جس طرح علم کی کتاب کے ذریعے شاگرد بنائیں
۱ تمام مسیحیوں کیلئے ایک پسندیدہ نصبالعین دوسروں کو سچائی سکھانا اور اُن لوگوں کو شاگرد بنانا ہے جو ”ہمیشہ کی زندگی کے لئے مقرر“ کئے گئے ہیں۔ (اعمال ۱۳:۴۸؛ متی ۲۸:۱۹، ۲۰) یہوؔواہ کی تنظیم نے ہمارے ہاتھوں میں ایک شاندار ہتھیار تھما دیا ہے جس سے ہم اسے سرانجام دے سکتے ہیں—کتاب علم جو ہمیشہ کی زندگی کا باعث ہے۔ اسکا عنوان گھریلو بائبل مطالعوں کی بڑی اہمیت پر زور دیتا ہے، کیونکہ ہمیشہ کی زندگی کا انحصار واحد خدائےبرحق، یہوؔواہ اور اُسکے بیٹے یسوؔع مسیح کا علم حاصل کرنے پر ہے۔—یوحنا ۱۷:۳۔
۲ گھریلو بائبل مطالعے کرانے میں استعمال کرنے کیلئے علم کی کتاب اب سوسائٹی کی بنیادی اشاعت ہے۔ اسے استعمال کرنے سے، ہم سادگی، وضاحت، اور اختصار سے سچائی سکھا سکتے ہیں۔ یہ تعلیم پانے والوں کے دل تک پہنچنے میں مدد کریگی۔ (لوقا ۲۴:۳۲) بِلاشُبہ، کنڈکٹر کو اچھی تعلیمی مہارتیں استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کیلئے، مؤثر ثابت ہونے والے تعلیمی طریقوں کے سلسلے میں تجاویز اور یاددہانیاں فراہم کرنے کیلئے یہ ضمیمہ تیار کِیا گیا ہے۔ سمجھداری کیساتھ، اور انفرادی حالات کے مطابق، جو کچھ بھی یہاں پیش کِیا گیا ہے آپ بتدریج اُس میں سے کچھ یا تمام کا اطلاق کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں۔ اس ضمیمے کو سنبھال کر رکھیں، اور اکثر اسکی طرف رجوع کریں۔ اسکے اندر مختلف نکات شاگرد بنانے کیلئے علم کی کتاب استعمال کرنے میں مزید اثرآفرین بننے کیلئے آپکی مدد کر سکتے ہیں۔
۳ ایک ترقیپسندانہ گھریلو بائبل مطالعہ کرائیں: طالبعلم میں ایک امکانی مسیحی شاگرد اور روحانی بھائی یا بہن کے طور پر حقیقی ذاتی دلچسپی لیں۔ پُرتپاک، بامرّوت، اور گرمجوش ہوں۔ اچھا سامع ہونے سے، آپ دوسرے شخص—اُسکے پسمنظر اور زندگی میں اُسکی حالت—سے واقف ہو سکتے ہیں جو آپ کی یہ سمجھنے میں مدد کریگا کہ کیسے روحانی طور پر اُسکی بہترین مدد کی جائے۔ طالبعلم کی خاطر خود کو وقف کرنے کیلئے تیار رہیں۔—۱-تھسلنیکیوں ۲:۸۔
۴ ایک دفعہ جب مطالعہ قائم ہو جائے تو ترجیح اس بات کو دی جائے کہ علم کی کتاب میں ابواب کا مطالعہ عددی ترتیب کے لحاظ سے کِیا جائے۔ چونکہ کتاب بائبل موضوعات کو نہایت منطقی ترتیب سے پیش کرتی ہے، یہ طالبعلم کو سچائی کی ترقیپسندانہ سمجھ حاصل کرنے کا موقع دیگا۔ مطالعے کو سادہ اور دلچسپ رکھیں تاکہ یہ پُرلطف ہو اور ترقی کرتا رہے۔ (رومیوں ۱۲:۱۱) طالبعلم کے حالات اور رجحان پر انحصار کرتے ہوئے، آپ کیلئے یہ ممکن ہو سکتا ہے کہ عجلت میں مطالعہ ختم کئے بغیر، ایک گھنٹے یا اس سے کم وقت کے ایک سیشن میں زیادہ ابواب کا احاطہ کریں۔ جب اُستاد اور طالبعلم دونوں ہر ہفتے مطالعے کیلئے اپنے عہد پر پابند رہتے ہیں تو طالبعلم بہتر ترقی کریگا۔ لہٰذا، زیادہتر اشخاص کے معاملے میں، کتاب کے ۱۹ ابواب کو چھ ماہ یا اس سے بھی کم وقت میں مکمل کرنا ممکن ہو سکتا ہے۔
۵ ہر سیشن کو مختصر بیانات کے ساتھ متعارف کرائیں جو مواد میں دلچسپی کو اُبھارتے ہیں۔ آپ دیکھینگے کہ ہر باب کا عنوان ہی اسکا موضوع ہے، جس پر زور دینے کی ضرورت ہے۔ باب کے موضوع کو مرکزِنگاہ میں رکھنے کیلئے آپ کی مدد کرتے ہوئے، ہر ذیلیسُرخی ایک بنیادی نکتے کو نمایاں کرتی ہے۔ محتاط رہیں کہ بہت زیادہ مت بولیں۔ اسکی بجائے، طالبعلم کے تبصرہجات حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ جوکچھ وہ پہلے سے جانتا ہے اُس کی بِنا پر، طالبعلم سے استفساری سوالات پوچھنا، اُسکی استدلال کرنے اور درست نتائج اخذ کرنے میں مدد کرے گا۔ (متی ۱۷:۲۴-۲۶؛ لوقا ۱۰:۲۵-۳۷؛ دیکھیں سکول گائیڈ بُک، صفحہ پیراگراف ۱۰۔) احتیاط کے ساتھ علم کی کتاب میں شائعکردہ معلومات پر کاربند رہیں۔ اضافی تفصیلات کو متعارف کرانا بنیادی نکات سے ہٹا سکتا یا اُنہیں مبہم بنا سکتا اور مطالعے کو طول دے سکتا ہے۔ (یوحنا ۱۶:۱۲) اگر کوئی ایسا سوال اُٹھایا جاتا ہے جسکا مطالعہ کئے جانے والے موضوع کیساتھ تعلق نہیں تو زیادہتر حالات میں آپ سیشن کے آخر پر اسکا جواب دے سکتے ہیں۔ اس سے آپ کو منحرف ہوئے بغیر ہفتے کے سبق کا احاطہ کرنے کا موقع ملیگا۔ طالبعلم کے سامنے وضاحت کریں کہ آخرکار اُسکے ذاتی سوالات میں سے زیادہ کا جواب مطالعے کے کورس کے دوران مِل جائیگا۔—دیکھیں سکول گائیڈ بُک، صفحہ ۹۴، پیراگراف ۱۴۔
۶ اگر طالبعلم تثلیث، جان کا غیرفانی ہونا، دوزخ کی آگ، یا ایسے دیگر جھوٹے عقائد پر پُختہ ایمان رکھتا ہے، اور جوکچھ علم کی کتاب میں پیش کِیا گیا ہے اُسے مطمئن نہیں کرتا تو آپ اُسے ریزننگ بُک یا دوسری کوئی اشاعت دے سکتے ہیں جو اس موضوع پر گفتگو کرتی ہے۔ اُسے بتائیں کہ جوکچھ وہ پڑھتا ہے اُس پر اُسکے غوروفکر کرنے کے بعد آپ اُسکے ساتھ اُس موضوع پر باتچیت کرینگے۔
۷ یہوؔواہ کی راہنمائی اور برکت کیلئے دُعا کے ساتھ مطالعہ شروع کرنا اور ختم کرنا موقع کو باوقار بناتا ہے، ایک شخص کو بااحترام ذہنی حالت میں لاتا ہے، اور برحق مُعلم کے طور پر یہوؔواہ کی طرف توجہ مبذول کراتا ہے۔ (یوحنا ۶:۴۵) اگر طالبعلم ابھی تک تمباکو استعمال کرنے والا ہے تو ہو سکتا ہے کہ آپکو بالآخر اُسے یہ کہنے کی ضرورت پڑے کہ مطالعہ کے دوران اس سے اجتناب کرے۔—اعمال ۲۴:۱۶؛ یعقوب ۴:۳۔
۸ صحائف، تمثیلوں، اور اعادے کے سوالات کے ساتھ مؤثر طریقے سے تعلیم دیں: اس سے قطعنظر کہ وہ پہلے ہی مواد کا کتنی مرتبہ مطالعہ کر چکا ہے، ایک ماہر اُستاد کسی خاص طالبعلم کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہر سبق کا اعادہ کریگا۔ یہ طالبعلم کے بعض سوالات کا پہلے سے اندازہ کر لینے میں مدد کرتا ہے۔ مؤثر طور پر تعلیم دینے کیلئے، باب میں خاص نکات کی واضح سمجھ حاصل کریں۔ یہ دیکھنے کیلئے کہ اُن کا مواد پر کیسے اطلاق ہوتا ہے صحائف پر غور کریں اور فیصلہ کریں کہ مطالعے کے دوران کونسے پڑھے جانے چاہئیں۔ اس بات پر سوچبچار کریں کہ آپ تمثیلوں اور باب کے آخر میں دئیے گئے نظرثانی کرنے کے سوالات کو استعمال کرتے ہوئے کیسے تعلیم دے سکتے ہیں۔
۹ صحائف کا مؤثر استعمال کرنے سے، آپ طالبعلم کی یہ سمجھنے میں مدد کرینگے کہ وہ واقعی بائبل کا مطالعہ کر رہا ہے۔ (اعمال ۱۷:۱۱) علم کی کتاب کے صفحہ ۱۴ پر، بکس ”اپنی بائبل سے واقفیت پیدا کریں“ کو استعمال کرتے ہوئے، اُسے سکھائیں کہ صحائف کیسے تلاش کرے۔ اُسے دکھائیں کہ سبق میں اُن آیات کی شناخت کیسے کرے جن میں سے اقتباس پیش کِیا گیا ہے۔ اگر وقت اجازت دے تو ایسے حوالہشُدہ صحائف کو دیکھیں اور پڑھیں جنکا اقتباس پیش نہیں کِیا گیا۔ طالبعلم سے تبصرہ کرائیں کہ جوکچھ پیراگراف میں بیان کِیا گیا ہے یہ کیسے اُسکی حمایت کرتے یا وضاحت کرتے ہیں۔ آیات کے کلیدی حصوں پر زور دیں تاکہ وہ سبق کے خاص نکات کی وجوہات کو سمجھنے لگے۔ (نحمیاہ ۸:۸) عموماً، اُستاد کو گفتگو میں کتاب کی فراہمکردہ آیات سے زیادہ آیات شامل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ بائبل کُتب کے نام اور ترتیب سے واقف ہونے کی قدروقیمت پر تبصرہ کریں۔ طالبعلم کیلئے جون ۱۵، ۱۹۹۱ کے واچٹاور کے ۲۷-۳۰ صفحات کو پڑھنا مفید ہو سکتا ہے۔ جب موزوں ہو تو نیو ورلڈ ٹرانسلیشن کے استعمال کی حوصلہافزائی کریں۔ آپ آہستہآہستہ مظاہرہ کر سکتے ہیں کہ اس کی مختلف خصوصیات کو کیسے استعمال کریں، جیسےکہ حاشیائی حوالہجات اور بائبل الفاظ کا انڈیکس۔
۱۰ تھیوکریٹک منسڑی سکول گائیڈبُک میں سٹڈی نمبر ۳۴ وضاحت کرتی ہے کہ تمثیلیں کسی شخص کے سوچنے کے طریقۂکار کو تحریک دیتی اور نئے خیالات کو سمجھنا آسان بناتی ہیں۔ وہ ذہنی دلکشی کو جذباتی تاثر سے ملاتی ہیں، تاکہ پیغام بڑی قوت سے منتقل کِیا جائے جوکہ اکثر حقیقت کے سادہ بیانات سے ممکن نہیں ہوتا۔ (متی ۱۳:۳۴) علم کی کتاب میں تعلیم دینے والی کئی تمثیلیں ہیں جو ہیں تو سادہ، مگر طاقتور ہیں۔ مثال کے طور پر، باب ۱۷ میں استعمالکردہ ایک تمثیل اس بات کیلئے قدردانی کو بڑھاتی ہے کہ، روحانی مفہوم میں، مسیحی کلیسیا کے ذریعے یہوؔواہ کیسے خوراک، لباس، اور رہائش فراہم کرتا ہے۔ جذبات کو اُبھارنے کیلئے علم کی کتاب کی خوبصورت تصویری تمثیلوں کو مؤثر طریقے سے استعمال کِیا جا سکتا ہے۔ صفحہ ۱۸۵ پر ذیلیسُرخی ”مسرتآفریں قیامت“ کے تحت، پیراگراف ۱۸ کا تاثر طالبعلم کو پیچھے صفحہ ۸۶ پر تصویر دکھانے سے مزید مضبوط ہوگا۔ ہو سکتا ہے کہ یہ اُسے قیامت کو خدا کی بادشاہت کے تحت ایک حقیقت کے طور پر سوچنے کی تحریک دے۔
۱۱ بائبل طالبعلموں کو ہر سبق کیساتھ روحانی ترقی کرنے کی ضرورت ہے۔ اس وجہ سے، باب کے آخر میں نظر آنے والے بکس ”اپنے علم کو پرکھیں“ میں سے سوالات پوچھنا نظرانداز نہ کریں۔ جوکچھ مطالعہ کِیا گیا تھا اُسکی ایک ذہنی وضاحت سے زیادہ کچھ سننے کی کوشش کریں۔ ان میں سے کئی ایک سوالات دل سے ذاتی جوابیعمل کروانے کے لئے ترتیب دئیے گئے ہیں۔ مثال کے طور پر، صفحہ ۳۱ دیکھیں، جہاں طالبعلم سے یہ پوچھا گیا ہے: ”یہوؔواہ خدا کی کونسی صفات آپکو خاص طور پر پسند ہیں؟“—۲-کرنتھیوں ۱۳:۵۔
۱۲ طالبعلموں کو مطالعہ کیلئے تیاری کرنے کی تربیت دیں: ایک طالبعلم جو وقت سے پہلے سبق پڑھتا، جوابات پر نشان لگاتا، اور اُنہیں اپنے الفاظ میں بیان کرنے کی بابت سوچتا ہے زیادہ تیزی سے روحانی ترقی کرے گا۔ اپنے نمونے اور حوصلہافزائی سے، آپ اُسے مطالعے کے لئے تیاری کرنے کی تربیت دے سکتے ہیں۔ اُسے اپنی کتاب دکھائیں، جس میں آپ نے کلیدی الفاظ اور جملوں کو نمایاں یا خطکشیدہ کِیا ہوا ہے۔ وضاحت کریں کہ مطبوعہ سوالات کا براہِراست جواب کیسے تلاش کرتے ہیں۔ اکٹھے ایک باب کی تیاری کرنا طالبعلم کے لئے مفید ہو سکتا ہے۔ اُس کی حوصلہافزائی کریں کہ اپنے الفاظ میں اپنی بات کو بیان کرے۔ اسی صورت میں یہ بات واضح ہوگی کہ آیا وہ مواد کو سمجھتا ہے۔ اگر وہ کتاب سے اپنا جواب پڑھ دیتا ہے تو آپ یہ پوچھنے سے اُسکی سوچ اُبھار سکتے ہیں کہ وہ کسی دوسرے شخص کے سامنے اس نکتے کو اپنے الفاظ میں کیسے بیان کریگا۔
۱۳ طالبعلم کی حوصلہافزائی کریں کہ اپنی ہفتہوار تیاری کے حصے کے طور پر حوالہشُدہ صحائف کا جائزہ لے، کیونکہ شاید مطالعے کے دوران اُن سب کو پڑھنے کا وقت نہ ہو۔ اپنے اسباق کی تیاری کیلئے جو کوشش وہ کر رہا ہے اُسکے لئے اُسے شاباش دیں۔ (۲-پطرس ۱:۵؛ اس بات کی بابت اضافی تجاویز کیلئے کہ بائبل مطالعہ پر علم میں اضافہ کرنے کیلئے اُستاد اور طالبعلم دونوں کی طرف سے کیا کِیا جا سکتا ہے دیکھیں اگست ۱۵، ۱۹۹۳، واچٹاور، صفحات ۱۳-۱۴۔) اس طرح، تیاری کرنے کے لئے اور کلیسیائی اجلاسوں پر معنیخیز تبصرے کرنے کے لئے طالبعلم کی تربیت ہو رہی ہوتی ہے۔ وہ سیکھ رہا ہوگا کہ ذاتی مطالعے کی اچھی عادات کیسے اپنائی جائیں جو علم کی کتاب میں سے اُسکے ذاتی بائبل مطالعے کے بعد بھی سچائی میں ترقی کرتے رہنے کیلئے اُسے لیس کرینگی۔—۱-تیمتھیس ۴:۱۵؛ ۱-پطرس ۲:۲۔
۱۴ یہوؔواہ کی تنظیم کی طرف طالبعلموں کی راہنمائی کریں: یہ شاگرد بنانے والے کی ذمہداری ہے کہ طالبعلم کی دلچسپی کا رُخ یہوؔواہ کی تنظیم کی طرف موڑے۔ طالبعلم اَور تیزی سے روحانی پختگی کی جانب ترقی کریگا اگر وہ تنظیم کو پہچانتا اور قدر کرتا اور اسکا حصہ بننے کی ضرورت کو تسلیم کرتا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ خدا کے لوگوں کی رفاقت سے لطف اُٹھائے اور کنگڈم ہال میں ہمارے ساتھ جمع ہونے کا متمنی ہو، جہاں وہ روحانی اور جذباتی حمایت حاصل کر سکتا ہے جو مسیحی کلیسیا پیش کرتی ہے۔—۱-تیمتھیس ۳:۱۵۔
۱۵ بروشر جیہوواز وِٹنسز—یونائٹیڈلی ڈوئنگ گاڈز وِل ورلڈوائڈ لوگوں کو اُس واحد دیدنی تنظیم سے واقف کرانے کیلئے شائع کِیا گیا ہے جسے یہوؔواہ آجکل اپنی مرضی پوری کرنے کیلئے استعمال کر رہا ہے۔ ایک بار جب مطالعہ قائم ہو جاتا ہے تو کیوں نہ طالبعلم کو ایک کاپی دیں؟ شروع ہی سے، طالبعلم کو اجلاسوں پر آنے کی دعوت دیتے رہیں۔ وضاحت کریں کہ وہ کیسے کرائے جاتے ہیں۔ آپ اُسے آنے والے عوامی خطاب کا عنوان بتا سکتے یا اُسے وہ مضمون دکھا سکتے ہیں جو مینارِنگہبانی کے مطالعے میں زیرِبحث آئے گا۔ شاید آپ اُسے ایسے وقت پر کنگڈم ہال دکھانے کیلئے لے جا سکتے ہیں جب اجلاس نہیں ہو رہا تاکہ ہر ایسی پریشانی کو کم کِیا جا سکے جو وہ ایک نئی جگہ پر پہلی مرتبہ جانے کی بابت رکھ سکتا ہے۔ شاید آپ اجلاسوں کیلئے سواری کی پیشکش کرنے کے قابل ہوں۔ جب وہ حاضر ہوتا ہے تو اُسے پُرتپاک خیرمقدم اور آرام کا احساس دلائیں۔ (متی ۷:۱۲) اُسے بزرگوں سمیت، دیگر گواہوں سے متعارف کرائیں۔ اُمید ہے کہ وہ کلیسیا کو اپنا روحانی خاندان خیال کرنے لگے گا۔ (متی ۱۲:۴۹، ۵۰؛ متی ۱۰:۲۹، ۳۰) آپ اُسکے لئے ایک نشانہ قائم کر سکتے ہیں، جیسےکہ ہر ہفتے ایک اجلاس پر حاضر ہونا، اور رفتہرفتہ نشانے کو بڑھاتے جائیں۔—عبرانیوں ۱۰:۲۴، ۲۵۔
۱۶ جیسے جیسے علم کی کتاب میں سے گھریلو بائبل مطالعہ آگے بڑھتا ہے، ایسے حصوں پر توجہ مبذول کرائیں جو اجلاسوں پر کلیسیا کیساتھ باقاعدہ رفاقت کی ضرورت کو اُجاگر کرتے ہیں۔ خاص طور پر صفحات ۵۲، ۱۱۵، ۱۳۷-۱۳۹، ۱۵۹ اور باب ۱۷ پر غور کریں۔ یہوؔواہ کی تنظیم کیلئے قدردانی کے اپنے ذاتی گہرے احساسات کا اظہار کریں۔ (متی ۲۴:۴۵-۴۷) مقامی کلیسیا کی بابت اور جوکچھ آپ اجلاسوں پر سیکھتے ہیں اُسکی بابت مثبت انداز میں باتچیت کریں۔ (زبور ۸۴:۱۰؛ ۱۳۳:۱-۳) اگر طالبعلم جیہوواز وِٹنسز—آرگنائزیشن بیہائنڈ دی نیم سے شروع کرکے، سوسائٹی کی تمام ویڈیو فلمیں دیکھ سکے تو یہ اچھا ہوگا۔ اس سلسلے میں کہ کس طرح دلچسپی کا رُخ تنظیم کی طرف موڑا جائے مزید تجاویز کیلئے، دیکھیں نومبر ۱، ۱۹۸۴، واچٹاور، صفحات ۱۴-۱۸، اور اپریل ۱۹۹۳ کی ہماری بادشاہتی خدمتگزاری کا ضمیمہ۔
۱۷ دوسروں کو گواہی دینے کے لئے طالبعلموں کی حوصلہافزائی کریں: لوگوں کے ساتھ مطالعہ کرنے کا ہمارا مقصد ایسے شاگرد بنانا ہے جو یہوؔواہ کے لئے گواہی دیتے ہیں۔ (یسعیاہ ۴۳:۱۰-۱۲) اس کا مطلب ہے کہ اُستاد کو طالبعلم کی حوصلہافزائی کرنی چاہئے کہ جوکچھ وہ بائبل سے سیکھ رہا ہے اُس کی بابت دوسروں سے گفتگو کرے۔ محض یہ پوچھنے سے ایسا کِیا جا سکتا ہے: ”آپ اپنے خاندان کے سامنے اس سچائی کی وضاحت کیسے کرینگے؟“ یا ”ایک دوست کے سامنے اسے ثابت کرنے کے لئے آپ کونسا صحیفہ استعمال کرینگے؟“ علم کی کتاب میں ایسی کلیدی جگہوں پر توجہ مبذول کرائیں جہاں گواہی دینے کی حوصلہافزائی کی گئی ہے، جیسےکہ صفحات ۲۲، ۹۳-۹۵، ۱۰۵-۱۰۶، اور باب ۱۸۔ جب مناسب ہو تو طالبعلم کو دوسروں کیساتھ غیررسمی گواہی میں استعمال کرنے کے لئے کچھ اشتہارات دئیے جا سکتے ہیں۔ یہ مشورہ دیں کہ وہ اپنے خاندان کے افراد کو اپنے مطالعے میں بیٹھنے کی دعوت دے۔ کیا اُس کے دوست ہیں جو مطالعہ کرنا پسند کرینگے؟ اُس سے کہیں کہ آپ کی ملاقات اُن سے کرائے جو دلچسپی رکھتے ہیں؟
۱۸ تھیوکریٹک منسٹری سکول اور خدمتی اجلاس پر حاضر ہونے سے، امکانی شاگرد اضافی تربیت اور محرک حاصل کر سکتا ہے جو خوشخبری کا مناد بننے میں اُس کی مدد کریگا۔ جب وہ سکول میں اندراج کرانے یا ایک غیربپتسمہیافتہ پبلشر بننے میں دلچسپی ظاہر کرتا ہے تو کتاب آور منسٹری کے صفحات ۹۸ اور ۹۹ پر بیانکردہ اصولوں کا اطلاق ہوگا۔ اگر اُسکی زندگی کا کوئی پہلو اُسے لائق ٹھہرنے سے روکتا ہے تو آپ اس معاملے سے تعلق رکھنے والے مفید مواد کیلئے سوسائٹی کی مطبوعات میں سے تحقیق کر سکتے ہیں اور اُسکے ساتھ اس پر باتچیت کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، ایک طالبعلم کو تمباکو یا دیگر منشیات کی عادت پر قابو پانے میں مشکل کا سامنا ہو سکتا ہے۔ دلیل دینا کتاب زبردست وجوہات کی نشاندہی کرتی ہے کہ کیوں مسیحی ایسی مُضر عادات سے گریز کرتے ہیں، اور صفحہ ۱۱۲ پر یہ ایک طریقہ بیان کرتی ہے جو ترک کرنے کیلئے دوسروں کی مدد کرنے میں کامیاب ثابت ہوا ہے۔ اُسے مدد کیلئے یہوؔواہ پر اپنا توکل استوار کرنا سکھاتے ہوئے، معاملے کی بابت اُس کے ساتھ مِل کر دُعا کریں۔—یعقوب ۴:۸۔
۱۹ اس بات کا تعیّن کرنے کیلئے کہ آیا کوئی عوامی خدمتگزاری میں حصہ لینے کے لائق ہے یا نہیں جس طریقۂکار پر عمل کِیا جانا چاہئے وہ جنوری ۱۵، ۱۹۹۶ کے واچٹاور، صفحہ ۱۶ پیراگراف ۶ میں بیان کِیا گیا ہے۔ جب طالبعلم لائق ٹھہرتا ہے تو اُسے میدانی خدمت کے اُسکے پہلے دن کیلئے تیاری کی غرض سے مشقی سیشن منعقد کرنا مفید ہوگا۔ ایک مثبت انداز میں، لوگوں کے جوابی تاثرات اور اعتراضات پر گفتگو کریں جو آپکے علاقے میں عام ہیں۔ اگر ممکن ہو تو پہلے اُسے گھربہگھر کے کام سے شروع کرائیں، اور بتدریج اُسے خدمتگزاری کے دیگر پہلوؤں میں اُسکی تربیت کریں۔ اگر آپ اپنی پیشکش کو مختصر اور سادہ رکھتے ہیں تو اُس کیلئے اسکی نقل کرنا آسان ہوگا۔ کام سے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے، تقویتبخش اور حوصلہافزا بنیں، تاکہ وہ آپکے جذبے سے واقف ہو اور اسے منعکس کرے۔ (اعمال ۱۸:۲۵) ایک نئے شاگرد کا نشانہ خوشخبری کا باقاعدہ، سرگرم مبشر بننا ہونا چاہئے۔ شاید آپ خدمت کا ایک عملی جدوَل مرتب کرنے میں اُسکی مدد کر سکتے ہیں۔ تاکہ وہ دوسروں کو گواہی دینے کی اپنی لیاقت میں ترقی کر سکے، آپ تجویز پیش کر سکتے ہیں کہ وہ اگست ۱۵، ۱۹۸۴، صفحات ۱۵-۲۵؛ جولائی ۱۵، ۱۹۸۸، صفحات ۹-۲۰؛ جنوری ۱۵، ۱۹۹۱، صفحات ۱۵-۲۰؛ اور جنوری ۱، ۱۹۹۴، صفحات ۲۰-۲۵ واچٹاور کے شماروں کو پڑھے۔
۲۰ طالبعلموں کو مخصوصیت اور بپتسمہ کی تحریک دیں: ایک خلوصدل طالبعلم کیلئے یہ ممکن ہونا چاہئے کہ خدا کیلئے مخصوصیت کرنے اور بپتسمے کے لائق ٹھہرنے کیلئے علم کی کتاب میں سے کافی کچھ سیکھ لے۔ (مقابلہ کریں اعمال ۸:۲۷-۳۹؛ ۱۶:۲۵-۳۴۔) تاہم، اس سے پہلے کے کسی شخص کو مخصوصیت کیلئے تحریک دی جائے، اُسے یہوؔواہ کیلئے عقیدت پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ (زبور ۷۳:۲۵-۲۸) شروع سے آخر تک مطالعے کے دوران، یہوؔواہ کی خوبیوں کیلئے قدردانی کو بڑھانے کے مواقع کی تلاش میں رہیں۔ خدا کیلئے اپنے گہرے احساسات کا اظہار کریں۔ یہوؔواہ کیساتھ ایک پُرتپاک، ذاتی رشتے کو فروغ دینے کے مفہوم پر سوچنے میں طالبعلم کی مدد کریں۔ اگر وہ واقعی خدا کو جاننے اور اُس سے محبت کرنے لگتا ہے تو پھر وہ وفاداری سے اُسکی خدمت کریگا کیونکہ خدائی عقیدت کا تعلق اس بات سے ہے کہ ہم یہوؔواہ کی بابت بطور ایک شخص کیا سوچتے ہیں۔—۱-تیمتھیس ۴:۷، ۸؛ دیکھیں سکول گائیڈبُک، صفحہ ۷۶، پیراگراف ۱۱۔
۲۱ طالبعلم کے دل تک پہنچنے کی کوشش کریں۔ (زبور ۱۱۹:۱۱؛ اعمال ۱۶:۱۴؛ رومیوں ۱۰:۱۰) اُسے یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ سچائی کیسے ذاتی طور پر اُسے متاثر کرتی ہے اور اُسے یہ فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے کہ جوکچھ اُس نے سیکھا ہے اُسے اُسکے ساتھ کیا کرنا چاہئے۔ (رومیوں ۱۲:۲) کیا وہ واقعی اُس سچائی کو قبول کرتا ہے جو ہفتہبہہفتہ اُسے پیش کی جاتی ہے؟ (۱-تھسلنیکیوں ۲:۱۳) اس مقصد کیلئے، آپ دانشمندانہ نظریاتی سوالات پوچھنے سے طالبعلم کے خیالات جان سکتے ہیں، جیسےکہ: آپ اسکی بابت کیسا محسوس کرتے ہیں؟ آپ اپنی زندگی میں اسکا اطلاق کیسے کر سکتے ہیں؟ اُسکے تبصروں سے آپ بھانپ سکتے ہیں کہ اُسکے دل تک پہنچنے کیلئے کہاں مزید مدد درکار ہے۔ (لوقا ۸:۱۵؛ دیکھیں سکول گائیڈبُک، صفحہ ۵۲، پیراگراف ۱۱۔) علم کی کتاب کے صفحات ۱۷۲ اور ۱۷۴ پر تصاویر کی عبارتیں سوال کرتی ہیں: ”کیا آپ نے دُعا میں خدا کیلئے مخصوصیت کی ہے؟“ اور ”آپکو بپتسمہ لینے سے کونسی چیز روکتی ہے؟“ یہ مؤثر طور پر طالبعلم کو عمل کرنے کی تحریک دے سکتے ہیں۔
۲۲ جب ایک غیربپتسمہیافتہ پبلشر بپتسمہ پانے کی خواہش کرتا ہے تو عمل میں لایا جانے والا طریقۂکار جنوری ۱۵، ۱۹۹۶ کے واچٹاور، صفحہ ۱۷، پیراگراف ۹ میں بیان کِیا گیا ہے۔ علم کی کتاب آور منسٹری کے اپینڈیکس میں پائے جانے والے ”بپتسمہ پانے کے خواہشمند حضرات کیلئے سوالات“ کا جواب دینے میں کسی شخص کو لیس کرنے کے مقصد سے لکھی گئی ہے، جن پر بزرگ اُسکے ساتھ نظرثانی کرینگے۔ اگر آپ نے علم کی کتاب میں شائعشُدہ سوالات کے جوابات پر زور دیا ہے تو اُسکی بپتسمے کی تیاری میں بزرگوں کی طرف سے منعقدکردہ سوالی سیشن کیلئے طالبعلم کو خوب لیس ہونا چاہئے۔
۲۳ گھریلو بائبل مطالعہ مکمل کر نے والوں کی مدد کریں: اس بات کی توقع کی جانی چاہئے کہ جب تک کوئی شخص علم کی کتاب کے مطالعہ کو ختم کرتا ہے تو خدا کی خدمت کرنے میں اُسکی خلوصدلی اور دلچسپی کی گہرائی ظاہر ہو جائیگی۔ (متی ۱۳:۲۳) اسی لئے کتاب کی آخری ذیلیسُرخی سوال کرتی ہے، ”آپ کیا کرینگے؟“ آخری پیراگراف طالبعلم سے اُس رشتے پر جو اُسے خدا کیساتھ پیدا کر لینا چاہئے تھا، جو علم اُس نے سیکھا ہے اُسکا اطلاق کرنے کی ضرورت پر، اور یہوؔواہ کیلئے اپنی محبت کا فوری مظاہرہ کرنے کی ضرورت پر توجہ مرکوز کرنے کی اپیل کرتے ہیں۔ علم کی کتاب مکمل کر لینے والوں کیساتھ اضافی مطبوعات کا مطالعہ کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ خدا کے علم کیلئے جوابیعمل دکھانے میں ناکام ہو جانے والے طالبعلم کو مہربانی سے اور صاف طور پر بتائیں کہ روحانی لحاظ سے ترقی کرنے کیلئے اُسے کیا کرنا ہے۔ اُس کیلئے ہمیشہ کی زندگی کا باعث بننے والے اقدام اُٹھانے کی راہ کھلی چھوڑتے ہوئے، آپ وقتاًفوقتاً اُس سے ملاقات کر سکتے ہیں۔—واعظ ۱۲:۱۳۔
۲۴ سچائی قبول کرنے اور بپتسمہ پانے والے ایک نئے شاگرد کو ایمان میں پوری طرح مستحکم ہونے کی غرض سے اپنے علموفہم میں بہت زیادہ ترقی کرنی ہوگی۔ (کلسیوں ۲:۶، ۷) آپ کے علم کی کتاب مکمل کر لینے کے بعد اُسکا گھریلو بائبل مطالعہ جاری رکھنے کی بجائے، آپ کسی بھی طرح کی ذاتی مدد فراہم کرنے کیلئے خود کو دستیاب رکھ سکتے ہیں جسکی اُسے روحانی طور پر پُختہ ہونے کیلئے ضرورت ہو سکتی ہے۔ (گلتیوں ۶:۱۰؛ عبرانیوں ۶:۱) اپنی طرف سے، وہ روزانہ بائبل پڑھنے، مینارِنگہبانی اور ’دیانتدار نوکر‘ کی دیگر مطبوعات پڑھنے، اجلاسوں کی تیاری کرنے اور حاضر ہونے، اور ساتھی ایمانداروں کیساتھ سچائی پر گفتگو کرنے سے اپنی سمجھ کو پورا کر سکتا ہے۔ (متی ۲۴:۴۵-۴۷؛زبور ۱:۲؛اعمال ۲:۴۱، ۴۲؛ کلسیوں ۱:۹، ۱۰) اُسکا آور منسٹری کتاب پڑھنا اور جوکچھ اُس میں موجود ہے اُس کا اطلاق کرنا بھرپور انداز میں اُس کے اپنی خدمتگزاری کو سرانجام دینے کے لئے تھیوکریٹک طور پر منظم بننے میں نہایت اہم کردار ادا کرے گا۔—۲-تیمتھیس ۲:۲؛ ۴:۵۔
۲۵ فنِتعلیم کو فروغ دیں: ہمیں یہ حکم دیا گیا ہے کہ ”شاگرد بناؤ . . . اُنکو تعلیم دو۔“ (متی ۲۸:۱۹، ۲۰) چونکہ تعلیم دینے کا فن غیرمُنفک طور پر شاگرد بنانے سے منسلک ہے، ہم مُعلمین کے طور پر بہتری پیدا کرنے کی کوشش کرنا چاہتے ہیں۔ (۱-تیمتھیس ۴:۱۶؛۲-تیمتھیس ۴:۲) تعلیم دینے کے فن کو فروغ دینے کے معاملے میں اضافی تجاویز کیلئے شاید آپ یہ پڑھنا پسند کریں: ”سکول گائیڈبُک میں، سٹڈیز ۱۰ اور ۱۵ میں ”فنِتعلیم کو فروغ دینا“ اور ”اپنے سامعین کے دل تک پہنچنا؛“ انسائٹ، جِلد ۲ میں ”مُعلم، تعلیم؛“ اور واچٹاور مضامین ”آتشگیر مادوں سے تعمیر کریں“ اور ”جب آپ تعلیم دیں تو دل تک پہنچیں،“ اگست ۱، ۱۹۸۴؛ ”کیا آپ مؤثر طور پر صحائف سے استدلال کرتے ہیں؟،“ مارچ ۱، ۱۹۸۶؛ اور ”جسطرح شاگرد بنانے سے خوشی حاصل کی جائے،“ فروری ۱۵، ۱۹۹۶۔
۲۶ جب آپ علم کی کتاب کو استعمال کرتے ہوئے، شاگرد بنانے کیلئے کوشش کرتے ہیں تو ہمیشہ دُعا کریں کہ یہوؔواہ، وہ جو ”بڑھانے والا“ ہے، بادشاہتی خوشخبری کیساتھ انسانوں کے دلوں تک پہنچنے میں آپ کی کوششوں کو برکت دیگا۔ (۱-کرنتھیوں ۳:۵-۷) دُعا ہے کہ آپ ہمیشہ کی زندگی کا باعث بننے والے علم کو سمجھنے، اُسکی قدر کرنے، اور اُس پر عمل کرنے کیلئے دوسروں کو تعلیم دینے کی خوشی کا تجربہ کریں!