یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م96 1/‏11 ص.‏ 19-‏23
  • ‏”‏مسافرپروری میں لگے رہو“‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • ‏”‏مسافرپروری میں لگے رہو“‏
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1996ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • اجنبیوں کا اشتیاق
  • یہوواہ، کامل میزبان
  • فرشتوں کا میزبان
  • ایک مسافرپرور قوم
  • مہمان‌نوازی کریں
    یہوواہ کے حضور ”‏خوشی سے گائیں“‏
  • مہمان‌نوازی کرنے سے دوسروں کے ساتھ ”‏اچھی چیزیں“‏ بانٹیں (‏متی 12:‏35)‏
    ہماری بادشاہتی خدمتگزاری ۲۰۱۴
  • ‏’‏ایک دوسرے کیلئے مہمان‌نوازی دکھائیں‘‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2005ء
  • منقسم دُنیا میں مسیحی مسافرپروری
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1996ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1996ء
م96 1/‏11 ص.‏ 19-‏23

‏”‏مسافرپروری میں لگے رہو“‏

‏”‏مُقدسوں کی احتیاجیں رفع کرو۔ مسافرپروری میں لگے رہو۔“‏—‏رومیوں ۱۲:‏۱۳‏۔‏

۱.‏ انسان کی بنیادی ضرورت کیا ہے اور اسے کیسے ظاہر کِیا گیا ہے؟‏

رات کے اندھیرے میں ایک انجان علاقے کی سنسان گلی میں سے گزرنا آجکل ایک بھیانک تجربہ ہو سکتا ہے۔ لیکن ایک ہجوم میں ہونا اور کسی سے واقف نہ ہونا یا پہچانے نہ جانا بھی اتنا ہی پریشان‌کُن ہو سکتا ہے۔ یقیناً، دیکھ‌بھال کئے جانے، چاہے جانے، اور محبت کئے جانے کی ضرورت انسانی فطرت کا جزوِلازم ہے۔ کوئی بھی پسند نہیں کرتا کہ اُس سے ایک اجنبی یا غیر جیسا سلوک کِیا جائے۔‏

۲.‏ یہوواہ نے ہماری رفاقت کی ضرورت کو کیسے پورا کِیا ہے؟‏

۲ یہوواہ خدا، تمام چیزوں کا صانع اور خالق، رفاقت کیلئے انسان کی ضرورت سے بخوبی واقف ہے۔ اپنی انسانی تخلیق کے نمونہ‌ساز کے طور پر، ابتدا ہی سے خدا جانتا تھا کہ ”‏آدم کا اکیلا رہنا اچھا نہیں،“‏ اور اُس نے اسکا بندوبست کِیا۔ (‏پیدایش ۲:‏۱۸،‏ ۲۱، ۲۲‏)‏ بائبل کا ریکارڈ یہوواہ کی طرف سے اور اُسکے خادموں کی طرف سے انسانوں کیلئے ظاہرکردہ مشفقانہ کاموں کی مثالوں سے بھرا پڑا ہے۔ یہ ہمیں سیکھنے کے قابل بناتا ہے کہ دوسروں کی خوشی اور لطف‌اندوزی اور اپنی ذاتی تسکین کیلئے کیسے ”‏مسافرپروری میں لگے“‏ رہیں۔—‏رومیوں ۱۲:‏۱۳‏۔‏

اجنبیوں کا اشتیاق

۳.‏ مسافرپروری کے بنیادی مطلب کی وضاحت کریں۔‏

۳ لفظ ”‏مسافرپروری“‏ جیسے‌کہ بائبل میں استعمال کِیا گیا ہے ایک یونانی لفظ فیلوکسینیا سے ترجمہ کِیا گیا ہے جو دو بنیادی الفاظ سے بنا ہے جنکا مطلب ہے ”‏محبت“‏ اور ”‏اجنبی۔“‏ لہٰذا، مسافرپروری کا لازماً مطلب ہے ”‏اجنبیوں سے محبت۔“‏ تاہم، یہ محض ایک رسم یا خوش‌اخلاقی کا معاملہ نہیں ہے۔ اس میں کسی کے احساسات اور رجحانات شامل ہوتے ہیں۔ جیمز سٹرانگ کے ایگساسٹو کنکارڈنس آف دی بائبل کے مطابق، فعل فیلو کا مطلب ہے ”‏کسی کا دوست ہونا (‏[‏کسی شخص یا کسی چیز]‏ کا شائق ہونا)‏، یعنی کسی کیلئے (‏جذبے یا احساس کے معاملے کے طور پر، ذاتی لگاؤ کا اظہار کرتے ہوئے)‏ الفت جتانا۔“‏ پس، مسافرپروری، شاید احساسِ‌ذمہ‌داری یا اخلاقی فرض کے باعث دکھائی جانیوالی، اصول پر مبنی محبت سے آگے بڑھ جاتی ہے۔ یہ عموماً حقیقی اشتیاق، الفت، اور دوستی کا اظہار ہے۔‏

۴.‏ کن لوگوں کے لئے مسافرپروری دکھائی جانی چاہئے؟‏

۴ اس اشتیاق اور محبت کا حاصل کرنے والا ”‏اجنبی“‏ (‏یونانی، کسینوس)‏ ہے۔ یہ کون ہو سکتا ہے؟ ایک بار پھر، سٹرانگ کا کنکارڈنس لفظ کسینوس کی تعریف ’‏پردیسی (‏لفظی مفہوم میں، غیرملکی، یا علامتی مفہوم میں نیا)‏؛ مجازاً ایک مہمان یا (‏اسکے برعکس)‏ اجنبی‘‏ کے طور پر کرتا ہے۔ لہٰذا مسافرپروری، جیسے‌کہ بائبل میں واضح کِیا گیا ہے، کسی ایسے شخص کیلئے ظاہرکردہ شفقت کو اُجاگر کرتی ہے جسکے ہم شائق ہیں، یا یہ ایک اجنبی کیلئے بھی دکھائی جا سکتی ہے۔ یسوع نے وضاحت کی:‏ ”‏اگر تم اپنے محبت رکھنے والوں ہی سے محبت رکھو تو تمہارے لئے کیا اجر ہے؟ کیا محصول لینے والے بھی ایسا نہیں کرتے؟ اور اگر تم فقط اپنے بھائیوں ہی کو سلام کرو تو کیا زیادہ کرتے ہو؟ کیا غیرقوموں کے لوگ بھی ایسا نہیں کرتے؟“‏ (‏متی ۵:‏۴۶، ۴۷‏)‏ حقیقی مسافرپروری تعصب اور خوف کے پیداکردہ تفرقے اور ناروا امتیاز پر غالب آتی ہے۔‏

یہوواہ، کامل میزبان

۵، ۶.‏ (‏ا)‏ یسوع کے ذہن میں کیا بات تھی جب اُس نے کہا، ”‏تمہارا آسمانی باپ کامل ہے“‏؟ (‏ب)‏ یہوواہ کی فیاضی کیسے دیکھی گئی ہے؟‏

۵ انسانوں کی ایک دوسرے کے لئے ظاہرکردہ محبت کی خامیوں کو نمایاں کرنے کے بعد، جیسے اُوپر بیان کِیا گیا ہے، یسوع نے اس بیان کا اضافہ کِیا:‏ ”‏پس چاہئے کہ تم کامل ہو جیسا تمہارا آسمانی باپ کامل ہے۔“‏ (‏متی ۵:‏۴۸‏)‏ بیشک، یہوواہ ہر لحاظ سے کامل ہے۔ (‏استثنا ۳۲:‏۴)‏ تاہم، یسوع یہوواہ کی کاملیت کے ایک خاص پہلو کو اُجاگر کر رہا تھا، جیسے‌کہ اُس نے پہلے کہا تھا:‏ ”‏[‏خدا]‏ اپنے سورج کو بدوں اور نیکوں دونوں پر چمکاتا ہے اور راستبازوں اور ناراستوں دنوں پر مینہ برساتا ہے۔“‏ (‏متی ۵:‏۴۵‏)‏ جب شفقت کے اظہار کی بات آتی ہے تو یہوواہ طرفداری سے کام نہیں لیتا۔‏

۶ خالق کے طور پر، یہوواہ ہر چیز کا مالک ہے۔ ”‏جنگل کا ایک ایک جانور اور ہزاروں پہاڑوں کے چوپائے میرے ہی ہیں۔ مَیں پہاڑوں کے سب پرندوں کو جانتا ہوں اور میدان کے درندے میرے ہی ہیں،“‏ یہوواہ فرماتا ہے۔ (‏زبور ۵۰:‏۱۰، ۱۱‏)‏ تاہم، وہ خودغرضی سے کسی بھی چیز کی ذخیرہ‌اندوزی نہیں کرتا۔ وہ فیاضی سے اپنی تمام مخلوقات کی ضروریات کو پورا کرتا ہے۔ زبورنویس نے یہوواہ کی بابت بیان کِیا:‏ ”‏تُو اپنی مٹھی کھولتا ہے اور ہر جاندار کی خواہش پوری کرتا ہے۔“‏—‏زبور ۱۴۵:‏۱۶‏۔‏

۷.‏ یہوواہ جس طریقے سے اجنبیوں اور ضرورتمندوں سے برتاؤ کرتا ہے ہم اُس سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟‏

۷ یہوواہ لوگوں کی ضرورت کے مطابق فراہم کرتا ہے—‏حتیٰ‌کہ اُن لوگوں کو بھی جو اُسے نہیں جانتے، جو اُس کیلئے اجنبی ہیں۔ پولس اور برنباس نے لسترہ کے شہر میں بُت‌پرستوں کو یاد دلایا کہ یہوواہ نے ”‏اپنے آپ کو بے‌گواہ نہ چھوڑا۔ چنانچہ اُس نے مہربانیاں کیں اور آسمان سے تمہارے لئے پانی برسایا اور بڑی بڑی پیداوار کے موسم عطا کئے اور تمہارے دلوں کو خوراک اور خوشی سے بھر دیا۔“‏ (‏اعمال ۱۴:‏۱۷‏)‏ بالخصوص حاجتمند کیلئے، یہوواہ شفیق اور فیاضدل ہے۔ (‏استثنا ۱۰:‏۱۷، ۱۸)‏ دوسروں کیلئے شفقت اور فیاضی—‏مسافرپروری—‏دکھانے میں ہم یہوواہ سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔‏

۸.‏ ہماری روحانی ضروریات کا خیال رکھنے سے یہوواہ نے کیسے فیاضی دکھائی ہے؟‏

۸ اپنی مخلوقات کی مادی ضروریات کو افراط سے پورا کرنے کے علاوہ، یہوواہ روحانی طور پر بھی اُنکی ضروریات کا خیال رکھتا ہے۔ یہوواہ نے ہم میں سے کسی کے بھی یہ محسوس کرنے سے پہلے کہ ہم روحانی طور پر مایوس‌کُن حالت میں ہیں، ہماری روحانی فلاح‌وبہبود کیلئے بہت ہی فراخدلانہ طریقے سے کارروائی کی۔ ہم رومیوں ۵:‏۸،‏ ۱۰ میں پڑھتے ہیں:‏ ”‏خدا اپنی محبت کی خوبی ہم پر یوں ظاہر کرتا ہے کہ جب ہم گنہگار ہی تھے تو مسیح ہماری خاطر مؤا۔ .‏ .‏ .‏ جب باوجود دشمن ہونے کے خدا سے اُسکے بیٹے کی موت کے وسیلہ سے ہمارا میل ہو گیا۔“‏ یہ فراہمی گنہگار انسانوں کیلئے اپنے آسمانی باپ کیساتھ ایک خوشحال خاندانی رشتے میں بندھ جانا ممکن بناتا ہے۔ (‏رومیوں ۸:‏۲۰، ۲۱‏)‏ یہوواہ نے اس بات کو بھی یقینی بنایا کہ ہمیں مناسب ہدایت اور راہنمائی فراہم کی گئی ہے تاکہ ہم اپنی گنہگارانہ اور ناکامل حالت کے باوجود زندگی کو کامیاب بنا سکیں۔—‏زبور ۱۱۹:‏۱۰۵؛‏ ۲-‏تیمتھیس ۳:‏۱۶‏۔‏

۹، ۱۰.‏ (‏ا)‏ ہم کیوں کہہ سکتے ہیں کہ یہوواہ کامل میزبان ہے؟ (‏ب)‏ اس سلسلے میں سچے پرستاروں کو یہوواہ کی نقل کیسے کرنی چاہئے؟‏

۹ اس کے پیشِ‌نظر، ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہوواہ درحقیقت متعدد طریقوں سے کامل میزبان ہے۔ وہ ضرورتمند، عاجز، اور ادنیٰ شخص کو نظرانداز نہیں کرتا۔ وہ اجنبیوں، حتیٰ‌کہ اپنے دشمنوں کیلئے بھی حقیقی دلچسپی اور فکرمندی دکھاتا ہے، اور وہ کسی مادی نفع کی خواہش نہیں کرتا۔ اس سب میں، کیا وہ ایک کامل میزبان کی بنیادی مثال نہیں ہے؟‏

۱۰ ایسے مہربان اور فیاض خدا کے طور پر، یہوواہ چاہتا ہے کہ اُسکے پرستار اُسکی نقل کریں۔ تمام بائبل کے اندر، ہم اس مہربانہ خوبی کی نمایاں مثالیں دیکھتے ہیں۔ دی انسائیکلوپیڈیا جوڈیکا بیان کرتا ہے کہ ”‏قدیم اسرائیل میں، مسافرپروری محض اچھے آداب‌واطوار کا معاملہ نہیں تھا، بلکہ ایک اخلاقی دستور تھا .‏ .‏ .‏ بھٹکے ہوئے مسافر کا خیرمقدم کرنے اور کسی اجنبی کو اپنے درمیان شامل کرنے کے بائبلی رواج ایک سانچہ تھے جس میں مسافرپروری اور اسکے تمام معاون پہلو یہودی روایت میں ایک عالی‌قدر خوبی کی صورت اختیار کر گئے تھے۔“‏ کسی خاص قومیت یا نسلی گروہ کی چھاپ ہونے سے بڑھکر، مسافرپروری یہوواہ کے تمام سچے پرستاروں کا خاصہ ہونی چاہئے۔‏

فرشتوں کا میزبان

۱۱.‏ کونسی نمایاں مثال ظاہر کرتی ہے کہ مسافرپروری غیرمتوقع برکات پر منتج ہوئی؟ (‏پیدایش ۱۹:‏۱-‏۳؛‏ قضاۃ ۱۳:‏۱۱-‏۱۶ کو بھی دیکھیں۔)‏

۱۱ مسافرپروری کے اظہار کے مشہورترین بائبل واقعات میں سے ایک ابرہام اور سارہ کا ہے جب وہ حبرون کے قریب، ممرے کے بلوطوں میں خیمہ‌زن تھے۔ (‏پیدایش ۱۸:‏۱-‏۱۰؛‏ ۲۳:‏۱۹‏)‏ بِلاشُبہ پولس رسول کے ذہن میں یہی واقعہ تھا جب اُس نے یہ نصیحت پیش کی:‏ ”‏مسافرپروری سے غافل نہ رہو کیونکہ اسی کی وجہ سے بعض نے بے‌خبری میں فرشتوں کی مہمانداری کی ہے۔“‏ (‏عبرانیوں ۱۳:‏۲‏)‏ اس واقعہ کا مطالعہ یہ دیکھنے میں ہماری مدد کریگا کہ مسافرپروری محض ایک رسم یا ابتدائی تربیت کا معاملہ نہیں ہے۔ بلکہ، یہ خدائی خوبی ہے جو شاندار برکات پر منتج ہوتی ہے۔‏

۱۲.‏ ابرہام نے اجنبیوں کیلئے اپنی محبت کیسے ظاہر کی؟‏

۱۲ پیدایش ۱۸:‏۱، ۲ ظاہر کرتی ہیں کہ مہمان ابرہام کیلئے انجان اور غیرمتوقع تھے۔ یوں کہہ لیں کہ تین اجنبی وہاں سے گزر رہے تھے۔ بعض مبصرین کے مطابق، مشرقی لوگوں میں روایت تھی کہ کسی انجانے علاقے میں ایک مسافر خواہ وہاں کسی سے واقف ہو یا نہ ہو مسافرپروری کی توقع کرنے کا حق رکھتا تھا۔ لیکن ابرہام نے اجنبیوں کو اپنے اس خاص حق کو استعمال کرنے کا موقع ہی نہ دیا؛ اُسی نے پہل کی۔ وہ اُن اجنبیوں سے ملنے ”‏کو دوڑا“‏ جو اُس سے کچھ فاصلے پر تھے—‏یہ سب کچھ ”‏دن کو گرمی کے وقت“‏ کیا گیا اور ابرہام کی عمر ۹۹ برس تھی!‏ کیا اس سے ظاہر نہیں ہو جاتا کہ کیوں پولس نے ابرہام کی طرف ہمارے لئے ایک قابلِ‌تقلید نمونے کے طور پر اشارہ کِیا؟ یہی مسافرپروری ہے، اجنبیوں کا اشتیاق یا محبت، اُنکی ضروریات کیلئے فکر۔ یہ ایک مثبت خوبی ہے۔‏

۱۳.‏ ابرہام مہمانوں کے سامنے کیوں ”‏جھکا“‏؟‏

۱۳ بیان ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ اجنبیوں سے ملنے کے بعد، ابرہام ”‏زمین تک جھکا۔“‏ اجنبیوں کے سامنے جھکنا؟ جھکنے کا عمل جو ابرہام نے کِیا وہ کسی معزز مہمان یا کسی عالی رُتبہ شخص کو خوش‌آمدید کہنے کا طریقہ تھا، اسے کسی طرح کی پرستش کے عمل سے نہیں ملانا چاہئے، جو صرف خدا کیلئے مخصوص ہے۔ (‏مقابلہ کریں اعمال ۱۰:‏۲۵، ۲۶؛‏ مکاشفہ ۱۹:‏۱۰‏۔)‏ جھکنے سے، نہ کہ ماتھا ٹیکنے سے بلکہ ”‏زمین تک“‏ جھکنے سے، ابرہام نے ان اجنبیوں کو اعلیٰ‌قدر ہونے کا اعزاز بخشا۔ وہ ایک بہت بڑے، خوشحال سرقبائیلی خاندان کا سردار تھا، پھربھی اُس نے ان اجنبیوں کو خود سے زیادہ عزت‌واحترام کے لائق سمجھا۔ اجنبیوں کے سلسلے میں عام تشکک، محتاط رجحان سے کسقدر مختلف!‏ ابرہام نے واقعی اس بیان کے مطلب کا مظاہرہ کِیا:‏ ”‏عزت کی رُو سے ایک دوسرے کو بہتر سمجھو۔“‏—‏رومیوں ۱۲:‏۱۰‏۔‏

۱۴.‏ اجنبیوں کیلئے ابرہام کی طرف سے مسافرپروری کا اظہار کرنے میں کونسی کوشش اور قربانی شامل تھی؟‏

۱۴ باقیماندہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ ابرہام کے احساسات خالص تھے۔ کھانا بھی عمدہ تھا۔ اتنے زیادہ مویشیوں والے بڑے گھرانے میں بھی، ”‏ایک موٹاتازہ بچھڑا“‏ روزانہ کی خوراک نہیں ہے۔ علاقے کی مروّجہ رسومات کے سلسلے میں، جان کیٹو کی ڈیلی بائبل السٹریشنز بیان کرتی ہے:‏ ”‏پُرتکلف چیزوں سے جی‌بھر کر لطف نہیں اُٹھایا جاتا تھا ماسوائے چند تہواروں پر، یا کسی اجنبی کی آمد پر؛ اور کئی ایک گلّوں اور ریوڑوں کے مالکان بھی ایسے تہواروں پر ہی جانوروں کا گوشت کھاتے تھے۔“‏ گرم موسم جلد خراب ہونے والے کھانے کو محفوظ کرنے کا موقع نہیں دیتا تھا اسلئے ایسے کھانے کو پیش کرنے کیلئے سب کچھ اُسی وقت کِیا جاتا تھا۔ اس میں کوئی تعجب نہیں کہ اس مختصر سے بیان میں، لفظ ”‏جلد“‏ یا ”‏دوڑا“‏ تین مرتبہ آتا ہے، اور ابرہام درحقیقت کھانا تیار کرانے کیلئے ”‏دوڑا“‏ گیا!‏—‏پیدایش ۱۸:‏۶-‏۸‏۔‏

۱۵.‏ مسافرپروری دکھانے میں مادی فراہمیوں کی بابت مناسب نظریہ کیا ہے، جیسے‌کہ ابرہام کے نمونے سے ظاہر ہے؟‏

۱۵ تاہم، مقصد کسی دوسرے کو متاثر کرنے کیلئے بہت بڑی ضیافت تیار کرنا نہیں ہے۔ اگرچہ ابرہام اور سارہ نے کھانے کو تیار اور پیش کرنے کیلئے تمام‌تر کوشش کی، غور کریں کہ پہلے ابرہام نے اسکا کیسے ذکر کِیا:‏ ”‏تھوڑا سا پانی لایا جائے اور آپ اپنے پاؤں دھوکر اُس درخت کے نیچے آرام کریں۔ مَیں کچھ روٹی لاتا ہوں۔ آپ تازہ دم ہو جائیں۔ تب آگے بڑھیں کیونکہ آپ اِسی لئے اپنے خادِم کے ہاں آئے ہیں۔“‏ (‏پیدایش ۱۸:‏۴، ۵‏)‏ یہ ”‏کچھ روٹی“‏ موٹے‌تازے بچھڑے کیساتھ باریک آٹے کے پھلکوں، مکھن، اور دودھ کی ایک شاہانہ ضیافت بن گئی۔ سبق کیا ہے؟ جب مسافرپروری کی جاتی ہے تو نہایت اہم چیز، یا جس پر اصرار کِیا جانا چاہئے، یہ نہیں کہ کھانا اور مشروبات کتنے پُرتکلف ہونگے، یا کتنی زیادہ تفریح فراہم کی جائیگی، وغیرہ وغیرہ۔ مسافرپروری کا انحصار اس بات پر نہیں کہ آیا کوئی شخص مہنگی چیزوں کی استطاعت رکھتا ہے۔ اسکی بجائے، یہ دوسروں کی فلاح‌وبہبود کیلئے حقیقی فکرمندی ہے اور جس حد تک کوئی کر سکتا ہے دوسروں کیساتھ نیکی کرنے کی خواہش پر مبنی ہے۔ ”‏محبت والے گھر میں ذرا سا ساگ‌پات عداوت والے گھر میں پلے ہوئے بیل سے بہتر ہے،“‏ ایک بائبل مثل کہتی ہے، اس میں حقیقی مسافرپروری کی کُنجی پائی جاتی ہے۔—‏امثال ۱۵:‏۱۷‏۔‏

۱۶.‏ مہمانوں کیلئے اُس نے جوکچھ کِیا اُس میں ابرہام نے روحانی چیزوں کیلئے قدردانی کیسے ظاہر کی؟‏

۱۶ تاہم، ہمیں غور کرنا چاہئے کہ اس سارے واقعہ کا روحانی مفہوم بھی تھا۔ ابرہام نے کسی طریقے سے بھانپ لیا تھا کہ یہ مہمان یہوواہ کے پیامبر تھے۔ یہ بات اُسکے انہیں ان الفاظ سے مخاطب کرنے سے واضح ہوتی ہے:‏ ”‏خداوند اگر مجھ پر آپ نے کرم کی نظر کی ہے تو اپنے خادم کے پاس سے چلے نہ جائیں۔“‏a (‏پیدایش ۱۸:‏۳‏؛ مقابلہ کریں خروج ۳۳:‏۲۰۔)‏ ابرہام پہلے سے نہیں جانتا تھا کہ اُنکے پاس اُس کیلئے کوئی پیغام تھا یا کہ وہ محض وہاں سے گزر رہے تھے۔ اس سے قطع‌نظر، وہ سمجھ گیا کہ یہوواہ کے ایک مقصد کی تکمیل ہو رہی تھی۔ یہ اشخاص یہوواہ کی طرف سے ایک خاص کام پر مامور تھے۔ اگر وہ اس کام میں کچھ معاونت کر سکتا ہے تو یہ اُسکے لئے باعثِ‌مسرت ہوگا۔ اُس نے محسوس کِیا کہ یہوواہ کے خادم بہترین چیزوں کے مستحق ہیں، اور وہ حالات کے مطابق بہترین چیزیں پیش کریگا۔ ایسا کرنے سے، اُسے یا کسی اَور کو روحانی برکت حاصل ہوگی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ابرہام اور سارہ کو اُنکی مخلصانہ مسافرپروری کیلئے بڑی برکت سے نوازا گیا۔—‏پیدایش ۱۸:‏۹-‏۱۵؛‏ ۲۱:‏۱، ۲‏۔‏

ایک مسافرپرور قوم

۱۷.‏ یہوواہ نے اسرائیلیوں سے اُنکے درمیان اجنبیوں اور ضرورتمندوں کے سلسلے میں کیا تقاضا کِیا تھا؟‏

۱۷ ابرہام کی نمایاں مثال کو اُس سے پیدا ہونے والی قوم کو کبھی فراموش نہیں کرنا تھی۔ یہوواہ نے اسرائیلیوں کو جو شریعت دی تھی اُس میں اپنے درمیان اجنبیوں کیلئے مسافرپروری دکھانے کی فراہمیاں شامل تھیں۔ ”‏جو پردیسی تمہارے ساتھ رہتا ہو اُسے دیسی کی مانند سمجھنا بلکہ تُو اُس سے اپنی مانند محبت کرنا اسلئے کہ تم ملکِ‌مصرؔ میں پردیسی تھے۔ مَیں خداوند تمہارا خدا ہوں۔“‏ (‏احبار ۱۹:‏۳۴)‏ لوگوں کو اُنکا خاص خیال رکھنا تھا جو مالی امداد کے حاجتمند تھے اور اُنہیں نظرانداز نہیں کرنا تھا۔ جب یہوواہ اُنہیں بکثرت فصلوں سے نوازتا، جب وہ اپنی عیدوں پر خوشی مناتے، وہ سبت کے سالوں کے دوران، اور دیگر موقعوں پر اپنی محنتوں سے آرام کرتے تو لوگوں کو ان نادار اشخاص—‏بیواؤں، یتیموں، اور پردیسی باشندوں—‏کو یاد رکھنا تھا۔—‏استثنا ۱۶:‏۹-‏۱۴؛ ۲۴:‏۱۹-‏۲۱؛ ۲۶:‏۱۲، ۱۳۔‏

۱۸.‏ یہوواہ کی خوشنودی اور برکت حاصل کرنے کے سلسلے میں مسافرپروری کتنی اہم ہے؟‏

۱۸ دوسروں کیلئے، بالخصوص اُن کیلئے جو ضرورتمند ہیں، شفقت، فیاضی اور مسافرپروری کی اہمیت کو اس طریقے سے دیکھا جا سکتا ہے جس سے یہوواہ اسرائیلیوں کیساتھ اُسوقت پیش آیا جب اُنہوں نے ان خوبیوں کو عمل میں لانے سے غفلت برتی۔ یہوواہ نے اس بات کو واضح کر دیا کہ اجنبیوں اور ضرورتمندوں کیلئے شفقت اور فیاضی اُسکی قوم کیلئے مسلسل اُسکی برکات حاصل کرنے کے تقاضوں میں سے ہیں۔ (‏زبور ۸۲:‏۲، ۳؛‏ یسعیاہ ۱:‏۱۷؛‏ یرمیاہ ۷:‏۵-‏۷؛‏ حزقی‌ایل ۲۲:‏۷؛ زکریاہ ۷:‏۹-‏۱۱)‏ جب قوم ان اور دیگر تقاضوں کو پورا کرنے میں سرگرم تھی تو اُنہوں نے ترقی کی اور مالی اور روحانی فراوانی سے لطف‌اندوز ہوئے۔ جب وہ اپنے خودغرضانہ ذاتی حاصلات میں مگن ہو گئے اور ضرورتمندوں کے حق میں ان مہربانہ خوبیوں کو ظاہر کرنے سے پہلوتہی کی تو اُنہیں یہوواہ کی طرف سے ملامت اُٹھانی پڑی اور آخرکار اُنہیں سخت سزا دی گئی تھی۔—‏استثنا ۲۷:‏۱۹؛ ۲۸:‏۱۵، ۴۵۔‏

۱۹.‏ ہمیں مزید کس بات پر غور کرنا چاہئے؟‏

۱۹ پس، ہمارے لئے اپنا جائزہ لینا اور یہ دیکھنا کتنا ضروری ہے کہ آیا ہم اس سلسلے میں یہوواہ کی توقعات کے مطابق زندگی بسر کر رہے ہیں یا نہیں!‏ آجکل دُنیا میں خودغرضانہ اور منقسم کرنے والی روح کے پیشِ‌نظر خاص طور پر ایسا ہی ہے۔ ہم منقسم دُنیا میں مسیحی مسافرپروری کا اظہار کیسے کر سکتے ہیں؟ اگلے مضمون میں اسی موضوع پر بات‌چیت کی گئی ہے۔ (‏۹ ۱۰/۰۱ w۹۶)‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

a اس نقطے پر جامع گفتگو کے لئے، مئی ۱۵، ۱۹۸۸ کے دی واچ‌ٹاور میں صفحات ۲۱-‏۲۳ پر مضمون ”‏کیا کبھی کسی نے خدا کو دیکھا ہے؟“‏ کو ملاحظہ فرمائیں۔‏

کیا آپکو یاد ہے؟‏

▫ بائبل کے اُس لفظ کا کیا مطلب ہے جسکا ترجمہ ”‏مسافرپروری“‏ کِیا گیا ہے؟‏

▫ مسافرپروری کا اظہار کرنے کے سلسلے میں یہوواہ کن طریقوں سے کامل نمونہ ہے؟‏

▫ مسافرپرور بننے کیلئے ابرہام کس حد تک چلا گیا؟‏

▫ تمام سچے پرستاروں کو کیوں ”‏مسافرپروری میں لگے“‏ رہنا چاہئے؟‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں