جسطرح ایمان بیماروں کی مدد کر سکتا ہے
بائبل میں معجزانہ شفاؤں کی سرگزشتیں ہمیں یقیندہانی کراتی ہیں کہ خدا ہماری تندرستی کی بابت فکر رکھتا ہے اور یہ اس کی شفا بخشنے کی قوت کو بھی ظاہر کرتی ہیں۔ چونکہ یہ معجزانہ شفائیں خدا کی تمجید کا باعث ہوئی ہیں اور اس قدر خوشی لائی ہیں تو یہ پوچھنا معقول ہوگا کہ آیا روحالقدس کے ذریعے شفا کی بخشش آج بھی جاری ہے؟
اس سوال کا جواب ہے نہیں—اور اس کی وجہ شاید بعض کو حیرت میں ڈال دے۔ پہلی صدی کی ان معجزانہ شفاؤں نے اپنا مقصد پورا کر دیا تھا۔ دی السٹریٹڈ بائبل ڈکشنری بڑی درستی سے یہ نوٹ کرتی ہے: ”شفا دینے کے معجزات کا مقصد دینیاتی تھا نہ کہ طبی۔“ ان معجزات سے بعض کونسے دینیاتی مقاصد حاصل ہوئے؟
ایک بات تو یہ ہے کہ یسوع کے شفائیہ معجزات نے اسے بطور مسیحا شناخت کرانے کے مقصد کو سرانجام دیا۔ اور اس کی موت کے بعد، انہوں نے یہ ثبوت فراہم کرنے میں مدد دی کہ خدا کی برکت نئی مسیحی کلیسیا پر تھی۔ (متی ۱۱:۲-۶، عبرانیوں ۲:۳، ۴) مزید انہوں نے یہ ظاہر کیا کہ نئی دنیا میں بنیآدم کو شفا دینے کا خدائی وعدہ ضرور پورا ہوگا۔ وہ ہمارے ایمان کی تصدیق کرتے ہیں کہ درحقیقت وہ وقت ضرور آئے گا جب ”وہاں کے باشندوں میں بھی کوئی نہ کہے گا کہ میں بیمار ہوں۔ اور انکے گناہ بخشے جائیں گے۔“ (یسعیاہ ۳۳:۲۴) پہلی صدی میں جب یہ مقاصد پورے ہو گئے تو اس کے بعد معجزات کی مزید کوئی ضرورت نہ تھی۔
قابلغور بات یہ ہے کہ یسوع کے پہلی صدی کے شاگرد خود بھی ایسی بیماریوں میں مبتلا تھے جنہیں معجزانہ طور پر ٹھیک نہیں کیا گیا تھا۔ یہ اس بات کا اضافی ثبوت ہے کہ یسوع اور اس کے شاگردوں کی معجزانہ شفا دینے کی کارگزاری طبی خدمات فراہم کرنے کے لئے نہیں بلکہ اہمترین سچائیاں سکھانے کے لئے ترتیب دی گئی تھی۔ تیمتھیس کے اکثر بیمار رہنے کی وجہ سے علاج تجویز کرتے ہوئے، پولس نے ایمانی شفا کی بجائے مے کے ادویاتی استعمال کی تائید کی۔ پولس، جس نے شفائیہ معجزات کئے، اسے ”جسم میں کانٹے“ سے چھٹکارا نہ مل سکا جو کہ مسلسل اسے ”چبھتا“ رہتا تھا۔—۲-کرنتھیوں ۱۲:۷، ۱-تیمتھیس ۵:۲۳۔
جب رسول وفات پا گئے تو شفا کی نعمت بھی ختم ہو گئی۔ پولس نے خود اس کی نشاندہی کی کہ ایسا واقع ہوگا۔ مسیحی کلیسیا کو ایک بچے سے تشبیہ دیتے ہوئے، پولس نے کہا: ”جب میں بچہ تھا تو بچوں کی طرح بولتا تھا۔ بچوں کی سی طبعیت تھی۔ بچوں کی سی سمجھ تھی لیکن جب جوان ہوا تو بچپن کی باتیں ترک کر دیں۔“ اس کی تمثیل کا مقصد یہ تھا کہ روح کی معجزانہ شفا کی نعمتیں مسیحی کلیسیا کے ابتدائی دور کا ایک حصہ تھیں۔ وہ ”بچپن کی باتیں تھیں۔“ لہذا، اس نے بیان کیا: ”وہ [معجزانہ نعمتیں] موقوف ہو جائینگی۔“—۱-کرنتھیوں ۱۳:۸-۱۱۔
جب ہم بیمار پڑتے ہیں تو کیا ایمان ہماری مدد کر سکتا ہے؟
تاہم، اگر ہم ایمانی شفا پر اعتماد نہ بھی رکھتے ہوں تو بھی یہ یقینی طور پر مناسب ہوگا کہ جب ہم بیمار ہوں تو مدد کیلئے خدا سے دعا کریں۔ اور یقیناً ہمارے لئے دوسروں کے دعا کرنے میں بھی کوئی خرابی نہیں۔ لیکن دعاؤں کو حقیقتپسندانہ اور خدا کی مرضی کی مطابقت میں ہونا چاہیے۔ (۱-یوحنا ۵:۱۴، ۱۵) بائبل کہیں پر بھی ہمیں ایمانی شفا کے لئے دعا کرنے کا حکم نہیں دیتی۔a اس کی بجائے، ہم بیماری کے باعث آنے والی مشکلات کے دوران مدد کے لئے یہوواہ کی پرمحبت حمایت کیلئے دعا کرتے ہیں۔
بائبل ظاہر کرتی ہے کہ ایماندار لوگ بیماری کے دوران کس چیز کے لئے دعا کر سکتے ہیں جب وہ کہتی ہے: ”خداوند اسے بیماری کے بستر پر سنبھالیگا۔ تو اس کی بیماری میں اس کے پورے بستر کو ٹھیک کرتا ہے۔“ (زبور ۴۱:۳) خدا کے کلام پر غوروخوض جذباتی بیماریوں میں مبتلا لوگوں کیلئے مددگار ثابت ہوگا۔ زبورنویس نے لکھا: ”اے خداوند تیری شفقت نے مجھے سنبھال لیا۔ جب میرے دل میں فکروں کی کثرت ہوتی ہے تو تیری تسلی میری جان کو شاد کرتی ہے۔“—زبور ۹۴:۱۸، ۱۹، نیز دیکھیں ۶۳:۶-۸۔
علاوہازیں، ہمیں صحت کے معاملے میں اچھی بصیرت ظاہر کرنے کی بھی ضرورت ہے، اور بائبل ہمیں اس کی بابت تلقین کرتی ہے۔ یہ اس سے کہیں بہتر ہے کہ بائبل کے اصولوں کے مطابق رہا جائے بجائے اس کے کہ منشیات کے ناجائز استعمال، سگریٹنوشی، بہت زیادہ مےنوشی، یا بےتحاشا کھانے میں پڑا جائے اور پھر جب اس کے بعد بیماری آ جائے تو پریشانی کے عالم میں ایمانی شفا کے پیچھے بھاگا جائے۔ جب کسی شخص پر بیماری آ جائے تو پھر معجزے کیلئے دعا کرنا قابلبچاؤ بیماری سے بچنے کے لئے دانشمندانہ روش اپنانے کا متبادل نہیں، جیسے کہ اگر میسر ہو تو غذائیت سے بھرپور غذا کھانے سے یا جہاں تک ممکن ہو مستند طبی امداد حاصل کرنے سے۔
خدا کا کلام ہمیں صحتمندانہ ذہنی رجحانات پیدا کرنے کی بھی حوصلہافزائی دیتا ہے جو کہ ہماری جسمانی صحت کو فائدہ پہنچا سکتا ہے۔ امثال کی کتاب تلقین کرتی ہے: ”مطمئن دل جسم کی جان ہے لیکن حسد ہڈیوں کی بوسیدگی ہے۔“ ”شادمان دل شفا بخشتا ہے لیکن افسردہ دلی ہڈیوں کو خشک کر دیتی ہے۔“ (امثال ۱۴:۳۰، ۱۷:۲۲) روحالقدس کے لئے دعا کرنا کہ وہ ہمارے اندر اطمینان اور خوشی کو بڑھائے ہماری جسمانی صحت پر مفید اثرات ہی ڈال سکتا ہے۔—فلپیوں ۴:۶، ۷۔
ایمانی شفا کی بابت کیا؟
بیشک ایک آدمی جس قدر اس کے حالات اجازت دیتے ہیں، خواہ کتنی ہی صحتمندانہ زندگی کیوں نہ بسر کر رہا ہو، پھر بھی بیماری حملہآور ہو سکتی ہے۔ تب کیا ہو؟ کیا تندرست ہونے کی آس پر ایمانی شفا والوں کے پاس جانے میں کوئی نقصان ہے؟ جیہاں، نقصان ہے۔ جدید زمانے کے ایمانی شفا دینے والے شاذونادر ہی بغیر پیسوں کے کام کرتے ہیں۔ اور ایمانی شفا دینے والے پر پیسہ خرچ کرنا شاید ہمیں مہنگا پڑے جبکہ وہ پیسہ طبی امداد پر خرچ کیا جا سکتا تھا ۔ اس کے علاوہ، پیسہ ایسے اشخاص کو کیوں دیا جائے جو لوگوں کے بھولےپن سے فائدہ اٹھاتے ہیں؟
بعض شاید بحث کریں: ”اگرچہ ”شفا دینے والوں“ کے پاس جانے والوں میں سے تھوڑے لوگ ہی شفا پاتے ہیں پھر بھی یقیناً ایمانی شفا کی ضرور کوئی اہمیت ہے۔“ لیکن یہ بات قابلاستدلال ہے کہ آیا ایمانی شفا دینے والے واقعی کسی کو مستقل طور پر شفا دیتے ہیں۔ انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا تسلیم کرتا ہے: ”ایمانی شفا کے سلسلے میں کئی نامعلوم پہلوؤں پر نسبتاً کم باضابطہ تحقیق ہوئی ہے۔“
اگرچہ ایک چھوٹی تعداد ہی شفا پاتی ہوئی دکھائی دیتی ہے تو بھی یہ اس بات کا ثبوت نہیں کہ روحالقدس سرگرمعمل ہے۔ پہاڑی وعظ میں، یسوع نے کہا تھا: ”اس دن بہتیرے مجھ سے کہیں گے اے خداوند اے خداوند! کیا ہم نے تیرے نام سے نبوت نہیں کی اور تیرے نام سے بدروحوں کو نہیں نکالا اور تیرے نام سے بہت سے معجزے نہیں دکھائے؟ اس وقت میں ان سے صاف کہدونگا کہ میری کبھی تم سے واقفیت نہ تھی۔ اے بدکارو میرے پاس سے چلے جاؤ۔“ (متی ۷:۲۲، ۲۳) یسوع نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ بعض کو خدا کی حمایت حاصل نہیں ہوگی پھر بھی وہ لوگوں کو عجیب نشانوں کے ذریعہ اپنی طرف راغب کرینگے: ”کیونکہ جھوٹے مسیح اور جھوٹے نبی اٹھ کھڑے ہونگے اور ایسے بڑے نشان اور عجیب کام دکھائینگے کہ اگر ممکن ہو تو برگزیدوں کو بھی گمراہ کر لیں۔“ (متی ۲۴:۲۴) یقیناً جدید زمانے کے ایمانی شفا دینے والے بشمول اپنی ڈرامائی پیشکشوں، پیسے کے لئے مسلسل مطالبوں، اور معجزانہ شفا کے دعوؤں کے، انہی لوگوں میں شمار کئے جا سکتے ہیں جن پر یہ الفاظ عائد ہوتے ہیں۔
ایسے لوگ یسوع کے نقشقدم پر نہیں چل رہے۔ تو پھر وہ کس کے نقشقدم پر چل رہے ہیں؟ رسول پولس ہمیں اس کی نشاندہی کراتا ہے، جب وہ کہتا ہے: ”شیطان بھی اپنے آپ کو نورانی فرشتہ کا ہمشکل بنا لیتا ہے۔ پس اگر اس کے خادم بھی راستبازی کے خادموں کے ہمشکل بن جائیں تو کچھ بڑی بات نہیں لیکن انکا انجام انکے کاموں کے موافق ہوگا۔“ (۲-کرنتھیوں ۱۱:۱۴، ۱۵) اگر ایمانی شفا دینے والے وہ شفا نہیں دیتے جس کا وہ دعوی کرتے ہیں تو پھر وہ شیطان کی روش پر چلنے والے دھوکےباز ہیں جو کہ ”سارے جہان کو گمراہ کرتا ہے“۔ (مکاشفہ ۱۲:۹) لیکن اس وقت کیا ہو اگر چند حالتوں میں، وہ شفا دینے کے قابل ہوتے ہیں؟ تو بھی کیا ہم یہی نتیجہ اخذ نہیں کرینگے کہ ان کے ”عجیبوغریب کام“ شیطان اور اس کے شیاطین کی طاقت کے زیراثر ہیں؟ جیہاں، یہی بات ہونی چاہیے!
حقیقی شفا کا وقت
یسوع کے معجزاتی شفا کے کام خدا کی پاک روح کی مدد سے انجام پاتے تھے۔ انہوں نے مقررہ وقت پر انسانی صحت سے متعلق تمام مسائل کو حل کرنے کے اس کے مقصد کو آشکارہ کیا۔ یہوواہ ”قوموں کو شفا“ دینے کا وعدہ کرتا ہے۔ (مکاشفہ ۲۲:۲) اور وہ نہ صرف بیماروں کو ہی شفا دیگا بلکہ موت کو بھی ختم کریگا۔ یوحنا بیان کرتا ہے کہ یسوع اس لئے آیا کہ ”جو کوئی بھی اس پر ایمان لائے ہلاک نہ ہو بلکہ ہمیشہ کی زندگی پائے۔“ (یوحنا ۳:۱۶) یہ کسقدر شاندار شفا ہوگی! یسوع ایک بار پھر اسی طرح کی شفائیں دیگا جیسی کہ بائبل میں درج ہیں لیکن ایک وسیع پیمانے پر۔ یہانتک کہ وہ مردوں کو بھی زندہ کریگا! (یوحنا ۵:۲۸، ۲۹) یہ کب واقع ہوگا؟
خدا کی نئی دنیا میں، جو کہ تمام شہادتوں کے مطابق، بالکل قریب ہے۔ وہ نئی دنیا جو اس شریر دستورالعمل کے ہمیشہ کیلئے ختم کر دئے جانے کے بعد آئیگی، راستدل بنیآدم کیلئے ایک حقیقی برکت ہوگی۔ یہ مشکلات سے پاک دنیا ہوگی۔ ”[خدا] انکی آنکھوں کے سب آنسو پونچھ دیگا۔ اس کے بعد نہ موت رہیگی اور نہ ماتم رہیگا۔ نہ آہونالہ نہ درد۔ پہلی چیزیں جاتی رہیں۔“ (مکاشفہ ۲۱:۴) جو کچھ آج ہم اپنے اردگرد دیکھتے ہیں اس سے کسقدر مختلف!
اسلئے، بیماری کی حالتوں میں، خدا سے مدد کیلئے دعا کریں- اور خواہ بیمار ہوں یا صحتمند، یہ سیکھیں کہ بیماری کے بغیر ابدی زندگی واقعی کیونکر ممکن ہوگی- بائبل میں اس کی بابت بیانکردہ بہتیرے حوالہجات کا مطالعہ کرنے سے خدا کے اس قابلبھروسہ وعدے پر اپنے ایمان کو مضبوط کریں۔ اس کی بابت سیکھیں کہ کیسے خدا کے اپنے جدول کے مطابق اس سلسلے میں اس کا مقصد اپنی تکمیل کے بالکل قریب ہے۔ شک نہ کریں کیونکہ خدا کا کلام ہمیں یقیندہانی کراتا ہے: ”وہ موت کو ہمیشہ کیلئے نابود کریگا اور خداوند خدا سب کے چہروں سے آنسو پونچھ ڈالیگا۔“—یسعیاہ ۲۵:۸۔ (۱۰ ۵/۱۵ w۹۲)
[فٹنوٹ]
a بعض یہ خیال کرتے ہیں کہ یعقوب ۵:۱۴، ۱۵ کے الفاظ کا تعلق ایمانی شفا سے ہے۔ لیکن سیاقوسباق ظاہر کرتا ہے کہ یعقوب یہاں روحانی بیماری کی بابت بات کر رہا ہے۔ (یعقوب ۵:۱۵ب، ۱۶، ۱۹، ۲۰) وہ ان اشخاص کو جو ایمان میں کمزور پڑ گئے ہیں مدد کیلئے بزرگوں کو بلانے کی نصیحت کرتا ہے۔
[تصویر]
یسوع کی معجزانہ شفاؤں نے اپنے مقصد کو پورا کیا
[تصویر]
یسوع پھر سے بڑی تعداد میں شفائیہ معجزات کریگا