کیا بائبل آج بھی ہماری مدد کر سکتی ہے؟
ایک نوجوان نے رائےزنی کی، ”مجموعی طور پر بائبل کا صرف ۱ فیصد حصہ پڑھنے کے لائق ہے، باقی سب غیرموزوں اور فرسودہ ہے۔“ بہتیرے اُس سے اتفاق کرینگے۔ بائبل ابھی تک پوری دُنیا میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتاب ہے تو بھی لاکھوں لوگ اس پر کوئی توجہ نہیں دیتے اور اسکی تعلیمات سے ناواقف ہیں۔
جرمن اخبار سیوٹڈویخ ٹسیٹن نے ۱۹۹۶ میں اپنے کرسمس ایڈیشن میں تبصرہ کِیا کہ بائبل ”پڑھنے والوں کی تعداد میں دنبدن کمی واقع ہوتی جا رہی ہے۔ طبیعی علوم اور بڑھتی ہوئی بیدینی کے اس دور میں، بہتیرے لوگوں کو بائبل کی سرگزشتیں نہایت عجیب اور سمجھنے میں مشکل دکھائی دیتی ہیں۔“ مشاہدات اس بیان کی تصدیق کرتے ہیں۔ بعض مشاہدے تو یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ بچوں کی ایک بڑی تعداد کو تو یہ بھی معلوم نہیں کہ یسوع مسیح کون ہے۔ ایک مشاہدے کے دوران، انٹرویو دینے والے لوگوں میں سے نصف سے بھی کم لوگ مسرف بیٹے اور نیک سامری سے متعلق بائبل کی کہانیاں بیان کر پائے۔
سوئس ایونجلیکل چرچ کی اشاعت ریفارمرٹیز فورم بیان کرتی ہے کہسوئٹزرلینڈ میں اب بائبل کی اُتنی مانگ نہیں رہی جتنی پہلے کبھی ہوتی تھی۔ جن لوگوں کے گھروں میں بائبل موجود ہے تو وہاں بھی اُس پر مٹی پڑی رہتی ہے۔ برطانیہ میں بھی حالت ایسی ہی ہے۔ ایک مشاہدے کے مطابق اگرچہ بیشتر لوگوں کے پاس بائبل ہے تو بھی اکثریت نے اِسے کبھی نہیں پڑھا۔
اس کے برعکس، پوری دُنیا میں لاکھوں لوگ بائبل کی بابت مختلف رائے رکھتے ہیں۔ وہ اسے خدا کا کلام سمجھنے کے ساتھ ساتھ بیشقیمت اور مفید خیال کرتے ہیں۔ لہٰذا، وہ اسے باقاعدگی سے پڑھتے ہیں۔ ایک نوجوان خاتون لکھتی ہے: ”مَیں ہر روز بائبل کے ایک یا دو باب پڑھنے کی کوشش کرتی ہوں۔ مَیں اس سے بہت زیادہ خوشی حاصل کرتی ہوں۔“ ایسے اشخاص بائبل کی تعلیم پر غور کرتے ہیں اور اسکی مشورت کو اپنی زندگیوں میں استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اُن کا ایمان ہے کہ بائبل آجکل مسائل سے پُر دُنیا میں اُن کی مدد کر سکتی ہے۔
اس کی بابت آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا بائبل جدید زمانے کے لئے غیرموزوں ہے؟ یا کیا یہ بیشقیمت اور مفید ہے؟ کیا بائبل آج بھی ہماری مدد کر سکتی ہے؟