وفادار رہنے کے فوائد
بعض ممالک میں بچے اپنے دوستوں کیساتھ شرارت کرنے کیلئے کھیل کھیل میں اُنکے کپڑوں پر پٹھکنڈا (خاردار بوٹی) چپکا دیتے ہیں۔ یہ پٹھکنڈا اُنکے کپڑوں کیساتھ اتنی بُری طرح چپک جاتا ہے کہ انکا دوست خواہ چلے، بھاگے، اُچھلے کودے یا کچھ بھی کر لے یہ اُترنے کا نام نہیں لیتا۔ اس سے چھٹکارا پانے کا صرف ایک طریقہ ہے کہ اسے آرام سے اُتارا جائے۔ بچوں کو یہ سب کرنے میں بڑا مزہ آتا ہے۔
بِلاشُبہ، کوئی بھی نہیں چاہتا کہ اُسکے کپڑوں پر پٹھکنڈا چپکا دیا جائے۔ لیکن ہر شخص اسکی چپکنے کی صلاحیت سے حیران ہو جاتا ہے۔ ایک وفادار شخص بھی اسی طرح کی خوبی کا مالک ہوتا ہے۔ وہ کسی شخص کیساتھ قریبی اور اٹوٹ رشتہ اُستوار کر لیتا ہے۔ وہ اس رشتے کی ذمہداریوں اور فرائض کو کٹھن حالات میں بھی پورا کرتا ہے۔ لفظ وفاداری سے ذہن میں سچائی، فرمانبرداری اور خود کو وقف کر دینے والی خوبیاں آتی ہیں۔ ہر کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ اُس کیساتھ وفا کی جائے۔ لیکن کیا آپ ذاتی طور پر دوسروں کیساتھ وفا کرنے کا عزم کرتے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو آپکو کس کا وفادار رہنا چاہئے؟
شادی میں وفاداری نہایت ضروری ہے
شادی ایک اہم حلقہ ہے جس میں وفاداری ضروری ہے۔ تاہم، افسوس کی بات ہے کہ آجکل بیوفائی عام ہوتی جا رہی ہے۔ شادی کے عہدوپیمان کا مطلب ہے کہ میاںبیوی کو ایک دوسرے کا وفادار رہنا اور ایک دوسرے کی بھلائی کیلئے کام کرنا ہے۔ عہدوپیمان پر قائم رہنے والے شوہر اور بیوی خوشی اور تحفظ کی طرف اہم قدم اُٹھا رہے ہوتے ہیں۔ ہم ایسا کیوں کہتے ہیں؟ اسلئےکہ انسانوں کو اس ضرورت کیساتھ خلق کِیا گیا تھا کہ وہ ایک دوسرے کے وفادار رہیں۔ جب باغِعدن میں آدم اور حوا کی شادی ہوئی تو خدا نے کہا: ”مرد اپنے ماں باپ کو چھوڑے گا اور اپنی بیوی سے ملا رہے گا۔“ یہ اُصول بیوی پر بھی لاگو ہوتا تھا اُسے اپنے شوہر کیساتھ رہنا تھا۔ شوہر اور بیوی نے ایک دوسرے کا وفادار رہنا اور مل کر کام کرنا تھا۔—پیدایش ۲:۲۴؛ متی ۱۹:۳-۹۔
یہ بات ہزاروں سال پہلے کہی گئی تھی۔ کیا اسکا یہ مطلب ہے کہ اپنے بیاہتا ساتھی کا وفادار رہنا ایک فرسودہ خیال ہے؟ جینہیں۔ جرمنی میں کئے جانے والے ایک سروے میں تحقیق کرنے والوں نے دریافت کِیا کہ ۸۰ فیصد لوگ شادی کو کامیاب بنانے کیلئے وفاداری کو اہم خیال کرتے ہیں۔ ایک دوسرے سروے میں مردوں اور عورتوں میں پائی جانے والی اہم خوبی کے بارے میں معلوم کِیا گیا۔ مردوں کے ایک گروہ کو ایک فہرست دی گئی اور پوچھا گیا کہ آپکے خیال میں عورتوں کی کونسی پانچ خوبیاں قابلِتعریف ہیں۔ اسی طرح عورتوں کے ایک گروہ کو مردوں کی پانچ قابلِتعریف خوبیوں کی نشاندہی کرنے کیلئے کہا گیا۔ مردوں اور عورتوں دونوں نے وفاداری کو سب سے اہم خوبی قرار دیا۔
جیہاں، وفاداری شادی کو کامیاب بنانے کیلئے بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ جیساکہ ہم نے پچھلے مضمون میں دیکھا ہے کہ وفاداری کی تعریف تو بہت کی جاتی ہے لیکن وفاداری کی نہیں جاتی۔ مثال کے طور پر، بہتیرے ممالک میں طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح پوری دُنیا میں پھیلی ہوئی بیوفائی کا نتیجہ ہے۔ بیاہتا ساتھی اس رُجحان سے کیسے بچ سکتے اور ایک دوسرے کے وفادار رہ سکتے ہیں؟
وفاداری شادی کو پائیدار بندھن بناتی ہے
وفاداری اُس وقت ظاہر کی جاتی ہے جب بیاہتا ساتھی ایک دوسرے کو اپنی محبت کا یقین دلانے کے مواقع کی تلاش میں رہتے ہیں۔ مثال کے طور پر، ”میرے بچے،“ ”میرے دوست،“ ”میرا گھر“ کی بجائے ”ہمارے بچے،“ ”ہمارے دوست،“ ”ہمارا گھر“ کہنا زیادہ مناسب ہے۔ جب گھر، ملازمت، بچوں کی پرورش، تفریح، چھٹیوں یا مذہبی کاموں کے حوالے سے فیصلے کئے جاتے یا منصوبے بنائے جاتے ہیں تو شوہر اور بیوی کو ایک دوسرے کے نظریات اور احساسات کا خیال رکھنا چاہئے۔—امثال ۱۱:۱۴؛ ۱۵:۲۲۔
وفاداری اُس وقت بھی دکھائی جاتی ہے جب دونوں ساتھی ایک دوسرے کو احساس دلاتے ہیں کہ انہیں ایک دوسرے کی ضرورت ہے۔ ایک بیوی یا شوہر اُس وقت خود کو غیرمحفوظ محسوس کر سکتے ہیں جب ان میں سے کوئی ایک کسی دوسری عورت یا مرد میں حد سے زیادہ دلچسپی لینے لگتا ہے۔ بائبل مردوں کو نصیحت کرتی ہے کہ ”تو اپنی جوانی کی بیوی کیساتھ شاد رہ۔“ ایک شوہر کے دل میں کسی دوسری عورت کی بجائے اپنی بیوی کیلئے چاہت ہونی چاہئے۔ یقیناً اُسے صرف اپنی بیوی کا حق ادا کرنا چاہئے۔ بائبل اس سلسلے میں آگاہ کرتی ہے: ”جو کسی عورت سے زنا کرتا ہے وہ بےعقل ہے۔ وہی ایسا کرتا ہے جو اپنی جان کو ہلاک کرنا چاہتا ہے۔“ وفاداری کے اسی اعلیٰ معیار کی توقع ایک بیوی سے بھی کی جاتی ہے۔—امثال ۵:۱۸؛ ۶:۳۲۔
کیا شادی میں وفادار رہنے کی کوشش کرنے سے کوئی فائدہ ہوگا؟ جیہاں، بیشک! اس سے شادی زیادہ مضبوط اور دائمی بندھن بن جاتی ہے۔ اس سے شوہر اور بیوی دونوں کو بہت سے فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر، جب ایک شوہر اپنی بیوی کا وفادار رہتے ہوئے اسکی ضروریات پوری کرتا ہے تو بیوی خود کو محفوظ محسوس کرتی ہے اور اسکی خوبیاں زیادہ نمایاں ہو جاتی ہیں۔ اسی طرح بیوی کی وفاداری سے شوہر کی خوبیاں نمایاں ہوتی ہیں۔ اپنی بیوی کا وفادار رہنے کا فیصلہ شوہر کی زندگی کے تمام حلقوں میں راست اُصولوں کا اطلاق کرنے میں مدد کرے گا۔
مشکلات سے نپٹتے وقت وفاداری شوہر اور بیوی دونوں کو تحفظ کا احساس بخشے گی۔ اسکے برعکس، بیوفائی روزمرّہ کے مسائل کا شکار ہوکر علیٰحدگی یا طلاق کا باعث بن سکتی ہے۔ اسکی وجہ سے مسائل کم ہونے کی بجائے دنبدن بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ سن ۱۹۸۰ میں، فیشن کے پیشے سے وابستہ ایک نامور شخص نے اپنی بیوی اور بچوں سے علیٰحدگی اختیار کرلی۔ کیا اُس نے اکیلے رہ کر خوشی حاصل کر لی؟ بیس سال کے بعد اس نے تسلیم کِیا کہ ”علیٰحدگی کے بعد سے اُس نے خود کو بہت تنہا اور پریشان پایا ہے وہ راتبھر جاگتا رہتا اور اپنے بچوں کو شببخیر کہنا چاہتا تھا۔“
والدین اور بچوں میں وفاداری
جب والدین ایک دوسرے کے وفادار رہتے ہیں تو اس بات کا پُختہ امکان ہے کہ اُنکے بچے بھی وفادار رہنا سیکھ جائیں گے۔ وفادار اور پُرمحبت خاندان میں پرورش پانے والے بچوں کیلئے اپنے بیاہتا ساتھی اور بوڑھے والدین کی ذمہداریوں کو پورا کرنا آسان ہوتا ہے۔—۱-تیمتھیس ۵:۴، ۸۔
تاہم، ہمیشہ والدین ہی کو دیکھبھال کی ضرورت نہیں پڑتی۔ بعضاوقات ایک بچے کی دیکھبھال کرنے کیلئے بھی وفاداری کی ضرورت پڑتی ہے۔ ہربرٹ اور اُسکی بیوی گرٹروڈ کے معاملے میں ایسا ہی تھا۔ دونوں میاں بیوی ۴۰ سال سے یہوواہ کے گواہ ہیں۔ انکا بیٹا دیتمار اپنی پوری زندگی عضلی ڈسٹرافی (پٹھوں کو کمزور کرکے معذور بنا دینے والی بیماری) میں مبتلا رہا۔ نومبر ۲۰۰۲ میں، اسکی موت سے سات سال پہلے سے دیتمار کو دنرات توجہ اور نگہداشت کی ضرورت تھی۔ اسکے والدین پُرمحبت طریقے سے اسکی ضروریات پوری کرتے رہے۔ یہانتک کہ وہ میڈیکل کا تمام ضروری سازوسامان اپنے گھر لے آئے اور میڈیکل کی تربیت حاصل کر لی۔ وفاداری کی کیا ہی عمدہ مثال!
دوستی میں وفاداری کی اہمیت
برجٹ نے کہا: ”ایک شخص بیاہتا ساتھی کے بغیر خوش رہ سکتا ہے لیکن ایک دوست کے بغیر خوش رہنا ناممکن ہے۔“ شاید آپ اس سے اتفاق کریں۔ خواہ آپ شادیشُدہ ہیں یا غیرشادیشُدہ ایک اچھے دوست کی وفاداری آپکے دل کو چین بخشتی اور آپکی زندگی کو بہتر بناتی ہے۔ اگر آپ شادیشُدہ ہیں تو آپکا بہترین دوست آپکا بیاہتا ساتھی ہونا چاہئے۔
ایک دوست محض واقفکار نہیں ہوتا۔ ہمارے بہت سارے واقفکار ہوتے ہیں۔ مثلاً ہمارے ہمسائے، ساتھی کارکن اور وہ لوگ جن سے ہم اکثروبیشتر ملتے رہتے ہیں۔ گہری دوستی وقت، توانائی اور جذباتی وابستگی کا تقاضا کرتی ہے۔ کسی کا دوست ہونا ایک اعزاز ہے۔ دوستی بہت سے فوائد لاتی ہے لیکن اس میں بہت ساری ذمہداریاں بھی شامل ہوتی ہیں۔
دوستوں کیساتھ اچھا رابطہ بہت ضروری ہے۔ ایسا رابطہ کبھیکبھار ضرورت سے ترغیب پاتا ہے۔ برجٹ نے بیان کِیا: ”اگر مجھے یا میری سہیلی کو کوئی مسئلہ ہو تو ہم ہفتے میں ایک یا دو مرتبہ ایک دوسرے کو فون کرتی ہیں۔ یہ جان کر مجھے تسلی ملتی ہے کہ وہ فون پر میری بات سننے کیلئے تیار ہے۔“ فاصلے کو دوستی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننا چاہئے۔ گرڈا اور ہیلگا ایک دوسرے سے ہزاروں میل کے فاصلے پر رہتی ہیں لیکن وہ تقریباً ۳۵ سال سے اچھی سہیلیاں ہیں۔ گرڈا کہتی ہے، ”ہم باقاعدگی سے ایک دوسرے کو خط کے ذریعے اپنے تجربات اور خوشی اور غمی کے احساسات کی بابت لکھتی ہیں۔ ہیلگا کے خطوط مجھے بہت خوشی بخشتے ہیں۔ ہم دونوں کی سوچ ایک ہے۔“
دوستی میں وفاداری ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔ بیوفائی پُرانی دوستی کو بھی ختم کر سکتی ہے۔ دوستوں کیساتھ راز کی باتیں کرنا اور ایک دوسرے کو مشورہ دینا عام بات ہے۔ دوست راز فاش ہونے سے خوفزدہ ہوئے بغیر ایک دوسرے کو اپنے دل کی بات بتا دیتے ہیں۔ بائبل بیان کرتی ہے: ”دوست ہر وقت محبت دکھاتا ہے اور بھائی مصیبت کے دن کیلئے پیدا ہوا ہے۔“—امثال ۱۷:۱۷۔
ہمارے دوست ہماری سوچ، احساسات اور کاموں پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ اسلئے ضروری ہے کہ ہم ایسے لوگوں سے دوستی کریں جنکا طرزِزندگی ہم جیسا ہیں۔ مثال کے طور پر، کسی سے دوستی کرنے سے پہلے اس بات کا یقین کر لیں کہ اسکے اعتقادات، اخلاقی نقطۂنظر اور صحیح اور غلط کی بابت معیار آپ جیسے ہوں۔ ایسے دوست آپکی اپنے نشانوں تک پہنچنے میں مدد کریں گے۔ اسکے برعکس، آپ ایسے لوگوں سے دوستی کرنا کیوں چاہیں گے جو آپ جیسے معیار اور اخلاقی اصول نہیں رکھتے؟ بائبل اچھے دوستوں کے انتخاب کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے کہتی ہے: ”وہ جو داناؤں کیساتھ چلتا ہے دانا ہوگا پر احمقوں کا ساتھی ہلاک کِیا جائے گا۔“—امثال ۱۳:۲۰۔
وفادار بنا جا سکتا ہے
جب ایک بچہ کسی کے کپڑوں پر پٹھکنڈا لگانا سیکھ جاتا ہے تو وہ باربار اس کھیل کو کھیلنا چاہتا ہے۔ یہ بات ایک وفادار شخص کے بارے میں بھی کہی جا سکتی ہے۔ اسکی وجہ کیا ہے؟ کیونکہ جتنی زیادہ ہم وفاداری دکھاتے ہیں اتنا ہی زیادہ وفادار رہنا آسان ہوتا ہے۔ اگر ایک شخص شروع ہی سے اپنے خاندان کیساتھ وفادار رہنا سیکھ لیتا ہے تو بعد میں وفاداری کی بِنا پر دوستی کرنا اسکے لئے آسان ہو جاتا ہے۔ وقت آنے پر ایسی مضبوط اور پائیدار دوستی شادی میں وفاداری کیلئے راہ ہموار کرتی ہے۔ یہ سب سے اہم دوستی میں وفادار رہنے میں بھی ہماری مدد کرے گی۔ یہ کس کی دوستی ہے؟
یسوع مسیح نے کہا کہ سب سے بڑا حکم یہ ہے یہوواہ خدا سے اپنے سارے دل، جان، عقل اور طاقت سے محبت رکھیں۔ (مرقس ۱۲:۳۰) اسکا مطلب یہ ہے کہ ہمیں مکمل طور پر خدا کے وفادار رہنا ہے۔ یہوواہ خدا کے وفادار رہنے سے ہمیں بہت سی برکات ملتی ہیں۔ وہ ہمیں کبھی مایوس نہیں کرے گا اور نہ ہی ہمیں چھوڑے گا کیونکہ بائبل بیان کرتی ہے: ”سو جان لے کہ خداوند تیرا خدا وہی خدا ہے۔ وہ وفادار خدا ہے اور جو . . . اپنے عہد کو قائم رکھتا . . . ہے۔“ (استثنا ۷:۹) بِلاشُبہ، یہوواہ خدا کے وفادار رہنے سے ہمیں ابدی برکات ملتی ہیں۔—۱-یوحنا ۲:۱۷۔
[صفحہ ۶ پرعبارت]
ایک اچھے دوست کی وفاداری آپکے دل کو چین بخشتی ہے
[صفحہ ۵ پر تصویر]
خاندان کے افراد وفاداری سے ایک دوسرے کی ضروریات کا خیال رکھتے ہیں