20-26 جولائی 2026ء
گیت نمبر 133 جوانی میں یہوواہ کی خدمت کریں
زیادہ تعلیم حاصل کرنے کے حوالے سے سمجھداری سے فیصلے لیں
”سمجھدار شخص ہر قدم سوچ سمجھ کر اُٹھاتا ہے۔“—اَمثا 14:15۔
غور کریں کہ . . .
آپ زیادہ تعلیم حاصل کرنے کے حوالے سے فیصلہ لیتے وقت کن اہم باتوں پر سوچ بچار کر سکتے ہیں اور بائبل کے اصولوں کے ذریعے صحیح فیصلہ کیسے لے سکتے ہیں۔
1-2. (الف)نوجوانوں کو کون سے فیصلے لینے پڑتے ہیں؟ (ب)”زیادہ تعلیم“ حاصل کرنے کا کیا مطلب ہے؟ (”اِصطلاح کی وضاحت“ کو دیکھیں۔)
بہت سے بچوں اور نوجوانوں سے اکثر یہ سوال پوچھا جاتا ہے: ”آپ بڑے ہو کر کیا بنیں گے؟“ اگر آپ نوجوان ہیں تو شاید آپ سے بھی کئی بار یہ سوال پوچھا گیا ہو۔ نوجوانو! کُلوقتی طور پر یہوواہ کی خدمت کرنا زندگی کی سب سے بہترین راہ ہے۔ (2-تھس 3:10) لیکن یہ بھی سچ ہے کہ مستقبل میں آپ کو اپنے خرچے پورے کرنے کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہوگی۔ بےشک آپ نے یہ سوچ لیا ہوگا کہ آپ بڑے ہو کر کون سا کام کریں گے۔
2 عام طور پر کچھ نوجوان اپنے ماں باپ کے ساتھ باتچیت کرنے کے بعد یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ وہ کوئی نوکری ڈھونڈنے کے لیے اپنے سکول کی پڑھائی ختم کرنے کے بعد زیادہ تعلیم حاصل کریں گے یا نہیں۔a شاید آپ نے بھی یہ سوچا ہو کہ آپ کو آگے چل کر کس طرح کی تعلیم حاصل کرنی چاہیے۔ اِس مضمون میں بائبل کے کچھ ایسے اصولوں پر غور کِیا جائے گا جن کی مدد سے آپ زیادہ تعلیم حاصل کرنے کے حوالے سے صحیح فیصلے لے پائیں گے۔ حالانکہ یہ مضمون خاص طور پر نوجوانوں کے لیے ہے لیکن اِس سے اُن سبھی مسیحیوں کو فائدہ ہو سکتا ہے جو زیادہ تعلیم حاصل کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ اِس مضمون میں بتائے گئے اصولوں کی مدد سے ماں باپ بھی اپنے بچوں کی مدد کر پائیں گے تاکہ وہ اپنے لیے صحیح فیصلے لے سکیں۔
کیا آپ کو زیادہ تعلیم حاصل کرنی چاہیے؟
3. شاید کچھ مسیحی کس وجہ سے زیادہ تعلیم حاصل کرنے کا فیصلہ کریں؟
3 کچھ ملکوں میں لوگوں کو بنیادی تعلیم حاصل کرنے کے بعد ہی مناسب نوکری مل جاتی ہے جس سے وہ اپنا گزر بسر کر سکتے ہیں۔ لیکن کچھ ملکوں میں لوگوں کو مناسب تنخواہ اور گھنٹوں والی نوکری کرنے کے لیے زیادہ تعلیم حاصل کرنے یا کوئی کورس کرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ اِس طرح کی نوکری کرنے سے ایک مسیحی کو مُنادی میں یا کسی اَور طرح سے بڑھ چڑھ کر یہوواہ کی خدمت کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔ لیکن زیادہ تعلیم حاصل کرنے کے لیے اُسے کچھ قربانیاں بھی دینی پڑ سکتی ہیں اور کچھ مسئلوں کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔
4. کس کو یہ فیصلہ کرنا چاہیے کہ ایک مسیحی زیادہ تعلیم حاصل کرے گا یا نہیں؟ (فٹنوٹ کو بھی دیکھیں۔)
4 بائبل میں لکھا ہے کہ ”ہر کوئی اپنی ذمےداری کا بوجھ اُٹھائے گا۔“ (گل 6:5) اِس کا مطلب ہے کہ ایک بالغ مسیحی کو خود یہ فیصلہ کرنا چاہیے کہ وہ زیادہ تعلیم حاصل کرے گا یا نہیں۔b ماں باپ کی بھی یہ ذمےداری ہے کہ وہ اپنے چھوٹے بچوں کی تعلیم کے حوالے سے فیصلے کریں۔ (اِفِس 6:1) اُن کی مدد اور صلاح مشوروں سے اُن کے بچے بڑے ہو کر تعلیم حاصل کرنے کے حوالے سے صحیح فیصلے لے پائیں گے۔—اَمثا 22:6۔
5. ایک شخص کو کب اِس بارے میں سوچنا چاہیے کہ وہ زیادہ تعلیم حاصل کرے گا یا نہیں اور کیوں؟ (تصویر کو بھی دیکھیں۔)
5 نوجوانوں کو اکثر یہ فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ وہ اپنے سکول کی پڑھائی ختم کرنے کے بعد آگے بھی پڑھائی جاری رکھیں گے یا نہیں۔ بےشک یہ سمجھداری کی بات ہوگی کہ ایک نوجوان فیصلہ لینے سے پہلے اِس معاملے کے بارے میں اپنے ماں باپ سے بات کرے۔ اِس طرح وہ مل کر تحقیق کر سکیں گے اور فرق فرق آپشن کے بارے میں سوچ سکیں گے۔ مثال کے طور پر وہ اِس بات پر غور کر سکتے ہیں کہ وہ نوجوان سکول میں کون سے مضمون چُن سکتا ہے تاکہ آگے چل کر اُسے نوکری مل سکے یا وہ زیادہ تعلیم حاصل کر سکے۔ لیکن کیا یہ فیصلہ اُس نوجوان کی سکول کی پڑھائی ختم کرنے سے پہلے کِیا جانا چاہیے؟ ضروری نہیں۔ (اَمثا 21:5) کچھ نوجوانوں نے یہ سوچنے کے ساتھ ساتھ کہ وہ آگے پڑھائی جاری رکھیں گے یا نہیں، سکول کی پڑھائی ختم کرنے، نوکری ڈھونڈنے اور پہلکار کے طور پر خدمت کرنے کا فیصلہ کِیا۔ ایک شخص زیادہ تعلیم حاصل کرنے کے فیصلے کے بارے میں آگے چل کر بھی سوچ سکتا ہے۔
ایک ماں باپ اپنی بیٹی کی مدد کر رہے ہیں تاکہ وہ زیادہ تعلیم حاصل کرنے کے حوالے سے صحیح فیصلہ لے سکے۔ (پیراگراف نمبر 5 کو دیکھیں۔)
6. کیا چیز ایک شخص کی مدد کر سکتی ہے تاکہ وہ زیادہ تعلیم حاصل کرنے کے حوالے سے سمجھداری سے فیصلہ لے سکے؟
6 کیا چیز آپ کی مدد کر سکتی ہے تاکہ آپ زیادہ تعلیم حاصل کرنے کے حوالے سے سمجھداری سے فیصلہ لیں؟ دُعا میں یہوواہ سے اِس معاملے پر بات کریں۔ (یعقو 1:5) اِس کے علاوہ دو باتوں پر بھی غور کریں۔ سب سے پہلی بات: اِس بارے میں سوچیں کہ آپ زیادہ تعلیم حاصل کیوں کرنا چاہتے ہیں؟ (زبور 26:2) اور دوسری بات: آپ جس طرح کی تعلیم حاصل کرنے کا سوچ رہے ہیں، اُس کے فائدے اور نقصان کیا ہوں گے؟ (اَمثا 14:15) آئیے اِن دونوں باتوں پر ایک ایک کر کے غور کرتے ہیں۔
سوچیں کہ آپ زیادہ تعلیم کیوں حاصل کرنا چاہتے ہیں؟
7. اگر آپ زیادہ تعلیم حاصل کرنے کا سوچ رہے ہیں تو آپ کو کس حوالے سے محتاط رہنا چاہیے؟
7 اگر آپ زیادہ تعلیم حاصل کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں تو خود سے یہ اہم سوال پوچھیں: ”مَیں یہ تعلیم کیوں حاصل کرنا چاہتا ہوں؟“ بہت سے لوگ اِس لیے زیادہ تعلیم حاصل کرتے ہیں تاکہ اُنہیں اپنی پسند کی اور اچھی تنخواہ والی نوکری مل سکے۔ کیا اِن باتوں کے بارے میں سوچنا غلط ہے؟ ضروری نہیں کہ یہ غلط ہو۔ (1-تیم 5:8) لیکن بائبل میں پیسے کے پیچھے بھاگنے اور دُنیا کی چیزوں پر بھروسا کرنے سے خبردار کِیا گیا ہے۔ (اَمثا 23:4، 5؛ 1-تیم 6:8-10؛ 1-یوح 2:17) تو اگر آپ کا مقصد صرف پیسہ یا عزت حاصل کرنا ہے تو آپ کے ہاتھ مایوسی کے سوا کچھ نہیں آئے گا اور آپ یہوواہ سے دُور ہونے کے خطرے میں بھی ہوں گے۔
8-9. (الف)ہماری نظر میں تعلیم کتنی اہم ہونی چاہیے؟ (متی 6:33) (ب)آپ نے بہن جوزفینہ، بہن مورین اور بہن آئرس سے کیا سیکھا ہے؟
8 تو پھر ہماری نظر میں تعلیم کتنی اہم ہونی چاہیے؟ ہماری نظر میں یہوواہ کی خدمت کرنے سے زیادہ کوئی بھی چیز اہم نہیں ہونی چاہیے۔ (متی 22:37، 38؛ فِل 3:8) تو ہمیں اِس مقصد سے تعلیم حاصل کرنی چاہیے تاکہ ہم ایک مناسب نوکری ڈھونڈ کر اپنی ضرورتیں پوری کرنے کے ساتھ ساتھ دلوجان سے یہوواہ کی خدمت کر سکیں۔—متی 6:33 کو پڑھیں۔
9 غور کریں کہ کس چیز نے کچھ نوجوانوں کی مدد کی تاکہ وہ تعلیم کے بارے میں یہوواہ جیسی سوچ اپنا سکیں۔ چلی میں رہنے والی بہن جوزفینہ نے کہا: ”مَیں نے ایک ایسی نوکری کرنے کے لیے زیادہ تعلیم حاصل کی جس میں مجھے یہوواہ کی خدمت کرنے کے لیے زیادہ وقت مل سکے۔ تعلیم حاصل کرتے وقت مَیں نے اِس بات کا پورا خیال رکھا کہ یہ تعلیم میری زندگی میں سب سے اہم نہ بنے بلکہ یہوواہ کی دوستی ہی میری زندگی میں سب سے اہم رہے۔“ اب ذرا مورین نام کی بہن کی بات پر بھی غور کریں جنہوں نے ایک سال پارلر کا کورس کرنے کا فیصلہ کِیا۔ اُنہوں نے یہ فیصلہ کیوں کِیا؟ بہن مورین نے کہا: ”مَیں نے اُس جگہ جا کر خدمت کرنے کا منصوبہ بنایا ہوا تھا جہاں مبشروں کی زیادہ ضرورت ہے۔ اِس لیے مَیں ایسے کورس ڈھونڈنے لگی جن سے مَیں اپنے منصوبے کو پورا کر سکوں۔ جب مَیں نے اپنا کورس ختم کر لیا تو مَیں پارلر میں کام کرنے لگی تاکہ مَیں کچھ پیسے جمع کر کے اُس علاقے میں جا کر یہوواہ کی خدمت کر سکوں جہاں مَیں جانا چاہتی تھی۔ پھر جب مَیں اُس علاقے میں چلی گئی جہاں مبشروں کی ضرورت تھی تو مَیں اپنے ہنر کی وجہ سے وہاں نوکری ڈھونڈ پائی۔“ آئرس نام کی بہن نے ایک کلینک میں کام کرنے کے لیے بڑا لمبا کورس کِیا۔ اُنہوں نے کہا: ”زیادہ تعلیم حاصل کرنے کے کچھ فائدے ہوتے ہیں۔ لیکن اِس سے آپ کو کبھی بھی سچی خوشی اور کامیابی نہیں مل سکتی۔ سچی خوشی کا راز یہ ہے: اگر یہوواہ ہماری زندگی میں سب سے اہم ہوگا تو خوشی اور کامیابی پکی ہے۔“ بےشک اگر ہماری نظر میں یہوواہ کی دوستی سب سے اہم ہوگی تو ہم ایسے فیصلے لیں گے جن سے ہمیں سچی اور کبھی نہ ختم ہونے والی خوشی ملے گی۔
سوچیں کہ آپ جو تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں، اُس کے فائدے اور نقصان کیا ہوں گے
10. ہم 1-کُرنتھیوں 10:23 میں پائے جانے والے اصول پر اُس وقت کیسے عمل کر سکتے ہیں جب ہمیں یہ فیصلہ لینا ہوتا ہے کہ ہم زیادہ تعلیم حاصل کریں گے یا نہیں؟
10 شاید آپ کے ذہن میں کوئی خاص طرح کی نوکری ہے جسے آپ کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن اچھا ہوگا کہ آپ کچھ اَور آپشن کے بارے میں بھی سوچیں۔ مثال کے طور پر شاید آپ اُس سے ملتی جلتی کوئی نوکری کر سکتے ہیں یا پھر اُس سے بالکل فرق۔ (اَمثال 18:17 پر غور کریں۔) ماضی کی نسبت آج تعلیم حاصل کرنے کے کئی طریقے موجود ہیں۔ مثال کے طور پر آپ گھر بیٹھے کچھ آنلائن کورس کر سکتے ہیں۔ اِس بارے میں بھی سوچیں کہ کیا آپ زیادہ تعلیم حاصل کیے بغیر بھی کوئی مناسب نوکری ڈھونڈ کر اپنی ضرورتیں پوری کر سکتے ہیں؟ ذرا فنلینڈ میں رہنے والی بہن یوحانا کی مثال پر غور کریں جنہوں نے زیادہ تعلیم حاصل نہیں کی ہے۔ اُنہوں نے کہا: ”پڑھائی ختم کرنے کے بعد مَیں پہلکار بن گئی اور پارٹ ٹائم نوکری کرنے لگی۔ مَیں نے فرق فرق طرح کی نوکریاں کیں۔ مَیں نے دیکھا ہے کہ یہوواہ نے اپنے وعدے کے مطابق ہمیشہ میری ضرورتوں کو پورا کِیا ہے۔“ یاد رکھیں کہ ہم جو بھی تعلیم حاصل کرنے یا جتنی بھی تعلیم حاصل کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں، اُس کے کچھ فائدے بھی ہوتے ہیں اور کچھ نقصان بھی۔ اِس لیے خود سے پوچھیں: ”کیا فلاں تعلیم حاصل کرنے یا کورس کرنے کے فائدے کم اور نقصان زیادہ ہوں گے؟“ (اِستثنا 32:29؛ 1-کُرنتھیوں 10:23 کو پڑھیں۔) آئیے اِس سوال کا جواب حاصل کرنے کے لیے کچھ باتوں پر غور کرتے ہیں۔
11. آپ کو اِس بات پر غور کیوں کرنا چاہیے کہ آپ جو تعلیم یا کورس کرنے کا سوچ رہے ہیں، اُس میں آپ کا کتنا وقت لگے گا؟ (تصویروں کو بھی دیکھیں۔)
11 آپ کا کتنا وقت لگے گا؟ اِس بارے میں سوچیں کہ آپ کو ہر ہفتے کلاسیں اور ٹریننگ لینے میں اور اپنا ہومورک کرنے میں کتنا وقت لگے گا۔ کیا آپ کے پاس یہوواہ کے ساتھ اپنی دوستی کو مضبوط کرنے کے لیے وقت بچے گا؟ اور کیا آپ کے پاس اپنے گھر کے کامکاج کرنے کے لیے وقت ہوگا تاکہ آپ اپنے گھر والوں کا ہاتھ بٹا سکیں؟ (فِل 1:10) کیا آپ اپنی پڑھائی کی وجہ سے ذہنی طور پر اِتنا تھک جائیں گے کہ آپ کے پاس اِجلاسوں کی تیاری کرنے یا ذاتی مطالعہ کرنے کی طاقت ہی نہیں بچے گی؟ ایسا ہی کچھ بھارت میں رہنے والے بھائی جیروز کے ساتھ ہوا تھا۔ اُنہوں نے کہا: ”میرے لیے باقاعدگی سے مُنادی میں جانا اور اِجلاسوں کو دھیان سے سننا بہت مشکل ہو گیا تھا۔ کبھی کبھار تو مَیں عبادت میں جاتا ہی نہیں تھا۔ اب جب مَیں اُس وقت کو یاد کرتا ہوں تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ مَیں نے ایسے ہی اُس کورس میں اپنا اِتنا وقت اور طاقت ضائع کی۔“ لیکن کچھ کورس ایسے ہوتے ہیں جو ہمارا زیادہ وقت نہیں لیتے اور اُن کے لیے زیادہ ہومورک بھی نہیں کرنا پڑتا۔ موزمبیق میں رہنے والی بہن ربیقہ نے ایسا ہی کورس کِیا تھا اور وہ اپنے فیصلے پر بہت خوش ہیں۔ اُنہوں نے کہا: ”مَیں جو کورس کر رہی تھی، وہ ہر دن صرف دو گھنٹے کا ہی ہوتا تھا۔ اِس لیے مَیں پہلکار کے طور پر اپنی خدمت جاری رکھ سکی۔“
اگر آپ زیادہ تعلیم حاصل کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں تو اِس بات کا خیال رکھیں کہ آپ کے پاس اپنی باقی اہم ذمےداریوں کو نبھانے کے لیے بھی وقت ہو۔ (پیراگراف نمبر 11 کو دیکھیں۔)
12. اپنے وقت کو بہترین طریقے سے اِستعمال کرنے کے لیے ہمیں خود سے کون سے سوال پوچھنے چاہئیں؟ (واعظ 12:1)
12 کورس کتنا لمبا چلے گا؟ اِس بارے میں سوچیں کہ آپ کو اپنا کورس یا تعلیم مکمل کرنے میں کتنے مہینے یا سال لگیں گے۔ اِس بات پر بھی غور کریں کہ کیا وہ کورس کرنے سے آپ اپنے وقت کا بہترین اِستعمال کر رہے ہوں گے؟ (اِفِس 5:15-17) اگر آپ نوجوان ہیں تو کیا آپ کے لیے اپنی تعلیم کی وجہ سے یہوواہ کو اپنی زندگی کا بہترین وقت دینا ممکن ہوگا؟ مثال کے طور پر کیا آپ نوجوانی میں کُلوقتی طور پر اُس کی خدمت کر پائیں گے؟ (واعظ 12:1 کو پڑھیں۔) کیا آپ کسی ایسے چھوٹے کورس کے بارے میں سوچ سکتے ہیں جس میں آپ وہ ہنر سیکھ سکیں جس کی مدد سے آپ اپنی پسند کی نوکری کر سکیں؟ مثال کے طور پر کچھ اِداروں یا کام کی جگہ پر ایسے ہنر سکھائے جاتے ہیں جو بڑی جلدی سے سیکھے جا سکتے ہیں اور اِن میں کسی یونیورسٹی میں جانے سے کم پیسے لگتے ہیں۔ اِس سلسلے میں چلی میں رہنے والے بھائی ماریو نے کہا: ”مَیں نے ایک ایسا تکنیکی کورس کرنے کا فیصلہ کِیا جو صرف دو سال کا تھا اور یہ یونیورسٹی کے کورس سے سستا تھا۔ مجھے صرف ہفتے میں چار دن کلاسوں کے لیے جانا پڑتا تھا۔ اِس طرح مَیں پہلکار کے طور پر بھی خدمت کر پایا۔“
13. اگر ایک شخص اپنے گھر سے دُور رہ کر زیادہ تعلیم حاصل کرتا یا کوئی کورس کرتا ہے تو کیا ہو سکتا ہے؟
13 آپ کو کہاں جانا پڑے گا؟ ہو سکتا ہے کہ آپ کو اپنے گھر کے قریب ہی کوئی ایسا اِدارہ مل جائے جہاں سے آپ اپنا منپسند کورس کر سکتے ہیں۔ لیکن اگر آپ کو کسی اَور شہر میں جا کر وہ کورس کرنا پڑے گا تو پھر آپ کیا کریں گے؟ یا پھر آپ اُس وقت کیا کریں گے اگر آپ کو اُس کورس کے دوران کچھ اَور طالبِعلموں کے ساتھ ایک خاص جگہ پر رہنا پڑے گا؟ یاد رکھیں کہ اگر آپ اپنے گھر والوں کو چھوڑ کر اپنے ایسے رشتےداروں یا لوگوں کے ساتھ رہیں گے جو یہوواہ کی عبادت نہیں کرتے تو یہوواہ کے ساتھ آپ کی دوستی کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ (اَمثا 22:3؛ 1-کُر 15:33) ذرا موزمبیق میں رہنے والے ایک بھائی کی مثال پر غور کریں جن کا نام متیآس ہے۔ حالانکہ اُنہوں نے ایک ایسا کورس کِیا تھا جو صرف ایک سال کا تھا اور جس کے لیے اُنہیں زیادہ پیسے بھی نہیں دینے پڑے تھے لیکن وہ پھر بھی اُس کورس کو کرنے کے فیصلے پر پچھتاتے ہیں۔ کیوں؟ اُنہوں نے کہا: ”اُس کورس کے دوران مجھے پورا وقت اپنے گھر سے بہت دُور رہنا پڑا۔ مجھے ہر دن غلط کام کرنے کی آزمائش کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ اِس لیے مَیں ہر کسی کو یہی مشورہ دوں گا کہ آپ کوئی ایسا کورس کریں جس کے لیے آپ کو اپنے گھر والوں سے دُور نہ رہنا پڑے۔“ اور ذرا روس میں رہنے والی ایک بہن کی بات پر بھی غور کریں جنہوں نے کہا: ”چونکہ مَیں تعلیم حاصل کرتے وقت کسی اَور جگہ رہنے کی بجائے اپنے امی ابو کے ساتھ رہتی تھی اِس لیے مَیں بہت سی مشکلوں اور خطروں سے بچ گئی۔“ آپ تو اپنے گھر بیٹھے ہی کوئی آنلائن کورس بھی کر سکتے ہیں۔
14. زیادہ تعلیم حاصل کرنے کے حوالے سے فیصلہ لیتے وقت لُوقا 14:28 میں لکھا اصول آپ کے کام کیسے آ سکتا ہے؟
14 آپ کا کتنا خرچہ ہوگا؟ کچھ ملکوں میں کورس کرنا بہت سستا ہوتا ہے یا پھر حکومت اِن کا خرچہ اُٹھاتی ہے۔ ایسی صورتحال میں آپ زیادہ پیسہ لگائے بغیر ایک ایسا ہنر سیکھ سکتے ہیں جس کے لیے آپ کو آسانی سے نوکری مل سکتی ہے۔لیکن کچھ ملکوں میں زیادہ تعلیم حاصل کرنا یا کوئی کورس کرنا بہت مہنگا ہوتا ہے۔ اِس کے علاوہ اِسے کرتے وقت شاید کچھ اَور خرچے بھی نکل آتے ہیں۔ مثال کے طور پر شاید آپ کو اُس کورس کو کرنے کے لیے ٹیوشن لینی پڑے یا کسی ٹیچر کو اپنے گھر پر بلوانا پڑے۔ کچھ کورس تو اِتنے مہنگے ہوتے ہیں کہ طالبِعلموں کو اِنہیں کرنے کے لیے قرضہ لینا پڑتا ہے جسے اُتارنے میں اُنہیں سالوں سال لگ جاتے ہیں۔ موزمبیق میں رہنے والے ایک بھائی نے ایسا ہی مہنگا کورس کِیا تھا۔ اُن کا نام ایڈلسن ہے۔ وہ آج تک اپنے فیصلے پر بہت پچھتاتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا: ”مَیں نے چار سال کا ایک کورس کِیا جس کا خرچہ میرے گھر والوں نے اُٹھایا۔ میری تعلیم پر اِتنا پیسہ لگ جاتا تھا کہ ہمارے پاس کھانے پینے اور دوسری بنیادی چیزیں خریدنے تک کے پیسے نہیں ہوتے تھے۔“ تو کوئی بھی تعلیم حاصل کرنے یا کورس کرنے سے پہلے خود سے پوچھیں: ”اِسے کرنے میں کتنے پیسے لگیں گے؟ کیا مَیں یا میرے گھر والے اِس کا خرچہ اُٹھا پائیں گے؟ کیا کوئی ایسا کورس ہے جس میں مجھے زیادہ پیسے نہ لگانے پڑیں؟“ (لُوقا 14:28 کو پڑھیں۔) ”اگر مَیں نے کورس کرنے کے لیے قرضہ لے لیا تو اِسے چُکانے میں مجھے کتنا وقت لگ جائے گا؟ اور بعد میں جب مجھے نوکری مل جائے گی تو کیا میری اِتنی تنخواہ ہوگی جس میں مَیں اپنی ضرورتیں پوری کرنے کے ساتھ ساتھ قرضہ بھی اُتار سکوں؟“—اَمثا 22:7۔
15. زیادہ تعلیم حاصل کرنے سے پہلے آپ کو یہ کیوں سوچ لینا چاہیے کہ اِس کے بعد آپ کو آسانی سے نوکری مل جائے گی یا نہیں؟
15 کیا آپ کو آسانی سے نوکری مل پائے گی؟ اِس بارے میں سوچیں کہ آپ جہاں رہتے ہیں، وہاں کس طرح کے کام یا ہنر کے لیے ملازموں کی ضرورت ہوتی ہے۔ کچھ کورس ایسے ہوتے ہیں جن میں کوئی ایسا ہنر نہیں سکھایا جاتا جو کسی خاص قسم کے کام یا نوکری کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ اِس کی بجائے اِن کورسوں میں صرف مختلف نظریات کو سمجھنے یا اپنے علم کو بڑھانے پر زور دیا جاتا ہے۔ (کُل 2:8) اِس حوالے سے ذرا بھارت میں رہنے والی ایک بہن کی بات پر غور کریں۔ اُنہوں نے کہا: ”مَیں نے جو کورس کِیا، اُس میں مجھے کوئی ایسی مہارت نہیں سکھائی گئی جو میری پسند کی نوکری کرنے میں میرے کام آ سکتی تھی۔ اِس وجہ سے مَیں کوئی مناسب نوکری نہیں ڈھونڈ پائی۔“ کچھ تعلیم یا کورس ایسے ہوتے ہیں جن میں آپ کو ایک کام کرنے کا ہنر تو سکھایا جاتا ہے لیکن اُس کام کے لیے زیادہ نوکریاں نہیں ہوتیں۔ مثال کے طور پر وسطی افریقہ، جمہوریہ میں رہنے والے بھائی سبلائم نے اےسی ٹھیک کرنے کا کام سیکھا۔ بھائی سبلائم نے کہا: ”مَیں جہاں رہتا ہوں، وہاں زیادہتر لوگ خود ہی اپنے گھر کی چیزوں کی مرمت کر لیتے ہیں۔ تو میرے لیے کام ڈھونڈنا بہت مشکل تھا۔“
16. اِس بات پر غور کرنا اچھا کیوں ہوگا کہ آپ تعلیم مکمل کر لینے کے بعد کون سا کام کریں گے؟
16 اِس بارے میں بھی سوچیں کہ جب آپ ایک کورس ختم کر لیں گے تو اِس کے بعد آپ کو کس طرح کا کام ملے گا۔ کیا آپ کو وہ کام کر کے مزہ آئے گا یا اُس سے خوشی ملے گی؟ (واعظ 3:12، 13) کام کی جگہ پر ماحول کیسا ہوگا؟ اِس کے علاوہ جو کام آپ کرنا چاہتے ہیں، کیا وہ خطرناک ہوگا؟ کیا کام کی جگہ پر ایسے لوگ ہوں گے جو آگے نکلنے کی کوشش میں ایک دوسرے سے لڑتے رہتے ہیں؟ کیا آپ کسی ایسی کمپنی میں نوکری کریں گے جہاں کام کا بہت دباؤ ہوتا ہے؟ کیا آپ کو وہ کام کرتے ہوئے آگے بھی زیادہ تعلیم حاصل کرنی پڑے گی تاکہ آپ کی نوکری آپ کے ہاتھ سے نکل نہ جائے؟ اور سب سے بڑھ کر تو یہ کہ کیا اُس نوکری کی وجہ سے آپ یہوواہ کی بادشاہت کو زیادہ اہمیت دے پائیں گے؟ (واعظ 12:13) سچ ہے کہ جب نوکریوں کی کمی ہوتی ہے تو شاید آپ وہ نوکری نہ کر پائیں جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن پھر بھی آپ ابھی سے سوچ سمجھ کر تعلیم حاصل کرنے کے حوالے سے صحیح فیصلہ لے سکتے ہیں تاکہ آپ کو بعد میں کوئی نوکری مل سکے۔ ذرا بھارت میں رہنے والی ایک بہن کی مثال پر غور کریں جن کا نام تبیتا ہے۔ اُنہوں نے چھ مہینے سلائی کا کورس کِیا۔ اُنہوں نے کہا: ”مَیں نے سوچا کہ اگر مَیں سلائی کا کام سیکھوں گی تو اِس طرح مَیں پہلکار کے طور پر اپنی خدمت جاری رکھ سکوں گی۔ سلائی ایک ایسا ہنر ہے جس میں آپ کو ہمیشہ ہی کام ملتا رہتا ہے۔ یہ کام کبھی آپ کے ہاتھ سے نہیں جاتا۔ مَیں اِس کام کو اپنی مرضی کے وقت میں کر سکتی ہوں اور اِسے شروع کرنے کے لیے مجھے زیادہ پیسے بھی نہیں لگانے پڑے۔“
17. (الف)آپ جس طرح کا کورس کرنا چاہتے ہیں، آپ اُس کے بارے میں زیادہ معلومات کہاں سے لے سکتے ہیں؟ (ب)بائبل کے کون سے اصول صحیح فیصلہ لینے میں آپ کے کام آ سکتے ہیں؟ (بکس ”پاک کلام کے کچھ ایسے اصول جن پر آپ کو غور کرنا چاہیے“ کو دیکھیں۔)
17 اِس مضمون میں ہم نے زیادہ تعلیم حاصل کرنے کے حوالے سے بہت سی اہم باتوں کا ذکر کِیا جن پر آپ کو غور کرنا چاہیے۔ آپ جس طرح کا کورس کرنا چاہتے ہیں، اُس کے بارے میں آپ کو زیادہ معلومات کہاں سے مل سکتی ہے؟ آپ اُس اِدارے میں جا سکتے ہیں جہاں وہ کورس کرایا جاتا ہے یا پھر آپ آنلائن اِس کے بارے میں معلومات لے سکتے ہیں۔ یہ بھی دیکھیں کہ آپ جو کورس کرنے کا سوچ رہے ہیں، کیا اُس کے لیے کافی نوکریاں دستیاب ہیں؟ اِس کے علاوہ آپ اُن لوگوں سے بھی بات کر سکتے ہیں جنہوں نے اُسی طرح کا کورس کِیا یا جو اُسی طرح کا کام کر رہے ہیں جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔ (اَمثا 13:10) اُن سے پوچھیں: ”اِس کورس کو یا پھر اِس کام کو کرنے کے فائدے اور نقصان کیا ہیں؟“ اُن لوگوں سے بھی بات کریں جو خوشی سے یہوواہ کی خدمت کر رہے ہیں۔ (اَمثا 15:22) دیکھیں کہ وہ آپ کو کس طرح کی تعلیم حاصل کرنے یا نوکری کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ وہ آپ سے کسی ایسے کام کا ذکر کریں جس کے بارے میں آپ نے پہلے کبھی نہیں سوچا۔
18. ہمیں کیا یاد رکھنا چاہیے؟
18 اِس مضمون کے ذریعے ہم نے دیکھ لیا ہے کہ زیادہ تعلیم حاصل کرنے کے فائدے بھی ہیں اور نقصان بھی۔ تو یہوواہ سے دُعا کرنے کے بعد فرق فرق آپشن کے بارے میں سوچیں۔ سچ ہے کہ زیادہ تعلیم حاصل کرنے سے شاید آپ کو وہ نوکری مل جائے جس میں آپ اچھا کما کر اپنی ضرورتیں پوری کر سکتے ہیں۔ لیکن یاد رکھیں کہ سچی خوشی صرف یہوواہ کے ساتھ پکی دوستی کرنے سے ہی مل سکتی ہے۔ (زبور 16:9، 11) یہوواہ ہمیشہ اپنے بندوں کا خیال رکھتا ہے پھر چاہے اُنہوں نے جتنی بھی تعلیم حاصل کی ہو۔ (عبر 13:5) لیکن اگر آپ نے زیادہ تعلیم حاصل کرنے کا فیصلہ کِیا ہے تو کیا چیز آپ کی مدد کر سکتی ہے تاکہ آپ اپنی پڑھائی کے ساتھ ساتھ یہوواہ کے بھی قریب رہ سکیں؟ اِس سوال پر اگلے مضمون میں بات کی جائے گی۔
گیت نمبر 45 میرے دل کی سوچ بچار
a اِصطلاح کی وضاحت: اِس مضمون میں اور اگلے مضمون میں اِصطلاح ”زیادہ تعلیم حاصل کرنا“ اُس تعلیم یا ٹریننگ کی طرف اِشارہ کرتی ہے جو اُس بنیادی تعلیم سے ہٹ کر ہے جو حکومت کی طرف سے لازمی ٹھہرائی گئی ہوتی ہے۔ زیادہ تعلیم حاصل کرنے میں کسی اِدارے سے چھوٹے یا بڑے کورس کرنا، کالج یا یونیورسٹی میں پڑھنا یا کسی ہنر کو سیکھنے کی ٹریننگ لینا شامل ہے۔
b ماضی میں ہماری کتابوں اور رسالوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے سے خبردار کِیا جاتا تھا۔ مثال کے طور پر 1 اکتوبر 2005ء کے ”مینارِنگہبانی“ کے مضمون ”اَے اولاد والو! آپ اپنے بچوں کیلئے کیسا مستقبل چاہتے ہیں؟“ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے خطروں پر بات کی گئی ہے۔ سچ ہے کہ ایسا کرنے کے خطرے ابھی بھی ہیں لیکن یہ ہر مسیحی کا ذاتی فیصلہ ہے کہ وہ زیادہ تعلیم حاصل کرے گا یا نہیں۔ ہر بالغ مسیحی کو اور اگر وہ چھوٹا ہے تو اُس کے گھر کے سربراہ کو اِس حوالے سے کوئی بھی فیصلہ لینے سے پہلے بائبل کے اصولوں کو ذہن میں رکھ کر اِس بات پر سوچ بچار کرنی چاہیے کہ زیادہ تعلیم حاصل کرنے یا کوئی کورس کرنے میں کتنا وقت اور طاقت لگے گی۔ اُنہیں اِس معاملے میں یہوواہ سے دُعا کرنی چاہیے۔ کسی بھی مسیحی کو، یہاں تک کہ کلیسیا کے بزرگوں کو بھی اُس بہن یا بھائی پر نکتہچینی نہیں کرنی چاہیے جو زیادہ تعلیم حاصل کرنے کا فیصلہ کرتا ہے۔—یعقو 4:12۔