یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م96 1/‏5 ص.‏ 24-‏27
  • جس وجہ سے سچی پرستش خدا کی برکت حاصل کرتی ہے

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • جس وجہ سے سچی پرستش خدا کی برکت حاصل کرتی ہے
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1996ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • سچے مذہب کو کونسے پھل پیدا کرنے چاہئیں؟‏
  • محبت کا مذہب، نہ کہ نفرت کا
  • خدا چال‌چلن اور تعلیمات کے اخلاص کو برکت بخشتا ہے
  • ‏”‏سچائی تمکو آزاد کریگی“‏
  • ایک نام جو امتیازی ہے
  • خدا کو کس قسم کی عبادت قبول ہے؟‏
    پاک صحائف کی تعلیم حاصل کریں
  • بقا کے لئے خالص مذہب پر چلنا
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1992ء
  • خدا کی عبادت کرنے کا صحیح طریقہ
    پاک کلام کی تعلیم حاصل کریں
  • کیا تمام ,مذاہب خدا کو پسند ہیں؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1996ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1996ء
م96 1/‏5 ص.‏ 24-‏27

جس وجہ سے سچی پرستش خدا کی برکت حاصل کرتی ہے

‏”‏ہلّلُویاہ!‏ نجات اور جلال اور قدرت ہمارے خدا ہی کی ہے۔ کیونکہ اُسکے فیصلے راست اور درست ہیں۔“‏—‏مکاشفہ ۱۹:‏۱، ۲‏۔‏

۱.‏ بڑا بابلؔ اپنے انجام کو کیسے پہنچے گا؟‏

خدا کی نظر میں ”‏بڑا .‏ .‏ .‏ بابلؔ گِر پڑا“‏ ہے اور اب تباہی کے رُوبُرو کھڑا ہے۔ بائبل پیشینگوئی ظاہر کرتی ہے کہ یہ عالمگیر مذہبی کسبی عنقریب اپنے سیاسی آشناؤں کے ہاتھوں سزا پائیگی؛ اُسکا خاتمہ ناگہاں اور فوری ہوگا۔ یوؔحنا کیلئے یسوؔع کے مکاشفہ میں یہ نبوّتی الفاظ پائے جاتے ہیں:‏ ”‏ایک زورآور فرشتہ نے بڑی چکی کے پاٹ کی مانند ایک پتھر اُٹھایا اور یہ کہہ کر سمندر میں پھینک دیا کہ بابلؔ کا بڑا شہر بھی اسی طرح زور سے گِرایا جائیگا اور پھر کبھی اُسکا پتہ نہ ملیگا۔“‏—‏مکاشفہ ۱۸:‏۲،‏ ۲۱‏۔‏

۲.‏ یہوؔواہ کے خادم بابلؔ کی تباہی کیلئے کیسا ردِعمل دکھائیں گے؟‏

۲ شیطان کی دُنیا کے بعض عناصر بڑے بابلؔ کی تباہی پر ماتم کرینگے البتہ خدا کے خادم، آسمانی یا زمینی، ہرگز نہیں کرینگے۔ خدا کے لئے اُن کا پُرمسرت نعرہ یہ ہوگا:‏ ”‏ہللویاہ!‏ نجات اور جلال اور قدرت ہمارے خدا ہی کی ہے۔ کیونکہ اُس کے فیصلے راست اور درست ہیں اس لئے کہ اُس نے اُس بڑی کسبی کا انصاف کِیا جس نے اپنی حرامکاری سے دُنیا کو خراب کِیا تھا اور اُس سے اپنے بندوں کے خون کا بدلہ لیا۔“‏—‏مکاشفہ ۱۸:‏۹، ۱۰؛‏ ۱۹:‏۱، ۲‏۔‏

سچے مذہب کو کونسے پھل پیدا کرنے چاہئیں؟‏

۳.‏ کونسے سوالات جواب چاہتے ہیں؟‏

۳ چونکہ زمین کو جھوٹے مذہب سے پاک‌صاف کِیا جانا ہے تو کس قسم کی پرستش باقی رہیگی؟ آجکل ہم کیسے اس بات کا تعیّن کر سکتے ہیں کہ کونسا مذہبی گروہ شیطان کے جھوٹے مذہب کی عالمی مملکت کی تباہی سے بچ جائیگا؟ راستبازی کے کونسے پھل اس گروہ کو پیدا کرنے چاہئیں؟ یہوؔواہ کی سچی پرستش کی شناخت کرنے کیلئے تقریباً دس تقاضے ہیں۔—‏ملاکی ۳:‏۱۸؛‏ متی ۱۳:‏۴۳‏۔‏

۴.‏ سچی پرستش کے لئے پہلا تقاضا کونسا ہے، اور اس سلسلے میں یسوؔع نے کیسے مثال قائم کی؟‏

۴ پہلا اور سب سے اہم، سچے مسیحیوں کو اُس حاکمیت کی حمایت کرنی چاہئے جسکے لئے یسوؔع نے جان دے دی—‏اُسکے باپ کی حاکمیت۔ یسوؔع نے کسی سیاسی، قبائلی، نسلی، یا معاشرتی مسئلے کیلئے اپنی زندگی قربان نہیں کی تھی۔ اُس نے اپنے باپ کی بادشاہت کو تمام یہودی سیاست یا انقلابی نظریات پر ترجیح دی۔ اُس نے دُنیاوی اقتدار کیلئے شیطان کی پیشکش کا ان الفاظ میں جواب دیا:‏ ”‏اَے شیطان دُور ہو کیونکہ لکھا ہے کہ تُو خداوند اپنے خدا کو سجدہ کر اور صرف اُسی کی عبادت کر۔“‏ وہ عبرانی صحائف سے جانتا تھا کہ یہوؔواہ ہی تمام زمین کا حقیقی حاکمِ‌اعلیٰ ہے۔ کونسا مذہبی گروہ واضح طور پر اس دُنیا کے سیاسی نظاموں کی بجائے یہوؔواہ کی حکمرانی کی حمایت کرتا ہے؟—‏متی ۴:‏۱۰؛‏ زبور ۸۳:‏۱۸‏۔‏

۵.‏ (‏ا)‏ سچے پرستاروں کو خدا کے نام کو کیسا سمجھنا چاہئے؟ (‏ب)‏ کیا چیز ظاہر کرتی ہے کہ یہوؔواہ کے گواہ اس نام کی عزت کرتے ہیں؟‏

۵ دوسرا تقاضا یہ ہے کہ سچی پرستش کو خدا کے نام کی بڑائی اور تقدیس کرنی چاہئے۔ قادرِمطلق نے اپنی قوم اسرائیل پر اپنا نام، یہوؔواہ (‏بعض بائبل ورشنوں میں یاؔوے ترجمہ کِیا گیا)‏ ظاہر کِیا، اور یہ عبرانی صحائف میں ہزاروں مرتبہ استعمال ہوا ہے۔ اس سے بھی پہلے، آؔدم، حوؔا اور دیگر اس نام کو جانتے تھے، اگرچہ اُنہوں نے ہمیشہ اسکا احترام نہ کِیا۔ (‏پیدایش ۴:‏۱؛‏ ۹:‏۲۶؛‏ ۲۲:‏۱۴؛‏ خروج ۶:‏۲)‏ اگرچہ مسیحی دُنیا اور یہودیوں کے مترجمین نے اپنی بائبلوں سے الہٰی نام کو بالعموم نکال دیا ہے، یہوؔواہ کے گواہوں نے نیو ورلڈ ٹرانسلیشن آف دی ہولی سکرپچرز میں اُس نام کو اسکا مناسب مقام اور احترام دیا ہے۔ وہ اُس نام کی تعظیم کرتے ہیں، جیسے‌کہ ابتدائی مسیحی کرتے تھے۔ یعقوؔب نے تصدیق کی:‏ ”‏شمعوؔن نے بیان کِیا ہے کہ خدا نے پہلے‌پہل غیرقوموں پر کس طرح توجہ کی تاکہ اُن میں سے اپنے نام کی ایک اُمت بنالے۔ اور نبیوں کی باتیں بھی اسکے مطابق ہیں۔ .‏ .‏ .‏ تاکہ باقی آدمی یعنی سب قومیں جو میرے نام سے کہلاتی ہیں خداوند کی تلاش کریں۔ یہ وہی خداوند فرماتا ہے جو .‏ .‏ .‏ ان باتوں کی خبر دیتا آیا ہے۔“‏—‏اعمال ۱۵:‏۱۴-‏۱۸؛‏ عاموس ۹:‏۱۱، ۱۲۔‏

۶.‏ (‏ا)‏ سچی پرستش کیلئے تیسرا تقاضا کیا ہے؟ (‏ب)‏ یسوؔع اور دانیؔ‌ایل نے بادشاہتی حکمرانی پر کیسے زور دیا؟ (‏لوقا ۱۷:‏۲۰، ۲۱‏)‏

۶ سچی پرستش کیلئے ایک تیسرا تقاضا یہ ہے کہ انسان کے حکومتی مسائل کے واحد جائز اور کارآمد حل کے طور پر اسے خدا کی بادشاہت کو سربلند کرنا چاہئے۔ یسوؔع نے واضح الفاظ میں اپنے پیروکاروں کو اس بادشاہت کے آنے، خدا کی حکمرانی کے زمین کے اختیار کو سنبھالنے کیلئے دُعا کرنا سکھایا۔ دانیؔ‌ایل کو آخری ایّام کے سلسلے میں پیشینگوئی کرنے کا الہام بخشا گیا تھا:‏ ”‏آسمان کا خدا ایک سلطنت برپا کریگا جو تاابد نیست نہ ہوگی .‏ .‏ .‏ بلکہ وہ ان تمام [‏دُنیاوی، سیاسی]‏ مملکتوں کو ٹکڑے ٹکڑے اور نیست کریگی اور وہی ابد تک قائم رہیگی۔“‏ اس ۲۰ویں صدی میں کن لوگوں نے اپنے راہِ‌عمل سے ثابت کِیا ہے کہ وہ اس بادشاہت کی بھرپور حمایت کرتے ہیں—‏بڑے بابلؔ کے مذاہب یا یہوؔواہ کے گواہ؟—‏دانی‌ایل ۲:‏۴۴؛‏ متی ۶:‏۱۰؛‏ ۲۴:‏۱۴‏۔‏

۷.‏ سچے پرستار بائبل کو کیسا خیال کرتے ہیں؟‏

۷ خدا کی مقبولیت کیلئے چوتھا تقاضا یہ ہے کہ خدا کے سچے خادموں کو بائبل کی خدا کے الہام‌شُدہ کلام کے طور پر حمایت کرنی چاہئے۔ اسلئے وہ شدید تنقید کا نشانہ نہیں بنیں گے، جو بائبل کو اس سے اخذکردہ تمام نقائص کیساتھ محض انسانی اَدبی تحریر کے درجے تک محدود کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ یہوؔواہ کے گواہ بائبل کے خدا کے الہامی کلام ہونے پر یقین رکھتے ہیں، جیسے‌کہ پولسؔ نے تیمتھیسؔ کو لکھا تھا:‏ ”‏ہر ایک صحیفہ جو خدا کے الہام سے ہے تعلیم اور الزام اور اصلاح اور راستبازی میں تربیت کرنے کیلئے فائدہ‌مند بھی ہے۔ تاکہ مردِخدا کامل بنے اور ہر ایک نیک کام کیلئے بالکل تیار ہو جائے۔“‏a لہٰذا، یہوؔواہ کے گواہ بائبل کو اپنا رہبر، روزمرّہ زندگی کیلئے اپنی امدادی کتاب، اور مستقبل کیلئے اُمید کا اپنا چشمہ سمجھتے ہیں۔—‏۲-‏تیمتھیس ۳:‏۱۶، ۱۷‏۔‏

محبت کا مذہب، نہ کہ نفرت کا

۸.‏ سچی پرستش کیلئے پانچواں تقاضا کِیا ہے؟‏

۸ یسوؔع نے اپنے پیروکاروں کا کیسے امتیاز کِیا؟ اُسکا جواب ہمیں سچی پرستش کے پانچویں اہم شناختی نشان تک لے آتا ہے۔ یسوؔع نے کہا:‏ ”‏مَیں تمہیں ایک نیا حکم دیتا ہوں کہ ایک دوسرے سے محبت رکھو کہ جیسے مَیں نے تم سے محبت رکھی تم بھی ایک دوسرے سے محبت رکھو۔ اگر آپس میں محبت رکھو گے تو اس سے سب جانینگے کہ تم میرے شاگرد ہو۔“‏ (‏یوحنا ۱۳:‏۳۴، ۳۵‏)‏ یسوؔع نے اپنی محبت کیسے ظاہر کی؟ اپنی زندگی فدیے کی قربانی کے طور پر دینے سے۔ (‏متی ۲۰:‏۲۸؛‏ یوحنا ۳:‏۱۶‏)‏ خالص محبت سچے مسیحیوں کیلئے ایک لازمی خوبی کیوں ہے؟ یوؔحنا نے وضاحت کی:‏ ”‏اَے عزیزو!‏ آؤ ہم ایک دوسرے سے محبت رکھیں کیونکہ محبت خدا کی طرف سے ہے .‏ .‏ .‏ جو محبت نہیں رکھتا وہ خدا کو نہیں جانتا کیونکہ خدا محبت ہے۔“‏—‏۱-‏یوحنا ۴:‏۷، ۸‏۔‏

۹.‏ کس نے سچی محبت ظاہر کی ہے، اور کیسے؟‏

۹ ہمارے زمانے میں کن لوگوں نے نسلی، قومی، یا طبقاتی نفرت کے باوجود اس قسم کی محبت دکھائی ہے؟ کون نہایت اہم امتحان میں، حتیٰ‌کہ موت تک، کامیاب ہوئے ہیں، تاکہ اُنکی محبت غالب آئے؟ کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ کیتھولک پادری اور راہبات ہیں جو ۱۹۹۴ میں رواؔنڈا کے اندر واقع ہونے والی نسل‌کُشی کیلئے کسی حد تک ذمہ‌داری میں شریک ہیں؟ کیا یہ سرؔبیا کے آرتھوڈکس یا کرؔوشیا کے کیتھولک ہیں جو بلقانی ریاستوں میں خانہ‌جنگی کے دوران ”‏نسلی صفائی“‏ اور دیگر غیرمسیحی کاموں میں ملوث رہے ہیں؟ یا کیا یہ کیتھولک یا پروٹسٹنٹ پادری ہیں جنہوں نے گزشتہ چند دہوں کے دوران شمالی آئرلینڈؔ میں تعصب اور نفرت کے شعلوں کو ہوا دی ہے؟ یقیناً یہوؔواہ کے گواہوں کو ایسے فسادات میں اُلجھنے کیلئے موردِالزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ اُنہوں نے اپنی مسیحی محبت سے غداری کرنے کی بجائے، موت تک، جیلوں اور مراکزِاسیران میں تکلیف اُٹھائی ہے۔—‏یوحنا ۱۵:‏۱۷‏۔‏

۱۰.‏ سچے مسیحی غیرجانبدار کیوں رہتے ہیں؟‏

۱۰ خدا کے حضور قابلِ‌قبول پرستش کیلئے چھٹا تقاضا اس دُنیا کے سیاسی معاملات کے سلسلے میں غیرجانبداری کا ہے۔ مسیحیوں کو سیاست میں غیرجانبدار کیوں رہنا چاہئے؟ پولسؔ، یعقوؔب، اور یوؔحنا ہمیں اس مؤقف کیلئے ٹھوس وجہ فراہم کرتے ہیں۔ پولسؔ رسول نے لکھا کہ شیطان ”‏اس جہان کا خدا“‏ ہے، جو نزاع‌پرداز سیاست سمیت، ہر ممکن ذرائع سے بے‌ایمانوں کی عقلوں کو اندھا کر رہا ہے۔ شاگرد یعقوؔب نے بیان کِیا کہ ”‏دُنیا سے دوستی رکھنا خدا سے دشمنی کرنا ہے،“‏ اور یوؔحنا رسول نے کہا کہ ”‏ساری دُنیا اُس شریر کے قبضہ میں پڑی ہوئی ہے۔“‏ اسلئے، ایک سچا مسیحی شیطان کی سیاست اور اقتدار والی بدعنوان دُنیا میں شریک ہونے سے خدا کیلئے اپنی عقیدت کے سلسلے میں مصالحت نہیں کر سکتا۔—‏۲-‏کرنتھیوں ۴:‏۴؛‏ یعقوب ۴:‏۴؛‏ ۱-‏یوحنا ۵:‏۱۹‏۔‏

۱۱.‏ (‏ا)‏ مسیحی جنگ کو کیسا سمجھتے ہیں؟ (‏ب)‏ اس مؤقف کیلئے صحیفائی بنیاد کیا ہے؟ (‏۲-‏کرنتھیوں ۱۰:‏۳-‏۵‏)‏

۱۱ پچھلے دو تقاضوں کے پیشِ‌نظر، ساتواں واضح ہو جاتا ہے، یعنی، یہ کہ سچے مسیحی پرستاروں کو جنگوں میں حصہ نہیں لینا چاہئے۔ چونکہ سچا مذہب محبت پر مبنی ایک عالمگیر برادری ہے، اسلئے کوئی بھی چیز ”‏دُنیا میں بھائیوں کی برادری“‏ کے درمیان پھوٹ یا بگا‌ڑ نہیں ڈال سکتی۔ یسوؔع نے نفرت کی نہیں، محبت کی؛ جنگ کی نہیں، امن کی تعلیم دی۔ (‏۱-‏پطرس ۵:‏۹‏، این‌ڈبلیو؛ متی ۲۶:‏۵۱، ۵۲‏)‏ وہی ”‏شریر،“‏ شیطان، جس نے ہابلؔ کا قتل کرنے کیلئے قائنؔ کو ترغیب دی نوعِ‌انسان کے درمیان نفرت کے بیج بونا اور سیاسی، مذہبی، اور نسلی تفرقوں کی بنیاد پر فسادات برپا کرنا جاری رکھتا ہے۔ سچے مسیحی ’‏پھر کبھی جنگ کرنا نہیں سیکھتے،‘‏ اس سے قطع‌نظر کہ کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے۔ علامتی طور پر، اُنہوں نے پہلے ہی سے ’‏اپنی تلواروں کو توڑ کر پھالیں اور اپنے بھالوں کو ہنسوے بنا ڈالا ہے۔‘‏ وہ خدا کی روح کے پُراَمن پھل پیدا کرتے ہیں۔—‏۱-‏یوحنا ۳:‏۱۰-‏۱۲؛‏ یسعیاہ ۲:‏۲-‏۴؛‏ گلتیوں ۵:‏۲۲، ۲۳‏۔‏

خدا چال‌چلن اور تعلیمات کے اخلاص کو برکت بخشتا ہے

۱۲.‏ (‏ا)‏ آٹھواں تقاضا کیا ہے، لیکن آپ کن مذہبی فرقوں کا ذکر کر سکتے ہیں؟ (‏ب)‏ پولسؔ اس آٹھویں تقاضے کو کیسے نمایاں کرتا ہے؟‏

۱۲ مسیحی اتحاد سچی پرستش کا آٹھواں تقاضا ہے۔ تاہم، مسیحی دُنیا کے نزاع‌پرداز مذاہب نے اس مقصد میں کوئی مدد نہیں کی ہے۔ بہتیری نام‌نہاد بااثر مذہبی تنظیمیں طرح طرح کے فرقوں میں بٹ گئی ہیں، اور نتیجہ ابتری ہوا ہے۔ مثال کے طور پر، ریاستہائے‌متحدہ میں بپٹسٹ مذہب کو لے لیجئے، جو شمالی بپٹسٹس (‏یو.‏ایس.‏اے.‏ میں امریکن بپٹسٹ چرچز)‏ اور جنوبی بپٹسٹس (‏جنوبی بپٹسٹ کنونشن)‏، اور درجنوں دیگر بپٹسٹ گروہوں میں بٹا ہوا ہے جو نااتفاقیوں کے نتیجے میں وجود میں آئے ہیں۔ (‏ورلڈ کرسچئن انسائیکلوپیڈیا، صفحہ ۷۱۴)‏ بہتیرے فرقوں کا آغاز عقیدے یا کلیسیائی اختیار کے سلسلے میں اختلافات سے ہوا (‏مثلاً، پریسبٹیرین، ایپس‌کوپلین، کانگریگیشنل)‏۔ مسیحی دُنیا کے فرقے بالکل مسیحی دُنیا سے باہر مذاہب—‏جیسے‌کہ بدھ‌مت، اسلام، یا ہندومت—‏کے فرقوں کے مماثل ہیں۔ پولسؔ رسول نے ابتدائی مسیحیوں کو کیا مشورت دی تھی؟ ”‏اب اَے بھائیو!‏ یسوؔع مسیح جو ہمارا خداوند ہے اُسکے نام کے وسیلہ سے مَیں تم سے التماس کرتا ہوں کہ سب ایک ہی بات کہو اور تم میں تفرقے نہ ہوں بلکہ باہم یک‌دل اور یک‌رای ہوکر کامل بنے رہو۔“‏—‏۱-‏کرنتھیوں ۱:‏۱۰؛‏ ۲-‏کرنتھیوں ۱۳:‏۱۱‏۔‏

۱۳، ۱۴.‏ (‏ا)‏ ’‏پاک ہونے‘‏ سے کیا مُراد ہے؟ (‏ب)‏ سچی پرستش کو کیسے پاک رکھا گیا ہے؟‏

۱۳ خدا کے منظورِنظر مذہب کے لئے نواں تقاضا کیا ہے؟ احبار ۱۱:‏۴۵ میں بائبل کا ایک اصول درج ہے:‏ ”‏تم مُقدس ہونا کیونکہ مَیں قدوس ہوں۔“‏ پطرؔس رسول نے اس تقاضے کو دہرایا جب اُس نے لکھا:‏ ”‏جس طرح تمہارا بلا‌نے والا پاک ہے اُسی طرح تم بھی اپنے سارے چال‌چلن میں پاک بنو۔“‏—‏۱-‏پطرس ۱:‏۱۵‏۔‏

۱۴ پاک‌صاف ہونے کی ضرورت میں کس بات کی دلالت کی گئی ہے؟ یہ کہ یہوؔواہ کے پرستاروں کو روحانی اور اخلاقی طور پر پاک‌صاف ہونا چاہئے۔ (‏۲-‏پطرس ۳:‏۱۴‏)‏ غیرتائب، جان‌بوجھ کر گناہ کرنے والوں کیلئے کوئی گنجائش نہیں ہے، جو اپنے چال‌چلن سے مسیح کی فدیے کی قربانی کیلئے حقارت کا اظہار کرتے ہیں۔ (‏عبرانیوں ۶:‏۴-‏۶‏)‏ یہوؔواہ تقاضا کرتا ہے کہ مسیحی کلیسیا کو صاف اور پاک رکھا جائے۔ یہ کیسے سرانجام دیا جاتا ہے؟ کسی حد تک کلیسیا کو بگا‌ڑنے والے لوگوں کو خارج کرنے کی عدالتی کارروائی کے ذریعے۔—‏۱-‏کرنتھیوں ۵:‏۹-‏۱۳‏۔‏

۱۵، ۱۶.‏ بہت سے مسیحیوں نے اپنی زندگیوں میں کیا تبدیلیاں کی ہیں؟‏

۱۵ مسیحی سچائی کو جاننے سے پہلے، بہتیروں نے بدچلن، عیش‌پرستانہ، خودبیں زندگیاں بسر کیں۔ لیکن مسیح کی بابت گفتگو نے اُنہیں بدل دیا، اور اُنہوں نے اپنے گناہوں کی معافی حاصل کر لی ہے۔ پولسؔ نے بڑے زوردار انداز میں اسے بیان کِیا جب اُس نے لکھا:‏ ”‏کیا تم نہیں جانتے کہ بدکار خدا کی بادشاہی کے وارث نہ ہونگے؟ فریب نہ کھاؤ۔ نہ حرامکار خدا کی بادشاہی کے وارث ہونگے نہ بُت‌پرست نہ زناکار نہ عیاش۔ نہ لونڈے باز۔ نہ چور نہ لالچی نہ شرابی۔ نہ گالیاں بکنے والے نہ ظالم۔ اور بعض تم میں سے ایسے ہی تھے بھی مگر تم .‏ .‏ .‏ دھل گئے اور پاک ہو ئے۔“‏—‏۱-‏کرنتھیوں ۶:‏۹-‏۱۱‏۔‏

۱۶ ظاہر ہے کہ یہوؔواہ اُن لوگوں کو پسند کرتا ہے جو اپنے غیرصحیفائی چال‌چلن سے توبہ کرتے، رجوع لاتے، اور مسیح اور اُسکی تعلیمات کے سچے پیروکار بن جاتے ہیں۔ وہ واقعی اپنے پڑوسیوں سے اپنی مانند محبت رکھتے ہیں اور مختلف طریقوں سے اسکا اظہار کرتے ہیں، جیسے‌کہ اُس خدمتگزاری میں ثابت‌قدم رہنے سے جو تمام سننے والوں کو زندگی کا پیغام پیش کرتی ہے۔—‏۲-‏تیمتھیس ۴:‏۵‏۔‏

‏”‏سچائی تمکو آزاد کریگی“‏

۱۷.‏ سچی پرستش کیلئے دسواں تقاضا کیا ہے؟ مثالیں دیں۔‏

۱۷ روح اور سچائی سے اُسکی پرستش کرنے والوں کیلئے یہوؔواہ کا دسواں تقاضا ہے—‏خالص تعلیم۔ (‏یوحنا ۴:‏۲۳، ۲۴‏)‏ یسوؔع نے اپنے پیروکاروں سے کہا تھا:‏ ”‏سچائی سے واقف ہوگے اور سچائی تمکو آزاد کریگی۔“‏ (‏یوحنا ۸:‏۳۲‏)‏ بائبل کی سچائی ہمیں غیرفانی جان، دوزخ، اور اعراف جیسے خدا کی تحقیر کرنے والے عقائد سے آزاد کرتی ہے۔ (‏واعظ ۹:‏۵، ۶،‏ ۱۰؛‏ حزقی‌ایل ۱۸:‏۴، ۲۰)‏ یہ ہمیں مسیحی دُنیا کی ”‏پاک تثلیث“‏ کے بابلی بھید سے آزاد کرتی ہے۔ (‏استثنا ۴:‏۳۵؛ ۶:‏۴؛‏ ۱-‏کرنتھیوں ۱۵:‏۲۷، ۲۸‏)‏ بائبل سچائی کی فرمانبرداری پُرمحبت، شفیق، مہربان، ہمدرد لوگوں پر منتج ہوتی ہے۔ سچی مسیحیت کبھی بھی کینہ‌پرور، متعصّب عدالتی ارکان، جیسے‌کہ ٹوؔماس ڈی ٹورکیوماڈا، یا صلیبی جنگوں کے پاپائی حمایتیوں جیسے نفرت‌انگیز جنگجوؤں کی حوصلہ‌افزائی نہیں کرتی۔ تاہم، بڑے بابلؔ نے پوری تاریخ کے دوران، نمرؔود سے لیکر اب تک، اسی قسم کے پھل پیدا کئے ہیں۔—‏پیدایش ۱۰:‏۸، ۹‏۔‏

ایک نام جو امتیازی ہے

۱۸.‏ (‏ا)‏ سچی پرستش کے دس تقاضوں پر کون پورا اُترتے ہیں اور کیسے؟ (‏ب)‏ اُس برکت کے وارث ہونے کیلئے ہمیں انفرادی طور پر کیا کرنا چاہئے جو ہمارے سامنے ہے؟‏

۱۸ آجکل سچی پرستش کے ان دس تقاضوں کو درحقیقت کون پورا کرتے ہیں؟ کون دوسروں کے درمیان راستی اور امن‌پسندی کے اپنے ریکارڈ کیلئے مشہور اور جانے پہچانے جاتے ہیں؟ پوری دُنیا میں یہوؔواہ کے گواہ ”‏دُنیا کا حصہ“‏ نہ ہونے کی وجہ سے نمایاں ہیں۔ (‏یوحنا ۱۵:‏۱۹؛‏ ۱۷:‏۱۴،‏ ۱۶؛‏ ۱۸:‏۳۶‏)‏ یہوؔواہ کے لوگوں کو اُسکے نام کے حامل اور اُسکے گواہ ہونے کا اعزاز حاصل ہے، جیسے‌کہ یسوؔع مسیح اپنے باپ کا وفادار گواہ تھا۔ ہم اُس پاک نام کے حامل، یہ جس چیز کی نمائندگی کرتا ہے اُسکے مطابق زندگی بسر کرنے کیلئے اپنی ذمہ‌داری سے باخبر ہیں۔ اور، اُسکے گواہوں کے طور پر، ہمارے سامنے کیا ہی پُرشکوہ امکان رکھا ہے!‏ وہ اس زمین پر بحال‌شُدہ فردوس میں عالمگیر حاکمِ‌اعلیٰ کی پرستش کرتے ہوئے، ایک فرمانبردار، متحد انسانی خاندان کا حصہ ہونے کا امکان رکھتے ہیں۔ ایسی برکت حاصل کرنے کیلئے، آئیے واضح طور پر سچی پرستش کیساتھ اپنی شناخت کرانا اور بڑے فخر سے نام یہوؔواہ کے گواہ اپنائے رکھنا جاری رکھیں ”‏کیونکہ اُسکے فیصلے راست اور درست ہیں۔“‏—‏مکاشفہ ۱۹:‏۲؛‏ یسعیاہ ۴۳:‏۱۰-‏۱۲؛‏ حزقی‌ایل ۳:‏۱۱۔ (‏۱۶ ۰۴/۱۵ w۹۶)‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

a بائبل کے ترجمے بذاتِ‌خود خدا کی طرف سے الہام‌شُدہ نہیں ہیں۔ ترجمے، جن اصلی زبانوں میں بائبل مرقوم کی گئی اُنکی سمجھ کے سلسلے میں شاید تغیرات کو ظاہر کریں۔‏

آپ کیسے جواب دینگے؟‏

▫ یہوؔواہ کے خادم بڑے بابلؔ کی تباہی کو کیسا خیال کرتے ہیں؟‏

▫ سچی پرستش کیلئے کلیدی تقاضے کیا ہیں؟‏

▫ سچائی کیسے آپ کو آزاد کرتی ہے؟‏

▫ یہوؔواہ کے گواہوں کے طور پر ہمیں کونسا خاص اعزاز حاصل ہے؟‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں