کیا ہم جاگ رہے ہیں—انتشارِخیال سے بچتے ہوئے؟
۱ یسوؔع نے آگاہی دی: ”جاگتے . . . رہو تاکہ تم کو اِن“ آفتوں سے ”بچنے . . . کا مقدور ہو“ جن کا آنا یقینی تھا۔ (لوقا ۲۱:۳۶) ہم انسانی تاریخ کے نہایت ہی خطرناک دَور میں رہ رہے ہیں۔ تباہی اُن کی منتظر رہتی ہے جو روحانی غنودگی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہ ہم میں سے ہر ایک کو خطرے میں ڈال دیتی ہے۔ یسوؔع نے کھانے، پینے اور روزمرّہ زندگی کی فکروں کا ذکر کِیا تھا۔ کیوں؟ اس لئے کہ یہ چیزیں بھی ہم پر غلبہ پا سکتی، انتشارِخیال بن سکتی اور خطرناک روحانی غنودگی طاری کر سکتی ہیں۔
۲ عام انتشارِخیال: بعض حد سے زیادہ یا قابلِاعتراض تفریح سے مغلوب ہو گئے ہیں، یہانتک کہ ٹیوی کے عادی بن گئے ہیں۔ بِلاشُبہ، بادشاہت کی پہلے تلاش کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ ہمیں تفریح کی تمام اقسام سے گریز کرنا چاہئے۔ جب ہم معقولیت اور اعتدالپسندی کو کام میں لاتے ہیں تو تفریح مفید ہو سکتی ہے۔ (مقابلہ کریں ۱-تیمتھیس ۴:۸۔) لیکن جب یہ ہمارے وقت، ہمارے وسائل، یا بادشاہتی منادی کے کام میں ہماری شرکت کے وقت کے زیادہ حصے کو ہڑپ کرتے ہوئے ہماری زندگیوں میں اہم چیز بن جاتی ہے تو یہ انتشارِخیال کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔
۳ ایک اَور عام انتشارِخیال جو روحانی غنودگی کا سبب بنتا ہے وہ غیرضروری مادی اشیاء کی خواہش ہے۔ یہ اِس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ایک شخص دُنیاوی کام پر زیادہ وقت صرف کرے اور روحانی حاصلات کو پسِپُشت ڈال دینے کا سبب بنتا ہے۔ بعض زیادہ آرامدہ طرزِزندگی کو حاصل کرنے کی غرض سے مادی اثاثوں کی جستجو میں محو ہو جانے سے روحانی نصبالعین کھو بیٹھے ہیں۔ اگرچہ ہمیں ”کھانے پہننے“ کی حاجت ہے توبھی ہمیں زر کی دوستی پیدا کرنے سے بچنا چاہئے جو ہمیں ایمان سے برگشتہ کر سکتی ہے۔ (۱-تیمتھیس ۶:۸-۱۰) بادشاہتی مفادات پر اپنی نگاہیں جمائے رکھنے میں ناکام ہونے سے، ہم اپنے خاندان کی روحانی ضروریات کی دیکھبھال کرنے میں سُست اور اپنی خدمتگزاری کو سرانجام دینے میں ناکام ہو سکتے ہیں۔—۱-تیمتھیس ۵:۸؛ ۲-تیمتھیس ۴:۵۔
۴ پھربھی، دیگر اِس حد تک اپنے ’دلوں کو زندگی کی فکروں سے سُست ہو جانے‘ کی اجازت دے دیتے ہیں کہ وہ روحانی اعتبار سے سو ہی جاتے ہیں۔ (لوقا ۲۱:۳۴) کبھیکبھار، صحت کے مسائل یا دباؤ ڈالنے والی خاندانی حالتوں کے باعث پریشانی کا تجربہ ہوتا ہے۔ لیکن ایسی ذاتی فکروں کو اِس نظامالعمل کے تیزی سے قریب آتے ہوئے خاتمے کی بابت ہماری بیداری کو ختم کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے۔—مرقس ۱۳:۳۳۔
۵ اِس بات کی نسبت کوئی اَور چیز ابلیس کو خوش نہیں کریگی کہ وہ ہمیں کسی دُنیاوی تخیل کے حصول میں ایک خوابیدہ حالت میں دھکیلنے میں کامیاب ہو جائے۔ ہمیں روحانی طور پر جاگتے رہنے کیلئے جدوجہد کرنی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ ’یہوؔواہ کا دن چور کی مانند‘ آ رہا ہے اور یہ اشد ضروری ہے کہ ہم ”جاگتے اور ہوشیار رہیں۔“ (۱-تھسلنیکیوں ۵:۲، ۶) اگر ہم اپنے اندر غنودگی کی علامات پاتے ہیں تو یہ اشد ضروری ہے کہ ہم ”تاریکی کے کاموں کو ترک“ کر دیں۔—رومیوں ۱۳:۱۱-۱۳۔
۶ جاگتے رہنے میں ہماری اعانت کے لئے امدادی چیزیں: یہ امدادی چیزیں کونسی ہیں؟ دُعا تو لازمی ہے۔ ہمیں مسلسل دُعا کرنی چاہئے۔ (۱-تھسلنیکیوں ۵:۱۷) مسیحی کلیسیا کیساتھ قربت ’ہمیں محبت اور نیک کاموں کی ترغیب‘ دے گی۔ (عبرانیوں ۱۰:۲۴) اپنی ذات کا ایک باقاعدہ، دیانتدارانہ جائزہ کمزوریوں پر قابو پانے کی ہماری ضرورت کے سلسلے میں ہمیں خبردار رکھنے کے لئے مدد کر سکتا ہے۔ (۲-کرنتھیوں ۱۳:۵) ذاتی مطالعے کی اچھی عادات سے ہم ”ایمان . . . کی باتوں سے . . . پرورِش“ پاتے رہیں گے۔ (۱-تیمتھیس ۴:۶) اگر ہم مستعد ہیں تو ہم پُراعتماد ہو سکتے ہیں کہ ہم انتشارِخیال سے بچنے، ’جاگتے رہنے، اور ایمان میں ثابتقدم رہنے‘ کے قابل ہوں گے۔—۱-کرنتھیوں ۱۶:۱۳۔