ہمیشہ کی زندگی کا باعث بننے والی تعلیم
۱ جب لوگ بائبل سچائی کو سمجھ جاتے ہیں تو اُنکی آنکھوں میں اُمید کی کرن دیکھ کر ہمارے دل خوشی سے معمور ہو جاتے ہیں! دوسروں کو خدا اور اُسکے مقاصد کا علم عطا کرنا واقعی اطمینانبخش ہے۔ ایسی تعلیم ایک شخص کیلئے ہمیشہ کی زندگی کا باعث بن سکتی ہے۔—یوح ۱۷:۳۔
۲ یہ تعلیم اعلیٰ ہے: آپ اس بات کا تصور کر سکتے ہیں کہ آجکل ہر ممکن طریقے سے ہر مضمون پر تعلیم دی جاتی ہے۔ (واعظ ۱۲:۱۲) لیکن کیا اس تعلیم نے انسان کو خالق کے قریب آنے اور اسکے مقصد کو سمجھنے کے قابل بنایا ہے؟ کیا اس سے لوگوں کو یہ بات سمجھنے میں مدد ملی ہے کہ مرنے کے بعد ہمارے ساتھ کیا واقع ہوتا ہے یا اتنا زیادہ دُکھتکلیف کیوں ہے؟ کیا اس نے لوگوں کو کوئی اُمید فراہم کی ہے؟ کیا اس نے خاندان کے بندوبست کو بہتر بنانے میں مدد دی ہے؟ جینہیں۔ اس علم کا ”خدا کے بڑے بڑے کاموں“ کیساتھ مقابلہ نہیں کِیا جا سکتا۔ (اعما ۲:۱۱) صرف خدائی تعلیم ہی زندگی کے ان اہم سوالوں کے تسلیبخش جواب فراہم کر سکتی ہے۔
۳ خدائی تعلیم ہی اُن اخلاقی معیاروں کی بابت بتاتی ہے جنکی آجکل دُنیا میں کمی پائی جاتی ہے۔ جو لوگ خدا کے کلام کی تعلیم کو قبول کرتے اور اس پر عمل کرتے ہیں انکے دلوں سے نسلپرستی، فرقہپرستی اور قومپرستی جڑ سے ختم ہو جاتی ہے۔ (عبر ۴:۱۲) اس تعلیم نے لوگوں کو ہر طرح کے تشدد کو چھوڑ کر ’نئی انسانیت‘ کو پہننے کی تحریک دی ہے۔ (کل ۳:۹-۱۱؛ میک ۴:۱-۳) اسکے علاوہ، خدائی تعلیم نے لاکھوں لوگوں کو خدا کو ناراض کرنے والی رسومات اور عادات کو چھوڑنے کی طاقت بھی بخشی ہے۔—۱-کر ۶:۹-۱۱۔
۴ اِس وقت خدائی تعلیم کی بےحد ضرورت ہے: ہمارا عظیم مُعلم ہمیں موجودہ زمانے کی بابت آگاہ کرتا ہے۔ خدا کے نبوّتی فیصلوں میں تازہترین معلومات پائی جاتی ہیں جنکا ساری زمین پر اعلان کِیا جانا چاہئے۔ (مکا ۱۴:۶، ۷) یسوع آسمانوں پر حکمرانی کر رہا ہے۔ جلد ہی جھوٹے مذہب کی عالمی مملکت ختم ہو جائے گی اور خدا کی بادشاہت تمام زمینی حکومتوں کو تباہوبرباد کر دے گی۔ (دان ۲:۴۴؛ مکا ۱۱:۱۵؛ ۱۷:۱۶) اسلئے لوگوں کو خدا کے حکمران بادشاہ کو پہچاننے، بڑے بابل سے نکلنے اور ایمان کیساتھ یہوواہ خدا سے دُعا کرنے کی ضرورت ہے۔ (زبور ۲:۱۱، ۱۲؛ روم: ۱۰:۱۳؛ مکا ۱۸:۴) دُعا ہے کہ ہم ہمیشہ کی زندگی کا باعث بننے والی خدائی تعلیم کو دوسروں تک پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کریں۔