یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م25 اگست ص.‏ 31
  • قارئین کے سوال

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • قارئین کے سوال
  • مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2025ء
  • ملتا جلتا مواد
  • مستقبل میں یہوواہ لوگوں کی عدالت کیسے کرے گا؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2024ء
  • ہرمجِدّون کی جنگ—‏خوشی یا خوف کا باعث؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—2019ء
  • ‏”‏بڑی مصیبت“‏ کے دوران یہوواہ کے وفادار رہیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—2019ء
  • ‏”‏ہم کو بتا کہ یہ باتیں کب ہوں گی؟“‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے—2013ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2025ء
م25 اگست ص.‏ 31

قارئین کے سوال

خوش‌خبری کی مُنادی کرنے کا کام کب ختم ہوگا؟‏

یسوع مسیح نے کہا تھا:‏ ”‏بادشاہت کی خوش‌خبری کی مُنادی ساری دُنیا میں کی جائے گی تاکہ سب قوموں کو گواہی ملے۔ پھر خاتمہ آئے گا۔“‏ (‏متی 24:‏14‏)‏ اِس آیت میں اور 6 آیت میں جس یونانی لفظ کا ترجمہ ”‏خاتمہ“‏ کِیا گیا ہے، اُس کا اِشارہ شیطان کی دُنیا کے مکمل خاتمے کی طرف ہے جو ہرمجِدّون کی جنگ پر ہوگا۔ (‏مُکا 16:‏14،‏ 16‏)‏ تو ہم تب تک خوش‌خبری کی مُنادی کرتے رہیں گے جب تک ہرمجِدّون کی جنگ شروع نہیں ہو جاتی۔ یہ نئی وضاحت ہے۔‏

پہلے ہم سمجھتے تھے کہ جب بابلِ‌عظیم کے تباہ ہونے پر بڑی مصیبت شروع ہوگی تو ہم خوش‌خبری کی مُنادی کرنا بند کر دیں گے۔ (‏مُکا 17:‏3،‏ 5،‏ 15، 16‏)‏ ہم مانتے تھے کہ بڑی مصیبت کا شروع ہونا اِس بات کا نشان ہوگا کہ ’‏یہوواہ کی خوشنودی کا سال‘‏ یعنی لوگوں کے پاس خوش‌خبری کو قبول کرنے کا موقع ختم ہو گیا ہے۔ (‏یسع 61:‏2‏)‏ ہم یہ بھی سوچتے تھے کہ صرف وہ لوگ بڑی مصیبت سے بچ جائیں گے جنہوں نے اِس کے شروع ہونے سے پہلے یہوواہ کے لیے اپنی وفاداری ثابت کی ہوگی۔ ایسے لوگوں کو ہم اُن یہودیوں کی طرح کہتے تھے جو 607 قبل‌ازمسیح میں یروشلم کی تباہی سے بچ گئے تھے۔ یہ یہودی یہوواہ کی عبادت کرتے تھے اور بُرائی سے نفرت کرتے تھے اِس لیے تباہی کے آنے سے پہلے ہی مجازی معنوں میں اُن کے ماتھوں پر یہ نشان لگا دیا گیا تھا کہ وہ اِس سے بچ جائیں گے۔ (‏حِز 5:‏11؛ 9:‏4)‏ لیکن یہ موازنہ صحیح نہیں ہے کیونکہ یہ یسوع کی اُس بات کے مطابق نہیں ہے جو اُنہوں نے متی 24:‏14 میں کہی تھی۔ اِس آیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ شاید لوگوں کے پاس ہرمجِدّون پر شیطان کی دُنیا کا خاتمہ ہونے سے پہلے تک خوش‌خبری کو قبول کرنے کا موقع ہوگا۔‏

متی 24:‏14 کی نئی وضاحت کی وجہ سے ہمیں مُکاشفہ 16:‏21 کے حوالے سے بھی اپنی وضاحت میں تبدیلی کرنے کی ضرورت ہے جہاں ”‏اَولوں کی آفت“‏ کا ذکر کِیا گیا ہے جو ”‏بڑی شدید“‏ تھی۔ اَور زیادہ تحقیق کرنے کے بعد یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ اِن دونوں آیتوں کا آپس میں تعلق ہے۔ وہ کیسے؟ اِس کا جواب ہمیں یہ جاننے سے مل سکتا ہے کہ بائبل میں خوش‌خبری کو قبول کرنے والوں اور اِسے ٹھکرانے والوں کے بارے میں کیا بتایا گیا ہے۔ پولُس رسول نے بتایا کہ ”‏نجات پانے والوں کے لیے“‏ بادشاہت کا پیغام خوشی کی خبر اور ”‏زندگی کی خوشبو“‏ ہے لیکن خدا کے دُشمنوں کے لیے یہ بُری خبر اور ”‏موت کی بُو“‏ ہے۔ (‏2-‏کُر 2:‏15، 16‏)‏ خدا کے دُشمن بادشاہت کے پیغام سے اِس لیے اِتنی نفرت کرتے ہیں کیونکہ یہ اُن کی دُنیا کا پردہ فاش کرتا ہے۔ اِس پیغام سے واضح ہوتا ہے کہ جس دُنیا سے وہ اِتنی محبت کرتے ہیں، وہ کتنی بُری ہے، اُس کا حکمران شیطان ہے اور یہ جلد تباہ ہونے والی ہے۔—‏یوح 7:‏7؛‏ 1-‏یوح 2:‏17؛‏ 5:‏19‏۔‏

تو بڑی مصیبت کے دوران ہم لوگوں کو یہوواہ کی بادشاہت کا پیغام پہلے سے بھی صاف اور سیدھے لفظوں میں بتائیں گے اور یہ پیغام پہلے سے بھی زیادہ لوگوں تک پہنچے گا۔ اِس کے نتیجے میں اَور زیادہ لوگ یہوواہ کا نام جان جائیں گے۔ (‏حِز 39:‏7)‏ کیا اُس وقت یعنی بابلِ‌عظیم کے تباہ ہونے کے بعد کچھ لوگ بادشاہت کے پیغام کی طرف کھنچے چلے آئیں گے جیسے کوئی میٹھی خوشبو کی طرف کھنچا چلا آتا ہے؟ ایسا کافی حد تک ممکن ہے۔ اُس وقت جب لوگ اپنی آنکھوں سے بابلِ‌عظیم کو تباہ ہوتے ہوئے دیکھیں گے تو ہو سکتا ہے کہ اُنہیں یہ یاد آئے یا پتہ چلے کہ یہوواہ کے گواہ بہت سالوں سے دوسروں کو یہ بتا رہے تھے کہ جھوٹے مذہب کو ختم کر دیا جائے گا۔‏

یہ بالکل ایسے ہی ہوگا جیسے پُرانے زمانے میں مصر میں ہوا تھا۔ غور کریں کہ جب یہوواہ مصریوں پر دس آفتیں لایا تھا تو اُس کے بعد کیا ہوا تھا۔ یہوواہ نے اُن آفتوں کے ذریعے ’‏مصر کے سب دیوتاؤں کو سزا دی تھی۔‘‏ اِس کے بعد جب یہوواہ کے بندے مصر سے نکل رہے تھے تو ”‏ایک ملی‌جلی گروہ“‏ بھی اُن کے ساتھ تھی جو بنی‌اِسرائیل میں سے نہیں تھی۔ (‏خر 12:‏12، 37، 38)‏ اِن لوگوں نے شاید یہوواہ کے بندوں کا ساتھ دینے کا فیصلہ تب کِیا ہوگا جب اُنہوں نے دیکھا کہ موسیٰ نے ہر آفت کے بارے میں جو بات کہی تھی، وہ واقعی پوری ہوئی تھی۔‏

بابلِ‌عظیم کی تباہی کے بعد جو بھی شخص یہوواہ کی عبادت کرنے کا فیصلہ کرے گا، اُس کے پاس یہ موقع ہوگا کہ وہ مسیح کے اُن بھائیوں کا ساتھ دے جو اُس وقت زمین پر ہوں گے۔ (‏متی 25:‏34-‏36،‏ 40‏)‏ بے‌شک بھیڑوں میں شمار ہونے کا یہ موقع ہرمجِدّون کی جنگ کے شروع ہونے سے تھوڑی دیر پہلے ختم ہو جائے گا کیونکہ ہرمجِدّون کی جنگ شروع ہونے سے پہلے زمین پر موجود باقی مسح‌شُدہ مسیحیوں کو بھی آسمان پر اجر مل جائے گا۔‏

اِس نئی وضاحت کی وجہ سے اب یہ بات اَور بھی نمایاں ہو گئی ہے کہ یہوواہ بہت ہی محبت اور رحم کرنے والا خدا ہے۔ واقعی ”‏وہ نہیں چاہتا کہ کوئی بھی شخص ہلاک ہو بلکہ وہ چاہتا ہے کہ سب لوگ توبہ کریں۔“‏—‏2-‏پطر 3:‏9‏۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں