مہماننوازی کرنے سے دوسروں کے ساتھ ”اچھی چیزیں“ بانٹیں (متی 12:35)
بِلاشُبہ ہم سب اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ اپنی ”اچھی چیزیں“ بانٹنا چاہتے ہیں۔ ایسا کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ ہم ”مہماننوازی میں لگے رہیں۔“ (روم 12:13، اُردو جیو ورشن) اِس سلسلے میں بزرگوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ جب اُن کی کلیسیا میں کوئی مہمان مقرر آتا ہے تو کلیسیا اُس کے آنے جانے کا خرچہ اُٹھائے اور اُس کے کھانے پینے کا بندوبست کرے۔ لیکن شاید ہم اپنے بہن بھائیوں کی مہماننوازی کرنے سے ہچکچاتے ہیں کیونکہ ہم سوچتے ہیں کہ ہمارے پاس اِتنے پیسے نہیں کہ ہم اُنہیں اچھا کھانا کھلا سکیں یا پھر یہ کہ ہمارا گھر بہت ہی سادہ سا ہے۔ اگر ہم اُس نصیحت پر غور کریں جو یسوع مسیح نے مرتھا کو دی تھی تو ہم ایسے احساسات پر قابو پا سکیں گے۔ (لو 10:39-42) یسوع مسیح نے اِس بات پر زور دیا تھا کہ مہماننوازی کا مقصد یہ نہیں کہ ہم کھانے پینے کے بہت سے لوازمات تیار کریں اور مہمانوں کو اپنے گھر کے سازوسامان سے متاثر کریں۔ اِس کی بجائے مہماننوازی کا مقصد یہ ہے کہ ہم ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزاریں اور ایک دوسرے کی حوصلہافزائی کریں۔ یسوع مسیح کی اِس نصیحت پر عمل کرنے سے ہم اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ ”اچھی چیزیں“ بانٹ رہے ہوں گے۔ دراصل بائبل کے مطابق یہ ہر مسیحی کی ذمےداری ہے۔—3-یوح 5-8۔