مطالعے کا مضمون نمبر 30
گیت نمبر 36: اپنے دل کی حفاظت کریں
اِسرائیل کے بادشاہوں سے کچھ اہم سبق
”تُم . . . صادق اور شریر میں اور خدا کی عبادت کرنے والے اور نہ کرنے والے میں اِمتیاز کرو گے۔“—ملا 3:18۔
غور کریں کہ . . .
یہوواہ نے کس بِنا پر طے کِیا کہ اِسرائیل کا ایک بادشاہ اچھا تھا یا بُرا۔ اگر ہم یہ سمجھ جائیں گے تو ہم یہ بھی جان پائیں گے کہ یہوواہ آج اپنے بندوں میں کن باتوں کو دیکھنا چاہتا ہے۔
1-2. بائبل میں اِسرائیل کے کچھ بادشاہوں کے بارے میں کیا بتایا گیا ہے؟
بائبل میں 40 سے زیادہ ایسے آدمیوں کا ذکر کِیا گیا ہے جنہوں نے اِسرائیل کے بادشاہوں کے طور پر حکومت کی۔a بائبل میں کُھل کر اِن میں سے کچھ بادشاہوں کے کاموں کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ مثال کے طور پر اِس میں بتایا گیا ہے کہ کچھ اچھے بادشاہوں نے کچھ بُرے کام بھی کیے تھے۔ ذرا بادشاہ داؤد کے بارے میں سوچیں جو ایک اچھے بادشاہ تھے۔ یہوواہ نے اُن کے بارے میں کہا: ”میرے بندے داؤد . . . نے میرے حکموں پر عمل کِیا اور پورے دل سے میری راہوں پر چلا اور صرف وہی کام کیے جو میری نظر میں صحیح تھے۔“ (1-سلا 14:8) لیکن یہوواہ کے اِس بندے نے ایک بہت بڑا گُناہ بھی کِیا۔ اُس نے ایک شادیشُدہ عورت کے ساتھ زِناکاری کی اور جنگ میں اُس کے شوہر کو مروا دیا۔—2-سمو 11:4، 14، 15۔
2 بائبل میں اِسرائیل کے بہت سے ایسے بادشاہوں کے بارے میں بھی بتایا گیا ہے جو یہوواہ کے وفادار نہیں تھے لیکن اُنہوں نے کچھ اچھے کام کیے۔ رحبُعام کی مثال لیں۔ بائبل میں بتایا گیا ہے کہ رحبُعام نے یہوواہ کی نظر میں ”بُرے کام کیے۔“ (2-توا 12:14) لیکن جب یہوواہ نے اُس سے کہا کہ وہ اِسرائیل کے دس قبیلوں پر حملہ نہ کرے اور اِن قبیلوں کو خود اپنے لیے بادشاہ چُننے دے تو اُس نے یہوواہ کا حکم مانا۔ اُس نے یہوواہ کے بندوں کو دُشمنوں سے محفوظ رکھنے کے لیے اپنی سلطنت میں بہت سے شہروں کو بھی مضبوط کِیا۔—1-سلا 12:21-24؛ 2-توا 11:5-12۔
3. کون سا اہم سوال کھڑا ہوتا ہے اور اِس مضمون میں ہم کن باتوں پر غور کریں گے؟
3 یہ بہت ضروری ہے کہ ہم اِس اہم سوال کا جواب جانیں: اگر اِسرائیل کے بادشاہوں نے اچھے کام بھی کیے اور بُرے بھی تو پھر یہوواہ نے کس بِنا پر یہ طے کِیا کہ ایک بادشاہ اُس کی نظر میں اُس کا وفادار تھا یا نہیں؟ اِس سوال کا جواب جاننے سے ہم یہ سمجھ پائیں گے کہ یہوواہ ہم میں کن باتوں کو دیکھنا چاہتا ہے۔ اِس مضمون میں ہم تین ایسی باتوں پر غور کریں گے جن کی بِنا پر یہوواہ نے یہ دیکھا ہوگا کہ اِسرائیل کا ایک بادشاہ اچھا تھا یا بُرا۔ سب سے پہلے تو ہم اِس بات پر غور کریں گے کہ وہ بادشاہ پورے دل سے یہوواہ سے محبت کرتا تھا یا نہیں۔ پھر ہم اِس بات پر غور کریں گے کہ اُس نے بُرے کام کرنے کے بعد دل سے توبہ کی تھی یا نہیں اور آخر میں ہم یہ دیکھیں گے کہ وہ بعد میں بھی صحیح طریقے سے یہوواہ کی عبادت کرتا رہا یا نہیں۔
اُنہوں نے پورے دل سے یہوواہ سے محبت کی
4. جو بادشاہ یہوواہ کے وفادار تھے اور جو بادشاہ اُس کے وفادار نہیں تھے، اُن میں ایک فرق کیا تھا؟
4 یہوواہ جن بادشاہوں سے خوش تھا، وہ ایسے بادشاہ تھے جو پورے دلb سے اُس سے محبت کرتے تھے۔ یہوسفط ایک اچھے بادشاہ تھے اور اُنہوں نے ”پورے دل سے یہوواہ کی تلاش کی تھی۔“ (2-توا 22:9) اور بادشاہ یوسیاہ کے بارے میں بائبل میں بتایا گیا ہے کہ ’نہ تو یوسیاہ سے پہلے اور نہ ہی اُن کے بعد اُن جیسا کوئی بادشاہ تھا جو اپنے سارے دل سے یہوواہ کی طرف لوٹ آیا ہو۔‘ (2-سلا 23:25) اور بادشاہ سلیمان کے بارے میں کیا کہا جا سکتا ہے جنہوں نے بعد میں بُرے کام کیے؟ بائبل کے مطابق ”اُن کا دل پوری طرح سے اپنے خدا یہوواہ کی طرف نہ رہا۔“ (1-سلا 11:4) اور بادشاہ ابییام جو کہ ایک بُرا بادشاہ تھا، اُس کے بارے میں بائبل میں بتایا گیا ہے کہ ”اُس کا دل پوری طرح سے اپنے خدا یہوواہ کی طرف نہیں تھا۔“—1-سلا 15:3۔
5. بتائیں کہ پورے دل سے یہوواہ کی عبادت کرنے کا کیا مطلب ہے۔
5 جب پورے دل سے یہوواہ کی عبادت کرنے کی بات آتی ہے تو اِس کا کیا مطلب ہوتا ہے؟ جو شخص پورے دل سے یہوواہ کی عبادت کرتا ہے، وہ ایسا صرف اِس لیے نہیں کرتا کیونکہ یہ اُس پر فرض ہے۔ اِس کی بجائے وہ اِس لیے یہوواہ کی عبادت کرتا ہے کیونکہ وہ اُس سے دل سے محبت کرتا ہے اور اُس کا گہرا احترام کرتا ہے۔ اِس کے علاوہ وہ پوری زندگی اپنے دل میں یہوواہ کے لیے محبت اور احترام کو قائم رکھتا ہے۔
6. ہم کیا کر سکتے ہیں تاکہ ہم پورے دل سے یہوواہ سے محبت کرتے رہیں؟ (اَمثال 4:23؛ متی 5:29، 30)
6 ہم اُن بادشاہوں کی طرح کیسے بن سکتے ہیں جو پورے دل سے یہوواہ سے محبت کرتے تھے؟ ایسی چیزوں سے دُور رہنے سے جو ہم پر بُرا اثر ڈال سکتی ہیں اور ہمارے دل سے یہوواہ کی محبت ختم کر سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر ہمیں بُری تفریح سے دُور رہنا چاہیے کیونکہ اِس کی وجہ سے ہمارا دل بٹ سکتا ہے۔ اِس کے علاوہ ہمیں بُرے لوگوں سے دوستی کرنے سے بھی خبردار رہنا چاہیے جو ہمارے دل میں یہ خیال ڈال سکتے ہیں کہ پیسہ حاصل کرنا زندگی میں سب سے زیادہ ضروری ہے۔ اگر کسی بھی بات کی وجہ سے ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے دل سے یہوواہ کی محبت کم ہو رہی ہے تو ہمیں فوراً اپنی سوچ اور اپنے کاموں کو بدل لینا چاہیے۔—اَمثال 4:23؛ متی 5:29، 30 کو پڑھیں۔
7. یہ کیوں اہم ہے کہ ہم ہر ایسی چیز سے دُور رہیں جو ہمارے دل سے یہوواہ کی محبت کم کر سکتی ہے؟
7 ہمیں کبھی بھی اپنے دل کو بٹنے نہیں دینا چاہیے۔ لیکن ایسا کرنے کے لیے ہمیں محتاط رہنا ہوگا۔ اگر ہم محتاط نہیں رہیں گے تو ہم یہ سوچ کر خود کو دھوکا دینے لگیں گے کہ یہوواہ کی خدمت میں مصروف رہنے سے ہم پر بُری چیزوں کا اثر نہیں ہوگا۔ اِس بات کو سمجھنے کے لیے ذرا ایک مثال پر غور کریں۔ فرض کریں کہ آپ سردی کے موسم میں باہر ہیں اور بہت ٹھنڈی ہوا چل رہی ہے۔ پھر آپ اپنے گھر آتے ہیں اور ہیٹر چلاتے ہیں۔ ذرا سوچیں کہ اگر آپ ہیٹر چلا کر گھر کا دروازہ کھول دیں گے تو کیا اِس سے آپ کو کوئی فائدہ ہوگا؟ بالکل نہیں، جلد ہی پورا گھر ٹھنڈی ہوا سے بھر جائے گا۔ اِس مثال سے ہم کیا سیکھتے ہیں؟ یہ کہ ہمیں صرف روحانی کھانا کھانے کی ہی ضرورت نہیں ہے جو ہمارے دل میں یہوواہ کی محبت کو گرما سکتی ہے۔ ہمیں کچھ اَور بھی کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک طرح سے ہمیں وہ دروازہ بھی بند کر دینے کی ضرورت ہے جس کے ذریعے اِس دُنیا کی سرد ”ہوا“ یعنی بُری سوچ ہمارے دل میں داخل ہو سکتی ہے اور جس کی وجہ سے ہمارا دل بٹ سکتا ہے۔—اِفِس 2:2۔
اُنہوں نے دل سے توبہ کی
8-9. جب بادشاہ داؤد اور بادشاہ حِزقیاہ کی اِصلاح کی گئی تو اُنہوں نے کیا کِیا؟ (سرِورق کی تصویر کو دیکھیں۔)
8 جیسا کہ ہم نے پہلے ذکر کِیا تھا، بادشاہ داؤد نے یہوواہ کے حضور بہت بڑا گُناہ کِیا۔ لیکن جب ناتن نبی نے داؤد کی اِصلاح کی تو داؤد نے اپنے گُناہ کو تسلیم کِیا اور دل سے توبہ کی۔ (2-سمو 12:13) داؤد نے سزا سے بچنے کے لیے ناتن کے سامنے توبہ کرنے کا دِکھاوا نہیں کِیا بلکہ وہ دل سے اپنے گُناہ پر شرمندہ تھے۔ یہ بات داؤد کے اُن الفاظ سے صاف نظر آتی ہے جو اُنہوں نے زبور 51 میں کہے۔—زبور 51:3، 4، 17، تمہید۔
9 بادشاہ حِزقیاہ نے بھی یہوواہ کی نظر میں گُناہ کِیا۔ بائبل میں لکھا ہے کہ ”اُن کے دل میں غرور سما گیا جس کی وجہ سے اُن پر اور یہوداہ اور یروشلم پر خدا کا غصہ بھڑکا۔“ (2-توا 32:25) حِزقیاہ کیوں مغرور بن گئے؟ شاید اِس لیے کیونکہ اُن کے پاس بہت مالودولت تھی، اُنہوں نے اسوریوں پر فتح حاصل کی تھی اور اُنہیں ایک معجزے کے ذریعے جانلیوا بیماری سے شفا ملی تھی۔ تو یہ گھمنڈ ہی تھا جس کی وجہ سے شاید حِزقیاہ نے بابلیوں کو اپنی مالودولت دِکھائی تھی۔ یہوواہ کو یہ بات بالکل پسند نہیں آئی اِس لیے یسعیاہ نبی نے حِزقیاہ کی اِصلاح کی۔ (2-سلا 20:12-18) اِس پر حِزقیاہ نے کیا کِیا؟ داؤد کی طرح اُنہوں نے بھی خاکساری سے اپنے گُناہ پر توبہ کی۔ (2-توا 32:26) اِس لیے یہوواہ نے اُنہیں ایک ایسا بادشاہ خیال کِیا جو ’ایسے کام کرتا رہا جو یہوواہ کی نظر میں صحیح تھے۔‘—2-سلا 18:3۔
جب بادشاہ داؤد اور بادشاہ حِزقیاہ کی اِصلاح کی گئی تو اُنہوں نے خاکساری سے توبہ کی۔ (پیراگراف نمبر 8-9 کو دیکھیں۔)
10. جب بادشاہ اَمصیاہ کی درستی کی گئی تو اُنہوں نے کیا کِیا؟
10 بادشاہ داؤد اور بادشاہ حِزقیاہ کے برعکس بادشاہ اَمصیاہ نے اچھے کام تو کیے ”لیکن پورے دل سے نہیں۔“ (2-توا 25:2) اُن سے کہاں غلطی ہوئی؟ جب یہوواہ نے ادومیوں پر فتح حاصل کرنے میں بادشاہ اَمصیاہ کی مدد کی تو وہ ادومیوں کے جھوٹے دیوتاؤں کی پوجا کرنے لگے۔c اور پھر جب یہوواہ کے نبی نے اَمصیاہ سے اِس بارے میں بات کی تو اُنہوں نے بڑی ہٹدھرمی سے اُس نبی کی بات سننے سے اِنکار کر دیا۔—2-توا 25:14-16۔
11. اگر ہم یہوواہ سے معافی پانا چاہتے ہیں تو 2-کُرنتھیوں 7:9، 11 کے مطابق ہمیں کرنا ہوگا؟ (تصویروں کو بھی دیکھیں۔)
11 ہم نے جن بادشاہوں کی مثال پر غور کِیا ہے، ہم اُن سے کیا سیکھتے ہیں؟ ہم یہ سیکھتے ہیں کہ ہمیں اپنے گُناہوں پر دل سے توبہ کرنی چاہیے اور پوری کوشش کرنی چاہیے کہ ہم اُن گُناہوں کو نہ دُہرائیں۔ لیکن اگر کلیسیا کا کوئی بزرگ کسی ایسے معاملے میں ہمارا اِصلاح کرتا ہے جو ہمیں معمولی لگتا ہے تو پھر ہم کیا کر سکتے ہیں؟ ہمیں یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ یہوواہ ہم سے پیار نہیں کرتا یا وہ بزرگ ہمارے خلاف ہے۔ یاد رکھیں کہ اِسرائیل کے اچھے بادشاہوں کی بھی اِصلاح کی گئی تھی۔ ایسا نہیں تھا کہ بادشاہ ہونے کی وجہ سے اُنہیں درستی کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ (عبر 12:6) اِس لیے جب ہماری اِصلاح کی جاتی ہے تو ہمیں یہ تین کام کرنے چاہئیں: (1)ہمیں خاکساری سے اِسے قبول کرنا چاہیے، (2)ہمیں خود کو بدلنا چاہیے اور (3)ہمیں ماضی کو بُھلا کر پورے دل سے یہوواہ کی خدمت کرنے کے لیے آگے بڑھنا چاہیے۔ اگر ہم دل سے اپنے گُناہوں پر توبہ کریں گے تو یہوواہ ہمیں معاف کر دے گا۔—2-کُرنتھیوں 7:9، 11 کو پڑھیں۔
جب ہماری اِصلاح کی جاتی ہے تو (1)ہمیں خاکساری سے اِسے قبول کرنا چاہیے، (2)ہمیں خود کو بدلنا چاہیے اور (3)ہمیں ماضی کو بُھلا کر پورے دل سے یہوواہ کی خدمت کرنے کے لیے آگے بڑھنا چاہیے۔ (پیراگراف نمبر 11 کو دیکھیں۔)f
اُنہوں نے صحیح طریقے سے یہوواہ کی عبادت کی
12. جو بادشاہ یہوواہ کے وفادار تھے، وہ خاص طور پر کس لحاظ سے نافرمان بادشاہوں سے فرق تھے؟
12 یہوواہ جن بادشاہوں کو وفادار سمجھتا تھا، وہ ایسے بادشاہ تھے جو اُس کی مرضی کے مطابق اُس کی عبادت کرتے تھے۔ اِتنا ہی نہیں، وہ اپنی رعایا کی بھی ایسا کرنے کے لیے حوصلہافزائی کرتے تھے۔ بےشک اِن بادشاہوں سے کچھ غلطیاں بھی ہوئیں۔ لیکن جب عبادت کرنے کی بات آئی تو اُنہوں نے صرف اور صرف یہوواہ کی عبادت کی یہاں تک کہ ملک سے بُتپرستی کو ختم کرنے کے لیے جیتوڑ کوشش بھی کی۔d
13. یہوواہ خدا نے بادشاہ اخیاب کو ایک بُرا بادشاہ کیوں قرار دیا؟
13 یہوواہ نے کچھ بادشاہوں کو بُرا بادشاہ کیوں قرار دیا؟ اِس وجہ سے نہیں کیونکہ اُن بادشاہوں نے ہمیشہ بُرے کام ہی کیے تھے۔ بادشاہ اخیاب کی ہی مثال لے لیں۔ جب اُسے پتہ چلا کہ نبوت کو قتل کروانے سے اُس نے یہوواہ کو کتنا غصہ دِلایا ہے تو اُس نے کسی حد تک خاکساری دِکھائی اور اپنے گُناہ پر افسوس کِیا۔ (1-سلا 21:27-29) اخیاب نے شہر بھی تعمیر کیے اور یہوواہ کے بندوں کے لیے بہت سی جنگیں بھی لڑیں۔ (1-سلا 20:21، 29؛ 22:39) لیکن اخیاب نے اپنی بیوی کے کہنے پر جھوٹے دیوتاؤں کی عبادت کو بڑھاوا دیا جو نہایت ہی بُرا کام تھا۔ اور اِس گُناہ کے لیے تو اُس نے کبھی توبہ بھی نہیں کی۔—1-سلا 21:25، 26۔
14. (الف)یہوواہ خدا بادشاہ رحبُعام کو بُرا بادشاہ کیوں سمجھتا تھا؟ (ب)یہوواہ سے نافرمانی کرنے والے بادشاہوں میں کون سی بات ملتی جلتی تھی؟
14 اب ذرا بادشاہ رحبُعام کی مثال پر غور کریں جو یہوواہ کا وفادار نہیں تھا۔ جیسا کہ ہم نے پیراگراف 2 میں دیکھا تھا، یہ سچ ہے کہ اُس نے بہت سے اچھے کام کیے۔ لیکن جب اُسے بادشاہ کے طور پر بہت کامیابی ملی تو اُس نے یہوواہ کی شریعت پر عمل کرنا چھوڑ دیا اور جھوٹے دیوتاؤں کی عبادت کرنا شروع کر دی۔ (2-توا 12:1) اِس کے بعد اُس کا دل یہوواہ اور جھوٹے دیوتاؤں کی عبادت کرنے میں بٹ گیا۔ وہ کبھی یہوواہ کی عبادت کرتا تو کبھی جھوٹے دیوتاؤں کی۔ (1-سلا 14:21-24) صرف رحبُعام اور اخیاب ہی وہ بادشاہ نہیں تھے جنہوں نے یہوواہ کی عبادت کرنا چھوڑ دی تھی۔ دراصل یہوواہ سے نافرمانی کرنے والے زیادہتر بادشاہوں نے جھوٹے دیوتاؤں کی پوجا کی اور دوسروں کو بھی ایسا کرنے کے لیے اُبھارا۔ ظاہری بات ہے کہ یہوواہ کے نزدیک یہ بات بہت اہمیت رکھتی تھی کہ ایک بادشاہ اُس کی صحیح طریقے سے عبادت کر رہا ہے یا نہیں اور وہ اِسی کی بِنا پر اُسے اچھا یا بُرا بادشاہ قرار دیتا تھا۔
15. یہوواہ کی نظر میں یہ بات اِتنی اہم کیوں ہے کہ اُس کی صحیح طریقے سے عبادت کی جائے؟
15 یہوواہ کے نزدیک یہ بات اِتنی اہمیت کیوں رکھتی تھی کہ اُس کی قوم پر حکمرانی کرنے والے بادشاہ صحیح طریقے سے اُس کی عبادت کریں؟ اِس کی ایک وجہ یہ تھی کہ یہ بادشاہوں کی ذمےداری تھی کہ وہ صحیح طریقے سے یہوواہ کی عبادت کرنے میں اُس کے بندوں کی رہنمائی کریں۔ تو جب ایک بادشاہ اور اُس کی حکمرانی کے تحت رہنے والے لوگ بُتپرستی کرنے لگتے تھے تو وہ بہت بڑا گُناہ کر رہے ہوتے تھے۔ اِتنا ہی نہیں، بُتپرستی کرنے کی وجہ سے وہ اَور بھی دوسرے بڑے گُناہ کرنے لگتے تھے اور ایک دوسرے کے ساتھ بہت بُری طرح سے پیش آتے تھے۔ (ہوس 4:1، 2) اِس کے علاوہ اِسرائیل کے بادشاہ اور اُن کی رعایا یہوواہ کی چُنی ہوئی قوم تھے۔ اِس لیے جھوٹے دیوتاؤں کی عبادت کرنے سے وہ یہوواہ سے بےوفائی کر رہے ہوتے تھے۔ بائبل میں بتایا گیا ہے کہ ایسا کرنے سے ایک طرح سے وہ زِناکاری کر رہے ہوتے تھے۔ (یرم 3:8، 9) جب ایک شخص زِناکاری کرتا ہے تو وہ اپنے جیون ساتھی سے بےوفائی کرتا ہے اور اُسے شدید تکلیف پہنچاتا ہے۔ اِسی طرح جب یہوواہ کا کوئی بندہ جھوٹے مذہب کے کسی کام میں حصہ لیتا ہے تو وہ یہوواہ سے بےوفائی کر رہا ہوتا ہے اور اُسے شدید تکلیف پہنچاتا ہے۔e—اِست 4:23، 24۔
16. یہوواہ کی نظر میں خاص طور پر کون سی بات ایک شخص کو اچھا یا بُرا اِنسان بناتی ہے؟
16 ہم یہوواہ کی عبادت کرنے کے حوالے سے کون سے سبق سیکھ سکتے ہیں؟ بےشک ہمیں ہر اُس چیز سے دُور رہنے کا پکا عزم کرنا چاہیے جس کا تعلق جھوٹے مذہب سے ہے۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ ہمیں یہوواہ کی اُسی طریقے سے عبادت کرنی چاہیے جس طرح سے وہ چاہتا ہے اور ایسا کرنے میں مصروف رہنا چاہیے۔ ملاکی نبی نے واضح طور پر بتایا تھا کہ کون سی بات ایک شخص کو یہوواہ کی نظر میں اچھا یا بُرا اِنسان بناتی ہے۔ اُنہوں نے کہا: ”تُم . . . صادق اور شریر میں اور خدا کی عبادت کرنے والے اور نہ کرنے والے میں اِمتیاز کرو گے۔“ (ملا 3:18) اِس لیے ہمیں کسی بھی چیز کو، یہاں تک کہ اپنی خامیوں اور غلطیوں کو بھی اِس بات کی اِجازت نہیں دینی چاہیے کہ وہ ہمیں اِس حد تک بےحوصلہ کر دیں کہ ہم یہوواہ کی عبادت کرنا ہی چھوڑ دیں۔ دراصل یہوواہ کی عبادت کو چھوڑ دینا ہی بہت بڑا گُناہ ہے!
17. ہمیں سوچ سمجھ کر اپنے لیے جیون ساتھی کا اِنتخاب کیوں کرناچاہیے؟
17 اگر آپ غیرشادیشُدہ ہیں اور شادی کرنے کا سوچ رہے ہیں تو آپ کو ملاکی نبی کی بات پر غور کرنے سے صحیح جیون ساتھی چُننے میں مدد کیسے مل سکتی ہے؟ ہو سکتا ہے کہ آپ کو ایک شخص میں کچھ شاندار خوبیاں نظر آئیں۔ لیکن ذرا سوچیں کہ اگر وہ شخص سچے خدا یہوواہ کی عبادت نہیں کرتا تو کیا وہ یہوواہ کی نظر میں نیک ہوگا؟ (2-کُر 6:14) اور اگر آپ اُس سے شادی کر لیں گے تو کیا وہ یہوواہ کا وفادار رہنے اور اُس کے اَور قریب جانے میں آپ کی مدد کرے گا؟ ذرا بادشاہ سلیمان کی بیویوں کی مثال لیں جو جھوٹے دیوتاؤں کی پوجا کرتی تھیں۔ ہو سکتا ہے کہ اُن میں کچھ اچھی خوبیاں ہوں۔ لیکن وہ یہوواہ کی عبادت نہیں کرتی تھیں اور اُنہوں نے آہستہ آہستہ سلیمان کو بھی جھوٹے دیوتاؤں کی عبادت کرنے پر مائل کر لیا۔—1-سلا 11:1، 4۔
18. ماں باپ کو اپنے بچوں کو کون سی بات سکھانی چاہیے؟
18 والدین! اپنے بچوں کے دل میں یہوواہ کی عبادت کرنے کا شوق پیدا کریں۔ ایسا کرنے کے لیے اُنہیں اِسرائیل کے بادشاہوں سے سکھائیں۔ اُن کی یہ سمجھنے میں مدد کریں کہ یہوواہ صرف اُسی بادشاہ کو ایک اچھا شخص سمجھتا تھا جو لگن سے اُس کی عبادت کرتا تھا اور دوسروں کی بھی ایسا کرنے کے لیے حوصلہافزائی کرتا تھا۔ بچوں کو اپنی باتوں اور کاموں سے سکھائیں کہ یہوواہ کی عبادت کرنا جیسے کہ بائبل کا مطالعہ کرنا، عبادتوں میں جانا اور مُنادی کرنا کسی بھی دوسرے کام سے زیادہ اہم ہے۔ (متی 6:33) اگر آپ ایسا نہیں کریں گے تو آپ کے بچے صرف اِس وجہ سے یہوواہ کی عبادت کریں گے کیونکہ آپ ایسا کر رہے ہیں نہ کہ اِس وجہ سے کہ وہ یہوواہ سے محبت کرتے ہیں۔ اگر اُن کے دل میں یہوواہ کے لیے محبت نہیں ہوگی تو وہ اُس کی عبادت کو اپنی زندگی میں زیادہ اہمیت نہیں دیں گے یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ ایسا کرنا ہی چھوڑ دیں۔
19. اُن لوگوں کے لیے کیا اُمید ہے جنہوں نے یہوواہ کی عبادت کرنا چھوڑ دی ہے؟ (بکس ”آپ یہوواہ کی طرف لوٹ سکتے ہیں!“ کو بھی دیکھیں۔)
19 اگر ایک شخص نے یہوواہ کی عبادت کرنا چھوڑ دی ہے تو کیا اِس کا یہ مطلب ہے کہ اب کچھ نہیں ہو سکتا؟ نہیں، ایسا بالکل نہیں ہے۔ وہ شخص توبہ کر سکتا ہے اور پھر سے یہوواہ کی طرف لوٹ سکتا ہے۔ لیکن ایسا کرنے کے لیے اُسے اپنی اَنا کو مارنا ہوگا اور خاکساری سے کلیسیا کے بزرگوں کی طرف سے ملنے والی مدد کو قبول کرنا ہوگا۔ (یعقو 5:14) یہ ایسی کوششیں ہیں جو پھر سے یہوواہ کا دوست بننے کے آگے کچھ بھی نہیں ہیں۔
20. اگر ہم اُن بادشاہوں کی طرح بنیں گے جو یہوواہ کے وفادار تھے تو یہوواہ ہمیں کیسا خیال کرے گا؟
20 تو پھر ہم نے اِسرائیل کے بادشاہوں سے کون سے سبق سیکھے ہیں؟ اگر ہم پورے دل سے یہوواہ سے محبت کرتے رہیں گے تو ہم اِسرائیل کے اچھے بادشاہوں کی طرح ہوں گے۔ آئیے اپنی غلطیوں سے سیکھیں، دل سے توبہ کریں اور خود میں بہتری لائیں۔ اور یہ بات ہمیشہ یاد رکھیں کہ صرف اور صرف سچے خدا یہوواہ کی اُس کی مرضی کے مطابق عبادت کرنا کتنا ضرور ی ہے۔ اگر آپ یہوواہ سے لپٹے رہیں گے اور اُس کے وفادار رہیں گے تو یہوواہ آپ کو ایک ایسا شخص خیال کرے گا جو وہی کام کرتا ہے جو اُس کی نظر میں ٹھیک ہیں۔
گیت نمبر 45: میرے دل کی سوچ بچار
a اِس مضمون میں اِصطلاح ”اِسرائیل کے بادشاہ“ اُن تمام بادشاہوں کی طرف اِشارہ کرتے ہیں جنہوں نے یہوواہ کے بندوں پر حکمرانی کی پھر چاہے اُنہوں نے یہوداہ کی سلطنت پر حکمرانی کی جس میں دو قبیلے تھے یا پھر اِسرائیل کی سلطنت پر جس میں دس قبیلے تھے یا پھر بنیاِسرائیل کے تمام بارہ قبیلوں پر۔
b لفظ کی وضاحت: بائبل میں لفظ ”دل“ اکثر یہ بتانے کے لیے اِستعمال کِیا جاتا ہے کہ ایک شخص اندر سے کیسا اِنسان ہے۔اِس میں ایک شخص کی خواہشیں، اُس کی سوچ، اُس کا رویہ، اُس کی نیت اور اُس کے منصوبے شامل ہیں۔
c اُس زمانے میں غیرقوم کے بادشاہ اکثر اُن قوموں کے دیوتاؤں کی پوجا کرنے لگتے تھے جن پر اُنہوں نے فتح حاصل کی ہوتی تھی۔
d بادشاہ آسا نے بہت بڑے گُناہ کیے۔ (2-توا 16:7، 10) لیکن بائبل میں اُن کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اُنہوں نے وہی کام کیے جو یہوواہ کی نظر میں ٹھیک تھے۔ حالانکہ شروع میں اُنہوں نے یہوواہ کے نبی کی طرف سے ملنے والی اِصلاح کو قبول نہیں کِیا لیکن لگتا ہے کہ اُنہوں نے بعد میں توبہ کر لی تھی۔ یہوواہ نے یہ نہیں دیکھا کہ آسا نے کتنی زیادہ غلطیاں کی ہیں بلکہ اُس نے یہ دیکھا کہ آسا میں کتنی زیادہ خوبیاں ہیں۔ آسا نے صرف اور صرف یہوواہ کی عبادت کی اور اپنی سلطنت سے بُتوں اور بُتپرستی کو ختم کرنے کی پوری کوشش کی۔—1-سلا 15:11-13؛ 2-توا 14:2-5۔
e یہوواہ کی نظر میں یہ بات بہت اہمیت رکھتی ہے کہ اُس کی کس طرح سے عبادت کی جاتی ہے۔ اِسی لیے یہوواہ نے شریعت کے پہلے دو حکموں میں اِس بات سے سختی سے منع کِیا کہ اُس کے علاوہ کسی اَور شخص یا چیز کی عبادت نہ کی جائے۔—خر 20:1-6۔
f تصویر کی وضاحت: ایک جوان بھائی جو کہ کلیسیا میں ایک بزرگ ہے، ایک بھائی کو بتا رہا ہے کہ اُسے شراب پینے کے حوالے سے اپنی عادت کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ اُس بھائی نے اُس جوان بزرگ کی طرف سے ملنے والی اِصلاح کو قبول کِیا ہے، وہ خود میں بہتری لایا ہے اور وفاداری سے یہوواہ کی خدمت کر رہا ہے۔