ہر روز یہوواہ کی ستائش کریں
۱. خدا کے خادموں کو کیا کرنا چاہئے، اور کیوں؟
۱ بادشاہ داؤد نے اِس عزم کا اظہار کِیا کہ وہ ”ہر روز“ ابدالآباد تک یہوواہ کی ستائش کرے گا۔ (زبور ۱۴۵:۲، ۷، ۲۱) ہمیں بھی ہر روز مختلف وجوہات کی بِنا پر یہوواہ خدا کی ستائش کرنی چاہئے۔—زبور ۳۷:۱۰؛ ۱۴۵:۱۴، ۱۸؛ ۲-پطر ۳:۱۳۔
۲. کن طریقوں سے خاندان ہر روز یہوواہ کی ستائش کر سکتے ہیں؟
۲ گھر میں: روزانہ کی آیت پر غوروخوض کرتے، خاندانی مطالعہ کرتے اور کلیسیائی اجلاسوں کے لئے تیاری کرتے وقت بائبل پر مبنی کتابوں اور رسالوں کو استعمال کرنے سے ہم مختلف موضوعات پر باتچیت کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔ بیشتر خاندانوں کا دستور ہے کہ وہ ہر دن کمازکم ایک مرتبہ مل کر کھانا کھاتے ہیں۔ یوں اُنہیں آپس میں گفتگو کرنے اور یہوواہ خدا کی ستائش کرنے کا موقع ملتا ہے۔ اِن طریقوں سے والدین اپنے بچوں کی ”[یہوواہ] کی طرف سے تربیت اور نصیحت دے دے کر“ پرورش کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں۔—افس ۶:۴؛ است ۶:۵-۷۔
۳. ہم کن مواقع پر کلیسیائی بہنبھائیوں کے ساتھ مل کر یہوواہ کی ستائش کر سکتے ہیں؟
۳ کلیسیائی بہنبھائیوں کیساتھ: جب ہم اجلاسوں پر حاضر ہوتے اور مُنادی کے کام میں حصہ لیتے ہیں تو ہمیں اپنے کلیسیائی بہنبھائیوں کے ساتھ مل کر یہوواہ کی ستائش کرنے کے بہت سے مواقع حاصل ہوتے ہیں۔ (امثا ۱۵:۳۰؛ فل ۴:۸؛ عبر ۱۳:۱۵) چونکہ ہم سب یہوواہ خدا سے محبت رکھتے ہیں اِس لئے آپس میں گفتگو کرتے وقت اُس کی شفقت کے لئے اپنی شکرگزاری کا اظہار کرنا ہمارے لئے آسان ہوتا ہے۔—زبور ۱۰۶:۱۔
۴. آپ مُنادی کے کام میں حصہ لینے کے علاوہ اَور کن مواقع پر یہوواہ کی ستائش کر سکتے ہیں؟
۴ اُن لوگوں سے باتچیت کرتے وقت جو ہمارے ہمایمان نہیں: شاید ہم اپنے حالات کی وجہ سے ہر روز مُنادی کے کام میں حصہ لینے کے قابل نہ ہوں۔ مگر اپنے ہمجماعتوں، اپنے ساتھ کام کرنے والوں اور دیگر لوگوں کو یہوواہ خدا اور اُس کے مقاصد کے بارے میں بتانے سے ہم خلوصدل لوگوں کو اُمید دیتے ہیں۔ (زبور ۲۷:۱۴؛ ۱-پطر ۳:۱۵) ایک بہن نے ہوائیجہاز پر سفر کرتے وقت ایک خاتون کو گواہی دی۔ بہن نے اُسے جوکچھ بتایا اِس سے اُس عورت کو اتنی تسلی اور حوصلہافزائی حاصل ہوئی کہ اُس نے بہن کو اپنا پتہ اور فوننمبر دیا تاکہ وہ ایکدوسرے سے رابطہ رکھ سکیں۔ جوںجوں اِس دُنیا کے حالات خراب ہوتے جا رہے ہیں یہوواہ کے گواہ خلوصدل لوگوں کو ”خوشخبری“ سنانے کے کام میں بڑھچڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔ اِس سے نہ صرف لوگوں کو اُمید ملتی ہے بلکہ اُن کے دل میں یہوواہ خدا کی ستائش کرنے کی خواہش بھی پیدا ہوتی ہے۔—یسع ۵۲:۷؛ روم ۱۵:۱۱۔
۵. (ا) ہم کیوں یہوواہ خدا کی ستائش کرنا چاہتے ہیں؟ (ب) اِس کے کیا نتائج نکل سکتے ہیں؟
۵ جب یہوواہ خدا ہر روز اپنے خادموں کو اُس کی ستائش کرتے ہوئے دیکھتا ہے تو یقیناً اُس کا دل شاد ہوتا ہے! یہوواہ کی تخلیقکردہ دیگر چیزوں کی طرح ہمیں بھی اُس کی ستائش کرنی چاہئے خواہ ہم گھر میں ہوں یا کلیسیا میں یا پھر اُن لوگوں کے ساتھ باتچیت کر رہے ہوں جو ابھی تک ہمارے ہمایمان نہیں۔—زبور ۱۹:۱-۴۔