یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م96 1/‏4 ص.‏ 24-‏29
  • وفاداری کے امتحان میں کامیاب ہونا

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • وفاداری کے امتحان میں کامیاب ہونا
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1996ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • یہوؔواہ کی حمایت کرنا
  • یہوؔواہ کی تنظیم کیلئے وفاداری
  • وفادار بزرگوں کیلئے وفاداری
  • ازدواجی وفاداری
  • وفادار رہنے کیلئے مدد
  • وفادار پر توجہ کریں!‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1996ء
  • آپکو کس کا وفادار رہنا چاہئے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2002ء
  • وفادار رہنے کے فوائد
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2005ء
  • یہوواہ کی تنظیم کیساتھ وفاداری سے خدمت کرنا
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1997ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1996ء
م96 1/‏4 ص.‏ 24-‏29

وفاداری کے امتحان میں کامیاب ہونا

‏”‏نئی انسانیت کو پہنو جو خدا کے مطابق سچائی کی راستبازی اور پاکیزگی [‏”‏وفاداری،“‏ این‌ڈبلیو]‏ میں پیدا کی گئی ہے۔“‏—‏افسیوں ۴:‏۲۴‏۔‏

۱.‏ ہم یہوؔواہ خدا کیلئے وفاداری دکھانے کے پابند کیوں ہیں؟‏

وفاداری کے امتحان میں کامیاب ہونے کے بہت سے پہلو ہیں۔ سب سے اہم یہوؔواہ خدا کے لئے وفاداری کے امتحان میں کامیاب ہونا ہے۔ واقعی، اس بات کے پیشِ‌نظر کہ یہوؔواہ کون ہے اور اُس نے ہمارے لئے کیا کچھ کِیا ہے، اور اُسکے لئے اپنی مخصوصیت کی وجہ سے، ہم اُس کیلئے وفاداری دکھانے کے پابند ہیں۔ ہم یہوؔواہ خدا کیلئے کیسے وفاداری ظاہر کرتے ہیں؟ اوّلین طریقہ یہوؔواہ کے راست معیاروں کیلئے وفادار ہونا ہے۔‏

۲، ۳.‏ وفاداری اور راستبازی کے مابین کیا تعلق ہے؟‏

۲ اس امتحان میں کامیاب ہونے کیلئے، ہمیں ۱-‏پطرس ۱:‏۱۵، ۱۶ میں پائے جانے والے الفاظ پر ضرور دھیان دینا چاہئے:‏ ”‏جس طرح تمہارا بلا‌نے والا پاک ہے اُسی طرح تم بھی اپنے سارے چال‌چلن میں پاک بنو۔ کیونکہ لکھا ہے کہ پاک ہو اسلئے کہ مَیں پاک ہوں۔“‏ یہوؔواہ خدا کے لئے وفاداری ہمیں تحریک دے گی کہ اپنے خیالات، اقوال، اور افعال کو اُس کی پاک مرضی کی مطابقت میں لاتے ہوئے، ہر وقت اُس کی فرمانبرداری کریں۔ اس سے مُراد نیک ضمیر رکھنا ہے، جیسے‌کہ ۱-‏تیمتھیس ۱:‏۳-‏۵ میں ہمیں حکم دیا گیا ہے:‏ ”‏حکم [‏فرق عقیدے کی تعلیم نہ دیں یا جھوٹی کہانیوں پر توجہ نہ دیں]‏ کا مقصد یہ ہے کہ پاک دل اور نیک نیت اور بے‌ریا ایمان سے محبت پیدا ہو۔“‏ سچ ہے کہ ہم میں کوئی بھی کامل نہیں ہے، لیکن ہمیں اپنی حتی‌المقدور کوشش کرتے رہنا چاہئے؟ کیا ہمیں نہیں کرنی چاہئے؟‏

۳ یہوؔواہ کیلئے وفاداری ہمیں راست اصولوں پر خودغرضی کیساتھ مصالحت کرنے سے بچائیگی۔ یقیناً، وفاداری ہمیں ظاہروباطن کے تضاد سے روکے گی۔ وفاداری وہ چیز ہے جو زبورنویس کے ذہن میں تھی جب اُس نے گیت گایا:‏ ”‏اَے خداوند!‏ مجھکو اپنی راہ کی تعلیم دے۔ مَیں تیری راستی میں چلونگا۔ میرے دل کو یکسوئی بخش تاکہ تیرے نام کا خوف مانوں۔“‏ (‏زبور ۸۶:‏۱۱‏)‏ وفاداری اُسی چیز کا تقاضا کرتی ہے جسے ”‏ناقابلِ‌نفاذ کی اطاعت“‏ کے طور پر خوب بیان کِیا گیا ہے۔‏

۴، ۵.‏ وفاداری ہمیں کونسا غلط قدم اُٹھانے سے روکے گی؟‏

۴ یہوؔواہ خدا کے لئے وفاداری ہمیں کوئی بھی ایسے کام کرنے سے روکے گی جو اُسکے نام اور بادشاہت پر ملامت لائینگے۔ مثال کے طور پر، ایک مرتبہ دو مسیحی ایک دوسرے کے ساتھ کسی ایسے مسئلے میں مبتلا ہو گئے کہ اُنہوں نے نامناسب طور پر دُنیاوی قانونی عدالت کا رُخ کِیا۔ جج نے پوچھا، ’‏کیا آپ دونوں یہوؔواہ کے گواہ ہیں؟‘‏ بظاہر وہ یہ نہیں سمجھ پا رہا تھا کہ وہ عدالت میں کیا کر رہے ہیں۔ یہ کسقدر شرمناک بات تھی!‏ یہوؔواہ خدا کے لئے وفاداری نے اُن بھائیوں کو پولسؔ رسول کی اس مشورت پر دھیان دینے کی تحریک دی ہوتی:‏ ”‏دراصل تم میں بڑا نقص یہ ہے کہ آپس میں مقدمہ‌بازی کرتے ہو۔ ظلم اُٹھانا کیوں نہیں بہتر جانتے؟ اپنا نقصان کیوں نہیں قبول کرتے؟“‏ (‏۱-‏کرنتھیوں ۶:‏۷‏)‏ یقیناً، یہوؔواہ خدا کیلئے وفادارانہ روش یہوؔواہ اور اُسکی تنظیم کیلئے ملامت کا باعث بننے کی بجائے ذاتی نقصان برداشت کرنا ہے۔‏

۵ یہوؔواہ خدا کیلئے وفاداری میں انسان کے ڈر کے آگے نہ جھکنا بھی شامل ہے۔ ”‏انسان کا ڈر پھندا ہے لیکن جو کوئی خداوند پر توکل کرتا ہے محفوظ رہیگا۔“‏ (‏امثال ۲۹:‏۲۵‏)‏ لہٰذا، جب اذیت کا سامنا ہو تو ہم مصالحت نہیں کرتے، بلکہ سابق سوویت یونین میں، ملاؔوی میں، ایتھیوؔپیا میں، اور بہت سے دیگر ممالک میں یہوؔواہ کے گواہوں کے قائم‌کردہ نمونے کی پیروی کرتے ہیں۔‏

۶.‏ وفاداری ہمیں کن سے صحبت رکھنے سے باز رکھے گی؟‏

۶ اگر ہم یہوؔواہ خدا کے وفادار ہیں تو تمام ایسے لوگوں کو دوست بنانے سے گریز کرینگے جو اُسکے دشمن ہیں۔ اسی لئے شاگرد یعقوؔب نے لکھا:‏ ”‏اَے زنا کرنے والیو!‏ کیا تمہیں نہیں معلوم کہ دُنیا سے دوستی رکھنا خدا سے دشمنی کرنا ہے؟ پس جو کوئی دُنیا کا دوست بننا چاہتا ہے وہ اپنے آپ کو خدا کا دشمن بناتا ہے۔“‏ (‏یعقوب ۴:‏۴‏)‏ ہم ویسی ہی وفاداری رکھنا چاہتے ہیں جسکا داؔؤد بادشاہ نے ثبوت دیا جب اُس نے کہا:‏ ”‏اَے خداوند!‏ کیا مَیں تجھ سے عداوت رکھنے والوں سے عداوت نہیں رکھتا اور کیا مَیں تیرے مخالفوں سے بیزار نہیں ہوں؟ مجھے اُن سے پوری عداوت ہے۔ مَیں اُنکو اپنے دشمن سمجھتا ہوں۔“‏ (‏زبور ۱۳۹:‏۲۱، ۲۲‏)‏ ہم عمداً گناہ کرنے والوں سے رفاقت نہیں رکھنا چاہتے کیونکہ اُنکے ساتھ ہم کوئی چیز مشترک نہیں رکھتے۔ کیا خدا کیلئے وفاداری ہمیں خواہ ذاتی طور پر یا ٹیلیوژن کے ذریعے یہوؔواہ کے ایسے دشمنوں کیساتھ رفاقت رکھنے سے نہیں روکے گی؟‏

یہوؔواہ کی حمایت کرنا

۷.‏ وفاداری ہمیں یہوؔواہ کے سلسلے میں کیا کرنے کیلئے مدد دے گی، اور الیہوؔ نے یہ کیسے کِیا؟‏

۷ وفاداری ہمیں یہوؔواہ خدا کی حمایت کرنے کی تحریک دے گی۔ اس کی کیا ہی عمدہ مثال ہمیں الیہوؔ میں ملتی ہے!‏ ایوب ۳۲:‏۲، ۳ ہمیں بتاتی ہیں:‏ ”‏تب الیہوؔ .‏ .‏ .‏ کا قہر بھڑکا۔ اُسکا قہر اؔیوب پر بھڑکا اسلئے کہ اُس نے خدا کو نہیں بلکہ اپنے آپ کو راست ٹھہرایا۔ اور اُسکے تینوں دوستوں پر بھی اُسکا قہر بھڑکا اسلئے کہ اُنہیں جواب تو سُوجھا نہیں تَو بھی اُنہوں نے اؔیوب کو مُجرم ٹھہرایا۔“‏ ایوب ۳۲ سے لیکر ۳۷ ابواب میں، الیہوؔ یہوؔواہ کی حمایت کرتا ہے۔ مثال کے طور پر، اُس نے کہا:‏ ”‏مجھے ذرا اجازت دے اور مَیں تجھے بتاؤنگا۔ کیونکہ خدا کی طرف سے مجھے کچھ اَور بھی کہنا ہے۔ مَیں .‏ .‏ .‏ راستی اپنے خالق سے منسوب کرونگا .‏ .‏ .‏ وہ صادقوں کی طرف سے اپنی آنکھیں نہیں پھیرتا۔“‏—‏ایوب ۳۶:‏۲-‏۷‏۔‏

۸.‏ ہمیں یہوؔواہ کی حمایت کرنے کی ضرورت کیوں ہے؟‏

۸ یہوؔواہ کی حمایت کرنے کی ضرورت کیوں ہے؟ آجکل، بہتیرے طریقوں سے ہمارے خدا یہوؔواہ کی تکفیر کی جاتی ہے۔ یہ دعویٰ کِیا جاتا ہے کہ اُس کا کوئی وجود نہیں ہے، یہ کہ وہ تثلیث کا ایک حصہ ہے، یہ کہ وہ لوگوں کو آتشی دوزخ میں ہمیشہ تک عذاب دیتا ہے، یہ کہ وہ دُنیا کو بدلنے کی غیرصحتمندانہ کوشش کر رہا ہے، یہ کہ وہ نوعِ‌انسان کی پرواہ نہیں کرتا، اور وغیرہ وغیرہ۔ ہم اُس کی حمایت کرنے سے اور یہ ثابت کرنے سے اُس کے لئے اپنی وفاداری ظاہر کرتے ہیں کہ یہوؔواہ وجود رکھتا ہے، یہ کہ وہ عاقل، منصف، قادرِمطلق، اور پُرمحبت خدا ہے؛ یہ کہ ہر کام کے لئے اُس کا ایک وقت ہے؛ اور یہ کہ جب اُسکا مقررہ وقت آئیگا تو وہ تمام بُرائی کو ختم کر دیگا اور ساری زمین کو ایک فردوس بنا دیگا۔ (‏واعظ ۳:‏۱‏)‏ یہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ہم یہوؔواہ کے نام اور بادشاہت کی گواہی دینے کیلئے ہر موقع سے فائدہ اُٹھائیں۔‏

یہوؔواہ کی تنظیم کیلئے وفاداری

۹.‏ کن معاملات میں بعض نے اپنی وفاداری کی کمی کو ظاہر کِیا ہے؟‏

۹ اب ہم یہوؔواہ کی دیدنی تنظیم کیلئے وفادار ہونے کے معاملے کی طرف آتے ہیں۔ یقیناً، ہم اس کیلئے وفاداری دکھانے کے پابند ہیں، بشمول ”‏دیانتدار اور عقلمند نوکر،“‏ جسکے ذریعے مسیحی کلیسیا کو روحانی خوراک فراہم کی جاتی ہے۔ (‏متی ۲۴:‏۴۵-‏۴۷‏)‏ فرض کریں کہ واچ‌ٹاور مطبوعات میں کوئی ایسی بات آتی ہے جسے ہم سمجھ نہیں پاتے یا ابھی اُس سے متفق نہیں ہوتے۔ ہم کیا کرینگے؟ ناراض ہو جائینگے اور تنظیم کو چھوڑ دینگے؟ بعض نے ایسا ہی کِیا جب دی واچ‌ٹاور نے، کئی سال پہلے، نئے عہد کا اطلاق عہدِہزار سالہ پر کِیا۔ دیگر ایک مرتبہ دی واچ‌ٹاور کے غیرجانبداری کے مسئلے پر کچھ کہنے کی وجہ سے ناراض ہو گئے۔ اگر ان معاملات پر ٹھوکر کھانے والے اشخاص تنظیم اور اپنے بھائیوں کے وفادار رہے ہوتے تو ان معاملات کو واضح کرنے کیلئے، جو اُس نے اپنے مقررہ وقت پر کر دیا، اُنہوں نے یہوؔواہ کا انتظار کِیا ہوتا۔ لہٰذا، وفاداری میں صبر کے ساتھ اُس وقت تک انتظار کرنا شامل ہے جبتک‌کہ دیاتندار اور عقلمند نوکر مزید سمجھ شائع نہیں کر دیتا۔‏

۱۰.‏ وفاداری ہمیں کس چیز کی بابت متجسس ہونے سے بچائے گی؟‏

۱۰ یہوؔواہ کی دیدنی تنظیم کیلئے وفاداری کا مطلب برگشتہ لوگوں سے کوئی تعلق نہ رکھنا بھی ہے۔ وفادار مسیحی اسکی بابت متجسس نہیں ہونگے کہ ایسے لوگ کیا کہنا چاہتے ہیں۔ سچ ہے کہ زمین پر اپنے کام کو چلانے کیلئے یہوؔواہ خدا جنہیں استعمال کر رہا ہے وہ کامل نہیں ہیں۔ لیکن خدا کا کلام ہمیں کیا کرنے کیلئے کہتا ہے؟ خدا کی تنظیم چھوڑ دو؟ جی‌نہیں۔ برادرانہ اُلفت کو ہمیں اُس کیلئے وفادار رکھنا چاہئے، اور ہمیں مسلسل ”‏دل‌وجان سے آپس میں محبت“‏ رکھنی چاہئے۔—‏۱-‏پطرس ۱:‏۲۲‏۔‏

وفادار بزرگوں کیلئے وفاداری

۱۱.‏ وفاداری ہمیں کس منفی سوچ سے محفوظ رہنے میں مدد دے گی؟‏

۱۱ جب کلیسیا میں ایسا کچھ کہا جاتا یا کِیا جاتا ہے جسے سمجھنے میں ہمیں مشکل پیش آتی ہے تو وفاداری ہمیں اندازے لگانے سے بچائے گی اور یہ مؤقف اختیار کرنے میں ہماری مدد کریگی کہ شاید یہ سمجھ کی بات ہے۔ کیا مقررہ بزرگوں اور دیگر ساتھی ایمانداروں کی عمدہ خوبیوں پر توجہ مبذول کرنا اُنکی خامیوں پر غور کرنے سے زیادہ بہتر نہیں ہے؟ جی‌ہاں، ہم ایسی تمام منفی سوچ سے بچنا چاہتے ہیں، اسلئے کہ اسکا تعلق بے‌وفا ہونے سے ہے!‏ وفاداری ”‏کسی کی بدگوئی نہ“‏ کرنے کی پولسؔ کی ہدایت کی تعمیل کرنے کیلئے بھی ہماری مدد کریگی۔—‏ططس ۳:‏۱، ۲‏۔‏

۱۲، ۱۳.‏ بزرگوں کو کن مخصوص چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟‏

۱۲ وفاداری بزرگوں کو خاص چیلنج پیش کرتی ہے۔ ان چیلنجوں میں سے ایک رازداری کا معاملہ ہے۔ کلیسیا کا کوئی شخص ایک بزرگ پر بھروسہ کر سکتا ہے۔ اُس شخص کیلئے وفاداری بزرگ کو رازداری کے اصول کی خلاف‌ورزی کرنے سے روکے گی۔ وہ امثال ۲۵:‏۹ کی مشورت پر دھیان دیگا:‏ ”‏کسی دوسرے کا راز فاش نہ کر۔“‏ اسکا یہ مطلب ہے کہ اپنی بیوی کے سامنے بھی نہیں!‏

۱۳ بزرگوں کے سامنے وفاداری کے دیگر امتحان بھی ہیں جن پر پورا اُترنا ہے۔ کیا وہ آدمیوں کو خوش کرنے والے ہونگے، یا کیا وہ جرأتمندی اور حلیمی سے اصلاح کے حاجتمند اشخاص کی مدد کرینگے، خواہ وہ اُنکے خونی رشتہ‌دار یا قریبی دوست ہی کیوں نہ ہوں؟ یہوؔواہ کی تنظیم کیلئے وفاداری ہم میں سے جو بزرگ ہیں اُنہیں ایسے شخص کی مدد کرنے کیلئے کوشش کرنے کی تحریک دیگی جسے روحانی اعانت درکار ہے۔ (‏گلتیوں ۶:‏۱، ۲‏)‏ اگرچہ ہم مہربانی دکھائینگے، توبھی وفاداری ہمیں اپنے ساتھی بزرگ سے صاف‌گو ہونے کی تحریک دیگی، جیسے پولسؔ، پطرؔس رسول کیساتھ صاف‌گوئی سے مخاطب ہوا تھا۔ (‏گلتیوں ۲:‏۱۱-‏۱۴‏)‏ دوسری جانب، نگہبان محتاط ہونا چاہتے ہیں کہ کہیں غیردانشمندانہ طور پر عمل کرتے ہوئے یا جانبداری دکھاتے ہوئے یا کسی دوسرے طریقے سے اپنے اختیار کا غلط استعمال کرنے سے، اپنے ماتحت لوگوں کیلئے خدا کی تنظیم کیساتھ وفادار رہنا مشکل بنا دیں۔—‏فلپیوں ۴:‏۵‏۔‏

۱۴، ۱۵.‏ کونسے عناصر کلیسیا کے اراکین کی وفاداری کو امتحان میں ڈال سکتے ہیں؟‏

۱۴ کلیسیا اور اسکے بزرگوں کیلئے وفاداری کے امتحان میں کامیاب ہونے کے معاملے کے اَور پہلو بھی ہیں۔ اگر کلیسیا میں کچھ مشکل حالتیں پائی جاتی ہیں تو یہ ہمیں یہوؔواہ اور اُسکے نمائندہ اشخاص کیلئے وفاداری دکھانے کا موقع مہیا کرتی ہیں۔ (‏دیکھیں دی واچ‌ٹاور، جون ۱۵، ۱۹۸۷، صفحات ۱۵-‏۱۷۔)‏ جب کوئی خارج کر دیا جاتا ہے تو وفاداری تقاضا کرتی ہے کہ ہم بزرگوں کی تائید کریں، متضاد سوچ رکھنے کی کوشش نہ کریں کہ آیا کئے گئے فیصلے کیلئے مناسب وجوہات موجود تھیں کہ نہیں۔‏

۱۵ کلیسیا کیلئے وفاداری ہم سے اپنے حالات اور صلاحیت کے مطابق تمام پانچوں ہفتہ‌وار اجلاسوں کی حمایت کرنے کا تقاضا کرتی ہے۔ وفاداری اس بات کا بھی تقاضا کرتی ہے کہ ہم نہ صرف باقاعدگی سے ان پر حاضر ہوں بلکہ انکے لئے تیاری بھی کریں اور موقع ملنے پر تعمیری تبصرے کریں۔—‏عبرانیوں ۱۰:‏۲۴، ۲۵‏۔‏

ازدواجی وفاداری

۱۶، ۱۷.‏ بیاہتا مسیحیوں کو وفاداری کے کونسے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟‏

۱۶ ہم اَور کس کیلئے وفاداری دکھانے کے پابند ہیں؟ اگر ہم شادی‌شُدہ ہیں تو اپنی شادی کے عہدوپیمان کے پیشِ‌نظر ہمیں اپنے بیاہتا ساتھی کیلئے وفادار ہونے کے امتحان میں کامیاب ہونا ہے۔ اپنے بیاہتا ساتھی کیلئے وفاداری ہمیں اپنی بیوی یا شوہر کی نسبت دیگر عورتوں یا مردوں کیلئے زیادہ پُرکشش بننے کی غلطی کرنے سے روکے گی۔ اپنے ساتھی کیلئے وفاداری اس بات کا بھی تقاضا کرتی ہے کہ ہم اجنبی اشخاص کے سامنے اپنے ساتھی کی کمزوریوں یا خامیوں کو ظاہر نہ کریں۔ دوسروں سے شکایت کرنا اسکی نسبت آسان ہے کہ اپنے شریکِ‌حیات کیساتھ رابطے کے سلسلوں کو کھلا رکھنے کیلئے محنت کریں، جو ہمیں سنہری اصول کی مطابقت میں کرنا چاہئے۔ (‏متی ۷:‏۱۲‏)‏ دراصل، ازدواجی حالت ہماری مسیحی وفاداری کیلئے ایک حقیقی چیلنج پیش کرتی ہے۔‏

۱۷ وفاداری کے اس امتحان میں کامیاب ہونے کے لئے، ہمیں نہ صرف سنگین بدچلنی کے مُرتکب ہونے سے گریز کرنا چاہئے بلکہ ہمیں اپنے خیالات اور احساسات کی بھی حفاظت کرنی چاہئے۔ (‏زبور ۱۹:‏۱۴‏)‏ مثال کے طور پر، اگر ہمارے حیلہ‌باز دل عیش‌وعشرت کے لالچی ہیں تو ہمارے لئے خودغرضانہ طور پر سراہنے سے چاہنے کے مقام تک پہنچنا بہت آسان ہے۔ ازدواجی وفاداری پر زور دیتے ہوئے، بادشاہ سلیماؔن علامتی طور پر شوہروں کو مشورہ دیتا ہے کہ ’‏اپنے ہی چشمے سے پانی پئیں۔‘‏ (‏امثال ۵:‏۱۵‏)‏ اور یسوؔع نے کہا:‏ ”‏جس کسی نے بُری خواہش سے کسی عورت پر نگاہ کی وہ اپنے دل میں اُسکے ساتھ زنا کر چکا۔“‏ (‏متی ۵:‏۲۸‏)‏ خود کو فحش مواد سے محظوظ کرنے والے شوہر زناکاری کرنے کی ترغیب پانے کے خطرے میں ہوتے ہیں، یوں اپنی بیویوں کو دھوکا دیتے اور اُن سے بے‌وفائی کرتے ہیں۔ اسی طرح سے، ایک بیوی بداخلاق ڈراموں کو دیکھنے میں مگن ہو کر اپنے شوہر سے بے‌وفائی کرنے کی آزمائش میں پڑ سکتی ہے۔ تاہم، اپنے بیاہتا ساتھی کا حقیقی وفادار ہونے سے، ہم ازدواجی بندھن کو مضبوط کرتے ہیں اور یہوؔواہ خدا کو خوش کرنے کی اپنی کوششوں میں ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔‏

وفادار رہنے کیلئے مدد

۱۸.‏ کس چیز کیلئے قدردانی ہمیں وفادار رہنے کیلئے مدد دے گی؟‏

۱۸ ان چار حلقوں میں وفاداری کے امتحان میں کامیاب ہونے کیلئے کونسی چیز ہماری مدد کریگی:‏ یہوؔواہ کیلئے وفاداری، اُسکی تنظیم کیلئے، کلیسیا کیلئے، اور اپنے بیاہتا ساتھی کیلئے؟ ایک مدد تو اس بات کی سمجھ حاصل کرنا ہے کہ وفاداری کے امتحان میں کامیاب ہونے کا یہوؔواہ کی حاکمیت کی برأت سے گہرا تعلق ہے۔ جی‌ہاں، وفادار رہنے سے ہم یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ہم یہوؔواہ کو کائنات کا حاکمِ‌اعلیٰ تسلیم کرتے ہیں۔ یوں ہم عزتِ‌نفس اور یہوؔواہ کی نئی دُنیا میں ہمیشہ کی زندگی کی اُمید بھی رکھ سکتے ہیں۔ وفادار رہنے کیلئے وفاداری کی عمدہ مثالوں پر غور کرنے سے بھی ہم اپنی مدد کر سکتے ہیں، یہوؔواہ سے شروع کرکے اُن کی مثالیں بھی جنکا بائبل میں اور ائیربُک کی سرگزشتوں سمیت، ہماری واچ‌ٹاور مطبوعات میں ذکر کِیا گیا ہے۔‏

۱۹.‏ ہمارے وفادار رہنے میں ایمان کِیا کردار ادا کرتا ہے؟‏

۱۹ یہوؔواہ خدا پر مضبوط ایمان اور اُسے ناراض کرنے کا خوف وفاداری کے امتحان میں کامیاب ہونے کیلئے ہماری مدد کریگا۔ ہم مستعدی سے خدا کے کلام کا مطالعہ کرنے اور مسیحی خدمتگزاری میں مشغول رہنے سے یہوؔواہ پر اپنے ایمان اور اُسکے خوف کو تقویت دیتے ہیں۔ یہ افسیوں ۴:‏۲۳، ۲۴ میں درج پولسؔ کی مشورت کے مطابق عمل کرنے کے لئے ہماری مدد کریگا:‏ ”‏اپنی عقل کی روحانی حالت میں نئے بنتے جاؤ۔ اور نئی انسانیت کو پہنو جو خدا کے مطابق سچائی کی راستبازی اور پاکیزگی [‏”‏وفاداری،“‏ این‌ڈبلیو]‏ میں پیدا کی گئی ہے۔“‏

۲۰.‏ سب سے بڑھکر، کونسی خوبی یہوؔواہ اور اُن دیگر لوگوں کے وفادار ہونے کیلئے ہماری مدد کرتی ہے جن کیلئے ہم وفاداری دکھانے کے پابند ہیں؟‏

۲۰ یہوؔواہ کی صفات کیلئے قدردانی وفادار رہنے میں ہماری مدد کرتی ہے۔ سب سے بڑھکر، اپنے آسمانی باپ کیلئے بے‌غرض محبت اور جوکچھ اُس نے ہماری خاطر کِیا ہے اُس سب کیلئے شکرگزاری، اپنے سارے دل اور جان اور عقل اور طاقت سے اُسے محبت کرنا ہماری مدد کریگا کہ اُس کے وفادار ہوں۔ مزیدبراں، ایسی محبت رکھنا جسکی بابت یسوؔع نے کہا کہ اُسکے پیروکاروں کی شناخت کرائے گی ہماری مدد کریگی کہ کلیسیا میں تمام مسیحیوں اور اپنے خاندان کیلئے وفادار ہوں۔ باالفاظِ‌دیگر، یہ واقعی خودغرض یا بے‌غرض ہونے کا معاملہ ہے۔ بے‌وفائی کا مطلب خودغرض ہونا ہے۔ وفاداری کا مطلب بے‌غرض ہونا ہے۔—‏مرقس ۱۲:‏۳۰، ۳۱؛‏ یوحنا ۱۳:‏۳۴، ۳۵‏۔‏

۲۱.‏ وفاداری کے امتحان میں کامیاب ہونے کے معاملے کا خلاصہ کیسے بیان کِیا جا سکتا ہے؟‏

۲۱ بطورخلاصہ:‏ وفاداری وہ امتیازی خوبی ہے جسکا یہوؔواہ خدا نے، یسوؔع مسیح نے، اور یہوؔواہ کے تمام سچے خادموں نے مظاہرہ کِیا۔ یہوؔواہ خدا کیساتھ ایک اچھا رشتہ رکھنے کیلئے، ہمیں اُسکے راست تقاضوں کے مطابق زندگی بسر کرتے ہوئے، اُسکے دشمنوں سے کوئی تعلق نہ رکھتے ہوئے، اور رسمی اور غیررسمی گواہی دینے میں یہوؔواہ کی حمایت کرتے ہوئے، وفاداری کے امتحان میں کامیاب ہونا ہوگا۔ ہمیں یہوؔواہ کی دیدنی تنظیم کیلئے بھی وفادار ہونے کے امتحان میں کامیاب ہونا چاہئے۔ ہمیں اپنی کلیسیا کیلئے وفادار اور اپنے بیاہتا ساتھیوں کیلئے وفادار ہونا چاہئے۔ کامیابی کیساتھ وفاداری کے امتحان میں سُرخرو ہونے سے، ہم یہوؔواہ کی حاکمیت کی برأت میں حصہ لے رہے ہونگے، اور مسئلے میں اُس کی جانب ہونگے۔ یوں ہم اُس کی مقبولیت حاصل کرینگے اور ہمیشہ کی زندگی کا انعام حاصل کرینگے۔ پولسؔ رسول نے جوکچھ خدائی عقیدت کی بابت کہا وہی ہمارے وفاداری کے امتحان میں کامیاب ہونے کی بابت بھی کہا جا سکتا ہے۔ یہ اب اور آنے والی زندگی دونوں کے لئے مفید ہے۔—‏زبور ۱۸:‏۲۵؛‏ ۱-‏تیمتھیس ۴:‏۸‏۔ (‏۱۵ ۰۳/۱۵ w۹۶)‏

آپ کیسے جواب دینگے؟‏

▫ کن طریقوں سے ہم خدا کیلئے وفاداری کے امتحان میں کامیاب ہو سکتے ہیں؟‏

▫ یہوؔواہ کی تنظیم کیلئے وفاداری ہم سے کیا تقاضا کرتی ہے؟‏

▫ بزرگ وفاداری کے امتحان میں کیسے کامیاب ہو سکتے ہیں؟‏

▫ بیاہتا مسیحیوں کو وفاداری سے متعلق کس امتحان میں کامیاب ہونا چاہئے؟‏

▫ کونسی خوبیاں وفاداری کے امتحان میں کامیاب ہونے کیلئے ہماری مدد کرینگی؟‏

‏[‏تصویر]‏

کلیسیا کے اراکین کیلئے وفاداری بزرگوں کو رازداری والے معاملات کو افشا کرنے سے روکے گی

‏[‏تصویریں]‏

اپنے بیاہتا ساتھی کیلئے وفاداری ازدواجی بندھن کو مضبوط بناتی ہے

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں