نئی کلیسیا کے مطابق خود کو کیسے ڈھالیں؟
کیا آپ کبھی کسی نئی کلیسیا میں شفٹ ہوئے؟ اگر ہاں تو یقیناً آپ بھائی جان چارلس کی بات سے اِتفاق کریں گے جنہوں نے کہا: ”جب آپ اور آپ کا گھرانہ کسی نئی کلیسیا میں شفٹ ہو جاتے ہیں تو آپ کو نہ صرف نئی کلیسیا کے ماحول کے حساب سے ڈھلنا ہوتا ہے بلکہ ساتھ ہی ساتھ اِس بات کا بھی خیال رکھنا ہوتا ہے کہ گھر کے سبھی افراد یہوواہ کے قریب رہیں۔“ جب ایک مسیحی کسی نئے علاقے میں شفٹ ہو جاتا ہے تو وہاں اُسے اپنے لیے نوکری اور گھر بھی تلاش کرنا ہوتا ہے اور اگر اُس کے بچے ہیں تو اُن کے لیے نیا سکول ڈھونڈنا پڑتا ہے۔ اِس کے علاوہ اُسے نئے موسم اور نئی ثقافت کا عادی ہونا پڑتا ہے اور مُنادی کے لیے نئے علاقوں سے بھی واقف ہونا پڑتا ہے۔
ذرا بھائی نکولس اور بہن سلین کی مثال پر بھی غور کریں جنہیں ایک فرق طرح کے مسئلے کا سامنا ہوا۔ جب فرانس برانچ نے اُنہیں ایک نئی کلیسیا میں جانے کے لیے کہا تو وہ خوشی خوشی اُس کلیسیا میں چلے گئے۔ اُنہوں نے کہا: ”شروع شروع میں تو ہم بہت خوش تھے لیکن پھر ہمیں اپنے دوستوں کی بہت یاد آنے لگی کیونکہ اُس وقت تک ہماری اپنی نئی کلیسیا کے بہن بھائیوں سے اِتنی پکی دوستی نہیں ہوئی تھی۔“a اِس بات میں کوئی شک نہیں کہ آپ کو بھی ایسی مشکلوں کا سامنا ہو سکتا ہے۔ لیکن آپ اِن مشکلوں کے باوجود اپنی نئی کلیسیا میں خوشی سے یہوواہ کی خدمت کیسے کر سکتے ہیں؟ اِس حوالے سے کلیسیا کے بہن بھائی مدد کیسے کر سکتے ہیں؟ اور آپ کیا کر سکتے ہیں تاکہ آپ کا اور آپ کی نئی کلیسیا کے بہن بھائیوں دونوں کا حوصلہ بڑھے؟
چار اصول جو مشکلوں سے نمٹنے میں آپ کے کام آ سکتے ہیں
یہوواہ پر بھروسا کریں۔
1. یہوواہ پر بھروسا کریں۔ (زبور 37:5) ذرا جاپان میں رہنے میں والی ایک بہن کی مثال پر غور کریں جس کا نام کازومی ہے۔ بہن کازومی کو اُس وقت اپنی کلیسیا چھوڑنی پڑی جب اُن کے شوہر کو اپنی نوکری کی وجہ سے نئی جگہ شفٹ ہونا پڑا۔ بہن کازومی 20 سال سے اُس کلیسیا کا حصہ تھیں۔ اِس صورتحال میں بہن کازومی نے ”اپنی راہ یہوواہ پر“ کیسے چھوڑی اور اُس پر بھروسا کیسے رکھا؟ اُنہوں نے کہا: ”مَیں نے دل کھول کر یہوواہ کو بتایا کہ مَیں کتنا گھبرائی ہوئی ہوں، کتنا اکیلا محسوس کر رہی ہوں اور کتنی زیادہ پریشان ہوں۔ ہر بار جب مَیں نے دُعا میں یہوواہ کو اپنے احساسات بتائے تو مجھے محسوس ہوا کہ یہوواہ مجھے اپنی مشکلوں سے لڑنے کی طاقت دے رہا ہے۔“
آپ یہوواہ پر اپنے بھروسے کو کیسے بڑھا سکتے ہیں؟ ایک پودے کو بڑھانے کے لیے اُسے پانی اور کھاد دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن اپنے ایمان کو بڑھانے کے لیے ہم کیا کر سکتے ہیں؟ اِس سلسلے میں بھائی نکولس کی مثال پر غور کریں جن کا پہلے بھی ذکر ہوا ہے۔ اُنہوں نے یہوواہ پر اپنے ایمان اور بھروسے کو بڑھانے کے لیے اَبراہام، یسوع مسیح اور پولُس رسول کی مثال پر غور کِیا۔ یہوواہ کے اِن تینوں بندوں نے ہی اُس کی مرضی کے مطابق کام کرنے کے لیے بڑی بڑی قربانیاں دی تھیں۔ اگر آپ بھی بھائی نکولس کی طرح باقاعدگی سے بائبل پڑھیں گے اور اِس پر سوچ بچار کریں گے تو آپ نہ صرف زندگی میں آنے والی تبدیلیوں کا سامنا کر پائیں گے بلکہ ایسی باتیں بھی سیکھیں گے جن سے آپ اپنی نئی کلیسیا کے بہن بھائیوں کا حوصلہ بڑھا پائیں گے۔
اپنی نئی کلیسیا کا موازنہ اپنی پُرانی کلیسیا سے نہ کریں۔
2. اپنی نئی کلیسیا کا موازنہ اپنی پُرانی کلیسیا سے نہ کریں۔ (واعظ 7:10) ذرا جُولز نام کے بھائی کی مثال پر غور کریں جو ملک بینین سے ہیں۔ جب وہ امریکہ شفٹ ہوئے تو اُنہوں نے دیکھا کہ وہاں کے لوگوں کا رہنسہن اور سوچ اُن کے ملک کے لوگوں سے بہت فرق ہے۔ اُنہوں نے کہا: ”مَیں یہاں زیادہ لوگوں کو نہیں جانتا تھا۔ اِس لیے ہر بار جب مَیں کسی سے ملتا تھا تو مجھے پھر سے اُسےاپنے بارے میں سب کچھ بتانا پڑتا تھا۔“ بھائی جُولز کے لیے یہ سب بہت مشکل تھا۔ اِس لیے وہ کلیسیا کے بہن بھائیوں سے دُور دُور رہنے لگے۔ لیکن جب اُنہوں نے بہن بھائیوں کو اچھی طرح سے جاننے کی کوشش کی تو اُن کی سوچ بدل گئی۔ اُنہوں نے کہا: ”اب مَیں جان گیا ہوں کہ ہم اِنسان چاہے کہیں بھی رہتے ہوں، ہم سب ایک جیسے ہیں۔بس ہماری بولچال اور ہمارا رہنسہن ایک دوسرے سے فرق ہوتا ہے۔ اِس لیے یہ باتیں اِتنی اہمیت نہیں رکھتیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ہم لوگوں کو ویسے ہی قبول کریں جیسے وہ ہیں۔“ تو کبھی بھی اپنی نئی کلیسیا کا موازنہ اپنی پُرانی کلیسیا سے نہ کریں۔ اِس سلسلے میں ذرا ایک پہلکار بہن کی بات پر غور کریں جن کا نام اینلیز ہے۔ اُنہوں نے کہا: ”مَیں نئی جگہ اِس لیے شفٹ ہوئی کیونکہ مَیں نئی نئی چیزوں کے بارے میں جاننا چاہتی تھی۔ مَیں یہ سوچ کر وہاں نہیں گئی کہ مجھے اُدھر بھی سب کچھ ویسا ہی ملنا چاہیے جیسا پہلے تھا۔“
کلیسیا کے بزرگوں کو بھی اپنی نئی کلیسیا کا موازنہ پُرانی کلیسیا سے نہیں کرنا چاہیے۔ ہر کلیسیا کے کام کرنے کا طریقہ تھوڑا فرق ہو سکتا ہے۔ لیکن اِس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ صحیح طریقے سے کام نہیں کر رہی۔ اِس لیے یہ سمجھداری کی بات ہوگی کہ کوئی بھی مشورہ دینے سے پہلے آپ وہاں کے بہن بھائیوں کے حالات کو جاننے کی کوشش کریں۔ (واعظ 3:1، 7) اُن پر اپنی رائے تھوپنے کی بجائے اُن کے لیے اچھی مثال قائم کریں۔—2-کُر 1:24۔
نئی کلیسیا کے ساتھ مل کر یہوواہ کی خدمت کرنے میں مصروف رہیں۔
3. نئی کلیسیا میں دل لگا کر خدمت کریں۔ (فِل 1:27) ایک نئی جگہ پر شفٹ ہونے میں بہت وقت لگتا ہے اور یہ بہت محنت والا کام ہوتا ہے۔ لیکن یہ بہت ضروری ہے کہ آپ جلد از جلد نئی کلیسیا میں جانا شروع کر دیں۔ کوشش کریں کہ آپ اِجلاس کو گھر سے نہیں بلکہ عبادتگاہ میں جا کر سنیں۔ ذرا سوچیں کہ اگر آپ بہن بھائیوں سے کبھی آمنے سامنے ملیں گے ہی نہیں یا وہ کبھی کبھار آپ کو عبادتگاہ میں دیکھیں گے تو وہ آپ کی مدد کیسے کر پائیں گے! اِس حوالے سے بہن لوسنڈا کی مثال پر غور کریں جو اپنی دو بیٹیوں کے ساتھ جنوبی افریقہ کے ایک بڑے شہر میں شفٹ ہو گئیں۔ اُنہوں نے کہا: ”میرے دوستوں نے مجھے مشورہ دیا کہ مجھ سے جتنی جلدی ہو سکے، مَیں اپنی نئی کلیسیا کے بہن بھائیوں کے ساتھ گھلنا ملنا شروع کر دوں، اُن کے ساتھ مل کر مُنادی کروں اور عبادت کے دوران جواب دوں۔ ہم نے بھائیوں سے کہا کہ اگر وہ چاہیں تو وہ ہمارے گھر میں مُنادی کے گروپ کا اِجلاس رکھ سکتے ہیں۔“
اگر آپ اپنی نئی کلیسیا کے بہن بھائیوں کے ساتھ ”یکدل اور یکجان ہو کر“ یہوواہ کی خدمت کریں گے تو آپ نہ صرف ”خوشخبری پر[اپنے]ایمان کو قائم“ رکھ پائیں گے بلکہ دوسروں کی بھی ایسا کرنے میں مدد کریں گے۔ اِس سلسلے میں بہن اینلیز کی مثال پر پھر سے غور کریں۔ اُن کی کلیسیا کے بزرگوں نے اُن کی حوصلہافزائی کی کہ وہ نئی کلیسیا کے ہر بہن بھائی کے ساتھ مل کر مُنادی کریں۔ اِس سے بہن اینلیز کو کیا فائدہ ہوا؟ اُنہوں نے کہا: ”یہ بہن بھائیوں کے ساتھ گھلنے ملنے کا بڑا زبردست طریقہ تھا!“ آپ اِس کے علاوہ اَور کیا کر سکتے ہیں؟ آپ عبادتگاہ کی صفائی اور مرمت کے کام میں حصہ لے سکتے ہیں۔ اِس طرح بہن بھائی دیکھ سکیں گے کہ اب آپ نئی کلیسیا کو اپنی کلیسیا سمجھنے لگے ہیں۔ جتنا زیادہ آپ اپنی نئی کلیسیا کے بہن بھائیوں کے ساتھ مل کر کام کریں گے، اُتنی ہی جلدی آپ اُن کے قریب ہو جائیں گے اور اُنہیں اپنا خاندان سمجھنے لگیں گے۔
نئے دوست بنائیں۔
4. اپنی نئی کلیسیا میں نئے دوست بنائیں۔ (2-کُر 6:11-13) دوسروں کی ذات میں دلچسپی لینا دوست بنانے کا سب سے بہترین طریقہ ہوتا ہے۔ تو عبادت کے شروع ہونے سے پہلے اور ختم ہونے کے بعد بہن بھائیوں کو جاننے کے لیے اُن سے باتچیت کریں۔ بہن بھائیوں کے نام جاننے اور اِنہیں یاد رکھنے کی پوری کوشش کریں۔اگر آپ ایسا کریں گے اور اُن سے دوستوں کی طرح ملیں گے تو وہ بھی آپ کو جاننا چاہیں گے اور اِس طرح آپ کی اُن کے ساتھ اچھی دوست ہو جائے گی۔
یہ نہ سوچیں کہ بہن بھائیوں کو پسند آنے کے لیے آپ کو خود کو بدلنا پڑے گا۔ اُن سے اُسی طرح سے ملیں جیسے آپ ہیں۔ آپ کے لیے ایسا کرنا اُس وقت زیادہ آسان ہوگا جب آپ اُن کے ساتھ عبادتگاہ میں یا مُنادی کرنے کے علاوہ وقت گزاریں گے۔ اِس حوالے سے آپ بہن لوسنڈا کی طرح ایک کام کر سکتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا: ”ہم نے بہن بھائیوں کو اپنے گھر بُلانے میں پہل کی۔ اِس لیے اب ہماری اُن سے اچھی دوستی ہو گئی ہے۔“
”ایک دوسرے کو قبول کریں“
کچھ بہن بھائیوں کو یہ سوچ کر بہت گھبراہٹ ہوتی ہے کہ وہ ایک ایسی کلیسیا میں جا رہے ہیں جہاں وہ بہن بھائیوں کو نہیں جانتے۔ تو آپ اُن بہن بھائیوں کی مدد کیسے کر سکتے ہیں جو آپ کی کلیسیا میں نئے نئے شفٹ ہوئے ہیں؟ پولُس رسول نے مسیحیوں کی حوصلہافزائی کی کہ وہ ”ایک دوسرے کو قبول کریں، بالکل ویسے ہی جیسے مسیح نے[اُنہیں]قبول کِیا۔“ (روم 15:7) کلیسیا کے بزرگ یسوع مسیح کی مثال پر عمل کرتے ہوئے اپنی کلیسیا میں آنے والے نئے بہن بھائیوں کو محبت اور اپنائیت کا احساس دِلا سکتے ہیں۔ (بکس ”جب آپ کلیسیا بدلتے ہیں“ کو دیکھیں۔) لیکن صرف بزرگوں کو ہی نہیں بلکہ کلیسیا میں سبھی کو یہاں تک کہ بچوں کو بھی نئے بہن بھائیوں سے دوستی کرنی چاہیے۔
دوسروں کو قبول کرنے میں یہ بھی شامل ہے کہ ہم اُنہیں اپنے گھر پر بُلائیں اور اُن کی ایسے طریقوں سے مدد کریں جن کی اُنہیں واقعی ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر ایک پہلکار بہن نے ایک ایسی بہن کی مدد کرنے کے لیے وقت نکالا جو حال ہی میں اُس کے علاقے میں شفٹ ہوئی تھی۔ اُس پہلکار بہن نے اُسے علاقہ دِکھایا اور راستوں کو سمجھنے میں اُس کی مدد کی تاکہ وہ آسانی سے سفر کر سکے۔ جو بہن نئی نئی اُس جگہ شفٹ ہوئی تھی، وہ اُس پہلکار بہن کی مدد کے لیے دل سے اُس کی شکرگزار تھی۔ اُس پہلکار بہن کی مدد سے وہ آسانی سے خود کو نئی جگہ کے حساب سے ڈھال پائی۔
نئی کلیسیا—نئی باتیں سیکھنے کا موقع
ایک پرندے کے بچے کو شروع شروع میں اپنا گھونسلا چھوڑنا اور پہلی بار اُڑنا بہت مشکل لگتا ہے۔ لیکن جب وہ ایسا کرتا ہے تو وہ اپنے پَر کھول کر اُونچی اُڑان بھرنے لگتا ہے۔ اِسی طرح جب آپ کسی نئی کلیسیا میں شفٹ ہوتے ہیں تو ہو سکتا ہے کہ شروع شروع میں آپ کو نئی چیزوں کو قبول کرنا مشکل لگے۔ لیکن جب آپ اپنے ڈر پر قابو پالیں گے تو آپ دل کھول کر اِنہیں قبول کرنے لگیں گے۔ بھائی نکولس اور بہن سلین نے کہا: ”جب آپ ایک نئی جگہ شفٹ ہوتے ہیں تو ایک طرح سے آپ کی بڑے زبردست طریقے سے ٹریننگ ہوتی ہے۔ آپ نئے لوگوں اور نئے حالات کے مطابق ڈھلتے ہوئے خود میں ایسی خوبیاں پیدا کرتے ہیں جنہیں پیدا کرنے کا موقع آپ کو پہلے کبھی نہیں ملا ہوتا۔“ اور ذرا بھائی جان چارلس کی بات پر بھی غور کریں جن کا مضمون کے شروع میں ذکر ہوا تھا۔ اُنہوں نے بتایا کہ خود کو نئی کلیسیا کے مطابق ڈھالنے سے اُن کے گھرانے کو کتنا فائدہ ہوا۔ بھائی جان نے کہا: ”نئی کلیسیا میں ہمارے بچے یہوواہ کے اَور قریب ہو رہے ہیں اور پُختہ مسیحی بن رہے ہیں۔ اِس کلیسیا میں آنے کے کچھ ہی مہینوں بعد میری بیٹی مسیحی زندگی اور خدمت والے اِجلاس میں حصے دینے لگی اور میرا بیٹا غیربپتسمہیافتہ مبشر بن گیا۔“
لیکن اگر آپ اپنے حالات کی وجہ سے ایک ایسے علاقے میں نہیں جا سکتے جہاں مبشروں کی زیادہ ضرورت ہے تو آپ کیا کر سکتے ہیں؟ اپنی پُرانی کلیسیا کو ہی ایک نئی کلیسیا سمجھیں اور اُن مشوروں پر عمل کرنے کی پوری کوشش کریں جن کا اِس مضمون میں ذکر ہوا ہے۔ یہوواہ پر بھروسا رکھیں اور پورے جی جان سے کلیسیا کے بہن بھائیوں کے ساتھ مل کر اُس کی خدمت کریں۔ فرق فرق بہن بھائیوں کے ساتھ مل کر مُنادی کریں، جن بہن بھائیوں کو آپ اچھی طرح سے نہیں جانتے، اُن سے دوستی کریں اور جنہیں آپ پہلے سے جانتے ہیں، اُن کے ساتھ اَور پکی دوستی کرنے کی کوشش کریں۔ اپنی کلیسیا میں شفٹ ہونے والے نئے بہن بھائیوں اور ضرورتمند بہن بھائیوں کی مدد کرنے میں پہل کریں۔ یاد رکھیں کہ محبت سچے مسیحیوں کی پہچان ہے۔ اِس لیے جب آپ فرق فرق طریقوں سے اپنے بہن بھائیوں کے لیے محبت دِکھائیں گے تو آپ یہوواہ کے اَور قریب ہو جائیں گے۔ (یوح 13:35) یقین مانیں کہ ”خدا ایسی قربانیاں پسند کرتا ہے۔“—عبر 13:16۔
بہت سے بہن بھائی ایک نئی کلیسیا میں خوشی سے یہوواہ کی خدمت کر رہے ہیں حالانکہ ایسا کرنا اُن کے لیے آسان نہیں تھا۔ آپ بھی ایسا کر سکتے ہیں!ذرا بہن اینلیز کی بات پر غور کریں جنہوں نے کہا: ”نئی کلیسیا میں جانے سے مَیں اپنے دل میں اپنے بہن بھائیوں کے لیے اَور زیادہ جگہ بنا پائی۔“ اور ذرا بہن کازومی کی بات پر بھی غور کریں۔ اب وہ پورے یقین سے یہ کہہ سکتی ہیں کہ جب ایک بہن یا بھائی کسی نئی کلیسیا میں شفٹ ہوتا ہے تو ”وہ ایسے طریقوں سے یہوواہ کی مدد کو محسوس کرتا ہے جس کا اُس نے سوچا بھی نہیں ہوتا۔“ اور بھائی جُولز نے کہا: ”نئی کلیسیا کے بہن بھائیوں نے مجھے اِتنا پیار دیا ہے کہ مجھے کبھی بھی اجنبی ہونے کا احساس نہیں ہوا۔ اب میری اپنے اِن بہن بھائیوں کے ساتھ اِتنی پکی دوستی ہو گئی ہے کہ مَیں اُن سے دُور جانے کا سوچ بھی نہیں سکتا!“
a اِس حوالے سے مدد حاصل کرنے کے لیے 1 مئی 1996ء کے ”مینارِنگہبانی“ میں مضمون ”خدا کی خدمت میں گھر کی یاد پر قابو پانا“ کو دیکھیں۔