تعلیم—اِسے یہوؔواہ کی حمد کے لئے استعمال کریں
”جو اپنی طرف سے کچھ کہتا ہے وہ اپنی عزت چاہتا ہے لیکن جو اپنے بھیجنے والے کی عزت چاہتا ہے وہ سچا ہے۔“—یوحنا ۷:۱۸۔
۱. تعلیم کے عمل کا آغاز کب اور کیسے ہوا؟
تعلیم کا آغاز مُدتوں پہلے ہوا۔ عظیم مدرس اور مُعلم، یہوؔواہ خدا کے اپنے پہلوٹھے بیٹے کو خلق کرنے کے تھوڑی ہی دیر بعد تعلیمی عمل شروع ہو گیا تھا۔ (یسعیاہ ۳۰:۲۰؛ کلسیوں ۱:۱۵) اب کوئی موجود تھا جو بذاتِخود عظیم مدرس سے سیکھ سکتا تھا! ہزاروں سال کے دوران باپ کیساتھ قریبی رفاقت سے، اُس بیٹے نے—جو یسوؔع مسیح کے طور پر مشہور ہوا—یہوؔواہ خدا کی صفات، کاموں اور مقاصد کی بابت بیشقیمت تعلیم حاصل کی۔ بعدازاں، زمین پر بطور انسان، یسوؔع کہہ سکتا تھا: ”[مَیں] اپنی طرف سے کچھ نہیں کرتا بلکہ جس طرح باپ نے مجھے سکھایا اُسی طرح یہ باتیں کہتا ہوں۔“—یوحنا ۸:۲۸۔
۲-۴. (ا) یوحنا ۷ باب کے مطابق، ۳۲ س.ع. میں عیدِخیام کے موقع پر یسوؔع کی آمد کے وقت حالات کیسے تھے؟ (ب) یہودی یسوؔع کی تعلیم دینے کی لیاقت کے بارے میں حیران کیوں تھے؟
۲ یسوؔع نے اُس تعلیم کو کیسے استعمال کِیا جو اُس نے حاصل کی تھی؟ اپنی ساڑھے تین سالہ زمینی خدمتگزاری کے دوران، جو کچھ وہ سیکھ چکا تھا، اُس نے انتھک طریقے سے، اُس میں دوسروں کو شریک کِیا۔ تاہم، یہ سب کچھ ایک بنیادی مقصد ذہن میں رکھ کر کِیا گیا تھا۔ اور وہ کیا تھا؟ آئیے، یوحنا ۷ باب میں یسوؔع کے الفاظ پر غور کریں، جہاں اُس نے اپنی تعلیم کے مآخذ اور مقصد دونوں کی وضاحت کی۔
۳ پسمنظر پر غور کریں۔ یہ یسوؔع کے بپتسمے کے تقریباً تین سال بعد، ۳۲ س.ع. کے موسمِخزاں کی بات ہے۔ یہودی عیدِخیام کیلئے یرؔوشلیم میں جمع تھے۔ عید کے پہلے چند دنوں کے دوران، یسوؔع کی بابت کافی چہمیگوئیاں ہو رہی تھیں۔ جب عید کے نصف دن گزر گئے تو یسوؔع ہیکل میں گیا اور تعلیم دینے لگا۔ (یوحنا ۷:۲، ۱۰-۱۴) ہمیشہ کی طرح، اُس نے خود کو ایک عظیم اُستاد ثابت کِیا۔—متی ۱۳:۵۴؛ لوقا ۴:۲۲۔
۴ یوحنا ۷ باب کی ۱۵ آیت بیان کرتی ہے: ”پس یہودیوں نے تعجب کرکے کہا کہ اسکو بغیر پڑھے کیونکر علم آ گیا؟“ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ وہ کیوں اُلجھن میں مبتلا تھے؟ یسوؔع نے ربّیوں کے کسی سکول میں تعلیم نہیں پائی تھی، لہٰذا وہ اُنکے خیال میں اَنپڑھ تھا! تاہم، یسوؔع بآسانی مُقدس تحریروں کے حصوں کو تلاش کر سکتا اور پڑھ سکتا تھا۔ (لوقا ۴:۱۶-۲۱) گلیلؔ کے اس بڑھئی نے تو اُنہیں موسوی شریعت کی تعلیم بھی دی! (یوحنا ۷:۱۹-۲۳) یہ کیسے ممکن تھا؟
۵، ۶. (ا) یسوؔع نے اپنی تعلیم کے مآخذ کی وضاحت کیسے کی؟ (ب) کس طریقے سے یسوؔع نے اپنی تعلیم کو استعمال کِیا؟
۵ جیساکہ ہم ۱۶ اور ۱۷ آیات میں پڑھتے ہیں، یسوؔع نے واضح کِیا: ”میری تعلیم میری نہیں بلکہ میرے بھیجنے والے کی ہے۔ اگر کوئی اُسکی مرضی پر چلنا چاہے تو وہ اس تعلیم کی بابت جان جائیگا کہ خدا کی طرف سے ہے یا مَیں اپنی طرف سے کہتا ہوں۔“ وہ جاننا چاہتے تھے کہ یسوؔع نے کس سے تعلیم پائی تھی، اور اُس نے اُنہیں صاف طور پر بتا دیا کہ اُسکی تعلیم خدا کی طرف سے تھی!—یوحنا ۱۲:۴۹؛ ۱۴:۱۰۔
۶ یسوؔع نے اپنی تعلیم کو کیسے استعمال کِیا؟ جیسےکہ یوحنا ۷:۱۸ میں درج ہے، اُس نے کہا: ”جو اپنی طرف سے کچھ کہتا ہے وہ اپنی عزت چاہتا ہے لیکن جو اپنے بھیجنے والے کی عزت چاہتا ہے وہ سچا ہے اور اُس میں ناراستی نہیں۔“ یہ کسقدر موزوں ہے کہ یسوؔع نے اپنی تعلیم کو یہوؔواہ کے جلال کیلئے استعمال کِیا جو ”علم میں کامل ہے“!—ایوب ۳۷:۱۶۔
۷، ۸. (ا) تعلیم کو کیسے استعمال کِیا جانا چاہئے؟ (ب) متوازن تعلیم کے چار بنیادی مقاصد کونسے ہیں؟
۷ پس ہم یسوؔع سے ایک قابلِقدر سبق سیکھتے ہیں—تعلیم کو اپنی بڑائی کیلئے نہیں بلکہ یہوؔواہ کی حمد کیلئے استعمال کِیا جانا چاہئے۔ تعلیم کے استعمال کا اس سے بہتر کوئی اَور طریقہ نہیں ہے۔ لہٰذا، آپ تعلیم کو یہوؔواہ کی ستائش کیلئے کیسے استعمال کر سکتے ہیں؟
۸ تعلیم دینے کا مطلب ”بالخصوص کسی ہنر، دستکاری یا پیشے میں باضابطہ تعلیموتدریس اور زیرِنگرانی مشق کے ذریعے تربیت دینا ہے۔“ آئیے اب متوازن تعلیم کے چار بنیادی مقاصد پر غور کریں اور یہ کہ ہر ایک کو یہوؔواہ کی حمد کرنے کیلئے کیسے استعمال کِیا جا سکتا ہے۔ متوازن تعلیم کو (۱) اچھی طرح پڑھنے، (۲) خوشخط لکھنے، (۳) ذہنی اور اخلاقی طور پر پُختہ ہونے، اور (۴) روزمرّہ زندگی کیلئے درکار عملی تربیت حاصل کرنے کیلئے ہماری مدد کرنی چاہئے۔
اچھی طرح سے پڑھنا سیکھنا
۹. ایک اچھا قاری ہونا کیوں اہم ہے؟
۹ سب سے پہلے اچھی طرح سے پڑھنا سیکھنے کو درج کِیا گیا ہے۔ ایک اچھا قاری ہونا اتنا اہم کیوں ہے؟ دی ورلڈ بُک انسائیکلوپیڈیا وضاحت کرتا ہے: ”پڑھائی . . . سیکھنے کیلئے بنیادی چیز ہے اور روزمرّہ زندگی کی نہایت اہم مہارتوں میں سے ایک ہے۔ . . . ماہر قارئین ایک کامیاب، پھلدار معاشرہ پیدا کرنے کا باعث بنتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، وہ خود بھی بھرپور، زیادہ مطمئن زندگیوں سے لطف اُٹھاتے ہیں۔“
۱۰. کسطرح خدا کے کلام کی پڑھائی بھرپور، زیادہ مطمئن زندگیوں سے لطفاندوز ہونے کیلئے ہماری مدد کرتی ہے؟
۱۰ اگر عام پڑھائی ”بھرپور، زیادہ مطمئن زندگیوں“ سے لطف اُٹھانے کیلئے ہماری مدد کر سکتی ہے تو یہ بات خدا کے کلام کی پڑھائی کے سلسلے میں کسقدر سچ ثابت ہوتی ہے! ایسی پڑھائی ہمارے ذہنوں اور دلوں کو یہوؔواہ کے خیالات اور مقاصد کیلئے کھولتی ہے، اور اُنکی واضح سمجھ ہماری زندگیوں کو مقصد عطا کرتی ہے۔ علاوہازیں، عبرانیوں ۴:۱۲ کہتی ہے کہ ”خدا کا کلام زندہ اور مؤثر . . . ہے۔“ جب ہم خدا کا کلام پڑھتے اور اس پر غوروخوض کرتے ہیں تو ہم اسکے مصنف کی قربت میں آ جاتے ہیں، اور ہم اُسکے زیادہ منظورِنظر بننے کیلئے اپنی زندگیوں میں تبدیلیاں لانے کی تحریک پاتے ہیں۔ (گلتیوں ۵:۲۲، ۲۳؛ افسیوں ۴:۲۲-۲۴) جو بیشقیمت سچائیاں ہم پڑھتے ہیں ہم اُن میں دوسروں کو شریک کرنے کی تحریک بھی پاتے ہیں۔ یہ سب عظیم مُعلم، یہوؔواہ خدا کی ستائش کا سبب بنتا ہے۔ یقیناً پڑھنے کی اپنی صلاحیت کو استعمال کرنے کا اس سے بہتر اَور کوئی طریقہ نہیں ہے!
۱۱. ذاتی مطالعے کے متوازن پروگرام میں کیا کچھ شامل ہونا چاہئے؟
۱۱ خواہ جوان ہوں یا بوڑھے، اچھی طرح پڑھنا سیکھنے کیلئے ہماری حوصلہافزائی کی جاتی ہے، کیونکہ پڑھائی ہماری مسیحی زندگی میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔ خدا کے کلام کی باقاعدہ پڑھائی کے علاوہ، ذاتی مطالعے کے ایک متوازن پروگرام میں روزانہ صحائف کی جانچ کرنا میں سے بائبل کی آیت پر غوروخوض کرنا، پورے مینارِنگہبانی اور جاگو! کو پڑھنا، اور مسیحی اجلاسوں کیلئے تیاری کرنا شامل ہونا چاہئے۔ اور ہماری مسیحی خدمتگزاری کی بابت کیا ہے؟ واضح طور پر، اعلانیہ منادی کرنا، دلچسپی رکھنے والے اشخاص سے واپسی ملاقاتیں کرنا، اور گھریلو بائبل مطالعے کرانا، سب پڑھنے کی اچھی صلاحیت کا تقاضا کرتے ہیں۔
خوشخط لکھنا سیکھنا
۱۲. (ا) خوشخط لکھنا سیکھنا کیوں اہم ہے؟ (ب) عظیمترین تحریر کیا تھی جو کبھی کی گئی؟
۱۲ دوسرا مقصد یہ ہے کہ متوازن تعلیم کو خوشخط لکھنا سیکھنے کیلئے ہماری مدد کرنی چاہئے۔ لکھائی نہ صرف ہمارے پیغامات اور خیالات کو منتقل کرتی ہے بلکہ یہ اُنہیں محفوظ بھی رکھتی ہے۔ بہت صدیاں پہلے، تقریباً ۴۰ یہودی آدمیوں نے پائپرس یا جانوروں کی کھالوں پر پیغامات تحریر کئے جنہوں نے الہامی صحائف کو تشکیل دیا۔ (۲-تیمتھیس ۳:۱۶) یقیناً یہ عظیمترین تحریر تھی جو کبھی کی گئی! بِلاشُبہ یہوؔواہ نے صدیوں کے دوران ان مُقدس پیغامات کے نقلدرنقل کئے جانے کی رہنمائی کی، اس طرح یہ ہم تک ایک قابلِاعتماد حالت میں پہنچے ہیں۔ کیا ہم شکرگزار نہیں کہ یہوؔواہ نے اپنے پیغامات کو زبانی پہنچانے کا سہارا لینے کی بجائے اُنہیں تحریر کرا دیا؟—مقابلہ کریں خروج ۳۴:۲۷، ۲۸۔
۱۳. کیا چیز ظاہر کرتی ہے کہ اسرائیلی لکھنا جانتے تھے؟
۱۳ قدیم وقتوں میں، محض چند اعلیٰ طبقے کے لوگ، جیسےکہ مسوؔپتامیہ اور مصرؔ کے فقیہ ہی خواندہ ہوتے تھے۔ تاہم سب قوموں کے بالکل برعکس، اسرائیل میں ہر ایک کی خواندہ ہونے کیلئے حوصلہافزائی کی گئی تھی۔ استثنا ۶:۸، ۹ میں اسرائیلیوں کیلئے اپنے گھروں کی چوکھٹوں پر لکھنے کے حکم نے، ظاہراً علامتی ہونے کے باوجود، دلالت کی کہ وہ لکھنا جانتے تھے۔ اوائل عمری میں، بچوں کو لکھنا سکھایا جاتا تھا۔ جیزر کیلنڈر، عبرانی تحریر کے قدیمترین نمونوں میں سے ایک، کو بعض علماء نے کسی سکول کے بچے کے حافظے کی مشق خیال کِیا ہے۔
۱۴، ۱۵. لکھنے کی صلاحیت کو استعمال کرنے کے بعض مثبت اور خوشگوار طریقے کونسے ہیں؟
۱۴ لیکن ہم ایک مثبت اور صحتمندانہ طریقے سے لکھنے کی صلاحیت کو کیسے استعمال کر سکتے ہیں؟ یقیناً اجلاسوں، اسمبلیوں، اور کنونشنوں پر نوٹس لکھنے سے۔ ایک خط، خواہ ”چند الفاظ“ پر ہی مشتمل ہو، کسی بیمار شخص کو حوصلہافزائی دے سکتا ہے یا کسی بھائی یا بہن سے شکریے کا اظہار کر سکتا ہے جس نے ہمارے لئے مہربانی یا مہماننوازی دکھائی تھی۔ (۱-پطرس ۵:۱۲) اگر کلیسیا میں کسی کا کوئی عزیز وفات پا گیا ہے تو ہماری طرف سے ایک مختصرسا خط یا کارڈ ”دلاسا“ دے سکتا ہے۔ (۱-تھسلنیکیوں ۵:۱۴) ایک مسیحی بہن نے وضاحت کی جس کی والدہ کینسر سے وفات پا گئی تھی: ”ایک سہیلی نے مجھے بہت اچھا خط لکھا۔ اُس نے واقعی میری مدد کی کیونکہ مَیں اُسے بار بار پڑھ سکتی تھی۔“
۱۵ یہوؔواہ کی حمدوستائش کرنے کیلئے لکھنے کی صلاحیت کو استعمال کرنے کا ایک شاندار طریقہ بادشاہتی گواہی دینے کیلئے خط لکھنا ہے۔ بعضاوقات دُورافتادہ علاقوں میں رہنے والے نئے دلچسپی رکھنے والے افراد سے رابطہ رکھنا ضروری ہو سکتا ہے۔ بیماری عارضی طور پر آپ کیلئے گھرباگھر جانا مشکل بنا سکتی ہے۔ ایسی صورتحال میں شاید ایک خط تحریر میں وہی کچھ کہہ سکتا ہے جو آپ عام طور پر بذاتِخود کہتے۔
۱۶، ۱۷. (ا) کونسا تجربہ بادشاہتی گواہی دینے کیلئے خط لکھنے کی قدروقیمت کو ظاہر کرتا ہے؟ (ب) کیا آپ کوئی اسی طرح کا تجربہ بیان کر سکتے ہیں؟
۱۶ ایک تجربے پر غور کریں۔ کافی سال پہلے ایک بہن نے ایک شخص کی بیوہ کو بادشاہتی گواہی دینے کیلئے ایک خط لکھا جسکی موت کی خبر ایک اخبار میں شائع ہوئی تھی۔ کوئی جواب نہ ملا۔ پھر، نومبر ۱۹۹۴ میں، ۲۱ سال سے زیادہ عرصے کے بعد، اُس بہن کو اُس خاتون کی بیٹی کی طرف سے خط موصول ہوا۔ صاحبزادی نے لکھا:
۱۷ ”اپریل ۱۹۷۳ میں، آپ نے میرے والد کی وفات کے بعد میری والدہ کو دلاسا دینے کیلئے خط لکھا تھا۔ مَیں اُس وقت نو برس کی تھی۔ میری والدہ نے بائبل کا مطالعہ کِیا لیکن تاحال وہ یہوؔواہ کی خادمہ نہیں ہے۔ تاہم، اُسکا مطالعہ بالآخر میرے سچائی سے روشناس ہونے کا سبب بنا۔ ۱۹۸۸ میں، مَیں نے اپنا بائبل مطالعہ شروع کِیا—آپکا خط موصول ہونے کے ۱۵ سال بعد۔ ۹ مارچ ۱۹۹۰ میں، میرا بپتسمہ ہوا۔ مَیں کئی سال پہلے کے آپکے خط کیلئے بڑی شکرگزار ہوں اور آپکو لکھ کر نہایت خوش ہوں کہ آپکے بوئے ہوئے بیجوں نے یہوؔواہ کی مدد سے واقعی نشوونما پائی۔ میری والدہ نے آپکا خط مجھے اپنے پاس رکھنے کیلئے دیا تھا، اور مَیں آپکے بارے میں جاننا چاہونگی کہ آپ کون ہیں۔ مَیں اُمید کرتی ہوں کہ یہ خط آپ تک پہنچ جائیگا۔“ صاحبزادی کا خط، جس پر اُسکا پتہ اور فون نمبر لکھا تھا، بہن کے پاس پہنچ گیا جس نے اُسکی ماں کو بہت سال پہلے لکھا تھا۔ اُس نوجوان خاتون کی حیرانی کا تصور کریں جب اُسے بہن کی طرف سے فون کال آئی—جو ابھی تک دوسروں کو بادشاہتی اُمید میں شریک کرنے کیلئے خطوط لکھتی ہے!
ذہنی، اخلاقی، اور روحانی طور پر پُختہ ہونا
۱۸. بائبل وقتوں میں، والدین اپنے بچوں کی ذہنی اور اخلاقی تعلیم کی دیکھبھال کیسے کرتے تھے؟
۱۸ تیسرا مقصد یہ ہے کہ متوازن تعلیم کو ذہنی اور اخلاقی طور پر پُختہ ہو نے کیلئے ہماری مدد کرنی چاہئے۔ بائبل وقتوں میں، بچوں کی ذہنی اور اخلاقی تعلیم کو والدین کی بنیادی ذمہداریوں میں سے ایک خیال کِیا جاتا تھا۔ بچوں کو نہ صرف لکھنا اور پڑھنا سکھایا جاتا بلکہ خدا کی شریعت کی تعلیم دینے کو زیادہ اہم خیال کِیا جاتا تھا جو اُنکی زندگی کی تمامتر کارگزاریوں پر اثرانداز ہوتی تھی۔ پس، تعلیم میں مذہبی فرائض، شادی پر اثرانداز ہونے والے اصولوں، خاندانی رشتوں، اور جنسی اخلاقیات، نیز اپنے ساتھی انسانوں کے سلسلے میں اُنکے فرائض کی بابت ہدایت اور رہنمائی شامل تھی۔ ایسی تعلیم نے نہ صرف ذہنی اور اخلاقی بلکہ روحانی طور پر بھی پُختہ ہونے کیلئے اُنکی مدد کی۔—استثنا ۶:۴-۹، ۲۱،۲۰؛ ۱۱:۱۸-۲۱
۱۹. ہم وہ تعلیم کہاں سے حاصل کر سکتے ہیں جو زندگی بسر کرنے کے لئے ہمیں بہترین اخلاقی اقدار فراہم کرتی ہے اور جو روحانی اعتبار سے ترقی کرنے کیلئے ہماری مدد کرتی ہے؟
۱۹ آجکل کی بابت کیا ہے؟ ایک اچھی دُنیاوی تعلیم ضروری ہے۔ یہ ذہنی طور پر پُختہ ہونے کیلئے ہماری مدد کرتی ہے۔ لیکن ہم ایسی تعلیم کہاں سے حاصل کرنے کی اُمید رکھ سکتے ہیں جو بہترین اخلاقی اقدار کی نشاندہی کریگی جنکی مطابقت میں ہم زندگی بسر کرینگے اور جو روحانی طور پر پُختہ ہونے کیلئے ہماری مدد کریگی؟ مسیحی کلیسیا کے اندر، ہم ایک تھیوکریٹک تعلیمی پروگرام تک رسائی رکھتے ہیں جو زمین پر کسی اَور جگہ دستیاب نہیں ہے۔ بائبل اور بائبل پر مبنی مطبوعات کے اپنے ذاتی مطالعے کے ذریعے، نیز کلیسیائی اجلاسوں، اسمبلیوں، اور کنونشنوں سے ہم اس بیشقیمت، مسلسل تعلیم—الہٰی تعلیم—کو مُفت حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ ہمیں کیا سکھاتی ہے؟
۲۰. الہٰی تعلیم ہمیں کیا سکھاتی ہے، اور کیا نتائج حاصل ہوتے ہیں؟
۲۰ جب ہم بائبل کا مطالعہ کرنا شروع کرتے ہیں تو ہم بنیادی صحیفائی تعلیمات، ’ابتدائی عقائد‘ سیکھتے ہیں۔ (عبرانیوں ۶:۱) جب ہم تعلیم حاصل کرنا جاری رکھتے ہیں تو ہم ”سخت غذا“—یعنی گہری سچائیاں حاصل کرتے ہیں۔ (عبرانیوں ۵:۱۴) تاہم، اس سے بھی بڑھکر، ہم خدائی اصول سیکھتے ہیں جو ہمیں ویسے ہی زندگی بسر کرنا سکھاتے ہیں جیسے خدا چاہتا ہے کہ ہم بسر کریں۔ مثال کے طور پر، ہم ایسی عادات اور کاموں سے بچنا سیکھتے ہیں جو ’جسم کو آلودہ کرتے ہیں‘ اور دوسروں کی ذات اور جائداد کیلئے اور اختیار کیلئے عزتواحترام دکھانا سیکھتے ہیں۔ (۲-کرنتھیوں ۷:۱؛ ططس ۳:۱، ۲؛ عبرانیوں ۱۳:۴) علاوہازیں، ہم دیانتدار اور اپنے کام میں محنتی ہونے کی اہمیت اور جنسی اخلاقیات کی بابت بائبل احکام کے مطابق زندگی بسر کرنے کی قدروقیمت کو سمجھنے لگتے ہیں۔ (۱-کرنتھیوں ۶:۹، ۱۰؛ افسیوں ۴:۲۸) جب ہم اپنی زندگیوں میں ان اصولوں کا اطلاق کرنے میں ترقی کرتے ہیں تو ہم روحانی طور پر پُختہ ہوتے ہیں، اور خدا کیساتھ ہمارا رشتہ گہرا ہو جاتا ہے۔ مزیدبرآں، خواہ ہم کہیں بھی رہتے ہوں، ہمارا خداپرستانہ چالچلن ہمیں اچھے شہری بناتا ہے۔ اور یہ الہٰی تعلیم کے مآخذ—یہوؔواہ خدا—کی حمدوستائش کرنے کیلئے دوسروں کو تحریک دے سکتا ہے۔—۱-پطرس ۲:۱۲۔
روزمرّہ زندگی کیلئے عملی تربیت
۲۱. بائبل وقتوں میں بچے کونسی عملی تربیت حاصل کرتے تھے؟
۲۱ متوازن تعلیم کا چوتھا مقصد کسی شخص کو روزمرّہ زندگی کیلئے درکار عملی تربیت فراہم کرنا ہے۔ بائبل وقتوں میں والدین کی طرف سے تعلیم میں عملی تربیت شامل تھی۔ لڑکیوں کو گھریلو ہنر سکھائے جاتے تھے۔ امثال کا آخری باب ظاہر کرتا ہے کہ یہ بہت زیادہ اور مختلف ہونگے۔ پس، لڑکیاں دھاگہ کاتنے، کپڑا بُننے اور کھانا پکانے اور عام گھریلو کامکاج کی دیکھبھال کرنے، کاروبار کرنے، اور غیرمنقولہ جائداد کا کاروبار کرنے کیلئے بالکل تیار ہوتی تھیں۔ لڑکوں کو عام طور پر اُنکے والدوں کا دُنیاوی پیشہ، کھیتیباڑی یا کوئی دستکاری یا ہنر سکھایا جاتا تھا۔ یسوؔع نے اپنے پرورش کرنے والے باپ، یوؔسف سے بڑھئی کا کام سیکھا؛ لہٰذا، اُسے نہ صرف ”بڑھئی کا بیٹا“ ہی بلکہ ”بڑھئی“ بھی کہا جاتا تھا۔—متی ۱۳:۵۵؛ مرقس ۶:۳۔
۲۲، ۲۳. (ا) تعلیم کو کس چیز کے لئے بچوں کو تیار کرنا چاہئے؟ (ب) جب یہ ضروری دکھائی دے تو مزید تعلیم کا انتخاب کرنے میں ہمارا مؤقف کیا ہونا چاہئے؟
۲۲ آجکل بھی، خوب متوازن تعلیم میں کسی نہ کسی دن خاندان کی ضروریات کی دیکھبھال کرنے کیلئے تیاری شامل ہے۔ ۱-تیمتھیس ۵:۸ میں پائے جانے والے پولسؔ کے الفاظ ظاہر کرتے ہیں کہ اپنے خاندان کی کفالت کرنا ایک مُقدس فریضہ ہے۔ اُس نے لکھا: ”اگر کوئی اپنوں اور خاص کر اپنے گھرانے کی خبرگیری نہ کرے تو ایمان کا منکر اور بےایمان سے بدتر ہے۔“ لہٰذا، تعلیم کو ایسی ذمہداریوں کیلئے بچوں کو تیار کرنا چاہئے جو وہ زندگی میں اُٹھائینگے اور معاشرے کے کارآمد افراد بننے کیلئے اُنہیں تیار بھی کرنا چاہئے۔
۲۳ ہمیں کتنی دُنیاوی تعلیم حاصل کرنی چاہئے؟ یہ مختلف ممالک میں مختلف ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر کاروباری دُنیا قانونی طور پر کمازکم مطلوبہ تربیت کے علاوہ بھی تربیت کا تقاضا کرتی ہے تو ایسی اضافی پڑھائی کے متوقع فوائد اور نقصانات دونوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے، لازمی تعلیم یا تربیت کی بابت فیصلہ کرنے میں اپنے بچوں کی رہنمائی کرنا والدین کی ذمہداری ہے۔ لہٰذا، مزید تعلیم کا انتخاب کرنے کیلئے جب ایسا کرنا ضروری دکھائی دیتا ہو تو کسی کا محرک کیا ہونا چاہئے؟ یقیناً دولت، ذاتی بڑائی یا ستائش نہیں۔ (امثال ۱۵:۲۵؛ ۱-تیمتھیس ۶:۱۷) اُس سبق کو یاد رکھیں جو ہم نے یسوؔع کے نمونے سے سیکھا—تعلیم کو یہوؔواہ کی حمد کیلئے استعمال کِیا جانا چاہئے۔ اگر ہم مزید تعلیم کا انتخاب کرتے ہیں تو ہمارا محرک معقول طریقے سے اپنی کفالت کرنے کی خواہش ہونا چاہئے تاکہ ہم مسیحی خدمتگزاری میں ممکنہ طور پر پوری طرح یہوؔواہ کی خدمت کر سکیں۔—کلسیوں ۳:۲۳، ۲۴۔
۲۴. یسوؔع سے سیکھا ہوا کونسا سبق ہمیں کبھی نہیں بھولنا چاہئے؟
۲۴ اسلئے، آئیے متوازن دُنیاوی تعلیم حاصل کرنے کیلئے اپنی کوششوں میں مستعد ہوں۔ دُعا ہے کہ ہم الہٰی تعلیم کے رواں پروگرام سے بھرپور فائدہ اُٹھائیں جسے یہوؔواہ کی تنظیم کے اندر فراہم کِیا گیا ہے۔ اور دُعا ہے کہ ہم اُس بیشقیمت سبق کو فراموش نہ کریں جسے ہم نے یسوؔع مسیح سے سیکھا، بہترین تعلیمیافتہ شخص جو کبھی اس زمین پر ہو گزرا ہے—تعلیم کو اپنی بڑائی کیلئے نہیں، بلکہ سب سے عظیمترین مُعلم—یہوؔواہ خدا کی حمدوستائش کرنے کیلئے استعمال کِیا جانا چاہئے! (۹ ۰۲/۰۱ w۹۶)
آپکا جواب کیا ہے؟
▫ یسوؔع نے اپنی تعلیم کو کیسے استعمال کِیا؟
▫ اچھی طرح پڑھنا سیکھنا کیوں اہم ہے؟
▫ یہوؔواہ کی حمد کا باعث بننے کیلئے ہم لکھنے کی صلاحیت کو کیسے استعمال کر سکتے ہیں؟
▫ کیسے الہٰی تعلیم اخلاقی اور روحانی دونوں طرح سے ترقی کرنے کیلئے ہماری مدد کرتی ہے؟
▫ متوازن تعلیم میں کونسی عملی تربیت شامل ہونی چاہئے؟
[بکس]
مُعلمین کیلئے عملی مدد
۱۹۹۵/۱۹۹۶ کے دوران ”شادمان مدّاحین“ ڈسٹرکٹ کنونشنوں پر، واچ ٹاور سوسائٹی نے ایک نیا بروشر ریلیز کِیا تھا جسکا عنوان ہے جیہوواز وٹنسز اینڈ ایجوکیشن (یہوؔواہ کے گواہ اور تعلیم) یہ ۳۲ صفحات کا، مکمل رنگین بروشر بالخصوص مُعلمین کیلئے شائع کِیا گیا ہے۔ اب تک ۵۸ زبانوں میں اسکا ترجمہ ہو چکا ہے۔
بروشر مُعلمین کیلئے کیوں؟ کیونکہ یہ اُن طالبعلموں کے اعتقادات کو بہتر طور پر سمجھنے میں اُنکی مدد کرتا ہے جو یہوؔواہ کے گواہوں کے بچے ہیں۔ بروشر میں کیا کچھ شامل ہے؟ ایک واضح اور مثبت انداز میں، یہ مزید تعلیم، جنمدن، اور کرسمس، اور جھنڈے کو سلامی دینے کی طرح کے معاملات پر ہمارے نظریات کی وضاحت کرتا ہے۔ بروشر مُعلمین کو اس بات کا بھی یقین دلاتا ہے کہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے سکول سے زیادہ فائدہ حاصل کریں اور یہ کہ ہم اپنے بچوں کی تعلیم میں فعال دلچسپی رکھتے ہوئے، مُعلمین کیساتھ خلوصدلی سے تعاون کرنا چاہتے ہیں۔
تعلیم بروشر کو کیسے استعمال کِیا جا سکتا ہے؟ چونکہ یہ مُعلمین کیلئے تیار کِیا گیا تھا، آئیے اسے اساتذہ، پرنسپل صاحبان، اور سکول کے دیگر اہلکاروں کو دیں۔ دُعا ہے کہ یہ نیا بروشر ایسے تمام مُعلمین کو ہمارے نظریات اور اعتقادات اور یہ بات سمجھنے میں مدد دے کہ بعضاوقات ہم کیوں فرق نظر آنے کے حق کا دعویٰ کرتے ہیں۔ والدین کی حوصلہافزائی کی جاتی ہے کہ اپنے بچوں کے مُعلمین کیساتھ ذاتی گفتگو کی بنیاد کے طور پر بروشر استعمال کریں۔