ (‏یسعیاہ ۲:‏۲-‏۴،‏ مکاشفہ ۷:‏۴،‏ ۹-‏۱۷‏)‏ اور یہوواہ دیگر خلوصدل اشخاص کو اپنی پسندیدگی اور تحفظ میں لانے کیلئے ان سے پوری دنیا میں منادی کا کام کروا رہا ہے۔ (‏امثال ۱۸:‏۱۰،‏ متی ۲۴:‏۱۴،‏ رومیوں ۱۰:‏۱۳‏)‏ یہ سب اس بات کو جانتے ہوئے اپنا پورا توکل یہوواہ پر رکھتے ہیں کہ جلد ہی وہ اپنی شاندار نئی دنیا لے آئیگا۔—‏مقابلہ کریں ۱-‏کرنتھیوں ۱۵:‏۵۸،‏ عبرانیوں ۶:‏۱۰‏۔‏

۲۰ بائبل پیشینگوئیاں ظاہر کرتی ہیں کہ ۱۹۱۴ کے امتیازی سال سے لیکر، شیطان کی دنیا اب تقریباً ۸۰ سالوں سے اپنے آخری ایام میں ہے۔ یہ دنیا اپنے خاتمہ کے قریب پہنچ رہی ہے۔ (‏رومیوں ۱۶:‏۲۰،‏ ۲-‏کرنتھیوں ۴:‏۴،‏ ۲-‏تیمتھیس ۳:‏۱-‏۵‏)‏ اسلئے یہوواہ کے گواہ ہمت باندھتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ جلد ہی خدا کی بادشاہت زمین کے تمام معاملات کا مکمل اختیار سنبھال لیگی۔ اس موجودہ بدکار دنیا کو خاتمے تک پہنچانے سے اور اپنی راستباز نئی دنیا لانے سے، خدا مکمل طور پر اس بری حالت کو مٹا دیگا جو کئی صدیوں سے زمین پر موجود ہے۔—‏امثال ۲:‏۲۱، ۲۲‏۔‏

۲۱.‏ موجودہ مشکلات سے قطع‌نظر ہم کیوں شادمان ہو سکتے ہیں؟‏

۲۱ اس وقت، خدا ہمارے لئے اپنی گہری فکر کے اظہار میں، ابد تک، اس قدر برکات نچھاور کریگا جو کسی بھی ایسے نقصان کی تلافی کرنے سے کہیں زیادہ ہونگی جو ہم ماضی میں اٹھا چکے ہیں۔ ہم اتنی اچھی چیزوں کا لطف اٹھائیں گے کہ نئی دنیا میں ہماری گزشتہ مشکلات کی یاد جاتی رہے گی۔ یہ جاننا کسقدر اطمینان‌بخش ہے کہ اسوقت یہوواہ ”‏اپنی مٹھی کھولیگا اور ہر جاندار کی خواہش پوری کریگا۔“‏—‏زبور ۱۴۵:‏۱۶،‏ یسعیاہ ۶۵:‏۱۷، ۱۸‏۔‏

۲۲.‏ ہمیں کیوں یہوواہ پر اپنا توکل رکھنا چاہئے؟‏

۲۲ نئی دنیا میں وفادار بنی‌آدم رومیوں ۸:‏۲۱ کی تکمیل کو دیکھیں گے:‏ ”‏مخلوقات بھی فنا کے قبضہ سے چھوٹ کر خدا کے فرزندوں کے جلال کی آزادی میں داخل ہو جائیگی۔“‏ وہ اس دعا کو پورا ہوتا ہوا دیکھینگے جو یسوع نے اپنے پیروکاروں کو سکھائی تھی:‏ ”‏تیری بادشاہی آئے۔ تیری مرضی جیسی آسمان پر پوری ہوتی ہے زمین پر بھی ہو۔“‏ (‏متی ۶:‏۱۰‏)‏ پس اپنا پورا توکل یہوواہ پر رکھیں کیونکہ اسکا بے‌خطا وعدہ ہے:‏ ”‏صادق زمین کے وارث ہونگے اور اس میں ہمیشہ بسے رہینگے۔“‏—‏زبور ۳۷:‏۲۹‏۔ (‏۱۵ ۳/۱۵ w۹۴)‏

آپ کیسے جواب دینگے؟‏

▫ انسانوں کیلئے اور اس زمین کیلئے یہوواہ کا مقصد کیا ہے؟‏

▫ خدا نے زمین پر بری حالتوں کی اجازت کیوں دے رکھی ہے؟‏

▫ قدیم زمانے کے وفادار لوگوں نے یہوواہ پر اپنے توکل کو کیسے ظاہر کیا؟‏

▫ آجکل خدا کے خادم یہوواہ پر توکل کیوں کرتے ہیں؟‏

‏[‏تصویر]‏

خدا نے انسانوں کو خوشی کی حالت میں فردوسی زمین پر ابد تک زندہ رہنے کیلئے پیدا کیا تھا

‏[‏تصویر]‏

ابرہام نے مردوں کو زندہ کرنے کیلئے یہوواہ کی قابلیت پر توکل کیا تھا

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں