آپبیتی
مَیں شرمیلی ہونے کے باوجود مشنری بنی
جب مَیں چھوٹی تھی تو مَیں بہت شرمیلی تھی اور لوگوں سے بات کرنے سے گھبراتی تھی۔ لیکن یہوواہ نے میری مدد کی تاکہ مَیں لوگوں سے پیار کروں اور مشنری بن سکوں۔ سب سے پہلے تو یہوواہ نے میرے ابو کے ذریعے میری مدد کی جنہوں نے مجھے اُس کے بارے میں بہت اچھی باتیں سکھائیں۔ پھر یہوواہ نے ایک نوجوان بہن کے ذریعے میری مدد کی جو 16 سال کی تھی۔ اور پھر اُس نے میرے شوہر کے ذریعے میری مدد کی جنہوں نے بڑے پیار اور صبر سے میرا حوصلہ بڑھایا۔ آئیے مَیں آپ کو اپنی زندگی کے بارے میں اَور بتاتی ہوں۔
مَیں 1951ء میں آسٹریا کے شہر ویانا میں پیدا ہوئی۔ میرے امی ابو کیتھولک تھے۔ حالانکہ مَیں لوگوں سے بات کرنے سے شرماتی تھی لیکن مَیں اکثر کُھل کر خدا سے دُعا میں بات کرتی تھی۔ جب مَیں نو سال کی تھی تو میرے ابو یہوواہ کے گواہوں سے بائبل کورس کرنے لگے اور پھر اِس کے کچھ ہی وقت بعد میری امی نے بھی بائبل کورس کرنا شروع کر دیا۔
اپنی بہن الیزبتھ کے ساتھ جو پیچھے موٹر سائیکل پر بیٹھی ہے۔
جلد ہی ہم ویانا میں ڈُوبلنگ کلیسیا کا حصہ بن گئے۔ ہمارا گھرانہ تقریباً سارے کام مل کر کرتا تھا جیسے کہ ہم مل کر بائبل کا مطالعہ کرتے تھے، عبادتوں میں جاتے تھے اور اِجتماعوں پر مختلف کام کرنے کے لیے خوشی سے خود کو پیش کرتے تھے۔ میرے بچپن سے ہی میرے ابو نے میری مدد کی تاکہ مَیں اپنے دل میں یہوواہ کے لیے گہری محبت پیدا کروں۔ وہ تو اکثر یہ دُعا کِیا کرتے تھے کہ مَیں اور میری بہن پہلکار بنیں۔ لیکن سچ کہوں تو اُس وقت مَیں ایسا نہیں چاہتی تھی۔
کُلوقتی خدمت کی شروعات
مَیں نے 1965ء میں بپتسمہ لے لیا۔ اُس وقت مَیں 14 سال کی تھی۔ مجھے مُنادی میں اجنبی لوگوں سے بات کرنا بہت مشکل لگتا تھا۔ اِس کے علاوہ مَیں احساسِکمتری کا بھی شکار تھی۔ مجھے لگتا تھا کہ مَیں دوسرے نوجوانوں کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہوں۔ مَیں کسی بھی قیمت پر اُن کی دوست بننا چاہتی تھی۔ اِس لیے بپتسمہ لینے کے تھوڑے ہی عرصے بعد مَیں ایسے نوجوانوں کے ساتھ وقت گزارنے لگی جو یہوواہ کی عبادت نہیں کرتے تھے۔ حالانکہ مجھے اُن نوجوانوں کے ساتھ اُٹھنا بیٹھنا بہت اچھا لگتا تھا لیکن مَیں یہ بھی جانتی تھی کہ مجھے ایسے لوگوں کے ساتھ زیادہ وقت نہیں گزارنا چاہیے۔ مگر میرے اندر اُن سے دوستی توڑنے کی ہمت نہیں تھی۔ لیکن پھر ایک ایسی بات ہوئی جس کی وجہ سے مَیں یہ کر پائی۔
مَیں نے ڈوروتھی سے بہت کچھ سیکھا۔ (ڈوروتھی بائیں طرف ہے)
اُسی دوران ایک 16 سال کی لڑکی جس کا نام ڈوروتھی تھا، ہماری کلیسیا میں مبشر بنی۔ وہ جس لگن سے گھر گھر مُنادی کرتی تھی، اُس کا مجھ پر بہت گہرا اثر ہوا۔ مَیں عمر میں اُس سے بس تھوڑی بڑی تھی لیکن مَیں اِتنی باقاعدگی اور جوش سے مُنادی نہیں کرتی تھی۔ مَیں نے سوچا: ”میرے امی ابو یہوواہ کے گواہ ہیں لیکن ڈوروتھی کے گھر والوں میں سے تو کوئی بھی یہوواہ کا گواہ نہیں ہے۔ وہ اپنی بیمار ماں کا بھی خیال رکھتی ہے اور ہمیشہ مُنادی کے لیے بھی جاتی ہے!“ اُس کی مثال سے میرے اندر بھی یہوواہ کی اَور زیادہ خدمت کرنے کا شوق پیدا ہوا۔ اور پھر کچھ ہی وقت بعد ہم دونوں پہلکاروں کے طور پر مل کر خدمت کرنے لگیں۔ پہلے ہم نے مددگار پہلکار کے طور پر اور پھر پہلکار کے طور پر خدمت کی۔ مُنادی کے لیے ڈوروتھی کا جوش دیکھ کر میرے اندر بھی مُنادی کرنے کا جوش بڑھنے لگا۔ اُس کی مدد سے مَیں نے پہلی بار کسی کو بائبل کورس کرانا شروع کِیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ میرے لیے گھر گھر مُنادی کرتے وقت، گلی میں اور دوسرے موقعوں پر لوگوں کے ساتھ بات کرنا آسان ہو گیا۔
جب مجھے پہلکار کے طور پر خدمت کرتے ہوئے پہلا سال ہی چل رہا تھا تو اِس دوران ہماری کلیسیا میں ہائنز نام کا ایک بھائی آیا۔ ہائنز کے بڑے بھائی یہوواہ کے گواہ تھے۔ ہائنز نے یہوواہ کے بارے میں تب سیکھنا شروع کِیا تھا جب وہ کینیڈا میں اپنے بھائی سے ملنے گئے تھے۔ ہائنز کو ویانا میں ہماری کلیسیا میں خصوصی پہلکار کے طور پر خدمت کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا۔ مَیں اُنہیں بہت پسند کرتی تھی۔ لیکن ہائنز مشنری بننا چاہتے تھے اور میرا ایسا کوئی اِرادہ نہیں تھا۔ اِس لیے شروع شروع میں مَیں نے اُن پر یہ ظاہر نہیں ہونے دیا کہ مَیں اُنہیں پسند کرتی ہوں۔ مگر پھر ہم ایک دوسرے کو اَور اچھی طرح سے جاننے لگے اور ہم نے شادی کر لی۔ پھر ہم دونوں آسٹریا میں ہی مل کر پہلکار کے طور پر خدمت کرنے لگے۔
مشنری کے طور پر خدمت کرنے کا منصوبہ
ہائنز اکثر اپنی اِس خواہش کا اِظہار کرتے تھے کہ وہ مشنری بننا چاہتے ہیں۔ حالانکہ اُنہوں نے کبھی بھی مجھ پر مشنری بننے کا دباؤ نہیں ڈالا لیکن وہ اکثر مجھ سے اِس طرح کے سوال کرتے تھے: ”ہمارے بچے نہیں ہیں۔ تو آپ کے خیال میں ہم یہوواہ کی اَور زیادہ خدمت کیسے کر سکتے ہیں؟“ مجھے اپنے شرمیلے پن کی وجہ سے مشنری بننے سے ڈر لگتا تھا۔ سچ ہے کہ مَیں پہلکار کے طور پر خدمت کر رہی تھی لیکن مشنری کے طور پر خدمت کرنا میرے لیے کچھ زیادہ ہی تھا۔ مگر ہائنز بڑے صبر سے میرے دل میں مشنری بننے کی خواہش بڑھاتے رہے۔ اُنہوں نے میرا یہ حوصلہ بھی بڑھایا کہ مَیں اپنے ڈر اور پریشانی پر دھیان دینے کی بجائے اِس بارے میں سوچوں کہ مَیں دوسروں کی کس طرح سے مدد کر سکتی ہوں۔ اُن کے اِس مشورے سے میری بڑی مدد ہوئی۔
سن 1974ء میں ہائنز شہر سالزبرگ میں سربی کرویئشائی زبان والی ایک چھوٹی کلیسیا میں ”مینارِنگہبانی“ کے مطالعے میں پیشوائی کر رہے ہیں۔
آہستہ آہستہ میرے دل میں مشنری بننے کی خواہش پیدا ہونے لگی۔ اِس لیے ہم نے گلئیڈ سکول جانے کی درخواست ڈالی۔ لیکن اُس وقت بیتایل میں ہمارے کام کی نگرانی کرنے والے ایک بھائی نے مجھے مشورہ دیا کہ اچھا ہوگا کہ مَیں پہلے اَور اچھی انگریزی سیکھوں۔ تو اگلے تین سالوں کے دوران مَیں نے انگریزی سیکھنے کے لیے بہت محنت کی۔ لیکن پھر ہمیں اچانک سے ہی آسٹریا کے شہر سالزبرگ میں سربی کرویئشائی زبان والی کلیسیا میں خدمت کرنے کے لیے بھیجا گیا جس پر ہمیں بہت حیرانی ہوئی۔ پھر اگلے سات سالوں کے دوران ہم یہ زبان بولنے والے لوگوں میں مُنادی کرتے رہے۔ اِسی دوران ہائنز حلقے کے نگہبان بن گئے اور ہم نے ایک سال تک سربی کرویئشائی زبان والی کلیسیاؤں کا دورہ کِیا۔ حالانکہ یہ زبان بہت مشکل تھی لیکن پھر بھی ہم بہت سے لوگوں کو بائبل کورس کرانے لگے۔
پھر 1979ء میں تنظیم نے ہمیں کہا کہ ہم چھٹی کے بہانے ملک بلغاریہ جائیں۔ وہاں ہمارے مُنادی کے کام پر پابندی تھی۔ ہم وہاں مُنادی تو نہیں کر سکے لیکن ہم وہاں اپنی کچھ کتابوں کی بہت ہی چھوٹی چھوٹی کاپیاں چوری چھپے لے گئے تاکہ اِنہیں دارالحکومت صوفیہ میں رہنے والی پانچ بہنوں کو دے سکیں۔ حالانکہ مَیں بہت ڈری ہوئی تھی لیکن یہوواہ نے اِس ذمےداری کو نبھانے میں میری مدد کی۔ وہ پانچ بہنیں بہت بہادر تھیں اور بڑی خوشی سے یہوواہ کی خدمت کر رہی تھیں حالانکہ وہ جانتی تھیں کہ اگر پولیس کو اِس بارے میں پتہ چل گیا تو وہ اُنہیں کسی بھی وقت جیل میں ڈال سکتی ہے۔ اُن کی مثال سے میرے اندر یہ ہمت پیدا ہوئی کہ مَیں ہر اُس ذمےداری کو دل لگا کر پورا کروں جو یہوواہ کی تنظیم مجھے دیتی ہے۔
کچھ وقت بعد ہم نے پھر سے گلئیڈ سکول جانے کے لیے درخواست ڈالی اور اِس بار ہمیں بُلا لیا گیا۔ ہمیں لگ رہا تھا کہ ہم امریکہ میں انگریزی زبان میں یہ سکول کریں گے۔ لیکن نومبر 1981ء میں تنظیم نے یہ بندوبست کِیا کہ گلئیڈ سکول جرمنی کے شہر وایزباڈن میں ہماری برانچ میں بھی کِیا جائے۔ چونکہ کلاسیں جرمن زبان میں ہوتی تھیں اِس لیے میرے لیے باتوں کو سمجھنا آسان تھا۔ اب سوال یہ تھا کہ ہمیں خدمت کے لیے کہاں بھیجا جائے گا؟
تشدد بھرے ملک میں خدمت
ہمیں ملک کینیا میں خدمت کرنے کے لیے کہا گیا۔ لیکن پھر کینیا برانچ نے ہم سے پوچھا کہ کیا ہم پڑوسی ملک یوگنڈا میں خدمت کرنے کے لیے جا سکتے ہیں؟ تقریباً دس سال پہلے عیدیامین نام کے فوجی افسر نے حکومت کے خلاف بغاوت کر کے ملک پر قبضہ کر لیا تھا۔ وہ بڑا ہی ظالم شخص تھا۔ اُس کی حکمرانی کے دوران ہزاروں لوگوں کا قتلِعام ہوا اور لاکھوں لوگوں کا جینا دوبھر ہو گیا۔ پھر 1979ء میں عیدیامین کے دُشمنوں نے اُس کی حکومت کا تختہ اُلٹ دیا۔ تو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ مجھے ایسے ملک میں خدمت کرنے کے بارے میں کیسا لگ رہا ہوگا جہاں اِتنا تشدد ہو رہا تھا۔ لیکن گلئیڈ سکول نے ہمیں ہر طرح کے حالات میں یہوواہ پر بھروسا رکھنا سکھایا تھا۔ اِس لیے ہم یوگنڈا جا کر خدمت کرنے کو تیار تھے۔
یوگنڈا میں زندگی بہت ہی مشکل اور خطروں سے بھری تھی۔ حکومت نے پانی، بجلی اور دوسری ضروری چیزیں دینا بالکل بند کر دی تھیں۔ اِس کے علاوہ فون بھی کام نہیں کر رہے تھے۔ خاص طور پر رات کے وقت لوگ ایک دوسرے پر گولیاں چلاتے تھے اور لوٹ مار کرتے تھے۔ تو اندھیرا ہوتے ہی کوئی بھی شخص اپنے گھر سے باہر نہیں نکلتا تھا۔ سب یہ اُمید کرتے تھے، یہاں تک کہ دُعائیں مانگتے تھے کہ کوئی بھی اُن کے گھر میں گھس کر نہ تو اُنہیں لوٹے اور نہ ہی قتل کرے۔ حالانکہ یوگنڈا میں زندگی بہت مشکل تھی لیکن وہاں کے بہن بھائیوں نے یہوواہ پر اپنے ایمان کو مضبوط رکھا اور وہ خوشی سے اُس کی خدمت کرتے رہے۔
وائسوا خاندان کے ساتھ مل کر کھانے کی تیاری کرتے ہوئے
پھر 1982ء میں مَیں اور ہائنز یوگنڈا کے دارالحکومت کمپالا پہنچے۔ پہلے پانچ مہینوں کے دوران ہم بھائی سیم وائسوا اور اُن کی بیوی کرسٹینا کے گھر رہے۔ اُن کے پانچ بچے تھے اور اُن کے گھر میں اُن کے چار اَور رشتےدار بھی رہتے تھے۔ بھائی سیم کا خاندان اِتنا غریب تھا کہ وہ دن میں صرف ایک بار ہی کھانا کھاتے تھے۔ لیکن اُن سب کے چہرے پر ہمیشہ مسکراہٹ رہتی تھی اور اُنہوں نے خوشی سے اپنی چیزیں ہماری ساتھ بانٹیں۔ اُن کی مہماننوازی کا ہمارے دل پر گہرا اثر ہوا۔ اِس خاندان کے ساتھ رہتے ہوئے ہم نے بہت کچھ سیکھا جو مشنریوں کے طور پر خدمت کرتے وقت ہمارے بہت کام آیا۔ مثال کے طور پر ہم نے سیکھا کہ ہم نہاتے وقت کم پانی کیسے اِستعمال کر سکتے ہیں اور بعد میں اُسی پانی کو ٹائلٹ جاتے وقت کیسے اِستعمال کر سکتے ہیں۔ پھر 1983ء میں ہمیں کمپالا کے ایک ایسے علاقے میں گھر مل گیا جو کسی حد تک محفوظ تھا۔
ہمیں کمپالا میں مُنادی کر کے بڑا مزہ آیا۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ ایک بار ہم نے ایک مہینے میں 4000 سے زیادہ رسالے پیش کیے۔ وہاں مُنادی تو زبردست تھی ہی لیکن وہاں کی سب سے زبردست بات وہاں کے لوگ تھے۔ وہ خدا کی عزت کرتے تھے اور بائبل سے بات کرنا چاہتے تھے۔ ہائنز اور مَیں، ہم دونوں ہی الگ الگ 10 سے 15 بائبل کورس کرا رہے تھے۔ ہم نے اپنے طالبِعلموں سے بہت کچھ سیکھا۔ مثال کے طور پر وہ ہر ہفتے پیدل چل کر عبادت میں آتے تھے اور اُف تک نہیں کرتے تھے۔ اُن کے چہروں پر ہمیشہ مسکراہٹ رہتی تھی۔
یوگنڈا میں 1985ء اور 1986ء میں دو اَور جنگیں ہوئیں۔ ہم اکثر بچوں کو بڑی بڑی بندوقیں ہاتھ میں لیے ہوئے دیکھتے تھے۔ اُنہیں فوجیوں کے طور پر اِستعمال کِیا جا رہا تھا اور وہ چیک پوائنٹ سے گزرنے والے لوگوں پر نظر رکھتے تھے۔ اُن سالوں کے دوران ہم اکثر یہ دُعا کرتے تھے کہ یہوواہ ہمیں سمجھداری دے اور بِنا ڈرے لوگوں کو مُنادی کرنے اور خطروں سے محفوظ رہنے میں ہماری مدد کرے۔ یہوواہ نے واقعی ہمیں ہماری دُعاؤں کا جواب دیا۔ جب بھی ہم کسی ایسے شخص سے ملتے تھے جو بادشاہت کے پیغام میں دلچسپی لیتا تھا تو ہم فوراً ہی اپنے ڈر کو بھول جاتے تھے۔
ہائنز اور مَیں تاتیانا کے ساتھ (تاتیانا بیچ میں بیٹھی ہیں)
یوگنڈا میں ہمیں دوسرے ملکوں کے لوگوں کو بھی گواہی دینے کا موقع ملا۔ مثال کے طور پر ہمیں ایک ایسے میاں بیوی کو بائبل کورس کرانے کا موقع ملا جو تاتارستان (وسطی روس) سے تھے۔ شوہر کا نام مورات اِباتولین تھا اور بیوی کا نام دلبر تھا۔ مورات ایک ڈاکٹر تھے۔ وہ دونوں ہی یہوواہ کے گواہ بن گئے اور ابھی بھی وفاداری سے یہوواہ کی خدمت کر رہے ہیں۔ بعد میں مَیں ایک عورت سے ملی جس کا نام تاتیانا وِلیسکا تھا۔ وہ یوکرین سے تھی۔ وہ اِتنی پریشان تھی کہ خودکُشی کرنے کا سوچ رہی تھی۔ تاتیانا بھی یہوواہ کی گواہ بن گئیں۔ بپتسمہ لینے کے بعد وہ واپس یوکرین چلی گئیں اور بعد میں وہ یوکرینی زبان میں ہماری کتابوں اور رسالوں کا ترجمہ کرنے میں مدد کرنے لگیں۔
ایک اَور ملک میں خدمت
جب 1991ء میں ہم لوگ آسٹریا میں چھٹی پر تھے تو وہاں کی برانچ نے ہمیں بتایا کہ ہمیں بلغاریہ بھیجا جا رہا ہے۔ بہت سالوں سے یورپ کے کئی ملکوں میں ہمارے مُنادی کے کام پر پابندی لگی ہوئی تھی۔ لیکن پھر حالات بدل گئے اور یہوواہ کے گواہوں کو قانونی طور پر اُن ملکوں میں آزادی سے یہوواہ کی خدمت کرنے کی اِجازت مل گئی۔ اِن میں سے ایک بلغاریہ کا ملک بھی تھا۔ جیسے کہ مَیں نے پہلے بتایا تھا، ہائنز اور مَیں پہلے چوری چھپے بلغاریہ میں ہماری کچھ کتابیں لائے تھے۔ اُس وقت وہاں ہمارے کام پر پابندی تھی لیکن اب ہمیں وہاں مُنادی کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا۔
بھائیوں نے ہم سے کہا کہ ہم واپس یوگنڈا جانے کی بجائے سیدھا بلغاریہ جائیں۔ تو ہمیں یوگنڈا میں اپنی چیزیں پیک کرنے اور وہاں کے بہن بھائیوں کو خدا حافظ کہنے کا موقع نہیں ملا۔ اِس کی بجائے ہم جرمنی بیتایل گئے، برانچ کی گاڑی لی اور بلغاریہ کے لیے روانہ ہو گئے۔ ہمیں شہر صوفیہ میں ایک گروپ میں خدمت کرنے کے لیے بھیجا گیا جہاں تقریباً 20 مبشر تھے۔
بلغاریہ میں ہمیں کئی نئے مسئلوں کا سامنا کرنا پڑا۔ پہلا مسئلہ تو یہ تھا کہ ہمیں وہاں کی زبان نہیں آتی تھی۔ اِس کے علاوہ بلغاری زبان میں ہماری تنظیم کی صرف دو ہی کتابیں تھیں ایک تو ”سچائی جو باعثِابدی زندگی ہے“ اور دوسری ”پاک کلام کی سچی کہانیاں۔“ ایک اَور مسئلہ یہ تھا کہ ہمیں لوگوں کو بائبل کورس شروع کرانا بہت مشکل لگ رہا تھا۔ اِن سب مشکلوں کے باوجود ہمارے چھوٹے سے گروپ میں موجود بہن بھائی جوش سے مُنادی کرتے رہے۔ لیکن ہم پادریوں کی نظر میں آئے ہوئے تھے اور تب ہمارے لیے اصل مسئلے کھڑے ہوئے۔
بلغاریہ کی حکومت نے 1994ء میں یہوواہ کے گواہوں کے مذہب کے قانونی حقوق چھین لیے۔ بہت سے لوگ یہ سوچنے لگے کہ ہم ایک خطرناک مذہبی فرقہ ہیں۔ کچھ بھائیوں کو گِرفتار کر لیا گیا۔ خبروں اور اخباروں میں ہمارے بارے میں کئی جھوٹی باتیں پھیلائی جانے لگیں، مثلاً یہ کہ یہوواہ کے گواہ اپنے بچوں کو مرنے دیتے ہیں کیونکہ وہ اُنہیں خون نہیں لگواتے۔ وہ تو اپنے ہمایمانوں کا بھی اِس طرح سے خودکُشی کرنے کا حوصلہ بڑھاتے ہیں۔ اِن سب باتوں کی وجہ سے مجھے اور ہائنز کو مُنادی کرنا بہت مشکل لگ رہا تھا۔ جب ہم مُنادی کر رہے ہوتے تھے تو لوگ اکثر ہم پر چیخنے چلّانے لگ جاتے تھے؛ پولیس کو بُلا لیتے تھے، یہاں تک کہ ہم پر چیزیں پھینکنا شروع کر دیتے تھے۔ ملک میں ہماری کتابوں اور رسالوں کو لانا بہت مشکل ہو گیا تھا اور لوگ ہمیں عبادت کے لیے ہال بھی کرائے پر دینے سے اِنکار کرنے لگے تھے۔ ایک دفعہ تو پولیس نے ہمارے ایک علاقائی اِجتماع کو ہی بند کرا دیا۔ مَیں نے اور ہائنز نے پہلے کبھی اِتنی نفرت اور مخالفت کا سامنا نہیں کِیا تھا۔ یہاں کے حالات یوگنڈا سے بہت فرق تھے۔ وہاں لوگ بائبل سیکھنے کا شوق رکھتے تھے اور یہاں بالکل اُلٹ تھا۔ لیکن کس چیز نے بےحوصلہ نہ ہونے میں میری اور ہائنز کی مدد کی؟
ہمیں بہن بھائیوں کے ساتھ وقت گزار کر بہت حوصلہ ملا۔ وہ بائبل کی سچائیوں سے بہت محبت کرتے تھے اور اِس بات کی قدر کرتے تھے کہ ہم اُن کے ساتھ ہیں۔ ہم سبھی ایک دوسرے کے بہت اچھے دوست تھے۔ مَیں نے اور ہائنز نے سیکھا کہ اگر ہم اپنی مشکلوں پر دھیان دینے سے زیادہ بہن بھائیوں کی فکر کریں گے تو ہم کسی بھی ذمےداری کو نبھا سکیں گے۔
سن 2007ء میں بلغاریہ برانچ میں
کچھ وقت بعد بلغاریہ میں ہمارے لیے مُنادی کرنا آسان ہو گیا۔ 1998ء میں حکومت نے ہمارے مذہب کو پھر سے قانونی طور پر رجسٹر کر لیا۔ اور جلد ہی ہماری تنظیم کی بہت سی کتابوں کا بھی بلغاری زبان میں ترجمہ ہونے لگا۔ پھر 2004ء میں وہاں ایک نئی برانچ کو مخصوص کِیا گیا۔ آج بلغاریہ میں 57 کلیسیائیں ہیں جن میں 2953 مبشر ہیں۔ 2024ء میں کُل 6475 لوگ یسوع کی موت کی یادگاری تقریب میں آئے۔ ایک وقت تھا جب شہر صوفیہ میں ہماری صرف پانچ بہنیں تھیں لیکن اب وہاں نو کلیسیائیں ہیں! ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ ’جو چھوٹا تھا، وہ ایک ہزار بن گیا۔‘—یسع 60:22۔
صحت کے مسئلوں کا سامنا
مجھے صحت کے کئی مسئلوں کا سامنا کرنا پڑا۔ پچھلے کئی سالوں میں مجھے بہت بار جسم کے فرق فرق حصوں میں کینسر ہوا۔ ایک بار تو ڈاکٹروں کو پتہ چلا کہ میرے دماغ میں بھی رسولی ہے۔ سب سے پہلے تو شعاعوں کے ذریعے اِس رسولی کو چھوٹا کِیا گیا اور اِس کے بعد مَیں علاج کرانے کے لیے اِنڈیا گئی جہاں 12 گھنٹے تک میرا آپریشن چلا۔ میرے ٹھیک ہونے تک ہم اِنڈیا بیتایل میں رہے۔ اِس کے بعد ہم واپس بلغاریہ چلے گئے۔
بعد میں ہائنز کو بھی ایک ایسی بیماری لگ گئی جس کی وجہ سے اُن کے لیے چلنا پھرنا، بات کرنا اور اپنے پٹھوں کی حرکت کو قابو میں رکھنا بہت مشکل ہو گیا۔ جیسے جیسے اُن کی بیماری بڑھتی گئی، وہ میری مدد کے بغیر کوئی بھی کام نہیں کر سکتے تھے۔ کبھی کبھار مَیں بہت زیادہ تھک جاتی تھی اور اِس وجہ سے پریشان ہو جاتی تھی کہ پتہ نہیں، مَیں آگے چل کر اُنہیں کیسے سنبھالوں گی۔ لیکن پھر بوبی نام کا ایک جوان بھائی ہماری مدد کرنے لگا۔ وہ باقاعدگی سے ہائنز کو اپنے ساتھ مُنادی میں لے جانے لگا۔ حالانکہ ہائنز کے لیے بات کرنا اور اپنے بازوؤں اور ٹانگوں کے پٹھوں کو قابو میں رکھنا بہت مشکل تھا لیکن بوبی اِس وجہ سے شرمندگی محسوس نہیں کرتا تھا کہ لوگ کیا سوچیں گے۔ جب بھی میرے لیے ہائنز کی دیکھبھال کرنا مشکل ہو جاتا تھا، بوبی ہمیشہ ہماری مدد کرنے آ جاتا تھا۔ ہم نے نئی دُنیا کے آنے تک بچے پیدا نہ کرنے کا فیصلہ کِیا تھا لیکن یہوواہ نے ہمیں بوبی کی صورت میں ایک بیٹا دیا۔—مر 10:29، 30۔
ہائنز کو کینسر بھی تھا۔ افسوس کی بات ہے کہ 2015ء میں وہ فوت ہو گئے۔ مَیں اپنے پیارے شوہر کو بہت یاد کرتی ہوں۔ وہی مجھے ہمیشہ یہ کہتے تھے کہ مَیں پریشان نہ ہوں۔ اب جب وہ میرے ساتھ نہیں ہیں تو مجھے اُن کی بہت کمی محسوس ہوتی ہے۔ وہ میری یادوں میں آج بھی زندہ ہیں! (لُو 20:38) مَیں اکثر دن کے دوران اُن کی محبت بھری باتوں اور اچھے مشوروں کے بارے میں سوچتی ہوں۔ مَیں یہوواہ کی بہت شکرگزار ہوں کہ ہم دونوں نے مل کر کئی سالوں تک اُس کی خدمت کی۔
یہوواہ کی مدد کے لیے شکرگزار
یہوواہ نے میری ساری مشکلوں میں مجھے سنبھالا ہے۔ اُس کی مدد سے مَیں اپنے شرمیلےپن پر قابو پا سکی، ایک مشنری بن پائی اور لوگوں سے محبت کرنا سیکھ پائی۔ (2-تیم 1:7) مَیں یہوواہ کی بہت شکرگزار ہوں کہ مَیں اور میری چھوٹی بہن کُلوقتی طور پر اُس کی خدمت کر رہی ہیں۔ اُس کا شوہر حلقے کا نگہبان ہے اور وہ دونوں یورپ کے مختلف علاقوں میں سربیائی زبان والی کلیسیاؤں کا دورہ کرتے ہیں۔ یہوواہ نے میرے ابو کی دُعاؤں کو سنا جو اُنہوں نے میرے اور میری بہن کے بارے میں کی تھیں۔
جب مَیں بائبل پڑھتی ہوں اور اِس پر سوچ بچار کرتی ہوں تو یہوواہ مجھے دلی سکون دیتا ہے۔ مَیں نے سیکھ لیا ہے کہ مشکل وقت میں مجھے یسوع کی طرح ”اَور زیادہ فریاد“ کرنی چاہیے۔ (لُو 22:44) یہوواہ فرق فرق طریقوں سے میری دُعاؤں کا جواب دیتا ہے۔ وہ میری کلیسیا کے دوستوں کی محبت کے ذریعے بھی مجھے جواب دیتا ہے۔ شہر صوفیہ میں میری کلیسیا کے بہن بھائی میرے ساتھ وقت گزارتے ہیں اور اکثر مجھے بتاتے ہیں کہ وہ مجھ سے کتنا پیار کرتے ہیں۔ اِس سے مجھے بہت خوشی ملتی ہے۔
مَیں اکثر اُس وقت کے بارے میں سوچتی ہوں جب یہوواہ مُردوں کو زندہ کرے گا۔ مَیں تصور کرتی ہوں کہ ہم سب گھر والے فردوس میں اِکٹھے ہیں۔ میرے امی ابو ہمارے گھر کے سامنے کھڑے ہیں اور وہ اُتنے ہی خوبصورت لگ رہے ہیں جتنے وہ اپنی شادی کے دن لگ رہے تھے۔ میری بہن کھانا تیار کر رہی ہے اور ہائنز اپنے گھوڑے کے پاس کھڑے ہیں۔ اِس طرح کی باتیں سوچنے سے مَیں اپنا دھیان دُکھی باتوں سے ہٹا پاتی ہوں اور دل سے یہوواہ کی شکرگزار ہو پاتی ہوں۔
جب مَیں اپنی زندگی پر غور کرتی ہوں اور اُن اچھی باتوں کے بارے میں سوچتی ہوں جو یہوواہ نے میرے لیے کی ہیں اور جو وہ مستقبل میں میرے لیے کرے گا تو مَیں بھی بالکل داؤد کی طرح محسوس کرتی ہوں جنہوں نے زبور 27:13، 14 میں کہا تھا: ”اگر مجھے یقین نہ ہوتا کہ مَیں جیتے جی یہوواہ کی اچھائی دیکھوں گا تو میرا کیا ہوتا؟ یہوواہ سے اُمید لگاؤ؛ دلیر بنو اور اپنا دل مضبوط کرو، ہاں، یہوواہ سے اُمید لگاؤ۔“