اُن لوگوں کی مدد کریں جو فیالحال کتاب ”پاک صحائف کی تعلیم“ سے مطالعہ کرنے کو تیار نہیں
۱. کچھ لوگ کتاب پاک صحائف کی تعلیم لینے سے کیوں اِنکار کرتے ہیں؟
۱ یہوواہ خدا کا خادم بننے کے لیے ایک شخص کو بائبل کی تعلیمات سیکھنی چاہئیں۔ لیکن کچھ لوگوں کا تعلق مسیحی مذہب سے نہیں ہے اور اِس لیے وہ بائبل کو خدا کا کلام نہیں مانتے جبکہ دیگر خدا کے وجود کو ہی نہیں مانتے اور اِس لیے بائبل کا احترام نہیں کرتے۔ ایسے لوگ شاید کتاب پاک صحائف کی تعلیم لینے سے اِنکار کریں۔ ایسی صورت میں ہم کونسی کتابیں اور بروشر وغیرہ اِستعمال کر سکتے ہیں تاکہ یہ لوگ بائبل کی تعلیم سیکھنے کی طرف مائل ہوں؟ اِس سلسلے میں اِس مضمون میں تقریباً ۲۰ ملکوں سے تعلق رکھنے والے مبشروں نے کچھ مشورے دیے ہیں۔
۲. اگر کوئی کہتا ہے کہ وہ خدا پر ایمان نہیں رکھتا تو ہمیں کیا جاننے کی کوشش کرنی چاہیے اور کیوں؟
۲ جو لوگ خدا پر ایمان نہیں رکھتے: اگر ایک شخص کہتا ہے کہ وہ خدا پر ایمان نہیں رکھتا تو اُس سے اِس کی وجہ جاننے کا بہت فائدہ ہوتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ اِرتقا کے نظریے کو مانتا ہو یا مذہب میں پائی جانے والی ریاکاری یا ہر طرف نااِنصافی کو دیکھ کر اُس کا خدا سے ایمان اُٹھ گیا ہو یا پھر اپنے پسمنظر یا ثقافت کی وجہ سے وہ خدا پر ایمان نہ رکھتا ہو۔ شاید ایک شخص خدا کے وجود سے تو اِنکار نہیں کرتا لیکن ہو سکتا ہے کہ وہ خدا پر ایمان رکھنے کی بھی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔ بہت سے مبشروں نے دیکھا ہے کہ جب وہ ایک شخص سے یہ سوال کرتے ہیں کہ ”کیا آپ شروع سے ہی خدا پر ایمان نہیں رکھتے؟“ تو اُس شخص کو اپنے خیالات کا اِظہار کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔ جب وہ شخص بات کرتا ہے تو دھیان سے سنیں اور اُس کی بات کو بیچ میں نہ کاٹیں۔ جب ہم جان جاتے ہیں کہ ایک شخص کیوں خدا پر ایمان نہیں رکھتا تو ہمارے لیے اُسے جواب دینا آسان ہو جاتا ہے اور ہم یہ بھی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہمیں اُسے کونسی کتاب یا بروشر وغیرہ دینا چاہیے۔—امثا ۱۸:۱۳۔
۳. ہم کسی شخص اور اُس کے عقیدوں کے لیے احترام کیسے دِکھا سکتے ہیں؟
۳ جب آپ کسی شخص کو جواب دیتے ہیں تو اُسے یہ تاثر دینے سے گریز کریں کہ آپ اُس کے نظریات کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ امریکہ میں رہنے والے ایک مبشر نے کہا: ”ہر شخص کو یہ فیصلہ کرنے کا حق ہے کہ وہ کیا مانے گا اور ہمیں اِس بات کا احترام کرنا چاہیے۔ دوسروں کو غلط ثابت کرنے کی بجائے بہتر ہے کہ ہم اُن سے ایسے سوال پوچھیں جن سے اُنہیں سوچنے کا موقع ملے اور وہ خود صحیح نتیجے پر پہنچ سکیں۔“ ایک سفری نگہبان صاحبِخانہ کی بات سننے کے بعد اُسے جواب دینے کے لیے اکثر اِس طرح بات شروع کرتا ہے: ”کیا آپ نے کبھی اِس بارے میں بھی سوچا ہے کہ . . . ؟“
۴. ہم اُن لوگوں کی مدد کیسے کر سکتے ہیں جو خدا کے وجود پر شک کرتے ہیں؟
۴ ہمارے علاقے میں زیادہتر لوگ خدا پر ایمان رکھتے ہیں لیکن کچھ لوگ ایسے ہیں جو خدا کے وجود پر شک کرتے ہیں۔ پاکستان میں کچھ مبشر ایسے لوگوں کو گواہی دیتے وقت بروشر خدا کی طرف سے خوشخبری کو اِستعمال کرتے ہیں۔ پہلے صفحے پر بات کرنے کے بعد وہ صاحبِخانہ کے ساتھ اِس بروشر کے دوسرے باب ”خدا کون ہے؟“ پر بات کرتے ہیں اور پھر پہلے باب ”خوشخبری کیا ہے؟“ پر بات کرتے ہیں۔ اِن موضوعات پر بات کرنے کے بعد وہ اُس شخص کو کتاب پاک صحائف کی تعلیم پیش کرنے کے لیے کہتے ہیں: ”اگرچہ آپ خدا پر ایمان نہیں رکھتے لیکن بائبل کا مطالعہ کرنے سے آپ کو بہت فائدہ ہوگا کیونکہ اِس میں عملی رہنمائی پائی جاتی ہے۔“ امریکہ سے ایک پہلکار جو چینی زبان بولنے والے لوگوں کو گواہی دیتا ہے، کہتا ہے: ”ہمارے علاقے میں چینی لوگ بڑے شوق سے کتابیں وغیرہ پڑھتے ہیں۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہمارے دوبارہ ملنے سے پہلے ہی وہ پوری کتاب یا رسالہ وغیرہ پڑھ چکے ہوتے ہیں۔ لیکن اُن کے لیے یہ بات بہت نئی ہے کہ کسی کے ساتھ مل کر بائبل کا مطالعہ کِیا جاتا ہے۔ اِس لیے مَیں پہلی ملاقات پر اُنہیں بروشر خدا کی طرف سے خوشخبری دیتا ہوں کیونکہ اِسے اِس طرح تیار کِیا گیا ہے کہ دو لوگ مل کر اِس پر باتچیت کریں۔“ امریکہ میں چینی زبان بولنے والی کلیسیاؤں کے ایک حلقے کے نگہبان بتاتے ہیں کہ پہلی ملاقات پر کتاب پاک صحائف کی تعلیم کو پیش کِیا جا سکتا ہے لیکن بہتر ہے کہ مطالعہ شروع کرنے کے لیے پہلے باب کی بجائے دوسرے باب پر بات کی جائے جو بائبل کے بارے میں ہے۔
۵. صبر سے کام لینا کیوں ضروری ہے؟
۵ ایک شخص کو خدا پر ایمان پیدا کرنے میں وقت لگ سکتا ہے اِس لیے صبر سے کام لیں۔ شاید پہلی چند ملاقاتوں میں ہم کسی شخص کو اِس بات پر قائل نہ کر سکیں کہ خدا موجود ہے۔ لیکن ہو سکتا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھساتھ وہ شخص یہ ماننے لگے کہ شاید خدا کا وجود ہے یا شاید وہ کہے کہ وہ سمجھ سکتا ہے کہ کچھ لوگ خدا کے وجود پر کیوں ایمان رکھتے ہیں۔
۶. کچھ لوگ بائبل میں دلچسپی کیوں نہیں لیتے؟
۶ جو لوگ بائبل میں زیادہ دلچسپی نہیں لیتے یا اِس پر بھروسا نہیں کرتے: ہو سکتا ہے کہ ایک شخص خدا کے وجود کو تو مانتا ہو لیکن بائبل کی تعلیمات میں دلچسپی نہ لیتا ہو کیونکہ اُسے لگتا ہے کہ بائبل خدا کا کلام نہیں ہے۔ شاید وہ کسی مسیحی فرقے سے تعلق نہیں رکھتا اور اُسے لگتا ہے کہ بائبل صرف مسیحیوں کے لیے ہے۔ یا شاید وہ کسی مسیحی فرقے سے تو تعلق رکھتا ہے لیکن اِتنا مذہبی نہیں ہے اور اُسے لگتا ہے کہ بائبل کی تعلیمات سے اُسے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ ہم کیا کر سکتے ہیں تاکہ ایسے لوگ بائبل میں دلچسپی لیں اور آخرکار کتاب پاک صحائف کی تعلیم سے اِس کا مطالعہ کریں؟
۷. لوگوں میں بائبل کے لیے دلچسپی پیدا کرنے کا ایک مؤثر طریقہ کیا ہے؟
۷ یونان سے برانچ کے دفتر نے لکھا: ”جو لوگ بائبل میں دلچسپی نہیں لیتے، اُن کی مدد کرنے کا سب سے اچھا طریقہ یہ ہے کہ اُنہیں بائبل کھول کر دِکھایا جائے کہ اِس میں کیا لکھا ہے۔ بہت سے مبشروں نے دیکھا ہے کہ اُن کی اپنی بات کی نسبت خدا کے کلام کا لوگوں پر گہرا اثر ہوتا ہے۔ (عبر ۴:۱۲) بائبل میں خدا کا نام پڑھ کر بہت سے لوگوں میں یہ جاننے کی خواہش پیدا ہوئی کہ اِس میں کیا بتایا گیا ہے۔“ بھارت سے برانچ کے دفتر نے لکھا: ”بہت سے ہندو زندگی اور موت کے بارے میں سچائی جاننے کے بعد بائبل کی تعلیمات میں دلچسپی لینے لگے ہیں۔ اِس کے علاوہ جب اُنہیں بائبل سے بتایا جاتا ہے کہ خدا کے وعدے کے مطابق نئی دُنیا میں ذاتپات کی بِنا پر فرق نہیں کِیا جائے گا تو وہ بائبل کی تعلیمات سیکھنے کی طرف مائل ہوتے ہیں۔“ جب مبشر مقامی مسائل پر لوگوں کے ساتھ بات کرتے ہیں تو اکثر اُنہیں بائبل سے لوگوں کو یہ بتانے کا موقع مل جاتا ہے کہ خدا کی بادشاہت سب مسئلوں کو حل کر دے گی۔
۸. ہم اُن لوگوں سے کیا کہہ سکتے ہیں جو مسیحی فرقوں کی وجہ سے بائبل کے بارے میں منفی رائے رکھتے ہیں؟
۸ اگر ایک شخص مسیحی فرقوں کی وجہ سے بائبل کے بارے میں منفی رائے رکھتا ہے تو اُسے بتائیں کہ مسیحی فرقے بائبل کی تعلیم کو توڑمروڑ کر پیش کرتے ہیں۔ بھارت سے برانچ کے دفتر نے لکھا: ”بعض اوقات ہمیں لوگوں کو بتانا پڑتا ہے کہ بائبل مسیحی فرقوں کی جاگیر نہیں ہے۔“ برانچ کے دفتر نے یہ بھی بتایا کہ اکثر جب ہندوؤں کو بروشر وٹ اِز دی پرپز آف لائف—ہاؤ کین یو فائنڈ اِٹ؟ کے چوتھے حصے میں دی گئی معلومات دِکھائی جاتی ہے تو وہ بہت متاثر ہوتے ہیں کیونکہ اِس حصے میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح سے مسیحی فرقوں نے خدا کے کلام میں ملاوٹ کرنے اور اِسے ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔ برازیل میں رہنے والا ایک پہلکار لوگوں سے کہتا ہے: ”کیوں نہ آپ یہ جاننے کی کوشش کریں کہ بائبل میں اصل میں کیا بتایا گیا ہے؟ بہت سے لوگ کُھلے ذہن کے ساتھ ایسا کر رہے ہیں اور اُن پر ہمارے مذہب میں شامل ہونے کا دباؤ نہیں ہے۔ آپ یہ دیکھ کر حیران ہوں گے کہ بائبل میں دراصل کیا بتایا گیا ہے۔“
۹. اگر کوئی شخص شروعشروع میں بائبل کی تعلیمات میں دلچسپی نہیں لیتا تو ہمیں ہمت کیوں نہیں ہارنی چاہیے؟
۹ یہوواہ خدا ہر شخص کا دل دیکھتا ہے۔ (۱-سمو ۱۶:۷؛ امثا ۲۱:۲) وہ اُن لوگوں کو سچائی کی طرف کھینچتا ہے جو سچے دل سے اِس کی تلاش کرتے ہیں۔ (یوح ۶:۴۴) اِن میں سے بہت سے لوگوں نے پہلے کبھی خدا کے بارے میں نہیں سیکھا تھا یا اُن کو بائبل سے تعلیم حاصل کرنے کا موقع نہیں ملا تھا۔ مُنادی کے کام کے ذریعے ایسے لوگوں کو ’نجات پانے اور سچائی کی پہچان تک پہنچنے‘ کا موقع ملتا ہے۔ (۱-تیم ۲:۴) اِس لیے اگر کوئی شخص شروعشروع میں بائبل کی تعلیمات میں دلچسپی نہیں لیتا تو ہمت نہ ہاریں۔ اُنہیں ہماری کوئی ایسی کتاب یا بروشر وغیرہ دیں جو اُن میں بائبل کی تعلیم حاصل کرنے کا شوق پیدا کرے۔ ہو سکتا ہے کہ اِس طرح ہم اُس شخص کو بائبل کا مطالعہ کرنے کے اہم ذریعے یعنی کتاب پاک صحائف کی تعلیم حاصل کریں سے سچائی سکھا سکیں۔
[صفحہ 4 پر بکس]
اگر صاحبِخانہ کہتا ہے کہ وہ خدا پر ایمان نہیں رکھتا تو یہ کریں:
• اُس کی وجہ جاننے کے لیے اُس سے پوچھیں: ”کیا آپ شروع سے ہی خدا پر ایمان نہیں رکھتے؟“
• اگر صاحبِخانہ خدا کے وجود پر شک کرتا ہے تو اُس کے ساتھ بروشر خدا کی طرف سے خوشخبری کے باب ۲ اور ۵ پر بات کریں۔
• اگر وہ اِرتقا کے نظریے کو مانتا ہے تو اِن مطبوعات کو اِستعمال کرنا فائدہمند ہو سکتا ہے:
جاگو! میں مضامین کا سلسلہ: ”کیا یہ خالق کی کاریگری ہے؟“
ویڈیو دی ونڈرز آف کریئیشن ریویل گاڈز گلوری۔
بروشر اے سیٹیسفائینگ لائف—ہاؤ ٹو اٹین اِٹ کا چوتھا حصہ؛ واز لائف کریایٹڈ؟ اور دی اوریجن آف لائف—فائیو کوسچنز ورتھ آسکنگ۔
• اگر نااِنصافی اور مصیبتوں کی وجہ سے اُس کا خدا سے ایمان اُٹھ گیا ہے تو خوشخبری بروشر کے یہ حصے فائدہمند ثابت ہو سکتے ہیں:
آٹھویں باب کے یہ حصے: ”بُرائی دُنیا میں کیسے آئی؟“ اور ”خدا نے اب تک بُرائی کو کیوں نہیں روکا؟“
دوسرے باب کا یہ حصہ: ”کیا یہوواہ خدا کو ہماری فکر ہے؟“
• جیسے ہی صاحبِخانہ اِس بات پر تھوڑا سا قائل ہو جائے کہ خدا موجود ہے اور اُسے اِنسانوں کی فکر ہے تو اُس کے ساتھ کتاب پاک صحائف کی تعلیم سے بات کریں۔ بہتر ہوگا کہ مطالعہ کتاب کے دوسرے باب سے یا پھر صاحبِخانہ کی دلچسپی کے کسی موضوع سے شروع کِیا جائے۔
[صفحہ 5 پر بکس]
اگر صاحبِخانہ بائبل پر ایمان نہیں رکھتا تو یہ کریں:
• بروشر خدا کی طرف سے خوشخبری کے پہلے اور تیسرے باب پر غور کریں۔
• اُسے بتائیں کہ بائبل کے اصولوں پر چلنے کے کیا فائدے ہیں۔ اِس سلسلے میں آپ اِن مطبوعات کو اِستعمال کر سکتے ہیں:
جاگو! میں مضامین کا سلسلہ: ”گھریلو زندگی کو خوشگوار بنائیں۔“
بروشر خدا کی طرف سے خوشخبری کے باب ۹ اور ۱۱؛ بروشر سب لوگوں کے لئے ایک کتاب کے صفحہ ۲۲-۲۶۔
مسلمانوں کے لیے بروشر حقیقی ایمان—خوشگوار زندگی کی بنیاد کے حصہ ۳ کو اِستعمال کریں۔
اگر آپ کسی ایسے علاقے میں مُنادی کر رہے ہیں جہاں لوگ بائبل کے بارے میں تعصب رکھتے ہیں تو بہتر ہوگا کہ آپ اُنہیں یہ نہ بتائیں کہ آپ کا پیغام بائبل پر مبنی ہے۔ اچھا ہے کہ آپ اُس وقت تک ایسا نہ کریں جب تک آپ اُن کے ساتھ چند ایک دوبارہ ملاقاتیں نہیں کر لیتے۔
• اُسے بتائیں کہ بائبل میں درج پیشگوئیاں کیسے پوری ہوئیں ہیں۔ اِس کے لیے آپ اِس حوالے کو اِستعمال کر سکتے ہیں:
بروشر سب لوگوں کے لئے ایک کتاب کے صفحہ ۲۷-۲۹۔
• جب ایک شخص مختلف موضوعات کے بارے میں بائبل سے جواب جاننا چاہتا ہے تو اُس کے ساتھ کتاب پاک صحائف کی تعلیم سے بات کریں۔
[صفحہ 6 پر بکس]
اگر صاحبِخانہ کہتا ہے: ”مَیں خدا پر ایمان نہیں رکھتا“ تو شاید آپ اُس سے کہہ سکتے ہیں:
• ”کیا مَیں آپ کو مختصراً بتا سکتا ہوں کہ مَیں کس وجہ سے خالق کے وجود پر یقین رکھنے لگا؟“ اِس کے بعد اُس کے ساتھ کتاب ریزننگ کے صفحہ ۸۴-۸۶ پر دیے گئے نکات پر بات کریں یا اُسے ہماری کوئی ایسی کتاب یا بروشر وغیرہ دینے کا بندوبست کریں جسے پڑھ کر آپ متاثر ہوئے تھے۔
• ”اگر کوئی خدا ہوتا تو آپ کے خیال میں اُس میں کونسی خوبیاں ہونی چاہیے تھیں؟“ بہت سے صاحبِخانہ اِس سوال کے جواب میں کہتے ہیں کہ وہ ایسے خدا کی طرف کھنچے چلے جاتے جو اِنسانوں سے پیار کرتا، اِنصاف کرتا، رحم کرتا اور کسی کی طرفداری نہ کرتا۔ اگر کوئی شخص ایسا کہتا ہے تو بائبل سے اُسے دِکھائیں کہ خدا میں یہ خوبیاں ہیں۔ (شاید آپ اُس شخص کے ساتھ کتاب پاک صحائف کی تعلیم کے باب ۱کے پیراگراف ۶ سے شروع ہونے والی معلومات پر بات کر سکتے ہیں۔)
اگر صاحبِخانہ کہتا ہے کہ ”مَیں بائبل پر ایمان نہیں رکھتا“ تو شاید آپ اُس سے کہہ سکتے ہیں:
• ”آپ کی طرح اَور بھی بہت سے لوگ ہیں جو بائبل پر ایمان نہیں رکھتے۔ بعض لوگ بائبل پر اِس لیے ایمان نہیں رکھتے کیونکہ اُن کو لگتا ہے کہ یہ سائنسی لحاظ سے درست نہیں ہے یا اِس میں لکھے اصولوں پر عمل کرنے کا آج کے زمانے میں کوئی فائدہ نہیں ہے۔ لیکن کیا آپ نے کبھی بائبل کو پڑھ کر دیکھا ہے؟ [جواب دینے دیں۔ پھر بروشر سب لوگوں کے لئے ایک کتاب کے صفحہ ۳ پر دی گئی معلومات دِکھائیں اور بروشر پیش کریں۔] بہت سے لوگ اِس لیے بائبل پر ایمان نہیں رکھتے کیونکہ مذہبی رہنماؤں نے اِس کی تعلیمات کو غلط طریقے سے پیش کِیا ہے۔ کیا ممکن ہے کہ ہم اگلی دفعہ اِس بروشر کے صفحہ ۴ اور ۵ پر دی گئی معلومات پر بات کریں؟“
• ”بہت سے لوگ آپ کی طرح ہی سوچتے ہیں۔ لیکن کیا مَیں آپ کو بائبل کے بارے میں کچھ ایسی باتیں بتا سکتا ہوں جن سے مَیں بہت متاثر ہوا؟ [ایوب ۲۶:۷ یا یسعیاہ ۴۰:۲۲ کو پڑھیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ بائبل سائنسی لحاظ سے درست ہے۔] بائبل میں گھریلو زندگی کو خوشگوار بنانے کے سلسلے میں بھی بہت سے عمدہ مشورے دیے گئے ہیں۔ کیا اگلی بار مَیں آپ کو اِن میں سے کوئی ایک دو مشورہ دِکھا سکتا ہوں؟“
• ”مجھے اچھا لگا کہ آپ نے اپنے خیالات کا اِظہار کِیا۔ لیکن اگر خدا نے اِنسانوں کے لیے کوئی کتاب لکھی ہوتی تو آپ کے خیال میں اِس میں کونسی کی باتیں شامل ہوتیں؟“ پھر اُس شخص کو بائبل سے کوئی ایسی آیت دِکھائیں جو اُس کی بات کے مطابق ہو۔