آجکل ہماری دنیا کیسی ہے؟
کیا آپ نے جو ۱۹۴۵ کو یاد رکھنے کی عمر کے ہیں معیاروں اور اخلاقیات میں کسی طرح کی تبدیلی دیکھی ہے؟ لاکھوں نے ”نئی اخلاقیات،“ کو قبول کر لیا ہے جسکی بابت کہا جاتا ہے کہ وہ زیادہ آزادی پیش کرتی ہے۔ لیکن کس قیمت پر؟
ایک ۷۰سالہ شخص نے بیان کِیا جس نے دوسری عالمی جنگ کے دوران یو.ایس. نیوی میں ملازمت کی تھی: ”۱۹۴۰ کے عشرے میں، اعتماد بہت زیادہ تھا اور پڑوسی ایک دوسرے کی مدد کرتے تھے۔ کیلیفوؔرنیا میں جہاں ہم رہتے تھے، ہمیں اپنے دروازے مُقفّل نہیں کرنے پڑتے تھے۔ گلیمحلوں میں کوئی جُرم نہیں تھا اور یقینی طور پر سکولوں میں بھی مسلح دنگافساد نہیں تھا۔ اُس وقت سے لیکر اعتماد تقریباً اُٹھ گیا ہے۔“ آپ دُنیا کے جس حصے میں رہتے ہیں آجکل وہاں حالت کیسی ہے؟ یہ بیان کِیا جاتا ہے کہ نیو یارک شہر میں، ۱۴ سال سے اُوپر کی عمر کے نصف نوعمر اسلحہ اُٹھائے پھرتے ہیں۔ بعض سکولوں میں چاقو، ڈبے کھولنے والے کٹر اور بندوقوں سے چھٹکارا پانے کی جستجو میں میٹل ڈیٹیکٹرز استعمال کئے جاتے ہیں۔ ریاستہائے متحدہ میں ہر سال تقریباً ایک ملین عنفوانِشباب والی حاملہ ہو جاتی ہیں اور ہر ۳ میں سے ۱ اسقاط کراتی ہے۔ نوعمر عنفوانِشباب والی مائیں بھی بن گئی ہیں—بچے بچوں کو جنم دے رہے ہیں۔
مردوں اور عورتوں میں بااثر ہمجنسپسند حلقے نے اپنے طرزِزندگی کو اسقدر مؤثر طور پر فروغ دیا ہے کہ زیادہتر لوگوں نے اسکی طرف سے آنکھیں بند کر لی ہیں اور اسے اختیار کر لیا ہے۔ لیکن دوسروں کیساتھ ساتھ اُنہوں نے بھی ایڈز جیسی جنسی طور پر لگنے والی بیماریوں کی وجہ سے موت اور بیماری کی صورت میں بھاری قیمت ادا کی ہے۔ ایڈز کی وبا مخالف جنس والی اور منشیات کا ناجائز استعمال کرنے والی آبادی میں بھی پھیل گئی ہے۔ یہ افرؔیقہ، یوؔرپ اور شمالی اؔمریکہ میں موت اور بربادی سے صفایا کرنے کا باعث بنی ہے۔ اور یہ ابھی تک ختم ہوتی ہوئی دکھائی نہیں دیتی۔
اے ہسٹری آف پرائیویٹ لائف بیان کرتی ہے: ”تشدد، الکحل کا نشہ، منشیات: یہ سویڈش معاشرے میں کجرو طرزِعمل کی بنیادی اقسام ہیں۔“ یہ بیان مغربی دُنیا کے زیادہتر ممالک کے سلسلے میں سچ ثابت ہوتا ہے۔ مذہبی اقدار کے خاتمے کیساتھ، اخلاقی پستی بہت سے پادریوں کے درمیان بھی بہت بڑھ گئی ہے۔
منشیات کا ناجائز استعمال—اس وقت اور اب
پیچھے ۱۹۴۰ کے عشرے میں، مغربی دُنیا کی عام آبادی کے درمیان منشیات کا ناجائز استعمال تقریباً سرے سے نہیں تھا۔ جیہاں، لوگوں نے مارفین، افیم اور کوکین کی بابت سُن رکھا تھا لیکن نسبتاً کم لوگ ان منشیات کا ناجائز استعمال کرتے تھے۔ منشیات کے مالکان یا بیوپاری نہیں تھے جیسےکہ ہم آج اُنہیں جانتے ہیں۔ گلیکوچوں کے موڑوں پر منشیات فروش یا نشہ کرنے والے نہیں ہوتے تھے۔ اب ۱۹۹۵ میں حالت کیسی ہے؟ ہمارے بہت سے قارئین خود اپنے آسپڑوس میں اپنے تجربات سے جواب جانتے ہیں۔ دُنیا کے بڑے بڑے بہتیرے شہروں میں منشیات سے متعلق قتل ہر روز واقع ہو رہے ہیں۔ سیاستدان اور جج منشیات کے بااثر حاکموں کی گرفت میں ہیں جو کسی بھی تعاون نہ کرنے والے بااثر شخص کے قتل کرنے کا حکم دے سکتے اور قتل کروا سکتے ہیں۔ کولمبیاؔ کی حالیہ تاریخ اور منشیات کیساتھ اس کے تعلقات اس بات کا ثبوت ہیں۔
صرف ریاستہائے متحدہ میں منشیات کی وبا ہر سال تقریباً ۴۰،۰۰۰ زندگیاں ختم کرتی ہے۔ یہ مسئلہ یقینی طور پر ۱۹۴۵ میں موجود نہیں تھا۔ یہ کوئی حیرانی کی بات نہیں ہے کہ حکومتوں کے اتنے عشروں تک منشیات کے ناجائز استعمال کو ختم کرنے کی کوشش کرنے کے بعد، پیٹرؔک مرفی، نیو یارک شہر کے سابق پولیس کمشنر نے واشنگٹن پوسٹ کیلئے اس سرخی کے تحت ایک مضمون لکھا ”منشیات کے خلاف جنگ ختم ہو گئی—منشیات جیت گئی“! وہ کہتا ہے کہ ”منشیات کا کاروبار . . . اتنے زیادہ نفع کیساتھ جوکہ اس سال ۱۵۰ بلین ڈالر تک پہنچ سکتا ہے، اب [ریاستہائے متحدہ] میں سب سے زیادہ کامیاب کارِعظیم ہے۔“ مسئلہ بہت بڑا اور ناقابلِاصلاح دکھائی دیتا ہے۔ منشیات کے ناجائز استعمال کے خریدار بڑھتے جا رہے ہیں اور جیسےکہ دوسری بُری عادات کی بابت ہے، اسکے خریدار اسکے عادی بن گئے ہیں۔ یہ ایک ایسی صنعت ہے جس سے کئی قوموں کی معیشت کی اُمیدیں وابستہ ہیں۔
معاشیات کے پروفیسر جاؔن کے. گالبریتھ نے اپنی کتاب دی کلچر آف کنٹینٹمنٹ میں لکھا: ”منشیات کا کاروبار، بِلاسوچےسمجھے گولیاں چلانا، دوسرے جُرم اور خاندانی بگاڑاور نااتفاقی اب سب روزمرّہ زندگی کے پہلو ہیں۔“ وہ بیان کرتا ہے کہ بہت سے بڑے بڑے امریکی شہروں میں اقلیتی آبادی والے علاقے ”اب دہشت اور نااُمیدی کے مراکز ہیں۔“ وہ لکھتا ہے کہ ”بہت زیادہ آزردگی اور معاشرتی بےچینی کی توقع کی جا سکتی ہے۔“ ایسا کیوں ہے؟ وہ کہتا ہے، کیونکہ، امیر امیرتر ہوتے جا رہے ہیں اور غریب، ”نچلا طبقہ،“ جو تعداد میں بڑھتا جا رہا ہے، غریبتر ہوتے جا رہے ہیں۔
بینالاقوامی جُرم کی ریشہدوانیاں
اس بات کے ثبوت کا اب انبار لگتا جا رہا ہے کہ جُرم کرنے والے گروہ عالمی پیمانے پر اپنا اثرورسوخ پھیلا رہے ہیں۔ اپنی ”جُرم کی معاون انجمنوں سمیت،“ سالوں سے منظم جُرم، اٹلیؔ اور ریاستہائے متحدہ کے مابین تعلقات اُستوار کئے ہوئے تھا۔ لیکن اب یواین سیکرٹری جنرل بطرؔوس غالی نے خبردار کِیا ہے کہ ”منظم جُرم ملکی سرحدوں سے باہر . . . سرحدوں کا تمسخر اُڑاتا ہے اور ایک ہمہگیر قوت بنتا جاتا ہے۔“ اُس نے کہا: ”یورپ میں، ایشیا میں، افرؔیقہ میں اور اؔمریکہ میں، مجرمانہ قوتیں سرگرمِعمل ہیں اور کوئی بھی معاشرہ مستثنیٰ نہیں ہے۔“ اُس نے یہ بھی کہا کہ ”قومی سرحدوں سے باہر جُرم . . . بینالاقوامی جمہوری نظمونسق کی بنیادوں کو کھوکھلا کرتا ہے۔ [یہ] تجارتی فضا کو زہرآلودہ کرتا ہے، سیاسی راہنماؤں کو بگاڑتا اور انسانی حقوق کو پامال کرتا ہے۔“
نقشہ بدل گیا ہے
جمہوریہ چیکوؔسلواکیہ کے صدر، واکلاؔو ہیول، نے فِلدلفیہ، یو.ایس.اے. میں دی جانے والی ایک تقریر میں کہا کہ ۲۰ویں صدی کے دوسرے نصف حصے میں دو اہمترین سیاسی واقعات نوآبادیاتی نظام کا ٹوٹنا اور مشرقی یورپ میں اشتمالیت کا زوال تھے۔ ۱۹۴۵ کے ایک نقشے کا ۱۹۹۵ کے ایک نقشے کیساتھ موازنہ جلد ہی اُن انقلابات کو ظاہر کر دیتا ہے جو عالمی پیمانہ پر، بالخصوص افرؔیقہ، ایشیاؔ اور یوؔرپ میں وقوعپذیر ہوئے ہیں۔
دو تاریخوں کیلئے سیاسی حالت کا موازنہ کریں۔ بیچ کے ۵۰ سالوں کے دوران، اشتمالیت، محض اس کے بعد زیادہتر سابقہ اشتمالی ممالک میں قدرومنزلت کی حیثیت کے ختم ہونے کیلئے اپنے نقطۂعروج کو پہنچ گئی۔ اُن ممالک میں ایک قسم کی ”جمہوریت“ نے اجتماعی حکمرانی کی جگہ لے لی ہے۔ تاہم، بہتیرے لوگ اپنے معاشرے کے آزاد معیشت میں تبدیل ہو جانے کے اثرات سے نقصانات اُٹھا رہے ہیں۔ بےروزگاری قابو سے باہر ہے اور زیادہتر پیسے کی کوئی قیمت نہیں ہے۔ ۱۹۸۹ میں روسی ربل ۶۱.۱ ڈالر کی مالیت کا تھا۔ اُس وقت سے لیکر، آپکو ایک ڈالر کے برابر ہونے کیلئے ۴،۳۰۰ ربل درکار ہونگے!
ماڈرن میچیورٹی میگزین نے بیان کِیا کہ آجکل تقریباً ۴۰ ملین روسی مفلوکاُلحالی سے بھی بدتر زندگی بسر کرتے ہیں۔ ایک روسی خاتون نے کہا: ”ہم تو مرنے کی بھی استطاعت نہیں رکھ سکتے۔ ہم تجہیزوتکفین کی بھی استطاعت نہیں رکھ سکتے۔“ ایک سستی تجہیزوتکفین کی لاگت بھی تقریباً ۴۰۰،۰۰۰ ربل ہے۔ شناختی مُردہخانوں میں غیرمدفون لاشوں کے انبار لگ رہے ہیں۔ اس اثنا میں، اس بات پر بھی غور کِیا جانا چاہئے کہ ریاستہائے متحدہ میں ۳۶ ملین سے زیادہ امریکی مفلوکالحالی سے بھی بدتر زندگی بسر کر رہے ہیں۔
گارڈین ویکلی کے فنانس کارسپانڈنٹ، ولؔ ہٹن نے مشرقی یورپ کے مسائل کی بابت لکھا۔ ”پریشانی کے دَور میں داخل ہوں،“ کے عنوان کے تحت، اُس نے بیان کِیا: ”۱۸ویں صدی سے لیکر اشتمالیت کا خاتمہ اور روس کی اپنی معمولی پسپائی ایسے واقعات ہیں جن کے معنی ابھی تک بمشکل سمجھے گئے ہیں۔“ کوئی ۲۵ نئی ریاستوں نے سابقہ سوویت حکومت کی جگہ لے لی ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ”جس جوشوخروش کیساتھ اشتمالیت کے خاتمے کا خیرمقدم کِیا گیا تھا وہ اب مستقبل کی بابت بڑھتی ہوئی پریشانی میں بدل گیا ہے۔ . . . معاشی اور سیاسی بدنظمی میں تنزلی کا ہمیشہ سے زیادہ امکان ہے—اور مغربی یورپ اس سے بچے رہنے کی توقع نہیں کر سکتا۔“
ایسے قنوطیانہ نقطۂنظر کیساتھ، اس میں کوئی حیرانی نہیں کہ ہٹن اپنے مضمون کا اختتام یہ کہتے ہوئے کرتا ہے: ”محض جمہوریت اور آزادانہ معیشت کیلئے اپیلیں کرنے کی بجائے دُنیا کو راہنمائی کی ضرورت ہے—لیکن یہ بآسانی دستیاب نہیں ہے۔“ پس قومیں حل کیلئے کس طرف رجوع کر سکتی ہیں؟ اسکے بعد کا مضمون جواب پیش کریگا۔
[بکس/تصویر]
یواین ۱۹۴۵ سے لیکر
کیوں یواین جو ۱۹۴۵ میں تشکیل دی گئی تھی، اتنی زیادہ جنگوں کو روکنے کے نااہل رہی ہے؟ سیکرٹری جنرل بطرؔوس غالی نے اپنی تقریر میں بیان کِیا ”امن کیلئے ایک ایجنڈا“: ”اقوامِمتحدہ [ویٹوز] حقِاسترداد کے استعمال کی وجہ سے ان بہت سے تشویشناک مراحل سے نپٹنے میں بےبس کر دی گئی—اُن میں سے ۲۷۹—سیکیورٹی کونسل میں استعمال کئے گئے، جوکہ اُس وقت [سرمایہدار اور اشتمالی حکومتوں کے مابین سرد جنگ] کے منقسم ہونے کے واضح اظہار تھے۔“
کیا اسی وجہ سے یواین نے قوموں کے مابین امن بحال رکھنے کی کوشش نہیں کی ہے؟ اس نے کوشش تو کی ہے، لیکن یہ کوشش بہت مہنگی پڑی ہے۔ ”۱۹۴۵ اور ۱۹۸۷ کے دوران تیرہ امن بحال رکھنے کی کارروائیاں کی گئیں؛ اُس وقت سے لیکر ۱۳ مزید کی گئی ہیں۔ اندازاً ۵۲۸،۰۰۰ فوجی، پولیس اور شہری کارکنوں نے جنوری ۱۹۹۲ تک اقوامِمتحدہ کے جھنڈے کے تحت خدمات سرانجام دی تھیں۔ ۴۳ ممالک سے اُن میں سے ۸۰۰ افراد تنظیم کیلئے کام کرتے ہوئے مر گئے ہیں۔ مجموعی طور پر ان کارروائیوں کی لاگت ۱۹۹۲ تک کوئی ۳.۸ بلین ڈالر رہی ہے۔“
[بکس]
ٹیلیویژن
سکھانے والا یا غلط راہ پر ڈالنے والا
۱۹۴۵ میں نسبتاً بہت کم گھروں میں ٹیلیویژن موجود تھا۔ یہ ابھی تک بلیکاینڈوائٹ تصاویر کے اپنے بےتصنع ابتدائی دَور ہی میں تھا۔ آجکل، ٹیوی ترقییافتہ ممالک کے تقریباً ہر گھر میں اور ترقیپذیر ممالک کے ہر گاؤں میں ایک نظراندازکردہ چور اور مخل ہونے والا ہے۔ اگرچہ چند ایک پروگرام تعلیمی اور تعمیری ہیں، زیادہتر اخلاقی اقدار کو بگاڑنے والے اور عوام کے اوسط معیار کے لئے ناپاک عزائم والے خادم ہیں۔ ویڈیو پر فلموں کی مقبولیت کے باعث، فحش اور گھٹیا قسم کی فلموں کا ناجائز انتقاع اچھے ذوق اور صحتمندانہ اقدار کے تابوت میں ایک دوسرا کیل ہے۔
[تصویر]
وؔیتنام جیسی جنگوں نے، ۱۹۴۵ سے لیکر ۲۰ ملین سے زیادہ زندگیاں چھین لی ہیں