یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • جاگو96 8/‏4 ص.‏ 19-‏20
  • آپکی دعاؤں میں آپکا کردار

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • آپکی دعاؤں میں آپکا کردار
  • جاگو!‏—‏1996ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • ہم کیسے حصہ ادا کر سکتے ہیں؟‏
  • فعال کردار ادا کریں!‏
  • یہوؔواہ اپنا حصہ ادا کرے گا
  • 2-‏سموئیل کے ابواب کا خاکہ
    کتابِ‌مُقدس—‏ترجمہ نئی دُنیا
  • یہوواہ خدا کے وفادار بندوں سے سیکھیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—2016ء
  • خدا پر بھروسا رکھنے سے اطمینان حاصل کریں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—2011ء
  • یہوواہ خدا نے ماضی میں اپنے خادموں کو چھڑایا
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2008ء
جاگو!‏—‏1996ء
جاگو96 8/‏4 ص.‏ 19-‏20

بائبل کا نقطۂ‌نظر

آپکی دعاؤں میں آپکا کردار

ایک پہاڑ کی اونچائی پر سے شہر پر نظر ڈالتے ہوئے، محصور بادشاہ اپنے وسیع‌وعریض دارالحکومت، اور اپنے گھرانے کی افسوسناک بدحالی پر غوروفکر کرنے کے لئے تھوڑی دیر کے لئے رُکتا ہے۔ ایک بڑی فوج جنوب میں جمع ہو گئی ہے اور اب شہر کی جانب بڑھ رہی ہے۔ اعلیٰ عہدوں پر فائز سرکاری اہلکار بگڑ گئے ہیں اور زیادہ‌تر لوگ باغیوں کے ساتھ مل گئے ہیں۔ مغموم حالت میں بادشاہ خدا سے دُعا کرتا ہے۔ انتہائی مذہبی شخص ہونے کی وجہ سے، اُس کا اعتماد بڑھتا ہے کہ خدا اُس کی التجا کو سنیگا اور سازش کرنے والوں کے منصوبوں کو ناکام بنا دے گا۔ اس کے بعد، اپنے شاندار شہر پر سے نظریں ہٹاتے ہوئے، وہ پہاڑ سے نیچے اُترتا ہے اور شمال میں دریا پار جنگل کی سمت بڑھتا چلا جاتا ہے۔ اس سے زیادہ وہ کیا کر سکتا ہے؟ صورتحال اب خدا کے ہاتھ میں ہے۔‏

اسی طرح سے، آجکل بھی فروتن ایماندار مشکل اوقات میں دُعا میں خدا کی طرف رجوع کرتے ہیں اس اطمینان‌بخش یقین‌دہانی کے ساتھ کہ اس کی بابت واضح راہنمایاں فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ کہ دُعا کیسے کریں بائبل یہ بھی آشکارا کرتی ہے کہ یہوؔواہ خدا ”‏دعا کا سننے والا“‏ ہے۔ (‏زبور ۶۵:‏۲‏)‏ ہمیں یقین‌دہانی کرائی گئی ہے کہ خدا کے تمام راستدل طالبوں کی سنی جائے گی۔‏

تاہم، کیا ایمان اور دُعا کافی ہیں؟ اپنی دُعاؤں کے نتیجے میں ہم کیا کردار ادا کرتے ہیں؟‏

ہم کیسے حصہ ادا کر سکتے ہیں؟‏

شروع میں متذکرہ بادشاہ قدیم اسرائیل کا بادشاہ داؔؤد تھا۔ اپنے سازشی بیٹے ابیؔ‌سلوم اور اُسکے ریاکار مشیر اخیتفلؔ کی سازش کا سامنا کرتے وقت، اُس نے یرؔوشلیم سے بھاگ جانے اور دریائے یرؔدن کے مشرق کی جانب دشت کے قلعہ‌بند شہر محنایمؔ میں پناہ لینے کا فیصلہ کِیا۔ غالباً مایوسی، افسردگی اور پریشانی کے عالم میں اُس نے یہ کہتے ہوئے دُعا میں یہوؔواہ سے منت کی:‏ ”‏اے خداوند!‏ .‏ .‏ .‏ اخیتفلؔ کی صلاح کو بیوقوفی سے بدل دے۔“‏ (‏۲-‏سموئیل ۱۵:‏۱۱-‏۱۵،‏ ۳۰، ۳۱‏)‏ تاہم، داؔؤد نے دُعا کرنے سے زیادہ کچھ کِیا۔ اُس نے اپنی دُعا کے بر آنے کیلئے مثبت انداز سے اپنا حصہ ادا کِیا۔ وہ کیسے؟‏

اُس کا حصہ ادا کرنا اُس کے آزمائشوں کا سامنا کرنے سے کافی پہلے شروع ہو گیا تھا۔ کئی سالوں کے دوران، اُس کے بادشاہ بننے سے پیشتر، داؔؤد نے خود کو یہوؔواہ کا ایک وفادار پرستار ثابت کِیا۔ (‏۱-‏سموئیل ۱۶:‏۱۲، ۱۳؛‏ اعمال ۱۳:‏۲۲‏)‏ وہ خدا کا منظورِنظر بن گیا۔ اسلئے، آزمائش کے تحت داؔؤد یہ یقین رکھتا تھا کہ یہوؔواہ اُسکی دُعا سنیگا اور موزوں طور پر جواب دے گا۔‏

یہ آجکل بھی سچ ہے۔ اکثر اپنی دُعاؤں کے جواب کے لئے اپنا حصہ ادا کرنے کا بنیادی طریقہ یہ ہے کہ زندگی کے باقاعدہ نمونے کے طور پر بائبل مشورت پر عمل کِیا جائے۔ خداداد اُصولوں کے لئے ایسی وفادارانہ اطاعت اُس کے ساتھ ایک قریبی رشتے کا باعث بنتی ہے۔ خدا کی یہ قربت اور ایمان کا یہ طرزِعمل آزمائشوں کے آنے سے پہلے موجود ہونا چاہئے۔ اسے ایک ایسی مضبوط بنیاد کی طرح ہونا چاہئے جس پر ایک گھر تعمیر کِیا جانا ہے؛ اس سے پہلے کہ عمارت کا بوجھ اس پر ڈالا جائے اسے تیار ہونا چاہئے۔ اس لئے ہم اب بھی—‏آزمائشوں کے آنے سے پہلے—‏اپنی بہت سی دُعاؤں کے کامیاب نتائج کے لئے اپنا حصہ ادا کر سکتے ہیں۔‏

فعال کردار ادا کریں!‏

اگرچہ یہ سچ ہے کہ خدا کے ساتھ داؔؤد کے رشتے نے اہم کردار ادا کِیا، اُس نے یہ بھی پہچان لیا تھا کہ وہ اپنی دُعاؤں کے بر آنے کے سلسلے میں انفعالی مشاہد نہیں بن سکتا تھا۔ اس کے برعکس، داؔؤد نے فعال کردار ادا کِیا جیسے‌کہ دُعا کے بعد اُس کی دانشمندانہ روش سے ظاہر ہوتا ہے۔‏

داؔؤد کے وفادار دوستوں میں حوؔسی نامی ایک ارکی تھا۔ حوؔسی فراری بادشاہ سے کوہِ‌زیتون پر ملا۔ اسیری میں داؤد کے ساتھ جانے کی خواہش کے باوجود، حوؔسی نے داؔؤد کے اس اصرار کی تعمیل کہ وہ شہر ہی میں رہے۔ اُسے ابیؔ‌سلوم کے لئے مصنوعی وفاداری ظاہر کرنی تھی، یہ کوشش کرنی تھی کہ غدار مشیر اخیتفلؔ کی مشورت کو جھٹلا سکے اور داؔؤد کو تمام واقعات سے آگاہ رکھ سکے۔ (‏۲-‏سموئیل ۱۵:‏۳۲-‏۳۷‏)‏ جیسے‌کہ توقع کی گئی تھی، حوؔسی ابیؔ‌سلوم کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔ اب یہوؔواہ مداخلت کرے گا۔‏

خوش‌تدبیر، گو کہ پُرفریب، اخیتفلؔ نے ایک شاندار منصوبہ پیش کِیا۔ اُس نے ابیؔ‌سلوم سے کہا کہ اُسی رات جبکہ داؔؤد ابھی غیرمنظم اور تھکاماندہ فرار ہو رہا تھا، اُسے داؔؤد پر حملہ کرنے کیلئے—‏ایک ایسا کاری حملہ جو کامیاب انقلاب کا باعث ہوگا، ۱۲،۰۰۰ آدمی عنایت کئے جائیں!‏ تاہم، بہتوں کو حیرانی میں ڈالتے ہوئے، ابیؔ‌سلوم نے اس معاملہ پر حوؔسی کی مشورت طلب کی۔ اُس نے ابیؔ‌سلوم کو مشورہ دیا کہ وہ آدمیوں کا ایک ایسا بڑا لشکر تیار کرنے کیلئے وقت لے جو خود ابیؔ‌سلوم کی کمان میں ہو۔ یہوؔواہ کی راہنمائی کے باعث، حوؔسی کی مشورت قبول کر لی گئی۔ اخیتفلؔ، واضح طور پر یہ محسوس کرتے ہوئے کہ حوؔسی کی صلاح پر چلنے کا مطلب یقینی شکست ہوگا، اپنے گھر واپس لوٹ گیا اور خودکشی کر لی۔—‏۲-‏سموئیل ۱۷:‏۱-‏۱۴،‏ ۲۳‏۔‏

اس میں کوئی شک نہیں کہ یہوؔواہ نے داؔؤد کی دُعا کا جواب دیا تھا—‏بالکل اُسی طرح جیسے اُس نے دُعا کی تھی۔ داؔؤد کا اپنی دُعا کی مطابقت میں کام کرنا اُن سب کیلئے ایک بیش‌قیمت سبق فراہم کرتا ہے جو دُعا کے ذریعے خدا کی مدد کے طالب ہوتے ہیں۔‏

یہوؔواہ اپنا حصہ ادا کرے گا

سچ ہے کہ یسوؔع نے اپنے پیروکاروں کو روز کی روٹی کے لئے دُعا کرنا سکھایا اور یہ وعدہ کِیا کہ اگر وہ خدا کے مفادات کو پہلا درجہ دیتے ہیں تو وہ اُن کی ضروریات کو پورا کرے گا۔ (‏متی ۶:‏۱۱،‏ ۳۳‏)‏ مثال کے طور پر، اگر ایک شخص بیروزگار ہے تو اُسے روزگار کے لئے اپنی دُعا کی مطابقت میں کام تلاش کرنے یا ڈھونڈ نکالنے کے لئے وہ سب‌کچھ کرنا چاہئے جو وہ کر سکتا ہے۔‏

ہماری دُعاؤں کا موضوع خواہ کچھ بھی کیوں نہ ہو، نتیجے کے لئے ہمارا اپنا حصہ ادا کرنے کی قابلیت بہت زیادہ مختلف ہوتی ہے۔ بہرصورت ایسے اوقات ہوتے ہیں جب ہم کافی کچھ کر سکتے ہیں اور ایسے اوقات بھی ہوتے ہیں جب ہم قطعاً کچھ نہیں کر سکتے ہیں۔ اہم بات یہ نہیں کہ ہم کیا کر سکتے ہیں اور کیا نہیں کر سکتے ہیں بلکہ یہ کہ آیا ہم حتی‌المقدور کر رہے ہیں۔‏

ہم اس بات کا یقین رکھ سکتے ہیں کہ یہوؔواہ ہمارے حالات اور لیاقتوں کو جانتا ہے۔ وہ بخوبی جانتا ہے کہ ہمارے لئے کیا کرنا ممکن ہے، اور وہ ہم سے ہرگز یہ تقاضا نہیں کریگا کہ ہم اپنی حیثیت سے زیادہ کریں۔ خواہ ہم بہت زیادہ کر سکتے ہیں یا بہت کم، یہوؔواہ ہر کمی کو پورا کریگا۔ وہ ہماری کوششوں کی قدر اور حمایت کرتا ہے اور وہ تمام لوگوں کیلئے بہترین نتائج کی تکمیل کیلئے ہماری تمام کوششوں کو برکت دیگا۔—‏زبور ۳:‏۳-‏۷‏۔‏

مشکلات کے دوران، داؔؤد بادشاہ اعتماد کے ساتھ کہہ سکتا تھا:‏ ”‏نجات خداوند کی طرف سے ہے۔ تیرے لوگوں پر تیری برکت ہو۔“‏ (‏زبور ۳:‏۸‏)‏ دُعا ہے کہ یہوؔواہ کی قوت پر ہمارا بھروسہ ہمارے کم یا زیادہ حصہ ادا کرنے کیساتھ ساتھ ہماری دُعاؤں کے کامیاب نتیجے کا باعث بنے۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں