ہمیشہ یہوؔواہ کی حمد کریں
۱ بعض کارگزاریاں اتنی اہم ہیں کہ وہ ہمیشہ ہماری توجہ کی مستحق ہوتی ہیں۔ ان میں ہم کھانے، سانس لینے، اور سونے کو شامل کرتے ہیں۔ اگر ہمیں خود کو جسمانی طور پر زندہ رکھنا ہے تو یہ اشد ضروری ہیں۔ رسول پولسؔ نے منادی کو اسی زمرے میں رکھا جب اُس نے تاکید کی: ”پس ہم . . . حمد کی قربانی . . . خدا کے لئے ہر وقت چڑھایا کریں۔“ (عبرانیوں ۱۳:۱۵) لہٰذا، یہوؔواہ کی حمد کرنا بھی ہماری مستقل توجہ کا مستحق ہے۔ یہ ایک ایسی چیز ہے جسے اپنے آسمانی باپ کی حمد کرتے ہوئے ہمیں ہر روز کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔
۲ جب دوسرے لوگوں نے یسوؔع کی توجہ کہیں اَور لگانے کی کوشش کی تو اُس نے جواب دیا: ”مجھے خدا کی بادشاہی کی خوشخبری سنانا ضرور ہے۔“ (لوقا ۴:۴۳) اپنی ساڑھے تینتیس سالہ خدمتگزاری کے دوران، اُس نے ہر روز جو بھی کام کِیا وہ کسی نہ کسی طرح براہِراست خدا کو جلال دینے کیساتھ منسلک تھا۔ ہم جانتے ہیں کہ پولسؔ نے اُس خیال کے پیشِنظر ایسا ہی محسوس کِیا تھا جسکا اُس نے ۱-کرنتھیوں ۹:۱۶ میں اظہار کِیا: ”مجھ پر افسوس ہے اگر خوشخبری نہ سناؤں۔“ دیگر وفادار مسیحیوں کی حوصلہافزائی کی گئی تھی کہ دوسرے لوگوں کے سامنے اپنی اُمید کا دفاع کرنے کیلئے ہمیشہ تیار رہیں۔ (۱-پطرس ۳:۱۵) آجکل ہزاروں سرگرم پائنیر اور لاکھوں کلیسیائی پبلشر ایسی عمدہ مثالوں کی تقلید کرنے کیلئے سخت کوشش کرتے ہیں۔
۳ جب ہم اپنے تقلیدی کردار یعنی یسوؔع مسیح کے ذریعے سارے دل سے دکھائے جانے والے جوش پر غور کرتے ہیں تو ہم اُسکے نقشِقدم کی پوری طرح پیروی کرنے کی تحریک پاتے ہیں۔ (۱-پطرس ۲:۲۱) بعضاوقات جب ہمیں روزمرّہ زندگی کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو ہم بےحوصلہ ہو سکتے ہیں۔ جب ہم کُلوقتی دُنیاوی ملازمت کرتے ہیں تو ہم یہوؔواہ کی حمد کرنے کے مواقع سے روزانہ کیسے فائدہ اُٹھا سکتے ہیں؟ ہم خاندانی ذمہداریوں سے پہلوتہی نہیں کر سکتے جو ہمارے کافی وقت کا تقاضا کرتی ہیں۔ زیادہتر نوجوان روزانہ کی پڑھائی میں مشغول ہوتے ہیں۔ بعض شاید محسوس کریں کہ ہر روز اعلانیہ طور پر یہوؔواہ کی حمد کرنا ناممکن ہے۔ کبھیکبھار، بعض شاید کسی بھی طریقے سے خوشخبری سنائے بغیر ہی پورا مہینہ گزر جانے دیں۔
۴ یرؔمیاہ ایسا شخص تھا جو چپ نہیں رہ سکتا تھا۔ جب وہ تھوڑے عرصے کیلئے یہوؔواہ کے نام سے کلام کرنے میں قاصر رہا تو اُس نے اپنے اندر ایک ناقابلِبرداشت جلتی ہوئی آگ کو محسوس کِیا۔ (یرمیاہ ۲۰:۹) جو چیز سخت مصیبت دکھائی دی اُسکے پیشِنظر، یرؔمیاہ نے دوسروں کو یہوؔواہ کا پیغام سنانے کیلئے ہمیشہ کوئی نہ کوئی طریقہ تلاش کر لیا۔ کیا ہم اُس کے جرأت کے نمونے کی نقل کر سکتے اور ہر روز اپنے خالق کی حمد کرنے کیلئے مواقع کی تلاش میں ثابتقدم رہ سکتے ہیں؟
۵ یہوؔواہ کی بابت ہماری باتچیت کو رسمی یعنی کلیسیائی علاقے میں دیگر پبلشروں کے ساتھ گواہی کے لئے پہلے سے طےشُدہ اوقات تک ہی محدود نہیں ہونا چاہئے۔ ہمیں صرف ایک سامع کی ضرورت ہے۔ ہم ہر روز لوگوں سے لگاتار ملتے رہتے ہیں—وہ ہمارے گھر آتے ہیں، ہم ملازمت پر اُن کے ساتھ کام کرتے ہیں، ہم سُپرمارکیٹ میں اُن کے ساتھ قطار میں کھڑے ہوتے ہیں یا ہم بس میں اُن کے ساتھ سفر کرتے ہیں۔ ایک دوستانہ سلام اور سوچ کو اُبھارنے والا ایک سوال یا نقطۂنظر گفتگو کا آغاز کرنے کے لئے کافی ہوگا۔ بہتیروں نے اِسے اپنی گواہی کی نہایت ہی نتیجہخیز قِسم پایا ہے۔ جب ہمارے پاس خوشخبری کی بابت دوسروں سے باتچیت کرنے کے بہت سے مواقع ہوتے ہیں تو پورا مہینہ بادشاہتی گواہی دئے بغیر گزر جانے دینا ہمارے لئے ناقابلِتصور ہوگا۔
۶ یہوؔواہ کی حمد کرنے کا شرف کبھی بھی ختم نہیں ہوگا۔ جیساکہ زبورنویس نے ظاہر کِیا، ہر مُتنفّس کو یہوؔواہ کی حمد کرنی چاہئے اور یقیناً ہم اُن میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ (زبور ۱۵۰:۶) اگر ہمارا دل ہمیں ہمیشہ ایسا ہی کرنے کیلئے تحریک دیتا ہے تو ہم یہوؔواہ اور اُسکے کلام کی بابت باتچیت کرنے کے مواقع سے روزانہ فائدہ اُٹھائینگے۔