آپبیتی
یہوواہ نے مجھے میرے بچپن سے ہی ٹریننگ دی
ایک دن ایک بھائی نے میرے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا پرچہ تھما دیا جسے مَیں بڑے دھیان سے دیکھنے لگا۔ اِس پرچے پر میرا نام ڈیوڈ سپلین اور تاریخ 8 اپریل 1953ء لکھی تھی۔ ساتھ ہی اِس پر یہ جملہ بھی لکھا تھا: ”دُنیا کے خاتمے کی مُنادی کریں!“ اِسے پڑھ کر مَیں نے اُس بھائی سے پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ اُس بھائی نے کہا: ”یہ آپ کا حصہ ہے جو آپ کو ”مسیحی خدمتی سکول“a میں ایک تقریر کی صورت میں کرنا ہے۔“ اِس پر مَیں نے بھائی سے کہا: ”لیکن مَیں نے تو سکول میں اپنا نام لکھوایا ہی نہیں ہے!“
اِس کے آگے کیا ہوا، یہ بتانے سے پہلے آئیے مَیں شروع سے آپ کو اپنی کہانی سناتا ہوں۔ مَیں کینیڈا کے شہر کیلگری میں پیدا ہوا تھا۔ اُس وقت دوسری عالمی جنگ چل رہی تھی۔ 1940ءکے دہے کے آخر میں ایک جوان پہلکار نے ہمارے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ اُن کا نام ڈونلڈ فریزر تھا۔ اُنہوں نے میری امی کو بائبل کورس کی دعوت دی جسے امی نے قبول کر لیا۔ امی بائبل کی سچائیوں سے محبت کرنے لگیں لیکن بیمار ہونے کی وجہ سے وہ اکثر عبادتوں میں نہیں جا پاتی تھیں۔ مگر وہ پھر بھی یہوواہ کی خدمت میں آگے بڑھتی رہیں اور اُنہوں نے 1950ء میں بپتسمہ لے لیا۔ افسوس کی بات ہے کہ اِس کے تقریباً دو سال بعد ہی وہ فوت ہو گئیں۔ حالانکہ اُس وقت میرے ابو یہوواہ کے گواہ نہیں تھے لیکن اُنہوں نے پھر بھی ہمارے ایک بھائی کو امی کے جنازے کی تقریر کرنے دی۔
امی کے جنازے کے کچھ دن بعد ایک بوڑھی بہن نے مجھے عبادت میں آنے کے لیے کہا۔ وہ بہن مسحشُدہ تھیں اور اُن کا نام الیس تھا۔ وہ مجھے اِس لیے جانتی تھیں کیونکہ جب امی ٹھیک تھیں تو مَیں اُن کے ساتھ ہفتے کے دوران ہونے والی عبادتوں میں جاتا تھا۔ تو جب بہن الیس نے مجھے عبادت میں آنے کی دعوت دی تو مَیں نے ابو سے وہاں جانے کی اِجازت مانگی۔ وہ مان گئے اور اُنہوں نے خود بھی میرے ساتھ جانے کا فیصلہ کِیا۔ ابو نے کہا کہ وہ صرف وہاں ایک بار جائیں گے تاکہ وہ اُس بھائی کا شکریہ ادا کر سکیں جس نے امی کے جنازے کی تقریر کی تھی۔ اُس شام عبادت میں مسیحی خدمتی سکول اور خدمتی اِجلاس ہوا تھا۔ ابو کے لیے تو اِس سے زیادہ مناسب اِجلاس کوئی ہو ہی نہیں سکتا تھا! دراصل اُنہوں نے تقریریں کرنے کا باقاعدہ کورس کِیا ہوا تھا۔ وہ عبادت میں کی جانے والی تقریروں کو سُن کر بہت متاثر ہوئے۔ اِس کے بعد ابو نے فیصلہ کِیا کہ وہ باقاعدگی سے ہفتے کے دوران ہونے والی اِس عبادت میں جایا کریں گے۔ پھر آہستہ آہستہ وہ دوسرے دنوں پر ہونے والی عبادتوں میں بھی جانے لگے۔
اُس زمانے میں مسیحی خدمتی سکول کا نگہبان عبادت کے شروع میں زور سے اُن لوگوں کے نام پکارتا تھا جنہوں نے سکول میں اپنا نام لکھوایا ہوتا تھا۔ ہر کوئی اپنا نام سُن کر کہتا تھا: ”مَیں حاضر ہوں!“ ایک شام عبادت میں مَیں نے بھائی سے درخواست کی کہ وہ میرا نام بھی اگلی عبادت میں لیں۔ اِس پر اُس بھائی نے مجھے میرے جذبے کے لیے شاباش دی لیکن مجھ سے یہ نہیں پوچھا کہ کیا مَیں یہ بات سمجھتا ہوں کہ عبادت میں دوسروں کا نام کس مقصد سے پکارا جاتا ہے۔
مَیں یہ بات بالکل نہیں جانتا تھا کہ اپنا نام عبادت کے دوران بلوانے کا مطلب یہ ہے کہ مَیں خود کو تقریر کرنے کے لیے پیش کر رہا ہوں۔ تو اگلے ہی ہفتے میرا نام عبادت میں پکارا گیا اور مَیں نے بڑے فخر سے جواب دیا: ”مَیں حاضر ہوں!“ عبادت کے بعد سب بہن بھائیوں نے مجھے شاباش دی اور میرا حوصلہ بڑھایا۔ پھر اِس کے کئی ہفتے بعد مجھے وہ چھوٹا سا پرچہ دیا گیا جس کا مَیں نے اِس مضمون کے شروع میں ذکر کِیا تھا۔
مَیں بہت ہی ڈرا ہوا تھا! اُس زمانے میں سکول میں حصہ لینے والے طالبِعلموں کو چھ سے آٹھ منٹ کی تقریر کرنی ہوتی تھی۔ اُس وقت بائبل کی تلاوت یعنی بائبل کی کچھ آیتوں کو پڑھنے والا حصہ نہیں ہوتا تھا۔ میرے ابو نے تقریر تیار کرنے میں میری مدد کی اور مجھے 20 بار اِس کی پریکٹس کرائی۔ پھر جب مَیں نے تقریر کی تو اِجلاس کے نگہبان نے مجھے بہت اچھے اور فائدہمند مشورے دیے۔ جیسے جیسے سال گزرتے گئے، یہوواہ نے میرے ابو، کلیسیا کے لائق بہن بھائیوں اور اپنی تنظیم کے ذریعے میری ٹریننگ کی۔
یہوواہ آگے بھی مجھے سکھاتا رہا
جب مَیں نے مُنادی کرنا شروع کی تو بہن ایلس نے بڑی اچھی طرح سے میری ٹریننگ کی۔ یہ وہی بہن تھیں جن کا مَیں نے پہلے بھی ذکر کِیا تھا۔ اُس زمانے میں ہماری حوصلہافزائی کی جاتی تھی کہ ہم مُنادی کے دوران لوگوں کو تین آیتیں پڑھ کر سنائیں اور پھر اُنہیں ہماری کوئی کتاب پڑھنے کے لیے دیں۔ جب مُنادی کرتے ہوئے میری بات کرنے کی باری آئی تو بہن الیس نے اپنا تعارف کراتے ہوئے بات شروع کی اور پھر مجھے بائبل کی پہلی آیت پڑھنے کے لیے کہا۔ اِس کے بعد مَیں نے باتچیت جاری رکھی اور پھر دوسری اور تیسری آیت پڑھنے کے بعد مَیں نے ہماری کتاب پیش کی۔ بعد میں مَیں نے سیکھ لیا کہ مَیں کسی سے بات کرتے وقت اپنا تعارف کیسے کرا سکتا ہوں۔ جب 1954ء کے آخر میں میرے ابو نے بپتسمہ لے لیا تو پھر وہ مُنادی کے دوران مجھے تھوڑی بہت ٹریننگ دینے لگے۔ ابو اکیلے میری پرورش کر رہے تھے اور اُنہوں نے میرے دل میں یہوواہ کے لیے محبت بڑھانے کی پوری کوشش کی۔ اُن کی نظر میں عبادتوں میں جانا اور مُنادی کرنا بہت اہم تھا۔ ایک بات تو مَیں اچھی طرح سے جانتا تھا کہ ہمیں ہمیشہ عبادت والے دن عبادت میں ہونا ہے اور ہفتے اور اِتوار کو مُنادی میں۔
مَیں بس ایک عام سا طالبِعلم تھا۔ لیکن مَیں نے 12 سال تک سکول میں جو تعلیم حاصل کی، اُس سے مجھے پوری زندگی بہت فائدہ ہوا۔ مثال کے طور پر مَیں نے حساب اور انگریزی گرامر کے بارے میں بہت کچھ سیکھا۔مَیں نے انگریزی سیکھنے اور مضمون لکھنے کے حوالے سے جو کورس کیے، وہ ابھی بھی مضموننویسی کے شعبے میں خدمت کرتے ہوئے میرے بہت کام آ رہے ہیں۔
لوگ اکثر مجھ سے پوچھتے ہیں کہ مجھے موسیقی کا اِتنا شوق کیوں ہے۔ دراصل میرے امی ابو دونوں کو ہی موسیقی میں بہت دلچسپی تھی۔ جب مَیں سات سال کا تھا تو مَیں نے کچھ وقت کے لیے پیانو سیکھنے کی کلاسیں بھی لی تھیں۔ لیکن میری ٹیچر نے دیکھا کہ مَیں پیانو بجانے میں اِتنا اچھا نہیں ہوں۔ اِس لیے اُنہوں نے میرے ابو کو مشورہ دیا کہ مَیں یہ کلاسیں نہ لوں۔ مَیں سمجھ سکتا ہوں کہ میری ٹیچر نے ایسا کیوں کہا تھا۔ اصل میں اُس وقت مجھے پیانو سیکھنے کا اِتنا شوق نہیں تھا۔
پھر کچھ مہینے بعد میرے ابو نے میرے لیے ایک اَور ٹیچر ڈھونڈا۔ اِس بار مَیں نے نہ صرف اچھی طرح سے پیانو بجانا سیکھا بلکہ گانا گانا بھی سیکھا۔ جب مَیں چھوٹا تھا تو میری آواز بہت سُریلی تھی اور مَیں نے گانوں کے کئی مقابلے بھی جیتے تھے۔ میرا اِرادہ تھا کہ مَیں ایک موسیقی کا ٹیچر بنوں گا اور اِس پیشے سے جو پیسے کماؤں گا، اُسے پہلکار کے طور پر خدمت کرنے کے لیے اِستعمال کروں گا۔ لیکن جیسے جیسے مَیں موسیقی سیکھنے لگا، مجھے احساس ہوا کہ موسیقی کی پڑھائی کرنے اور اِمتحانوں کی تیاری کرنے میں میرا بہت وقت لگ جائے گا۔ اِس لیے مَیں نے اِسے سیکھنا چھوڑ دیا اور پہلکار کے طور پر اپنا نام لکھوایا۔ یہ 1963ء کی بات تھی۔
پہلکار کے طور پر خدمت کرنے سے ملنے والی خوشی
جب مجھے پہلکار کے طور پر خدمت کرتے ہوئے ایک سال ہوا تو اِس کے بعد مجھے خصوصی پہلکار بنا دیا گیا۔ مجھے صوبہ اونٹاریو کے قصبے کاپوسکاسینگ میں خدمت کرنے کے لیے بھیجا گیا۔ جو بھائی میرے ساتھ مل کر پہلکار کے طور پر خدمت کر رہا تھا، اُس کا نام ڈینیایل سکینر تھا۔ بھائی ڈینیایل مجھ سے عمر میں کافی بڑے تھے۔ اُنہوں نے مجھے سکھایا کہ ایک کلیسیا کو کس طرح سے منظم کِیا جاتا ہے۔ مجھے کلیسیا کی خدمتی کمیٹی میں خدمت کرنے کے لیے مقرر کِیا گیا حالانکہ اُس وقت مَیں صرف 20 سال کا تھا۔ تو مجھے بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت تھی۔ مَیں بہت خوش ہوں کہ یہوواہ کی تنظیم پھر سے جوان بھائیوں کو ٹریننگ دینے پر بہت زور دے رہی ہے۔ اگر یہ بھائی محنت اور لگن سے خدمت کریں گے تو وہ چھوٹی عمر سے ہی یہوواہ کے بہت کام آ سکتے ہیں!
کاپوسکاسینگ میں رہنا اِتنا آسان نہیں تھا۔ وہاں شدت کی سردی پڑتی تھی۔ مُنادی کرتے ہوئے مَیں اور بھائی ڈینیایل ہر جگہ زیادہتر پیدل چل کر ہی جاتے تھے۔ لیکن اِن مشکلوں کے باوجود مجھے یہوواہ کی طرف سے بہت برکتیں ملیں جن میں سے ایک برکت لنڈا کول نام کی بہن سے ملنا تھا جو بعد میں لنڈا سپلین بن گئیں۔
لنڈا کو مُنادی سے عشق تھا۔ اُن کی بہت سی واپسی ملاقاتیں تھیں۔ وہ بہت ہی فراخدل اور دوسروں سے محبت کرنے والی اِنسان تھیں اور اُنہیں لوگوں کے ساتھ وقت گزارنا بہت اچھا لگتا تھا۔ اُن کی امی کا نام گولڈی تھا اور وہ بڑی وفاداری سے یہوواہ کی خدمت کر رہی تھیں۔ لنڈا کے ابو کا نام ایلن تھا جو شروع شروع میں گواہوں کے خلاف تھے۔ لیکن لنڈا کی امی مخالفت کے باوجود بھی باقاعدگی سے اُنہیں اور اُن کے بھائیوں کو یعنی جان اور گورڈن کو عبادتگاہ میں لے جاتی تھیں اور مُنادی کرنا سکھاتی تھیں۔ ایک وقت آیا کہ لنڈا، اُن کی امی اور اُن کے دونوں بھائی سبھی پہلکاروں کے طور پر خدمت کر رہے تھے۔ بہت سالوں بعد لنڈا کے ابو بھی یہوواہ کے گواہ بن گئے اور کلیسیا میں بڑی لگن اور محنت سے خدمت کرنے لگے۔
سن 1965ء میں مجھے کینیڈا بیتایل جانے کی دعوت ملی جہاں مجھے ایک مہینے تک بادشاہتی خدمتی سکول سے اَور زیادہ ٹریننگ حاصل کرنے کا موقع ملا۔ اِسی سکول کے دوران مجھے گلئیڈ سکول میں درخواست ڈالنے کی دعوت ملی۔ مجھے نہیں لگتا تھا کہ مَیں ایک مشنری کے طور پر خدمت کرنے کے لیے ٹھیک رہوں گا لیکن مَیں نے پھر بھی گلئیڈ سکول میں جانے کی درخواست ڈال دی۔ مجھے اِس سکول کی42ویں کلاس میں شامل ہونے کی دعوت ملی جسے مَیں نے قبول کر لیا۔ سکول میں ہمارے اُستاد باقاعدگی سے ہر طالبِعلم کی ایک رپورٹ تیار کرتے تھے جس میں طالبِعلموں کو یہ بتایا جاتا تھا کہ اُنہیں کہاں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ جب مجھے میری پہلی رپورٹ ملی تو اِس میں میری یہ حوصلہافزائی کی گئی تھی کہ مَیں اِس سکول کے دوران تنظیم کے بارے میں سب باتیں سیکھوں۔ یہ مجھ جیسے 21 سال کے نوجوان کے لیے ایک بہت اچھا مشورہ تھا۔
گلئیڈ سکول میں ہمیں یہ ٹریننگ بھی ملی کہ ہم ریڈیو اور ٹیوی پر اور اخباری نمائندوں سے کیسے باتچیت کر سکتے ہیں۔ مجھے یہ ٹریننگ لے کر بہت مزہ آیا۔ مجھے کیا پتہ تھا کہ آگے چل کر یہ ٹریننگ میری اِتنے کام آئے گی۔ اِس کے بارے میں مَیں آپ کو بعد میں بتاؤں گا۔
سینیگال میں خدمت
گلئیڈ کی گریجویشن کے بعد مجھے اور بھائی مائیکل ہُولا کو مشنریوں کے طور پر خدمت کرنے کے لیے افریقہ کے ملک سینیگال بھیجا گیا۔ اُس وقت وہاں تقریباً 100 مبشر تھے۔
جب مجھے سینیگال میں خدمت کرتے ہوئے کچھ مہینے ہوئے تو مجھے ہفتے میں ایک دن برانچ میں کام کرنے کو کہا گیا۔ یہ برانچ بڑی نہیں تھی بلکہ یہ مشنریوں کے گھر میں صرف ایک کمرے میں تھی اور بہت سادہ سی تھی۔ لیکن برانچ کے نگہبان بھائی عمانوئیل پیٹراکس نے مجھے یہ بات کبھی نہیں بھولنے دی کہ وہ برانچ اُس ملک میں یہوواہ کی تنظیم کی نمائندگی کرتی ہے۔ ایک دن بھائی عمانوئیل نے سوچا کہ ہم تمام مشنریوں کا حوصلہ بڑھانے کے لیے اُنہیں ایک خط لکھیں گے۔ اُس زمانے میں ایک خط کی کاپیاں بنانا بہت مشکل بھی تھا اور مہنگا بھی۔ تو ہمیں ہر خط کو ٹائپرائٹر کے ذریعے ٹائپ کرنا پڑا۔ یہ بہت ہی محنت والا کام تھا کیونکہ ہمیں اِس بات کا خیال رکھنا تھا کہ ایک بھی ہجے کی غلطی نہ ہو۔
پھر برانچ میں کام کرنے کے بعد شام کو مَیں اپنے گھر جانے کے لیے نکلا۔ ہم ایک الگ مشنریوں والے گھر میں رہتے تھے۔ برانچ سے نکلنے سے پہلے بھائی عمانوئیل نے میرے ہاتھ میں ایک لفافہ تھمایا۔ اُنہوں نے مجھ سے کہا: ”ڈیوڈ! تنظیم نے آپ کے لیے ایک خط لکھا ہے۔“ جب بعد میں مَیں نے وہ لفافہ کھولا تو اِس میں اُن خطوں میں سے ایک خط تھا جسے مَیں نے ہی ٹائپ کِیا تھا!اِس واقعے سے مَیں نے سیکھا کہ چاہے ایک مقامی برانچ بڑی ہو یا چھوٹی، مجھے یہوواہ کی تنظیم کا ہر صورت میں احترام کرنا چاہیے۔
سن 1967ء میں کچھ اَور مشنریوں کے ساتھ
مَیں جس کلیسیا میں تھا، وہاں میری بہت سے مبشروں سے دوستی ہو گئی۔ ہم اکثر ہفتے کی شام ساتھ گزارتے تھے۔ وہ بڑے ہی اچھے دن تھے! ہم لوگ ابھی بھی ایک دوسرے سے باتچیت کرتے رہتے ہیں۔ سینیگال میں خدمت کرتے ہوئے مجھے فرانسیسی زبان سیکھنے کا موقع ملا جسے آج مَیں اُن برانچوں کا دورہ کرتے وقت اِستعمال کرتا ہوں جہاں لوگ فرانسیسی بولتے ہیں۔
سن 1968ء میں مَیں نے لنڈا سے منگنی کر لی۔ اِس کے بعد مَیں کئی مہینوں تک ایک پارٹ ٹائم نوکری تلاش کرتا رہا تاکہ شادی کے بعد مَیں اور لنڈا سینیگال میں پہلکاروں کے طور پر خدمت کر سکیں۔ لیکن مسئلہ یہ تھا کہ اُس ملک میں غیرملکیوں کی بجائے مقامی لوگوں کو نوکری پر رکھنے پر زور دیا جاتا تھا۔اِس لیے مجھے واپس کینیڈا آنا پڑا۔ بعد میں مَیں نے لنڈا سے شادی کی اور اِس کے بعد ہمیں میاں بیوی کے طور پر شہر ایڈمنڈسٹن میں خصوصی پہلکاروں کے طور پر خدمت کرنے کو کہا گیا۔ یہ چھوٹا سا شہر صوبہ کیوبیک کے بارڈر پر تھا۔
سن 1969ء میں ہماری شادی ہوئی۔
ایڈمنڈسٹن اور کیوبیک میں پہلکاروں کے طور پر خدمت
جب ہمیں شہر ایڈمنڈسٹن میں خدمت کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا تو اُس وقت وہاں ایک بھی مقامی مبشر نہیں تھا اور ہمارے پاس کچھ ہی بائبل کورس تھے۔ کیتھولک مذہب نے وہاں کے لوگوں کی زندگیوں کو پوری طرح سے اپنے قابو میں کِیا ہوا تھا۔ تقریباً ہر گھر کے دروازے پر ہی یہ نشان ہوتا تھا کہ یہوواہ کے گواہوں کا آنا منع ہے۔ اُس زمانے میں ہم اِس طرح کے نشانوں کی اِتنی پرواہ نہیں کرتے تھے جتنی آج کرتے ہیں۔ تو ہم ہر گھر کا ہی دروازہ کھٹکھٹاتے تھے پھر چاہے اُس پر نشان لگا ہوتا یا نہیں۔ ہر ہفتے ہی کیتھولک چرچ مقامی اخبار میں یہ نوٹ چھپواتا تھا: ”آئیں، یہوواہ کے گواہوں کو پکڑیں اور اُن سے چھٹکارا پائیں۔“ ایڈمنڈسٹن میں صرف چار ہی یہوواہ کے گواہ تھے۔ مَیں، لنڈا، وِکٹر نوربرگ اور اُن کی بیوی ویلڈا۔ تو اِس بات میں کوئی شک نہیں تھا کہ اخبار میں ہماری بات کی جا رہی تھی۔
پھر وہاں حلقے کے نگہبان کا پہلا دورہ ہوا جسے مَیں کبھی نہیں بھول سکتا۔ حلقے کے نگہبان نے ہمارے ساتھ ایک ہفتہ گزارنے کے بعد کہا: ”میرے خیال سے تو جب تک آپ یہاں ہیں تب تک آپ صرف یہی کام کر سکتے ہیں کہ آپ لوگوں کے دل سے یہوواہ کے گواہوں کے بارے میں تعصب نکالنے کی کوشش کریں۔“ تب سے یہی ہمارا مقصد بن گیا اور ہم اِس میں کامیاب بھی ہوئے! آہستہ آہستہ لوگ یہ دیکھنے لگے کہ یہوواہ کے گواہ کتنے خاکسار ہیں اور وہ کیتھولک چرچ کے مغرور مذہبی رہنماؤں سے کتنے فرق ہیں۔ اب اُس شہر میں ایک چھوٹی کلیسیا ہے۔
ایڈمنڈسٹن میں خدمت کرنے کے تقریباً ایک سال بعد ہمیں کیوبیک سٹی میں ایک بڑی کلیسیا کے ساتھ مل کر خدمت کرنے کو کہا گیا۔ وہاں کے بہن بھائی بہت ہی مہماننواز تھے جن کے ساتھ ہمیں چھ مہینے تک خدمت کر کے بہت مزہ آیا۔ اِس کے بعد مجھے حلقے کے نگہبان کے طور پر خدمت کرنے کو کہا گیا۔
پھر اگلے 14 سال تک مَیں نے اور لنڈا نے کیوبیک کے صوبے میں مختلف کلیسیاؤں کا دورہ کِیا۔ وہ بڑا ہی زبردست وقت تھا!کیوبیک میں مُنادی کرنے کے بہت اچھے نتیجے نکل رہے تھے۔ جن کلیسیاؤں کا ہم دورہ کرتے تھے، اُن میں ہم اکثر ایک یا دو ایسے خاندانوں سے ملتے تھے جو یہوواہ کا گواہ بننے کے لیے بائبل کورس کر رہے تھے۔
ہمیں اپنے وفادار بہن بھائی یاد ہیں
کینیڈا کے جن علاقوں میں فرانسیسی زبان بولی جاتی ہے، وہاں کے بہن بھائی اِتنے خوشدل، جوشیلے، سچے اور کھرے ہیں کہ آپ کو فوراً ہی اُن سے محبت ہو جائے گی۔ لیکن اِن بہن بھائیوں کو سچائی قبول کرنے کے لیے اکثر مشکلوں سے گزرنا پڑا۔ اُنہیں اپنے گھر والوں کی طرف سے شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ ہمارے کچھ نوجوان بہن بھائیوں کو تو اُن کے ماں باپ نے یہ دھمکی تک دی کہ اگر اُنہوں نے یہوواہ کے گواہوں سے بائبل کورس کرنا نہیں چھوڑا تو اُنہیں گھر چھوڑنا پڑے گا۔ اِتنی شدید مخالفت کے باوجود بھی ہمارے وہ بہن بھائی یہوواہ کے وفادار رہے۔ یہوواہ کو یقیناً اُن پر بڑا ناز ہوا ہوگا!
مَیں اپنے اُن بہن بھائیوں کا بھی ذکر کرنا چاہتا ہوں جو اُس زمانے میں بڑی وفاداری سے کیوبیک میں پہلکاروں اور خصوصی پہلکاروں کے طور پر خدمت کر رہے تھے۔ اِن میں سے بہت سے پہلکار کینیڈا کے دوسرے علاقوں سے تھے۔ اُنہوں نے نہ صرف فرانسیسی زبان سیکھی بلکہ مقامی لوگوں کی ثقافت کو بھی سیکھا اور اُن کے سوچنے کے انداز کو بھی سمجھا جس پر کیتھولک مذہب کا کافی اثر تھا۔
خصوصی پہلکاروں کو اکثر ایسے دُوردراز علاقوں میں مُنادی کرنے کے لیے بھیجا جاتا تھا جہاں کوئی مبشر نہیں ہوتا تھا۔ چونکہ اُن علاقوں میں مقامی لوگ یہوواہ کے گواہوں کو پسند نہیں کرتے تھے اِس لیے وہاں رہائش تلاش کرنا بہت مشکل ہوتا تھا اور پارٹ ٹائم نوکری ڈھونڈنا تو اِس سے بھی زیادہ مشکل ہوتا تھا۔ جن پہلکاروں کی نئی نئی شادی ہوئی ہوتی تھی، اُنہیں تو چار، چھ یا آٹھ بہن بھائیوں کے ساتھ مل کر ایک جگہ ہی رہنا پڑتا تھا تاکہ وہ اپنے اخراجات آپس میں بانٹ سکیں۔ وہ اکیلے ایک گھر میں رہنے کا خرچہ اُٹھا ہی نہیں سکتے تھے۔ لیکن یہ جوشیلے پہلکار بہت محنتی تھے۔ جب وہ کسی شخص کو بائبل کورس کرانا شروع کرتے تھے تو وہ اُس کی مدد کرنے کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہوتے تھے۔ اب کیوبیک میں بہت سے مقامی مبشر ہیں۔ اِن میں سے بہت سے پہلکار ایسے علاقوں میں خدمت کرنے کے لیے چلے گئے ہیں جہاں مبشروں کی ضرورت ہے۔
جب مَیں اور لنڈا کلیسیاؤں کا دورہ کرتے تھے تو ہم عام طور پر ہفتے کی صبح نوجوانوں کے ساتھ مل کر مُنادی کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ اِس طرح ہم خود سے دیکھ سکتے تھے کہ اُنہیں کن مشکلوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ جن نوجوانوں کے ساتھ ہم نے مل کر خدمت کی، اُن میں سے کچھ ابھی کسی اَور ملک میں یا تو مشنریوں کے طور پر خدمت کر رہے ہیں یا پھر تنظیم میں کوئی اَور ذمےداری نبھا رہے ہیں۔
اُس زمانے میں کچھ کلیسیائیں ہمارے سفر کا خرچہ نہیں اُٹھا سکتی تھیں۔ اِس لیے کبھی کبھار مہینے کے آخر پر ہمارے پاس پیسے نہیں ہوتے تھے۔ اُس وقت ہمیں یہوواہ پر مکمل بھروسا کرنا ہوتا تھا کیونکہ صرف وہی ہمارے حالات جانتا تھا۔ یہوواہ نے ہمیں کبھی مایوس نہیں کِیا۔ ہم ہمیشہ کسی نہ کسی طرح سے ایک کلیسیا سے دوسری کلیسیا کا دورہ کر ہی لیتے تھے۔
وہ باتیں جو مَیں نے دوسروں سے سیکھیں
کیوبیک میں رہتے ہوئے مجھے کئی بار ریڈیو، ٹیوی اور اخباروں کے ذریعے گواہی دینے کا موقع ملا۔ مَیں بہت خوش ہوں کہ مَیں نے گلئیڈ سکول میں اِس حوالے سے ٹریننگ حاصل کی تھی۔ مجھے اکثر بھائی لیونس کریپو کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا جو میری طرح ہی حلقے کے ایک نگہبان تھے۔ اُنہیں بڑی اچھی طرح سے میڈیا سے بات کرنا آتا تھا۔ وہ جب بھی میڈیا کے کسی بڑے اور اہم بندے سے بات کر رہے ہوتے تھے تو وہ بالکل بھی یہ ظاہر نہیں کرتے تھے کہ وہ کتنے ذہین ہیں اور اُن کے پاس کتنی زیادہ معلومات ہے۔ اِس کی بجائے وہ اُس بندے سے بات کرتے ہوئے کہتے تھے: ”جناب، مَیں اور میرا یہ ساتھی بس ایک خادم ہیں۔ ہمیں ریڈیو اور ٹیوی پر بات کرنے کا اِتنا علم نہیں ہے۔ لیکن ہماری تنظیم نے ہمیں لوگوں کو یہ بتانے کی ذمےداری دی ہے کہ یہوواہ کے گواہوں کا ایک بڑا اِجتماع ہونے والا ہے۔ اگر آپ اِس حوالے سے ہماری کچھ مدد کر سکتے ہیں تو ہم آپ کے بہت شکرگزار ہوں گے!“ بھائی لیونس کی خاکساری کی وجہ سے میڈیا کے بہت سے لوگ ہماری مدد کرنے کو تیار ہو جاتے تھے جو شاید وہ ویسے نہ کرتے۔
بعد میں برانچ نے مجھے بھائی گلین ہاؤ کے ساتھ مل کر خدمت کرنے کو کہا۔ بھائی گلین ہمارے ایک وکیل تھے جن کے ساتھ مَیں نے کچھ حساس اور مشکلترین مُقدموں پر کام کِیا۔ یہ ایسے مُقدمے تھے جن پر میڈیا اکثر بات کرتا تھا۔ تو اُس وقت مجھے اُس ٹریننگ سے بہت فائدہ ہوا جو مَیں نے گلئیڈ سکول میں اور بھائی لیونس کے ساتھ کام کر کے حاصل کی تھی۔ میرے لیے بھائی گلین کے ساتھ کام کرنا ایک بہت بڑا اعزاز تھا۔ وہ ایک بہت ہی نڈر شخص تھے جو بڑی دلیری سے قانونی معاملات میں تنظیم کا دِفاع کرتے تھے۔ لیکن سب سے بڑھ کر وہ یہوواہ سے گہری محبت کرتے تھے۔
سن 1985ء میں مجھے مغربی کینیڈا کے ایک حلقے میں نگہبان کے طور پر خدمت کرنے کے لیے کہا گیا جو میرے ابو کے گھر کے قریب تھا۔ اِس طرح مَیں اور لنڈا ساتھ ساتھ ابو کا بھی خیال رکھ پائے۔ افسوس کی بات ہے کہ تین مہینے بعد ابو فوت ہو گئے۔ لیکن ہم 1989ء تک مغربی کینیڈا میں کلیسیاؤں کا دورہ کرتے رہے۔ پھر ہمیں امریکہ کے بیتایل میں خدمت کرنے کی دعوت ملی جسے سُن کر ہم بہت حیران ہوئے۔ اِس کا مطلب تھا کہ اب ہمیں مختلف کلیسیاؤں کا دورہ کرنے کی خدمت چھوڑ دینی تھی جو ہم تقریباً 19 سال سے کر رہے تھے۔ اُن سالوں کے دوران ہم بہت سے بہن بھائیوں کے گھر رُکے اور ہم نے کئی مہماننواز بہن بھائیوں کے ہاتھ کے کھانے کھائے۔ہم اُن بہن بھائیوں کے بہت شکرگزار ہیں جنہوں نے اپنے دل اور گھر کے دروازے ہمارے لیے کھولے۔
امریکہ کے بیتایل میں خدمت
جب مَیں بروکلن بیتایل پہنچا تو مجھے خدمتی شعبے میں کام کرنے کو کہا گیا۔ وہاں مجھے جو ٹریننگ ملی، اُس کے لیے مَیں عمر بھر یہوواہ کا شکرگزار رہوں گا۔ ایک بات جو مَیں نے خدمتی شعبے میں کام کرتے ہوئے سیکھی، وہ یہ تھی کہ مَیں کبھی بھی کسی معاملے کے بارے میں خود سے اندازے لگانے کی بجائے ہمیشہ حقائق کو اچھی طرح سے جانوں۔ پھر 1998ء میں مجھے مضموننویسی کے شعبے میں کام کرنے کے لیے کہا گیا جہاں مَیں ابھی بھی بہت سی نئی باتیں سیکھ رہا ہوں۔ مجھے کئی سالوں تک اِس شعبے میں بھائی جان بار کی مدد کرنے کا موقع ملا جو مضموننویسی کی کمیٹی کے منتظم تھے۔ مَیں نے اُن کے ساتھ جو وقت گزارا اور اُن سے جو کچھ سیکھا، اُسے یاد کر کے مَیں آج بھی بہت خوش ہوتا ہوں اور اِس کی بہت قدر کرتا ہوں۔ بھائی جان بار ایک ایسے بھائی تھے جو صحیح معنوں میں یسوع مسیح کی مثال پر چلے۔
بھائی جان بار اور اُن کی بیوی ملڈریڈ کے ساتھ
یہ میرے لیے بڑے اعزاز کی بات ہے کہ مَیں مضموننویسی کے شعبے میں ایسے بہن بھائیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہوں جو بہت خاکسار ہیں۔ وہ ہمیشہ اپنی خدمت کو نبھاتے ہوئے یہوواہ سے دُعا کرتے ہیں اور اِس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ جو کچھ بھی وہ انجام دیتے ہیں، وہ یہوواہ کی پاک روح کی مدد سے ہے نہ کہ اُن کی اپنی صلاحیت کی وجہ سے۔
سن 2009ء میں سالانہ اِجلاس کے دوران موسیقی میں پیشوائی کرتے ہوئے
سن 2014ء میں کوریا کے شہر سیول میں ہونے والے بینالاقوامی اِجتماع پر بائبل دیتے ہوئے
میرے اور لنڈا کے لیے یہ بھی بڑے اعزاز کی بات ہے کہ ہم 110 ملکوں میں اپنے بہن بھائیوں سے مل پائے ہیں۔ ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ مشنریوں کے طور پر خدمت کرنے والے ہمارے بہن بھائی، برانچ کمیٹی کے بھائی اور دوسرے طریقوں سے کُلوقتی طور پر خدمت کرنے والے بہن بھائی یہوواہ سے کتنی محبت کرتے ہیں۔ ہم نے اُن ملکوں میں ایسے مبشر بھی دیکھے ہیں جو جنگوں، مالی مشکلوں اور اذیت کے باوجود وفاداری سے یہوواہ کی خدمت کر رہے ہیں۔ یہوواہ اپنے اِن بندوں سے واقعی بہت پیار کرتا ہے!
لنڈا میری بہت اچھی جیون ساتھی ثابت ہوئی ہیں۔ وہ اُس وقت میرا بڑا ساتھ دیتی ہیں جب مَیں اپنی ذمےداریوں کو نبھانے کی کوشش کرتا ہوں۔ اُنہیں لوگوں سے بہت محبت ہے اور وہ ہمیشہ دوسروں کی مدد کرنے کے طریقے ڈھونڈتی ہیں۔ وہ بڑی آسانی سے دوسروں کو گواہی دینے کے لیے باتچیت شروع کر لیتی ہیں۔ اُنہوں نے بہت سے لوگوں کی مدد کی ہے کہ وہ یہوواہ کے بارے میں سیکھیں۔ اُنہوں نے کچھ ایسے بہن بھائیوں کی یہوواہ کی طرف لوٹنے میں بھی مدد کی ہے جو اُس سے دُور ہو گئے تھے۔ وہ میرے لیے یہوواہ کی طرف سے ایک تحفہ ثابت ہوئی ہیں! اب میری اور لنڈا کی عمر بڑھتی جا رہی ہے۔ لیکن ہم اپنے اُن جوان بہن بھائیوں کے دل سے شکرگزار ہیں جو کسی ملک کا سفر کرنے کے حوالے سے یا دوسرے طریقوں سے ہماری مدد کرتے ہیں۔—مر 10:29، 30۔
جب مَیں اپنی زندگی کے پچھلے 80 سالوں پر غور کرتا ہوں تو مَیں یہوواہ کا بہت شکریہ ادا کرتا ہوں۔ مَیں اپنے بارے میں وہی بات کہہ سکتا ہوں جو ایک زبور لکھنے والے نے کہی تھی: ”اَے خدا! تُو میری کمعمری سے مجھے تعلیم دیتا آیا ہے اور مَیں آج تک تیرے حیرانکُن کاموں کا اِعلان کر رہا ہوں۔“ (زبور 71:17) ہاں، جب تک مَیں زندہ ہوں، مَیں ایسا ہی کرتے رہنا چاہتا ہوں۔
a آج یہ ٹریننگ ہمیں ہفتے کے دوران ہونے والی عبادت میں ملتی ہے۔