آپ ایک بدھسٹ سے کیا کہینگے؟
۱ کئی ممالک میں بپتسمہ پانے والوں کی نصف سے زیادہ تعداد بدھسٹ پسمنظر سے تعلق رکھتی ہے۔ کیا چیز ان لوگوں کو سچائی کی طرف مائل کر رہی ہے؟ آپ ایک بدھسٹ کو کیسے خوشخبری پیش کر سکتے ہیں؟
۲ حقیقی دلچسپی ظاہر کریں: بہتیرے سابقہ بدھسٹ کہتے ہیں کہ بہت زیادہ دلائل نے اُنہیں سچائی کی طرف مائل نہیں کِیا تھا۔ اِس کے برعکس، وہ اُن کے لئے دکھائی جانے والی حقیقی ذاتی دلچسپی سے متاثر ہوئے تھے۔ ریاستہائے متحدہ میں رہنے والی ایک ایشیائی خاتون ملاقات کرنے والی ایک بہن کے دوستانہ رویے سے اسقدر متاثر ہوئی کہ وہ مطالعہ کرنے کے لئے راضی ہو گئی۔ وہ اچھی انگریزی تو نہیں بول سکتی تھی، تاہم بہن بڑی متحمل تھی۔ جب خاتون تھکی ہوتی یا مطالعہ کرنے کے قابل نہیں ہوتی تھی تو بہن محض ایک دوستانہ ملاقات کرتی اور اگلے سیشن کا بندوبست بنا لیتی تھی۔ انجامکار اُس خاتون نے اپنے دو بیٹوں اور عمررسیدہ ماں سمیت بپتسمہ لیا۔ اس کے بعد وہ اپنے آبائی وطن لوٹ گئی اور سچائی سیکھنے میں دوسرے لوگوں کی مدد کرنے لگی۔ اُس کا ایک بیٹا اب برانچ دفتر میں خدمت انجام دیتا ہے۔ ’انسان کے لئے یہوواہ جیسی مہربانی اور اُلفت‘ دکھانا عمدہ برکات پر منتج ہوا!—طط ۳:۴۔
۳ بدھسٹ نظریہ: عموماً بدھسٹ دیگر نظریات کے سلسلے میں رواداری سے کام لیتے ہیں تاہم وہ کسی مخصوص عقیدے کی پیروی کرنا ضروری نہیں سمجھتے۔ لہٰذا اُن کے انفرادی اعتقادات مختلف ہوتے ہیں۔ بدھسٹ کے ایک مکتبِفکر کا عام نظریہ ہے کہ زندگی تکالیف سے معمور ہے، تاہم روشنخیالی کے ذریعے، ایک شخص تکلیفدہ زندگی میں باربار جنم لینے کے مسلسل چکر کو روک سکتا ہے۔ اس مسلسل چکر سے مُکتی حاصل کرنے کے سلسلے میں نظریہ ہے کہ ایک شخص کا نروان حاصل کرنا اشد ضروری ہے جو ایک ناقابلِبیان حالت ہے کیونکہ یہ کوئی جگہ یا کیفیت نہیں بلکہ دُکھدرد اور بدکاری کی نابودی کا نام ہے۔ (مرنے پر ہمارے ساتھ کیا واقع ہوتا ہے؟ کے صفحات ۹-۱۰ کو دیکھیں۔) اس سے ہمیں کیا پتا چلتا ہے؟ مطلب یہ کہ بدھسٹ فلسفے کے سلسلے میں لوگوں سے بحثمباحثے میں اُلجھنا بیکار ہوگا۔ اسکی بجائے، عام مسائل پر گفتگو کریں جو سب لوگوں کیلئے تشویش کا باعث ہیں۔
۴ مشترکہ دلچسپیوں پر زور دیں: بدھسٹ عموماً زمین پر زندگی کو تکالیف سے پُر خیال کرتے ہیں، لہٰذا زمین پر ہمیشہ کی زندگی کا تصور اُن کیلئے شاید بعیدالقیاس بات ہو۔ تاہم، ہم سب خوشحال خاندانی زندگی، تکالیف کے خاتمے اور زندگی کے مقصد کو جاننے کی خواہش رکھتے ہیں۔ غور کریں کہ کیسے ان مشترکہ ضروریات کو نمایاں کِیا جا سکتا ہے۔
۵ آپ اس تعارف کو آزما سکتے ہیں:
▪ ”آجکل ہم ایک ایسی دُنیا میں رہتے ہیں جہاں بہتیرے معصوم لوگ دُکھ اُٹھاتے ہیں۔ آپکے خیال میں سب لوگوں کیلئے دُکھدرد اور تکلیف کا خاتمہ کرنے کے لئے کس چیز کی ضرورت ہے؟ [جواب دینے دیں۔] ماضی کا ایک وعدہ ہے جو میرے لئے تو نہایت تسلیبخش ثابت ہوا ہے۔ [پڑھیں مکاشفہ ۲۱:۴۔] بیشک یہ وقت ابھی تک نہیں آیا ہے، تاہم جب ایسا وقت آئیگا تو کیا ہم اسے دیکھنا نہیں چاہینگے؟“ اسکے بعد ایسی اشاعت پیش کریں جو یہ بیان کرتی ہے کہ تمام تکالیف کا خاتمہ کیسے ہوگا۔
۶ ایک عمررسیدہ شخص سے آپ یوں کہہ سکتے ہیں:
▪ ”شاید آپ بھی میری طرح دورِحاضر کے تذلیلکُن نظریات اور بچوں پر انکے اثر سے پریشان ہیں۔ نوجوان لوگوں میں اتنی زیادہ بداخلاقی کیوں پائی جاتی ہے؟ [جواب دینے دیں۔] کیا آپ جانتے ہیں کہ ایک کتاب میں اس کی بابت پہلے ہی بتا دیا گیا تھا جسکی تحریر مسلمان، مسیحی اور ہندو مذاہب کے آغاز سے بھی بہت پہلے شروع ہو گئی تھی؟ [پڑھیں ۲-تیمتھیس ۳:۱-۳۔] غور کریں کہ علم میں مسلسل ترقی کے باوجود یہ حالتیں جوں کی توں ہیں۔ [۷ آیت کو بھی پڑھیں۔] اس اشاعت نے مجھے اُس سچائی کو سمجھنے میں مدد دی جسے بیشتر لوگوں نے کبھی نہیں سیکھا۔ کیا آپ اسے پڑھنا پسند کرینگے؟“ موزوں کتاب یا بروشر پیش کریں۔
۷ بدھسٹ بائبل کا ایک مُقدس کتاب کے طور پر عموماً احترام کرتے ہیں۔ لہٰذا براہِراست اس سے پڑھیں۔ (عبر ۴:۱۲) اگر وہ شخص مغربی ثقافت کے اثر سے نالاں ہے تو اُسے بتائیں کہ تمام بائبلنویس ایشیا سے تعلق رکھتے تھے۔
۸ کونسی مطبوعات مؤثر ثابت ہوئی ہیں؟ بالخصوص بدھسٹ کے لئے اشتہار وِل سفرنگ ایور اینڈ؟ چینی، جاپانی، سِنہالیز اور تھائی زبانوں میں شائع کِیا گیا ہے۔ مزیدبرآں، بہتیرے پبلشروں نے ذیل میں درج لٹریچر کو بڑی کامیابی کے ساتھ استعمال کِیا ہے: کتب مینکائنڈز سرچ فار گاڈ، خاندانی خوشی کا راز اور کوسچنز ینگ پیپل آسک—آنسرز دیٹ ورک؛ بروشر ”دیکھو! مَیں سب چیزوں کو نیا بنا رہا ہوں“ نیز واٹ از دا پرپز آف لائف—ہاؤ کین یو فائنڈ اَٹ؟؛ اگر بادشاہتی خبر نمبر ۳۵، کیا سب لوگ کبھی ایک دوسرے سے محبت رکھینگے؟ ابھی تک دستیاب ہے تو اِسے استعمال کِیا جا سکتا ہے۔ بیشتر بدھسٹ جو اب سچائی سیکھ رہے ہیں وہ پہلے تقاضا بروشر اور اسکے بعد علم کی کتاب سے مطالعہ کرتے ہیں۔
۹ اگرچہ یہ بتایا جاتا ہے کہ اتھینے میں پولس کی منادی سے کوئی ۴۰۰ سال قبل بدھسٹ مشنری وہاں آئے تھے توبھی اِسکی بابت وثوق سے نہیں کہا جا سکتا کہ آیا وہ کبھی بدھسٹ نظریہ رکھنے والے کسی شخص سے ملا تھا۔ تاہم، ہم جانتے ہیں کہ پولس نے ہر قسم کے لوگوں کو گواہی دینے کی بابت کیسا محسوس کِیا۔ اُس نے خود کو ”سب کا غلام“ بنا دیا تاکہ وہ ”زیادہ لوگوں کو کھینچ“ لائے۔ (۱-کر ۹:۱۹-۲۳) جب ہم ہر شخص کو گواہی دیتے ہیں تو ہم بھی لوگوں میں ذاتی دلچسپی دکھانے اور اس اُمید پر زور دینے سے جو ہم سب کے پاس ہے ایسا ہی کر سکتے ہیں۔