آپ ایک ہندو سے کیا کہیں گے؟
۱ آپ جانتے ہیں کہ اس ملک کے علاوہ مختلف ممالک میں بہت سے ہندو آباد ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جلدیابدیر خدمتگزاری کے دوران آپکی ملاقات کسی ہندو سے ہو سکتی ہے۔ اس ملاقات کے دوران آپ اُس سے کیا باتچیت کریں گے؟
۲ یہ نکات یاد رکھیں: ہندوؤں کو کامیابی سے گواہی دینے والے مشنریوں کا کہنا ہے کہ اُنہیں مؤثر گواہی دینے کیلئے ہندومت کے گہرے مطالعے کی ضرورت نہیں ہے۔ سچائی کی سادہ، موقعشناس پیشکش سے اکثر مثبت جوابیعمل حاصل ہوتا ہے۔ سب سے پہلے گھرانے کے سردار سے بات کرنے کیلئے کہیں۔ اگر اُسکا جوابیعمل سازگار ہے تو خاندان کے دیگر ممبران کو گواہی دینا آسان ہو جائے گا۔ شروع میں ہی یہ کہنے سے گریز کریں کہ جو پیغام آپ لائے ہیں وہ صاحبِخانہ کے اعتقادات سے برتر ہے یا یہ کہ آپ واحد برحق خدا یا قدیمترین مُقدس تحریروں پر بات کرنا چاہتے ہیں۔ بہتیرے ہندو بائبل کو مغربی کتاب خیال کرتے ہیں اس لئے آپ یہ وضاحت کرنے سے تعصب ختم کر سکتے ہیں کہ یہ آمریت یا ایک نسل کی دوسری نسل پر فوقیت کی حمایت نہیں کرتی ہے۔
۳ درست اوزار استعمال کریں: دو بروشر بالخصوص ہندوؤں کو ذہن میں رکھ کر تیار کئے گئے ہیں۔ ہمیں کیوں محبت اور سچائی سے خدا کی پرستش کرنی چاہئے؟ گجراتی اور پنجابی میں چھاپا گیا ہے۔ ہمارے مسائل—انہیں حل کرنے میں کون ہماری مدد کریگا؟ انڈیا کی ۱۱ اضافی زبانوں میں چھاپا گیا ہے۔ یہ دونوں انگریزی میں دستیاب ہیں۔ بروشر ”دیکھو! مَیں سب چیزوں کو نیا بنا رہا ہوں“ اور کیا خدا واقعی ہماری پرواہ کرتا ہے؟ ہندو پسمنظر رکھنے والوں کو گواہی دینے کیلئے مؤثر ثابت ہوئے ہیں۔ تقاضا بروشر اور علم کی کتاب کو بائبل مطالعے کرانے کیلئے کامیابی سے استعمال کِیا جا سکتا ہے۔
۴ مشترکہ بنیاد قائم کریں: ہندوؤں کیساتھ مشترکہ بنیاد قائم کرنا کوئی مشکل نہیں ہے۔ وہ یقین رکھتے ہیں کہ ہم ایسے دَور میں رہ رہے ہیں جب بدکاری اپنے عروج پر ہے اور یہ کہ خدا ایک بڑی تباہی کے ذریعے اسے ختم کریگا جس کے بعد صداقت کا دَور ہوگا۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کیسے یہ اعتقادات آخری ایّام، بڑی مصیبت اور آنے والی نئی دُنیا کی بابت بائبل کی تعلیمات سے منسلک کئے جا سکتے ہیں۔ بیشتر ہندو زندگی کو مسائل کا ایک سلسلہ خیال کرتے ہیں جن کا کوئی حل نہیں ہے اس لئے وہ ایسے موضوعات میں دلچسپی رکھتے ہیں جیسےکہ خاندانی زندگی، جرم اور تحفظ اور موت کے وقت کیا ہوتا ہے۔ نمونے کے طور پر دو پیشکش دی جا رہی ہیں جنہیں آپ آزما سکتے ہیں۔
۵ یہ پیشکش غالباً خاندان رکھنے والے کسی شخص کی توجہ حاصل کریگی:
▪ ”مَیں آجکل بہتیرے ممالک میں خاندانی زندگی کی بابت فکرمند لوگوں سے ملاقات کر رہا ہوں۔ آپ کے خیال میں کونسی چیز خاندان کو متحد رکھنے میں مددگار ثابت ہوگی؟ [جواب دینے دیں۔] بعض لوگ جانتے ہیں کہ ہندو وید زندگی کی بابت کیا کہتے ہیں لیکن اُنہیں اس موضوع پر بائبل کے نقطۂنظر سے اسکا موازنہ کرنے کا موقع کبھی نہیں ملا۔ مَیں کلسیوں ۳:۱۲-۱۴ سے یہ خیال آپ کے سامنے پیش کرنا چاہونگا۔“ صحیفہ پڑھنے کے بعد صاحبِخانہ کو علم کی کتاب کا ۱۵ باب دکھائیں اور کہیں: ”مجھے کچھ وقت کیلئے آپ کے ساتھ اس باب کو پڑھنے سے خوشی ہوگی۔“
۶ ایک نوجوان شخص شاید اس پیشکش سے اثرپذیر ہو:
▪ ”اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ خدا پر ایمان رکھتے ہیں۔ آپکے خیال میں ہمارے لئے خدا کا مقصد کیا ہے؟“ جواب دینے دیں۔ اسکے بعد پیدایش ۱:۲۸ پڑھیں اور کہیں: ”بہتیری جگہوں پر زمین کی آبادی حد سے زیادہ ہے اور مسائل کی بھرمار ہے۔ آپکے خیال میں کیا خالق ہمارے مسائل حل کرنے میں ہماری مدد کرنے کیلئے تیار ہے؟“ جواب سننے کے بعد ایک موزوں اشاعت کی طرف توجہ دلائیں۔
۷ مثبت نتائج سے استفادہ کریں: ایک ۲۲ سالہ ہندو آدمی مارکیٹ میں گواہی دینے والی ایک بہن کے پاس گیا اور اس سے بائبل مطالعے کی درخواست کی۔ اُس نے اُسے بتایا کہ آٹھ سال پہلے اُس نے اپنی ماں اور اُس بہن کے مابین بائبل گفتگو سنی تھی۔ اگرچہ وہ نوعِانسان کے مسائل کے لئے بائبل کے عملی جوابات سے متاثر ہؤا تھا توبھی اُس کی ماں کوئی دلچسپی نہیں رکھتی تھی اور اُس نے خود بھی محسوس کِیا کہ ابھی اپنے تیئں سچائی کی جستجو کرنے کی اُسکی عمر نہیں ہے۔ اب ایک بالغ کے طور پر وہ مزید سیکھنا چاہتا تھا۔ اس نوجوان آدمی نے کوئی وقت ضائع نہ کِیا۔ صرف ۲۳ دنوں میں ہی اُس نے علم کی کتاب کا مطالعہ ختم کر لیا اور مارکیٹ میں بہن سے ملنے کے چار مہینے بعد اُس نے بپتسمہ پانے کی درخواست کی!
۸ ایک بھائی نے ایک ہندو آدمی کیساتھ مطالعہ شروع کِیا جسے وہ ریلگاڑی میں ملا تھا۔ وہ آدمی اپنی شادی میں مشکلات کا تجربہ کر رہا تھا۔ اُسے شرابنوشی کا بھی مسئلہ درپیش تھا۔ وہ آدمی اس بات پر راضی ہو گیا کہ گواہ اُس کے گھر آئے اور خاندانی زندگی پر بائبل مشورت پیش کرے۔ بائبل کی اخلاقی تعلیمات اُسے بہت پسند آئیں اور وہ بائبل مطالعہ کرنے پر بھی راضی ہو گیا۔ وہ اپنے خاندان کیساتھ اجلاسوں پر حاضر ہونے لگا۔ بعدازاں اُنہوں نے دوستوں اور رشتہداروں کو بھی سچائی میں شریک کِیا۔ اس وقت، اُن میں سے چھ لوگ سچائی قبول کر چکے ہیں!
۹ خدا کی مرضی یہ ہے کہ ”سب آدمی نجات پائیں اور سچائی کی پہچان تک پہنچیں۔“ (۱-تیم ۲:۴) اس میں وہ مردوزن بھی شامل ہیں جو ہندومت جیسے غیرمسیحی مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔ اگر آپ کے علاقے میں ہندو رہتے ہیں تو کیوں نہ جلد ہی ان سے ملاقات کریں اور اس مضمون میں پیش کی گئی تجاویز میں سے کچھ استعمال کریں؟