قارئین کے سوال
یسعیاہ 60:1 میں بتائی گئی عورت کون ہے اور وہ کیسے ’اُٹھتی‘ اور ’روشنی چمکاتی‘ ہے؟
یسعیاہ 60:1 میں لکھا ہے: ”اَے عورت! اُٹھ! روشنی چمکا کیونکہ تیری روشنی آ گئی ہے۔ یہوواہ کی شان کا نور تجھ پر چمک رہا ہے۔“ یسعیاہ 60 باب سے پہلے اور اِس کے بعد کی آیتوں سے پتہ چلتا ہے کہ اِس میں بتائی گئی مجازی عورت صِیّون یا یروشلم ہے۔ یروشلم اُس زمانے میں یہوداہ کا دارالحکومت تھا۔a (یسع 60:14؛ 62:1، 2) شہر یروشلم سے مُراد پوری اِسرائیلی قوم تھی۔ یسعیاہ نے یروشلم کے بارے میں جو بات کہی، اُس سے دو سوال کھڑے ہوتے ہیں۔ پہلا سوال یہ کہ یروشلم کب اور کیسے ’اُٹھا‘ اور یہ کیسے ’روشنی چمکانے‘ لگا؟ اور دوسرا سوال یہ کہ کیا یسعیاہ کی بات آج ہمارے زمانے میں بڑے پیمانے پر پوری ہو رہی ہے؟
یروشلم کب اور کیسے ’اُٹھا‘ اور یہ کیسے ’روشنی چمکانے‘ لگا؟ جب یہودی 70 سال تک بابل میں اسیر تھے تو اِس دوران یروشلم اور اِس میں موجود ہیکل بالکل ویران پڑی تھی۔ لیکن جب مادیوں اور فارسیوں نے بابل کو فتح کر لیا تو بابلیوں کی سلطنت کے مختلف حصوں میں رہنے والے یہودیوں کو یہ اِجازت مل گئی کہ وہ اپنے ملک واپس لوٹ جائیں اور وہاں پھر سے سچے خدا یہوواہ کی عبادت کریں۔ (عز 1:1-4) 537 قبلازمسیح کے شروع میں بنیاِسرائیل کے 12 قبیلوں میں سے کچھ یہودی اپنے ملک واپس لوٹ گئے۔ (یسع 60:4) وہاں جا کر اُنہوں نے یہوواہ کے لیے قربانیاں چڑھانا، عیدیں منانا اور ہیکل کو دوبارہ تعمیر کرنا شروع کر دیا۔ (عز 3:1-4، 7-11؛ 6:16-22) اِس طرح یہوواہ کا نور پھر سے یروشلم یعنی اپنے بندوں پر چمکنے لگا۔ اور اِس کے نتیجے میں یہوواہ کے اِن بندوں نے اپنی روشنی اُن قوموں پر چمکانی شروع کر دی جو روحانی لحاظ سے اندھیرے میں تھے یعنی یہوواہ کو نہیں جانتے تھے۔
لیکن یروشلم کی بحالی کے حوالے سے یسعیاہ نبی کی پیشگوئیاں اُس زمانے میں مکمل طور پر پوری نہیں ہوئیں۔ زیادہتر اِسرائیلی پھر سے یہوواہ کی نافرمانی کرنے لگے تھے۔ (نحم 13:27؛ ملا 1:6-8؛ 2:13، 14؛ متی 15:7-9) یہاں تک کہ بعد میں اُنہوں نے یسوع کو بھی خدا کے چُنے ہوئے مسیح کے طور پر قبول نہیں کِیا۔ (متی 27:1، 2) پھر 70ء میں یروشلم اور اِس میں موجود ہیکل کو دوسری بار تباہ کر دیا گیا۔
یہوواہ نے اِس ہولناک تباہی کے بارے میں پہلے سے ہی پیشگوئی کر دی تھی۔ (دان 9:24-27) اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہوواہ کا یہ مقصد نہیں تھا کہ یسعیاہ 60 باب میں یروشلم کی بحالی کے حوالے سے لکھی ہر پیشگوئی اُس زمانے کے یروشلم پر ہی پوری ہو۔
کیا یسعیاہ 60 باب میں لکھی بات آج ہمارے زمانے میں بڑے پیمانے پر پوری ہو رہی ہے؟ جی ہاں۔ لیکن ایک فرق مجازی عورت پر۔ یہ مجازی عورت وہ یروشلم ہے جو ”آسمان پر ہے۔“ پولُس رسول نے اِس عورت کے بارے میں کہا: ”[وہ]ہماری ماں ہے۔“ (گل 4:26) ”جو یروشلم آسمان پر ہے،“ وہ خدا کی تنظیم کے آسمانی حصے کی طرف اِشارہ کرتا ہے جس میں وفادار فرشتے شامل ہیں۔ اور اِس کے بچوں میں یسوع مسیح اور 1 لاکھ 44 ہزار مسحشُدہ مسیحی شامل ہیں۔ مسحشُدہ مسیحی پولُس کی طرح آسمان پر ہمیشہ کی زندگی پانے کی اُمید رکھتے ہیں۔ وہ ”ایک مُقدس اُمت“ یعنی ”خدا کا اِسرائیل“ ہیں۔—1-پطر 2:9؛ گل 6:16۔
”جو یروشلم آسمان پر ہے،“ وہ کیسے ’اُٹھا‘ اور کیسے ’روشنی چمکانے‘ لگا؟ اُس نے ایسا زمین پر موجود اپنے مسحشُدہ بچوں کے ذریعے کِیا۔ آئیے دیکھیں کہ اِن مسحشُدہ مسیحیوں کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ یسعیاہ 60 باب میں لکھی پیشگوئیوں سے کیسے میل کھاتا تھا۔
مسحشُدہ مسیحیوں کو اُٹھ کر اپنی ’روشنی چمکانی‘ تھی۔ کیوں؟ کیونکہ رسولوں کی موت کے بعد دوسری صدی عیسوی تک ”زہریلے پودے“ بڑھنے لگے یعنی برگشتگی تیزی سے پھیلنے لگی۔ اِس وجہ سے مسحشُدہ مسیحی ایک طرح سے اندھیرے میں چلے گئے۔ (متی 13:37-43) اُس وقت وہ بابلِعظیم یعنی جھوٹے مذہب کی غلامی میں آ گئے اور ’دُنیا کے آخری زمانے‘ تک اِس میں رہے۔ دُنیا کا آخری زمانہ 1914ء میں شروع ہوا تھا۔ (متی 13:39، 40) اِس کے تھوڑے ہی وقت بعد 1919ء میں وہ جھوٹے مذہب کی غلامی سے آزاد ہو گئے اور فوراً دل لگا کر مُنادی کرنے سے اپنی روشنی چمکانے لگے۔b اُس وقت سے تمام قوموں کے لوگ اِس روشنی کی طرف آ رہے ہیں۔ اِن میں ’خدا کے اِسرائیل‘ کا بقیہ یعنی باقی مسحشُدہ مسیحی بھی شامل ہیں۔ یہ وہ ”سلاطین“ یعنی بادشاہ ہیں جن کا ذکر یسعیاہ 60:3 میں ہوا ہے۔—مُکا 5:9، 10۔
مستقبل میں مسحشُدہ مسیحی یہوواہ کی طرف سے آنے والی روشنی کو اَور بھی بڑے پیمانے پر پھیلائیں گے۔ وہ کیسے؟ جب زمین پر اُن کی زندگی ختم ہو جائے گی تو وہ مسیح کی دُلہن یا ”نئے یروشلیم“ کا حصہ بن جائیں گے۔ نئے یروشلم میں 1 لاکھ 44 ہزار لوگ شامل ہیں جو یسوع کے ساتھ بادشاہوں اور کاہنوں کے طور پر خدمت کریں گے۔—مُکا 14:1؛ 21:1، 2، 24؛ 22:3-5۔
نیا یروشلم یسعیاہ 60:1 میں لکھی پیشگوئی کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ (یسعیاہ 60:1، 3، 5، 11، 19، 20 کا مُکاشفہ 21:2، 9-11، 22-26 سے موازنہ کریں۔) جس طرح پُرانے زمانے میں یروشلم اِسرائیل کی حکومت کا مرکز تھا اُسی طرح نیا یروشلم اور یسوع مسیح نئی دُنیا کی حکومت بن جائیں گے۔ نیا یروشلم ’خدا کی طرف سے نیچے‘ کیسے آئے گا؟ وہ کام کرنے سے جن کا اثر زمین پر رہنے والے لوگوں پر پڑے گا۔ اِس ”شہر کی روشنی سے قوموں کی راہ روشن ہوگی“ یعنی اُن سب لوگوں کی راہ جو یہوواہ کا خوف رکھتے ہیں۔ یہ لوگ تو گُناہ اور موت کی غلامی سے بھی آزاد ہو جائیں گے۔ (مُکا 21:3، 4، 24) اِس طرح وہ ’سب چیزیں‘ مکمل طور پر ”بحال“ ہو جائیں گی جن کا ذکر یسعیاہ اور دوسرے نبیوں نے کِیا تھا۔ (اعما 3:21) سب چیزیں اُس وقت بڑے پیمانے پر ”بحال“ ہونا شروع ہوئیں جب یسوع مسیح آسمان پر بادشاہ بنے تھے اور یہ اُن کی ہزار سالہ حکمرانی کے آخر پر مکمل طور پر بحال ہو جائیں گی۔
a ”ترجمہ نئی دُنیا“ میں یسعیاہ 60:1 میں لفظ ”عورت“ اِستعمال ہوا ہے جبکہ بائبل کے کچھ ترجموں میں وہاں لفظ ”عورت“ کی بجائے ”صِیّون“ یا ”یروشلم“ اِستعمال کِیا گیا ہے۔ ”ترجمہ نئی دُنیا“ میں لفظ ”عورت“ لگانے کی وجہ یہ ہے کہ جن عبرانی فعل کا ترجمہ ”اُٹھ“ اور ”روشنی چمکا“ کِیا گیا ہے، وہ مؤنث ہیں۔
b حِزقیایل 37:1-14 اور مُکاشفہ 11:7-12 میں بھی اُن واقعات کا ذکر کِیا گیا ہے جو یہوواہ کی عبادت کے حوالے سے 1919ء میں ہوئے تھے۔ حِزقیایل نبی کی پیشگوئی کے مطابق تمام مسحشُدہ مسیحیوں کو ایک لمبے عرصے کے بعد مجازی موت کی نیند سے جگایا گیا یعنی وہ ایک لمبے عرصے کے بعد جھوٹے مذہب کی غلامی سے آزاد ہوئے اور پھر سے صحیح طریقے سے یہوواہ کی عبادت کرنے لگے۔ لیکن مُکاشفہ میں کی گئی پیشگوئی کے مطابق مسحشُدہ مسیحیوں کے ایک چھوٹے سے گروہ کو مختصر سے عرصے کے بعد مجازی طور پر زندہ کِیا گیا۔ مسحشُدہ مسیحیوں کے اِس گروہ کو جھوٹے اِلزام میں جیل میں ڈال دیا گیا تھا جس کی وجہ سے وہ کچھ وقت تک خدا کے بندوں کی پیشوائی نہیں کر پائے۔ 1919ء میں یہوواہ نے اُنہیں ”وفادار اور سمجھدار غلام“ کے طور پر مقرر کِیا۔—متی 24:45؛ مارچ 2016ء کے ”مینارنگہبانی“ کے صفحہ نمبر 29-31 پر ”قارئین کے سوال“ کو دیکھیں۔