آپ بھی غیررسمی گواہی دے سکتے ہیں
۱. (ا) غیررسمی گواہی دینے کا مطلب کیا ہے؟ (ب) آج کے اِس اجلاس پر موجود کتنے لوگ غیررسمی گواہی کی وجہ سے سچائی میں آئے ہیں؟
۱ آپ کی کلیسیا میں کتنے ایسے بہنبھائی ہیں جنہوں نے غیررسمی گواہی کی وجہ سے سچائی کو قبول کِیا؟ آپ شاید جواب سن کر حیران رہ جائیں۔ غیررسمی گواہی دینے کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنی روزمرّہ زندگی میں ملنے والے لوگوں کو خوشخبری سنائیں۔ اِن میں وہ لوگ شامل ہیں جن سے ہم سفر میں، خریداری کرتے وقت اور سکول یا کام کی جگہ پر ملتے ہیں۔ اِس میں ہمارے رشتہدار اور پڑوسی بھی شامل ہیں۔ ایک علاقے میں ۲۰۰ سے زیادہ یہوواہ کے گواہوں میں سے ۴۰ فیصد غیررسمی گواہی کی وجہ سے سچائی میں آئے۔ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خوشخبری سنانے کا یہ طریقہ نہایت مؤثر ہے۔
۲. بائبل میں غیررسمی گواہی دینے کی کونسی مثالیں درج ہیں؟
۲ پہلی صدی میں بھی خدا کے خادموں نے غیررسمی گواہی دی۔ مثال کے طور پر جب یسوع مسیح سامریہ کے شہر میں گیا تو اُس نے ایک عورت کو غیررسمی گواہی دی جو کنویں پر پانی بھرنے آئی تھی۔ (یوح ۴:۶-۲۶) فلپس نے ایک حبشی اہلکار سے جو یسعیاہ کی کتاب سے صحیفہ پڑھ رہا تھا یہ کہتے ہوئے اپنی باتچیت کا آغاز کِیا: ”جو تُو پڑھتا ہے اُسے سمجھتا بھی ہے؟“ (اعما ۸:۲۶-۳۸) پولس رسول نے فلپی میں قید کے دوران ایک داروغہ کو گواہی دی۔ (اعما ۱۶:۲۳-۳۴) اِس کے علاوہ جب پولس رسول اپنے گھر میں قید تھا تو وہ اُن لوگوں سے ”جو اُس کے پاس آتے تھے . . . ملتا رہا اور کمال دلیری سے بغیر روک ٹوک کے خدا کی بادشاہی کی مُنادی کرتا اور خداوند یسوؔع مسیح کی باتیں سکھاتا رہا۔“ (اعما ۲۸:۳۰، ۳۱) اگر آپ شرمیلے ہونے کی وجہ سے غیررسمی گواہی دینے سے ہچکچاتے ہیں تو آپ اِس مسٔلے پر قابو پا سکتے ہیں۔ مگر کیسے؟
۳. ہم کیسے شرمیلے پن پر قابو پا سکتے ہیں؟
۳ گفتگو شروع کرنے سے نہ ہچکچائیں: ہم میں سے بیشتر بہنبھائی ایسے ہیں جنہیں اجنبی لوگوں سے باتچیت شروع کرنا مشکل لگتا ہے۔ کبھیکبھار تو ہمیں اُن لوگوں سے بھی باتچیت کرنا آسان نہیں لگتا جنہیں ہم جانتے ہیں۔ لیکن جب ہم یہوواہ خدا کی مہربانیوں، پاک کلام کی بیشقیمت سچائیوں اور دُنیا کے لوگوں کی تکلیفدہ حالت پر غور کرتے ہیں تو ہمارے اندر دوسروں کو گواہی دینے کی خواہش پیدا ہوتی ہے۔ (یوناہ ۴:۱۱؛ زبور ۴۰:۵؛ متی ۱۳:۵۲) اِس کے علاوہ ہم یہوواہ خدا سے ”دلیری“ کے لئے دُعا کر سکتے ہیں۔ (۱-تھس ۲:۲) گلئیڈ سکول سے تربیت پانے والے ایک بھائی نے کہا: ”مَیں نے اکثر یہ محسوس کِیا ہے کہ جب بھی مجھے لوگوں سے باتچیت کرنا مشکل لگتا ہے تو خدا سے دُعا کرنے سے مجھے مدد ملتی ہے۔“ اگر آپ بھی لوگوں سے باتچیت کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں تو دل میں چھوٹی سی دُعا کریں۔—نحم ۲:۴۔
۴. کسی سے باتچیت شروع کرتے وقت ہمیں کیا یاد رکھنا چاہئے اور کیوں؟
۴ غیررسمی گواہی دیتے وقت یہ ضروری نہیں کہ ہم اپنی گفتگو کا آغاز بالکل ویسے ہی کریں جیسے ہم گھربہگھر کی مُنادی کے دوران کرتے ہیں۔ یہ بھی ضروری نہیں کہ ہم شروع میں کوئی آیت پڑھیں۔ ہم فوراً ہی لوگوں کو گواہی دینے کی بجائے کسی عام موضوع سے اپنی باتچیت کا آغاز کر سکتے ہیں۔ بہت سے مبشر یہ کہتے ہیں کہ اِس طریقے کو استعمال کرنے سے اُن میں دوسروں کو خوشخبری سنانے کے لئے اعتماد پیدا ہوا ہے۔ تاہم اگر کوئی شخص آپ سے بات نہیں کرنا چاہتا تو اُسے مجبور نہ کریں۔ نرمی سے اپنی گفتگو کو ختم کریں اور کسی دوسرے شخص سے بات کرنے کی کوشش کریں۔
۵. ایک بہن ہچکچاہٹ کے باوجود غیررسمی گواہی دینے کے قابل کیسے ہوئی ہے؟
۵ ایک بہن دوسروں کے ساتھ بات کرنے سے ہچکچاتی ہے۔ اِس کے باوجود وہ خریداری کرتے وقت دوسروں کو گواہی دینے کی کوشش کرتی ہے۔ وہ ایسا کرنے کے قابل کیسے ہوتی ہے؟ جس خاتون سے وہ بات کرنا چاہتی ہے پہلے اُس کی طرف دیکھ کر مسکراتی ہے۔ اگر وہ خاتون بھی اُسے دیکھ کر مسکراتی ہے تو وہ کوئی چھوٹی سی بات کہتی ہے۔ جب بہن یہ دیکھتی ہے کہ وہ خاتون بھی اُس کی بات کا جواب دیتی ہے تو گفتگو جاری رکھنے کے لئے اُس کا اعتماد بڑھتا ہے۔ وہ توجہ سے اُس کی بات سنتی ہے اور ایسے موضوع پر گواہی دیتی ہے جس سے اُس خاتون کی دلچسپی بڑھے۔ اِس طریقے کو استعمال کرنے سے بہن نے بہت سے رسالے اور کتابیں پیش کی ہیں اور ایک بائبل کا مطالعہ بھی شروع کِیا ہے۔
۶. ہم غیررسمی گواہی دیتے وقت اپنی باتچیت کا آغاز کیسے کر سکتے ہیں؟
۶ باتچیت شروع کرنے کا طریقہ: ہم اپنی باتچیت کا آغاز کیسے کر سکتے ہیں؟ یسوع مسیح نے کنویں پر عورت سے اپنی باتچیت کا آغاز پانی مانگنے سے کِیا۔ (یوح ۴:۷) اِسی طرح ہم بھی اپنی گفتگو کا آغاز کسی کو سلام کرنے یا کوئی سوال پوچھنے سے کر سکتے ہیں۔ ایسی گفتگو کے دوران شاید ہمیں بائبل کا پیغام سنانے اور لوگوں کے دل میں سچائی کا بیج بونے کا موقع ملے گا۔ (واعظ ۱۱:۶) بعض بہنبھائی کوئی ایسی دلچسپ بات کہتے ہیں جس سے لوگوں کے اندر تجسّس پیدا ہو جاتا ہے۔ مثال کے طور پر جب آپ ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں تو اپنی باری کا انتظار کرتے وقت آپ کسی سے گفتگو کا آغاز کرنے کے لئے کچھ یوں کہہ سکتے ہیں: ”وہ وقت آنے والا ہے جب مَیں کبھی بیمار نہیں ہوں گا۔“
۷. جب ہم اِس بات کا خیال رکھتے ہیں کہ ہمارے آسپاس کیا ہو رہا ہے تو اِس سے ہمیں غیررسمی گواہی دینے میں کیسے مدد ملتی ہے؟
۷ ہمیں اِس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ ہمارے آسپاس کیا ہو رہا ہے۔ اِس سے بھی ہمیں باتچیت کو شروع کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر ہم ایسے والدین کو دیکھتے ہیں جن کے بچے تمیزدار ہیں تو ہم اُن کی تعریف کرتے ہوئے کہہ سکتے ہیں: ”آپ نے کیسے اپنے بچوں کی اتنی اچھی تربیت کی ہے؟“ ایک بہن کی مثال پر غور کریں۔ وہ اپنے ساتھ کام کرنے والے لوگوں کی باتوں پر دھیان دیتی ہے کہ وہ آپس میں کن موضوعات پر بات کرتے ہیں۔ پھر وہ اُن کی دلچسپی کے موضوعات پر اُنہیں کچھ معلومات پڑھنے کے لئے دیتی ہے۔ ایک مرتبہ جب اِس بہن کو پتہ چلا کہ اُس کے ساتھ کام کرنے والی ایک لڑکی شادی کرنے کے بارے میں سوچ رہی ہے تو بہن نے اُس لڑکی کو شادی کے موضوع پر جاگو! رسالہ دیا۔ اِس طرح بہن کو بائبل سے مزید باتچیت کرنے کا موقع مل گیا۔
۸. ہم بائبل پر مبنی کتابوں اور رسالوں کو گفتگو شروع کرنے کے لئے کیسے استعمال کر سکتے ہیں؟
۸ گفتگو شروع کرنے کا ایک اَور طریقہ یہ ہے کہ ہم بائبل پر مبنی کتابیں اور رسالے ایسی جگہ بیٹھ کر پڑھیں جہاں دوسرے لوگ ہمیں دیکھ سکیں۔ ایک بھائی بالکل ایسا ہی کرتا ہے۔ وہ مینارِنگہبانی یا جاگو! رسالے میں سے ایک دلچسپ موضوع نکالتا ہے اور اِسے پڑھنا شروع کر دیتا ہے۔ جب وہ یہ دیکھتا ہے کہ اُس کے ساتھ بیٹھنے والا شخص رسالے کو دیکھ رہا ہے تو وہ مضمون کے متعلق اُس سے کوئی سوال پوچھتا ہے یا پھر مضمون میں سے کوئی بات بتاتا ہے۔ اِس طرح اُسے اکثر باتچیت شروع کرنے اور گواہی دینے کا موقع مل جاتا ہے۔ ہم کام کی جگہ پر یا سکول میں بائبل پر مبنی کتابیں اور رسالے ایسی جگہ پر رکھ سکتے ہیں جہاں لوگ اُنہیں آسانی سے دیکھ سکیں۔ یوں اُن کا تجسّس بڑھے گا اور وہ مزید جاننے کی کوشش کریں گے۔
۹، ۱۰. (ا) ہم غیررسمی گواہی دینے کے موقعے کیسے تلاش کر سکتے ہیں؟ (ب) آپ ایسا کرنے کے قابل کیسے ہوئے ہیں؟
۹ باتچیت کے موقعے تلاش کریں: ہم جانتے ہیں کہ مُنادی ایک زندگیبخش کام ہے۔ اِس لئے ہمیں اپنی روزمرّہ زندگی میں گواہی دینے کے موقعے تلاش کرنے چاہئیں۔ اُن لوگوں کے بارے میں سوچیں جنہیں آپ اکثر ملتے ہیں اور اِس بات پر غور کریں کہ آپ اُن کے ساتھ دوستانہ انداز میں کیسے باتچیت شروع کر سکتے ہیں۔ ہمیشہ اپنے پاس بائبل اور کتابیں یا رسالے ضرور رکھیں تاکہ آپ دلچسپی دکھانے والے لوگوں کو گواہی دے سکیں۔—۱-پطر ۳:۱۵۔
۱۰ بہت سے مبشر ہوشیاری سے غیررسمی گواہی دینے کے کئی طریقے تلاش کرنے کے قابل ہوئے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک بہن ایسے فلیٹس میں رہتی ہے جہاں بغیر اجازت اندر جانا منع ہے۔ وہاں ایک ہال ہے جہاں اِن فلیٹس کے رہنے والے تفریح کے لئے جمع ہوتے ہیں۔ یہ بہن قدرتی مناظر والی پزل کے ٹکڑوں کو جوڑ کر تصویریں بناتی ہے۔ جب لوگ ایسی خوبصورت تصویروں کی تعریف کرتے ہیں تو وہ اِس موقع کو استعمال کرتے ہوئے باتچیت شروع کرتی ہے اور اُنہیں ”نئے آسمان اور نئی زمین“ کے متعلق خدا کا وعدہ بتاتی ہے۔ (مکا ۲۱:۱-۴) کیا آپ بھی غیررسمی گواہی دینے کے مختلف موقعے تلاش کرنے کے بارے میں سوچ سکتے ہیں؟
۱۱. ہم غیررسمی گواہی دیتے وقت دلچسپی دکھانے والوں سے دوبارہ ملنے کے لئے کیا کر سکتے ہیں؟
۱۱ دلچسپی دکھانے والوں سے دوبارہ ملیں: اگر کوئی شخص آپ کے پیغام میں دلچسپی ظاہر کرتا ہے تو اُس کے پاس دوبارہ جانے کی کوشش ضرور کریں۔ آپ اُس شخص سے کہہ سکتے ہیں: ”مجھے آپ سے باتچیت کرکے بہت اچھا لگا ہے۔ مَیں آپ سے دوبارہ کہاں مل سکتا ہوں تاکہ ہم اپنی باتچیت جاری رکھ سکیں؟“ بعض مبشر کسی شخص کو اپنے گھر کا پتا یا فوننمبر دیتے ہوئے کہتے ہیں: ”مجھے آپ سے بات کرکے بہت خوشی ہوئی۔ اگر آپ اِس موضوع کے بارے میں مزید جاننا چاہتے ہیں تو مجھ سے رابطہ کر سکتے ہیں۔“ اگر یہ شخص آپ کے علاقے میں نہیں رہتا تو آپ اپنی کلیسیا کے سیکرٹری کو فارم برائےمہربانی ملاقات کیجئے (ایس-۴۳) پُر کرکے دے سکتے ہیں۔ اِس طرح یہ بندوبست بنایا جائے گا کہ اُس شخص کے علاقے کی کلیسیا کا کوئی بہن یا بھائی اُس سے مل سکے۔
۱۲. (ا) ہمیں کیوں غیررسمی گواہی دینے کے وقت کا ریکارڈ رکھنا اور اِس کی رپورٹ ڈالنی چاہئے؟ (ب) غیررسمی گواہی دینے کے کونسے عمدہ نتائج حاصل ہوئے ہیں؟ (بکس ”غیررسمی گواہی دینے کے عمدہ نتائج“ کو دیکھیں)
۱۲ ہم غیررسمی گواہی دینے میں جتنا وقت صرف کرتے ہیں ہمیں اُس کی رپورٹ ضرور ڈالنی چاہئے۔ اِس لئے چاہے ہم دن میں چند منٹ ہی بات کیوں نہ کریں ہمیں اِسے اپنے پاس لکھ لینا چاہئے۔ غور کریں کہ اگر دُنیابھر میں تمام مبشر ہر روز صرف پانچ منٹ غیررسمی گواہی دیتے ہیں تو ہر مہینے ایک کروڑ ۷۰ لاکھ سے زیادہ گھنٹے غیررسمی گواہی میں صرف ہوں گے۔
۱۳. ہمیں کس وجہ سے غیررسمی گواہی دینی چاہئے؟
۱۳ ہمارے پاس غیررسمی گواہی دینے کی سب سے اہم وجہ خدا اور پڑوسی سے محبت ہے۔ (متی ۲۲:۳۷-۳۹) جب ہمارے دل میں خدا کی خوبیوں اور اُس کے مقصد کے لئے قدر ہو گی تو ہم دوسروں کے سامنے خدا کی ”سلطنت کے جلال کی شان کو ظاہر“ کریں گے۔ (زبور ۱۴۵:۷، ۱۰-۱۲) اپنے پڑوسی کے لئے حقیقی فکرمندی کی وجہ سے ہم ہر موقع پر اُنہیں خوشخبری سنانے کی کوشش کریں گے۔ (روم ۱۰:۱۳، ۱۴) پس پہلے سے سوچبچار اور تیاری کرنے سے ہم غیررسمی گواہی دے سکتے ہیں اور خلوصدل لوگوں کو سچائی سے واقف کرانے سے خوشی حاصل کر سکتے ہیں۔
[صفحہ ۴ پر عبارت]
ہم کسی عام موضوع سے لوگوں کے ساتھ باتچیت کا آغاز کر سکتے ہیں
[صفحہ ۵ پر عبارت]
بہت سے مبشر ہوشیاری سے غیررسمی گواہی دینے کے کئی طریقے تلاش کرنے کے قابل ہوئے ہیں
[صفحہ ۵ پر بکس]
گفتگو شروع کرنے کے لئے تجاویز
▪ کسی سے بات کرنے سے پہلے دُعا کریں
▪ ایسے لوگوں کا انتخاب کریں جو خوشاخلاق ہیں اور جلدی میں نہیں
▪ اُنہیں دیکھیں، مسکرائیں اور ایسے موضوع پر بات کریں جو آپ دونوں کے لئے دلچسپ ہو
▪ توجہ سے سنیں
[ ۶ پر بکس]
غیررسمی گواہی دینے کے عمدہ نتائج
• ایک بھائی جب اپنی گاڑی کا کام کرانے کے لئے گیراج گیا تو اُس نے وہاں موجود لوگوں کو عوامی تقریر پر حاضر ہونے کے لئے اشتہار دئے۔ اگلے سال ایک اجتماع پر ایک شخص اِس بھائی کے پاس آکر بڑی گرمجوشی سے ملا۔ بھائی نے اُس شخص کو نہیں پہچانا۔ دراصل یہ شخص اُن لوگوں میں سے ایک تھا جسے بھائی نے پچھلے سال گیراج میں اشتہار دئے تھے۔ یہ شخص عوامی تقریر سننے کے لئے گیا تھا اور اِس نے بائبل سے مطالعہ کرنے کی خواہش کا اظہار بھی کِیا تھا۔ اب یہ شخص اور اُس کی بیوی یہوواہ کے گواہ ہیں۔
• ایک بہن نے غیررسمی گواہی کے ذریعے سچائی سیکھی تھی۔ اِسی لئے وہ بھی اکثر اپنے بچوں کے سکول میں ملنے والے لوگوں کو گواہی دیتی ہے۔ وہ جن لوگوں کو مُنادی کرتی ہے اُن میں اُس کے پڑوسی اور اُس کے بچوں کے سکول میں ملنے والے والدین شامل ہیں۔ وہ اپنا تعارف کراتے ہوئے یہ بتاتی ہے کہ اپنے بچوں کی تربیت کرنے میں بائبل نے اُس کی بہت مدد کی ہے۔ اِس کے بعد وہ کسی دوسرے موضوع پر باتچیت کرنے لگتی ہے۔ مگر جب گفتگو شروع ہو جاتی ہے تو بہن کے لئے یہ آسان ہو جاتا ہے کہ وہ باتچیت کے دوران بائبل کا نقطۂنظر بیان کرے۔ اِس طریقے کو استعمال کرنے سے اُس نے ۱۲ لوگوں کی بپتسمہ لینے میں مدد کی ہے۔
• جب ایک بہن کی ملاقات انشورنس کرانے والے ایک آدمی سے ہوئی تو اُس نے گواہی دینے کے اِس موقع کو ہاتھ سے نہ جانے دیا۔ بہن نے اُس آدمی سے پو چھا کہ کیا وہ اچھی صحت، خوشی اور ہمیشہ کی زندگی کی ضمانت چاہتا ہے۔ اُس آدمی نے جواب دیا جیہاں۔ پھر اُس نے بہن سے پوچھا کہ وہ کس انشورنس پالیسی کی بات کر رہی ہے۔ بہن نے اُسے بائبل میں سے خدا کے وعدے کے بارے میں بتایا اور اُسے پڑھنے کے لئے ایک کتاب دی جسے اُس نے ایک ہی رات میں پڑھ ڈالا۔ جلد ہی بائبل سے مطالعہ شروع ہو گیا اور وہ آدمی اجلاسوں پر آنے لگا۔ پھر کچھ عرصہ بعد اُس نے بپتسمہ لے لیا۔
• جہاز میں سفر کے دوران ایک بہن نے اپنے ساتھ بیٹھی ہوئی عورت سے باتچیت شروع کی۔ اِس طرح اُسے گواہی دینے کا موقع مل گیا۔ جب اُن کا سفر ختم ہوا تو بہن نے اُس عورت کو اپنا پتا اور فوننمبر دیتے ہوئے کہا کہ جب اُس کے پاس یہوواہ کے گواہوں میں سے کوئی آئے تو وہ ضرور اُن کے ساتھ بائبل کا مطالعہ کرے۔ اگلے دن دو یہوواہ کی گواہوں نے اِس عورت کے دروازے پر دستک دی۔ اُس عورت نے بائبل سے مطالعہ کرنا شروع کر دیا اور تیزی سے ترقی کی۔ اُس نے بپتسمہ لے لیا اور تین لوگوں کو بائبل سے مطالعہ کرانے لگی۔
• نرسنگ ہوم میں رہنے والے ایک سو سالہ نابینا بھائی اکثر یہ کہتے ہیں کہ ”ہمیں بادشاہت کی ضرورت ہے۔“ اُن کی اِس بات کی وجہ سے نرسوں اور دیگر مریضوں کے ذہن میں سوال پیدا ہوئے۔ اِس سے بھائی کو اُنہیں یہ بتانے کا موقع ملا کہ بادشاہت کیا ہے۔ وہاں کام کرنے والی ایک عورت نے بھائی سے پوچھا کہ وہ فردوس میں کیا کریں گے؟ اُنہوں نے جواب دیا: ”مَیں پھر سے دیکھ سکوں گا اور چلوں پھروں گا۔ مَیں اپنی ویلچیئر کو بھی جلا دوں گا۔“ بھائی نے اُس عورت سے درخواست کی کہ وہ اُنہیں رسالے میں سے کچھ پڑھ کر سنائے۔ جب اُس بھائی کی بیٹی اُن سے ملنے کے لئے آئی تو اِس عورت نے اُن کی بیٹی سے کہا کہ کیا وہ یہ رسالے اپنے گھر لے جا سکتی ہے؟ پھر ایک نرس نے اُن کی بیٹی کو بتایا: ”ہمارے نرسنگ ہوم میں اکثر اِسی موضوع پر بات ہوتی رہتی ہے کہ ’ہمیں بادشاہت کی ضرورت ہے۔‘“
• ایک بہن ریسٹورنٹ میں لائن میں کھڑی کھانا لینے کے لئے اپنی باری کا انتظار کر رہی تھی۔ اُس نے سنا کہ کچھ عمررسیدہ آدمی سیاسی موضوع پر گفتگو کر رہے ہیں۔ ایک آدمی نے کہا کہ حکومت ہمارے مسائل کو کبھی بھی حل نہیں کر سکتی۔ بہن نے سوچا کہ ’یہ گواہی دینے کا اچھا موقع ہے۔‘ اُس نے چھوٹی سی دُعا کی اور اُن کے پاس گئی۔ اپنا تعارف کرانے کے بعد اُس نے اُن آدمیوں سے کہا کہ ایک ایسی حکومت آنے والی ہے جو انسانوں کے مسائل کو حل کر دے گی۔ وہ خدا کی حکومت ہے۔ بہن نے اُنہیں ایک کتاب پیش کی۔ اُسی وقت مینیجر اُس کے پاس آیا۔ بہن سمجھی کہ شاید وہ اُسے کہے گا کہ وہ یہاں سے چلی جائے۔ لیکن مینیجر نے اُس سے کہا کہ وہ اُن کی باتچیت سن رہا تھا اور اُسے بھی ایک کتاب چاہئے۔ وہاں ملازمت کرنے والی ایک عورت بھی یہ ساری باتیں سن رہی تھی۔ وہ روتے ہوئے بہن کے پاس آ کر کہنے لگی کہ مَیں پہلے گواہوں سے بائبل کا مطالعہ کرتی تھی اور اب مَیں اُسے دوبارہ شروع کرنا چاہتی ہوں۔