”آؤ [یہوواہ، NW] کے گھر چلیں“
۱ داؤد نے بڑے شوق سے اس دعوت کا جواب دیا: ”آؤ [یہوواہ، NW] کے گھر چلیں۔“ (زبور ۱۲۲:۱) یہوواہ کا ”گھر،“ جسکی نمائندگی ہیکل سے کی گئی تھی، ان کیلئے اکٹھے ہونے کی جگہ تھا جو سچے خدا کی عبادت کرنے کی آرزو رکھتے تھے۔ یہ امن اور سلامتی کا ایک مقدس تھا۔ آجکل، عالمگیر مسیحی کلیسیا خدا کا ”گھر،“ ”حق کا ستون اور بنیاد“ ہے۔ (۱-تیمتھیس ۳:۱۵) نجات کیلئے تمام فراہمیاں اسی ذریعے سے بہم پہنچائی گئی ہیں۔ اسی وجہ سے، ”سب قومیں وہاں پہنچینگی“ اگر وہ خدا کی بادشاہتی حکمرانی کے تحت موعودہ برکات سے استفادہ کرنا چاہتی ہیں۔—یسعیاہ ۲:۲۔
۲ یہ ”گھر“ ۲۲۹ ممالک میں ۶۹،۰۰۰ سے زائد کلیسیاؤں پر مشتمل ہے۔ چار ملین سے زائد سرگرم کارکنوں کے اس دعوت دینے کیساتھ کنگڈم ہالوں کے دروازے کھلے ہیں کہ: ”آئے ... جو کوئی چاہے آبحیات مفت لے۔“ (مکاشفہ ۲۲:۱۷) بہتیروں نے اس پیغام کو سنا ہے اور قدردانی کیساتھ جوابی عمل دکھایا ہے۔ دوسروں کے دل پر اثر ہوا ہے لیکن وہ ابھی تک مسیحی کلیسیا کے ساتھ رفاقت رکھنے سے یہوواہ کے گھر میں نہیں آئے۔ ایسے لوگ ”روحانی ضرورت“ رکھتے ہیں جو صرف کلیسیا میں ملنے والی فراہمیوں سے آسودہ ہو سکتی ہے۔ (متی ۵:۳، NW) اس نظام کے تیزی سے قریب آتے ہوئے خاتمے کیساتھ ہم تشویشناک وقتوں میں رہتے ہیں۔ ایک ڈانوانڈول یا غیرآمادہ رویہ خطرناک تاخیر پر منتج ہو سکتا ہے۔ یہ بات فوری توجہطلب ہے کہ لوگ اسکی تنظیم کے نزدیک جانے سے ”خدا کے نزدیک [جانے]“ کی کوشش کریں۔ (یعقوب ۴:۸) ہم انکی مدد کیسے کر سکتے ہیں؟
۳ دلچسپی کا رخ تنظیم کی طرف موڑیں: دلچسپی رکھنے والے نئے اشخاص کیساتھ ہماری پہلی ملاقات کے وقت سے ہی ہمیں انکی توجہ تنظیم کی طرف دلاتے ہونا چاہیے۔ جبکہ ہم ذاتی طور پر صحائف ڈھونڈ نکالنے اور بنیادی عقائد کی وضاحت کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں، ہم ایسے علم کا ماخذ نہیں ہیں۔ ہر بات جو ہم نے سیکھی ہے وہ تنظیم، نوکر جماعت کے مقررکردہ ذریعے، کی طرف سے آئی ہے جو ”وقت پر کھانا“ مہیا کرتا ہے۔ (متی ۲۴:۴۵-۴۷) شروع ہی سے، نئے اشخاص کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ خالص پرستش میں ہمارے یا مقامی کلیسیا کے علاوہ بہت کچھ شامل ہے، ایک منظم، تھیوکریٹک عالمگیر سوسائٹی ہے جو یہوواہ کی ہدایت کے تحت کام کر رہی ہے۔
۴ جو ہدایت ہم حاصل کرتے ہیں وہ یہوواہ سے صادر ہوتی ہے، جس نے ہمیں تعلیم دینے اور ہماری رہبری کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ (زبور ۳۲:۸، یسعیاہ ۵۴:۱۳) یہ ہدایت اولین طور پر ہمارے لٹریچر کے ذریعے پھیلائی جاتی ہے۔ اگر ہم دلچسپی لینے والے اشخاص کی مدد کر سکتے ہیں کہ وہ لٹریچر کو زندگی بچانے والی معلومات کا سرچشمہ تسلیم کرتے ہوئے اس کیلئے گہرے احترام کو فروغ دیں تو بجائے جلدی سے اسے پھینکنے کے بہت اغلب ہے کہ وہ اسکے پیغام کو پڑھیں گے اور عائد کریں گے۔ ہمیں اس لٹریچر کو ہمیشہ ایسے طریقے سے پیش کرنا اور استعمال کرنا چاہیے جو اسکے لئے عزت پیدا کرے۔ یہ نئے اشخاص کو تنظیم کی قدر کرنا اور اسکی فراہمیوں پر توکل کرنا سکھاتا ہے۔
۵ دلچسپی رکھنے والے لوگوں کے علم میں لائیں کہ اس علاقے کے لوگوں کیلئے جمع ہونے کی ایک مرکزی جگہ ہے جہاں باقاعدگی سے ہدایت فراہم کی جاتی ہے۔ انہیں کنگڈم ہال کا ایڈریس اور اجلاس کے اوقات بتائیں۔ ہمارے اجلاسوں اور ان مذہبی اجتماعات میں فرق کی وضاحت کریں جن پر شاید وہ ماضی میں حاضر ہوتے رہے ہیں۔ ہر ایک کو خوشآمدید کہا جاتا ہے، نہ تو چندے لئے جاتے ہیں اور نہ ہی رقم اکٹھی کرنے کیلئے کوئی ذاتی ترغیبوتحریص دی جاتی ہے۔ جب مقررکردہ خادم پروگراموں میں رہنمائی کرتے ہیں تو ہر ایک کے پاس تبصرے پیش کرنے سے اور پروگرام کے حصوں میں شریک ہونے سے حصہ لینے کا موقع ہوتا ہے۔ خاندانوں کو خوشآمدید کہا جاتا ہے، ہمارے بائبل مباحثوں میں بچوں کو شامل کیا جاتا ہے۔ ہمارے خادم کوئی چوغے یا جامے نہیں پہنتے۔ کنگڈم ہال کو باذوق طریقے سے آراستہ کیا جاتا ہے اور اس میں کوئی موم بتیاں، مجسمے، یا مورتیں نہیں ہوتیں۔ جو حاضر ہوتے ہیں وہ بنیادی طور پر مقامی علاقے کی آبادی کے باشندے ہوتے ہیں۔
۶ بتدریج دلچسپی کا رخ بائبل مطالعوں کی جانب موڑیں: بائبل مطالعہ کا اولین مقصد خدا کے کلام کی سچائی سکھانا ہے۔ اسے طالبعلم کے اندر یہوواہ کی تنظیم کیلئے قدردانی کو بھی استوار کرنا چاہیے اور اسے اسکا حصہ بننے کی نہایت اہم ضرورت سے واقف کرانا چاہیے۔ پہلی صدی میں یسوع اور اسکے شاگردوں کے ذریعے کئے گئے عظیم کام نے مخلص اشخاص کو راغب کیا اور انہیں ایک مرکزی مجلسعاملہ کے تحت کام کرنے کیلئے متحد کیا۔ ایسے علاقوں میں جہاں جوابی عمل اچھا تھا وہاں باقاعدہ تربیت اور ہدایت دینے کیلئے کلیسیائیں قائم کی گئیں۔ رفاقت رکھنے والوں کو مصیبت کے اوقات کی برداشت کرنے کیلئے مدد دیتے ہوئے روحانی طور پر مضبوط کیا گیا۔ (عبرانیوں ۱۰:۲۴، ۲۵، ۱-پطرس ۵:۸-۱۰) ہمارے زمانہ میں یہ یہوواہ کا مقصد ہے ”کہ مسیح میں سب چیزوں کا مجموعہ ہو جائے۔“ (افسیوں ۱:۹، ۱۰) نتیجہ کے طور پر، ہماری ایک عالمگیر ”برادری“ ہے۔—۱-پطرس ۲:۱۷۔
۷ ہفتہواری بائبل مطالعہ میں ایسی ہدایت شامل ہونی چاہئیں جو تنظیم کی قدر کرنے اور اپنی نجات کی فراہمیوں سے استفادہ کرنے کیلئے طالبعلموں کی مدد کریگی۔ ہر ہفتے تنظیم کی بابت اور جیسے یہ کام کرتی ہے اسکی بابت بتانے یا بیان کرنے کیلئے چند منٹ لیں۔ آپ نومبر ۱، ۱۹۸۴ کے واچٹاور میں مفید نکاتگفتگو حاصل کر سکتے ہیں۔ بروشر جہوواز وٹنسز ان دی ٹوینٹیتھ سنچری اور جہوواز وٹنسز—یونائیٹڈلی ڈوئنگ گاڈز ول ورلڈ وائیڈ تنظیم کے اہم پہلوؤں کی بابت اور جسطرح وہ ہمیں فائدہ پہنچا سکتے ہیں اس کی بابت باتچیت کرتے ہیں۔ بائبل طالب علموں کی خاطر جہوواز وٹنسز—دی آرگنائزیشن بیہائینڈ دا نیم ویڈیو دکھانے کیلئے بندوبست کرنا انہیں خود یہ جاننے دے گا کہ یہ کیا کام سرانجام دے رہی ہے۔ ائیربک سے منتخب رپورٹیں اور تجربات ہمارے اپنے ملک اور ثقافت کے علاوہ دیگر ممالک اور ثقافتوں میں کام کی کامیابی کو ظاہر کر سکتے ہیں۔ دوسری مطبوعات بھی استعمال کی جا سکتی ہیں۔ کچھ وقت کے بعد، بتدریج ان باتوں کی وضاحت کریں جیسے کہ ہمارے گھرباگھر جانے کی وجہ، ہمارے اجلاسوں کا مقصد، ہمارے کام کے اخراجات پورے کرنے کا طریقہ، اور ہماری کارگزاری کی عالمگیر دسترس۔
۸ دوسرے گواہوں کیساتھ واقفیت پیدا کرانا نئے اشخاص پر پرجوش اثر کر سکتا ہے اور کلیسیا کی بابت انکے نظریے کو وسیع کر سکتا ہے۔ اس غرض سے، دوسرے پبلشروں کو وقتاًفوقتاً مطالعہ میں بیٹھنے کی دعوت دیں۔ کلیسیا میں کوئی ویسے ہی پسمنظر یا ویسی ہی دلچسپیاں رکھنے والا شخص آپکے طالبعلم کی حدنظر میں شاید ایک نئی وسعت کا اضافہ کر دے۔ شاید ایک بزرگ محض واقفیت پیدا کرنے کی غرض سے آپکے ہمراہ جا سکتا ہے۔ بائبل مطالعہ پر جانے کیلئے سرکٹ اوورسئیر یا اسکی اہلیہ کے ساتھ بندوبست کرنا ایک حقیقی برکت ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر ایسے گواہ ہیں جو قریب ہی رہائشپذیر ہیں تو بائبل طالبعلم کے ساتھ انکو واقف کرانا کلیسیائی اجلاسوں پر حاضر ہونے کی خاطر طالبعلم کیلئے اضافی حوصلہافزائی فراہم کر سکتا ہے۔
۹ اجلاسوں پر آنے کیلئے نئے اشخاص کی حوصلہافزائی کریں: نئے اشخاص کو یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ اجلاسوں پر حاضر ہونا کسقدر اہم ہے۔ انکی دلچسپی کو ابھارنے کی کوشش کریں۔ ان مضامین کی نشاندہی کریں جنکا مینارنگہبانی کے مطالعہ میں احاطہ کیا جائے گا۔ آئندہ ہونے والی پبلک تقاریر کے عنوانات کا ذکر کریں۔ کلیسیائی کتابی مطالعہ اور تھیوکریٹک منسٹری سکول میں احاطہ کئے جانے والے مواد کے خاص نکات کو بیان کریں۔ ان اجلاسوں پر آپ جو کچھ سیکھتے ہیں اور اپنے حاضر ہونے کی ضرورت محسوس کرنے کی وجہ کی بابت اپنے احساسات کا اظہار کریں۔ اگر آپ اس لائق ہیں تو سواری کی پیشکش کریں۔ حاضر ہونے کیلئے اجلاس سے پہلے ایک فون کال ایک اضافی محرک فراہم کر سکتی ہے۔
۱۰ جب ایک بائبل طالبعلم اجلاس پر ضرور آتا ہے تو اسے یہ احساس دلائیں کہ اسکا خیرمقدم کیا جاتا ہے۔ بشمول بزرگوں کے، دوسروں کے ساتھ اسکا تعارف کرائیں۔ اگر وہ پبلک تقریر پر حاضر ہو رہا ہے تو مقرر کے ساتھ اسکا تعارف کرائیں۔ اسے کنگڈم ہال دکھائیں۔ لٹریچر اور رسالوں کے کاونٹر، عطیات کے بکس، لائبریری، اور سالانہ آیت کے مقصد کی وضاحت کریں۔ اسے یہ بتائیں کہ ہال نہ صرف پرستش کا گھر ہے بلکہ یہ ایک مرکز بھی ہے جہاں سے منادی کا کام مقامی سطح پر منظم کیا جاتا ہے۔
۱۱ وضاحت کریں کہ ہمارے اجلاس کسطرح کرائے جاتے ہیں۔ طالبعلم کو وہ مطبوعات دکھائیں جو ہم استعمال کرتے ہیں۔ واضح کریں کہ بائبل ہماری اولین درسی کتاب ہے۔ بشمول نوجوان بچوں کے ہر کوئی حصہ لے سکتا ہے۔ وضاحت کریں کہ اپنی گیتوں کی کتاب میں تمام موسیقی اور نغمات کو یہوواہ کے گواہوں نے اپنی پرستش میں استعمال کرنے کیلئے ترتیب دیا۔ حاضر ہونے والوں کے پسمنظروں میں مختلف اقسام کی طرف توجہ دلائیں۔ دوستانہ سلوک اور مہماننوازی کی روح کی بابت مثبت تبصرے کریں۔ یہ مہربانہ، مخلص دلچسپی طالبعلم کو دوبارہ آنے کیلئے تحریک دینے کے قوی پہلوؤں میں سے ایک ہو سکتی ہے۔
۱۲ بعض شاید کیوں ہچکچا رہے ہیں: اکثر، آپکی تمامتر کوشش کے باوجود، بعض تنظیم کے قریب آنے میں جھجک محسوس کرتے ہیں۔ جلدبازی سے چھوڑ نہ دیں۔ خود کو انکی جگہ پر رکھنے کی کوشش کریں۔ اس وقت تک، غالباً انہوں نے خاص موقعوں کے سوا مذہبی تقریبات پر حاضر ہونے کی ضرورت کو درحقیقت محسوس نہیں کیا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ خاندان کے ممبر یا قریبی دوست ان پر دباؤ ڈال رہے ہوں۔ وہ ایسے ہمسایوں کی وجہ سے ڈر محسوس کر سکتے ہیں جو حقارتآمیز رائے پیش کرتے ہیں۔ اور، بےشک، وہ سماجی اور تفریحی کاموں سے متعلق کئی قسم کے منتشر خیالات کے تابع ہو سکتے ہیں۔ وہ شاید انہیں ناقابلعبور رکاوٹوں کے طور پر خیال کریں، معاملات کو انکے موزوں پسمنظر میں دیکھنے اور ”عمدہ عمدہ باتوں کو پسند“ کرنے میں آپکو انکی مدد کرنے کی ضرورت ہے۔—فلپیوں ۱:۱۰۔
۱۳ ثابتقدم رہنے کیلئے صحیفائی دلائل پیش کریں۔ اس بات پر زور دیں کہ ہم سب کو اس حوصلہافزائی اور روحانی ہمتافزائی کی اشد ضرورت ہے جو ہم اپنی باہمی رفاقت سے حاصل کرتے ہیں۔ (رومیوں ۱:۱۱، ۱۲) یسوع نے اس بات کو واضح کیا کہ خاندانی مخالفت پیچھے ہٹ جانے کی معقول وجہ نہیں ہے۔ (متی ۱۰:۳۴-۳۹) پولس نے ہمیں تلقین کی کہ یسوع کے شاگردوں کے طور پر اعلانیہ اپنی شناخت کرانے سے شرم محسوس نہ کریں۔ (۲-تیمتھیس ۱:۸، ۱۲-۱۴) ذاتی مشاغل اور منتشر خیالات پر قابو پانے کی ضرورت ہے ورنہ، وہ ایک پھندا بن جاتے ہیں۔ (لوقا ۲۱:۳۴-۳۶) وہ جو یہوواہ کی برکت کے مستحق ہیں انہیں کبھی بددل نہیں ہونا چاہئے بلکہ جی سے کام کرنے والا ہونا چاہئے۔ (کلسیوں ۳:۲۳، ۲۴) ایسے بائبل اصولوں کیلئے قدردانی کو ذہننشین کرانا انکے لئے روحانی طور پر ترقی کرنے کی راہ کھول سکتا ہے۔
۱۴ دروازے کھلے ہیں: یہوواہ کے سچی پرستش کے گھر کو دیگر تمام سے بلند کیا گیا ہے۔ پوری دنیا میں ۲۲۹ ممالک کے اندر یہ دعوت دی جا رہی ہے: ”آؤ [یہوواہ، NW] کے پہاڑ پر چڑھیں ... اور وہ اپنی راہیں ہم کو بتائیگا اور ہم اسکے راستوں پر چلینگے۔“ (یسعیاہ ۲:۳) نئے اشخاص کی جانب سے ایک مثبت ردعمل انکی زندگی بچا سکتا ہے۔ انکی دلچسپی کا رخ یہوواہ کی تنظیم کی طرف موڑنا ان بہترین طریقوں میں سے ایک ہے جن سے ہم انکی مدد کر سکتے ہیں۔