یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • جاگو96 8/‏4 ص.‏ 12-‏14
  • ۱۹۹۵ ہمارے مستقبل کی بابت کیا ہے؟‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • ۱۹۹۵ ہمارے مستقبل کی بابت کیا ہے؟‏
  • جاگو!‏—‏1996ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • کون نفرت کو بھڑکاتا ہے؟‏
  • ایک مختلف مستقبل کا وعدہ کِیا گیا
  • خدا کی موعودہ فیصلہ‌کُن کارروائی
  • حقیقی اَمن کے طالب ہو اور اُسکی کوشش میں رہو!‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1997ء
  • ہماری بدلتی ہوئی دنیا درحقیقت مستقبل کیا تھامے ہوئے ہے؟‏
    جاگو!‏—‏1993ء
  • خدا کی بادشاہت—‏نئی زمینی حکومت
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2000ء
  • جس وجہ سے سچی پرستش خدا کی برکت حاصل کرتی ہے
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1996ء
جاگو!‏—‏1996ء
جاگو96 8/‏4 ص.‏ 12-‏14

۱۹۹۵ ہمارے مستقبل کی بابت کیا ہے؟‏

‏”‏محض جمہوریت اور آزادانہ معیشت کی اپیلیں کرنے کی بجائے دُنیا کو راہنمائی کی ضرورت ہے—‏لیکن یہ بآسانی دستیاب نہیں ہے۔“‏—‏وِلؔ ہٹن، گارڈین ویکلی۔‏

انسانی نقطۂ‌نظر سے، یہ بیان شاید سچ دکھائی دے۔ ایسے لگتا ہے کہ دُنیا میں ایسی قابلِ‌اعتماد راہنمائی کی کمی ہے جو امن، سلامتی، عدل، اُصولِ‌انصاف، اور اچھی حکومت کی نشاندہی کرے۔ انسان نے، بادشاہی نظام سے جمہوریتوں، آمریت سے لے کر عوامی حکومتوں تک، تقریباً ہر طرح کے نظامِ‌حکومت کو آزما لیا ہے اور پھربھی وہ یہ محسوس کرتا ہے کہ اُسکی دُنیا تقریباً ناقابلِ‌حکمرانی ہے۔ اب اُسے کسطرف رجوع کرنا چاہئے؟‏

ایک انتخاب دکھائی دیتا ہے—‏اَور زیادہ تشدد، جُرم، بدعنوانی، ناانصافی، مذہبی اور سیاسی ریاکاری، قوم‌پرستانہ نفرت اور غریب کے استحصال والی دُنیا کی جانب راستہ۔ یہی وہ راستہ ہے جسکی بابت بعض کہتے ہیں کہ یہ بدنظمی کا سبب بنتا ہے۔‏

یا پھر حکومت کیلئے خدا کے حل پر مبنی ایک بہتر دُنیا کی طرف سخت مشکل، خودایثاری کا راستہ ہے جوکہ بائبل میں پایا جاتا ہے۔ یہ سخت مشکل اسلئے ہے کیونکہ یہ اخلاقی جرأت، ذاتی ایثار، زندگی کی بابت روحانی نظریے اور ایک بامقصد خدا پر ایمان کا تقاضا کرتا ہے۔ لیکن اس ترقی کو یقینی بنانے کیلئے انسان کا فروتن ہونا بھی ضروری ہے—‏اپنے خالق کے حضور فروتن۔ اُسے راست حکمرانی کیلئے خدا کی طرف رجوع کرنا چاہئے۔ مسیحی رسول پطرؔس نے نصیحت کی:‏ ”‏پس خدا کے قوی ہاتھ کے نیچے فروتنی سے رہو تاکہ وہ تمہیں وقت پر سربلند کرے۔ اور اپنی ساری فکر اُسی پر ڈال دو کیونکہ اُس کو تمہاری فکر ہے۔“‏—‏۱-‏پطرس ۵:‏۶، ۷؛‏ مکاشفہ ۴:‏۱۱‏۔‏

کون نفرت کو بھڑکاتا ہے؟‏

انسان اکیلا مستقل طور پر اس دُنیا میں بہتری کیلئے تبدیلی نہیں لا سکتا—‏خودغرضانہ، شریر عوامل بہت زیادہ اور بہت طاقتور ہیں۔ یرؔمیاہ نبی بالکل درست تھا جب اُس نے لکھا:‏ ”‏اے خداوند مَیں جانتا ہوں کہ اِنسان کی راہ اُسکے اختیار میں نہیں۔ انسان اپنی روش میں اپنے قدموں کی راہنمائی نہیں کر سکتا۔“‏ (‏یرمیاہ ۱۰:‏۲۳‏)‏ خدا کے بغیر، انسان تمام انسانی خاندان کے فائدے کیلئے کامیابی کیساتھ اپنے قدموں کی راہنمائی نہیں کر سکتا۔ ایسا کیوں ہے؟ کیونکہ ہماری موروثی ناکاملیت کے ساتھ ساتھ ہمیشہ نادیدہ دُشمن شیطان موجود ہے جو [‏نفرت کو]‏ بھڑکانے کیلئے ہمیشہ تیار ہے، جیسے‌کہ اُس نے رواؔنڈا میں لوگوں کو قتل‌وغارت کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔—‏پیدایش ۸:‏۲۱؛‏ متی ۴:‏۱-‏۱۱‏۔‏

لوگوں کے دِلوں اور دِماغوں میں اس تعصب، نفرت اور قتل کی آگ کو بھڑکانے کے لئے، شیطان نے قوموں کے اندر قومی، قبائلی اور مذہبی برتری کے نظریات کو خوب ہوا دی ہے۔ نفرت کی بابت یہ مُزمن تعلیم بچپن ہی سے اُن والدین کی طرف سے دِل میں ڈالی جاتی ہے جن کے ذہن اکثر صدیوں کی روایت کے باعث اس میں جکڑے ہوتے ہیں۔ اس کے بعد اس روایت کو سکول کے نظام اور مذہبی تعلیمات کے ذریعے مضبوط کِیا جاتا ہے۔ لہٰذا لاکھوں افراد اپنے دِلوں میں نفرت اور تعصب کے ساتھ پرورش پاتے ہیں۔ وہ بچپن ہی سے بددیانت سیاسی اور جذباتی مذہبی مقررین پیشواؤں کے حکم پر اپنے ساتھی انسان کے خلاف ہو جانے کے لئے حسبِ‌منشا بدل دئیے گئے، صاف کر دئیے گئے ذہن رکھتے ہیں۔ جوش سے بیہودہ نعرے لگانا اور بیانات دینا بھڑکا سکتا ہے، ایسی آگ کو ہوا دے سکتا ہے جوکہ ”‏نسلیاتی تباہی“‏ یا منظم قتلِ‌عام پر منتج ہوتی ہے۔‏

مستقبل قریب میں جوکچھ ہو سکتا ہے، اس کی بابت نشاندہی کرتے ہوئے، ماؔرٹن فان کرفولڈ، اسرؔائیل میں ایک فوجی مؤرخ نے دی ٹرانسفارمیشن آف وار میں لکھا:‏ ”‏موجودہ صورتحال کے پیشِ‌نظر، ہر طرح سے، یہ ممکن دکھائی دیتا ہے کہ مذہبی .‏ .‏ .‏ تعصّبات مغرب میں ”‏گزشتہ ۳۰۰ سال سے“‏ کسی وقت کے مقابلے میں مسلح لڑائی کو تحریک دینے میں ایک اہم کردار ادا کریں گے۔“‏ لہٰذا مذہب امن کے لئے اور نوعِ‌انسان کی روحانیت کو اُبھارنے والی قوت بننے کی بجائے، نفرت، لڑائی اور قتل‌وغارت کو تحریک دینے کے لئے اپنے تاریخی کردار میں جکڑا ہوا ہے۔‏

ایک مختلف مستقبل کا وعدہ کِیا گیا

اگر نسلِ‌انسانی کو ایک بالکل نئی دُنیا میں زندگی کے لائق ہونا ہے توپھر اُنہیں یسعیاؔہ کی پیشینگوئی کو پورا کرنے میں حصہ لینا چاہئے:‏ ”‏وہ [‏یہوؔواہ]‏ اپنی راہیں ہم کو بتائے گا اور ہم اُس کے راستوں پر چلیں گے .‏ .‏ .‏ اور وہ قوموں کے درمیان عدالت کرے گا اور بہت سی اُمتوں کو ڈانٹے گا اور وہ اپنی تلواروں کو توڑ کر پھالیں اور اپنے بھالوں کو ہنسوئے بنا ڈالیں گے اور قوم قوم پر تلوار نہ چلائے گی اور وہ پھر کبھی جنگ کرنا نہ سیکھیں گے۔“‏—‏یسعیاہ ۲:‏۳، ۴‏۔‏

پوری دُنیا میں آجکل کون اس شاندار پیشینگوئی پر دھیان دے رہے ہیں؟ وہ کون لوگ تھے جو مختلف قبیلے کے اپنے ساتھی ایمانداروں کو قتل کرنے کی بجائے رواؔنڈا میں مر گئے؟ وہ کون لوگ تھے جو ہٹلرؔ کی فوجوں میں بھرتی ہونے کی بجائے نازی مراکزِاسیران میں مر گئے؟ کون ہیں جنہوں نے جنگ کرنا سیکھنے کی بجائے کئی ملکوں کی جیلوں میں وقت گزارا ہے؟ یہ وہ ہیں جنہوں نے یسعیاہ ۵۴:‏۱۳ کی تکمیل سے استفادہ کِیا ہے:‏ ”‏تیرے سب فرزند خداوند سے تعلیم پائینگے اور تیرے فرزندوں کی سلامتی کامل ہوگی۔“‏

پوری دُنیا میں اس وقت یہوؔواہ کے گواہوں کو وہ امن حاصل ہے کیونکہ اُنہوں نے یہوؔواہ کے کلام، بائبل سے، اُسکی تعلیم کو قبول کِیا ہے۔ وہ یسوؔع مسیح کی تعلیمات اور نمونے کی پیروی کرتے ہیں۔ اور اُس نے کیا کہا تھا؟ ”‏مَیں تمہیں ایک نیا حکم دیتا ہوں کہ ایک دوسرے سے محبت رکھو کہ جیسے مَیں نے تُم سے محبت رکھی تُم بھی ایک دوسرے سے محبت رکھو۔ اگر آپس میں محبت رکھو گے تو اس سے سب جانیں گے کہ تُم میرے شاگرد ہو۔“‏ (‏یوحنا ۱۳:‏۳۴، ۳۵‏)‏ یہوؔواہ کے گواہ اس محبت کو اس حد تک عمل میں لاتے ہیں کہ اگرچہ وہ پہلے کیتھولک اور پروٹسٹنٹ تھے، وہ اب ہم‌آہنگی کیساتھ شمالی آؔئرلینڈ میں کام کرتے ہیں۔ اگرچہ پہلے مذہبی دُشمن تھے، وہ اب اسرؔائیل، لبناؔن اور دیگر ممالک میں مسیحیوں کے طور پر تعاون کرتے ہیں۔ وہ مزید جنگ کرنا نہیں سیکھتے۔ یہ کسقدر مختلف ہوتا اگر دُنیا کے سب لوگ یسوؔع کے الفاظ پر دھیان دیتے اور اُنہیں اپنی زندگیوں میں استعمال کرتے!‏

یہوؔواہ کے گواہ ایمان رکھتے ہیں کہ خدا کی وعدہ‌شُدہ نئی دُنیا قریب ہے، ایک ایسی دُنیا جس پر آسمانی حکومت کے ذریعے بادشاہی کی جائیگی۔ ایسی مثبت اُمید کیلئے اُنکے پاس کیا وجہ ہے؟‏

خدا کی موعودہ فیصلہ‌کُن کارروائی

اپنے کلام بائبل میں، خدا نے تمام فرمانبردار نوعِ‌انسان کیلئے ایک راست حکمرانی کا وعدہ کِیا ہے۔ اپنے نبی دانیؔ‌ایل کی معرفت، اُس نے پیشینگوئی کی کہ اس موجودہ نظام کے آخری ایّام میں، وہ ایک دائمی اور راست حکومت قائم کریگا۔ ”‏اُن بادشاہوں کے ایّام میں آسمان کا خدا ایک سلطنت برپا کریگا جو تاابد نیست نہ ہوگی اور اُسکی حکومت کسی دوسری قوم کے حوالہ نہ کی جائیگی بلکہ وہ اِن تمام مملکتوں کو ٹکڑے ٹکڑے اور نیست کریگی اور وہی ابد تک قائم رہیگی۔“‏ (‏دانی‌ایل ۲:‏۴۴‏)‏ یہ وہی بادشاہتی حکمرانی ہے جسکی بابت مسیح نے ایمانداروں کو اپنی مشہور دُعا میں درخواست کرنا سکھایا:‏ ”‏اے ہمارے باپ تُو جو آسمان پر ہے تیرا نام پاک مانا جائے۔ تیری بادشاہی آئے۔ تیری مرضی جیسی آسمان پر پوری ہوتی ہے زمین پر بھی ہو۔“‏—‏متی ۶:‏۹، ۱۰‏۔‏

اس دُعا میں ہم خدا سے یہ درخواست کر رہے ہوتے ہیں کہ اپنی راست حکمرانی کی بابت اپنے وعدوں کو پورا کرے۔ اور ہم جانتے ہیں کہ خدا جھوٹ نہیں بول سکتا۔ پولسؔ نے اُس ”‏ہمیشہ کی زندگی“‏ کی بابت بیان کِیا، ”‏جسکا وعدہ ازل سے خدا نے کِیا ہے جو جھوٹ نہیں بول سکتا۔“‏ (‏ططس ۱:‏۲؛‏ عبرانیوں ۶:‏۱۷، ۱۸‏)‏ اور خدا نے کیا وعدہ کِیا ہے؟ پطرؔس رسول جواب دیتا ہے:‏ ”‏اُس کے وعدہ کے موافق ہم نئے آسمان اور نئی زمین کا انتظار کرتے ہیں جن میں راستبازی بسی رہیگی۔“‏—‏۲-‏پطرس ۳:‏۱۳؛‏ یسعیاہ ۶۵:‏۱۷؛‏ مکاشفہ ۲۱:‏۱-‏۴‏۔‏

اس سے پہلے کہ یہاں زمین پر اُس راست حکمرانی سے پوری طرح استفادہ کِیا جا سکے، ایک بہت بڑی صفائی عمل میں آنی چاہئے۔ بائبل پیشینگوئیاں متفقہ طور پر یہ ظاہر کرتی ہیں کہ شیطان کی دُنیا اور اسکی شریر قوتوں کی صفائی کی کارروائی جلد وقوع‌پذیر ہوگی۔ (‏دیکھیں متی ۲۴ باب؛ لوقا ۲۱ باب؛ اور مرقس ۱۳ باب۔)‏ صفائی کے اس آخری عمل کو ہرمجِدّؔون کی لڑائی، ”‏قادرِمطلق کی روزِعظیم کی لڑائی“‏ کا نام دیا گیا ہے۔—‏مکاشفہ ۱۶:‏۱۴،‏ ۱۶‏۔‏

بہتیرے جوکچھ سوچ سکتے اسکے باوجود، ۲۰۰۰ کا سال کوئی اہمیت نہیں رکھتا ہے۔ بہرصورت، یہ تاریخ محض مسیحی دُنیا کیلئے معقول ہے۔ دوسری تہذیبیں تاریخیں مُتعیّن کرنے کے اپنے نظام رکھتی ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ آپ کیلئے خدا اور اُس کے کلام کی طرف رجوع کرنے کا وقت اب ہے تاکہ یہ ثابت کریں کہ ”‏خدا کی نیک اور پسندیدہ اور کامل مرضی“‏ کیا ہے۔ (‏رومیوں ۱۲:‏۱، ۲‏)‏ اہم بات یہ ہے کہ اب آپ کیلئے انتخاب کرنے کا وقت ہے—‏خواہ ایسے مستقبل کی جانب بڑھیں جس پر خدا کی برکت ہے یا اس مایوسی کے راستے پر گامزن رہیں جو شیطان کی دُنیا پیش کرتی ہے۔ ہم آپ کو خدا کے راستے کا انتخاب کرنے کی تاکید کرتے ہیں۔ زندگی کو منتخب کریں!‏—‏استثنا ۳۰:‏۱۵، ۱۶۔‏

‏[‏بکس]‏

‏”‏اُس کے وعدہ کے موافق ہم نئے آسمان اور نئی زمین کا انتظار کرتے ہیں جن میں راستبازی بسی رہے گی۔“‏—‏۲-‏پطرس ۳:‏۱۳

‏[‏تصویر]‏

قومیں درحقیقت خدا کی بادشاہت کی حکمرانی کے تحت ہی اپنی تلواروں کو توڑ کر پھالیں بنا سکتی ہیں

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں