آپ نے اپنے بچوں کیلئے کونسے نصبالعین قائم کئے ہیں؟
۱ زندگی میں کامیابی کا انحصار سودمند نصبالعین قائم کرنے اور اُنہیں حاصل کرنے پر ہے۔ وہ جو غیراہم یا غیرحقیقی نصبالعین کی جستجو کرتے ہیں مایوسی اور ناکامی کا سامنا کرتے ہیں۔ یہ جاننے کیلئے کہ ”حقیقی زندگی پر قبضہ [کرنے کیلئے]“ کونسی منازل کی تلاش کی جائے حکمت کی ضرورت ہے۔ (۱-تیمتھیس ۶:۱۹) ہم کسقدر شکرگزار ہیں کہ یہوؔواہ، اپنے کلام اور تنظیم کے ذریعے، صحیح طور پر ہم پر یہ ظاہر کرتا ہے کہ کونسا راستہ اختیار کریں!—یسعیاہ ۳۰:۲۱۔
۲ ایسی پُرمحبت راہنمائی فراہم کرنے میں، یہوؔواہ والدین کیلئے ایک عمدہ نمونہ قائم کرتا ہے۔ کونسا راستہ بہترین ہے اس کا انتخاب کرنے کیلئے اپنے ناتجربہکار بچوں پر چھوڑ دینے کی بجائے، دانشمند والدین اس راہ پر اُنکی تربیت کرتے ہیں جس پر اُنہیں چلنا چاہئے، اور یوں جب وہ بوڑھے ہو جائیں گے توبھی وہ ”اس سے نہیں [مڑیں گے]۔“ (امثال ۲۲:۶) مسیحی والدین تجربے سے یہ جانتے ہیں کہ وہ اپنی ذاتی بصیرت پر بھروسہ نہیں کر سکتے؛ ضرور ہے کہ وہ یہوؔواہ پر بھروسہ کریں۔ (امثال ۳:۵، ۶) بچوں کیلئے جوکہ محدود علم اور تجربہ رکھتے ہیں، یہ تقاضا اَور بھی زیادہ ضروری ہے۔
۳ والدین اپنے بچوں کے سامنے سودمند نصبالعین رکھ سکتے ہیں جوکہ اُنہیں ”زیادہ اہم چیزوں“ پر توجہ مرکوز رکھنے میں مدد دینگے۔ (فلپیوں ۱:۱۰، اینڈبلیو) اسکی اہمیت کی قدر کرنے اور اس سے سیکھنے کیلئے بچوں کی حوصلہافزائی کرنے کی غرض سے وہ خاندانی مطالعے کے ساتھ شروع کر سکتے ہیں۔ کلیسیائی اجلاسوں کی قبلازوقت تیاری کرنے اور خود اپنے الفاظ میں تبصرے کرنے کی تیاری کرنے کی عادت کو پیدا کرنا بچوں کیلئے اچھا ہے۔ منادی کے کام میں باقاعدہ شرکت ضروری ہے۔ نوعمر بچے اشتہار پیش کرنے، صحائف پڑھنے یا رسالے پیش کرنے سے اس میں معاونت کر سکتے ہیں۔ جب وہ پڑھنے کے قابل ہو جاتے ہیں تو تھیوکریٹک منسٹری سکول میں اندراج اُنکی روحانی ترقی کو تیزتر کر سکتا ہے۔ ایک غیربپتسمہیافتہ پبلشر کے طور پر لائق ہونا یا بپتسمہ کے لائق قبول کر لیا جانا ترقی کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔
۴ اپنے بچوں کے عنفوانِشباب کے سالوں کو پہنچنے پر، یا اس سے بھی پہلے، والدین کو حقیقتپسندانہ طور پر ان کیساتھ ذرائعمعاش سے متعلق نصبالعین کے بارے میں باتچیت کرنی چاہئے۔ سکول کے مشیر اور ہمجماعت بڑی آسانی سے اُنہیں دُنیاوی، مادہپرستانہ حاصلات کے حق میں متاثر کر سکتے ہیں۔ والدین کو اپنے بچوں کو ایسے نصابِتعلیم کا انتخاب کرنے میں مدد دینی چاہئے جو اُنہیں بادشاہتی مفادات کو قربان کئے بغیر اپنی مادی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے لیس کرتے ہوئے عملی تربیت فراہم کرتے ہیں۔ (۱-تیمتھیس ۶:۶-۱۰) اُنہیں غیرشادیشُدہ رہنے کی ”بخشش“ کی جستجو کرنے کی حوصلہافزائی دی جا سکتی ہے، اور پھر بعد میں، اگر وہ شادی کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو وہ اس قابل ہونگے کہ ازدواجی زندگی کی بھاری ذمہداریوں کو اُٹھا سکیں۔ (متی ۱۹:۱۰، ۱۱؛ ۱-کرنتھیوں ۷:۳۶-۳۸) جہاں زیادہ ضرورت ہے وہاں خدمت کرنے، بیتؔایل خدمت، یا مشنری خدمت کے سلسلے میں پائنیرنگ کی بابت مثبت انداز میں باتچیت کے ذریعے والدین بچوں کے اندر چھوٹی عمر سے ہی اپنی زندگیوں کو اس طریقے سے استعمال کرنے کی خواہش کو نقش کر سکتے ہیں جو یہوؔواہ کو پسند آتا، دوسروں کو فائدہ پہنچاتا، اور خود اپنے لئے برکات کا باعث بنتا ہے۔
۵ یہ کوئی اتفاقیہ بات نہیں ہے کہ آجکل ہمارے پاس تنظیم کے اندر بہتیرے ایسے نوجوان لوگ ہیں جو اعلیٰ مسیحی اقدار رکھتے اور تھیوکریٹک نصبالعین حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اُنکی زیادہتر کامیابی کو اُنکے شفیق والدین سے منسوب کِیا جا سکتا ہے۔ اگر آپ والدین ہیں تو آپ کے بچے کس طرف بڑھتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں؟ کیا وہ بادشاہتی مفادات پر مرکوز زندگی میں ترقیپسندانہ طور پر آگے بڑھ رہے ہیں؟ یاد رکھیں، ایک سب سے اہم کام جو آپ کر سکتے ہیں وہ سچائی کو اپنے بچوں کے ذہننشین کرنا اور ہرروز اسکی بابت گفتگو کرنا ہے۔ آپ کو ایک ایسا گھرانا بنانے کی برکت حاصل ہو سکتی ہے جو یہوؔواہ کی خدمت کرنے میں وفادار ہے۔—استثنا ۶:۶، ۷؛ یشوع ۲۴:۱۵۔