میری کہانی میری زبانی
مسیح کے سپاہی کے طور پر برداشت کرنا
از یوئریکیپتولا
”اب مجھے پورا یقین ہو گیا ہے کہ تمہارا ایمان بہت مضبوط ہے!“ یہ الفاظ اُس سوویت آرمی آفیسر نے کہے تھے جس سے مجھے اُمید نہیں تھی۔ تاہم، اس بات نے مجھے بروقت حوصلہافزائی دی۔ مجھے لمبی قید کی سزا مل رہی تھی۔ اس مشکل وقت میں مجھے برداشت اور تقویت کی ضرورت تھی۔ اسلئے مَیں نے پورے جوش سے مدد کیلئے یہوواہ سے دُعا کی۔
مَیں اکتوبر ۱۹، ۱۹۶۲ میں پیدا ہوا اور میری پرورش یوکرائن کے مغربی علاقہ میں ہوئی۔ اسی سال میرے والد کی ملاقات یہوواہ کے گواہوں سے ہوئی۔ جلد ہی وہ ہمارے گاؤں میں یہوواہ کے پہلے پرستار بن گئے۔ حکومت یہوواہ کے گواہوں کے کام کی مخالفت کرتی تھی اسلئے میرے والد کی سرگرمیاں سرکاری اہلکاروں سے پوشیدہ نہ رہیں۔
تاہم، ہمارے زیادہتر پڑوسی میرے والدین کی مسیحی خوبیوں اور دوسروں کیلئے فکرمندی کی وجہ سے بہت عزت کرتے تھے۔ میرے والدین نے میری تین بہنوں سمیت میرے دل میں بھی بچپن ہی سے یہوواہ کی محبت کو جاگزین کرنے کے ہر موقع سے فائدہ اُٹھایا۔ اس سے میری مدد ہوئی کہ مَیں سکول میں بہت سی مشکلات کو برداشت کر سکوں۔ ایک چیلنج جسکا مجھے سکول میں سامنا ہوا وہ سب طالبعلموں سے ایک خاص بیج لگانے کا تقاضا تھا جس سے سوویت حکومت کی ایک سیاسی پارٹی کی شناخت ہوتی تھی۔ اپنے مسیحی ایمان کی وجہ سے مَیں نے بیج لگانے سے انکار کر دیا اور اس بات نے مجھے اپنے ہمجماعتوں سے فرق بنا دیا۔—یوحنا ۶:۱۵؛ ۱۷:۱۶۔
جب مَیں تقریباً ۹ سال کا تھا تو ایک مرتبہ پھر تمام طالبعلموں سے ینگ پائنیر نامی ایک کمیونسٹ تنظیم میں شامل ہونے کیلئے کہا گیا۔ ایک دن پوری کلاس کو سکول کے میدان میں جمع ہونے کیلئے کہا گیا جہاں اس تنظیم میں نام درج کروانے کی تقریب منعقد کی گئی۔ مَیں بہت خوفزدہ تھا کیونکہ مجھے معلوم تھا کہ اب سب مجھے بُرا بھلا کہیں گے اور میرا مذاق اُڑایا جائے گا۔ میرے علاوہ، تمام بچے اپنے گھر سے سُرخ رنگ کا اسکارف لائے تھے۔ کیونکہ ینگ پائنیرز کے اراکین کی شناخت گردن کے گرد لپٹے اس اسکارف سے ہوتی تھی۔ سب طالبعلم قطار بناکر پرنسپل، ٹیچروں اور بڑی کلاسوں کے بچوں کے آگے کھڑے ہو گئے۔ جب ان بڑی کلاس کے بچوں نے چھوٹے بچوں سے اپنے اپنے اسکارف گردن پر باندھنے کیلئے کہا تو مَیں اس اُمید پر سر جھکاکر کھڑا ہو گیا کہ مجھے کوئی نہیں دیکھ رہا ہوگا۔
ایک دُوردراز قید میں
جب مَیں ۱۸ سال کا ہوا تو مجھے اپنے مسیحی ایمان پر قائم رہنے کی وجہ سے تین سال کی قید کی سزا سنائی گئی۔ (یسعیاہ ۲:۴) میرا پہلا سال یوکرائن کے ایک علاقے کی جیل میں گزرا۔ یہاں مَیں ۳۰ دیگر یہوواہ کے گواہوں سے ملا۔ جیل کی انتظامیہ نے ہمیں دو دو ٹولیوں میں تقسیم کر دیا کیونکہ حکام ہمیں ایک دوسرے سے جُدا رکھنا چاہتے تھے۔
اگست ۱۹۸۲ میں، مجھے اور ایک اَور گواہ ایڈورڈ کو دوسرے قیدیوں کیساتھ ٹرین کے ذریعے روس کے شمالی علاقے میں پہاڑوں پر بھیج دیا گیا۔ آٹھ دن کے اس سفر میں جگہ تنگ ہونے کی وجہ سے ہمیں سخت گرمی برداشت کرنا پڑی۔ خدا خدا کرکے ہم پرمسکایا کے ضلع سولیکمسک کے قیدخانہ میں پہنچ گئے۔ مجھے اور ایڈورڈ کو دو مختلف کوٹھریوں میں رکھا گیا۔ دو ہفتوں بعد مجھے کراسنوواشرسکائی کے خطے میں واؤلز گاؤں کے شمال میں اَور دُور بھیج دیا گیا۔
ہماری گاڑی آدھی رات کو وہاں پہنچی۔ ہر طرف اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ گھپ اندھیرے کے باوجود افسران نے ہمیں کشتی کے ذریعے دریا پار کرنے کا حکم دیا۔ ہمیں نہ تو کشتی نظر آ رہی تھی اور نہ ہی دریا! اسکے باوجود، ہم ٹٹولتے ٹٹولتے کشتی تک پہنچے۔ ہم اس بات سے خوفزدہ تھے کہ دریا کیسے پار کریں گے۔ دریا کی دوسری طرف ایک پہاڑی پر مدھم سی روشنی دکھائی دی جس پر کچھ خیمے لگے ہوئے تھے۔ یہ ہمارا نیا گھر تھا۔ مجھے ۳۰ قیدیوں کیساتھ ایک قدرے بڑے خیمے میں رکھا گیا۔ سردیوں میں یہاں کا درجۂحرارت بعضاوقات منفی ۴۰ ڈگری فارن ہائیٹ تک چلا جاتا تھا جس میں خیمہ کوئی خاص فائدہ نہیں پہنچاتا تھا۔ میرے ساتھی قیدیوں کا کام درخت کاٹنا تھا جبکہ میرا کام قیدیوں کیلئے کوٹھریاں تعمیر کرنا تھا۔
روحانی خوراک کی فراہمی
اگرچہ مَیں یہاں اکیلا گواہ تھا توبھی یہوواہ خدا نے مجھے نہیں چھوڑا۔ ایک روز مجھے اپنی والدہ کی طرف سے ایک پارسل ملا جو مغربی یوکرائن میں رہتی تھی۔ جب گارڈ نے پارسل کھولا تو اُس میں ایک چھوٹی بائبل نظر آئی۔ اُس نے بائبل کو پکڑا اور صفحے پلٹنے لگا۔ مَیں یہ سوچ ہی رہا تھا کہ یہ روحانی خزانہ انکے ہاتھ سے کیسے بچایا جائے۔ گارڈ نے بلند آواز میں کہا، ”یہ کیا ہے؟“ اس سے پہلے کہ مَیں کوئی جواب دیتا نزدیک کھڑے انسپکٹر نے کہا: ”واہ! یہ تو ڈکشنری ہے۔“ اسکے بعد مَیں نے کوئی جواب نہ دیا۔ (واعظ ۳:۷) انسپکٹر نے بھی پارسل کو اچھی طرح چیک کِیا اور میری انتہائی قیمتی چیز بائبل میرے ہاتھ میں دے دی۔ مَیں اسقدر خوش تھا کہ مَیں نے پارسل میں پڑے کچھ میوہجات نکال کر انسپکٹر کو دئے۔ جب مجھے یہ پارسل ملا تو مَیں جان گیا کہ یہوواہ خدا نے مجھے نہیں چھوڑا۔ اُس نے میری روحانی ضروریات پوری کرنے کیلئے فراخدلی سے میری مدد کی۔—عبرانیوں ۱۳:۵۔
کسی رکاوٹ کے بغیر منادی
چند مہینوں بعد مجھے ایک خط موصول ہوا جو ایک بھائی نے ۴۰۰ کلومیٹر [۲۵۰ میل] دُور واقع ایک قیدخانے سے ارسال کِیا تھا۔ اُس نے لکھا تھا کہ تمہارے کیمپ میں ایک ایسا شخص ہے جو بائبل میں دلچسپی رکھتا ہے، تمہیں اُسکو تلاش کرنا ہے۔ اسطرح کا واضح خط لکھنا دانشمندی نہیں تھی کیونکہ ہمارے خطوں پر نظر رکھی جاتی تھی۔ ایک دن ایک آفیسر نے مجھے اپنے آفس میں بلایا اور سختی کیساتھ منادی کرنے سے منع کِیا۔ اس کے بعد اُس نے مجھے ایک دستاویز پر دستخط کرنے کیلئے کہا جس پر یہ لکھا ہوا تھا کہ مَیں آئندہ منادی نہیں کروں گا۔ مَیں نے جواب دیا کہ میری سمجھ میں نہیں آ رہا کہ مجھے اس دستاویز پر دستخط کرنے کے لئے کیوں کہا جا رہا ہے جبکہ سب لوگ پہلے ہی سے جانتے ہیں کہ مَیں یہوواہ کا گواہ ہوں۔ مَیں نے یہ واضح کِیا کہ میرے ساتھی قیدی یہ جاننا چاہتے ہیں کہ مَیں قید میں کیوں ہوں۔ مَیں اُنکو کیا جواب دوں؟ (اعمال ۴:۲۰) آفیسر سمجھ گیا کہ وہ مجھے خوفزدہ نہیں کر سکتا لہٰذا اُس نے مجھ سے پیچھا چھڑانے کا فیصلہ کِیا۔ جلد ہی مجھے ایک دوسرے کیمپ میں بھیج دیا گیا۔
مجھے وہاں سے ۲۰۰ کلومیٹر [۱۲۵ میل] اَور آگے بھیج دیا گیا۔ وہاں کا نگران میرے مسیحی ایمان کا احترام کرتا تھا۔ لہٰذا اُس نے مجھے پہلے لکڑی کے کام پر اور بعد میں بجلی کے کام پر لگا دیا۔ لیکن ان کاموں کی اپنی مشکلات تھیں۔ ایک موقع پر، مجھے اپنے اوزار لیکر گاؤں میں کام کرنے کیلئے بھیجا گیا۔ جب مَیں وہاں پہنچا تو فوجی مجھے دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ وہ ریڈ آرمی ڈے کی سالانہ تقریب کی تیاری کر رہے تھے۔ اُنہیں فوجی نشانات کو سجانے کیلئے استعمال ہونے والی روشنیوں کے سلسلے میں مشکلات کا سامنا تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ مَیں اُنہیں ٹھیک کروں۔ دل ہی دل میں دُعا کرنے اور سوچبچار کرنے کے بعد مَیں نے اُنہیں بتایا کہ مَیں یہ کام نہیں کر سکتا۔ مَیں نے اُنکو اپنے اوزار دئے اور واپس آ گیا۔ ایک اعلیٰ آفیسر سے میری شکایت کی گئی اور مَیں یہ سن کر حیران رہ گیا کہ اُس نے کہا: ”مَیں اُسکے ایمان کا احترام کرتا ہوں۔ وہ ایک بااصول شخص ہے۔“
غیرمتوقع ذریعے سے حوصلہافزائی
جون ۸، ۱۹۸۴ میں، قید کے تین سال پورے ہونے پر مجھے رِہا کر دیا گیا۔ یوکرائن پہنچنے کے بعد، مجھے رضاکار فوج کے ایک سابقہ قیدی کے طور پر اپنا نام درج کرانا پڑا۔ حکام نے کہا کہ ان چھ ماہ کے دوران مجھ پر پھر سے مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔ اسلئے بہتر ہے کہ مَیں یہ علاقہ ہمیشہ کیلئے چھوڑ دوں۔ لہٰذا مَیں یوکرائن چھوڑ کر لٹویا آ گیا اور بالآخر مجھے کام بھی مِل گیا۔ کچھ عرصے کیلئے مَیں مقامی گواہوں کے ایک چھوٹے سے گروپ کیساتھ منادی اور اجلاس میں شرکت کرنے لگا۔ تاہم، ایک سال بعد مجھے دوبارہ فوجی خدمت کیلئے بلایا گیا۔ فوج میں بھرتی کرنے والے آفس پہنچنے کے بعد مَیں نے آفیسر کو بتایا کہ مَیں پہلے بھی فوج میں کام کرنے سے انکار کر چکا ہوں۔ یہ سن کر وہ آگ بگولا ہو گیا: ”کیا تم واقعی جانتے ہو کہ تم کیا کر رہے ہو؟ میرے ساتھ چلو، مَیں دیکھتا ہوں کہ تم لیفٹیننٹ کرنل کے سامنے کیا کہتے ہو!“
وہ مجھے اپنے ساتھ دوسری منزل پر لے گیا جہاں لیفٹیننٹ کرنل اپنے آفس میں ایک بڑی سی میز کے سامنے بیٹھا ہوا تھا۔ اُس نے میری بات کو غور سے سنا اور کہا کہ فوج میں بھرتی کرنے والی کمیٹی کے سامنے پیش ہونے سے پہلے ابھی بھی میرے پاس وقت ہے کہ اپنے فیصلے پر دوبارہ غور کروں۔ جب مَیں کرنل کے آفس سے باہر نکلا تو اُس آفیسر نے جس نے مجھے ڈانٹا تھا کہا: ”اب مجھے پورا یقین ہو گیا ہے کہ تمہارا ایمان بہت مضبوط ہے!“ جب مَیں فوج میں بھرتی کرنے والی کمیٹی کے سامنے پیش ہوا تو مَیں نے اُنکے سامنے بھی اپنا موقف دُہرایا۔ اُنہوں نے مجھے فیالوقت جانے دیا۔
ان دنوں مَیں ہوسٹل میں رہتا تھا۔ ایک شام میرے دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی۔ مَیں نے دروازہ کھولا تو ایک شخص پینٹکوٹ پہنے اور ہاتھ میں بریفکیس لئے کھڑا تھا۔ اُس نے اپنا تعارف کرتے ہوئے بیان کِیا کہ ”مَیں حکومتی سیکورٹی کمیٹی کی طرف سے آیا ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ تمہیں مشکلات کا سامنا ہے اور تمہارا مقدمہ عدالت میں پیش ہونے والا ہے۔“ مَیں نے جواب دیا، ”جیہاں بات کچھ ایسی ہی ہے۔“ تو وہ کہنے لگا: ”اگر تم ہمارے ساتھ کام کرنے کیلئے تیار ہو جاؤ تو ہم تمہاری مدد کر سکتے ہیں۔“ مَیں نے کہا، ”ایسا ممکن نہیں۔ مَیں اپنے ایمان پر قائم رہوں گا۔“ اُس نے مجھے مزید دبانے کی کوشش نہ کی اور چلا گیا۔
قید میں واپسی اور منادی
اگست ۲۶، ۱۹۸۶ میں، عدالت نے مجھے چار سال قید بامشقت کی سزا سنائی۔ مجھے لٹویا کے دارالحکومت کی مرکزی جیل میں لیجایا گیا۔ اُنہوں نے مجھے ۴۰ قیدیوں کیساتھ ایک بڑی کوٹھری میں ڈال دیا۔ مَیں نے ان سب کو بادشاہتی پیغام سنانے کی کوشش کی۔ بعض نے خدا پر ایمان رکھنے کا دعویٰ کِیا جبکہ دیگر نے میرا مذاق اُڑایا۔ مَیں نے دیکھا کہ وہ سب گروپوں کی شکل میں بیٹھ کر کچھ باتچیت کِیا کرتے تھے۔ دو ہفتے بعد ان گروپوں کے لیڈروں نے مجھے کہا کہ مَیں منادی نہیں کر سکتا کیونکہ مَیں اُنکے اصولوں کے مطابق نہیں چلتا۔ مَیں نے واضح کِیا کہ مَیں منادی کرنے کی وجہ سے قید میں ہوں۔ مَیں جن اصولوں کے مطابق زندگی بسر کرتا ہوں وہ آپ سے بہت مختلف ہیں۔
مَیں نے محتاط طریقے سے منادی کرنا جاری رکھا اور جب مجھے کچھ ایسے شخص مل گئے جو روحانی باتوں میں دلچسپی رکھتے تھے تو مَیں نے اُن میں سے چار کیساتھ بائبل مطالعہ شروع کر دیا۔ وہ چاروں باتچیت کے دوران بائبل کی بنیادی تعلیمات کو لکھ لیا کرتے تھے۔ چند ماہ بعد مجھے سخت نگرانی والے کیمپ میں بھیج دیا گیا جہاں مَیں بطور الیکٹریشن کام کرنے لگا۔ وہاں مَیں ایک دوسرے الیکٹریشن کیساتھ بائبل مطالعہ کرنے کے قابل ہوا جو چار سال بعد یہوواہ کا گواہ بن گیا۔
مارچ ۲۴، ۱۹۸۸ میں، مجھے اس سخت نگرانی والی جگہ سے ایک قریبی زیرِتعمیر کیمپ میں بھیج دیا گیا۔ یہ تبدیلی ایک برکت ثابت ہوئی کیونکہ یہاں زیادہ آزادی تھی۔ مجھے مختلف زیرِتعمیر مقامات پر کام کرنے کیلئے بھیجا جاتا تھا۔ مَیں ہمیشہ منادی کرنے کا موقع ڈھونڈتا تھا۔ مَیں کیمپ سے باہر اکثر شام کو دیر تک منادی کرتا تھا لیکن مجھے واپسی پر کبھی بھی کسی مشکل کا سامنا نہیں ہوا تھا۔
یہوواہ خدا نے میری کوششوں کو برکت بخشی۔ اس کیمپ کے قریبی علاقوں میں چند گواہ رہتے تھے لیکن کیمپ کے علاقے میں صرف ایک عمررسیدہ بہن رہتی تھی جسکا نام ولما کرومین تھا۔ مَیں نے اور اس بہن نے کافی نوجوانوں کیساتھ بائبل مطالعے شروع کئے۔ اکثراوقات دوسرے علاقوں سے بہنبھائی آکر ہمارے ساتھ منادی کے کام میں حصہ لیتے تھے۔ بعض ریگولر پائنیر تو لیننگراڈ (موجودہ سینٹ پیٹرز برگ) سے بھی آیا کرتے تھے۔ یہوواہ خدا کی مدد سے ہم نے بہت سے بائبل مطالعے شروع کئے اور جلد ہی مَیں ریگولر پائنیر کے طور پر ہر ماہ ۹۰ گھنٹے منادی میں صرف کرنے لگا۔
اپریل ۷، ۱۹۹۰ میں میرا مقدمہ والمیرا کی عوامی عدالت میں پیش کِیا گیا۔ جب عدالت کی کارروائی شروع ہوئی تو مَیں نے سرکاری وکیل کو پہچان لیا۔ یہ وہ نوجوان تھا جس کیساتھ مَیں پہلے بائبل میں سے باتچیت کر چکا تھا! اُس نے بھی مجھے پہچان لیا اور دیکھ کر مسکرایا لیکن کوئی بات نہ کی۔ مجھے اُس جج کے الفاظ آج تک یاد ہیں جو اُس نے عدالتی کارروائی پر کہے تھے۔ اُس نے کہا: ”یوئری چار سال پہلے تمہیں جیل بھیجنے کا جو فیصلہ ہوا تھا وہ غیرقانونی تھا۔ اُنہیں تم پر فردِجُرم عائد نہیں کرنی چاہئے تھی۔“ خلافِتوقع مجھے باعزت بری کر دیا گیا!
یسوع کا ایک سپاہی
جون ۱۹۹۰ میں، مجھے ایک بار پھر ریجا کی شہریت حاصل کرنے کے لئے فوج میں بھرتی کرنے والے آفس جانا پڑا۔ یہ وہی آفس تھا جہاں چار سال پہلے مَیں نے ایک بڑی میز کے سامنے بیٹھے لیفٹیننٹ کرنل کو فوج میں بھرتی ہونے سے انکار کِیا تھا۔ اس مرتبہ اُس نے مجھے کھڑے ہو کر خوشآمدید کہا اور ہاتھ ملاتے ہوئے کہا: ”یہ بہت افسوس کی بات ہے کہ آپکو ان تمام حالتوں سے گزرنا پڑا۔ مَیں اس کیلئے معذرتخواہ ہوں۔“
مَیں نے جواب دیا: ”مَیں یسوع مسیح کا سپاہی ہوں اور مجھے اُسکے حکم کو پورا کرنا ہے۔ بائبل کی مدد سے آپ بھی مستقبل میں ابدی زندگی سے لطفاندوز ہو سکتے ہیں جسکا وعدہ یسوع مسیح نے اپنے شاگردوں سے کِیا تھا۔“ (۲-تیمتھیس ۲:۳، ۴) کرنل نے جواب دیا: ”کچھ عرصہ پہلے مَیں نے بائبل خریدی تھی اور اب مَیں اُسے پڑھ رہا ہوں۔“ اُس وقت میرے پاس آپ زمین پر فردوس میں ہمیشہ زندہ رہ سکتے ہیں کتاب موجود تھی۔a مَیں نے کتاب کو اُس باب پر کھولا جہاں آخری دنوں کے نشان پر بات کی گئی ہے اور اسے دکھایا کہ بائبل کی یہ پیشینگوئی ہمارے زمانے میں پوری ہو رہی ہے۔ کرنل نے قدردانی کیساتھ میرے ساتھ دوبارہ ہاتھ ملایا اور مجھے میرے کام میں کامیابی کی دُعا بھی دی۔
اس مرتبہ لٹویا میں کٹائی کیلئے کافی فصل پک چکی تھی۔ (یوحنا ۴:۳۵) سن ۱۹۹۱ سے مَیں نے کلیسیا کے بزرگ کے طور پر خدمت شروع کی۔ اس پورے ملک میں صرف دو بزرگ تھے! ایک سال بعد اس کلیسیا کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ ایک لٹوین بولنے والے اور دوسری روسی زبان بولنے والے لوگوں پر مشتمل تھی۔ مجھے روسی کلیسیا کیساتھ کام کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ اسقدر زیادہ ترقی ہوئی کہ اگلے ہی سال ہماری کلیسیا تین حصوں میں تقسیم ہو گئی! ماضی پر نگاہ ڈالنے سے یہ بات واضح ہو رہی تھی کہ یہوواہ اپنی بھیڑوں کو اپنی تنظیم کی طرف کھینچ رہا ہے۔
سن ۱۹۹۸ میں، مَیں ایک علاقے یلگاوا میں سپیشل پائنیر مقرر ہوا جو ریجا کے جنوبمغرب سے ۴۰ کلومیٹر [۲۵ میل] دُور ہے۔ اسی سال مجھے لٹویا کے پہلے باشندے کے طور پر منسٹریل ٹریننگ سکول میں حاضر ہونے کی دعوت ملی۔ یہ سینٹ پیٹرز برگ کے قریبی علاقے میں روسی زبان میں منعقد ہوا تھا۔ سکول کے دوران مَیں نے سیکھا کہ منادی کے کام میں کامیاب ہونے کیلئے لوگوں کیساتھ پُرمحبت رویہ نہایت اہم ہے۔ جس چیز نے مجھے سکول میں سکھائی جانے والی باتوں سے بھی زیادہ متاثر کِیا وہ بیتایل خاندان اور سکول کے اساتذہ کی محبت اور توجہ تھی۔
مجھے ایک اَور خوشی بھی حاصل ہوئی جب ۲۰۰۱ میں میری شادی ایک نیکسیرت مسیحی عورت کیساتھ ہوئی۔ میری بیوی کرینہ نے بھی میرے ساتھ کُلوقتی خدمت شروع کر دی اور مجھے اُسے ہر روز منادی سے خوش لوٹتے دیکھ کر بہت حوصلہافزائی ملتی ہے۔ واقعی، یہوواہ کی خدمت کرنا ایک عظیم شرف ہے۔ کمیونسٹ حکومت کے تحت سخت اذیتیں برداشت کرنے کے بعد مَیں نے یہوواہ پر مکمل بھروسا کرنا سیکھ لیا ہے۔ کوئی بھی قربانی یہوواہ خدا کی دوستی اور حاکمیت کی حمایت سے بڑھ کر نہیں۔ میری زندگی کا مقصد دوسروں کو یہوواہ کی بابت سکھانا ہے۔ میرے لئے یہ ایک بہت بڑا شرف ہے کہ مَیں ”مسیح یسوع کے اچھے سپاہی“ کے طور پر یہوواہ کی خدمت کر رہا ہوں۔—۲-تیمتھیس ۲:۳۔
[فٹنوٹ]
a یہوواہ کے گواہوں کی شائعکردہ جسکی اب اشاعت نہیں ہوتی۔
[صفحہ ۱۱ پر تصویر]
مجھے چار سال کی قید بامشقت کی سزا سنا کر ریجا کی مرکزی جیل بھیج دیا گیا
[صفحہ ۱۲ پر تصویر]
کرینہ اور مَیں منادی کرتے ہوئے