پوری دُنیا میں شادمان مدّاحین کے طور پر الگکردہ
”اَے لوگو! یاہ کی حمد کرو، اَے یہوواہ کے خادمو، حمد کرو، یہوواہ کے نام کی حمد کرو۔“—زبور ۱۱۳:۱، اینڈبلیو۔
۱، ۲. (ا) زبور ۱۱۳:۱-۳ کے مطابق، ہماری پُرجوش حمد کا حقدار کون ہے؟ (ب) کونسا سوال پوچھنا موزوں ہے؟
یہوواہ خدا آسمان اور زمین کا عظیم خالق، تمام ابدیت تک ہمارا حاکمِاعلیٰ ہے۔ وہ ہماری پُرجوش حمد کا پورا حقدار ہے۔ اسی لئے زبور ۱۱۳:۱-۳ ہمیں حکم دیتی ہیں: ”اَے لوگو! یاہ کی حمد کرو، اَے یہوواہ کے خادمو، حمد کرو، یہوواہ کے نام کی حمد کرو۔ اب سے ابد تک یہوواہ کا نام مبارک ہو! آفتاب کے طلوع سے غروب تک یہوواہ کے نام کی حمد ہو۔“—اینڈبلیو
۲ خدا کے گواہوں کے طور پر، ہم ایسا کرنے سے خوش ہوتے ہیں۔ کتنی ہیجانخیز بات ہے کہ یہوواہ خدا جلد ہی حمد کے اس شادمان گیت سے ساری زمین کو معمور کر دیگا جو آجکل ہم گا رہے ہیں! (زبور ۲۲:۲۷) کیا اس عظیم عالمگیر طائفے میں آپ کی آواز سنائی دیتی ہے؟ اگر ایسا ہے توپھر اسے آپ کیلئے اس منقسم، غمگین دُنیا سے علیٰحدہ کئے جانے کی صورت میں کسقدر خوشی کا باعث بننا چاہئے!
۳. (ا) کونسی چیز یہوواہ کے لوگوں کو امتیازی، منفرد بنا دیتی ہے؟ (ب) ہمیں کن طریقوں سے الگ کِیا گیا ہے؟
۳ ہمارا متحد ہوکر یہوواہ کی حمد کرنے کا عمل ہمیں یقیناً امتیازی، منفرد بنا دیتا ہے۔ ہماری گفتگو اور تعلیم ہمآہنگ ہے اور ’یہوواہ کی نیکی کی فراوانی‘ کو بیان کرنے کیلئے ایک ہی جیسے طریقے استعمال کرتے ہیں۔ (زبور ۱۴۵:۷) جیہاں، یہوواہ کے مخصوص لوگوں کے طور پر، ہمیں اپنے خدا، یہوواہ کی خدمت کرنے کیلئے الگ کر لیا گیا ہے۔ خدا نے اپنی قدیم مخصوص اُمت، اسرائیل سے کہا کہ اپنے گردونواح کی اقوام سے علیٰحدہ اور اُن اقوام کے رسمورواج سے بیداغ رہے۔ (خروج ۳۴:۱۲-۱۶) ایسا کرنے میں مدد کیلئے اُس نے اپنی اُمت کو شریعت دی۔ اسی طرح آج بھی، یہوواہ نے ہمیں اپنا پاک کلام، بائبل، عطا کِیا ہے۔ اسکی ہدایت ہم پر واضح کرتی ہے کہ ہم اس دُنیا سے کیسے علیٰحدہ رہ سکتے ہیں۔ (۲-کرنتھیوں ۶:۱۷؛ ۲-تیمتھیس ۳:۱۶، ۱۷) ہمیں بڑے بابل کے راہبوں اور راہبات کی طرح خانقاہوں اور کانوینٹس میں رُوپوش رکھ کر علیٰحدہ نہیں کِیا گیا۔ یسوع مسیح کے نمونے کی پیروی میں، ہم یہوواہ کے عوامی مدّاحین ہیں۔
یہوواہ کے بڑے مدّاح کی تقلید کریں
۴. یہوواہ کی حمد کرنے میں یسوع نے کیسے نمونہ قائم کِیا؟
۴ یسوع نے کبھی بھی یہوواہ کی حمد کرنے کے اپنے مقصد سے انحراف نہیں کِیا تھا۔ لہٰذا اِسی چیز نے اُسے دُنیا سے بالکل فرق کر دیا۔ اُس نے عبادتخانوں اور یروشلیم کی ہیکل میں خدا کے پاک نام کی حمد کی۔ خواہ پہاڑ ہوں یا ساحلِسمندر، جہاں کہیں بھی بِھیڑ ہوتی یسوع یہوواہ کی سچائیوں کی اعلانیہ منادی کرتا۔ اُس نے بیان کِیا: ”اَے باپ آسمان اور زمین کے خداوند مَیں تیری [”اعلانیہ،“ اینڈبلیو] حمد کرتا ہوں۔“ (متی ۱۱:۲۵) حتیٰکہ جب پُنطیُس پیلاطُس کے سامنے اُس پر مقدمہ چل رہا تھا تَوبھی یسوع نے تصدیق کی: ”مَیں اسلئے پیدا ہوا اور اس واسطے دُنیا میں آیا ہوں کہ حق پر گواہی دُوں۔“ (یوحنا ۱۸:۳۷) یسوع اپنے کام کی اہمیت کی قدر کرتا تھا۔ یسوع جہاں کہیں بھی ہوتا وہ یہوواہ کی بابت گواہی دیتا اور اعلانیہ اُسکی تمجید کرتا۔
۵. زبور ۲۲:۲۲ کا اطلاق کن پر ہوتا ہے اور ہمارا رُجحان کیا ہونا چاہئے؟
۵ زبور ۲۲:۲۲ میں، ہم یہوواہ کے اعلیٰ مدّاح کی بابت یہ نبوّتی بیان پاتے ہیں: ”مَیں اپنے بھائیوں سے تیرے نام کا اظہار کرونگا۔ جماعت میں تیری ستایش کرونگا۔“ اور عبرانیوں ۲:۱۱، ۱۲ میں، پولس رسول ان آیات کا اطلاق خداوند یسوع پر اور اُن لوگوں پر کرتا ہے جنہیں یہوواہ خدا نے آسمانی جلال کیلئے پاک ٹھہرایا ہے۔ اُسکی طرح وہ بھی جماعت میں یہوواہ کے نام کی حمد کرنے سے نہیں شرماتے۔ جب اپنے کلیسیائی اجلاسوں پر حاضر ہوتے ہیں تو کیا ہمارا ذہنی رُجحان بھی ایسا ہی ہوتا ہے؟ اجلاسوں پر ہماری ذہنی اور صوتی دونوں طرح کی سرگرم شرکت سے یہوواہ کی ستائش ہوتی ہے۔ لیکن کیا ہماری پُرمسرت حمد کی حد یہیں ختم ہو جاتی ہے؟
۶. یسوع نے اپنے شاگردوں کو کیا حکم دیا اور محبانِنور خدا کی تمجید کیسے کرتے ہیں؟
۶ متی ۵:۱۴-۱۶ کے مطابق، خداوند یسوع نے اپنے پیروکاروں کو اپنی روشنی چمکانے کا حکم بھی دیا تاکہ دوسرے لوگ یہوواہ کی تمجید کریں۔ اُس نے فرمایا: ”تم دُنیا کے نور ہو . . . تمہاری روشنی آدمیوں کے سامنے چمکے تاکہ وہ تمہارے نیک کاموں کو دیکھکر تمہارے باپ کی جو آسمان پر ہے تمجید کریں۔“ محبانِنور خدا کو جلال دیتے ہیں۔ کیا وہ محض مُنہ سے اور انسانیت کیلئے اچھے کام کرنے سے ایسا کرتے ہیں؟ نہیں، بلکہ وہ متحد ہو کر یہوواہ کی حمد کرنے سے ایسا کرتے ہیں۔ جیہاں، محبانِنور خود کو خدا کیلئے مخصوص کرتے ہیں اور اُس کے شادمان مدّاحین بن جاتے ہیں۔ کیا آپ نے یہ مبارک قدم اُٹھا لیا ہے؟
یہوواہ کی حمد کرنے سے خوشی
۷. یہوواہ کے مدّاحین اتنے خوش کیوں ہیں اور اُنہیں ۳۳ س.ع. پنتِکُست پر کونسی خوشی حاصل ہوئی تھی؟
۷ یہوواہ کے مدّاحین اسقدر خوش کیوں ہیں؟ کیونکہ خوشی خدا کی روحالقدس کا پھل ہے۔ گلتیوں ۵:۲۲ میں اسے محبت کے فوراً بعد لکھا گیا ہے۔ یسوع کے شاگردوں نے پہلی صدی میں یہوواہ کی روح کے اس پھل کا مظاہرہ کِیا تھا۔ ۳۳ س.ع. میں پنتِکُست کے دن پر، جب خدا نے یسوع کے تقریباً ۱۲۰ شاگردوں پر اپنی روح نازل کی تو اُن سب نے مختلف زبانوں میں یہوواہ کی حمد کرنا شروع کر دی۔ عقیدتمند یہودی جو مختلف قوموں سے یروشلیم آئے ہوئے تھے نہایت ’حیران ہوئے اور گھبرا‘ گئے۔ وہ پکار اُٹھے: ”ہم . . . اپنیاپنی زبان میں اُن سے خدا کے بڑےبڑے کاموں کا بیان سنتے ہیں“! (اعمال ۲:۱-۱۱) مختلف زبانوں میں یہوواہ کی اس شاندار حمد کا نتیجہ کیا نکلا تھا؟ تقریباً ۳۰۰۰ یہودیوں اور یہودی نومُریدوں نے مسیحا کی بابت بادشاہتی خوشخبری کو قبول کر لیا۔ اُنہوں نے بپتسمہ لیا، روحالقدس پایا اور شوق سے یہوواہ کے شادمان مدّاحین کی آوازوں میں اپنی آواز ملا دی۔ (اعمال ۲:۳۷-۴۲) یہ کتنی بڑی برکت تھی!
۸. پنتِکُست کے بعد، مسیحیوں نے اپنی خوشی کو بڑھانے کیلئے کیا کِیا؟
۸ رپورٹ مزید بیان کرتی ہے: ”ہر روز ایک دل ہو کر ہیکل میں جمع ہوا کرتے اور گھروں میں روٹی توڑ کر خوشی اور سادہ دلی سے کھانا کھایا کرتے تھے۔ اور خدا کی حمد کرتے اور سب لوگوں کو عزیز تھے اور جو نجات پاتے تھے اُن کو خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] ہر روز اُن میں ملا دیتا تھا۔“ (اعمال ۲:۴۶، ۴۷) کیا اُنہیں محض باہم جمع ہونے اور کھانا تناول کرنے ہی سے بڑی خوشی حاصل ہوتی تھی؟ نہیں، اُنکی خوشی کی بنیادی وجہ روزبروز یہوواہ خدا کی حمد کرنا تھی۔ اور جب اُنہوں نے ہزاروں لوگوں کو اپنے پیغامِنجات سے اثرپذیر ہوتے دیکھا تو اُنکی خوشی اَور بھی بڑھ گئی۔ آج ہمارے ساتھ بھی ایسا ہی ہے۔
تمام قوموں سے شادمان مدّاحین
۹. (ا) خدا نے کب اور کیسے تمام قوموں کے لوگوں کو اپنی خوشخبری سننے کا موقع فراہم کرنا شروع کِیا؟ (ب) کُرنیلیس اور اُسکے ساتھیوں پر اُنکے بپتسمے سے پہلے ہی روحالقدس کیوں نازل کی گئی؟
۹ یہوواہ یہ نہیں چاہتا تھا کہ اُسکے خادموں کی پُرنور کارگزاری ایک ہی قوم تک محدود رہے۔ اسلئے، ۳۶ س.ع. سے شروع کرکے، اُس نے تمام قوموں کے لوگوں کو اپنی خوشخبری سننے کا موقع دیا۔ خدا کی ہدایت پر، پطرس قیصریہ میں غیرقوم صوبیدار کے گھر گیا۔ وہاں اُس نے کُرنیلیس کو اپنے قریبی دوستوں اور خاندان کیساتھ اکٹھے پایا۔ جب اُنہوں نے پطرس کی باتوں کو توجہ سے سنا تو وہ اپنے دلوں میں یسوع پر ایمان لے آئے۔ ہم کیسے جانتے ہیں؟ کیونکہ خدا کی روحالقدس اُن غیرقوم ایمانداروں پر نازل ہوئی تھی۔ عموماً، روحالقدس کی بخشش صرف بپتسمے کے بعد ہی ملتی تھی مگر اس موقع پر یہوواہ نے ان غیریہودیوں کیلئے اُنکے بپتسمے سے قبل ہی اپنی پسندیدگی کا اظہار کر دیا۔ اگر یہوواہ نے ایسا نہ کِیا ہوتا تو پطرس کو اس بات کا یقین نہ ہوتا کہ خدا اب غیرقوموں کو بھی اپنے خادموں کے طور پر قبول کر رہا ہے اور یہ کہ وہ پانی کے بپتسمے کے لائق ہیں۔—اعمال ۱۰:۳۴، ۳۵، ۴۷، ۴۸۔
۱۰. قدیم وقتوں ہی سے یہ کیسے بتا دیا گیا تھا کہ تمام قوموں کے لوگ یہوواہ کی حمد کرینگے؟
۱۰ قدیم وقتوں ہی سے یہوواہ نے بتا دیا تھا کہ تمام قوموں کے لوگ اُسکی تمجید کرینگے۔ ہر مُلک میں اُسکے شادمان مدّاحین ہونگے۔ اس بات کو ثابت کرنے کیلئے پولس رسول نے عبرانی صحائف سے پیشینگوئیوں کا حوالہ دیا۔ اُس نے روم میں مسیحیوں کی بینالاقوامی کلیسیا سے کہا: ”جس طرح مسیح نے خدا کے جلال کے لئے تم کو اپنے ساتھ شامل کر لیا ہے اُسی طرح تم بھی ایک دوسرے کو شامل کر لو۔ مَیں کہتا ہوں کہ مسیح خدا کی سچائی ثابت کرنے کے لئے مختونوں کا خادم بنا تاکہ اُن وعدوں کو پورا کرے جو باپ دادا سے کئے گئے تھے۔ اور غیرقومیں بھی رحم کے سبب سے خدا کی حمد کریں۔ چنانچہ [زبور ۱۸:۴۹ میں] لکھا ہے کہ اِس واسطے مَیں غیرقوموں میں تیرا اقرار کرونگا اور تیرے نام کے گیت گاؤنگا۔ اور پھر وہ [استثنا ۳۲:۴۳ میں] فرماتا ہے کہ اَے غیرقومو! اُسکی اُمت کے ساتھ خوشی کرو۔ پھر [زبور ۱۱۷:۱ میں] یہ کہ اَے سب غیرقومو! خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] کی حمد کرو اور اُمتیں اُسکی ستایش کریں۔“—رومیوں ۱۵:۷-۱۱۔
۱۱. خدا نے اپنی سچائیوں کو سیکھنے کیلئے تمام قوموں کے لوگوں کی مدد کیسے کی ہے اور نتیجہ کیا رہا ہے؟
۱۱ جبتک لوگ یسوع مسیح پر اُمید نہیں رکھتے وہ متحد ہو کر یہوواہ کی حمد نہیں کر سکتے کیونکہ وہی ہے جسے خدا نے تمام قوموں کے لوگوں پر حکمرانی کرنے کیلئے مقرر کِیا ہے۔ ہمیشہ کی زندگی کا باعث بننے والی اُسکی سچائیوں کو سمجھنے میں اُنکی مدد کرنے کیلئے خدا نے ایک بینالاقوامی تعلیمی پروگرام کا اجراء کِیا ہے۔ وہ اپنی دیانتدار نوکر جماعت کے ذریعے ہدایت دے رہا ہے۔ (متی ۲۴:۴۵-۴۷) نتیجہ؟ پانچ ملین سے زیادہ شادمان آوازیں ۲۳۰ سے زائد ممالک میں یہوواہ کی حمد کے گیت گا رہی ہیں۔ نیز اَور بھی لاکھوں لوگ ایسا ہی کرنے میں دلی شوق کا اظہار کر رہے ہیں۔ غور کریں کہ ۱۹۹۶ میں کتنے لوگ میموریل پر حاضر ہوئے: ۱،۲۹،۲۱،۹۳۳۔ کیا خوب!
شادمان مدّاحین کی ایک بڑی بِھیڑ کی پیشینگوئی کی گئی
۱۲. یوحنا رسول کو کس ہیجانخیز رویا کا تجربہ ہوا اور اسکی زندہ حقیقت کیا ہے؟
۱۲ رویا میں، یوحنا رسول نے تمام قوموں میں سے نکل کر آنے والی ”ایک . . . بڑی بِھیڑ“ دیکھی۔ (مکاشفہ ۷:۹) یہ بڑی بِھیڑ خدا کے ممسوح بقیہ کیساتھ ملکر جو حمد کے گیت گا رہی ہے اُنکا موضوع کیا ہے؟ یوحنا ہمیں بتاتا ہے: ”نجات ہمارے خدا کی طرف سے ہے جو تخت پر بیٹھا ہے اور برّہ کی طرف سے۔“ (مکاشفہ ۷:۱۰) دُنیا کے ہر خطے میں اسکا بڑی دلیری کیساتھ اعلان کِیا جا رہا ہے۔ علامتی مفہوم میں، کھجور کی ڈالیاں ہلاتے ہوئے، ہم متحد ہو کر خدا کی کائنات کے حاکمِاعلیٰ کے طور پر پُرجوش تائید کرتے ہیں اور آسمانوزمین کے سامنے خوشی سے اعتراف کرتے ہیں کہ ہماری نجات اُسکی اور اُسکے بیٹے یعنی برّہ، یسوع مسیح ”کی طرف سے“ ہے۔ یوحنا رسول کو بڑی بِھیڑ کی یہ ہیجانخیز رویا دیکھنے سے کتنی خوشی کا تجربہ ہوا! اور جوکچھ یوحنا نے دیکھا آج ہم اُسکی زندہ حقیقت کو دیکھنے سے بلکہ اُسکا حصہ ہونے سے کتنے خوش ہوتے ہیں!
۱۳. کونسی چیز یہوواہ کے لوگوں کو دُنیا سے فرق کر دیتی ہے؟
۱۳ یہوواہ کے خادموں کے طور پر ہم بڑے فخر سے اُسکا نام اپنے اُوپر لیتے ہیں۔ (یسعیاہ ۴۳:۱۰، ۱۲) ہمارا یہوواہ کے گواہ ہونا ہی ہمیں اس دُنیا سے فرق کرتا ہے۔ خدا کے امتیازی نام کے حامل ہونا اور اُسکے الہٰی کام کی تکمیل کو اپنی زندگی کا مقصد بنانا کتنی خوشی کی بات ہے! بادشاہت کے ذریعے اپنے پاک نام کی تقدیس کرانے اور اپنی عالمگیر حاکمیت کی برأت کرانے کے سلسلے میں یہوواہ کے شاندار مقصد نے ہماری زندگیوں کو بھی پُرمطلب بنا دیا ہے۔ اور اُس نے ہماری مدد کی ہے تاکہ ہم اُسکے نام اور بادشاہت سے متعلق اُسکے الہٰی مقصد میں اپنی جگہ بنا سکیں۔ یہ کام اُس نے تین طریقوں سے کِیا ہے۔
سچائی سونپی گئی
۱۴، ۱۵. (ا) ایک طریقہ کیا ہے جس سے خدا نے اپنے نام اور بادشاہت کے سلسلے میں جو اُسکا مقصد ہے اُس میں مقام حاصل کرنے کیلئے ہماری مدد کی ہے؟ (ب) ۱۹۱۴ میں قائم ہونے والی بادشاہت ۶۰۷ ق.س.ع. میں برباد ہونے والی بادشاہت سے کیسے فرق ہے؟
۱۴ اوّل، یہوواہ نے اپنے لوگوں کو سچائی سونپی ہے۔ سب سے ہیجانخیز انکشاف یہ ہے کہ اُسکی بادشاہت نے ۱۹۱۴ میں حکمرانی شروع کی۔ (مکاشفہ ۱۲:۱۰) یہ آسمانی حکومت یروشلیم کی مثالی بادشاہت سے فرق ہے، جہاں کبھی داؤد کے سلسلۂنسب سے بادشاہ تختنشین ہوا کرتے تھے۔ اس حکومت کو تباہوبرباد کر دیا گیا اور ۶۰۷ ق.س.ع. کے شروع میں، یروشلیم مکمل طور پر غیرقوم عالمی طاقتوں کے زیرِتسلط چلا گیا تھا۔ نئی بادشاہت جسے یہوواہ نے ۱۹۱۴ میں قائم کِیا آسمانی طاقت ہے جو یہوواہ کے سوا کسی اَور کے تابع نہیں ہوگی نہ ہی یہ کبھی تباہ ہوگی۔ (دانیایل ۲:۴۴) نیز، اسکی حکمرانی بھی فرق ہے۔ کیسے؟ مکاشفہ ۱۱:۱۵ جواب دیتی ہے: ”آسمان پر بڑی آوازیں اس مضمون کی پیدا ہوئیں کہ دُنیا کی بادشاہی ہمارے خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] اور اُسکے مسیح کی ہو گئی اور وہ ابدالآباد بادشاہی کرے گا۔“
۱۵ ”ہمارے خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] اور اُسکے مسیح کی بادشاہی“ نوعِانسان کی تمام دُنیا پر اختیار رکھتی ہے۔ یہوواہ کی حاکمیت کا یہ نیا اظہار، جس میں اُسکا مسیحائی بیٹا اور یسوع کے ۱۴۴،۰۰۰ بھائی شامل ہیں جن میں سے بیشتر آسمانی جلال کیلئے اب قیامت پا چکے ہیں، یہ محض علمی شوق کا معاملہ نہیں ہے—ایسا نظریاتی معاملہ جس کی بابت طالبعلم محض گفتگو کرنا پسند کریں۔ نہیں، یہ آسمانی بادشاہت ایک حقیقی حکومت ہے۔ اور اسکی حکمرانی کے نتیجے میں ہمارا کاملیت میں ابد تک زندہ رہنے کا خوشآئند امکان ہمیں مسلسل خوشی کرتے رہنے کی موزوں وجہ فراہم کرتا ہے۔ یہوواہ کے کلام کی ایسی سچائیوں کا سونپا جانا ہمیں ہمیشہ انکی بڑائی کرنے کی تحریک دیتا ہے۔ (زبور ۵۶:۱۰) کیا آپ ہر ایک کو یہ بتانے سے کہ خدا کی مسیحائی بادشاہت اب آسمانوں میں حکمرانی کر رہی ہے باقاعدگی سے ایسا کر رہے ہیں؟
روحالقدس اور عالمگیر برادری سے مدد پانا
۱۶، ۱۷. دوسرا اور تیسرا طریقہ کیا ہے جس سے خدا نے اپنے الہٰی مقصد میں مقام حاصل کرنے کیلئے ہماری مدد کی ہے؟
۱۶ ایک دوسرا طریقہ جس سے خدا نے اپنے الہٰی مقصد میں مقام حاصل کرنے کیلئے ہماری مدد کی ہے وہ ہمیں اپنی روحالقدس عطا کرتا ہے جو ہمیں اپنی زندگیوں میں اسکے خوشنما پھل پیدا کرنے اور اُسکی پسندیدگی حاصل کرنے کے قابل بناتی ہے۔ (گلتیوں ۵:۲۲، ۲۳) مزیدبرآں، پولس نے ممسوح مسیحیوں کو لکھا: ”ہم نے . . . وہ روح پایا جو خدا کی طرف سے ہے تاکہ اُن باتوں کو جانیں جو خدا نے ہمیں عنایت کی ہیں۔“ (۱-کرنتھیوں ۲:۱۲) یہوواہ کی روح سے اثرپذیر ہو کر، اب ہم سب اِن موجودہ اچھی چیزوں کو سمجھ اور جان سکتے ہیں جو اُس نے ہمیں بڑی شفقت سے بخشی ہیں—اُسکے وعدے، قوانین، اُصول وغیرہوغیرہ۔—مقابلہ کریں متی ۱۳:۱۱۔
۱۷ جہاں تک تیسرے طریقے کا تعلق ہے جس کے ذریعے یہوواہ ہماری مدد کر رہا ہے وہ ہماری عالمگیر برادری اور پرستش کیلئے یہوواہ کا مسرتبخش تنظیمی انتظام ہے۔ پطرس رسول نے اِس کا ذکر کِیا جب اُس نے ہمیں یہ نصیحت کی کہ ”برادری سے محبت رکھو۔“ (۱-پطرس ۲:۱۷) ہمارا پُرمحبت، بھائیوں اور بہنوں کا بینالاقوامی خاندان بڑی خوشدلی سے یہوواہ کی خدمت کرنے کیلئے ہماری مدد کرتا ہے جیسےکہ زبور ۱۰۰:۲ حکم دیتی ہے: ”خوشی سے خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] کی عبادت کرو۔ گاتے ہوئے اُسکے حضور حاضر ہو۔“ ۴ آیت مزید کہتی ہے: ”شکرگذاری کرتے ہوئے اُسکے پھاٹکوں میں اور حمد کرتے ہوئے اُسکی بارگاہوں میں داخل ہو۔ اُسکا شکر کرو اور اُسکے نام کو مبارک کہو۔“ پس خواہ ہم اعلانیہ منادی کر رہے ہوں یا اجلاسوں پر حاضر ہوں، ہم خوشی کا تجربہ کر سکتے ہیں۔ یہوواہ کی روحانی ہیکل کے خوبصورت صحنوں میں ہمیں کسقدر اَمن اور سلامتی حاصل ہوئی ہے!
خوشی سے یہوواہ کی حمد کرو!
۱۸. اذیت اور ہمیں گھیر لینے والے دیگر مسائل کے باوجود بھی ہم یہوواہ کی حمد کرنے سے کیوں خوش ہو سکتے ہیں؟
۱۸ خواہ کتنے ہی زیادہ مشکل حالات، اذیت یا دیگر مسائل ہمیں گھیر لیں، آئیے اس بات سے خوش ہوں کہ ہم یہوواہ کے گھر میں ہیں۔ (یسعیاہ ۲:۲، ۳) یاد رکھیں خوشی ایک دلی کیفیت ہے۔ ہمارے ابتدائی مسیحی بھائی اور بہنیں یہوواہ کے شادمان مدّاحین تھے اگرچہ اُنہیں بہت سی مشکلات اور نقصانات کا تجربہ ہوا۔ (عبرانیوں ۱۰:۳۴) آجکل ہمارے ساتھی ایماندار بالکل اُنہی کی طرح ہیں۔—متی ۵:۱۰-۱۲۔
۱۹. (ا) باربار دہرائے جانے والے کونسے فرمودات ہمیں یہوواہ کی حمد کرنے کی تحریک دیتے ہیں؟ (ب) ہماری ابدی زندگیوں کا انحصار کس چیز پر ہے اور ہمارا عزم کیا ہے؟
۱۹ ہم سب جو یہوواہ کی خدمت کرتے ہیں اُسکی حمد کرنے کیلئے بائبل کے فرمودات کی اطاعت کر کے خوش ہوتے ہیں۔ بارہا مکاشفہ کی کتاب ”ہللویاہ“ کی اصطلاح کیساتھ خدا کی حمد پر زور دیتی ہے۔ (مکاشفہ ۱۹:۱-۶) زبور ۱۵۰ کی چھ آیات میں، ہمیں ۱۳ مرتبہ یہوواہ کی حمد کرنے کیلئے کہا گیا ہے۔ یہ تمام مخلوقات کیلئے ایک عالمگیر پیشکش ہے کہ خوشی سے یہوواہ کی حمد کے گیت گانے میں باہم مِل جائیں۔ ہماری ابدی زندگی کا انحصار ہللویاہ کے اس عظیم کورس میں شامل ہونے پر ہے! جیہاں، صرف وہی لوگ ہمیشہ تک زندہ رہینگے جو یہوواہ کی مسلسل حمد کرتے رہتے ہیں۔ اسلئے، جوںجوں خاتمہ قریب آتا ہے ہم اُسکی وفادار عالمی کلیسیا سے وابستہ رہنے پر اٹل ہیں۔ پھر، ہم زبور ۱۵۰ کے ان اختتامی الفاظ کی مکمل تکمیل دیکھنے کی اُمید رکھ سکتے ہیں: ”ہر مُتنفّس خداوند [”یاہ،“ اینڈبلیو] کی حمد کرے۔ خداوند [”یاہ،“ اینڈبلیو] کی حمد کرو!“
آپ کیسے جواب دینگے؟
▫ کونسی چیز یہوواہ کے لوگوں کو امتیازی اور منفرد بناتی ہے؟
▫ یہوواہ کے خادم اسقدر خوش کیوں ہیں؟
▫ کونسی چیز ہمیں دُنیا سے فرق کر دیتی ہے؟
▫ کن تین طریقوں سے خدا نے اپنے الہٰی مقصد میں مقام حاصل کرنے کیلئے ہماری مدد کی ہے؟
[صفحہ 26 پر تصویر]
یسوع جہاں کہیں بھی تھا، اُس نے یہوواہ کی گواہی دی اور اُسکی اعلانیہ حمد کی