جو باتیں آپ نے دیکھی اور سنی ہیں انکی بابت کلام کرتے رہیں
۱ حتی کہ جب مارپیٹ اور قید کی دھمکی دی گئی تو رسولوں نے اپنے مخالفین سے بیان کیا: ”جو باتیں ہم نے دیکھی اور سنی ہیں ہم ان کی بابت کلام کرنے سے باز نہیں رہ سکتے۔“ (اعمال ۴:۲۰، NW) انھوں نے یسوع کے کاموں اور تعلیمات کی قدروقیمت کی قدر کی۔
۲ یسوع اور اسکی بادشاہت کی بابت خوشخبری آجکل بھی لوگوں کے لئے اتنی ہی اہم ہے جتنی اس وقت تھی۔ لہذا، خدا کے کلام سے جو ہم نے سنا اور دیکھا ہے اسکی بابت کلام کرنے میں ہمیں ہر موقع سے فوراً فائدہ اٹھانا چاہیے۔ لوگ عموماً چھٹیوں کے موسم کے بعد مذہبی معاملات کی بابت بات کرنے کے لئے بہتر مزاج میں ہوتے ہیں، اور یہ گواہی دینے کے لئے اضافی مواقع فراہم کرتا ہے۔
۳ نوجوانو، سکول میں کلام کرو: بہت سے نوجوان گواہ ہمجماعتوں اور استادوں کو گواہی دینے کے مواقع سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ایک نوجوان گواہ جو ہمیشہ ہمجماعتوں کے درمیان حالیہ موضوعاتگفتگو سے باخبر رہنے کی کوشش کرتی ہے، اس نے سکول میں ایک ماجرے سے فائدہ اٹھایا اور ایک موزوں اشاعت کیساتھ اساتذہ اور ہمجماعتوں تک رسائی کی۔ نتیجہ؟ اس نے ایک دن میں ۳۵ کتابیں پیش کیں! جبکہ بہت سے ذہن سال کے اس وقت میں یسوع مسیح اور امن کے خیالات کی بابت سوچتے ہیں تو کیا یہ ہمجماعتوں اور اساتذہ کو بتانے کیلئے اچھا وقت نہیں ہوگا کہ کیسے یسوع بطور حکمران بادشاہ دنیا کے مسائل حل کر سکتا ہے؟—مقابلہ کریں لوقا ۲:۱۴۔
۴ اگر آپ کا کرسمس سے وابستہ مذہبی روایات میں حصہ لینے سے باز رہنا ایک مسئلہ بن جاتا ہے تو آپ کہہ سکتے ہیں:
”میں کرسمس تہواروں میں حصہ نہیں لیتا کیونکہ ایسی تقریبات یسوع کو ہماری نجات کے واحد ذریعے اور ایک ایسے شخص کے طور پر جلال نہیں دیتیں جو جنگ اور نسلی مسائل کا خاتمہ لائے گا۔ [اعمال ۴:۱۲ کا حوالہ دیں یا پڑھیں۔] یسوع اب بچہ نہیں ہے بلکہ حکمران بادشاہ ہے۔ یہ کتاب، دی گریٹسٹ مین ہو ایور لوڈ یسوع کی تمام تعلیمات اور معجزات پر باتچیت کرتی ہے اور ظاہر کرتی ہے کہ وہ انسانی تکلیف کا خاتمہ کرے گا۔“ پھر ۱۳۳ باب میں تصویر دکھائیں، اور اگلے صفحہ پر دوسرا پیراگراف پڑھیں۔ دوسرے نکات دکھائیں جو آپ محسوس کرتے ہیں کہ شخص کو اپیل کریں گے۔ اگر کافی دلچسپی دکھائی جاتی ہے تو واضح کریں کہ کیسے کتاب دستیاب ہو سکتی ہے۔
۵ ساتھی کارکنوں سے کلام کریں: ایک بھائی نے محض گریٹسٹ مین کتاب کی ایک کاپی اپنے ڈیسک پر رکھنے سے ۶۳ کتابیں پیش کیں۔ اس کی دلکش بناوٹ اور عنوان بذاتخود سوالات پر آمادہ کرتے ہیں۔ آپ ساتھی کارکن سے فقط یہ پوچھ سکتے ہیں: ”آپ عظیمترین انسان جو کبھی ہو گزرا ہے کس کو کہیں گے؟“ پھر اضافہ کریں: ”یہ کتاب تفصیل سے یسوع کی زندگی کا احاطہ کرتی ہے، ہر تقریر پر جو اس نے دی باتچیت کرتی ہے، اس کے معجزات کی بابت بہتیرے لوگ جو سوالات پوچھتے یہ انکا جواب دیتی ہے، اور دوسری دلچسپ تفصیلات دیتی ہے۔ یسوع کی بابت بائبل جو کچھ سکھاتی ہے یہ اس کی مفصل دوہرائی ہے اور بغیر کسی شک کے ثابت کرتی ہے کہ یسوع مسیح عظیمترین انسان تھا جو کبھی ہو گزرا ہے۔“ پھر جیسا کہ کتاب کی تمہید کے تیسرے پیراگراف میں حوالہ دیا گیا ہے یسوع کی بابت نپولین کی رائے کا حوالہ دیں۔
۶ پڑوسیوں یا بےایمان رشتہداروں کو گواہی دینے کے لئے ایسے ہی مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ دعا کریں کہ یہوواہ آپ کو مناسب وقت پر بولنے کی دلیری اور قابلیت عطا کرے۔ (اعمال ۴:۲۹، ۳۱) یسوع کی بابت ہمیں جو کہنا ہے یہ ان صاحبفکر لوگوں کے دلوں کو گرما دے گا جو راستبازی سے مائل ہیں۔ ہمجماعتوں، ساتھیکارکنوں، پڑوسیوں یا رشتہداروں کو ابدی زندگی کی راہ حاصل کرنے میں مدد دینے کی نسبت ہمیں اس سے بہتر اور کیا تجربہ ہو سکتا ہے؟—یوحنا ۱۴:۶۔