یہوواہ بامقصد خدا
”یقیناً جیسا میں نے چاہا ویسا ہی ہو جائیگا اور جیسا میں نے ارادہ کیا ہے ویسا ہی وقوع میں آئیگا۔“—یسعیاہ ۱۴:۲۴۔
۱، ۲. زندگی کے مقصد کی بابت بہتیرے کیا کہتے ہیں؟
ہر جگہ لوگ پوچھتے ہیں: ”زندگی کا مقصد کیا ہے؟“ ایک مغربی سیاسی راہنما نے بیان کیا: ”پہلے کی نسبت کہیں زیادہ لوگ پوچھ رہے ہیں، ”ہم کون ہیں؟ ہمارا مقصد کیا ہے؟“ جب ایک اخبار نے اس سوال پر نوجوان لوگوں کی رائےشماری کی کہ زندگی کا مقصد کیا ہے تو مثالی جوابات یہ تھے: ”جو آپ کا دل چاہتا ہے وہی کچھ کرنا۔“ ”ہر لمحہ بھرپور زندگی گذارنا۔“ ”عیاشی اور آوارگی کی زندگی بسر کرنا۔“ ”بچے پیدا کرنا، خوش رہنا اور پھر مر جانا۔“ بہتیروں نے محسوس کیا کہ یہ زندگی یہی سب کچھ تھی۔ زمین پر زندگی کیلئے کسی دیرپا مقصد کی بابت کسی نے کچھ نہ کہا۔
۲ ایک کنفیوشین سکالر نے کہا: ”زندگی کا بنیادی مفہوم ہمارے عام، انسانی وجود میں ہی پایا جاتا ہے۔“ اسکے مطابق، لوگ پیدا ہوتے رہینگے، ۷۰ یا ۸۰ سالوں تک جدوجہد کرینگے، پھر مر جائینگے اور ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ناپید ہو جائینگے۔ ایک ارتقائی سائنسدان نے کہا: ”ہم ایک ”بلندپایہ“ جواب کی آرزو کر سکتے ہیں—لیکن کوئی بھی ممکنالحصول نہیں۔“ ان ارتقاپسندوں کے نزدیک زندگی بقا کیلئے جدوجہد ہے، جو موت کیساتھ ہی ختم ہو جاتی ہے۔ ایسے فلسفے زندگی کے بارے میں ایک مایوسکن نظریہ پیش کرتے ہیں۔
۳، ۴. بہت سے لوگ جس انداز سے زندگی کو خیال کرتے ہیں دنیاوی حالتیں اسے کیسے متاثر کرتی ہیں؟
۳ بہتیرے لوگ جب یہ دیکھتے ہیں کہ انسانی وجود اسقدر رنجوالم سے بھرا ہوا ہے تو وہ اس بات پر شک کرتے ہیں کہ زندگی کوئی مقصد رکھتی ہے۔ ہمارے زمانہ میں، جب یہ سمجھا جاتا ہے کہ انسان صنعتی اور سائنسی کامرانی کے عروج پر پہنچ چکا ہے تو پوری دنیا میں تقریباً ایک ارب لوگ تشویشناک حد تک بیمار ہیں یا فاقہکشی کا شکار ہیں۔ ہر سال ایسی ہی وجوہات کے باعث لاکھوں بچے مر جاتے ہیں۔ علاوہازیں، اس ۲۰ویں صدی میں جنگ کی وجہ سے گزشتہ چار سو سالوں کی نسبت مجموعی طور پر چار گنا زیادہ اموات ہوئی ہیں۔ جرم، تشدد، منشیات کا ناجائز استعمال، خاندانی تنزلی، ایڈز اور دیگر جنسی طور پر لگنے والی بیماریاں—منفی عناصر کی فہرست بڑھتی ہی جاتی ہے۔ دنیاوی رہنماؤں کے پاس ان مسائل کے حل نہیں۔
۴ ایسی حالتوں کے پیشنظر، ایک عورت نے اس بات کا اظہار کیا جو بہتیرے مانتے ہیں: ”زندگی کا کوئی مقصد نہیں ہے۔ اگر یہ تمام بری حالتیں وقوعپذیر ہو رہی ہیں تو زندگی کوئی خاص مطلب نہیں رکھتی۔“ اور ایک عمررسیدہ آدمی نے کہا: ”میں یہی جاننے کی کوشش کرتا رہا ہوں کہ میں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ یہاں کیوں گزارا ہے۔ اگر کوئی مقصد ہے بھی تو اب مجھے اسکی کوئی پرواہ نہیں۔“ چونکہ بیشمار لوگ یہ نہیں جانتے کہ خدا دکھ کی اجازت کیوں دیتا ہے اسلئے دنیا کی تکلیفدہ حالتیں انکے لئے مستقبل کی بابت کوئی حقیقی امید نہ رکھنے کا سبب بنتی ہیں۔
۵. اس دنیا کے مذاہب زندگی کے مقصد کی بابت ابتری میں اضافہ کیوں کرتے ہیں؟
۵ یہانتک کہ مذہبی راہنما بھی مقصدحیات کی بابت منقسم اور غیریقینی کی حالت میں ہیں۔ لندن میں سینٹ پال کتھیڈرل کے سابقہ ڈین نے کہا: ”میں نے اپنی تمام زندگی زندہ رہنے کے مقصد کو حاصل کرنے کیلئے جدوجہد کی ہے۔ ... میں ناکام ہو گیا ہوں۔“ سچ ہے، بہتیرے پادری یہ تعلیم دیتے ہیں کہ موت کے وقت نیک لوگ آسمان پر جاتے ہیں اور بدکار ہمیشہ کیلئے آتشی دوزخ میں۔ لیکن یہ خیال ابھی بھی نوعانسانی کو زمین پر اسکی عذاب والی روش پر گامزن رہنے کیلئے چھوڑ دیتا ہے۔ اور اگر یہ خدا کا مقصد تھا کہ لوگ آسمان میں رہیں تو اس نے ابتدا ہی میں انہیں آسمانی مخلوقات کیوں نہ بنا دیا، جیسے اس نے فرشتوں کو بنایا تھا، اور یوں انسانوں کو اسقدر دکھ اٹھانے سے بچا لیتا؟ لہذا زمین پر زندگی کے مقصد کی بابت ابتری یا اس بات کو تسلیم کرنے سے انکار بہت عام ہے کہ یہ کوئی مقصد رکھتی ہے۔
بامقصد خدا
۶، ۷. کائنات کے حاکماعلی کی بابت بائبل ہمیں کیا بتاتی ہے؟
۶ تاہم، تاریخ میں سب سے زیادہ تقسیم ہونے والی کتاب، مقدس بائبل، ہمیں بتاتی ہے کہ کائنات کا حاکم، یہوواہ بامقصد خدا ہے۔ یہ ظاہر کرتی ہے کہ وہ زمین پر بنینوع انسان کیلئے واقعی ایک دوررس، ایک ابدی مقصد رکھتا ہے۔ اور جب یہوواہ کسی کام کا قصد کرتا ہے تو یہ ضرور واقع ہوتا ہے۔ جسطرح بارش بیج کی بالیدگی کا سبب بنتی ہے، خدا کہتا ہے، ”اسی طرح میرا کلام جو میرے منہ سے نکلتا ہے ہوگا۔ وہ بےانجام میرے پاس نہ آئیگا بلکہ جو کچھ میری خواہش ہوگی وہ اسے پورا کریگا اور اس کام میں جسکے لئے میں نے اسے بھیجا مؤثر ہوگا۔“ (یسعیاہ ۵۵:۱۰، ۱۱) جو کچھ یہوواہ کہتا ہے وہ اسے پورا کریگا ”ویسا ہی وقوع میں آئیگا۔“—یسعیاہ ۱۴:۲۴۔
۷ ہم انسان مکمل بھروسہ رکھ سکتے ہیں کہ قادرمطلق اپنے وعدوں کو ضرور پورا کریگا، کیونکہ خدا ”جھوٹ نہیں بول سکتا۔“ (ططس ۱:۲، عبرانیوں ۶:۱۸) جب وہ ہمیں بتاتا ہے کہ وہ کوئی کام کریگا تو اسکی بات ایک ضمانت ہے کہ یہ ضرور وقوعپذیر ہوگا۔ یہ بالکل ایسے ہی جیسے کہ تکمیل پا چکا۔ وہ اعلان کرتا ہے: ”میں خدا ہوں اور کوئی دوسرا نہیں۔ میں خدا ہوں اور مجھ سا کوئی نہیں۔ جو ابتدا ہی سے انجام کی خبر دیتا ہوں اور ایامقدیم سے وہ باتیں جو اب تک وقوع میں نہیں آئیں بتاتا ہوں اور کہتا ہوں کہ میری مصلحت قائم رہیگی اور میں اپنی مرضی بالکل پوری کرونگا ... میں ہی نے یہ کہا اور میں ہی اسکو وقوع میں لاؤنگا۔ میں نے اسکا ارادہ کیا اور میں ہی اسے پورا کرونگا۔“—یسعیاہ ۴۶:۹-۱۱۔
۸. کیا وہ جو خلوصدلی سے خدا کو جاننا چاہتے ہیں اسے تلاش کر سکتے ہیں؟
۸ علاوہازیں، یہوواہ ”کسی کی ہلاکت نہیں چاہتا بلکہ یہ چاہتا ہے کہ سب کی توبہ تک نوبت پہنچے۔“ (۲-پطرس ۳:۹) اس وجہ سے، وہ نہیں چاہتا کہ کوئی بھی اس سے ناواقف رہے۔ عزریاہ نام ایک نبی نے کہا: ”اگر تم اس کے [خدا] طالب ہو تو وہ تم کو ملیگا پر اگر تم اسے ترک کرو تو وہ تم کو ترک کریگا۔“ (۲-تواریخ ۱۵:۱، ۲) پس، وہ جو خلوصدلی سے خدا اور اسکے مقاصد کو جاننا چاہتے ہیں اگر وہ اسکی تلاش کرنے کیلئے کوشش کریں تو یقیناً ایسا کر سکتے ہیں۔
۹، ۱۰. (ا) وہ جو خدا کو جاننا چاہتے ہیں انکے لئے کیا چیز فراہم کی گئی ہے؟ (ب) خدا کے کلام کی جانچ ہمیں کیا کرنے کے قابل بناتی ہے؟
۹ کہاں تلاش کریں؟ جو سچمچ خدا کی تلاش کر رہے ہیں انکے لئے اس نے اپنا کلام، بائبل، مہیا کیا ہے۔ اپنی روحالقدس یعنی اسی سرگرم قوت کے ذریعے، جسے خدا نے کائنات کو خلق کرنے کیلئے استعمال کیا، اس نے وفادار آدمیوں کو وہ سب کچھ تحریر کرنے کی ہدایت دی جسکی اسکے مقاصد کو جاننے کیلئے ہمیں ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر، بائبل نبوت کے سلسلے میں پطرس رسول نے کہا: ”نبوت کی کوئی بات آدمی کی خواہش سے کبھی نہیں ہوئی بلکہ آدمی روحالقدس کی تحریک کے سبب سے خدا کی طرف سے بولتے تھے۔“ (۲-پطرس ۱:۲۱) اسی طرح، پولس رسول نے بیان کیا: ”ہر ایک صحیفہ خدا کے الہام سے ہے اور تعلیم کیلئے، تادیب کیلئے، معاملات کو درست کرنے کیلئے، راستبازی میں تربیت کرنے کیلئے فائدہمند ہے تاکہ مرد خدا ہر نیک کام کے لئے پوری طرح لائق، مکمل طور پر لیس ہو۔“—۲-تیمتھیس ۳:۱۶، ۱۷، اینڈبلیو، ۱-تھسلنیکیوں ۲:۱۳۔
۱۰ غور کریں کہ خدا کا کلام ہمیں، جزوی طور پر یا نامکمل طور پر نہیں، بلکہ ”پوری طرح لائق، مکمل طور پر لیس،“ ہونے کے قابل بناتا ہے۔ یہ کسی شخص کو اس بات کی بابت یقین رکھنے کے قابل بناتا ہے کہ خدا کون ہے، اسکے مقاصد کیا ہیں، اور وہ اپنے خادموں سے کیا تقاضا کرتا ہے۔ خدا کی تصنیفکردہ کتاب سے یہی توقع کی جاتی ہے۔ اور یہی وہ واحد ماخذ ہے جسکی جانچ کرنے سے ہم خدا کی بابت صحیح علم حاصل کر سکتے ہیں۔ (امثال ۲:۱-۵، یوحنا ۱۷:۳) ایسا کرنے سے، ہم ”آگے کو بچے نہ رہیں [گے] اور آدمیوں کی بازیگری اور مکاری کے سبب سے انکے گمراہ کرنے والے منصوبوں کی طرف ہر ایک تعلیم کے جھوکے سے موجوں کی طرح اچھلتے بہتے نہ پھریں“ گے۔ (افسیوں ۴:۱۳، ۱۴) زبورنویس نے بالکل صحیح نظریے کا اظہار کیا: ”تیرا [خدا کا] کلام میرے قدموں کے لئے چراغ اور میری راہ کے لئے روشنی ہے۔“—زبور ۱۱۹:۱۰۵۔
رفتہ رفتہ آشکارا کئے گئے
۱۱. یہوواہ نے اپنے مقاصد کو نوعانسانی پر کسطرح آشکارا کیا ہے؟
۱۱ انسانی خاندان کی ابتدا ہی میں، یہوواہ نے زمین اور اس پر کے انسانوں کیلئے اپنے مقاصد کو آشکارا کیا۔ (پیدایش ۱:۲۶-۳۰) لیکن جب ہمارے پہلے والدین نے خدا کی حاکمیت کو رد کیا تو نسلانسانی روحانی تاریکی اور موت میں پڑ گئی۔ (رومیوں ۵:۱۲) تاہم، یہوواہ جانتا تھا کہ ایسے لوگ بھی ہونگے جو اسکی خدمت کرنا چاہینگے۔ اسلئے، صدیوں کے دوران، اس نے اپنے مقاصد کو رفتہ رفتہ اپنے وفادار خادموں پر آشکارا کیا ہے۔ ان میں سے بعض جنکے ساتھ وہ ہمکلام ہوا حنوک (پیدایش ۵:۲۴، یہوادہ ۱۴، ۱۵)، نوح (پیدایش ۶:۹، ۱۳)، ابرہام (پیدایش ۱۲:۱-۳)، اور موسی (خروج ۳۱:۱۸، ۳۴:۲۷، ۲۸) تھے۔ خدا کے نبی عاموس نے لکھا: ”یقیناً خداوند خدا کچھ نہیں کرتا جب تک کہ اپنا بھید اپنے خدمتگذار نبیوں پر پہلے آشکارا نہ کرے۔“—عاموس ۳:۷، دانیایل ۲:۲۷، ۲۸۔
۱۲. یسوع نے خدا کے مقاصد پر مزید روشنی کیسے ڈالی؟
۱۲ عدن میں بغاوت کے کوئی ۴،۰۰۰ سالوں کے بعد جب خدا کا بیٹا، یسوع مسیح، زمین پر تھا تو خدا کے مقاصد کی بابت اور بھی بہت سی تفصیلات کو آشکارا کر دیا گیا تھا۔ یہ بالخصوص زمین پر حکومت کرنے کیلئے ایک آسمانی بادشاہت قائم کرنے کے خدا کے مقصد کے سلسلے میں تھا۔ (دانیایل ۲:۴۴) یسوع نے اس بادشاہت کو اپنی تعلیم کا موضوع بنایا۔ (متی ۴:۱۷، ۶:۱۰) اس نے اور اسکے شاگردوں نے یہ سکھایا کہ اس بادشاہت کے تحت، زمین کیلئے اور نوع انسان کیلئے خدا کا ابتدائی مقصد پورا ہو جائیگا۔ زمین کو کامل انسانوں سے آبادشدہ ایک فردوس میں بدل دیا جائے گا جو کہ ہمیشہ تک زندہ رہیں گے۔ (زبور ۳۷:۲۹، متی ۵:۵، لوقا ۲۳:۴۳، ۲-پطرس ۳:۱۳، مکاشفہ ۲۱:۴) اسکے علاوہ، یسوع اور اسکے شاگردوں نے ان معجزات کے ذریعے جنہیں انجام دینے کی طاقت خدا نے انہیں بخشی تھی اس بات کا مظاہرہ کیا کہ نئی دنیا میں کیا واقع ہوگا۔—متی ۱۰:۱، ۸، ۱۵:۳۰، ۳۱، یوحنا ۱۱:۲۵-۴۴۔
۱۳. نسلانسانی کے ساتھ خدا کے تعلقات کے سلسلے میں، ۳۳ س۔ع۔ پنتکست پر کونسی تبدیلی رونما ہوئی؟
۱۳ یسوع کی موت کے ۵۰ دن بعد، ۳۳ س۔ع۔ پنتکست پر یسوع کے پیروکاروں کی کلیسیا پر خدا کی روح نازل کی گئی۔ اس نے یہوواہ کی عہد کی امت کے طور پر بےوفا اسرائیل کی جگہ لے لی۔ (متی ۲۱:۴۳، ۲۷:۵۱، اعمال ۲:۱-۴) اس موقع پر روحالقدس کا نزول اس بات کا ثبوت تھا کہ اس وقت سے لیکر خدا اپنے مقاصد کی بابت سچائیاں اس نئے آلہکار کے ذریعے ظاہر کریگا۔ (افسیوں ۳:۱۰) پہلی صدی س۔ع۔ کے دوران ہی، مسیحی کلیسیا کے تنظیمی ڈھانچے کو قائم کیا گیا۔—۱-کرنتھیوں ۱۲:۲۷-۳۱، افسیوں ۴:۱۱، ۱۲۔
۱۴. سچائی کے متلاشی سچی مسیحی کلیسیا کی شناخت کسطرح کر سکتے ہیں؟
۱۴ آجکل، سچائی کے متلاشی سچی مسیحی کلیسیا کی شناخت اسکی طرف سے خدا کی اولین خوبی، محبت، کے مستقل اظہار سے کر سکتے ہیں۔ (۱-یوحنا ۴:۸، ۱۶) واقعی برادرانہ محبت خالص مسیحیت کا ایک شناختی نشان ہے۔ یسوع نے کہا: ”اگر آپس میں محبت رکھو گے تو اس سے سب جانینگے کہ تم میرے شاگرد ہو۔“ ”میرا حکم یہ ہے کہ جیسے میں نے تم سے محبت رکھی تم بھی ایک دوسرے سے محبت رکھو۔“ (یوحنا ۱۳:۳۵، ۱۵:۱۲) اور یسوع نے اپنے سننے والوں کو یاد دلایا: ”جو کچھ میں تم کو حکم دیتا ہوں اگر تم اسے کرو تو میرے دوست ہو۔“ (یوحنا ۱۵:۱۴) لہذا خدا کے سچے خادم وہ ہیں جو محبت کی شریعت کے مطابق زندگی بسر کرتے ہیں۔ وہ اسکی بابت محض باتیں ہی نہیں کرتے، کیونکہ ”ایمان ... بغیر اعمال کے مردہ ہے۔“—یعقوب ۲:۲۶۔
روشنخیالی
۱۵. کس چیز کی بابت خدا کے خادموں کو یقین دلایا جا سکتا ہے؟
۱۵ یسوع نے پہلے ہی سے بتا دیا تھا کہ وقت کے گزرنے کیساتھ ساتھ، سچی مسیحی کلیسیا کو خدا کے مقاصد کے متعلق زیادہ سے زیادہ روشنخیالی عطا کی جائیگی۔ اس نے اپنے پیرکاروں سے وعدہ کیا: ”مددگار یعنی روحالقدس جسے باپ میرے نام سے بھیجیگا وہی تمہیں سب باتیں سکھائیگا۔“ (یوحنا ۱۴:۲۶) یسوع نے یہ بھی کہا: ”دیکھو میں دنیا کے آخر تک ہمیشہ تمہارے ساتھ ہوں۔“ (متی ۲۸:۲۰) یوں، خدا کے خادموں کے درمیان خدا اور اسکے مقاصد کی بابت سچائی کے سلسلے میں روشنخیالی بڑھتی رہتی ہے۔ جیہاں، ”صادقوں کی راہ نورسحر کی مانند ہے جسکی روشنی دوپہر تک بڑھتی ہی جاتی ہے۔“—امثال ۴:۱۸۔
۱۶. خدا کے مقاصد کے سلسلے میں ہماری جو حیثیت ہے اس کی بابت ہماری روشنخیالی ہمیں کیا بتاتی ہے؟
۱۶ آجکل، یہ روحانی روشنی پہلے سے کہیں زیادہ درخشاں ہے، کیونکہ اب ہم ایسے زمانے میں ہیں جب بہت سی بائبل پیشینگوئیاں پوری ہو رہی ہیں یا پوری ہونے کے قریب ہیں۔ یہ ہم پر واضح کرتی ہیں کہ ہم اس بدکار نظام کے ”اخیر زمانہ“ میں رہ رہے ہیں۔ یہ ایسا دور ہے جسے ”دنیا [کا] آخر“ کہا گیا ہے، اسکے بعد خدا کی نئی دنیا آ جائیگی۔ (۲-تیمتھیس ۳:۱-۵، ۱۳، متی ۲۴:۳-۱۳) جیسے کہ دانیایل نے پیشینگوئی کی، خدا کی آسمانی بادشاہت بہت جلد ”ان [اب موجود] تمام مملکتوں کو ٹکڑے ٹکڑے اور نیست کریگی اور وہی ابد تک قائم رہیگی۔“—دانیایل ۲:۴۴۔
۱۷، ۱۸. کونسی شاندار پیشینگوئیاں اب پوری ہو رہی ہیں؟
۱۷ اب پوری ہونے والی پیشینگوئیوں میں سے ایک متی ۲۴ باب کی ۱۴ آیت میں درج ہے۔ وہاں پر یسوع نے کہا: ”بادشاہی کی اس خوشخبری کی منادی تمام دنیا میں ہوگی تاکہ سب قوموں کے لئے گواہی ہو۔ تب خاتمہ ہوگا۔“ تمام زمین پر، بادشاہتی خوشخبری کا یہ کام لاکھوں یہوواہ کے گواہوں کے ذریعے کیا جا رہا ہے۔ اور ہر سال لاکھوں لوگ ان میں شامل ہو رہے ہیں۔ یہ یسعیاہ ۲:۲، ۳ کی پیشینگوئی کی مطابقت میں ہے، جو یہ کہتی ہے کہ اس بدکار دنیا کے ”آخری دنوں میں“ بہت سی قوموں میں سے لوگ یہوواہ کی سچی پرستش کی طرف آئینگے، اور ”وہ انہیں اپنی راہوں کی تعلیم دیگا اور وہ اسکے راستوں پر چلیں گے۔“
۱۸ جیسے کہ یسعیاہ ۶۰ باب، ۸ آیت میں پیشتر ہی سے بتا دیا گیا، یہ نئے اشخاص ”بادل کی طرح“ یہوواہ کی پرستش کی طرف اڑے چلے آ رہے ہیں۔ ۲۲ آیت اضافہ کرتی ہے: ”سب سے چھوٹا ایک ہزار ہو جائیگا اور سب سے حقیر ایک زبردست قوم۔ میں خداوند عین وقت پر یہ سب کچھ جلد کرونگا۔“ شہادت ظاہر کرتی ہے کہ وہ وقت اب ہی ہے۔ اور نئے اشخاص پراعتماد ہو سکتے ہیں کہ یہوواہ کے گواہوں کی رفاقت میں آنے سے وہ سچی مسیحی کلیسیا کے ساتھ وابستہ ہو گئے ہیں۔
۱۹. ہم یہ کیوں کہتے ہیں کہ یہوواہ کے گواہوں کے ساتھ رفاقت رکھنے والے نئے اشخاص سچی مسیحی کلیسیا کی طرف آ رہے ہیں؟
۱۹ ہم یقین کیساتھ ایسا کیوں کہہ سکتے ہیں؟ کیونکہ ان نئے اشخاص نے، یہوواہ کی تنظیم کے اندر پہلے ہی سے موجود لاکھوں لوگوں سمیت، اپنی زندگیاں خدا کیلئے مخصوص کی ہیں اور اسکی مرضی کو بجا لا رہے ہیں۔ اس میں خدائی محبت کے اصول کے مطابق زندگی بسر کرنا شامل ہے۔ اسکے ایک ثبوت کے طور پر، ان مسیحیوں نے ”اپنی تلواروں کو توڑ کر پھالیں اور اپنے بھالوں کو ہنسوئے بنا ڈالا ہے اور پھر کبھی جنگ کرنا نہیں سیکھ رہے ہیں۔“ (یسعیاہ ۲:۴) پوری دنیا میں تمام یہوواہ کے گواہوں نے ایسا کیا ہے کیونکہ وہ محبت کو عمل میں لاتے ہیں۔ اسکا مطلب یہ ہے کہ وہ کبھی بھی ایکدوسرے کے یا کسی اور کے خلاف جنگی ہتھیار نہیں اٹھا سکتے۔ اسطرح وہ منفرد—دنیاوی مذاہب کے بالکل برعکس ہیں۔ (یوحنا ۱۳:۳۴، ۳۵، ۱-یوحنا ۳:۱۰-۱۲، ۱۵) وہ تفرقہ ڈالنے والی قومپرستی میں ملوث نہیں ہوتے کیونکہ وہ محبت، ”اتحاد کے کامل بندھن،“ سے مستحکم کی گئی ایک عالمگیر برادری کو تشکیل دیتے ہیں۔—کلسیوں ۳:۱۴، اینڈبلیو، متی ۲۳:۸، ۱-یوحنا ۴:۲۰، ۲۱۔
بہتیرے لاعلم رہنے کا انتخاب کرتے ہیں
۲۰، ۲۱. نوعانسانی کی بڑی اکثریت روحانی تاریکی میں کیوں ہے؟ (۲-کرنتھیوں ۴:۴، ۱-یوحنا ۵:۱۹)
۲۰ جبکہ خدا کے خادموں کے درمیان روحانی روشنی تیز ہوتی جاتی ہے، زمین کی باقی آبادی پہلے سے کہیں بڑی روحانی تاریکی میں گرتی جا رہی ہے۔ وہ یہوواہ یا اسکے مقاصد کو نہیں جانتی۔ خدا کے نبی نے اسی وقت کا ذکر کیا جب اس نے کہا: ”دیکھ تاریکی زمین پر چھا جائیگی اور تیرگی امتوں پر۔“ (یسعیاہ ۶۰:۲) یہ اسلئے ہے کیونکہ لوگ خدا کی بابت سیکھنے میں مخلص دلچسپی ظاہر نہیں کرتے، نہ ہی وہ اسے خوش کرنے کیلئے کوشش کرنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں۔ یسوع نے کہا: ”سزا کے حکم کا سبب یہ ہے کہ نور دنیا میں آیا ہے اور آدمیوں نے تاریکی کو نور سے زیادہ پسند کیا۔ اسلئے کہ انکے کام برے تھے۔ کیونکہ جو کوئی بدی کرتا ہے وہ نور سے دشمنی رکھتا ہے اور نور کے پاس نہیں آتا۔ ایسا نہ ہو کہ اسکے کاموں پر ملامت کی جائے۔“—یوحنا ۳:۱۹، ۲۰۔
۲۱ ایسے افراد خدا کی مرضی تلاش کرنے میں حقیقی طور پر دلچسپی نہیں رکھتے ہیں۔ اسکی بجائے، وہ اپنی زندگیوں کو اپنی ہی مرضی پوری کرنے پر مرتکز رکھتے ہیں۔ خدا کی مرضی کو نظرانداز کرنے سے، وہ خود کو ایک خطرناک حالت میں ڈال لیتے ہیں، کیونکہ اسکا کلام بیان کرتا ہے: ”جو کان پھیر لیتا ہے کہ شریعت کو نہ سنے اسکی دعا بھی نفرتانگیز ہے۔“ (امثال ۲۸:۹) وہ اپنی منتخبکردہ روش کے نتائج کو بھگتیں گے۔ پولس رسول نے لکھا: ”فریب نہ کھاؤ۔ خدا ٹھٹھوں میں نہیں اڑایا جاتا کیونکہ آدمی جو کچھ بوتا ہے وہی کاٹیگا۔“—گلتیوں ۶:۷۔
۲۲. بیشمار لوگ جو خدا کو جاننا چاہتے ہیں وہ اب کیا کر رہے ہیں؟
۲۲ پھر بھی، بیشمار ایسے لوگ ہیں جو خدا کی مرضی جاننا چاہتے ہیں، جو خلوصدلی سے اسکی تلاش کرتے ہیں، اور جو اسکی طرف مائل ہیں۔ ”خدا کے نزدیک جاؤ تو وہ تمہارے نزدیک آئیگا،“ یعقوب ۴:۸ کہتی ہے۔ ایسوں کی بابت یسوع نے کہا تھا: ”جو سچائی پر عمل کرتا ہے وہ نور کے پاس آتا ہے تاکہ اسکے کام ظاہر ہوں کہ وہ خدا میں کئے گئے ہیں۔“ (یوحنا ۳:۲۱) اور جو نور کی طرف آتے ہیں انکے لئے خدا نے کسقدر شاندار مستقبل کا قصد کر رکھا ہے! ہمارا اگلا مضمون ہیجانخیز امکانات پر بات کریگا۔ (۱۰ ۳/۱۵ w۹۴)
آپ کیسے جواب دینگے؟
▫ زندگی کے مقصد کی بابت بہتیرے کیا کہتے ہیں؟
▫ یہوواہ ایک بامقصد خدا کے طور پر خود کو کیسے ظاہر کرتا ہے؟
▫ پہلی صدی س۔ع۔ میں کونسی بڑی روشنخیالی واقع ہوئی؟
▫ آجکل سچی مسیحی کلیسیا کی شناخت کیسے کی جا سکتی ہے؟