مطالعے کا مضمون نمبر 23
گیت نمبر 2: یہوواہ تیرا نام ہے
آپ کی نظر میں یہوواہ کا نام کتنا اہم ہے؟
”یہوواہ فرماتا ہے: ”تُم میرے گواہ ہو۔““—یسع 43:10۔
غور کریں کہ . . .
یہوواہ کے نام کو پاک ثابت کرنے میں ہمارا کیا کردار ہے۔
1-2. ہم کیسے جانتے ہیں کہ یسوع کی نظر میں یہوواہ کا نام بہت اہم ہے؟
یسوع مسیح کی نظر میں یہوواہ کے نام سے زیادہ اَور کوئی چیز اہمیت نہیں رکھتی۔ کوئی بھی شخص دوسروں پر یہوواہ کا نام ظاہر کرنے کے لیے اُس حد تک نہیں گیا جس حد تک یسوع گئے۔پچھلے مضمون میں ہم نے سیکھا تھا کہ یسوع تو یہوواہ اور اُس کے نام کی بڑائی کرنے کی خاطر مرنے تک کو تیار تھے۔ (مر 14:36؛ عبر 10:7-9) اور جب مستقبل میں یسوع 1000 سال تک حکمرانی کر لیں گے تو اِس کے بعد وہ خوشی سے یہوواہ کو اپنا سارا اِختیار سونپ دیں گے تاکہ صرف اور صرف یہوواہ کے نام کی بڑائی ہو۔ (1-کُر 15:26-28) یسوع کے دل میں اپنے باپ کے نام کے لیے جتنی محبت ہے، اُس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ اُن کا اپنے آسمانی باپ سے رشتہ کیسا ہے۔ اِس بات میں ذرا سی بھی شک کی گنجائش نہیں کہ وہ یہوواہ سے بےاِنتہا محبت کرتے ہیں۔
2 یسوع اپنے باپ کے نام سے زمین پر آئے تھے۔ (یوح 5:43؛ 12:13) اُنہوں نے اپنے پیروکاروں پر اپنے باپ کا نام ظاہر کِیا۔ (یوح 17:6، 26) اُنہوں نے یہوواہ کے نام سے دوسروں کو تعلیم دی اور اُسی کے نام سے معجزے کیے۔ (یوح 10:25) اور جب یسوع نے اپنے باپ سے درخواست کی کہ وہ اُن کے شاگردوں کی حفاظت کرے تو اُنہوں نے کہا کہ یہوواہ ”اپنے نام کی خاطر“ ایسا کرے۔ (یوح 17:11) بےشک یسوع کو اپنے باپ کے نام سے بہت لگاؤ تھا۔ لیکن ذرا سوچیں کہ اگر ایک شخص یہوواہ کا نام ہی نہیں جانتا اور اِسے اِستعمال ہی نہیں کرتا تو وہ یسوع کا پیروکار ہونے کا دعویٰ کیسے کر سکتا ہے؟
3. اِس مضمون میں ہم کن باتوں پر غور کریں گے؟
3 سچے مسیحیوں کے طور پر ہم یسوع کے نقشِقدم پر چلتے ہوئے اُن کے باپ کے نام کی بہت عزت کرتے اور اِس سے بہت محبت کرتے ہیں۔ (1-پطر 2:21) اِس مضمون میں ہم دیکھیں گے کہ یہوواہ نے اُن لوگوں کو اپنا نام کیوں دیا ہے جو ”بادشاہت کی خوشخبری“ سناتے ہیں۔ (متی 24:14) ہم اِس بات پر بھی غور کریں گے کہ ہم میں سے ہر ایک کی نظر میں یہوواہ کا نام کتنا اہم ہونا چاہیے۔
’ایسی قوم جو اُس کے نام سے کہلائے‘
4. (الف)یسوع مسیح نے آسمان پر واپس جانے سے پہلے اپنے شاگردوں کو کون سا حکم دیا؟ (ب)اِس حکم کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہم کس سوال پر بات کریں گے؟
4 یسوع مسیح نے آسمان پر واپس جانے سے پہلے اپنے شاگردوں سے کہا: ”جب پاک روح آپ پر نازل ہوگی تو آپ کو قوت ملے گی اور آپ یروشلیم میں، سارے یہودیہ اور سامریہ میں اور زمین کی اِنتہا تک میرے گواہ ہوں گے۔“ (اعما 1:8) اِس سے پتہ چلتا ہے کہ یسوع کے شاگردوں نے صرف ملک اِسرائیل میں ہی نہیں بلکہ دُنیا کے کونے کونے میں خوشخبری پھیلا دینی تھی۔ آخرکار سب قوموں کے لوگوں کو یہ موقع ملنا تھا کہ وہ یسوع کے پیروکار بن سکیں۔ (متی 28:19، 20) لیکن یسوع نے اپنے شاگردوں سے کہا تھا کہ ’آپ میرے گواہ ہوں گے۔‘ تو کیا یسوع کے نئے شاگردوں کو یہوواہ کو جاننے اور اُس کے بارے میں گواہی دینے کی ضرورت تھی یا کیا اُنہوں نے صرف یسوع کے بارے میں ہی گواہی دینی تھی؟ اِس سوال کا جواب ہمیں اُن واقعات کو پڑھنے سے مل سکتا ہے جن کا ذکر اعمال 15 باب میں ہوا ہے۔
5. یروشلم میں رسولوں اور بزرگوں نے کیسے ظاہر کِیا کہ سب لوگوں کو یہوواہ کا نام جاننے کی ضرورت ہے؟ (تصویر کو بھی دیکھیں۔)
5 ذرا 49ء میں ہوئے ایک واقعے پر غور کریں۔ یروشلم میں رسولوں اور بزرگوں کی گورننگ باڈی اِس معاملے پر بات کرنے کے لیے جمع ہوئی کہ جو غیریہودی مسیحی بن گئے ہیں، اُنہیں ختنہ کرانے کی ضرورت ہے یا نہیں۔ باتچیت کے آخر پر یسوع کے سوتیلے بھائی یعقوب نے کہا: ”[پطرس]نے آپ کو تفصیل سے بتایا ہے کہ اب خدا نے غیریہودیوں پر توجہ دی ہے تاکہ اُن میں سے ایک ایسی قوم چُن لے جو اُس کے نام سے کہلائے۔“ یعقوب نے عاموس نبی کی بات کا حوالہ دیتے ہوئے آگے کہا: ”جو لوگ باقی رہ گئے ہیں، وہ دوسری قوموں کے ساتھ مل کر پورے دل سے یہوواہ کی تلاش کریں یعنی اُن لوگوں کے ساتھ جو میرے نام سے کہلاتے ہیں۔ یہ بات یہوواہ نے کہی ہے۔“ (اعما 15:14-18) تو یسوع کے نئے شاگردوں کو نہ صرف یہوواہ کے بارے میں سیکھنا تھا بلکہ ’اُس کے نام سے کہلانا‘ بھی تھا۔ اِس کا مطلب یہ تھا کہ اُنہیں دوسروں کو یہوواہ کے نام سے واقف کرانا تھا اور اُس خدا کی نمائندگی کرنی تھی جس کے نام کو اُنہوں نے اپنایا تھا۔
پہلی صدی عیسوی میں گورننگ باڈی میں شامل بزرگ یہ واضح طور پر سمجھ گئے کہ مسیحی وہ قوم ہیں جو یہوواہ کے نام سے کہلاتے ہیں۔ (پیراگراف نمبر 5 کو دیکھیں۔)
6-7. (الف)یسوع مسیح زمین پر کیوں آئے تھے؟ (ب)یسوع کے زمین پر آنے کی زیادہ اہم وجہ کیا تھی؟
6 یسوع کے نام کا مطلب ہے: ”یہوواہ نجات ہے۔“ اور یسوع نے واقعی ثابت کِیا کہ یہوواہ اُن کے ذریعے ایسے لوگوں کو نجات دیتا ہے جو اُن پر اور اُن کے باپ پر ایمان ظاہر کرتے ہیں۔ یسوع زمین پر اِنسانوں کی خاطر اپنی جان قربان کرنے آئے تھے۔ (متی 20:28) یسوع نے فدیہ ادا کرنے سے اِنسانوں کے لیے یہ ممکن بنایا کہ وہ اپنے گُناہوں کی معافی اور ہمیشہ کی زندگی حاصل کر سکیں۔—یوح 3:16۔
7 لیکن اِنسانوں کو نجات حاصل کرنے کی ضرورت ہی کیوں پڑی؟ باغِعدن میں کھڑے ہونے والے مسئلے کی وجہ سے۔ جیسا کہ ہم نے پچھلے مضمون میں دیکھا تھا، آدم اور حوّا نے یہوواہ کے خلاف بغاوت کی تھی اور یوں ہمیشہ تک زندہ رہنے کا موقع کھو دیا تھا۔ (پید 3:6، 24) تو یسوع مسیح زمین پر آدم اور حوّا کی اولاد کو نجات دِلانے کے لیے آئے تھے۔ لیکن اُن کے زمین پر آنے کی ایک اَور وجہ بھی تھی جو ہمیں نجات دِلانے سے بھی کہیں زیادہ اہم تھی۔ یاد کریں کہ باغِعدن میں شیطان نے یہوواہ کے نام کو بدنام کِیا تھا۔ (پید 3:4، 5) تو یہوواہ کے نام کا پاک ثابت ہونا بہت ضروری تھا۔ یسوع جانتے تھے کہ جب یہوواہ کا نام پاک ثابت ہو جائے گا تو اِنسانوں کو مکمل طور پر نجات مل جائے گی۔ یہوواہ کے نام کو پاک ثابت کرنے کے لیے یسوع سے بہتر شخص کوئی اَور ہو ہی نہیں سکتا تھا۔ کیوں؟ کیونکہ وہ یہوواہ کے نام سے آئے تھے اور اُنہوں نے صرف وہی کام کیے جو یہوواہ چاہتا تھا۔
اگر ایک شخص یہوواہ کا نام ہی نہیں جانتا اور اِسے اِستعمال ہی نہیں کرتا تو وہ یسوع کا پیروکار ہونے کا دعویٰ کیسے کر سکتا ہے؟
8. یسوع کی پیروی کرنے والے لوگوں کو کن باتوں کو تسلیم کرنے کی ضرورت تھی؟
8 یسوع مسیح پر ایمان ظاہر کرنے والے یہودیوں اور غیریہودیوں کو یہ تسلیم کرنا تھا کہ اُنہیں یسوع کے باپ یہوواہ کے ذریعے نجات مل سکتی ہے۔ (یوح 17:3) اِس کے علاوہ یسوع کی طرح اُنہیں بھی یہوواہ کے نام سے کہلانا تھا۔ اُنہیں یہ بھی سمجھنے کی ضرورت تھی کہ اُن کے لیے خدا کے نام کو پاک ثابت کرنا کتنا ضروری ہے۔ ایسا کرنے سے ہی اُنہیں نجات مل سکتی تھی۔ (اعما 2:21، 22) تو یسوع کے سب وفادار پیروکاروں کو ہی اُن کے اور یہوواہ دونوں کے بارے میں سیکھنے کی ضرورت تھی۔ اِسی لیے تو یسوع نے یوحنا 17 باب میں لکھی اپنی دُعا کے آخر میں یہ کہا: ”مَیں نے اِن کو تیرے نام کے بارے میں تعلیم دی ہے اور آئندہ بھی دوں گا تاکہ وہ محبت جو تُو میرے لیے رکھتا ہے، اِن میں بھی ہو اور مَیں اِن کے ساتھ متحد ہوں۔“—یوح 17:26۔
”تُم میرے گواہ ہو“
9. اگر ہم یسوع کی پیروی کرنا چاہتے ہیں تو ہمارے لیے کون سی بات سب سے اہم ہونی چاہیے؟
9 اب تک ہم نے جو کچھ سیکھا ہے، اُس سے یہ بات تو واضح ہو گئی ہے کہ یسوع کے سچے پیروکاروں کے طور پر ہمارے لیے یہوواہ کے نام کو پاک ثابت کرنا بہت ضروری ہے۔ (متی 6:9، 10) ہمارے لیے یہوواہ کا نام کسی بھی دوسری چیز سے زیادہ اہم ہونا چاہیے اور ہمیں اِسے اپنے کاموں سے ظاہر بھی کرنا چاہیے۔ لیکن ہم یہوواہ کے نام کو پاک کیسے مان سکتے ہیں اور یہ کیسے ثابت کر سکتے ہیں کہ شیطان نے یہوواہ پر جو بھی اِلزام لگائے ہیں، وہ سب جھوٹے ہیں؟
10. یسعیاہ کی کتاب کے 42 سے 44 ابواب میں کس مجازی مُقدمے کا ذکر کِیا گیا ہے؟ (یسعیاہ 43:9؛ 44:7-9) (تصویر کو بھی دیکھیں۔)
10 یسعیاہ کی کتاب کے 42 سے 44 ابواب میں اِس بات کو نمایاں کِیا گیا ہے کہ ہم یہوواہ کے نام کو پاک ثابت کرنے میں کتنا اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اِن ابواب میں ایک مجازی عدالت کا ذکر کِیا گیا ہے جس میں یہ مُقدمہ چل رہا ہے کہ کون سچا خدا ہے۔ یہوواہ اُن تمام لوگوں کو چیلنج کر رہا ہے جو اُس کی بجائے دوسرے خداؤں کی عبادت کرتے ہیں۔ وہ اُن سے کہہ رہا ہے کہ وہ آگے بڑھ کر اپنے خداؤں کے بارے میں گواہی دیں اور یہ ثابت کریں کہ اُن کے خدا سچے ہیں۔ مگر کوئی بھی ایسا نہیں کر سکا!—یسعیاہ 43:9؛ 44:7-9 کو پڑھیں۔
ہم کئی لحاظ سے ایک مجازی مُقدمے کا حصہ ہیں۔ (پیراگراف نمبر 10-11 کو دیکھیں۔)
11. یسعیاہ 43:10-12 میں یہوواہ نے اپنے بندوں سے کیا کہا ہے؟
11 یسعیاہ 43:10-12 کو پڑھیں۔ یہوواہ نے اپنے بندوں کے بارے میں کہا: ”تُم میرے گواہ ہو . . . اور مَیں خدا ہوں۔“ پھر یہوواہ نے اپنے بندوں سے یہ سوال کِیا: ”کیا میرے سوا کوئی اَور خدا ہے؟“ (یسع 44:8) تو یہوواہ نے ہمیں یہ اعزاز دیا ہے کہ ہم اِس سوال کا جواب دے سکیں۔ ہم اپنی باتوں اور اپنے کاموں سے ثابت کر سکتے ہیں کہ صرف یہوواہ ہی سچا خدا ہے اور کائنات میں اُس کے نام سے بڑھ کر اَور کوئی نام نہیں ہے۔ ہم جس طرح سے زندگی گزارتے ہیں، ہم اُس سے بھی ثابت کر سکتے ہیں کہ ہم سچے دل سے یہوواہ سے محبت کرتے ہیں اور اُس کے وفادار ہیں پھر چاہے شیطان ہماری زندگی کتنی ہی مشکل کیوں نہ بنا دے۔ اِس طرح ہمیں یہوواہ کے نام کو پاک ثابت کرنے کا موقع ملتا ہے۔
12. یسعیاہ 40:3، 5 میں لکھی پیشگوئی کیسے پوری ہوئی؟
12 آئیے ایک پیشگوئی پر غور کرتے ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یسوع مسیح نے یہوواہ کے بارے میں گواہی دی اور اُس کے نام کو پاک ثابت کِیا۔ خدا کے نبی یسعیاہ نے یہ پیشگوئی کی تھی کہ ایک شخص آئے گا جو ”یہوواہ کا راستہ تیار“ کرے گا۔ (یسع 40:3) یہ پیشگوئی کیسے پوری ہوئی؟ یوحنا بپتسمہ دینے والے وہ شخص ثابت ہوئے جنہوں نے یسوع کے لیے راستہ تیار کِیا۔ یسوع یہوواہ کے نام سے آئے تھے اور یہوواہ کے نام سے بات کرتے تھے۔ (متی 3:3؛ مر 1:2-4؛ لُو 3:3-6) یسعیاہ نبی نے پیشگوئی میں یہ بھی کہا تھا کہ ”یہوواہ کی شان ظاہر ہوگی۔“ (یسع 40:5) یہ بات کیسے پوری ہوئی؟ جب یسوع زمین پر آئے تو اُنہوں نے اپنے باپ کی اِتنی اچھی طرح سے نمائندگی کی کہ ایسے لگ رہا تھا جیسے یہوواہ خود زمین پر آیا ہو۔—یوح 12:45۔
13. ہم یسوع کی مثال پر کیسے عمل کر سکتے ہیں؟
13 یسوع مسیح کی طرح ہم بھی یہوواہ کے گواہ ہیں۔ ہم یہوواہ کے نام سے کہلاتے ہیں اور دوسروں کو اُس کے شاندار کاموں کے بارے میں بتاتے ہیں۔ لیکن یہوواہ کے بارے میں اچھی طرح سے گواہی دینے کے لیے ہمیں لوگوں کو یہ بھی بتانا ہوگا کہ یسوع نے یہوواہ کے نام کو پاک ثابت کرنے میں کتنا اہم کردار ادا کِیا۔ (اعما 1:8) یسوع یہوواہ کے سب سے پہلے گواہ تھے اور جتنی اچھی طرح سے اُنہوں نے یہوواہ کے بارے میں گواہی دی اُتنی کسی نے بھی نہیں دی۔ تو ہمیں اُن کی مثال پر عمل کرنا چاہیے۔ (مُکا 1:5) لیکن ہم اَور کیا کر سکتے ہیں تاکہ ہم یہ ثابت کر سکیں کہ یہوواہ کا نام ہماری نظر میں بہت اہم ہے؟
یہوواہ کا نام ہماری نظر میں کتنی اہمیت رکھتا ہے؟
14. جیسا کہ زبور 105:3 میں بتایا گیا ہے، ہم یہوواہ کے نام کے بارے میں کیسا محسوس کرتے ہیں؟
14 ہم یہوواہ کے نام پر فخر کرتے ہیں۔ (زبور 105:3 کو پڑھیں۔) یہوواہ کو اُس وقت بہت خوشی ہوتی ہے جب ہم اُس کے نام پر فخر کرتے ہیں۔ (یرم 9:23، 24؛ 1-کُر 1:31؛ 2-کُر 10:17) یہ ہمارے لیے بہت بڑے اعزاز کی بات ہے کہ ہم یہوواہ کے نام کی بڑائی کرتے ہیں اور اُس پر لگائے گئے اِلزامات کو جھوٹا ثابت کرتے ہیں۔ ہمیں کبھی بھی اِس بات پر شرمندہ نہیں ہونا چاہیے کہ ہم یہوواہ کے گواہ ہیں۔ اِس کی بجائے ہمیں اپنے ساتھ کام کرنے والوں، سکول میں پڑھنے والے بچوں اور اپنے پڑوسیوں کو فخر سے اِس بارے میں بتانا چاہیے۔ شیطان چاہتا ہے کہ ہم دوسروں کو یہوواہ کے نام کے بارے میں بتانا بند کر دیں۔ (یرم 11:21؛ مُکا 12:17) وہ تو جھوٹے نبیوں کے ذریعے لوگوں کے دلودماغ سے یہوواہ کا نام ہی بُھلا دینا چاہتا ہے۔ (یرم 23:26، 27) لیکن یہوواہ کے نام سے محبت کرنے کی وجہ سے ہم ”دن بھر خوشی مناتے ہیں۔“—زبور 5:11؛ 89:16۔
15. یہوواہ کا نام لینے کا کیا مطلب ہے؟
15 ہم یہوواہ کا نام لیتے رہیں گے۔ (یُوایل 2:32؛ روم 10:13، 14) یہوواہ کا نام لینے میں صرف اُس کا نام جاننا یا اِسے اِستعمال کرنا ہی شامل نہیں ہے۔ ہمیں اُس کی خوبیوں اور اُس کے احساسات کو بھی جاننے کی ضرورت ہے۔ اِس کے علاوہ ہمیں اُس کے ساتھ دوستی کرنے، اُس پر بھروسا کرنے اور مدد اور رہنمائی کے لیے اُس پر آس لگانے کی بھی ضرورت ہے۔ (زبور 20:7؛ 99:6؛ 116:4؛ 145:18) یہوواہ کا نام لینے کا مطلب یہ بھی ہے کہ ہم دوسروں کو اُس کے نام اور اُس کی شاندار خوبیوں کے بارے میں بتائیں اور اُن کی مدد کریں تاکہ وہ اپنے بُرے کاموں سے توبہ کر کے اپنی روِش بدلیں اور اِس طرح یہوواہ کو خوش کریں اور نجات پائیں۔—یسع 12:4؛ اعما 2:21، 38۔
16. ہم کیسے ثابت کر سکتے ہیں کہ شیطان جھوٹا ہے؟
16 ہم یہوواہ کے نام کی خاطر تکلیفیں سہنے کو تیار رہتے ہیں۔ (یعقو 5:10، 11) جب ہم مشکلوں میں بھی یہوواہ کے وفادار رہتے ہیں تو ہم ثابت کرتے ہیں کہ شیطان کتنا بڑا جھوٹا ہے۔ ایوب کے زمانے میں شیطان نے یہ دعویٰ کِیا تھا کہ ”اِنسان اپنی جان بچانے کے لیے اپنا سب کچھ دے سکتا ہے۔“ (ایو 2:4) اُس کا ماننا تھا کہ یہوواہ کے بندے تب تک ہی اُس کی خدمت کریں گے جب تک اُن کی زندگی میں سب کچھ اچھا چلتا رہے گا۔ لیکن جیسے ہی اُن پر مشکل وقت آئے گا، وہ یہوواہ سے مُنہ پھیر لیں گے۔ ایوب نے شیطان کے اِس دعوے کو جھوٹا ثابت کِیا۔ آج ہم بھی یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ ہم کسی بھی صورت میں یہوواہ کو نہیں چھوڑیں گے پھر چاہے شیطان ہم پر کوئی بھی مشکل لے آئے یا ہمیں کسی بھی وجہ سے بےحوصلہ کرنے کی کوشش کرے۔ ہم اِس بات کا پکا یقین رکھ سکتے ہیں کہ یہوواہ اپنے نام کی خاطر ہماری حفاظت کرتا رہے گا۔—یوح 17:11۔
17. پہلا پطرس 2:12 کے مطابق ہم اَور کس طرح سے یہوواہ کے نام کی بڑائی کر سکتے ہیں؟
17 ہم یہوواہ کے نام کا گہرا احترام کرتے ہیں۔ (اَمثا 30:9؛ یرم 7:8-11) چونکہ ہم یہوواہ کی نمائندگی کرتے ہیں اور اُس کے نام سے کہلاتے ہیں اِس لیے ہماری باتوں اور کاموں سے یا تو اُس کے نام کی بڑائی ہو سکتی ہے یا پھر اُس کی رُسوائی ہو سکتی ہے۔ (1-پطرس 2:12 کو پڑھیں۔) اِس لیے ہم پورے جی جان سے اپنی باتوں اور چالچلن سے یہوواہ کی بڑائی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اِس طرح ہم عیبدار ہونے کے باوجود یہوواہ کے نام کی بڑائی کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔
18. ہم اَور کس طرح سے یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ ہماری نظر میں یہوواہ کا نام بہت اہم ہے؟ (فٹنوٹ کو بھی دیکھیں۔)
18 ہم اپنی عزت سے زیادہ یہوواہ کے نام اور اُس کی عزت کی پرواہ کرتے ہیں۔ (زبور 138:2) ایسا کرنا ضروری کیوں ہے؟ کیونکہ یہوواہ کے نام سے محبت کرنے کی وجہ سے لوگ اکثر ہم سے نفرت کرتے ہیں اور ہمارا نام خراب کرتے ہیں۔a یسوع مسیح تو یہوواہ کے نام کی خاطر ایک مُجرم کے طور پر شرمناک موت تک مرنے کو تیار تھے۔ اُنہوں نے ”بےعزتی کی پرواہ نہیں کی“ یعنی وہ اِس بات کی وجہ سے پریشان نہیں ہوئے کہ لوگ اُن کے بارے میں کیا سوچیں گے۔ (عبر 12:2-4) اِس کی بجائے اُنہوں نے اپنا سارا دھیان یہوواہ کی مرضی پوری کرنے پر رکھا۔—متی 26:39۔
19. آپ یہوواہ کے نام کے بارے میں کیسا محسوس کرتے ہیں اور کیوں؟
19 ہم یہوواہ کے نام پر فخر محسوس کرتے ہیں اور اُس کا گواہ کہلانے کو بہت بڑا اعزاز خیال کرتے ہیں۔ ہم یہوواہ کے نام کی اِتنی قدر کرتے ہیں کہ ہم اِس کی خاطر ہر طرح کی شرمندگی جھیلنے کو تیار ہیں۔ ہماری نظر میں یہوواہ کا نام ہماری اپنی عزت اور شان سے بڑھ کر ہے۔ تو آئیے یہ عزم کریں کہ ہم یہوواہ کے نام کی بڑائی کرتے رہیں گے پھر چاہے شیطان ہمیں ایسا کرنے سے روکنے کی جیتوڑ کوشش کرے۔ یوں ہم ثابت کریں گے کہ یسوع مسیح کی طرح ہم بھی یہوواہ کے نام کو کسی بھی دوسری چیز سے کہیں زیادہ اہم سمجھتے ہیں۔
گیت نمبر 10: یہوواہ کی حمد کریں!
a جب ایوب نے اپنے بچوں اور مالودولت کو کھویا تھا تو اُنہوں نے ”نہ تو گُناہ کِیا اور نہ ہی خدا پر کچھ غلط کرنے کا اِلزام لگایا۔“ (ایو 1:22؛ 2:10) لیکن جب اُن کے تین دوستوں نے اُن کی نیکنامی پر اُنگلی اُٹھائی اور اُن پر غلط کام کرنے کے اِلزام لگائے تو ایوب صرف اپنے بارے میں سوچنے لگے اور ”بےتُکی باتیں“ کرنے لگے۔ وہ یہوواہ کے نام کو پاک ثابت کرنے کی بجائے اپنے نام اور اپنی عزت کا دِفاع کرنے لگ گئے۔—ایو 6:3؛ 13:4، 5؛ 32:2؛ 34:5۔