مطالعے کا مضمون نمبر 22
گیت نمبر 15: یہوواہ کے پہلوٹھے کی حمد کریں!
یسوع کی نظر میں یہوواہ کا نام اِتنا اہم کیوں تھا؟
”مَیں نے تیرا نام . . . لوگوں پر ظاہر کِیا ہے۔“—یوح 17:6۔
غور کریں کہ . . .
یسوع نے دوسروں پر یہوواہ کا نام کیسے ظاہر کِیا اور اُنہوں نے کیسے ثابت کِیا کہ یہوواہ کا نام پاک ہے اور شیطان نے یہوواہ پر جو بھی اِلزام لگائے ہیں، وہ سب جھوٹے ہیں۔
1-2. (الف)یسوع مسیح نے اپنی موت سے پہلے کی رات کیا کِیا؟ (ب)اِس مضمون میں ہم کن سوالوں پر غور کریں گے؟
جمعرات، 14 نیسان 33ء کی شام کو یسوع مسیح نے اپنے وفادار رسولوں کے ساتھ ایک خاص تقریب منائی جسے مالک کی یادگاری تقریب کا کھانا کہا جاتا ہے۔ یسوع جانتے تھے کہ جلد ہی یہوداہ اِسکریوتی اُنہیں دھوکا دے گا اور اِس کے بعد اُن کے دُشمن اُنہیں اذیت دے کر مار ڈالیں گے۔ اِس لیے یسوع نے اپنے رسولوں سے بچھڑنے سے پہلے اُن کا حوصلہ بڑھانے کے لیے اُن سے بہت سی باتیں کیں۔ پھر یسوع نے ایک خاص دُعا کی اور اِس کے تھوڑی ہی دیر بعد وہ سب اُس کمرے سے چلے گئے جہاں وہ کھانا کھا رہے تھے۔ یسوع کی یہ دُعا ہمیں یوحنا رسول کی اِنجیل کے 17 باب میں ملتی ہے۔
2 اِس مضمون میں ہم کچھ ایسی باتوں پر غور کریں گے جو ہمیں یسوع کی دُعا سے پتہ چلتی ہیں۔ ہم دیکھیں گے کہ یسوع کی موت سے کچھ وقت پہلے کون سی بات اُن کے لیے بہت پریشانی کا باعث تھی۔ اِس کے علاوہ اُنہوں نے دُعا میں جو کچھ کہا، اُس سے کیسے پتہ چلتا ہے کہ جب تک وہ زمین پر رہے، اُن کے لیے کون سی بات سب سے اہم تھی؟ آئیے اِن سوالوں پر بات کرتے ہیں۔
’مَیں نے تیرا نام لوگوں پر ظاہر کِیا ہے‘
3. یسوع نے یہوواہ کے نام کے بارے میں کیا کہا اور اُن کی بات کا کیا مطلب تھا؟ (یوحنا 17:6، 26)
3 یسوع مسیح نے دُعا میں کہا: ’مَیں نے تیرا نام لوگوں پر ظاہر کِیا ہے‘ اور ”تیرے نام کے بارے میں تعلیم دی ہے۔“ یسوع نے ایک جیسی بات دو بار کہی جس سے پتہ چلتا ہے کہ یسوع کی نظر میں یہوواہ کا نام بہت اہمیت رکھتا تھا۔ (یوحنا 17:6، 26 کو پڑھیں۔) لیکن یسوع کی بات کا مطلب کیا تھا؟ کیا وہ اپنے شاگردوں کو یہ بتا رہے تھے کہ خدا کا نام یہوواہ ہے؟ یسوع کے شاگرد یہودی تھے اِس لیے وہ پہلے سے ہی جانتے تھے کہ خدا کا نام یہوواہ ہے۔ یہ نام عبرانی صحیفوں میں ہزاروں بار اِستعمال ہوا تھا۔ تو یسوع اپنے شاگردوں کو خدا کا ذاتی نام نہیں بتا رہے تھے۔ اِس کی بجائے وہ اُنہیں یہ بتا رہے تھے کہ جس خدا کا نام یہوواہ ہے، وہ کیسی ہستی ہے۔ اُنہوں نے اپنے شاگردوں کی مدد کی کہ وہ یہوواہ کو اَور اچھی طرح سے جانیں جیسے کہ زمین اور اِنسانوں کے لیے اُس کا مقصد کیا ہے، اُس نے کون سے حیرتانگیز کام کیے ہیں، وہ مستقبل میں کیا کچھ کرنے والا ہے اور وہ کتنی شاندار خوبیوں کا مالک ہے۔ صرف یسوع ہی یہوواہ کے بارے میں اِتنی اچھی طرح بتا سکتے تھے۔
4-5. (الف)ایک شخص کا نام ہماری نظر میں اہم کیسے بن جاتا ہے؟ مثال دیں۔ (ب)یسوع مسیح کے شاگرد کس لحاظ سے یہوواہ کے نام کو جان پائے؟
4 ایک شخص کا نام ہماری نظر میں اہم کیسے بن جاتا ہے؟ اِس سوال کا جواب جاننے کے لیے اِس مثال پر غور کریں۔ فرض کریں کہ آپ کی کلیسیا میں ڈیوڈ نام کا ایک بزرگ ہے جو ڈاکٹر بھی ہے۔ آپ اِس بھائی کو کئی سالوں سے جانتے ہیں۔ لیکن ایک دن آپ کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہو جاتی ہے اور آپ کو ایمرجنسی میں ہسپتال لے جایا جاتا ہے۔ یہ وہ ہسپتال ہے جہاں بھائی ڈیوڈ ڈاکٹر ہیں اور وہ آپ کی جان بچاتے ہیں۔ بےشک اب آپ کے دل میں اِس بھائی کے لیے محبت اور عزت اَور زیادہ بڑھ گئی ہے اور جب بھی آپ اُس کا نام سنتے ہیں، آپ کو فوراً یاد آ جاتا ہے کہ اُس نے آپ کے لیے کیا کِیا ہے۔ اب بھائی ڈیوڈ آپ کی نظر میں صرف آپ کی کلیسیا کے ایک بزرگ ہی نہیں رہے جنہیں آپ کئی سالوں سے جانتے ہیں بلکہ اب وہ آپ کے نزدیک ایک ایسے ڈاکٹر بھی ہیں جنہوں نے آپ کی جان بچائی۔
5 اِسی طرح یسوع مسیح کے شاگرد پہلے سے ہی یہوواہ کا نام جانتے تھے۔ لیکن یہ نام اُن کے نزدیک اُس وقت بہت خاص بن گیا جب یسوع زمین پر یہوواہ کی خدمت کر رہے تھے۔ ہم ایسا کیوں کہہ سکتے ہیں؟ کیونکہ یسوع نے جو تعلیم دی اور جو کام کیے، اُن سے اُن کے باپ کی خوبیوں کی اور اُس کی ذات کی جھلک نظر آئی۔ اِس لیے جب یسوع کے رسولوں نے اُن کی تعلیمات کو سنا اور یہ دیکھا کہ وہ لوگوں کے ساتھ کیسے پیش آتے ہیں تو وہ یہوواہ کو ’قریب سے جان‘ پائے۔—یوح 14:9؛ 17:3۔
’اپنا نام تُو نے مجھے دیا ہے‘
6. یہوواہ نے کس لحاظ سے یسوع کو اپنا نام دیا؟ (یوحنا 17:11، 12)
6 یسوع نے اپنے شاگردوں کے حوالے سے یہوواہ سے یہ دُعا کی: ”اپنے نام کی خاطر جو تُو نے مجھے دیا ہے، اُن کی حفاظت کر۔“ (یوحنا 17:11، 12 کو پڑھیں۔) کیا اِس بات کا یہ مطلب تھا کہ اب یسوع کا نام یہوواہ ہو گیا تھا؟ نہیں۔ غور کریں کہ جب یسوع نے یہوواہ کے نام کے بارے میں بات کی تو اُنہوں نے کہا: ’اپنے نام کی خاطر اُن کی حفاظت کر۔‘ تو نام یہوواہ، یسوع کا ذاتی نام نہیں ہو گیا تھا۔ تو پھر یسوع کی اِس بات کا کیا مطلب تھا: ’اپنا نام تُو نے مجھے دیا ہے‘؟ اِس حوالے سے کچھ باتوں پر غور کریں۔ سب سے پہلی بات یہ کہ یسوع یہوواہ کے نمائندے تھے اور اُن کی طرف سے بات کرتے تھے۔ وہ اپنے باپ کے نام سے آئے تھے اور اُنہوں نے اُسی کے نام سے بہت سے حیرتانگیز معجزے کیے تھے۔ (یوح 5:43؛ 10:25) دوسری بات یہ کہ یسوع کے نام کا مطلب ہے: ”یہوواہ نجات ہے!“ تو یسوع کا نام یہوواہ کے نام سے جُڑا ہے۔
7. ایک مثال دے کر بتائیں کہ یسوع یہوواہ کی طرف سے کیسے بات کر سکتے تھے۔
7 ذرا ایک مثال پر غور کریں جس سے ہم یہ سمجھ پائیں گے کہ یسوع یہوواہ کی طرف سے کیسے بات کر سکتے تھے۔ جب ایک حکمران اپنے نمائندے کو دوسروں سے بات کرنے کے لیے بھیجتا ہے تو جو کچھ اُس کا نمائندہ کہہ رہا ہوتا ہے، یہ ایسے ہوتا ہے جیسے وہ حکمران بات کر رہا ہو۔ اِسی طرح یسوع نے یہوواہ کی نمائندگی کی اور وہ لوگوں سے یہوواہ کا نام لے کر بات کر سکتے تھے۔—متی 21:9؛ لُو 13:35۔
8. یسوع کے زمین پر آنے سے پہلے کس لحاظ سے یہوواہ کا نام ’اُن میں رہتا تھا‘؟ (خروج 23:20، 21)
8 بائبل میں یسوع مسیح کو ”کلام“ کہا گیا ہے کیونکہ وہ یہوواہ کی طرف سے بات کرتے تھے۔ وہ فرشتوں اور اِنسانوں کو یہوواہ کی طرف سے ہدایتیں دیتے تھے۔ (یوح 1:1-3) یسوع ہی غالباً وہ فرشتے تھے جسے یہوواہ نے ویرانے میں بنیاِسرائیل کی دیکھبھال کرنے کے لیے بھیجا تھا۔ جب یہوواہ نے بنیاِسرائیل سے کہا کہ وہ اِس فرشتے کا کہنا مانیں تو ساتھ ہی اُس نے اُس فرشتے کے بارے میں یہ بھی کہا کہ ”میرا نام اُس میں رہتا ہے۔“a (خروج 23:20، 21 کو پڑھیں۔) یہوواہ نے یہ اِس لیے کہا کیونکہ یسوع نے یہوواہ کی نمائندگی کی تھی اور اُنہوں نے ہی سب سے پہلے اور سب سے زیادہ یہ ثابت کِیا تھا کہ یہوواہ کا نام پاک ہے اور اُس کا ہر کام جائز اور صحیح ہے۔
”باپ، اپنے نام کی بڑائی کر“
9. یسوع کی نظر میں یہوواہ کا نام کتنا اہم تھا اور ہم ایسا کیوں کہہ سکتے ہیں؟
9 جیسا کہ ہم نے دیکھا ہے، زمین پر آنے سے پہلے ہی یسوع کے نزدیک یہوواہ کا نام کسی بھی دوسری چیز سے کہیں زیادہ اہم تھا۔ اِسی لیے یہ حیرانی کی بات نہیں کہ جب یسوع زمین پر تھے تو اُن کے ہر کام سے واضح ہوا کہ اُن کی نظر میں یہوواہ کا نام کتنا اہم ہے۔ زمین پر اپنی خدمت کے آخری دنوں میں اُنہوں نے یہوواہ سے کہا: ”باپ، اپنے نام کی بڑائی کر۔“ اِس پر یہوواہ نے فوراً ہی اپنی گرجدار آواز میں یسوع کو جواب دیا: ”مَیں نے اِس کی بڑائی کی اور دوبارہ بھی اِس کی بڑائی کروں گا۔“—یوح 12:28۔
10-11. (الف)یسوع نے اپنے باپ کے نام کی بڑائی کیسے کی؟ (تصویر کو بھی دیکھیں۔) (ب)یہوواہ کے نام کا پاک ثابت ہونا کیوں ضروری ہے؟
10 یسوع نے بھی اپنے باپ کے نام کی بڑائی کی۔ وہ کیسے؟ اُنہوں نے دوسروں کو اپنے باپ کی شاندار خوبیوں اور اُس کے حیرتانگیز کاموں کے بارے میں بتایا۔ لیکن یہوواہ کے نام کی بڑائی کرنے میں صرف یہی باتیں شامل نہیں تھیں۔ یسوع کو اپنے آسمانی باپ کے نام کو پاک ثابت کرنے اور ہر اُس اِلزام کو جھوٹا ثابت کرنے کی بھی ضرورت تھی جو اُن کے باپ پر لگائے گئے تھے۔ اِس بات کی اہمیت اُس وقت صاف نظر آئی جب یسوع نے اپنے پیروکاروں کو دُعا کرنا سکھائی۔ اُنہوں نے کہا: ”اَے آسمانی باپ! تیرا نام پاک مانا جائے۔“—متی 6:9۔
11 یہوواہ کے نام کا پاک ثابت ہونا اِتنا ضروری کیوں ہے؟ کیونکہ باغِعدن میں شیطان نے یہوواہ خدا کے نام کی توہین کی تھی اور اُس پر جھوٹے اِلزام لگائے تھے۔ اُس نے یہ دعویٰ کِیا تھا کہ یہوواہ جھوٹا ہے اور وہ آدم اور حوّا کو ایک اچھی چیز سے محروم رکھ رہا ہے۔ (پید 3:1-5) ایسا کرنے سے شیطان نے یہ تاثر بھی دیا کہ یہوواہ کی حکمرانی کرنے کا طریقہ صحیح نہیں ہے۔ یہوواہ کے بارے میں جھوٹ بولنے سے شیطان نے براہِراست یہوواہ کی ذات اور اُس کے نام پر اُنگلی اُٹھائی۔ اور ایوب کے زمانے میں شیطان نے یہ دعویٰ کِیا کہ جو لوگ یہوواہ کی عبادت کرتے ہیں، وہ ایسا صرف اُس سے فائدہ حاصل کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ اِس جھوٹی اور مکار ہستی نے یہ دعویٰ بھی کِیا کہ کوئی بھی اِنسان یہوواہ سے سچے دل سے محبت نہیں کرتا اور اگر اِنسانوں پر مشکل وقت آئے گا تو وہ یہوواہ کی خدمت کرنا چھوڑ دیں گے۔ (ایو 1:9-11؛ 2:4) تو یہ ثابت کرنے کے لیے وقت چاہیے تھا کہ کون سچا ہے، یہوواہ یا شیطان۔
یسوع نے اپنے پیروکاروں کو سکھایا کہ یہوواہ کے نام کا پاک ثابت ہونا کتنا ضروری ہے۔ (پیراگراف نمبر 10 کو دیکھیں۔)
”مَیں اپنی جان دیتا ہوں“
12. یسوع یہوواہ کے نام سے محبت کرنے کی وجہ سے کیا کرنے کو تیار تھے؟
12 یسوع یہوواہ خدا سے اِتنی محبت کرتے تھے کہ وہ اُس کے نام کو پاک ثابت کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار تھے۔ اُنہوں نے کہا: ”مَیں اپنی جان دیتا ہوں۔“ (یوح 10:17، 18) یسوع تو یہوواہ کے نام کی خاطر مرنے کو بھی تیار تھے۔b پہلے بےعیب اِنسانوں یعنی آدم اور حوّا نے یہوواہ سے مُنہ پھیر لیا اور شیطان کا ساتھ دیا۔ لیکن یسوع یہوواہ کی خاطر خوشی سے زمین پر آئے اور اُنہوں نے اپنی ہر بات اور کام سے یہوواہ کے لیے فرمانبرداری ظاہر کی۔ (عبر 4:15؛ 5:7-10) وہ سُولی پر اذیتناک موت سہتے وقت بھی یہوواہ کے وفادار رہے۔ (عبر 12:2) اِس طرح اُنہوں نے یہوواہ اور اُس کے نام کے لیے اپنی محبت ثابت کی۔
13. شیطان کو جھوٹا ثابت کرنے کے لیے یسوع سے بہتر اِنسان اَور کوئی کیوں نہیں ہو سکتا تھا؟ (تصویر کو بھی دیکھیں۔)
13 یسوع نے جس طرح سے زندگی گزاری، اُس سے پوری طرح ثابت ہو گیا کہ شیطان جھوٹا ہے نہ کہ یہوواہ! (یوح 8:44) زمین پر کوئی بھی ایسا شخص نہیں آیا جو یہوواہ کو اِتنی اچھی طرح سے جانتا ہو جتنی اچھی طرح سے یسوع جانتے تھے۔ شیطان نے یہوواہ پر جو اِلزام لگائے تھے، اگر اُن میں ذرا سی بھی سچائی ہوتی تو یسوع کو اِس کا ضرور پتہ ہوتا۔ لیکن یسوع جانتے تھے کہ شیطان کے سارے اِلزامات جھوٹے ہیں اِسی لیے وہ اپنے باپ کے نام کا دِفاع کرنے کے عزم پر قائم رہے۔ وہ تو تب بھی یہوواہ کے وفادار رہے جب یہوواہ نے اُن کے اُوپر سے حفاظت کا ہاتھ ہٹا لیا تھا۔ یسوع نے یہوواہ سے مُنہ موڑنے کی بجائے مرنا بہتر سمجھا۔—متی 27:46۔c
یسوع کی زندگی سے ثابت ہوا کہ شیطان جھوٹا ہے نہ کہ یہوواہ! (پیراگراف نمبر 13 کو دیکھیں۔)
”مَیں نے . . . وہ کام پورا کِیا جو تُو نے مجھے دیا“
14. یہوواہ نے یسوع کو اُن کی وفاداری کا کیا اِنعام دیا؟
14 یسوع نے اپنی موت سے پہلے کی رات دُعا میں کہا: ”مَیں نے . . . وہ کام پورا کِیا جو تُو نے مجھے دیا۔“ یسوع کو پورا بھروسا تھا کہ یہوواہ اِس کے لیے اُنہیں ضرور اجر دے گا۔ (یوح 17:4، 5) یہوواہ نے بھی اپنے بیٹے کے اِس بھروسے کو ٹوٹنے نہیں دیا۔ اُس نے یسوع کو قبر میں نہیں رہنے دیا۔ (اعما 2:23، 24) یہوواہ نے یسوع کو مُردوں میں سے زندہ کِیا اور اُنہیں آسمان پر پہلے سے زیادہ اُونچا مرتبہ دیا۔ (فِل 2:8، 9) پھر آخرکار یسوع نے خدا کی بادشاہت کے بادشاہ کے طور پر حکمرانی کرنا شروع کر دی۔ یہ بادشاہت کیا کچھ کرے گی؟ یسوع کی سکھائی ہوئی دُعا میں دوسری بات یہ بتائی گئی ہے: ”تیری بادشاہت آئے۔ تیری[یہوواہ کی]مرضی جیسے آسمان پر ہو رہی ہے ویسے ہی زمین پر بھی ہو۔“—متی 6:10۔
15. یسوع مسیح مستقبل میں اَور کیا کچھ کریں گے؟
15 جلد ہی یسوع خدا کے دُشمنوں سے ہرمجِدّون کی جنگ لڑیں گے اور اِس دوران بُرے لوگوں کا نامونشان مٹا دیں گے۔ (مُکا 16:14، 16؛ 19:11-16) اِس کے تھوڑی دیر بعد یسوع شیطان کو ”اتھاہ گڑھے“ میں قید کر دیں گے جہاں وہ کچھ بھی نہیں کر پائے گا۔ (مُکا 20:1-3) پھر یسوع 1000 سال تک حکمرانی کریں گے جس کے دوران وہ زمین پر امن قائم کریں گے اور اِنسانوں کو بےعیب بنا دیں گے۔ وہ مُردوں کو زندہ کریں گے اور پوری زمین کو فردوس بنا دیں گے۔ اِس طرح یہوواہ کا مقصد پورا ہو جائے گا۔—مُکا 21:1-4۔
16. یسوع کی 1000 سال کی حکمرانی کے بعد کون سی باتیں ہو چُکی ہوں گی؟
16 جب یسوع مسیح 1000 سال تک حکمرانی کر لیں گے تو اِس کے آخر پر ہماری زندگی کیسی ہوگی؟ سب اِنسان گُناہ اور ہر طرح کے عیب سے پاک ہو جائیں گے۔ پھر اُنہیں یسوع کے فدیے کی بِنا پر یہوواہ سے اپنے گُناہوں کی معافی حاصل کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ تب اِس بات کی بھی ضرورت نہیں رہے گی کہ 1 لاکھ 44 ہزار اشخاص کاہنوں کے طور پر اور یسوع مسیح کاہنِاعظم کے طور پر لوگوں کی یہوواہ سے دوستی کرائیں۔ اُس وقت ”آخری دُشمن یعنی[آدم کے گُناہ کی وجہ سے آنے والی]موت کو بھی ختم کر دیا جائے گا۔“ مُردوں کو زندہ کر دیا جائے گا اور قبروں کا نامونشان مٹ جائے گا۔ زمین پر موجود ہر اِنسان بےعیب ہو جائے گا۔—1-کُر 15:25، 26۔
17-18. (الف)یسوع مسیح کی 1000 سال کی حکمرانی کے آخر پر کیا ہوگا؟ (ب)جب یسوع کی حکمرانی کا اِختتام ہو جائے گا تو پھر وہ کیا کریں گے؟ (1-کُرنتھیوں 15:24، 28) (تصویر کو بھی دیکھیں۔)
17 جب یسوع مسیح 1000 سال تک حکمرانی کر لیں گے تو اِس کے آخر پر اَور کیا کچھ ہوگا؟ اُس وقت ایک بہت ہی زبردست بات ہوگی۔ یہوواہ کے پاک نام پر لگا دھبا پوری طرح سے مٹ جائے گا۔ تب کسی کے بھی ذہن میں پھر کبھی یہ شک پیدا نہیں ہوگا کہ یہوواہ پاک اور اِنصافپسند خدا ہے۔ ہم یہ کیوں کہہ سکتے ہیں؟ باغِعدن میں شیطان نے یہ دعویٰ کِیا تھا کہ یہوواہ جھوٹا ہے اور وہ سختی سے اِنسانوں پر حکمرانی کرتا ہے۔ تب سے یہوواہ سے محبت کرنے والے لوگوں نے بار بار اُس کے نام کو پاک ثابت کِیا ہے۔ یسوع مسیح کی 1000 سال کی حکمرانی کے آخر پر یہوواہ کی نیکنامی پوری طرح سے ثابت ہو چُکی ہوگی۔ تب اِس بات میں رتی بھر بھی شک نہیں رہے گا کہ یہوواہ ایک شفیق باپ ہے۔
18 اُس وقت سب جان جائیں گے کہ شیطان نے یہوواہ پر جو بھی اِلزام لگائے تھے، وہ سب کے سب جھوٹے تھے۔ لیکن جب یسوع کی حکمرانی کا اِختتام ہو جائے گا تو پھر وہ کیا کریں گے؟ کیا وہ شیطان کی مثال پر چلتے ہوئے یہوواہ سے بغاوت کریں گے؟ ہرگز نہیں! (1-کُرنتھیوں 15:24، 28 کو پڑھیں۔) وہ بادشاہت کو اپنے باپ کے حوالے کر دیں گے اور اُس کی حکمرانی کے تابع ہو جائیں گے۔ بےشک یسوع یہوواہ سے محبت کرنے کی وجہ سے خوشی سے سب کچھ اُسے لوٹا دیں گے۔
جب یسوع 1000 سال تک حکمرانی کر لیں گے تو اِس کے بعد وہ خوشی سے بادشاہت کو یہوواہ کے حوالے کر دیں گے۔ (پیراگراف نمبر 18 کو دیکھیں۔)
19. اِس مضمون کے ذریعے ہمیں یسوع مسیح کے بارے میں کون سی بات پتہ چلی ہے؟
19 واقعی ہمیں اِس بات پر کوئی حیرانی نہیں ہوتی کہ یہوواہ نے یسوع کو اپنا نام دیا تھا! اور وہ دیتا بھی کیوں نا؟ یسوع نے ثابت کِیا تھا کہ وہ خدا کے نمائندے ہیں اور اُنہوں نے اپنے باپ کی خوبیوں کی مکمل جھلک پیش کی تھی۔ تو یسوع کی نظر میں یہوواہ کا نام کتنا اہم تھا؟ یہ کسی بھی چیز سے کہیں زیادہ اہم تھا۔ وہ تو اِس نام کی خاطر مرنے تک کو تیار تھے۔ اِتنا ہی نہیں، یسوع یہوواہ کے نام سے اِتنی محبت کرتے ہیں کہ مستقبل میں جب وہ 1000 سال تک حکمرانی کر لیں گے تو اِس کے بعد وہ خوشی سے سب کچھ یہوواہ کے حوالے کر دیں گے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم اِس سلسلے میں یسوع کی طرح کیسے بن سکتے ہیں؟ اِس سوال کا جواب ہمیں اگلے مضمون میں دیا جائے گا۔
گیت نمبر 16: خدا کے مسحشُدہ بادشاہ کی ستائش ہو!
a کبھی کبھار یہوواہ کے کچھ اَور فرشتوں نے بھی اُس کی نمائندگی کی اور اُس کے نام سے دوسروں کو پیغام سنایا۔ اِسی وجہ سے ہم بائبل میں کچھ ایسے واقعات پڑھتے ہیں جن میں ایک فرشتے کو یا تو یہوواہ کہہ کر مخاطب کِیا گیا ہے یا پھر ایک فرشتے نے دوسروں سے ایسے بات کی جیسے یہوواہ خود بات کر رہا ہو۔ (پید 18:1-33) حالانکہ صحیفوں میں بتایا گیا ہے کہ یہوواہ نے موسیٰ کو شریعت دی لیکن کچھ اَور آیتوں میں یہ ظاہر کِیا گیا ہے کہ یہوواہ نے اپنے فرشتوں کے ذریعے اپنے نام سے شریعت دی۔—احبا 27:34؛ اعما 7:38، 53؛ گل 3:19؛ عبر 2:2-4۔
b یسوع کی موت کی وجہ سے اِنسانوں کے لیے ہمیشہ کی زندگی پانے کی راہ بھی کُھل گئی۔
c ”مینارِنگہبانی،“ اپریل 2021ء کے صفحہ نمبر 30-31 میں ”قارئین کے سوال“ کو دیکھیں۔