بیماری کا راز
ننھی اوماجی اسہال میں مبتلا ہے۔ اس کی ماں، ہاوا، اس کے جسم میں پانی کی کمی کی بابت پریشان ہے؛ اس نے سنا ہے کہ گاؤں میں اس کی چچازاد بہن کا بچہ حال ہی میں اسی وجہ سے فوت ہو گیا تھا۔ ہاوا کی ساس، اوماجی کی دادی، اوماجی کو قبائلی جادوگر کے پاس لیجانا چاہتی ہے۔ ”کسی بدروح نے بچی کو بیمار کر دیا ہے،“ اس کا خیال ہے۔ ”تم نے اس کے بچاؤ کے لئے اسے تعویذ پہنانے سے انکار کِیا تھا اسی لئے تو مسائل سر اُٹھا رہے ہیں!“
دُنیا کے بہتیرے حصوں میں یہ منظر اکثر دیکھنے کو ملتا ہے۔ کروڑوں لوگوں کا خیال ہے کہ بیماری کی پوشیدہ وجہ بدروحیں ہیں۔ کیا یہ سچ ہے؟
راز بنانا
شاید آپ ذاتی طور پر یہ نہ مانتے ہوں کہ نادیدہ روحیں بیماری کا سبب بنتی ہیں۔ تاہم، شاید آپ سوچیں کہ کسی کو ایسا کیوں سوچنا چاہئے کیونکہ سائنسدان ثابت کر چکے ہیں کہ زیادہتر بیماریاں وائرس اور بیکٹریا کی پیداوار ہیں۔ تاہم، یاد رکھیں کہ نسلِانسانی ان چھوٹے چھوٹے جراثیم کے بارے میں کبھی باخبر نہیں تھی۔ اینٹونی وین لیووینہوئیک کے ۱۷ویں صدی میں خوردبین کی ایجاد تک ایسا نہ تھا، مطلب یہ کہ اس وقت خوردبینی دنیا انسانی آنکھ کیلئے نظر آنے لگی۔ توبھی ۱۹ویں صدی میں صرف لوئیس پاسچر کی دریافتوں کی بدولت ہی سائنس جراثیم اور بیماری کے درمیان تعلق کو سمجھنے لگی۔
انسانی تاریخ کے بیشتر حصے کیلئے بیماری کی وجوہات سے ناواقفیت نے بہتیرے توہمپرستانہ نظریات کو فروغ دیا جس میں یہ نظریہ بھی شامل تھا کہ تمام امراض کا سبب بدروحیں ہیں۔ دی نیو انسائیکلوپیڈیا برٹینیکا ایک طریقہ تجویز کرتا ہے جس سے شاید اس نظریے نے فروغ پایا۔ یہ بیان کرتا ہے کہ ابتدائی عاملوں نے مختلف جڑیبوٹیوں، پتوں، الغرض جو کچھ ان کے ہاتھ آ جاتا وہ اسی سے بیمار کا علاج کرنے کی کوشش کرتے۔ کبھیکبھار کوئی چیز کارگر ہو جاتی۔ علاوہازیں عامل شفائیہ علاجمعالجہ کے ساتھ بہت سی توہمپرستانہ رسومات اور ایسے کام کرتا جو حقیقی علاج کو پسِپُشت ڈال دیتا۔ اس طرح عامل اس بات کا اطمینان کر لیتا کہ لوگ اس کی مدد کرتے رہیں۔ اس طریقے سے دوائی پر پردہ پڑ جاتا اور لوگوں کی حوصلہافزائی ہوتی کہ مدد کے لئے مافوقالفطرت چیز پر آس لگائیں۔
یہ روایتی شفائیہ طریقےکار بہتیرے ممالک میں ابھی تک استعمال ہوتے ہیں۔ بہتیروں کے خیال میں بیماری کا سبب مُردہ آباؤاجداد کی روحیں ہیں۔ دیگر کا خیال ہے کہ خدا ہمیں بیمار کرتا ہے اور بیماری ہمارے گناہوں کی سزا ہے۔ بیماری کی حیاتیاتی نوعیت کا علم رکھنے والے پڑھےلکھے لوگ بھی، شاید مافوقالفطرت اثر سے ڈرتے ہیں۔
جادوگر اور روایتی عامل اس ڈر کو لوگوں سے ناجائز فائدہ اُٹھانے کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ تاہم ہمیں کیا ایمان رکھنا چاہئے؟ کیا طبّی صحت کیلئے روحوں پر آس لگانا کچھ مدد کا باعث ہوگا؟ بائبل کیا کہتی ہے؟