ہماری بدلتی ہوئی دنیا درحقیقت مستقبل کیا تھامے ہوئے ہے؟
اگر ہماری دنیا کو بہتری کیلئے تبدیلی لانی ہے تو ہمارے پاس کونسے انتخاب ہیں؟ ایک انتخاب تو یہ ہے کہ ہم یہ یقین کر لیں کہ دنیا کے حکمران اور راہنما بالآخر بےغرض ہو جائینگے اور بنینوع انسان کی پیشوائی باہمی رواداری، مفاہمت، اور امن کی راہوں پر کرنا شروع کر دینگے۔
اسکا مطلب یہ یقین کرنا ہوگا کہ قبائلپرستی اور قومپرستی کا استیصال ہو جائیگا اور اسکی جگہ قومپرستی سے بالاتر ایک ایسا رویہ لے لیگا جو کہ دنیا میں ہمآہنگی لا سکتا ہے۔
اس میں یہ یقین کرنا بھی شامل ہے کہ سرمایہدار معیشتوں کے لیڈر یہ تسلیم کرلینگے کہ اس بےروزگاری، بےخانگی اور بہت زیادہ طبی اخراجات سے بھری ہوئی دنیا میں صرف نفعبخش محرک ایک ناکافی اصولاخلاق ہے۔
اس کے علاوہ اس کا مطلب یہ یقین کرنا بھی ہے کہ دنیا کے تمام اسلحہ بنانے والے عالمی امن کے خواہاں ہو جائینگے اور اپنی تلواروں کو توڑ کر پھالیں بنا لینگے۔
مزیدبرآں، اس کا یہ بھی مطلب ہے کہ دنیا کے مجرمانہ عناصر جن میں مافیا کے گروہ، مشرقی جرائم کے گروہوں کے سرغنہ اور جنوبی امریکہ کے منشیات کے تاجر شامل ہیں سب کے سب توبہ کر لینگے اور ایک نئی زندگی کا آغاز کرینگے!
باالفاظ دیگر، اسکا مطلب انسانساختہ مثالی پروگرام—ایک ناممکن خواب—کا یقین کرنا ہوگا۔ اگر خدا کو اس سب سے بالکل الگ کر دیا جائے تو پھر ہم بالکل ویسی ہی حالت میں ہونگے جو کہ تاریخنویس پال جانسن نے اپنی کتاب اے ہسٹری آف دی ماڈرن ورلڈ میں بیان کی ہے۔ اس نے لکھا کہ ہماری اس صدی میں ”تباہ کن ناکامیوں اور شدید حادثات“ کا باعث بننے والی برائی ”یہ خودپسند اعتقاد ہے کہ آدمی اور عورتیں صرف اپنی ذہانت سے ہی کائنات کی تمام گتھیاں سلجھا سکتے ہیں۔“—مقابلہ کریں یسعیاہ ۲:۲-۴۔
تاہم، مثبت تبدیلی کی ایک معقول وجہ ہے۔ یعنی اس بات کا یقین کرنا کہ زمین کا خالق، ہمارے سیارے کا مالک، تبدیلی کا ایک عظیم ماہرتعمیرات، یہوواہ خدا، اپنے ہاتھ کی صنعت کو بچانے کی خاطر انسانی معاملات میں مداخلت کریگا۔ بائبل کی تاریخ یہ ظاہر کرتی ہے کہ ماضی میں اپنے مقاصد کو پورا کرنے کی خاطر خدا نے کارروائی کی اور بائبل پیشینگوئی ظاہر کرتی ہے کہ زمین اور بنینوع انسان کے لئے اپنے ابتدائی مقصد کو پورا کرنے کیلئے وہ جلد ہی ایک بار پھر کارروائی کریگا۔—یسعیاہ ۴۵:۱۸۔
بااعتماد معلومات کا ایک بیمثال ذریعہ
مستقبل نوعانسان کیلئے کیا تھامے ہوئے ہے اس کی بابت حقیقی علم کا بیمثال ذریعہ بائبل کے نبی یسعیاہ کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: ”پہلی باتوں کو جو قدیم سے ہیں یاد کرو کہ میں خدا ہوں اور کوئی دوسرا نہیں۔ میں خدا ہوں اور مجھ سا کوئی نہیں۔ جو ابتدا ہی سے انجام کی خبر دیتا ہوں اور ایام قدیم سے وہ باتیں جو اب تک وقوع میں نہیں آئیں بتاتا ہوں۔“—یسعیاہ ۴۶:۹-۱۱۔
کیوں یہوواہ خدا کے پاس ان واقعات کا پیشتر سے علم ہونا چاہیے جو بنیآدم پر اثرانداز ہونے والے ہیں؟ ایک بار پھر یسعیاہ جواب دیتا ہے: ”جس قدر آسمان زمین سے بلند ہے اسی قدر میری راہیں تمہاری راہوں سے اور میرے خیالات تمہارے خیالوں سے بلند ہیں۔“ نوعانسان کے مستقبل کی بابت خدا کے خیالات کو بائبل میں بیان کیا گیا ہے۔—یسعیاہ ۵۵:۹۔
”برے دن“
خدا کے کلام، بائبل، نے ہماری نسل کی بابت کیا پیشینگوئی کی ہے؟ مسیحی رسول پولس نے آگاہ کیا: ”لیکن یہ جان رکھ کہ اخیر زمانہ میں برے دن آیئنگے۔“ (۲-تیمتھیس ۳:۱) ۱۹۱۴ اور پہلی عالمی جنگ کے وقت سے لے کر ہم ایسے دنوں میں رہ رہے ہیں جو دن بدن برے ہوتے جاتے ہیں۔ خودغرضی، لالچ، اور طاقت کیلئے انسان کی ہوس نے اسے نہ صرف اپنے ہمنسل انسانوں کے خلاف نہایت ہی بدترین ظلم کرنے پر اکسایا ہے بلکہ خود فطرت کے خلاف بھی۔ اپنے ماحول کیلئے انسان کی لاپرواہی اسکے بچوں اور بچوں کے بچوں کی آئندہ زندگی کیلئے خطرہ ہے۔
اس سنگین خطرے کو چیکوسلواکیہ کے سابق صدر، واٹسلاف ہافل نے اجاگر کیا تھا، جس نے اس ملک کی حالتوں کی بابت لکھا۔ عملاً، اسکے الفاظ کا عالمگیر اطلاق ہوتا ہے: ”یہ محض دنیا کیلئے، فطرت کیلئے، دوسرے انسانوں کیلئے، خود زندگی کیلئے، انسان کے رجحان ... کے نتائج ہیں۔ یہ جدید انسان کے تکبر کے نتائج ہیں جو یقین کرتا ہے کہ وہ ہر چیز کی بابت جانتا ہے اور ہر چیز کو سمجھتا ہے، جو خود کو فطرت اور دنیا کا مالک کہتا ہے ... یہ اس انسان کی سوچ تھی جس نے اپنے علاوہ ... کسی اور کو افضل تسلیم کرنے سے انکار کیا۔“
مسبوقالذکر ال گور نے لکھا: ”مجھے پورا یقین ہے کہ بہت سے لوگ مستقبل پر اپنے ایمان کو کھو چکے ہیں، کیونکہ حقیقت میں اپنی تہذیب کے ہر پہلو میں ہم نے اس طرح کام کرنا شروع کر دیا ہے کہ گویا ہمارا مستقبل اب اتنا مشکوک ہو گیا ہے کہ زیادہ دانشمندی کی بات یہ ہوگی کہ خاص طور پر اپنی موجودہ ضروریات اور قلیلالمدمت مسائل پر توجہ مرکوز کریں۔“ (ارتھ ان دی بیلنس) یقینی طور پر مستقبل کی بابت ناامیدی مروجہ رجحان دکھائی دیتی ہے۔
ایسی حالت جزوی طور پر پولس کے اگلے الفاظ کی تکمیل کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے: ”آدمی خود غرض۔ زردوست۔ شیخیباز۔ مغرور۔ بدگو۔ ماں باپ کے نافرمان۔ ناشکر۔ ناپاک۔ طبعی محبت سے خالی۔ سنگدل۔ تہمت لگانے والے۔ بےضبط۔ تندمزاج۔ نیکی کے دشمن۔ دغاباز۔ ڈھیٹھ۔ گھمنڈ کرنے والے۔ خدا کی نسبت عیشوعشرت کو زیادہ دوست رکھنے والے ہونگے۔ وہ دینداری کی وضع تو رکھینگے مگر اسکے اثر کو قبول نہ کرینگے۔ ایسوں سے بھی کنارہ کرنا۔“—۲-تیمتھیس ۳:۲-۵۔
ایک بہتر متبادل
لیکن خدا نے یہ قصد کر رکھا ہے کہ اس زمین پر حالتیں تبدیل ہونگی—بہتری کیلئے۔ اس نے وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ ”نئے آسمان اور نئی زمین“ کو برپا کریگا ”جن میں راستبازی بسی رہیگی۔“ (۲-پطرس ۳:۱۳) اس آلودہ زمین کو ایک فردوسی حالت میں بحال کرنے کیلئے، ضرور ہے کہ یہوواہ خدا پہلے ”زمین کو تباہ کرنے والوں کو تباہ کرے۔“ (مکاشفہ ۱۱:۱۸) یہ کیسے واقع ہوگا؟
علامتی زبان کو استعمال کرتے ہوئے بائبل ظاہر کرتی ہے کہ جلد ہی خدا ان سیاسی عناصر، بشمول اقواممتحدہ کے دل میں ڈالیگا کہ تمام زمین پر قومپرست اور منقسم کرنے والے مذہب کے اثر کو—غالباً بنی آدم کی تاریخ میں سب سے زیادہ منفی قوت کے وقار اور طاقت کو—ختم کرے۔a مارٹن فان کریفلڈ کے مطابق اسکی کتاب ”دی ٹرانسفارمیشن آف وار میں ”ہمارے پاس یہ توقع کرنے کی ہر وجہ ہے کہ مذہبی رجحانات، اعتقادات، اور تعصبات مسلح لڑائی کو تحریک دینے کیلئے مغرب میں گزشتہ ۳۰۰ سالوں کی نسبت زیادہ بڑا کردار ادا کرینگے۔“ ممکنہ طور پر سیاسیات میں الجھنے کی وجہ سے مذہب سیاسی قوتوں کے ہاتھوں نقصان اٹھائیگا۔ تاہم، وہ قوتیں نادانستہ طور پر خدا کی مرضی کو پورا کر رہی ہونگی۔—مکاشفہ ۱۷:۱۶، ۱۷، ۱۸:۲۱، ۲۴۔
بائبل بیان کو جاری رکھتے ہوئے ظاہر کرتی ہے کہ اسکے بعد خدا اپنی توجہ شیطان کی بدعنوان دنیا کے لوٹ کھسوٹ کرنے والے حیواننما سیاسی نظام پر لگائے گا اور اپنی فیصلہکن جنگ، یا ہرمجدون کی لڑائی میں انکے ساتھ لڑے گا۔ بےرحم سیاسی نظاموں اور گٹھجوڑ کرنے والے انکے مالک، شیطان کو ہٹانے کے بعد پرامن نئی دنیا کیلئے راہ صاف ہو جائیگی جسکا خدا نے وعدہ کیا ہے۔b—مکاشفہ ۱۳:۱، ۲، ۱۶:۱۴-۱۶۔
یہوواہ کے گواہ ان آنے والی تبدیلیوں کی بابت تقریباً ۸۰ سالوں سے گھرباگھر منادی کرتے رہے ہیں۔ اس وقت کے دوران انہوں نے بھی متعدد تبدیلیوں کو دیکھا اور انکا تجربہ کیا ہے جنہیں نوعانسان لائے ہیں۔ انہیں بائبل پر مبنی اپنے اصولوں کی وجہ سے نازی جیلوں اور سیاسی قیدیوں کے کیمپوں کا تجربہ ہوا ہے۔ انہوں نے افریقہ کے متعدد علاقوں میں خانہجنگیوں اور قبائلی جھگڑوں سمیت جان کی تکلیف اور اذیت کا تجربہ کیا ہے۔ انہوں نے اپنی منادی کی سرگرم کارگزاری اور اپنی غیرجانبداری کی وجہ سے بہت سے سیاسی اور مذہبی نظاموں کے ہاتھوں اذیت برداشت کی ہے۔ تاہم، اس تمام کے باوجود انہوں نے اپنے عالمگیر تعلیمی کام پر خدا کی برکت کو دیکھا ہے جیسے کہ وہ ۱۹۱۴ میں چند ہزار سے ۱۹۹۳ میں تقریباً ساڑھے چار ملین تک بڑھ گئے ہیں۔
پرامید ہونے کی وجوہات
ناامیدی سے مغلوب ہونے کی بجائے گواہ ایک رجائیتپسند نظریہ رکھتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ بہترین اور عظیمترین تبدیلیاں اس زمین پر جلد واقع ہونے والی ہیں۔ ۱۹۱۴ سے لیکر حالات نے بادشاہتی اختیار میں اسکی نادیدنی موجودگی کے وقت کی نشاندہی کرتے اور یہ ظاہر کرتے ہوئے یسوع کی طرف سے دی گئی پیشینگوئیوں کو پورا کیا ہے کہ ہم انسانی تخلیق کی کسی بھی ”نئی عالمی بدنظمی“ کے خاتمے کے وقت میں ہیں، جیسے کہ ایک فرانسیسی مصنف نے لامونڈ میں مستقبل قریب کے امکانات کو بیان کیا۔ یسوع نے کہا: ”جب تم ان باتوں کو ہوتے دیکھو تو جان لو کہ خدا کی بادشاہی نزدیک ہے۔“—لوقا ۲۱:۷-۳۲۔
انسان کا ”نیا عالمی نظام“ انسانی خصلت کی خرابیوں—آرزو، اقتدار کی ہوس، حرص، بدعنوانی، اور ناانصافی—کے سامنے غیرمحفوظ ہے۔ خدا کی نئی دنیا انصاف کی ضمانت دے گی۔ اس کی بابت یہ لکھا ہے: ”وہ وہی چٹان ہے۔ اسکی صنعت کامل ہے کیونکہ اسکی سب راہیں انصاف کی ہیں۔ وہ وفادار خدا اور بدی سے مبرا ہے۔ وہ منصف اور برحق ہے۔“—استثنا ۳۲:۴۔
انسان کا ”نیا عالمی نظام“ اس سے اثرپذیر ہے جسے یو۔ ایس۔ خارجہ پالیسی کے ماہر میکجارج بنڈی نے ”تنگنظر قومپرست جذبات جنہیں جذباتی تقاریر کرنے والے راہنما دلکش لگتے ہیں،“ کا نام دیا۔ بیان کو جاری رکھتے ہوئے اس نے کہا: ”ہم تاریخ کی رو سے جانتے ہیں کہ معاشی اور معاشرتی ناکامی کسطرح ایسے انتہاپسندوں کو قوت بخش سکتی ہے۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ خواہ یہ کہیں بھی واقع ہو اس قسم کی قومپرستی خطرناک ہے۔“
خدا کی نئی دنیا تمام امتوں اور قبیلوں کے لوگوں کے درمیان امن اور ہمآہنگی کی ضمانت دیتی ہے کیونکہ وہ یہوواہ کی غیرجانبداری اور محبت کی راہوں سے تعلیمیافتہ ہونگے۔ یسعیاہ نے پیشینگوئی کی: ”تیرے سب فرزند خداوند سے تعلیم پائینگے اور تیرے فرزندوں کی سلامتی کامل ہوگی۔“ (یسعیاہ ۵۴:۱۳) اور مسیحی رسول پطرس نے کہا: ”اب مجھے پورا یقین ہو گیا کہ خدا کسی کا طرفدار نہیں۔ بلکہ ہر قوم میں جو اس سے ڈرتا اور راستبازی کرتا ہے وہ اسکو پسند آتا ہے۔“—اعمال ۱۰:۳۴، ۳۵۔
بلاشبہ، جیسے کہ ہم جانتے ہیں دنیا کے اندر مستقبل قریب میں ڈرامائی تبدیلیاں ہونے والی ہیں۔ تاہم، عظیمترین تبدیلیاں، مستقل اور مفید تبدیلیاں وہ ہیں جنکے لانے کا وعدہ خدا نے کیا ہے، اور وہ ”جھوٹ نہیں بول سکتا۔“—ططس ۱:۲۔ (11 1/8 g93)
[فٹنوٹ]
a بائبل میں جھوٹے مذہب کی عالمی سلطنت کی بطور ”بڑے بابل، کسبیوں کی ماں“ ایک خونی ملکہ کے شناخت کروائی گئی ہے جس کے ”گناہ آسمان تک پہنچ گئے ہیں۔“ (مکاشفہ ۱۷:۳-۶، ۱۶-۱۸، ۱۸:۵-۷) بڑے بابل کی شناخت کی مفصل تشریح کیلئے واچٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی آف نیویارک، انکارپوریٹیڈ کی شائعکردہ کتاب مین کائینڈز سرچ فار گاڈ، کے صفحات ۳۶۸-۳۷۱ کو دیکھیں۔
b بائبل میں پہلے سے بیانکردہ ان واقعات کی اور زیادہ مفصل تشریح کیلئے واچٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی آف نیویارک انکارپورٹیڈ۔ کی ۱۹۸۸ کی شائعکردہ کتاب ریویلیشن —اٹس گرینڈ کلائمکس ایٹ ہینڈ!کے ابواب ۳۰-۴۲ کو دیکھیں۔