”اگر نمک کا مزہ جاتا رہے“
اس کی خاطر جنگیں لڑی گئی ہیں۔ یہ ذریعۂمبادلہ کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہے۔ قدیم چین میں قیمت کے لحاظ سے سونے کے بعد آتا تھا۔ جیہاں، انسانوں نے نمک کو عرصۂدراز سے اعلیٰ قدروقیمت کی حامل چیز خیال کِیا ہے۔ آج کے دن تک، شفابخش اور جراثیمکش خصوصیات اس سے وابستہ ہیں اور پوری دنیا میں اسے ذائقہ بڑھانے اور چیزوں کو محفوظ رکھنے کے طور پر استعمال کِیا جاتا ہے۔
نمک کی بہت ساری پسندیدہ خوبیوں اور استعمال کے پیشِنظر، اس میں حیرانی کی کوئی بات نہیں کہ اسے بائبل میں علامتی طور پر استعمال کِیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر، موسوی شریعت نے تقاضا کِیا کہ یہوواہ کے حضور قربانگاہ پر چڑھائی جانے والی کسی بھی چیز کو نمکین کِیا جانا ہوگا۔ (احبار ۲:۱۳) اسے قربانیوں کے ذائقے کو بہتر بنانے کی بجائے خراب یا گلنے سڑنے سے بچانے کی خاطر استعمال کِیا جاتا تھا۔
اپنے مشہور پہاڑی وعظ میں، یسوع مسیح نے اپنے شاگردوں سے کہا: ”تم زمین کے نمک ہو۔“ (متی ۵:۱۳) اس بیان سے یسوع نے دلالت کی خدا کی بادشاہت کی منادی سننے والوں پر امکانی طور پر محفوظ رکھنے والا یا زندگی بچانے والا، اثر رکھے گی۔ واقعی، جنہوں نے یسوع کے الفاظ کا اطلاق کِیا وہ جن علاقوں میں رہتے تھے اور جہاں انہوں نے خدمت کی وہاں وہ اخلاقی اور روحانی تنزلی سے محفوظ رہے۔—۱-پطرس ۴:۱-۳۔
تاہم، یسوع نے آگاہ کِیا: ”لیکن اگر نمک کا مزہ جاتا رہے تو . . . پھر وہ کسی کام کا نہیں سوا اُس کے کہ باہر پھینکا جائے اور آدمیوں کے پاؤں کے نیچے روندا جائے۔“ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے، بائبل عالم البرٹ بارنز نے کہا کہ جس نمک سے یسوع اور رسول واقف تھے وہ ”ملاوٹی، سبزیوں اور مٹی کے اجزاء کے ساتھ ملاجلا ہوتا تھا۔“ پس اگر نمک کا مزہ ختم ہو جائے تو ”کسی حد تک مٹی کے اجزاء“ باقی رہتے ہیں۔ بارنز نے بیان کیا کہ ”یہ کسی کام کا نہیں رہتا تھا . . . سوائے بجری کی طرح راستوں یا سڑکوں پر ڈالا جائے۔“
اس آگاہی پر دھیان دینے میں، مسیحیوں کو احتیاط برتنی چاہئے کہ اپنی عوامی منادی بند نہ کریں یا دوبارہ بےدین کاموں میں نہ پڑ جائیں۔ ورنہ وہ اپنی روحانیت کھو بیٹھیں گے اور اس ’نمک‘ کی مانند بیکار ہو سکتے ہیں ’جس کا مزہ ختم ہو گیا ہے۔‘