یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م25 اگست ص.‏ 20-‏25
  • ہم غلط خواہشوں کے خلاف جنگ کیسے جیت سکتے ہیں؟‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • ہم غلط خواہشوں کے خلاف جنگ کیسے جیت سکتے ہیں؟‏
  • مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2025ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • شیطان ہمیں کیا یقین دِلانا چاہتا ہے؟‏
  • گُناہ کی حالت کی وجہ سے ہم کیسا محسوس کر سکتے ہیں؟‏
  • آپ آزمائش کا مقابلہ کیسے کر سکتے ہیں؟‏
  • ‏”‏جائزہ لیتے رہیں“‏
  • آزمائش کا سامنا کرنے کے لیے چوکس رہیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2024ء
  • بپتسمے کے بعد بھی یسوع کی ’‏پیروی کرتے رہیں‘‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2024ء
  • یہوواہ نے اِنسانوں کو گُناہ اور موت سے نجات دِلانے کے لیے کیا کِیا؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2024ء
  • ایسے فیصلے کریں جن سے ثابت ہو کہ آپ یہوواہ پر بھروسا کرتے ہیں
    مسیحی زندگی اور خدمت—‏اِجلاس کا قاعدہ 2023ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2025ء
م25 اگست ص.‏ 20-‏25

مطالعے کا مضمون نمبر 35

گیت نمبر 121‏:‏ ضبطِ‌نفس ظاہر کریں

ہم غلط خواہشوں کے خلاف جنگ کیسے جیت سکتے ہیں؟‏

‏”‏اپنے جسم کی خواہشوں کا کہنا نہ مانیں اور یوں گُناہ کو اپنے فانی جسم پر حکمرانی نہ کرنے دیں۔“‏‏—‏روم 6:‏12‏۔‏

غور کریں کہ ‏.‏ ‏.‏ ‏.‏

کیا چیز ہماری مدد کر سکتی ہے تاکہ (‏1)‏ہم اُس وقت بے‌حوصلہ نہ ہوں جب ہم میں کوئی غلط خواہش پیدا ہوتی ہے اور (‏2)‏ہم آزمائش کے آگے ہتھیار نہ ڈالیں۔‏

1.‏ سبھی عیب‌دار اِنسانوں کے بارے میں کون سی بات سچ ہے؟‏

کیا کبھی آپ کے دل میں کوئی ایسا کام کرنے کی شدید خواہش پیدا ہوئی جو یہوواہ کو ناپسند ہے؟ اگر ہاں تو بے‌حوصلہ نہ ہوں۔ یہ نہ سوچیں کہ جتنی بڑی آزمائش کا سامنا آپ کو کرنا پڑ رہا ہے اُتنا کسی اَور کو نہیں کرنا پڑ رہا۔ بائبل میں لکھا ہے:‏ ”‏آپ نے جن جن آزمائشوں کا سامنا کِیا ہے، وہ انوکھی نہیں ہیں بلکہ دوسروں پر بھی آتی ہیں۔“‏ (‏1-‏کُر 10:‏13‏)‏ اِس سے پتہ چلتا ہے کہ جن غلط خواہشوں سے آپ لڑ رہے ہیں، اُن سے دوسرے بھی لڑ رہے ہیں۔ تو آپ اکیلے نہیں ہیں!‏ یہوواہ کی مدد سے آپ غلط خواہشوں کے خلاف جنگ جیت سکتے ہیں۔‏

2.‏ کچھ مسیحیوں کو اور بائبل کورس کرنے والے لوگوں کو شاید کن غلط خواہشوں سے لڑنا پڑ رہا ہے؟ (‏تصویروں کو بھی دیکھیں۔)‏

2 بائبل میں یہ بھی لکھا ہے:‏ ”‏ہر شخص اپنی ہی خواہشوں کی وجہ سے آزمایا اور اُکسایا جاتا ہے۔“‏ (‏یعقو 1:‏14‏)‏ اِس آیت سے ہم یہ بات سمجھ پاتے ہیں کہ فرق فرق لوگوں کو فرق فرق آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ مثال کے طور پر شاید کچھ مسیحیوں کو مخالف جنس کے ساتھ حرام‌کاری کرنے کی آزمائش کا سامنا ہو اور شاید کچھ کو ہم‌جنس شخص کے ساتھ۔ اِس کے علاوہ شاید کچھ مسیحی پہلے گندی تصویریں اور فلمیں دیکھا کرتے تھے لیکن اب اُن میں یہ غلط خواہش پھر سے سر اُٹھا رہی ہے۔ اور شاید بہت سے مسیحی پہلے شرابی تھے یا کوئی اَور نشہ کِیا کرتے تھے اور ہو سکتا ہے کہ کبھی کبھار اُن کا دل پھر سے ایسا کرنے کو چاہے۔ یہ تو بس کچھ آزمائشیں ہیں جن سے کچھ مسیحیوں یا بائبل کورس کرنے والے لوگوں کو لڑنا پڑ رہا ہے۔ بے‌شک ہم سبھی نے کبھی نہ کبھی پولُس کی طرح ضرور محسوس کِیا ہوگا جنہوں نے کہا:‏ ”‏مَیں اچھے کام تو کرنا چاہتا ہوں لیکن مجھ میں بُرائی کا رُجحان موجود ہے۔“‏—‏روم 7:‏21‏۔‏

ہم پر آزمائش کسی بھی جگہ اور کسی بھی وقت اچانک سے آ سکتی ہے۔ (‏پیراگراف نمبر 2 کو دیکھیں۔)‏c


3.‏ اگر ایک شخص کو بار بار اپنی کسی غلط خواہش سے لڑنا پڑ رہا ہے تو شاید وہ کیا سوچنے لگے؟‏

3 اگر آپ کو اکثر اپنی کسی غلط خواہش سے لڑنا پڑتا ہے تو شاید آپ خود کو بہت بے‌بس محسوس کریں۔ شاید آپ کو لگے کہ آپ کبھی بھی اپنی اُس خواہش سے نہیں لڑ پائیں گے۔ شاید آپ نااُمید بھی ہو جائیں اور یہ سوچنے لگیں کہ یہوواہ آپ کی اُس غلط خواہش کی وجہ سے آپ کو کبھی بھی ہمیشہ کی زندگی پانے کا موقع نہیں دے گا۔ لیکن یقین مانیں کہ آپ اِن دونوں باتوں میں سے جو بھی بات سوچتے ہیں، وہ بالکل سچ نہیں ہے!‏ اِسی بات کو واضح کرنے کے لیے اِس مضمون میں اِن دو سوالوں پر بات کی جائے گی:‏ (‏1)‏کون چاہتا ہے کہ آپ میں بے‌بسی اور نااُمیدی جیسے احساسات پیدا ہوں؟ اور (‏2)‏آپ اپنی غلط خواہشوں کے خلاف جنگ کیسے جیت سکتے ہیں؟‏

شیطان ہمیں کیا یقین دِلانا چاہتا ہے؟‏

4.‏ (‏الف)‏جب ہم کسی آزمائش کا سامنا کرتے ہیں تو شیطان ہمیں کیا یقین دِلانا چاہتا ہے؟ (‏ب)‏ہم اپنی غلط خواہشوں کے آگے بے‌بس کیوں نہیں ہیں؟‏

4 جب ہم کسی آزمائش کا سامنا کرتے ہیں تو شیطان ہمیں یہ یقین دِلانا چاہتا ہے کہ ہم اِس سے لڑ ہی نہیں سکتے۔ یہ بات یسوع نے اُس وقت واضح کی جب اُنہوں نے اپنے پیروکاروں کو یہ دُعا کرنا سکھائی:‏ ”‏آزمائش کے وقت ہمیں کمزور نہ پڑنے دے بلکہ ہمیں شیطان سے بچا۔“‏ (‏متی 6:‏13‏)‏ شیطان کا کہنا ہے کہ جب اِنسان کسی غلط کام کرنے کی آزمائش میں پڑے گا تو وہ یہوواہ کا وفادار نہیں رہے گا۔ (‏ایو 2:‏4، 5‏)‏ لیکن ذرا سوچیں کہ شیطان ایسا کیوں سوچتا ہے۔ کیونکہ وہ خود ہی سب سے پہلے اپنی خواہشوں کی وجہ سے آزمائش میں پڑا تھا اور یہوواہ کا وفادار نہیں رہا تھا۔ اُسے لگتا ہے کہ ہم بھی اُسی کی طرح ہیں اور آزمائش آنے پر فوراً یہوواہ سے مُنہ پھیر لیں گے۔ اُسے تو یہ تک لگتا تھا کہ خدا کا بے‌عیب بیٹا بھی آزمائش کے آگے ہتھیار ڈال دے گا!‏ (‏متی 4:‏8، 9‏)‏ لیکن ذرا سوچیں:‏ کیا ہم واقعی اپنی غلط خواہشوں کے آگے بے‌بس ہیں؟ بالکل نہیں!‏ ہم پولُس رسول کی بات سے اِتفاق کرتے ہیں جنہوں نے کہا:‏ ”‏جو مجھے طاقت دیتا ہے، اُس کے ذریعے مَیں سب کچھ کر سکتا ہوں۔“‏—‏فِل 4:‏13‏۔‏

5.‏ ہم کیسے جانتے ہیں کہ یہوواہ کو اِس بات کا پکا یقین ہے کہ ہم اپنی غلط خواہشوں کے خلاف جنگ جیت سکتے ہیں؟‏

5 یہوواہ شیطان کی طرح نہیں سوچتا۔ یہوواہ کو اِس بات کا پکا یقین ہے کہ ہم اپنی غلط خواہشوں کے خلاف جنگ جیت سکتے ہیں۔ ہم یہ کیسے جانتے ہیں؟ کیونکہ یہوواہ نے پیش‌گوئی کی ہے کہ ایک بڑی بِھیڑ بڑی مصیبت سے بچ جائے گی کیونکہ وہ اُس کی وفادار ہوگی۔ ذرا اِس بات کے مطلب پر غور کریں۔ یہوواہ جو کبھی جھوٹ نہیں بول سکتا، اُس نے یہ کہا ہے کہ صرف کچھ لوگ ہی نہیں بلکہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد نئی دُنیا میں جائے گی۔ اِن لوگوں نے ”‏اپنے چوغوں کو میمنے کے خون میں دھو کر سفید کر لیا ہے“‏ جس سے پتہ چلتا ہے کہ یہوواہ اُنہیں پاک سمجھتا ہے۔ (‏مُکا 7:‏9،‏ 13، 14‏)‏ تو یہوواہ ہمیں ایک ایسا شخص خیال نہیں کرتا جو اپنی غلط خواہشوں کے آگے بے‌بس ہے۔‏

6-‏7.‏ شیطان ہمیں اَور کس بات کا یقین دِلانا چاہتا ہے؟‏

6 شیطان صرف یہی نہیں چاہتا کہ ہم اپنی غلط خواہشوں کے آگے خود کو بے‌بس محسوس کریں بلکہ وہ یہ بھی چاہتا ہے کہ ہم اپنی صورتحال کی وجہ سے بالکل نااُمید ہو جائیں اور یہ سوچنے لگیں کہ یہوواہ ہمیں ہماری غلط خواہشوں کی وجہ سے کبھی بھی ہمیشہ کی زندگی پانے کا موقع نہیں دے گا۔ لیکن ذرا ایک بار پھر سے سوچیں کہ شیطان ایسا کیوں سوچتا ہے۔ اِس لیے کیونکہ اُس کے پاس خود کوئی اُمید نہیں ہے۔ یہوواہ نے اُس کے بارے میں یہ فیصلہ کِیا ہے کہ وہ ہمیشہ کے لیے ہلاک ہو جائے۔ (‏پید 3:‏15؛‏ مُکا 20:‏10‏)‏ بے‌شک شیطان ہم سے جلتا ہے کیونکہ ہمارے پاس ہمیشہ کی زندگی پانے کی اُمید ہے۔ اِس لیے وہ ہمیں یہ یقین دِلانے کی کوشش کرتا ہے کہ ہم بھی اُسی کی طرح ہیں اور ہمارا حال بھی اُسی کی طرح ہوگا۔ لیکن ہم اُمید سے خالی نہیں ہیں۔ بائبل میں تو ہمیں یقین دِلایا گیا ہے کہ یہوواہ ہمیں قصوروار نہیں ٹھہرانا چاہتا بلکہ وہ تو ہمیشہ کی زندگی پانے میں ہماری مدد کرنا چاہتا ہے۔ ”‏وہ نہیں چاہتا کہ کوئی بھی شخص ہلاک ہو بلکہ وہ چاہتا ہے کہ سب لوگ توبہ کریں۔“‏—‏2-‏پطر 3:‏9‏۔‏

7 لیکن اگر ہم یہ سوچنے لگیں گے کہ ہم اپنی غلط خواہشوں کے آگے بالکل بے‌بس ہیں اور ہمارا کچھ نہیں ہو سکتا تو دراصل ہم وہی سوچ اپنا رہے ہوں گے جو شیطان ہمارے ذہن میں ڈالنا چاہتا ہے۔ لیکن اگر ہم شیطان کی سوچ کو پہچانیں گے تو ہمارا یہ عزم مضبوط ہوگا کہ ہم اپنی غلط خواہشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔—‏1-‏پطر 5:‏8، 9‏۔‏

گُناہ کی حالت کی وجہ سے ہم کیسا محسوس کر سکتے ہیں؟‏

8.‏ گُناہ میں کیا کچھ شامل ہے؟ (‏زبور 51:‏5‏)‏ (‏”‏لفظ کی وضاحت“‏ کو بھی دیکھیں۔)‏

8 شیطان کے علاوہ ایک اَور چیز کی وجہ سے بھی ہم میں یہ احساس پیدا ہو سکتا ہے کہ ہم اپنی غلط خواہشوں کے آگے بے‌بس ہیں اور یہوواہ ہمیں پسند نہیں کرتا۔ یہ کون سی چیز ہے؟ یہ گُناہ ہے جو سب اِنسانوں کو آدم اور حوّا سے ورثے میں ملا ہے۔‏a‏—‏ایو 14:‏4؛‏ زبور 51:‏5 کو پڑھیں۔‏

9-‏10.‏ (‏الف)‏جب آدم اور حوّا نے گُناہ کِیا تو اِس کے بعد اُنہیں کیسا لگنے لگا؟ (‏تصویر کو بھی دیکھیں۔)‏ (‏ب)‏آدم اور حوّا سے ملنے والے گُناہ کی وجہ سے آج ہمیں کیسا محسوس ہوتا ہے؟‏

9 غور کریں کہ جب آدم اور حوّا گُناہ‌گار بن گئے تو اِس کے بعد اُنہیں کیسا لگنے لگا۔ یہوواہ کی نافرمانی کرنے کے بعد اُنہوں نے خود کو چھپایا اور اپنے جسم کو ڈھانکنے کی کوشش کی۔ اِس حوالے سے کتاب ‏”‏اِنسائٹ آن دی سکرپچرز“‏ میں لکھا ہے:‏ ”‏گُناہ کرنے کی وجہ سے وہ پچھتاوا، شرمندگی اور پریشانی محسوس کرنے لگے۔“‏ یہ بالکل ایسے تھا جیسے آدم اور حوّا ایک ایسے گھر میں بند ہو گئے ہوں جس میں صرف تین کمرے ہیں۔ وہ اِن تینوں کمروں میں تو آ جا سکتے تھے لیکن گھر سے باہر نہیں نکل سکتے تھے۔ تو گُناہ‌گار بن جانے کے بعد وہ گُناہ سے آزاد نہیں ہو سکتے تھے۔‏

10 بے‌شک ہماری صورتحال ویسی نہیں ہے جیسی آدم اور حوّا کی تھی۔ اُنہیں فدیے سے فائدہ حاصل نہیں ہوگا لیکن ہمیں فدیے کی بِنا پر اپنے گُناہوں سے معافی ملتی ہے اور ہم یہوواہ سے قریبی دوستی کر سکتے ہیں۔ (‏1-‏کُر 6:‏11‏)‏ لیکن چونکہ آدم اور حوّا کی اولاد ہونے کی وجہ سے ہم گُناہ کی حالت میں پیدا ہوئے ہیں اِس لیے ہم بھی پچھتاوا، شرمندگی اور پریشانی محسوس کرتے ہیں۔ دراصل بائبل میں تو بتایا گیا ہے کہ گُناہ نے اِنسانوں کو اپنے قبضے میں لیا ہوا ہے، اُن لوگوں کو بھی ”‏جنہوں نے ویسا گُناہ نہیں کِیا[‏ہے]‏جیسا آدم نے کِیا تھا۔“‏ (‏روم 5:‏14‏)‏ لیکن ہمیں کبھی بھی یہ سوچ کر بے‌حوصلہ نہیں ہونا چاہیے کہ گُناہ‌گار ہونے کی وجہ سے ہم کبھی بھی صحیح کام اور ہمیشہ کی زندگی حاصل نہیں کر پائیں گے۔ ہم اپنے ذہن سے اِس طرح کی سوچ کو کیسے نکال سکتے ہیں؟‏

آدم اور حوّا بڑی شرمندگی سے باغ عدن سے نکل رہے ہیں اور اُنہوں نے جانوروں کی کھال سے بنے کپڑے پہنے ہیں۔‏

گُناہ کی وجہ سے آدم اور حوّا کو پچھتاوا، شرمندگی اور پریشانی محسوس ہوئی۔ (‏پیراگراف نمبر 9 کو دیکھیں۔)‏


11.‏ جب ہم اپنی صورتحال کی وجہ سے بے‌بسی محسوس کرتے ہیں تو ہمیں کیا کرنا چاہیے اور کیوں؟ (‏رومیوں 6:‏12‏)‏

11 جب ہمیں لگتا ہے کہ ہم اپنی غلط خواہشوں کے آگے بالکل بے‌بس ہیں تو ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ گُناہ‌گار ہونے کی وجہ سے ہمارے ذہن میں اِس طرح کی سوچ آ رہی ہے۔ ہمیں ایسی سوچ کو اپنے ذہن سے کیوں نکالنا چاہیے؟ کیونکہ بائبل میں بتایا گیا ہے کہ ہمیں گُناہ کو خود پر ”‏حکمرانی“‏ نہیں کرنے دینی چاہیے۔ ‏(‏رومیوں 6:‏12 کو پڑھیں۔)‏ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم اپنی غلط خواہشوں کو پورا کریں گے یا نہیں۔ (‏گل 5:‏16‏)‏ یہوواہ کو پتہ ہے کہ ہم آزمائشوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں ورنہ وہ ہم سے کبھی بھی ایسا کرنے کو نہ کہتا۔ (‏اِست 30:‏11-‏14؛‏ روم 6:‏6؛‏ 1-‏تھس 4:‏3‏)‏ صاف ظاہر ہے کہ ہم اپنی غلط خواہشوں کے آگے بالکل بے‌بس نہیں ہیں۔‏

12.‏ جب ہم اپنی صورتحال کی وجہ سے نااُمید ہو جاتے ہیں تو ہمیں کیا کرنا چاہیے اور کیوں؟‏

12 جب ہم یہ سوچ کر نااُمید ہو جاتے ہیں کہ یہوواہ ہماری غلط خواہشوں کی وجہ سے ہمیں ہمیشہ کی زندگی نہیں دے گا تو ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ گُناہ‌گار ہونے کی وجہ سے ہمارے ذہن میں اِس طرح کی سوچ آ رہی ہے۔ ہمیں ایسی سوچ کو اپنے ذہن سے کیوں نکالنا چاہیے؟ کیونکہ بائبل میں بتایا گیا ہے کہ یہوواہ اچھی طرح سے جانتا ہے کہ ہم گُناہ کی حالت میں پیدا ہوئے ہیں۔ (‏زبور 103:‏13، 14‏)‏ وہ ہمارے بارے میں ”‏سب کچھ جانتا ہے؛“‏ یہ بھی کہ آدم اور حوّا سے ملنے والے گُناہ نے ہم میں سے ہر ایک پر ذاتی طور پر کیسے اثر ڈالا ہے۔ (‏1-‏یوح 3:‏19، 20‏)‏ تو جب تک ہم اپنی غلط خواہشوں کو پورا نہیں کریں گے تب تک ہم یہوواہ کی نظر میں پاک رہ سکتے ہیں۔ ہم یہ بات اِتنے یقین سے کیوں کہہ سکتے ہیں؟‏

13-‏14.‏ اگر ہمارے دل میں کچھ غلط خواہشیں ہیں تو کیا اِس کا یہ مطلب ہے کہ یہوواہ ہمیں قبول نہیں کرے گا؟ وضاحت کریں۔‏

13 بائبل سے پتہ چلتا ہے کہ دل میں غلط خواہشوں کے ہونے اور اِنہیں پورا کرنے میں بہت فرق ہے۔ ہم ہمیشہ اپنے دل میں غلط خواہشیں آنے سے نہیں روک سکتے لیکن ہم خود کو اِن خواہشوں کو پورا کرنے سے ضرور روک سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر پہلی صدی عیسوی میں کُرنتھس کی کلیسیا کے کچھ مسیحی پہلے ہم‌جنس‌پرست تھے۔ پولُس نے لکھا:‏ ”‏آپ میں سے کچھ لوگ ایک زمانے میں ایسے تھے۔“‏ تو کیا اِس کا یہ مطلب ہے کہ اُن مسیحیوں کے دل میں پھر کبھی ہم‌جنس‌پرستی کرنے کی خواہش نہیں آئی ہوگی؟ یہ سوچنا ٹھیک نہیں ہوگا کیونکہ اِس طرح کی خواہشیں اکثر ایک شخص کے اندر بسی ہوتی ہیں۔ لیکن جن مسیحیوں نے ضبطِ‌نفس سے کام لیا اور اپنی خواہشوں کو پورا نہیں کِیا‏، یہوواہ اُن سے خوش تھا۔ وہ اُنہیں ”‏پاک صاف“‏ سمجھتا تھا۔ (‏1-‏کُر 6:‏9-‏11‏)‏ آپ کے بارے میں بھی یہی کہا جا سکتا ہے۔‏

14 چاہے آپ کسی بھی غلط خواہش کا مقابلہ کر رہے ہوں، آپ اِس سے جیت سکتے ہیں۔ بھلے ہی آپ اِسے جڑ سے تو نہ اُکھاڑ سکیں لیکن آپ ضبطِ‌نفس سے کام لے سکتے ہیں اور خود کو ’‏اپنے جسم کی خواہشوں کے مطابق چلنے اور اپنے خیالوں پر عمل کرنے‘‏ سے باز رکھ سکتے ہیں۔ (‏اِفِس 2:‏3‏)‏ لیکن کون سی باتیں غلط خواہشوں کے خلاف جنگ جیتنے میں آپ کی مدد کر سکتی ہیں؟‏

آپ آزمائش کا مقابلہ کیسے کر سکتے ہیں؟‏

15.‏ اگر ہم غلط خواہشوں کے خلاف جنگ جیتنا چاہتے ہیں تو ہمیں پوری ایمان‌داری سے کیا کرنا ہوگا؟‏

15 اگر ہم غلط خواہشوں کے خلاف جنگ جیتنا چاہتے ہیں تو ہمیں پوری ایمان‌داری سے یہ دیکھنا ہوگا کہ ہم میں کون سی خامیاں ہیں۔ لیکن ایسا کرتے وقت محتاط رہیں کہ آپ ”‏خود کو دھوکا“‏ نہ دیں۔ (‏یعقو 1:‏22‏)‏ مثال کے طور پر اگر بہت زیادہ شراب پینے کی بات کی جائے تو شاید ایک شخص اِس مسئلے کو یہ سوچ کر نظرانداز کرنے لگے کہ دوسرے اُس سے زیادہ شراب پیتے ہیں۔ یا پھر اگر ایک شخص کو گندی تصویریں اور فلمیں دیکھنے کا مسئلہ ہے تو شاید اِس کے لیے وہ اپنی بیوی کو اِلزام دیتے ہوئے یہ سوچنے لگے:‏ ”‏اگر وہ میرے لیے زیادہ محبت دِکھاتی تو میرے اندر کبھی بھی ایسا کرنے کی خواہش پیدا نہ ہوتی۔“‏ کبھی بھی غلط کام کو صحیح ثابت کرنے کے لیے بہانے نہ بنائیں، یہاں تک کہ اپنے خیالوں میں بھی۔ ہم جو کچھ کرتے ہیں، اُس کے ذمے‌دار ہم خود ہی ہوتے ہیں۔—‏گل 6:‏7‏۔‏

16.‏ آپ صحیح کام کرنے کے اپنے عزم کو مضبوط کیسے کر سکتے ہیں؟‏

16 اپنی خامیوں کو پہچاننے کے ساتھ ساتھ یہ عزم بھی کریں کہ آپ اِن سے لڑنے میں ہمت نہیں ہاریں گے۔ (‏1-‏کُر 9:‏26، 27؛‏ 1-‏تھس 4:‏4؛‏ 1-‏پطر 1:‏15، 16‏)‏ اِس بارے میں سوچیں کہ کون سی باتیں آپ کے لیے بہت بڑی آزمائش بن سکتی ہیں اور ایسا کب ہو سکتا ہے۔ یہ کسی بھی طرح کی آزمائش ہو سکتی ہے اور یہ دن کے دوران کسی بھی ایسے وقت میں کھڑی ہو سکتی ہے جب آپ بڑی آسانی سے اِس کا شکار ہو سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہو سکتا ہے کہ آپ کے لیے آزمائش کا مقابلہ کرنا اُس وقت بہت مشکل ہو جب آپ تھکے ہوئے ہوں یا پھر بہت رات ہو چُکی ہو۔ تو آزمائش کا سامنا کرنے کے لیے خود کو تیار کریں اور یہ طے کریں کہ آپ اِس کا مقابلہ کرنے کے لیے کیا کریں گے۔ ایسا کرنے کا بہترین وقت یہ ہوگا کہ آپ آزمائش آنے سے پہلے ایسا کریں۔—‏اَمثا 22:‏3‏۔‏

17.‏ ہم یوسف سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟ (‏پیدائش 39:‏7-‏9‏)‏ (‏تصویروں کو بھی دیکھیں۔)‏

17 غور کریں کہ جب فوطیفار کی بیوی نے یوسف کو اپنے ساتھ ہم‌بستر ہونے کے لیے اُکسانے کی کوشش کی تو یوسف نے کیا کِیا۔ اُنہوں نے فوراً صاف لفظوں میں اُسے اِنکار کر دیا۔ ‏(‏پیدائش 39:‏7-‏9 کو پڑھیں۔)‏ اِس سے ہمیں کیا پتہ چلتا ہے؟ یہ کہ فوطیفار کی بیوی کے اُکسانے سے پہلے ہی یوسف نے صحیح کام کرنے کا عزم کِیا ہوا تھا۔ اِسی طرح آپ بھی آزمائش کے آنے سے پہلے ہی صحیح کام کرنے کے اپنے عزم کو مضبوط کر سکتے ہیں۔ اِس طرح جب آپ پر آزمائش آئے گی تو آپ کے لیے اُس فیصلے پر عمل کرنا زیادہ آسان ہوگا جو آپ پہلے سے ہی لے چُکے ہیں۔‏

تصویروں کا مجموعہ:‏ 1.‏ یوسف فوطیفار کی بیوی کے پاس سے بھاگ رہے ہیں۔ فوطیفار کی بیوی نے یوسف کی چادر پکڑی ہوئی ہے۔ 2.‏ سکول میں ایک نوجوان لڑکی ایک لڑکے سے فلرٹ کر رہی ہے لیکن وہ نوجوان لڑکا اُسے دیکھے بغیر وہاں سے گزر رہا ہے۔‏

یوسف کی طرح آزمائش کا فوراً مقابلہ کریں۔ (‏پیراگراف نمبر 17 کو دیکھیں۔)‏


‏”‏جائزہ لیتے رہیں“‏

18.‏ آپ غلط خواہشوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اَور کیا کر سکتے ہیں؟ (‏2-‏کُرنتھیوں 13:‏5‏)‏

18 غلط خواہشوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیں باقاعدگی سے ”‏اپنا جائزہ“‏ لینا چاہیے۔ ‏(‏2-‏کُرنتھیوں 13:‏5 کو پڑھیں۔)‏ ہمیں آئے دن اپنی سوچ اور کاموں پر غور کرنا چاہیے اور جہاں ضرورت محسوس ہو، خود میں بہتری لانی چاہیے۔ مثال کے طور پر اگر آپ کسی آزمائش کا مقابلہ کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے تو خود سے پوچھیں:‏ ”‏مجھے نہ کرنے میں کتنی دیر لگی تھی؟“‏ اگر آپ نے فوراً ایسا نہیں کِیا تھا تو خود کو نہ کوسیں۔ اِس کی بجائے یہ سوچیں کہ آپ خود میں بہتری لانے کے لیے کون سے قدم اُٹھا سکتے ہیں تاکہ آپ اگلی بار آزمائش کا اچھے سے مقابلہ کر سکیں۔ خود سے اِس طرح کے سوال پوچھیں:‏ ”‏اگر میرے ذہن میں گندی سوچ آ جاتی ہے تو کیا مَیں اِسے اپنے ذہن سے نکالنے کے لیے اَور تیزی سے کام لے سکتا ہوں؟ مَیں جس طرح کی فلمیں دیکھتا ہوں یا کتابیں پڑھتا اور گانے سنتا ہوں، کیا اُن کی وجہ سے میرے لیے آزمائش کا مقابلہ کرنا زیادہ مشکل ہو جاتا ہے؟ کیا مَیں گندے سین سے فوراً اپنی نظریں ہٹا لیتا ہوں؟ کیا مَیں یہ سمجھتا ہوں کہ ہمیں یہوواہ کے معیاروں پر چلنے سے فائدے کیوں ہوتے ہیں، بھلے ہی کبھی کبھار اِس کے لیے ہمیں ضبطِ‌نفس سے کام لینا پڑتا ہے؟“‏—‏زبور 101:‏3‏۔‏

19.‏ کبھی کبھار چھوٹی چھوٹی اور معمولی سی باتوں کی وجہ سے غلط خواہشوں سے لڑنا اَور بھی زیادہ مشکل کیسے ہو جاتا ہے؟‏

19 جب آپ اپنا جائزہ لے رہے ہوتے ہیں تو اِس بات کا دھیان رکھیں کہ آپ غلط کو صحیح ثابت کرنے کے لیے بہانے نہ بنائیں۔ بائبل میں لکھا ہے:‏ ”‏دل ہر چیز سے زیادہ دھوکے‌باز اور بے‌صبر ہے۔“‏ (‏یرم 17:‏9‏، ترجمہ نئی دُنیا‏)‏ اور یسوع مسیح نے کہا تھا کہ اِس دل کی وجہ سے ہی ہم میں ”‏بُری سوچ“‏ پیدا ہوتی ہے۔ (‏متی 15:‏19‏)‏ مثال کے طور پر اگر ایک شخص نے گندی تصویریں اور فلمیں دیکھنا چھوڑ دی ہیں تو شاید کچھ وقت بعد وہ جنسی خواہشیں بھڑکانے والی تصویروں کے بارے میں یہ سوچنے لگے کہ اِنہیں دیکھنے کا کوئی خطرہ نہیں ہوگا کیونکہ اِن میں لوگوں کو بغیر کپڑوں کے نہیں دِکھایا گیا۔ یا پھر شاید وہ یہ سوچنے لگے کہ ”‏اگر مَیں خیالوں ہی خیالوں میں گندی باتوں کے بارے میں سوچوں گا تو اِس میں کوئی حرج نہیں ہوگا۔ ہاں بس مجھے وہ کام نہیں کرنے جن کے بارے میں مَیں سوچ رہا ہوں۔“‏ اگر ایک شخص ایسی باتیں سوچے گا تو ایک طرح سے اُس کا دھوکے‌باز دل ”‏جسم کی خواہشوں کو پورا کرنے کے لیے منصوبے“‏ باندھ رہا ہوگا۔ (‏روم 13:‏14‏)‏ آپ ایسا کرنے سے کیسے بچ سکتے ہیں؟ اُن چھوٹی چھوٹی اور معمولی باتوں سے بھی خبردار رہیں جن کی وجہ سے آپ کوئی بڑی غلطی کر بیٹھ سکتے ہیں۔‏b ہر اُس خیال یا ”‏بُری سوچ“‏ کو اپنے ذہن سے نکال دیں جس کی وجہ سے آپ کا دل غلط کام کرنے کے بہانے بنانے لگے۔‏

20.‏ ہم مستقبل کے حوالے سے کس بات کے منتظر ہیں لیکن ابھی کیا چیز ہماری مدد کر سکتی ہے؟‏

20 ہم نے سیکھ لیا ہے کہ یہوواہ کی مدد سے ہم آزمائشوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ ہم فدیے کی نعمت کے لیے یہوواہ کے بہت شکرگزار ہیں جس کی وجہ سے ہمیں نئی دُنیا میں ہمیشہ کی زندگی پانے کی اُمید ملی ہے۔ یہ کتنی خوشی کی بات ہے نا کہ اُس وقت ہمارے دل میں غلط خواہشیں نہیں ہوں گی بلکہ ہم صاف دل کے ساتھ یہوواہ کی خدمت کر سکیں گے!‏ لیکن جب تک وہ وقت نہیں آتا، ہم اِس بات کا پکا یقین رکھ سکتے ہیں کہ ہم اپنی غلط خواہشوں کے آگے نہ تو بے‌بس ہیں اور نہ ہی اِن کی وجہ سے نااُمید ہیں۔ یہوواہ کی مدد سے ہم اپنی کوششوں میں کامیاب ہو سکتے ہیں اور غلط خواہشوں کے خلاف جنگ جیت سکتے ہیں!‏

آپ اِن سوالوں کے کیا جواب دیں گے:‏

  • کیا چیز بے‌بسی اور نااُمیدی سے لڑنے میں ہماری مدد کر سکتی ہے؟‏

  • ہم کیا کر سکتے ہیں تاکہ گُناہ ہم پر ’‏حکمرانی نہ کرے‘‏؟‏

  • ہم ”‏اپنا جائزہ“‏ کیسے لیتے رہ سکتے ہیں؟‏

گیت نمبر 122‏:‏ سچائی کی راہ پر قائم رہیں

a لفظ کی وضاحت‏:‏ بائبل میں لفظ ‏”‏گُناہ“‏ کا اِشارہ اکثر غلط کاموں کی طرف ہوتا ہے جیسے کہ چوری، زِناکاری یا قتل جیسے کاموں کی طرف۔ (‏خر 20:‏13-‏15؛‏ 1-‏کُر 6:‏18‏)‏ لیکن بائبل کی کچھ آیتوں میں لفظ ”‏گُناہ“‏ کا اِشارہ ہماری عیب‌دار حالت کی طرف کِیا گیا ہے۔ اِنسان اپنی پیدائش سے ہی گُناہ‌گار ہوتا ہے حالانکہ اُس وقت اُس نے کوئی غلط کام بھی نہیں کِیا ہوتا۔‏

b غور کریں کہ اَمثال 7:‏7-‏23 میں بتائے گئے نوجوان نے حرام‌کاری جیسا بڑا گُناہ کرنے سے پہلے بے‌وقوفی میں کون سے چھوٹے چھوٹے غلط قدم اُٹھائے۔‏

c تصویروں کی وضاحت‏:‏ دائیں:‏ایک بھائی ریسٹورنٹ میں بیٹھا ہے اور وہ دو ایسے آدمیوں کو دیکھ رہا ہے جو ہم‌جنس‌پرست ہیں۔ بائیں:‏ ایک بہن دو لوگوں کو سگریٹ پیتے ہوئے دیکھ رہی ہے۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں