سب کچھ خدا کے جلال کے لئے کرو
۱ اپنے عزیز بھائیوں اور بہنوں کیساتھ رفاقت رکھنا کسقدر تازگیبخش ہے! (۱-کرنتھیوں ۱۶:۱۷، ۱۸) ہم اجلاسوں پر، اسمبلیوں پر، کنونشنوں پر اور میدانی خدمتگزاری میں ایسا کرتے ہیں۔ غیررسمی موقعوں پر بھی ہمیں رفاقت حاصل ہوتی ہے، جیسےکہ اس وقت جب مہمان ہمارے گھر پر ملاقات کیلئے آتے ہیں۔ ایسا کرنے سے، ہم مہماننوازی دکھاتے اور ایک دوسرے کی حوصلہافزائی کرتے ہیں۔ (رومیوں ۱۲:۱۳؛ ۱-پطرس ۴:۹) شادی کے استقبالیہ کا اہتمام کرتے وقت جون، ۱۹۸۵ کے مینارِنگہبانی کی عمدہ مشورت کو ذہن میں رکھیں۔
۲ منظم سماجی تقریبات: خواہ ہم ”کھائیں یا پئیں یا جو کچھ بھی کریں،“ ہمیں ”سب خدا کے جلال کے لئے کرنا“ چاہئے۔ (۱-کرنتھیوں ۱۰:۳۱-۳۳) بعض اس مشورت پر عمل نہیں کرتے اور ان تفریحی اجتماعات پر مسائل پیدا ہوتے رہتے ہیں جو مناسب نگرانی سے کہیں زیادہ بڑے ہوتے ہیں۔ بعض حالتوں میں، سینکڑوں لوگ بڑی تقریبات میں مدعو کئے جاتے ہیں جہاں دُنیاوی تفریح کو نمایاں کِیا جاتا ہے۔ بعضاوقات حاضرین سے داخلہ یا دیگر فیس ادا کرنے کا تقاضا کِیا جاتا ہے۔ ایسے اجتماعات بڑی حد تک دُنیاوی تقریبات سے مشابہت رکھتے ہیں، جنکے طورطریقے شائستگی اور بائبل اُصولوں کی مطابقت میں نہیں ہوتے۔—رومیوں ۱۳:۱۳، ۱۴؛ افسیوں ۵:۱۵-۲۰۔
۳ ایسی بھی رپورٹ ملی ہے کہ گواہوں کی بڑی تعداد کرائے پر لی گئی ایسی جگہوں پر جمع ہوئی ہے جہاں تفریحوطبع غیرصحتمندانہ اور دُنیاوی ہوتی ہے اور جہاں مناسب نگرانی کی کمی ہوتی ہے۔ اسی طرح کی سرگرمیوں کی تشہیر ”یہوؔواہ کے گواہوں“ کا ویکاینڈ کے طور کی گئی ہے جنہیں ہوٹلوں اور تفریحگاہوں میں منعقد کیا گیا ہے۔ ایسے بڑے گروہوں کی مناسب طور پر نگرانی کرنے میں مشکل کے باعث، مسائل پیدا ہو گئے۔ اسکے نتیجے میں بعضاوقات شوروغل، الکحلی مشروبات کے سلسلے میں بےاعتدالی اور بداخلاقی بھی واقع ہوئی ہے۔ (افسیوں ۵:۳، ۴) ایسے تفریحی اجتماعات جہاں ایسا طرزِعمل واقع ہوتا ہے یہوؔواہ کو جلال نہیں دیتے۔ اسکی بجائے، وہ کلیسیا کی نیکنامی پر رسوائی لاتے اور دوسروں کیلئے ٹھوکر کا باعث بنتے ہیں۔—۱-کرنتھیوں ۱۰:۲۳، ۲۴، ۲۹۔
۴ مہماننوازی دکھانے کے لئے مسیحیوں کی حوصلہافزائی کی جاتی ہے، لیکن روحانی تبادلۂخیال پر زور دیا جانا چاہئے۔ (رومیوں ۱:۱۱، ۱۲) عموماً چھوٹے اجتماعات بہترین ہوتے ہیں۔ کتاب ہماری خدمتگزاری (انگریزی) صفحہ ۱۳۵-۱۳۶ پر بیان کرتی ہے: ”وقتاًفوقتاً مختلف خاندانوں کو مسیحی رفاقت کیلئے ایک گھر میں مدعو کِیا جا سکتا ہے۔ . . . معقول طور پر، وہ جو ایسی حالتوں کے تحت میزبان ہوتے ہیں اُنہیں جو کچھ واقع ہوتا ہے اُس کے لئے ذاتی طور پر ذمہداری کو محسوس کرنا چاہئے۔ اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے، صاحبِاِدراک مسیحیوں نے ایسے گروہوں کے سائز اور اجتماعات کے اوقات کو محدود رکھنے کی حکمت کو سمجھا ہے۔“ یسوؔع نے نشاندہی کی کہ جب ہمارا مقصد اپنے دوستوں کو روحانی حوصلہافزائی دینا ہوتا ہے تو کسی ضیافت کی ضرورت نہیں ہوتی۔—لوقا ۱۰:۴۰-۴۲، اینڈبلیو.
۵ ساتھی مسیحیوں کیلئے مہماننوازی دِکھانا ایک عمدہ چیز ہے۔ تاہم، اپنے گھر میں ایک شائستہ اجتماع اور ایک کرائے پر لی گئی جگہ میں ایک بہت بڑی تقریب میں دُنیاوی طورطریقوں کو منعکس کرنے میں بہت زیادہ فرق ہے۔ جب آپ دوسروں کو اپنے مہمان ہونے کیلئے مدعو کرتے ہیں تو آپ کو اس بات کا یقین کر لینا چاہئے کہ جو کچھ بھی واقع ہوتا ہے آپ اُسکی پوری ذمہداری اُٹھا سکتے ہیں۔—دیکھیں واچٹاور اگست ۱۵، ۱۹۹۲ صفحات ۱۷-۲۰۔
۶ سچ ہے کہ یہوؔواہ نے ہمیں ایسی برادری عطا کی ہے جس سے ہم ایسی فرحتبخش حوصلہافزائی حاصل کر سکتے ہیں جو ہمیں نیک کام کرتے رہنے کی تحریک دیتی ہے۔ (متی ۵:۱۶؛ ۱-پطرس ۲:۱۲) سماجی سرگرمیوں میں شائستگی اور معقولپسندی کا مظاہرہ کرنے سے، ہم ہمیشہ اپنے خدا کیلئے جلال اور دوسروں کیلئے ترقی کا باعث ہونگے۔—رومیوں ۱۵:۲۔