منقسم دُنیا میں مسیحی مسافرپروری
”پس ایسوں کی خاطرداری کرنا ہم پر فرض ہے تاکہ ہم بھی حق کی تائید میں اُنکے ہمخدمت ہوں۔“—۳-یوحنا ۸۔
۱. خالق نے نوعِانسان کو کونسی دلکش بخششیں عطا کی ہیں؟
”دُنیا میں انسان کے لئے کوئی چیز اس سے بہتر نہیں کہ کھائے اور پئے اور خوش رہے کیونکہ یہ اُسکی محنت کے دوران میں اُسکی زندگی کے تمام ایّام میں جو خدا نے دُنیا میں اُسے بخشی اُسکے ساتھ رہیگی۔“ (واعظ ۸:۱۵) ان الفاظ میں قدیم عبرانی جامع ہمیں بتاتا ہے کہ یہوواہ خدا نہ صرف یہ چاہتا ہے کہ اُسکی انسانی مخلوق خوشوخرم ہو بلکہ ایسا کرنے کیلئے اُنہیں ذرائع بھی مہیا کرتا ہے۔ پوری انسانی تاریخ میں ہر جگہ لوگوں کے درمیان ایک ہی مشترک خواہش نظر آتی ہے کہ لطف اُٹھائیں اور خوش وقت ہوں۔
۲. (ا) یہوواہ نے اُن کیلئے جو مقصد ٹھہرایا نوعِانسان نے اسکا کیسے غلط استعمال کِیا ہے؟ (ب) نتیجہ کیا ہے؟
۲ آجکل ہم ایک عیشپسند معاشرے میں رہتے ہیں جس میں لوگ عیشوعشرت اور پُرلطف لمحات کی جستجو میں رہتے ہیں۔ بائبل کی پیشینگوئی کے مطابق بیشتر لوگ ”خودغرض . . . خدا کی نسبت عیشوعشرت کو زیادہ دوست رکھنے والے“ ہو گئے ہیں۔ (۲-تیمتھیس ۳:۱-۴) بِلاشُبہ، یہ یہوواہ خدا کے ٹھہرائے ہوئے مقصد کی نہایت ہی بگڑی ہوئی شکل ہے۔ جب پُرلطف لمحات کا حصول ایک اہم مقصد بن جاتا ہے یا جب ذاتی تسکین ہی واحد نصبالعین بن جاتی ہے تو کوئی حقیقی اطمینان حاصل نہیں ہوتا اور ’سب کچھ بطلان اور ہوا کی چران بن جاتا ہے۔‘ (واعظ ۱:۱۴؛ ۲:۱۱) اس وجہ سے دُنیا تنہا اور مایوس لوگوں سے بھری پڑی ہے، جو، نتیجتاً معاشرے میں بہتیرے مسائل کا سبب بنتا ہے۔ (امثال ۱۸:۱) لوگ ایک دوسرے پر شک کرتے ہیں اور نسلی، طبقاتی، معاشرتی، اور معاشی طور پر بٹ جاتے ہیں۔
۳. ہم حقیقی شادمانی اور اطمینان کیسے حاصل کر سکتے ہیں؟
۳ اگر لوگ دوسروں کیساتھ برتاؤ میں یہوواہ کے طریقے کی نقل کرتے—شفیق، فیاض، مسافرپرور ہوتے—تو حالتیں کسقدر مختلف ہوتیں! اُس نے واضح کر دیا کہ حقیقی خوشی کا راز ہماری ذاتی خواہشات کو پورا کرنے کیلئے ہماری جدوجہد میں پنہاں نہیں ہے۔ اسکی بجائے، کُنجی یہ ہے: ”دینا لینے سے مبارک ہے۔“ (اعمال ۲۰:۳۵) حقیقی شادمانی اور اطمینان حاصل کرنے کیلئے، ہمیں ایسی رُکاوٹوں اور تفاریق پر غالب آنا چاہئے جو ہمیں محدود کر سکتے ہیں۔ اور ہمیں اُن لوگوں سے شناسائی پیدا کرنی چاہئے جو ہمارے ساتھ یہوواہ کی خدمت کر رہے ہیں۔ یہ ضروری ہے کہ ہم اس مشورت پر کان لگائیں: ”پس ایسوں کی خاطرداری کرنا ہم پر فرض ہے تاکہ ہم بھی حق کی تائید میں اُنکے ہمخدمت ہوں۔“ (۳-یوحنا ۸) جہاں تک ہمارے حالات اجازت دیں، مستحق اشخاص کی خاطرمدارات کرنا دو طرح سے فائدے لاتا ہے—یہ دینے اور لینے والے دونوں کیلئے مفید ہے۔ پس، مستحق اشخاص کون ہیں جنکی ہمیں ’خاطرداری کرنی‘ چاہئے؟
”یتیموں اور بیواؤں کی خبر لیں“
۴. بعض یہوواہ کے لوگوں میں بھی خاندانی رشتوں میں کیا تبدیلی دیکھی گئی ہے؟
۴ آجکل مستحکم خاندان اور خوشحال شادیاں نادر ہیں۔ پوری دُنیا میں طلاق کی شرح میں اضافے اور بنبیاہی ماؤں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے روایتی خاندان کو بُری طرح بدل کر رکھ دیا ہے۔ نتیجتاً، حال ہی میں یہوواہ کے گواہ بننے والے بہتیرے لوگوں کا تعلق شکستہ خاندانوں سے ہے۔ وہ یا تو طلاقشُدہ ہیں یا اپنے بیاہتا ساتھیوں سے علیٰحدہ، یا پھر وہ سنگل پیرنٹ فیملیز [ماں یا باپ پر مشتمل خاندان] میں رہتے ہیں۔ اسکے علاوہ، جیسےکہ یسوع نے پیشینگوئی کی، جو سچائی اُس نے سکھائی وہ بہتیرے خاندانوں میں تفرقوں پر منتج ہوئی ہے۔—متی ۱۰:۳۴-۳۷؛ لوقا ۱۲:۵۱-۵۳۔
۵. یسوع نے کیا کہا جو منقسم خاندانوں میں رہنے والوں کیلئے حوصلہافزائی کا ذریعہ ہو سکتا ہے؟
۵ یہ بات نئے اشخاص کو سچائی کیلئے مضبوط مؤقف اختیار کرتے دیکھنے کیلئے ہمارے دل کو جوشوخروش سے بھر دیتی ہے، اور ہم اکثر یسوع کے حوصلہافزا وعدے سے اُنہیں تسلی دیتے ہیں: ”مَیں تم سے سچ کہتا ہوں کہ ایسا کوئی نہیں جس نے گھر یا بھائیوں یا بہنوں یا ماں یا باپ یا بچوں یا کھیتوں کو میری خاطر اور انجیل کی خاطر چھوڑ دیا ہو۔ اور اب اس زمانہ میں سو گُنا نہ پائے۔ گھر اور بھائی اور بہنیں اور مائیں اور بچے اور کھیت مگر ظلم کے ساتھ۔ اور آنے والے عالم میں ہمیشہ کی زندگی۔“—مرقس ۱۰:۲۹، ۳۰۔
۶. ہم اپنے درمیان ”یتیموں اور بیواؤں“ کے ’بھائی، بہنیں، مائیں، اور بچے‘ کیسے بن سکتے ہیں؟
۶ پس، یہ ’بھائی اور بہنیں اور مائیں اور بچے‘ کون ہیں؟ کنگڈم ہال میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو دیکھتے ہی، اکثر سو یا اس سے بھی زیادہ، جو خود کو بھائی اور بہن کہتے ہیں ایک شخص کو خودبخود یہ احساس نہیں دلاتا کہ یہ اُسکے بھائی، بہنیں، مائیں، اور بچے ہیں۔ اس نقطے پر غور کریں: شاگرد یعقوب ہمیں یقیندہانی کراتا ہے کہ یہوواہ کے حضور ہماری پرستش کے قابلِقبول ہونے کیلئے، ہمیں چاہئے کہ ’یتیموں اور بیواؤں کی مصیبت کے وقت اُنکی خبر لیں اور اپنے آپ کو دُنیا سے بیداغ رکھیں۔‘ (یعقوب ۱:۲۷) اسکا مطلب ہے کہ ہمیں معاشی تکبّر اور طبقاتی تفوق کے دُنیاوی رجحانات کو اجازت نہیں دینی چاہئے کہ ایسے ”یتیموں اور بیواؤں“ کیلئے ہمارے رحم کے دروازے بند کر دیں۔ اسکی بجائے، ہمیں ان کیلئے اپنی دوستی اور خاطرداری کے دائرے کو وسیع کرنے میں آگے بڑھنا چاہئے۔
۷. (ا) ”یتیموں اور بیواؤں“ کی خاطرداری کرنے کا حقیقی مقصد کیا ہے؟ (ب) مسیحی خاطرداری دکھانے میں اَور کون حصہ لینے کے قابل ہو سکتے ہیں؟
۷ ”یتیموں اور بیواؤں“ کی خاطرداری کرنے میں ہمیشہ وہی چیز فراہم کرنا شامل نہیں ہوتا جسکی اُنہیں مادی اعتبار سے کمی ہو سکتی ہے۔ سنگل پیرنٹ فیملیز یا مذہبی لحاظ سے منقسم گھرانے ضروری نہیں کہ مالی طور پر مشکل میں ہوں۔ تاہم، خوشگوار رفاقت، خاندانی ماحول، مختلف عمروں کے اشخاص کیساتھ دوستی، اور عمدہ روحانی چیزوں میں شرکت—یہ زندگی کے ایسے پہلو ہیں جو قابلِقدر ہیں۔ لہٰذا، اس بات کو یاد رکھتے ہوئے کہ موقعے کی شانبان نہیں، بلکہ محبت اور اتحاد کا جذبہ اہم ہے، یہ کتنا اچھا ہے کہ بعضاوقات، ”یتیم اور بیوائیں“ بھی ساتھی مسیحیوں کیلئے خاطرداری میں حصہ لے سکتے ہیں!—مقابلہ کریں ۱-سلاطین ۱۷:۸-۱۶۔
کیا ہمارے درمیان پردیسی ہیں؟
۸. یہوواہ کے گواہوں کی بہتیری کلیسیاؤں میں کونسی تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے؟
۸ ہم ایسے دَور میں رہتے ہیں جب لوگ ایک بڑے پیمانے پر نقلمکانی کرتے ہیں۔ ”پوری دُنیا میں ۱۰۰ ملین سے زیادہ لوگ ایسے ممالک میں رہتے ہیں جہاں کے وہ باشندے نہیں، اور ۲۳ ملین کو اُنکے اپنے ہی ممالک میں بےگھر کر دیا گیا ہے،“ ورلڈ پریس ریویو بیان کرتا ہے۔ اسکا ایک براہِراست نتیجہ تو یہ نکلا ہے کہ بہتیرے علاقوں میں، بالخصوص بڑے شہروں میں، یہوواہ کے گواہوں کی کلیسیائیں جو پہلے زیادہتر ایک ہی نسل یا قومیت سے بنی تھیں اب اُن میں دُنیا کے مختلف حصوں سے لوگ شامل ہیں۔ شاید جہاں آپ رہتے ہیں وہاں یہ بات سچ ہو۔ تاہم، ہمیں ان ”غیرملکیوں“ اور ”پردیسیوں“ کو، جیسےکہ دُنیا انہیں کہتی ہے، کیسا خیال کرنا چاہئے، جنکی زبان، رسمورواج، اور طرزِزندگی ہم سے مختلف ہو سکتے ہیں؟
۹. مسیحی کلیسیا میں آنے والے ”غیرملکیوں“ اور ”پردیسیوں“ کی بابت ہمارے نظریے کے سلسلے میں کونسا پوشیدہ خطرہ ہمیں گھیر سکتا ہے؟
۹ صاف الفاظ میں، ہمیں اجنبیوں سے خوف اور نفرت کے رجحانات کو ہمیں یہ احساس دلانے کی اجازت نہیں دینی چاہئے کہ ہم کسی نہ کسی طرح سے غیر یا نامنہاد مُلحدانہ ملک سے آنے والے لوگوں کی نسبت سچائی کو جاننے کا شرف حاصل کرنے کے زیادہ مستحق ہیں؛ نہ ہی ہمیں یہ محسوس کرنا چاہئے کہ یہ نئے آنے والے اشخاص کنگڈم ہال یا دیگر املاک کے استعمال پر قبضہ جما رہے ہیں۔ پولس رسول کو بعض پہلی صدی کے یہودی مسیحیوں کو یاد دلانا پڑا تھا، جنہوں نے ایسے نظریات کو فروغ دیا تھا کہ درحقیقت کوئی بھی مستحق نہیں تھا؛ یہ خدا کا غیرمستحق فضل تھا جس نے سب کیلئے نجات حاصل کرنا ممکن بنایا۔ (رومیوں ۳:۹-۱۲، ۲۳، ۲۴) ہمیں خوش ہونا چاہئے کہ بہت سے ایسے لوگ اب خدا کے غیرمستحق فضل سے مستفید ہو رہے ہیں جو، کسینہکسی طرح، خوشخبری سننے کے موقعے سے محروم رہ گئے تھے۔ (۱-تیمتھیس ۲:۴) ہم کیسے ظاہر کر سکتے ہیں کہ اُن کیلئے ہمارا اشتیاق حقیقی ہے؟
۱۰. ہم کیسے ظاہر کر سکتے ہیں کہ ہم اپنے درمیان ”پردیسیوں“ کی حقیقی خاطرداری کرنے والے ہیں؟
۱۰ ہم پولس کی نصیحت پر عمل کر سکتے ہیں: ”جس طرح مسیح نے خدا کے جلال کے لئے تم کو اپنے ساتھ شامل کر لیا ہے اُسی طرح تم بھی ایک دوسرے کو شامل کر لو۔“ (رومیوں ۱۵:۷) اس بات کو سمجھتے ہوئے کہ دوسرے ممالک یا پسمنظر کے لوگ اکثر بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہوتے ہیں تو جب ہماری استطاعت میں ہو تو ہمیں اُن کیلئے شفقت اور فکرمندی دکھانی چاہئے۔ ہمیں اپنے درمیان اُنکا خیرمقدم کرنا چاہئے، اُن میں سے ہر ایک کیساتھ ”دیسی کی مانند“ پیش آئیں، اور ”اُس سے اپنی مانند محبت“ کریں۔ (احبار ۱۹:۳۴) ایسا کرنا شاید آسان نہ ہو، لیکن اگر ہم اس نصیحت کو یاد رکھینگے تو ہم کامیاب ہونگے: ”اس جہان کے ہمشکل نہ بنو بلکہ عقل نئی ہو جانے سے اپنی صورت بدلتے جاؤ تاکہ خدا کی نیک اور پسندیدہ اور کامل مرضی تجربہ سے معلوم کرتے رہو۔“—رومیوں ۱۲:۲۔
مُقدسین کیساتھ شریک ہوں
۱۱، ۱۲. یہوواہ کے بعض خادموں کیلئے کونسا خاص پاسولحاظ دکھایا گیا تھا (ا) قدیم اسرائیل میں (ب) پہلی صدی میں؟
۱۱ ہمارے پاسولحاظ اور خاطرداری کے مستحق اشخاص میں وہ پُختہ مسیحی شامل ہیں جو ہماری روحانی فلاحوبہبود کیلئے جانفشانی کرتے ہیں۔ یہوواہ نے قدیم اسرائیل میں کاہنوں اور لاویوں کیلئے خاص فراہمیوں کا بندوبست کِیا تھا۔ (گنتی ۱۸:۲۵-۲۹) پہلی صدی میں بھی مسیحیوں کو اُنکی دیکھبھال کرنے کی تاکید کی گئی تھی جو اُن میں خاص مرتبوں پر خدمت انجام دیتے تھے۔ ۳-یوحنا ۵-۸ کا بیان ہمیں ابتدائی مسیحیوں کے درمیان موجود محبت کے قریبی بندھن کی جھلک دکھاتا ہے۔
۱۲ عمررسیدہ یوحنا رسول نے اُس شفقت اور خاطرداری کی بہت قدر کی جو گِیُس نے کلیسیا کا دَورہ کرنے کیلئے بھیجے گئے بعض سفری بھائیوں کیلئے دکھائی تھی۔ یہ بھائی—بشمول دِیمیتریس، بظاہر نامہبَر—سب اجنبی تھے یا پہلے گِیُس کیلئے انجان تھے۔ لیکن اُنکی بڑی خاطرمدارت کی گئی تھی کیونکہ ”وہ [خدا] کے نام کی خاطر نکلے“ ہوئے تھے۔ یوحنا اسے یوں بیان کرتا ہے: ”پس ایسوں کی خاطرداری کرنا ہم پر فرض ہے تاکہ ہم بھی حق کی تائید میں اُنکے ہمخدمت ہوں۔“—۳-یوحنا ۱، ۷، ۸۔
۱۳. ہمارے درمیان آجکل بالخصوص کون ’خاطرداری حاصل کرنے کے‘ مستحق ہیں؟
۱۳ آجکل، یہوواہ کی تنظیم کے اندر، بہت سے ایسے لوگ ہیں جو بھائیوں کی پوری برادری کیلئے جانفشانی کر رہے ہیں۔ ان میں سفری نگہبان شامل ہیں، جو کلیسیاؤں کو مضبوط کرنے کیلئے ہفتہوار اپنا وقت اور توانائی صرف کرتے ہیں؛ مشنری، جو غیرممالک میں منادی کرنے کیلئے خاندانوں اور دوستاحباب کو پیچھے چھوڑ آتے ہیں؛ بیتایل ہومز یا برانچ دفاتر میں کام کرنے والے، جو عالمگیر منادی کے کام کی معاونت کرنے کیلئے رضاکارانہ طور پر اپنی خدمات پیش کرتے ہیں؛ اور جو پائنیر خدمت میں ہیں وہ اپنے وقت اور توانائی کا بیشتر حصہ میدانی خدمتگزاری میں صرف کرتے ہیں۔ بنیادی طور پر، یہ سب کسی ذاتی جلال یا نفع کیلئے نہیں بلکہ مسیحی برادری اور یہوواہ کیلئے محبت کی وجہ سے محنت کرتے ہیں۔ وہ پورے دلوجان سے اپنی عقیدت کے باعث ہماری تقلید کے لائق ہیں اور ’خاطرداری‘ کے مستحق ہیں۔
۱۴. (ا) جب ہم وفادار اشخاص کی خاطرداری کرتے ہیں تو ہم ”کیسے بہتر مسیحی“ بن جاتے ہیں؟ (ب) یسوع نے کیوں کہا کہ مریم نے ”اچھا حصہ“ چن لیا؟
۱۴ جب ہم ”ایسوں کی خاطرداری“ کرتے ہیں تو یوحنا رسول نے واضح کِیا کہ ہم ”حق کی تائید میں اُن کے ہمخدمت“ بن جاتے ہیں۔ نتیجتاً، ایک لحاظ سے ہم بہتر مسیحی بن جاتے ہیں۔ یہ اس وجہ سے ہے کیونکہ مسیحی کاموں میں ساتھی ایمانداروں کے ساتھ نیکی کرنا شامل ہے۔ (امثال ۳:۲۷، ۲۸؛ ۱-یوحنا ۳:۱۸) ایک اَور طریقے سے بھی اَجر ملتے ہیں۔ جب مریم اور مرتھا نے یسوع کو اپنے گھر میں اُتارا تو مرتھا یسوع کے لئے ”بہت سی چیزوں“ کو تیار کرنے سے اچھی میزبان بننا چاہتی تھی۔ مریم نے ایک فرق طریقے سے خاطرداری کی۔ وہ ”یسوع کے پاؤں کے پاس بیٹھ کر اُس کا کلام سُن رہی تھی،“ اور یسوع نے ”اچھا حصہ“ چن لینے کے لئے اُس کی تعریف کی۔ (لوقا ۱۰:۳۸-۴۲) سالہاسال کا تجربہ رکھنے والے اشخاص کیساتھ گفتگو اور مباحثے اکثر اُن کے ساتھ گزاری ہوئی شام کا اہم حصہ ہوتے ہیں۔—رومیوں ۱:۱۱، ۱۲۔
خاص مواقع پر
۱۵. یہوواہ کے لوگوں کیلئے کونسے خاص مواقع خوشی کے لمحات ثابت ہو سکتے ہیں؟
۱۵ اگرچہ سچے مسیحی مقبول رسمورواج کی پیروی نہیں کرتے یا دُنیاوی تعطیلات اور تہواروں کو نہیں مناتے، تاہم، ایسے مواقع ہوتے ہیں جب وہ ایک دوسرے کی رفاقت سے محظوظ ہونے کیلئے باہم جمع ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر، یسوع قانا میں ایک شادی کی ضیافت میں شریک ہوا اور وہاں اپنا پہلا معجزہ انجام دینے سے تقریب کی خوشی کو دوبالا کِیا۔ (یوحنا ۲:۱-۱۱) اسی طرح آجکل، یہوواہ کے لوگ ایسے ہی خاص مواقع پر ملکر خوشی کے لمحات سے لطف اُٹھاتے ہیں، اور مناسب جشن اور مسرت ایسی تقریبات کی رونق میں اضافہ کرتی ہیں۔ تاہم، مناسب کیا ہے؟
۱۶. خاص مواقع پر بھی مناسب چالچلن کے سلسلے میں ہمارے پاس کونسی ہدایات ہیں؟
۱۶ اپنے بائبل مطالعے سے، ہم سیکھتے ہیں کہ کونسا چالچلن مسیحیوں کیلئے مناسب ہے، اور ہم ہر وقت اسی کی پابندی کرتے ہیں۔ (رومیوں ۱۳:۱۲-۱۴؛ گلتیوں ۵:۱۹-۲۱؛ افسیوں ۵:۳-۵) شادیوں یا دیگر معاملات میں، تفریحی اجتماعات ہمیں مسیحی معیاروں کو ترک کرنے کی یا کوئی ایسا کام کرنے کی اجازت نہیں دیتے جو ہم عموماً نہیں کرتے؛ نہ ہی ہم اُس ملک کی تمام رسومات کی پیروی کرنے کے پابند ہیں جس میں ہم رہتے ہیں۔ ان میں سے زیادہتر جھوٹے مذہبی دستوروں یا توہمپرستانہ کاموں پر مبنی ہوتی ہیں، اور دیگر ایسے چالچلن پر مشتمل ہوتی ہیں جو مسیحیوں کیلئے قابلِقبول نہیں۔—۱-پطرس ۴:۳، ۳۔
۱۷. (ا) کونسے پہلو ثابت کرتے ہیں کہ قانا میں شادی کی ضیافت بڑی منظم اور مناسب طور پر زیرِنگرانی تھی؟ (ب) کیا چیز ظاہر کرتی ہے کہ یسوع نے اُس موقعے کو پسند کِیا؟
۱۷ یوحنا ۲:۱-۱۱ کے سلسلے میں، ہمارے لئے یہ دیکھنا مشکل نہیں کہ موقع بڑا شانبان والا تھا اور وہاں مہمانوں کی خاصی تعداد حاضر تھی۔ تاہم، یسوع اور اُسکے شاگرد بھی ”دعوت“ پر مہمان تھے؛ وہ بِنبلائے مہمان نہیں تھے، اگرچہ اُن میں سے چند غالباً میزبان کے رشتہدار تھے۔ ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ وہاں ”خادموں“ کے علاوہ ”میرِمجلس“ تھا جو ہدایت دیگا کہ کیا پیش کِیا جائے یا کیا کِیا جائے۔ یہ سب ظاہر کرتا ہے کہ تقریب بڑی منظم اور مناسب طور پر زیرِنگرانی تھی۔ واقعہ اس بیان کیساتھ ختم ہوتا ہے کہ جوکچھ اُس نے ضیافت میں کِیا اُس سے یسوع نے ”اپنا جلال ظاہر کِیا۔“ اگر وہ ایک ناشائستہ اور بےقابو ضیافت ہوتی تو کیا وہ اسکا انتخاب کرتا؟ ہرگز نہیں۔
۱۸. کسی بھی سماجی تقریب کی بابت سنجیدگی سے کیا سوچنا چاہئے؟
۱۸ پس، پھر ایسے خاص مواقع کی بابت کیا ہے جس کے شاید ہم خود میزبان ہوں؟ ہم یہ یاد رکھنا چاہتے ہیں کہ دوسروں کی خاطرداری کرنے کا یہ مقصد ہے کہ ہم سب ”حق کی تائید میں . . . ہمخدمت“ بن جائیں۔ لہٰذا، کسی تقریب کو ”گواہوں کے“ اجتماع کا نام دینا کافی نہیں ہے۔ سوال پوچھا جا سکتا ہے، کیا یہ واقعی اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ ہم کون ہیں اور ہم کیا مانتے ہیں؟ ہمیں کبھی بھی ان تقریبات کو ایسے مواقع خیال نہیں کرنا چاہئے جن میں ہم یہ دیکھ سکیں کہ ہم ”جسم کی خواہش اور آنکھوں کی خواہش اور زندگی کی شیخی“ میں اُلجھنے سے کس حد تک دُنیا کے طورطریقوں میں اُس کی ہمسری کر سکتے ہیں۔ (۱-یوحنا ۲:۱۵، ۱۶) اس کی بجائے، ان تقریبات کو یہوواہ کے گواہوں کی حیثیت سے ہمارے کردار کو منعکس کرنا چاہئے، اور ہمیں یقین ہونا چاہئے کہ ہم یہوواہ کے لئے جلال اور عزت کا باعث بنتے ہیں۔—متی ۵:۱۶؛ ۱-کرنتھیوں ۱۰:۳۱-۳۳۔
’بغیر بڑبڑائے مسافرپروری کرو‘
۱۹. ہمیں ”بغیر بڑبڑائے آپس میں مسافرپروری“ کرنے کی ضرورت کیوں ہے؟
۱۹ جب دُنیا کی حالتیں مسلسل بگڑتی جا رہی ہیں اور لوگ زیادہ سے زیادہ منقسم ہوتے جاتے ہیں تو ہمیں اُس قریبی بندھن کو جو سچے مسیحیوں کے مابین پایا جاتا ہے مضبوط کرنے کیلئے وہ سب کچھ کرنے کی ضرورت ہے جو ہم کر سکتے ہیں۔ (کلسیوں ۳:۱۴) اس مقصد کیلئے، جیسے پطرس نے تاکید کی، ہمیں ”آپس میں بڑی محبت“ رکھنی چاہئے۔ اسکے بعد، عملی مفہوم میں، اُس نے مزید کہا: ”بغیر بڑبڑائے آپس میں مسافرپروری کرو۔“ (۱-پطرس ۴:۷-۹) کیا ہم اپنے بھائیوں کی خاطرتواضع کرنے میں، مہربان اور مددگار بننے کی کوشش کرنے میں پہل کرنے کیلئے تیار ہیں؟ یا کیا جب ایسا موقع آتا ہے تو ہم بڑبڑاتے ہیں؟ اگر ہم ایسا کرتے ہیں تو اُس خوشی کو کالعدم کر دیتے ہیں جو ہمیں حاصل ہو سکتی ہے اور نیکی کرنے کی خوشی کے اَجر کو بھی کھو بیٹھتے ہیں۔—امثال ۳:۲۷؛ اعمال ۲۰:۳۵۔
۲۰. اگر ہم آجکل کی منقسم دُنیا میں خاطرداری کرنے کی روش پر چلتے ہیں تو کونسی برکات ہماری منتظر ہیں؟
۲۰ اپنے ساتھی مسیحیوں کی قربت میں کام کرنا، ایک دوسرے کیلئے مہربانی اور خاطرداری ظاہر کرنے والے ہونا، لامحدود برکات پر منتج ہوگا۔ (متی ۱۰:۴۰-۴۲) ایسے اشخاص کیلئے یہوواہ وعدہ فرماتا ہے کہ وہ ”اپنا خیمہ اُنکے اُوپر تانیگا۔ اسکے بعد نہ کبھی اُنکو بھوک لگے گی نہ پیاس۔“ یہوواہ کے خیمے میں ہونے سے مُراد اُسکے تحفظ اور خاطرداری سے محظوظ ہونا ہے۔ (مکاشفہ ۷:۱۵، ۱۶؛ یسعیاہ ۲۵:۶) جیہاں، اب ہمیشہ کیلئے یہوواہ کی خاطرداری سے لطفاندوز ہونے کا امکان ہے۔—زبور ۲۷:۴؛ ۶۱:۳، ۴۔ (۱۴ ۱۰/۰۱ w۹۶)
کیا آپ وضاحت کر سکتے ہیں؟
▫ اگر ہم حقیقی خوشی اور اطمینان حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں کس چیز سے غفلت نہیں برتنی چاہئے؟
▫ ”یتیم اور بیوائیں“ کون ہیں، اور ہمیں کیسے اُنکی ”خبر“ لینی چاہئے؟
▫ ہمیں اپنے درمیان ”غیرملکیوں“ اور ”پردیسیوں“ کو کیسا خیال کرنا چاہئے؟
▫ آجکل کون خاص پاسولحاظ کے مستحق ہیں؟
▫ خاص مواقع کو خاطرداری کے حقیقی جذبے کو کیسے منعکس کرنا چاہئے؟
[تصویریں]
پُرمسرت موقع پر ہم پردیسیوں، یتیموں، کُلوقتی خدمت کرنے والوں، اور دیگر مہمانوں کی خاطرداری کر سکتے ہیں