یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م25 اپریل ص.‏ 2-‏7
  • ‏”‏تُم اُسے جس کی پرستش کرو گے چُن لو“‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • ‏”‏تُم اُسے جس کی پرستش کرو گے چُن لو“‏
  • مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2025ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • یسوع مسیح نے یہوواہ کی عبادت کرنے کا فیصلہ کیوں کِیا؟‏
  • یہوواہ ہماری عبادت کا حق‌دار کیوں ہے؟‏
  • ہم نے یہوواہ کی عبادت کرنے کا فیصلہ کیوں کِیا ہے؟‏
  • یہوواہ کی عبادت کرتے رہیں
  • خاکساری سے تسلیم کریں کہ آپ سب باتوں کو نہیں جانتے
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2025ء
  • کبھی نہ بھولیں کہ یہوواہ ”‏زندہ خدا“‏ ہے!‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2024ء
  • دیکھیں کہ اِن سوالوں کے کیا جواب ہیں۔‏
    2025ء-‏2026ء حلقے کا اِجتماع حلقے کے نگہبان کے ساتھ
  • ایسے فیصلے کریں جن سے ثابت ہو کہ آپ یہوواہ پر بھروسا کرتے ہیں
    مسیحی زندگی اور خدمت—‏اِجلاس کا قاعدہ 2023ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2025ء
م25 اپریل ص.‏ 2-‏7

مطالعے کا مضمون نمبر 14

گیت نمبر 8‏:‏ یہوواہ ہماری پناہ‌گاہ ہے

‏”‏تُم اُسے جس کی پرستش کرو گے چُن لو“‏

‏”‏اب رہی میری اور میرے گھرانے کی بات سو ہم تو[‏یہوواہ]‏کی پرستش کریں گے۔“‏‏—‏یشو 24:‏15۔‏

غور کریں کہ ‏.‏ ‏.‏ ‏.‏

اِس مضمون کے ذریعے ہم یہ کیسے یاد رکھ پائیں گے کہ ہم نے یہوواہ کی عبادت کرنے کا فیصلہ کیوں کِیا ہے۔‏

1.‏ سچی خوشی پانے کے لیے ہمیں کیا کرنا چاہیے اور کیوں؟ (‏یسعیاہ 48:‏17، 18‏)‏

ہمارا آسمانی باپ ہم سے گہری محبت کرتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ ہم ابھی بھی اور مستقبل میں بھی ہمیشہ تک خوش رہیں۔ (‏واعظ 3:‏12، 13‏)‏ اُس نے ہمارے اندر بہت سے شان‌دار کام کرنے کی صلاحیت ڈالی ہے لیکن اُس نے ہم میں یہ صلاحیت نہیں ڈالی کہ ہم خود طے کر سکیں کہ کیا اچھا ہے اور کیا بُرا۔ (‏واعظ 8:‏9؛‏ یرم 10:‏23‏)‏ وہ جانتا ہے کہ ہمیں اُس کی عبادت کرنے اور اُس کے معیاروں کے مطابق زندگی گزارنے سے ہی سچی خوشی مل سکتی ہے۔‏‏—‏یسعیاہ 48:‏17، 18 کو پڑھیں۔‏

2.‏ شیطان ہمیں کس بات کا یقین دِلانا چاہتا ہے لیکن یہوواہ نے اُس کے دعوے کو جھوٹا ثابت کرنے کے لیے کیا کِیا ہے؟‏

2 شیطان ہمیں اِس بات کا یقین دِلانا چاہتا ہے کہ ہم یہوواہ کی عبادت کیے بغیر بھی خوش رہ سکتے ہیں اور خود اپنے لیے اچھے اور بُرے کا معیار قائم کر سکتے ہیں۔ (‏پید 3:‏4، 5‏)‏ یہوواہ نے شیطان کے اِس دعوے کو جھوٹا ثابت کرنے کے لیے اِنسانوں کو کچھ وقت کے لیے ایک دوسرے پر حکمرانی کرنے کی اِجازت دی ہے۔ ہمیں اِس بات کے ثبوت ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں کہ اِنسان کے حکمرانی کرنے کا کیا نتیجہ نکلا ہے۔ ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں کہ ایسا کرنے کی وجہ سے کتنا نقصان ہوا ہے۔ لیکن بائبل میں ہمیں ایسے آدمیوں اور عورتوں کی مثالیں ملتی ہیں جن کی زندگی سے ثابت ہوا ہے کہ یہوواہ کی عبادت کرنے سے اُنہیں کتنی خوشی ملی۔ اِن میں سے سب سے بڑی مثال تو یسوع مسیح کی ہے۔ آئیے سب سے پہلے کچھ ایسی وجوہات پر غور کرتے ہیں جن کی بِنا پر یسوع نے یہوواہ کی عبادت کرنے کا فیصلہ کِیا۔ پھر ہم دیکھیں گے کہ ہمارا آسمانی باپ اِس بات کا حق‌دار کیوں ہے کہ ہم اُس کی عبادت کریں۔ اور آخر میں ہم کچھ ایسی وجوہات پر غور کریں گے جن کی بِنا پر ہم نے یہوواہ کی عبادت کرنے کا فیصلہ کِیا ہے۔‏

یسوع مسیح نے یہوواہ کی عبادت کرنے کا فیصلہ کیوں کِیا؟‏

3.‏ شیطان نے یسوع مسیح کو کس بات کی پیشکش کی اور یسوع نے کیا کرنے کا فیصلہ کِیا؟‏

3 جب یسوع زمین پر تھے تو اُنہیں یہ چُننا تھا کہ وہ کس کی عبادت کریں گے۔ مثال کے طور پر جب اُنہوں نے بپتسمہ لیا تو اِس کے تھوڑی ہی دیر بعد شیطان نے اُنہیں دُنیا کی تمام بادشاہتیں دِکھائیں۔ اُس نے یسوع کو یہ پیشکش کی کہ اگر وہ اُسے ایک بار سجدہ کریں گے تو وہ اُنہیں یہ سب بادشاہتیں دے دے گا۔ لیکن یسوع نے اُس سے کہا:‏ ”‏چلے جاؤ، شیطان!‏ کیونکہ پاک صحیفوں میں لکھا ہے کہ ”‏صرف یہوواہ اپنے خدا کی پرستش کرو اور صرف اُسی کی عبادت کرو۔“‏“‏ (‏متی 4:‏8-‏10‏)‏ یسوع نے یہوواہ کی عبادت کرنے کا فیصلہ کیوں کِیا؟ آئیے اِس کی کچھ وجوہات پر غور کرتے ہیں۔‏

4-‏5.‏ کچھ ایسی وجوہات بتائیں جن کی بِنا پر یسوع نے یہوواہ کی عبادت کرنے کا فیصلہ کِیا۔‏

4 یسوع مسیح نے یہوواہ کی عبادت کرنے کا فیصلہ کیوں کِیا؟ اِس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ وہ اپنے باپ یہوواہ سے بے‌پناہ اور اٹوٹ محبت کرتے تھے۔ (‏یوح 14:‏31‏)‏ وہ اِس لیے بھی یہوواہ کی عبادت کرتے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ صرف یہوواہ کی ہی عبادت کی جانی چاہیے۔ (‏یوح 8:‏28، 29؛‏ مُکا 4:‏11‏)‏ یسوع کو پتہ تھا کہ یہوواہ نے ہمیں زندگی دی ہے اور دل کھول کر اَور بھی بے‌شمار نعمتیں دی ہیں۔ اِس کے علاوہ وہ جانتے تھے کہ یہوواہ ایسا خدا ہے جس پر ہم مکمل بھروسا کر سکتے ہیں۔ (‏زبور 33:‏4؛‏ 36:‏9؛‏ یعقو 1:‏17‏)‏ یہوواہ نے ہمیشہ یسوع سے سچ بولا تھا اور یسوع کے پاس جو کچھ تھا، وہ سب یہوواہ نے ہی اُنہیں دیا تھا۔ (‏یوح 1:‏14‏)‏ لیکن شیطان تو یہوواہ کے بالکل اُلٹ ہے۔ وہ اِنسانوں کی موت کی وجہ بنا ہے۔ وہ جھوٹا، لالچی اور خودغرض ہے۔ (‏یوح 8:‏44‏)‏ یسوع اپنے باپ یہوواہ کو اچھی طرح سے جانتے تھے اور وہ شیطان کی اصلیت بھی اچھی طرح سے جانتے تھے۔ اِس وجہ سے وہ شیطان کی طرح بننے اور اپنے باپ کے خلاف جانے کا سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔—‏فِل 2:‏5-‏8‏۔‏

5 یسوع مسیح نے اِس لیے بھی یہوواہ کی عبادت کرنے کا فیصلہ کِیا کیونکہ وہ اُن باتوں کو دیکھنے کے منتظر تھے جو اُن کے وفادار رہنے سے پوری ہونی تھیں۔ (‏عبر 12:‏2‏)‏ وہ جانتے تھے کہ اگر وہ اپنے باپ کے وفادار رہیں گے تو وہ اُس کے نام کو پاک ثابت کر پائیں گے اور اُن تمام مصیبتوں کو دُور کر پائیں گے جو شیطان کی وجہ سے کھڑی ہوئی ہیں۔‏

یہوواہ ہماری عبادت کا حق‌دار کیوں ہے؟‏

6-‏7.‏ (‏الف)‏آج بہت سے لوگ یہوواہ کی عبادت کیوں نہیں کرتے؟ (‏ب)‏صرف یہوواہ ہی عبادت کا حق‌دار کیوں ہے؟‏

6 آج بہت سے لوگ یہوواہ کی عبادت نہیں کرتے کیونکہ وہ ابھی تک یہوواہ کی شان‌دار خوبیوں کو نہیں جان پائے اور وہ اِس بات سے بالکل بے‌خبر ہیں کہ یہوواہ نے اُن کے لیے کیا کچھ کِیا ہے۔ یہی بات ایتھنز میں رہنے والے اُن لوگوں کے بارے میں بھی سچ تھی جنہیں پولُس نے مُنادی کی۔—‏اعما 17:‏19، 20،‏ 30،‏ 34‏۔‏

7 پولُس نے اِن لوگوں کو بتایا کہ سچے خدا نے سب ”‏اِنسانوں کو زندگی اور سانس اور سب چیزیں عطا“‏ کی ہیں۔ پھر اُنہوں نے آگے کہا:‏ ”‏اُسی کے ذریعے ہم زندہ ہیں اور چلتے پھرتے اور موجود ہیں۔“‏ یہوواہ ہمارا خالق ہے جس نے ”‏ایک آدمی کے ذریعے تمام قوموں کو پیدا کِیا۔“‏ اِس لیے صرف وہی اِس بات کا حق‌دار ہے کہ ہم اُس کی عبادت کریں۔—‏اعما 17:‏25، 26،‏ 28‏۔‏

8.‏ یہوواہ کون سا کام کبھی نہیں کرے گا؟ وضاحت کریں۔‏

8 کائنات کا خالق اور حاکم ہونے کے ناتے یہوواہ لوگوں کو اِس بات پر مجبور کر سکتا تھا کہ وہ اُس کی عبادت کریں۔ لیکن وہ ایسا کبھی نہیں کرے گا۔ اِس کی بجائے اُس نے اِنسانوں کو اِس بات کے ثبوت دیے ہیں کہ وہ موجود ہے اور ہر ایک سے دل سے محبت کرتا ہے۔ یہوواہ چاہتا ہے کہ لوگ اپنی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو اِستعمال کریں اور اِن ثبوتوں کی بِنا پر خود فیصلہ کریں کہ وہ اُس کی عبادت کریں گے یا نہیں۔ اُس کی خواہش ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ ہمیشہ تک اُس کے دوست بنیں۔ (‏1-‏تیم 2:‏3، 4‏)‏ اِسی لیے یہوواہ نے ہمیں تربیت دی ہے کہ ہم دوسروں کو اُس کے مقصد اور اُن اچھی باتوں کے بارے میں بتائیں جو وہ اِنسانوں کے لیے کرنے والا ہے۔ (‏متی 10:‏11-‏13؛‏ 28:‏19، 20‏)‏ چونکہ ہم نے یہوواہ کی عبادت کرنے کا فیصلہ کِیا ہے اِس لیے یہوواہ نے ہم سے محبت کرنے کی وجہ سے ہمارے لیے کلیسیاؤں کا بندوبست کِیا ہے تاکہ ہم متحد ہو کر اُس کی عبادت کر سکیں۔ اُس نے ہمارے لیے شفیق نگہبان بھی مقرر کیے ہیں تاکہ وہ ہمارا خیال رکھ سکیں۔—‏اعما 20:‏28‏۔‏

9.‏ یہوواہ نے کن طریقوں سے ثابت کِیا ہے کہ وہ سب اِنسانوں سے محبت کرتا ہے؟‏

9 یہوواہ کی محبت کا ایک شان‌دار ثبوت اِس بات سے ملتا ہے کہ وہ اُن لوگوں کے ساتھ کیسے پیش آتا ہے جو اُس کے وجود کو ماننے سے اِنکار کرتے ہیں۔ وہ تو اِن لوگوں کو بھی اچھی چیزیں دینے سے پیچھے نہیں ہٹتا۔ ذرا اِس کے کچھ ثبوتوں پر غور کریں۔ پوری اِنسانی تاریخ کے دوران کروڑوں لوگ صحیح اور غلط کے حوالے سے اپنے معیاروں کے مطابق زندگی جیتے آئے ہیں۔ لیکن یہوواہ پھر بھی بڑی شفقت سے اِن لوگوں کو وہ چیزیں دے رہا ہے جو زندہ رہنے اور زندگی کا مزہ لینے کے لیے ضروری ہیں۔ (‏متی 5:‏44، 45؛‏ اعما 14:‏16، 17‏)‏ یہوواہ کی وجہ سے ہی اِن لوگوں کو اپنے گھر والے اور دوست ملے ہیں جو اُن سے پیار کرتے ہیں؛ اُسی کی وجہ سے اُنہیں اولاد جیسی نعمت ملی ہے اور اُسی کی وجہ سے وہ اپنی محنت کا پھل حاصل کر سکتے ہیں۔ (‏زبور 127:‏3؛‏ واعظ 2:‏24‏)‏ واقعی ہم صاف طور پر دیکھ سکتے ہیں کہ ہمارا آسمانی باپ سب اِنسانوں سے کتنی محبت کرتا ہے۔ (‏خر 34:‏6)‏ آئیے اب ہم اپنے ذہنوں میں کچھ ایسی باتیں تازہ کرتے ہیں جن کی بِنا پر ہم نے یہوواہ کی عبادت کرنے کا فیصلہ کِیا ہے اور دیکھتے ہیں کہ اِس کے بدلے میں یہوواہ نے ہمیں کون سی برکتیں دی ہیں۔‏

ہم نے یہوواہ کی عبادت کرنے کا فیصلہ کیوں کِیا ہے؟‏

10.‏ (‏الف)‏ہم کس اہم وجہ کی بِنا پر یہوواہ کی عبادت کرتے ہیں؟ (‏متی 22:‏37‏)‏ (‏ب)‏آپ کو یہ جان کر کیسا لگتا ہے کہ یہوواہ آپ کو سمجھتا ہے اور آپ کو معاف کرنے کے لیے تیار رہتا ہے؟ (‏زبور 103:‏13، 14‏)‏

10 یسوع مسیح کی طرح ہماری نظر میں بھی یہوواہ کی عبادت کرنے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم اپنے آسمانی باپ سے بے‌پناہ محبت کرتے ہیں۔ ‏(‏متی 22:‏37 کو پڑھیں۔)‏ جب ہم نے یہوواہ کی شان‌دار خوبیوں کو جانا تو ہم اُس کی طرف کھنچے چلے گئے اور اُس سے محبت کیے بغیر نہیں رہ سکے۔ مثال کے طور پر ذرا یہوواہ کے صبر کی خوبی پر غور کریں۔ بائبل میں بتایا گیا ہے کہ یہوواہ نافرمان اِسرائیلیوں کے ساتھ ’‏سالوں تک صبر سے پیش آتا رہا۔‘‏ (‏نحم 9:‏30‏)‏ یہوواہ ہمیشہ اِس بات کو یاد رکھتا ہے کہ اُس کے بندے عیب‌دار اور خاک ہیں۔ ‏(‏زبور 103:‏13، 14 کو پڑھیں۔)‏ جب جب آپ اِس بارے میں سوچتے ہیں کہ یہوواہ نے آپ کو کس طرح سے معاف کِیا ہے اور وہ آپ کے ساتھ کتنے صبر سے پیش آیا ہے تو کیا آپ کے دل میں ہمیشہ تک اُس کی عبادت کرنے کی خواہش نہیں بڑھتی؟‏

11.‏ ہم نے اَور کن وجوہات کی بِنا پر یہوواہ کی عبادت کرنے کا فیصلہ کِیا ہے؟‏

11 ہم اِس لیے بھی دل سے یہوواہ کی عبادت کرنا چاہتے ہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ صرف اُسی کی عبادت کی جانی چاہیے۔ (‏متی 4:‏10‏)‏ اِس کے علاوہ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ اگر ہم یہوواہ کے وفادار رہیں گے تو اِس کے بہت اچھے نتیجے نکلیں گے۔ مثال کے طور پر اِس سے یہوواہ کا نام پاک ثابت ہوگا، شیطان جھوٹا ثابت ہوگا اور ہمارے آسمانی باپ کا دل خوش ہوگا۔ اور اگر ہم آج یہوواہ کی عبادت کرنے کا فیصلہ کریں گے تو ہمارے پاس ہمیشہ تک اُس کی عبادت کرنے کا موقع ہوگا۔—‏یوح 17:‏3‏۔‏

12-‏13.‏ ہم نے بہن جینی اور بہن پامیلا سے کیا سیکھا ہے؟‏

12 بچو اور نوجوانو!‏ آپ بھی اپنے دل میں یہوواہ کے لیے گہری محبت پیدا کر سکتے ہیں۔ پھر جیسے جیسے آپ بڑے ہوں گے، یہ محبت آپ کے دل میں آگ کی طرح جلتی رہے گی۔ اِس سلسلے میں ذرا دو سگی بہنوں کی مثال پر غور کریں جن کے نام جینی اور پامیلاa ہیں۔ جب بہن جینی 11 سال کی اور بہن پامیلا 10 سال کی تھیں تو وہ یہوواہ کے گواہوں سے بائبل کورس کرنے لگیں۔ حالانکہ اُن کے امی ابو کو ایسا کرنے کا شوق نہیں تھا لیکن اُنہوں نے بہن جینی اور بہن پامیلا کو بائبل کورس کرنے کی اِجازت دے دی۔ بس اُن کی یہ شرط تھی کہ وہ ایک گھرانے کے طور پر ہفتے اِتوار کو اُن کے ساتھ چرچ جائیں۔ بہن جینی نے کہا:‏ ”‏میرے ہم‌عمر مجھ پر نشہ اور حرام‌کاری کرنے کا دباؤ ڈالتے تھے۔ لیکن یہوواہ کے گواہ مجھے بائبل سے جو تعلیم دے رہے تھے، اُس کی مدد سے مَیں اِس دباؤ کا ڈٹ کر مقابلہ کر سکی۔“‏

13 پھر کچھ سال بعد وہ دونوں بہنیں مبشر بن گئیں اور بعد میں پہل‌کاروں کے طور پر خدمت کرنے لگیں۔ ساتھ ہی ساتھ وہ اپنے بوڑھے ماں باپ کا بھی خیال رکھتی تھیں۔ ماضی کو یاد کرتے ہوئے بہن جینی نے کہا:‏ ”‏مَیں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ یہوواہ بڑی وفاداری سے اپنے دوستوں کا خیال رکھتا ہے اور 2-‏تیمُتھیُس 2:‏19 میں لکھی بات کے مطابق ”‏اپنے بندوں کو جانتا ہے۔“‏“‏ اِس بات میں کوئی شک نہیں کہ یہوواہ اُن لوگوں کا پورا خیال رکھتا ہے جو اُس سے محبت کرتے ہیں اور اُس کی عبادت کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔‏

14.‏ ہم اپنی باتوں اور کاموں سے یہوواہ کے نام پر لگے اِلزامات کو جھوٹا کیسے ثابت کر سکتے ہیں؟ (‏تصویروں کو بھی دیکھیں۔)‏

14 ہم یہوواہ کے نام پر لگے ہر اِلزام کو غلط ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ مثال کے طور پر فرض کریں کہ آپ کی ایک ایسے شخص سے پکی دوستی ہے جو بہت ہی مہربان، فراخ‌دل اور دل کھول کر معاف کرنے والا اِنسان ہے۔ لیکن ایک دن آپ سنتے ہیں کہ ایک شخص آپ کے اُس دوست پر یہ اِلزام لگاتا ہے کہ وہ بہت ہی ظالم اور بے‌ایمان شخص ہے۔ آپ اپنے دوست کے بارے میں ایسی جھوٹی باتیں سُن کر کیا کریں گے؟ یقیناً آپ اُس کا دِفاع کریں گے۔ اِسی طرح جب شیطان اور اُس کے حمایتی یہوواہ کے نام کو بدنام کرنے کے لیے اُس کے بارے میں طرح طرح کے جھوٹ پھیلاتے ہیں تو ہم دوسروں کو یہوواہ کے بارے میں سچائی بتاتے ہیں اور ڈٹ کر اُس کے نام کا دِفاع کرتے ہیں۔ (‏زبور 34:‏1؛‏ یسع 43:‏10‏)‏ جب ہم اپنی باتوں اور کاموں سے یہوواہ کا دِفاع کرتے ہیں تو ہم ثابت کرتے ہیں کہ ہم پورے دل‌وجان سے اُس کی عبادت کرنا چاہتے ہیں۔‏

ایک لاوی تانبے کی قربان‌گاہ اور ہیکل کی ڈیوڑھی کے بیچ کھڑا ہے۔‏

کیا آپ یہوواہ کے نام کا دِفاع کریں گے؟ (‏پیراگراف نمبر 14 کو دیکھیں۔)‏b


15.‏ جب پولُس نے یہوواہ کی خاطر اپنی زندگی میں بڑی بڑی تبدیلیاں کیں تو اُنہیں کون سے فائدے ہوئے؟ (‏فِلپّیوں 3:‏7، 8‏)‏

15 ہم یہوواہ کو خوش کرنے اور بڑھ چڑھ کر اُس کی عبادت کرنے کے لیے اپنی زندگی میں تبدیلیاں لانے کو تیار رہتے ہیں۔ ذرا اِس سلسلے میں پولُس رسول کی مثال پر غور کریں۔ جب وہ یہودی مذہب کا حصہ تھے تو اُن کا اپنے معاشرے میں بڑا رُتبہ اور نام تھا۔ لیکن مسیح کا شاگرد بننے اور یہوواہ کی عبادت کرنے کے لیے اُنہوں نے یہودی مذہب کو چھوڑ دیا۔ (‏گل 1:‏14‏)‏ اِس کے نتیجے میں اُنہیں یہوواہ کی خدمت کرتے ہوئے بہت سی اچھی باتوں کا تجربہ ہوا اور اُنہیں مسیح کے ساتھ آسمان پر حکمرانی کرنے کا موقع ملا۔ اُنہیں کبھی بھی یہوواہ کی عبادت کرنے کے فیصلے پر پچھتاوا نہیں ہوا۔ اور اگر ہم نے بھی یہی فیصلہ کِیا ہے تو ہمیں بھی کبھی اپنے اِس فیصلے پر پچھتاوا نہیں ہوگا۔‏‏—‏فِلپّیوں 3:‏7، 8 کو پڑھیں۔‏

16.‏ ہم نے بہن جولیا سے کیا سیکھا ہے؟ (‏تصویروں کو بھی دیکھیں۔)‏

16 اگر ہم یہوواہ کی عبادت کو اپنی زندگی میں سب سے زیادہ اہمیت دیں گے تو ہمیں نہ صرف اب بلکہ مستقبل میں بھی برکتیں ملیں گی۔ اِس حوالے سے ذرا جولیا نام کی بہن کی مثال پر غور کریں۔ یہوواہ کا گواہ بننے سے پہلے بہن جولیا چھوٹی عمر سے ہی اپنے چرچ کی کوائر کا حصہ تھیں۔ وہ اِتنا اچھا گاتی تھیں کہ ایک پیشہ‌ور گلوکار نے اُن کے اِس ہنر کو نکھارنے کے لیے اُنہیں ٹریننگ دی تاکہ بہن جولیا پیشہ‌ور گلوکار بن سکیں۔ جلد ہی بہن جولیا ایک بڑی گلوکار بن گئیں اور بہت مشہور ہو گئیں۔ وہ بڑے جانے مانے موسیقی کے ہالوں میں گانے گاتی تھیں۔ جب بہن جولیا موسیقی کے ایک بہت مشہور سکول میں جاتی تھیں تو اُن کی کلاس کے ایک لڑکے نے اُن سے خدا کے بارے میں بات کی۔ اُس نے اُنہیں بتایا کہ خدا کا نام یہوواہ ہے۔ پھر جلد ہی بہن جولیا ہفتے میں دو بار گواہوں سے بائبل کورس کرنے لگیں۔ اُنہوں نے فیصلہ کِیا کہ وہ ایک گلوکار کے طور پر نام کمانے کی بجائے یہوواہ کی عبادت کو اپنی زندگی میں سب سے زیادہ اہمیت دیں گی۔ اُن کے لیے یہ فیصلہ کرنا آسان نہیں تھا۔ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏بہت سے لوگوں نے مجھ سے کہا کہ مَیں اپنے ہنر کو ضائع کر رہی ہوں۔ لیکن مَیں اپنی زندگی کو پوری طرح سے یہوواہ کی خدمت کرنے میں لگا دینا چاہتی تھی۔“‏ بہن جولیا کو یہ فیصلہ لیے ہوئے 30 سال سے زیادہ عرصہ ہو گیا ہے۔ آج وہ اپنے اِس فیصلے کے بارے میں کیسا محسوس کرتی ہیں؟ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏مجھے دلی سکون ملا ہے اور مجھے اِس بات کا پکا بھروسا ہے کہ یہوواہ مستقبل میں میرے دل کی ہر خواہش پوری کرے گا۔“‏—‏زبور 145:‏16‏۔‏

تصویروں کا مجموعہ:‏ اصلی واقعے پر مبنی منظر میں دِکھایا گیا ہے کہ بہن جولیا نے کون سا فیصلہ لیا۔ 1.‏ وہ ایک سٹیج پر بہت سے لوگوں کے سامنے گانا گا رہی ہیں۔ 2.‏ وہ عبادت‌گاہ میں اپنے شوہر اور اپنے ہم‌ایمانوں کے ساتھ مل کر خدا کی حمد میں گیت گا رہی ہیں۔‏

جب ہم اپنا پورا دھیان یہوواہ کی عبادت کرنے پر رکھتے ہیں تو ہماری زندگی خوشیوں سے بھر جاتی ہے۔ (‏پیراگراف نمبر 16 کو دیکھیں۔)‏c


یہوواہ کی عبادت کرتے رہیں

17.‏ (‏الف)‏جو لوگ ابھی یہوواہ کی عبادت نہیں کر رہے ہیں، اُنہیں کیا کرنا چاہیے اور کیوں؟ (‏ب)‏جو لوگ یہوواہ کی عبادت کرنے کا فیصلہ کر چُکے ہیں، اُنہیں کیا یاد رکھنا چاہیے؟‏

17 ہم اِس دُنیا کے خاتمے کے بہت قریب آ چُکے ہیں۔ پولُس رسول نے اِس حوالے سے لکھا:‏ ”‏”‏کچھ دیر“‏ باقی ہے اور ”‏آنے والا پہنچ جائے گا اور دیر نہیں کرے گا۔“‏“‏ (‏عبر 10:‏37‏)‏ اِن الفاظ سے ہمیں کیا پتہ چلتا ہے؟ ایک بات تو یہ کہ اب لوگوں کے پاس یہوواہ کی عبادت کرنے کا فیصلہ کرنے کے لیے بہت کم وقت رہ گیا ہے اِس لیے اُنہیں فوراً قدم اُٹھانا ہوگا۔ (‏1-‏کُر 7:‏29‏)‏ اور دوسرا یہ کہ اگر ہم یہوواہ کی عبادت کرنے کا فیصلہ کر چُکے ہیں تو ہمیں مصیبتوں میں ثابت‌قدم رہنا ہوگا جو صرف ”‏کچھ دیر“‏کے لیے ہوں گی۔‏

18.‏ یہوواہ اور یسوع ہم سے کیا چاہتے ہیں؟‏

18 یسوع مسیح لوگوں کی صرف یہی حوصلہ‌افزائی نہیں کرتے کہ وہ اُن کے شاگرد بن جائیں بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ اُن کے شاگرد اُن کے پیچھے پیچھے چلتے رہیں‏۔ (‏متی 16:‏24‏)‏ تو اگر ہم کئی سالوں سے یہوواہ کی عبادت کر رہے ہیں تو ہمیں پکا عزم کرنا چاہیے کہ ہم ایسا کرنا کبھی نہیں چھوڑیں گے۔ یہوواہ چاہتا ہے کہ ہم نے اُس کی عبادت کرنے کا جو فیصلہ لیا ہے، ہم اُس پر قائم رہیں۔ سچ ہے کہ ایسا کرنا مشکل ہو سکتا ہے لیکن ذرا سوچیں کہ ہمیں مستقبل میں ہی نہیں بلکہ ابھی بھی ایسا کرنے سے کتنی برکتیں اور خوشیاں مل رہی ہیں!‏—‏زبور 35:‏27‏۔‏

19.‏ ہم نے بھائی جین سے کیا سیکھا ہے؟‏

19 کچھ لوگوں کو لگتا ہے کہ اگر وہ یہوواہ کی عبادت کریں گے تو اُنہیں بہت کچھ قربان کرنا پڑے گا اور وہ زندگی کا مزہ نہیں لے پائیں گے۔ اگر آپ نوجوان ہیں تو کیا آپ کو لگتا ہے کہ یہوواہ کی عبادت کرنے سے آپ وہ کام نہیں کر پائیں گے جنہیں کرنے سے دوسروں کو مزہ آتا ہے؟ ذرا جین نام کے ایک جوان بھائی کی بات پر غور کریں جنہوں نے کہا:‏ ”‏مجھے لگتا تھا کہ یہوواہ کا گواہ بننے سے مجھ پر پابندیاں لگ جائیں گی۔ مَیں جن بچوں کے ساتھ پلا بڑھا تھا، اُنہیں دیکھ کر مجھے لگتا تھا کہ وہ بڑے مزے کی زندگی جی رہے ہیں جیسے کہ اُنہیں پارٹیاں کر کے، ڈیٹنگ کر کے اور تشدد والی ویڈیو گیمز کھیل کر بہت مزہ آتا تھا۔ لیکن میرا وقت بس عبادتوں میں جانے اور مُنادی کرنے میں ہی گزرتا تھا۔“‏ اِس سوچ کا بھائی جین پر کیا اثر ہوا؟ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏مَیں دو زندگیاں جینے لگا۔ کچھ وقت کے لیے تو مجھے ایسا کرنے میں بہت مزہ آیا۔ مگر اِس سے مجھے سچی خوشی نہیں مل رہی تھی۔ لیکن پھر مَیں بائبل کی اُن سچائیوں کے بارے میں سوچنے لگا جنہیں مَیں نظرانداز کر رہا تھا۔ مَیں نے سوچا کہ یہوواہ کے حکموں پر عمل کرنے سے کون سے فائدے ہوتے ہیں۔ پھر مَیں نے پورے دل سے یہوواہ کی عبادت کرنے کا فیصلہ کِیا۔ تب سے مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ یہوواہ میری ہر دُعا کا جواب دے رہا ہے۔“‏

20.‏ ہمارا کیا عزم ہونا چاہیے؟‏

20 زبور کو لکھنے والے ایک شخص نے یہوواہ کی حمد میں گیت گاتے ہوئے اُس سے کہا:‏ ”‏وہ شخص خوش رہتا ہے جسے تُو چُنتا ہے اور اپنے قریب لاتا ہے تاکہ وہ تیرے گھر کے صحنوں میں بسے۔“‏ (‏زبور 65:‏4‏)‏ تو آئیے عزم کریں کہ ہم یہوواہ کی عبادت کرنا کبھی نہیں چھوڑیں گے۔ دُعا ہے کہ ہم بھی یشوع کی طرح یہ کہہ سکیں:‏ ”‏اب رہی میری اور میرے گھرانے کی بات سو ہم تو[‏یہوواہ]‏کی پرستش کریں گے۔“‏—‏یشو 24:‏15۔‏

آپ اِن سوالوں کے کیا جواب دیں گے:‏

  • یسوع مسیح نے یہوواہ کی عبادت کرنے کا فیصلہ کیوں کِیا؟‏

  • یہوواہ ہماری عبادت کا حق‌دار کیوں ہے؟‏

  • آپ نے یہوواہ کی عبادت کرنے کا فیصلہ کیوں کِیا ہے؟‏

گیت نمبر 28‏:‏ یہوواہ کے دوست کون ہیں؟‏

a کچھ نام فرضی ہیں۔‏

b تصویر کی وضاحت‏:‏ ایک عورت اِجتماع کے ہال کے باہر یہوواہ کے گواہوں کے مخالفوں کو احتجاج کرتے ہوئے دیکھ رہی ہے۔ بعد میں وہ اُن گواہوں کی بات سُن رہی ہے جو کچھ فاصلے پر ٹرالی لگا کر کھڑے ہیں۔ وہ گواہ اُس عورت کو پاک کلام سے سچائی بتا رہے ہیں۔‏

c تصویر کی وضاحت:‏ اصلی واقعے پر مبنی منظر:‏ بہن جولیا نے اپنی زندگی میں یہوواہ کی عبادت کرنے کو سب سے زیادہ اہمیت دینے کا فیصلہ کِیا۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں